Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 49

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 49

ہم دنیا گھومیں گے، مجھے سان مرینو جانا ہے، سنا ہے سان مرینو کے لوگ بہت خوش اخلاق ہوتے ہیں، ذرا ان سے مل کر آئیں، کیا ایسا ہی ہے یا صرف افواہ ہی ہے۔”
وہ مسکرانے لگا۔ وہ سیاہ جرابیں پہن رہا تھا ان کے سامنے بیٹھ کر “آپ سچ میں چاہتی ہیں کہ میں ہیرو بن جاؤ؟”
“ہاں۔ لیکن اس سے پہلے میں یہ چاہتی ہوں کہ تم وہ کرو جو تم کرنا چاہتے ہو۔”
“میں خود کو ختم کر لینا چاہتا ہوں۔” وہ بڑبڑیا۔
وہ ایک گول سفید ستون کے ساتھ دایاں شانا ٹکا کر کھڑا تھا۔ پہلے وہ مسکرا مسکرا کر سب سے ملتا رہا جیسے ان سب سے ملنا اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش رہی ہو، پھر وہ چند خوبصورت لڑکیوں سے(جو اتنی خوبصورت تھیں جیسے انھیں بنانے کے بعد فرصت سے ان کے نقص نکالے جاتے رہے ہوں اور انھیں کامل کر کے ہی چھوڑا گیا ہو) سے باتیں کرتا رہا تھا۔ پھر وہ صرف سنتا رہا تو بولنا بھول گیا پھر اسے سر جھٹک کر خود کو سننے کےلیے موجود کرنا پڑا پھر وہ خود کو الگ کر کے اس ستون کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔
ہال بہت بڑا تھا۔ اور چھت بہت اونچی۔ ہول کر کراؤن سے دو اطراف کھلی سیڑھیاں ہلکا سا بل کھاتی کسی نخریلی کی پوشاک میں اٹھتی، لہر کی طرح لہراتی اوپر جارہی تھیں اور ہال کی طرف نکلی گول بالکونیاں دور جدید کی پریوں سے سجی، بنی اپنی موجدگی کی اہمیت کا احساس اپنی شان وشاکت سے دلا رہی تھیں۔ ہنستے، مسکراتے، بے فکرے نظر آتے لوگ، ٹولیوں کی صورت بکھرے کھڑے تھے۔ صرف ایک بالکنی تھی جس میں سیاہ گاؤن میں ملبوس کھڑی لڑکی اکیلی تھی اور اپنے ناخن کتر رہی تھی اور نیچے سر کر کر کے ایک مخصوص کونے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کا انداز بتا رہا تھا کہ کسی کے انتظار کی شدت اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ ناخن کھاتے کھاتے خود کو بھی ادھیڑ ڈالے گی۔
“ایسے کیوں کھڑے ہو عالیان ۔؟” شارلٹ اس کے پاس آئی۔
“میں سب دیکھ رہا ہوں۔” اس کی نظر اوپر سیاہ گاؤن والی لڑکی پر اٹھ گئی۔ اف اس کے انتظار کی شدت۔
“تم دیکھو مت۔ ملو اور باتیں کرو۔”
“میں ان سب کو جانتا بھی نہیں ۔”
ی”ہ ضروری بھی نہیں بہت سے لوگ پہلی بار آۓ ہیں پارٹی میں اور میں تو تمھیں اپنی دوستوں کے ساتھ چھوڑ کر آئی تھی۔”
“میں یہاں کھڑے رہیناچاہتاہوں شارلٹ۔”
“ٹھیک ہے لہکن زیادہ دیر کھڑے نہ رہنا۔” نرمی سے اس کا گال چھو کر شارلٹ چلی گی، اس کی نظریں چھت سے جھولتی لمبی لمبی کرسٹل لڑیوں پر جا ٹکیں جن سے ٹنگے قمقمے جل بجھ رہے تھے اور پھر وہ سارے قمقمے بجھ گئے اور اتنی بہت ساری لڑیاں دائرہ بنا کر چکرانے لگیں۔ اور پھر سیڑھیا اس دائرے میں ایسے شامل ہوئی جیسے نخریلی حسینہ شدت سے اونچی ایڑیوں پر گھومنے لگی ہوں اور اس کی پوشاک دنیا کی ہر چیز جا لینےکو ہو۔ یوں پوشاک کے کناروں نے بالکونیوں کو جالیا اور انھیں اپنے دائرے میں گھسیٹ لیا پھر دیوارو کو اور چھت کو بھی اور پھر وہاں موجود ہر شے نے دائرے میں پناہ سمیٹ لی۔ اس نے سر کو جھٹکا۔
دائرہ بڑھتا ہی جا رہا تھا اور اپنے اندر ہر چیز کو سمو رہا تھا۔ زمین سے فلک تک تن جانے کے قریب اس چکر کو اس نے خوف سے دیکھا۔
نزاکت بھرا قہقہہ اس کے کانوں سے ٹکرایا، اس نے گردن موڑ کر دیکھا، وہاں کوئی نہیں تھا۔۔ قہقہہ پھر بلند ہوا اور پھر ہر طرف سے قہقہہ بلند ہونے لگے۔ اتنے بلند قہقہوں کی آوازیں اسے پریشان کرنے لگیں۔ پھر ایک قہقہہ ان سب میں امتیازی ہوگیا۔
” ولیدالبشر کا۔”pg#188
“تم کتنی بھی اونچی ہواں میں اڑلو۔ تمھارا نصیب پستی ہی رہے گا۔ جیسے مارگریٹ کا تھا۔ تم دونوں میرے بیغر کچھ بھی نہیں ہو۔”
پوشاک کے کناروں نے اسے آلیا۔ سب گھومنے لگا اور وہ بھی۔ ہال کی ساری روشنیاں گل ہوگئی۔ اندھیرا چھا گیا۔ کائنات میں روشنی کا نشان نہ رہا۔
“مقام نامعلوم ہے۔”
“فشاری۔” وہ ایک باایمان مرد ہے۔ اس نے روشنی کی چاہ چھوڑ دی اور زندگی کی بھی۔ اس کے ہاتھ پیر بندھے ہوۓ ہیں اور منہ بھی اس نے ایک برگزیدہ دعا کی تیاری کی۔ اس نے سب پاکیزہ الفاظ سمیٹے اور انہیں اپنی روح کے مقام پر رکھا۔ اس نے شانوں میں شان اقدس بیان کرنے کی نوید خود کو دی اور اپنے جکڑے وجود اور آزاد روح کو اللہ لفظ کی ادائیگی کی عبادت پر مائل پایا۔
موت کی چاپ اسے اپنے قریب سنائی دی جو اس کی عبادت میں مخل ہوئی، اس نے پھر بھی عبادت کے اس رتبے کو روح سے نکل جانے نہ دیا۔ اور پھر اسے اس شخص کا نام لے کر ایک خاص دعا کرنی تھی، جس کے لیے موت اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ پیر کاٹ دیے جائیں گے۔ اور سر بھی۔ شاید۔ اور اسے اس کی پرواہ نہیں تھی۔ اسے موت کے پروانوں کی پھونکوں نے قطعاً نہیں سہمایا۔ وہ فشاری ہے اور وہ “حقیقت” پا چکا ہےـ اب وہ اسے جھٹلاۓ گا نہیں۔
اندھیرے کی ریوڑ پر چابک پڑے اور کبھی نہ بجھنے کے لیے اندھیرے جل اٹھے۔ اسے مارگریٹ نظر آئی۔ اس نے سر کو جھٹکا اور پھر سے دیکھا”ہاں یہ ماما ہی ہیں۔”
اس کا جی اس سے لپٹ جانے کو چاہا لیکن وہ دائرے میں چکراتے خود کو اور انہیں ایک مقام تک نہ لا سکا۔ اس نے خود کو بے بس اور لاچار پایا۔ اس نے دیکھا کہ مارگریٹ کے وجود میں جابجا کانٹے اگ آۓ ہیں اور اس کا اپنا دل یہ دیکھ کر کرب سے لبالب ہورہا ہے اور اس نے محسوس کیا کہ اس سے چند قدم کے فاصلے پر قیامت آنا شروع ہوگئی ہے۔ ہر چیز اپنے نقطہ زوال کی طرف بھاگی جا رہی ہے۔
“تو کیا آپ نے جان لیا کہ آپ نے کیا پایا؟” اپنی ہی آواز اس نے بھی سنی۔
“ماما! آپ نے کیا پایا زندگی میں ؟” اس سوال کا جواب مجھے نہ ملا تو میں اپنے سارے نشان کھودوں گا۔۔ جب آپ مر رہی تھیں تو آپ نے کس طرح پرواز کی چاہ کی تھی۔۔ ولیدالبشر کی طرف۔۔ اگر آپ نے ایسا کیا ہوگا تو میں اپنے دل میں آپ کو رکھوں یا نہ رکھوں مجھے اس بارے میں سوچنا ہوگا۔۔ اگر آپ مرنے سے پہلے اسے اپنے اندر سے نکال دیتیں تو میرے زندہ ہونے پر وہ موت بن کر نازل نہ ہوتا۔۔ اب میں ساچتا ہوں کہ آپ کی موت پر زمین کو پھٹ جانا چاہیے تھا اور آسمان کو آگرنا چاہیے تھا۔۔ اسان کے لیے بنی کائنات کو اسکے دکھ پر اتنا تو ماتم کرنا ہی چاہیے۔”
وہ گہرے گہرے سانس لے رہا تھا پھر بھی اسکا دم گھٹ رہا تھا۔
“میں ولیدالبشر کی قابلیت کا مداح ہوگیا ہوں۔۔ اس نے میری محبت بھی نگل لی۔۔ وہ صرف ایک ہی۔۔ وہ صرف ایک ہی دل کو خالی کر کے صابر نہیں ہوا۔۔ اسے یہ غرور ہے کہ مجھے اس کی ضرورت ہے اور میں یہ گناہ ضرور کروں گا۔۔ میں اس کے ہونے کو نہ ہونا ضرور کروں گا۔۔ مجھے کوئی اعلان بھی کرنا پڑے تو میں کروں گا میرا کوئی باپ نہیں ۔۔ اور ماما!”
“عالیان !”شارلٹ نے اس کا شانا ہلایا۔۔
اس نے شارلٹ کو دیکھا وہ کچھ بول رہی تھی۔۔ کیا اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔۔ پھر شارلٹ نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور پھر وہ دیکھ پایا کہ ویٹر اس کے پیروں کے قریب گری ٹرے اٹھا رہا ہے۔۔ وہاں کانچ ہی کانچ بکھرا تھا۔۔ کچھ گردنیں اس کے رخ مڑی ہوئی تھیں۔۔ بالکنی میں کھڑی لڑکی کی آنکھيں اس پر جمی تھیں۔۔
اس نے ناخن کترنا بند کر دیا تھا۔
چھت سے جھولتی لڑیاں جل اٹھیں۔۔اور اس نے شارلٹ کو ایسے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کیا قیامت کے آنے کے آثار معدوم ہو چکے ہیں۔۔یا بس قیامت آ گئی؟
تم ٹھیک ہو؟ شارلٹ نے شفقت سے پوچھا۔
وہ ہاں نہ کہہ سکا۔اسے افسوس ہوا جب سب کچھ ختم کرنے کا فیصلہ ہو چکا تو ارادہ کیوں بدل گیا۔۔اسے افسوس ہوا شمعیں پھر سے روشن کیوں کر دی گئیں۔۔اندھیرے پر روشنی کو کیوں غالب آنے دیا گیا۔۔
ہاں اسے دکھ کائنات کے پھر سے آباد ہونے ہو جانے پر۔۔۔ نقطہ زوال کے مٹ جانے پر۔۔
شارلٹ نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں ہی رکھا اور اسے اپنے ساتھ لے کر چلنے لگی اور وہ اس کے پیچھے ایسے چلنے لگا جیسے اسے کچھ اور کرنے پر اختیار ہی نہ ہو۔۔
” ایک لڑکا ہے عالیان…
بھلا دی گئی دعا سا…
بجھ چکے چراغ سا…
عروج سے زوال سا۔۔۔”
✡ ✡ ✡
سارا مانچسٹر اس کے آنسوؤں میں نہ بہا اور وہ خود ہی ان میں غرقاب ہو گئی۔ چھپ کر رونے کے مشغلے کو اس نے ایسا اپنا لیا جیسے فرض عبادت ہو جو بعد از توبہ کی جاتی ہے۔۔ راتیں وہ کھڑکی میں کھڑی تمام کر دیتی اور دن کو اس نے دھوکہ دینے کا ذریعہ بنا لیا۔ اسکی گیلی آنکھوں نے دھند کے پردوں میں فنا ہونا شروع کر دیا کہ شاید وہ اس کے عکس کو جالیں جو وہ وہاں تھا ہی نہیں۔۔۔ شاید کسی معجزے نے خود پر اسکا نام لکھوا لیا ہو۔۔ اور شاید کسی تارک الدنیا کی صدیوں پہلی مانگی گئی دعا کی خیر اسے بھی لینے کو ہو۔۔۔ اور کہیں کسی فراق زدہ کی تڑپ آسمان تک جا کر واپس پلٹتے ہوئے اس کے لیے بھی رحمت اکھٹی کر لائی ہو۔۔۔ شاید
اسے ہر طرف سے عالیان نام کا جاپ سنائی دینے لگا۔۔ وہ اس جاپ کو سنتی رہتی اور اپنے دل کے مقام کو مسلتی رہتی۔۔ ہر ساعت اسکے نام کی پکار بن گئی ۔۔۔ ہر شبیہہ اس کی
صورت میں ڈھل گئی۔۔ اس نے اس کے نام کی تسبیح پڑھنی شروع کر دی، جس کے ثواب میں اسے ملنے والا تھا نا انعام میں۔۔
لیڈی مہر کے آنے سے پہلے وہ کہیں اور رہائش کا انتظام کر چکی تھی۔۔لیکن سادھنا نے جانے نہیں دیا۔۔
ایسی بے مروت نہ بنو انہوں نے کتنا خیال رکھا تمہارا، انکے آنے تک انتظار تو کرو۔۔
انکا سامنا نہیں کرنا چاہتی میں۔۔ بہت شرمندہ ہوں میں۔۔
تم انکے سامنے شرمندہ ہونا میں تمہیں جانے نہیں دوں گی، تم نے مشورہ کیے بغیر فیصلہ کر کے دیکھ لیا کیا ہوتا ہے۔۔۔ دوسروں کی مان لینے میں کبھی ہماری بھلائی بھی ہوتی ہے۔۔۔”
اب مجھے بھلا کہاں بھلائی نصیب ہو گی،، وہ دونوں سادھنا کے کمرے میں موجود تھیں۔۔
ایک غلطی کی ہے دوسری غلطی نہ کرو ،ہوسکتا ہے کچھ بہتر ہو جائے۔
وہ تلخی سے ہنس دی اور یہ سوچ کر رک گئی کہ کوئی دوسری غلطی نہ ہو جائے ۔۔
میں نے ایک لفظ نہیں کہا اور تم گھر چھوڑ کر جا رہی تھی؟
اگلے دن لیڈی مہر نے اسے رات میں اپنے کمرے میں اپنے سامنے بٹھا کر پوچھا۔
ایک لفظ نہیں کہا” یہی تو برا کیا اسکا سر جھکا ہوا تھا اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کمرے کی کس چیز پر نظریں ٹکائے ۔
نہیں امرحہ کچھ برا میں نے بھی کیا۔۔۔ جہاں کچھ غلط ہوتا ہے وہاں صرف ایک انسان کی وجہ سے نہیں ہوتا، کہیں اس کے بڑوں کا بھی ہاتھ ہوتا ہے، کہیں اس ماحول کا ،اور کہیں اس فضا کا جو معاشرے میں رچی بسی ہوتی ہے
آپ ایسے نہ کہیں پلیز
تمہارے دادا نے بات کی تھی مجھ سے کے وہ کون لڑکا ہے جسے امرحہ پسند کرتی ہے جس کی ماں غیر مسلم ہے اور باپ کا پتہ نہیں ان کا انداز اور لہجہ مجھے اچھا نہیں لگا۔
میرے بیٹے کے لیے کوئی ایسی بات بھی کرسکتا ہے
مجھے دکھ ہوا سن کر میں نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔
میں جانتی تھی بات اگےبڑھی تو ساری تکلیف پھر سے عالیان کو اٹھانی پڑے گی اور میں یہ نہیں چاہتی تھی اور یہ بھی نہیں چاہتی تھی جو اب ہوا
امرحہ عالیان اپنی ماں کے لیے بہت احساس ہے سب ہی ہوتے ہیں پر جن کی ماں کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہو جیسے مارگریٹ کے ساتھ تو بچے اور بھی احساس ہو جاتے ہیں
میں نے تمہیں عالیان کے بارے میں اس لیے کچھ نہیں بتایا تھا کہ تم عالیان کے دوست ہو کچھ بھی اس کے سامنے کہہ دیتی تو دکھ میرے بیٹے کو ہوتا اس کا باپ ولید ہے جس نے مارگریٹ سے شادی کی اور پھر بتائے بغیر چھوڑ گیا اکیلے دکھ سہتی مارگریٹ مر گئی میں نے اس کی وہ حالت بھی دیکھی بالکل دیوانوں کی طرح والید کو ڈھونڈتی پھرتی اور ولید نے عالیان کو اپنا بیٹا ماننے سے انکار کر دیا۔
مارگریٹ سے اس نے آخری ملاقات میں بہت برا بھلا کہا تھا
اس کے کردار پر اس کےمذہب پر انگلی اٹھی اور اب ولید عالیان کو اپنے مقصد کے لئے ڈھونڈ رہا ہے
اسے عالیان سے کوئی لگاؤ نہیں وہ ایک خود غرض انسان ہے
میرے پاس مارگریٹ کی ڈائری ہے اسکی آخری سطروں میں لکھا ہے ۔
میں دعا کرتی ہوں عالیان کبھی اپنے باپ سے نہ ملے نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے مجھ سے بد تر سلوک اس سے کرے گا
اس سطر نے مجھے پریشان کیا اور پھر وہی ہوا۔
جس کا ڈر تھا عالیان بہت دکھی ہو گیا ۔امرحہ
امرحہ سے زیادہ کون جان سکتا تھا کہ کتنا دکھی ہو گیا
اور اب عالیان ویرا سے شادی کرنا چاہتا ہے
وہ ٹھیک کر رہا ہے اس نے فوراً کہا
ہاں شاید ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے
میرا عالیان میرا فرشتہ
کچھ دیر کمرے میں خاموشی رہی
بحرحال یہ تمہارا گھر ہے تم رہو یہاں میں کل کی طرح اج بھی وہی ہوں ماں ہوں نا تو تمارے ساتھ سخت ہو گئی ایک ماں کو معاف کر دو۔
اس بات سے آپ نے مجھے بے مول کر دیا
میں نے تمہارے لئے عالیان کو سمجھایا مگر شاید اس کا دل سخت ہو گیا ۔
دل تو میرا سخت تھا سوچ کر لیڈی مہر کے ہاتھ چوم کر اٹھ گئی
وہ چاہا کربھی گھر نہ بدل سکی مگر ویرا کے آنے تک یہاں سے چلی جانا چاہتی ہے دو دن وہاں رہی تو ویرا واپس آ چکی تھی اور وہ دوست کے فلیٹ
تم وہاں کیوں گئی ہو آن لائن بھی نہیں آتی فون بھی نہیں اٹھاتی
مریم نے چند، دن ساتھ رہنے کا کہا میں انکار نہیں کر سکی
آ جاؤ گھر فلم دیکھیں گے
ٹھیک ہے میں چند دنوں تک آجاؤں گی
تم ناراض ہو کے میں نے تمہیں عالیان کو پرپوز pg#191
کرنے کی بعد کسی کو نہیں بتایا، میں نے سائی کے علاوہ کسی سے بات نہیں کی تھی- ”
“میں ناراض کیوں ہونگی ویرا یہ تمہارا ذاتی معمالہ ہے -”
“پھر بھی–” ویرا بہت خوش لگ رہی تھی –
“تمھیں ایسا نہیں سوچنا چاہیئے میں تمھارے لئے خوش ہوں- تم نی ایک اک انسان کا انتیخاب کیا-”
“پاپا نے کہا میں علیان کو لے کر روس آؤ اور تمھیں بھی -”
“ٹھیک ہے -”
“میں نے تمھاری باتیں فل پرفارمنس کے ساتھ اور وہ ہنس ہنس کر دیوانے ہوگۓ۔ انہوں نے کہا کہ امرحہ چند سال ہمارے پاس آکر رہے یہ چند سال ہمیں پاکستان اپنے پاس رکھے انہوں نے کہا کہ میرے دل میں حسرت جنم لینے لگی ہے کہ کاش امرحہ میری بیٹی ہوتی۔۔ معصوم اور فرشتہ سی۔۔ہاہاہاہا۔۔! دیکھو انہیں اپنی بیٹی اب بری لگنے لگی ہے۔ امرحہ مجھے شیطان کـھ رہے تھے اور تمھارے لیے ایک پیغام دیا ہے کہ ایک چھوٹا لوہے کا شکنجا خریدلو جہاں کہیں کارل نظر آۓ اس کی ناک میں گاڑ دو۔۔”
ویرا شروع ہوئ تو بولتی رہی اور وہ سنتی رہی اچھا تھا کہ ساری گفتگو فون پر ہوری تھی ورنہ فل پرفارمنس میں دینے میں وہ صفر ہی رہتی۔
ایک بات امرحہ نے اپنے دل پر نقش کرلی تھی۔”اب وہ کسی کی بھی زندگی میں کوئ مسلہ نہیں کریگی۔”اسنے سارے حساب نکال لیۓ تھے ویرا غلط تھی ہی نہیں۔ ۔ نہ ہی عالیان ۔۔ غلط بس وہ تھی۔ اس نے عالیان کو اپنی حبتکے بارے میں بتایا نہ ویرا کو۔ اب اسے کوئ شکوہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ باب یہیں ختم کردیا گیا اور آخری سطر میں “سب ختم” لکھا رہ گیا۔
وہ یونی اسے جاتی جیسے یونی جا کر بھی وہ موجود نہ ہو۔ آنے والے دنوں میں اس کی آواز بھولی بسری داستان کی مانند ہوگئ اور پھر وہ ایسے موجود ہونے لگی کہ اپنی غیر حاضری کے ثبوت دینے لگی۔ اس نے خود کو گم کر لیا۔ ایسے جیسے وہ قصہ پارینہ ہو۔اسےدیکھ کر یہ یاد کرنا پڑتا کہ ہاں یہ وہی لڑکی ہے۔۔ وہی لڑکی جو امرحہ تھی۔۔ وہ امرحہ رہی بھی اور نہیں بھی۔
سائ اکثر اس کے پاس آجاتا لیکن اسے زیادہ بولنے پر مائل نہ کر پاتا ۔ اب سائ بولتا اور امرحہ سنتی۔
مانسچڑ یونیورسٹی میں سب ٹھیک ٹھاک تھا۔ اس کےاندر۔۔ اس کے باہر سب ٹھیک۔۔ ایک دن وہ اس کیفے گئ جہاں اسے پہلی جاب ملی تھی۔
“یعنی تم مجھے بھولی نہیں، اس بار تم پورے دو مہینے بعد آئ ہو ملنے۔”وہ مسکرا دی۔
“کتنا بدل گئ ہو تم۔۔ مس آخروٹ۔۔!”
“کیسے۔۔” وہ مسکرا رہی تھی پھر بھی وہ کھ رہے تھے کہ وہ بدل گئ ہے۔
” جب تم جاب حاصل کرنے آئ تھی اور تم نے اپنے یونی فیلوز کا استعمال کیا تھا تو میں نے سوچا تھا کہ تم دنیا کو اپنے آگے لگا لینے کی طاقت رکھتی ہو لیکن اب تمھیں دیکھ کر لگ رہا ہے کہ تم دنیا سے ہی بھاگنے کو تیاری کر رہی ہو۔۔”
“آپ کے شہر نے مجھے بدل دیا۔۔” کافی کے مگ کے کنارے پر انگلی پھیرتے اس نے کہا۔
“اگر یہ میرے شھر نے کیا ہے تو مجھے شکایت ہے مانسچڑ سے اور تمھیں مشورہ دوں گا کہ اپنے گھر لوٹ جاؤ اور پہلے جیسی بن کر آؤ۔”
“ایک بار گئ تو ہر چیز سے جاؤں گی نہ پہلے سی نہ بعد سی۔۔”
انہوں نے غور سے اس کی شکل کو دیکھا۔۔ “تمھارا مسلہ شھر نہیں۔ کوئ اور ہے اسے حل کرو مس آخروٹ۔۔!دبارہ آنا تو خود کو پہلی جیسی بنا کر آنا۔۔” کافی ختم کر وہ بے دلی سے اٹھ آئ۔ وہ سارے شھر میں تسلیاں ڈھونڈتی پھر رہی تھی۔
pg#191
کرنے کی بعد منے کسی کو نہیں بتایا، میں نے سائ کے علاوہ کسی سے بات نہیں کی تھی- ”
“میں ناراض کیوں ہونگی ویرا یہ تمہارا ذاتی معمالہ ہے -”
“پھر بھی–” ویرا بہت خوش لگ رہی تھی –
“تمھیں ایسا نہیں سوچنا چاہیئے میں تمھارے لئے خوش ہوں- تم نی ایک اک انسان کا انتیخاب کیا-”
“پاپا نی کہا میں علیان کو لے کر روس آؤ اور تمھیں بھی -”
“ٹھیک ہے -”
“میں نے تمھاری باتیں فل پرفارمنس کے ساتھ اور وہ ہنس ہنس کر دیوانے ہوگۓ۔ انہوں نے کہا کہ امرحہ چند سال ہمارے پاس آکر رہے یہ چند سال ہمیں پاکستان اپنے پاس رکھے انہوں نے کہا کہ میرے دل میں حسرت جنم لینے لگی ہے کہ کاش امرحہ میری بیٹی ہوتی۔۔ معصوم اور فرشتہ سی۔۔ہاہاہاہا۔۔! دیکھو انہیں اپنی بیٹی اب بری لگنے لگی ہے۔ امرحہ مجھے شیطان کـھ رہے تھے اور تمھارے لیے ایک پیغام دیا ہے کہ ایک چھوٹا لوہے کا شکنجا خریدلو جہاں کہیں کارل نظر آۓ اس کی ناک میں گاڑ دو۔۔”
ویرا شروع ہوئ تو بولتی رہی اور وہ سنتی رہی اچھا تھا کہ ساری گفتگو فون پر ہوری تھی ورنہ فل پرفارمنس میں دینے میں وہ صفر ہی رہتی۔
ایک بات امرحہ نے اپنے دل پر نقش کرلی تھی۔”اب وہ کسی کی بھی زندگی میں کوئ مسلہ نہیں کریگی۔”اسنے سارے حساب نکال لیۓ تھے ویرا غلط تھی ہی نہیں۔ ۔ نہ ہی عالیان ۔۔ غلط بس وہ تھی۔ اس نے عالیان کو اپنی حبتکے بارے میں بتایا نہ ویرا کو۔ اب اسے کوئ شکوہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ باب یہیں ختم کردیا گیا اور آخری سطر میں “سب ختم” لکھا رہ گیا۔
وہ یونی اسے جاتی جیسے یونی جا کر بھی وہ موجود نہ ہو۔ آنے والے دنوں میں اس کی آواز بھولی بسری داستان کی مانند ہوگئ اور پھر وہ ایسے موجود ہونے لگی کہ اپنی غیر حاضری کے ثبوت دینے لگی۔ اس نے خود کو گم کر لیا۔ ایسے جیسے وہ قصہ پارینہ ہو۔اسےدیکھ کر یہ یاد کرنا پڑتا کہ ہاں یہ وہی لڑکی ہے۔۔ وہی لڑکی جو امرحہ تھی۔۔ وہ امرحہ رہی بھی اور نہیں بھی۔
سائ اکثر اس کے پاس آجاتا لیکن اسے زیادہ بولنے پر مائل نہ کر پاتا ۔ اب سائ بولتا اور امرحہ سنتی۔
مانسچڑ یونیورسٹی میں سب ٹھیک ٹھاک تھا۔ اس کےاندر۔۔ اس کے باہر سب ٹھیک۔۔ ایک دن وہ اس کیفے گئ جہاں اسے پہلی جاب ملی تھی۔
“یعنی تم مجھے بھولی نہیں، اس بار تم پورے دو مہینے بعد آئ ہو ملنے۔”وہ مسکرا دی۔
“کتنا بدل گئ ہو تم۔۔ مس آخروٹ۔۔!”
“کیسے۔۔” وہ مسکرا رہی تھی پھر بھی وہ کھ رہے تھے کہ وہ بدل گئ ہے۔
” جب تم جاب حاصل کرنے آئ تھی اور تم نے اپنے یونی فیلوز کا استعمال کیا تھا تو میں نے سوچا تھا کہ تم دنیا کو اپنے آگے لگا لینے کی طاقت رکھتی ہو لیکن اب تمھیں دیکھ کر لگ رہا ہے کہ تم دنیا سے ہی بھاگنے کو تیاری کر رہی ہو۔۔”
“آپ کے شہر نے مجھے بدل دیا۔۔” کافی کے مگ کے کنارے پر انگلی پھیرتے اس نے کہا۔
“اگر یہ میرے شھر نے کیا ہے تو مجھے شکایت ہے مانسچڑ سے اور تمھیں مشورہ دوں گا کہ اپنے گھر لوٹ جاؤ اور پہلے جیسی بن کر آؤ۔”
“ایک بار گئ تو ہر چیز سے جاؤں گی نہ پہلے سی نہ بعد سی۔۔”
انہوں نے غور سے اس کی شکل کو دیکھا۔۔ “تمھارا مسلہ شھر نہیں۔ کوئ اور ہے اسے حل کرو مس آخروٹ۔۔!دبارہ آنا تو خود کو پہلی جیسی بنا کر آنا۔۔” کافی ختم کر وہ بے دلی سے اٹھ آئ۔ وہ سارے شھر میں تسلیاں ڈھونڈتی پھر رہی تھی۔
pg#193
مارگریٹ کے لیے وہ کوئ جگہ نہ ڈھونڈ سکا کہوہ اسے کس حصے میں رکھے کہ اسے دیکھنے سے اسے خوشی ہوا کرے۔
وہ خود کو بدل رہا تھا۔۔ یہ اسکا ماننا تھا۔ ابتداء اس نے چیزوں سے کی اور وہ سب ایسے کرتا رہا جیسے کسی کو یہ سب دیکھا رہا ہو۔۔ کس کو۔۔؟ اس نے یہ بیٹھ کر طے نہ کیا اور عالیان”ہارٹ بریکر “کے نام سے فریشرز میں مقبول ہوگیا۔ اس نے نئ آنے والی لڑکیوں کا جیسے دل ہی توڑ دیا کیوں کہ ہو اور ویرا جگہ جگہ ساتھ ساتھ دیکھے جانے لگے، چہل قدمی کرتے ہوۓ ،ساتھ ساتھ سائیکل چلاتے ہوۓ،لان میں بیٹھے باتیں کرتے ہوۓ، لائبریری میں ساتھ بیٹھے پڑھتے ہوۓ اور کبھی کبھی ویرا اس کے کندھے پر سر رکھ دیتی تو کوئ نہ کوئ تصویر کھینچ کر سب کو ٹیگ کر دیتا اور پھر خوب گوسپ ہوتا۔ کبھی کوئ ایسی تصویر
“the tab manchester”
کا حصہ بھی بن جاتی،ایسے ہی کیمپس نیوز کے عنوان سے۔ ایک اور جوڑی فریشرز میں مقبول ہونے لگی”عالیان اور کارل” ہفتہ کر رات یا اتوار کے دن وہ کسی ایک یا زیادہ فریشرز کو بھگتا لیتے۔سائیکلنگ اور سوئمنگ میں جیت جیت کر انہوں نے اتنے پیسے کمالیے کہ کرسمس کی چھٹیوں میں آرام سے کسی بھی ملک میں دس دنوں تک دو وقت کا اچھا کھانا کھا سکتے تھے۔
کسی بھی مقابلے کے درمیان عالیان کا رویہ اتنا تند خو ہوجاتا جیسے جیتنا اس کے لیے زندگی اور موت کا مسلہ بن چکا ہو وہ معمولی چیزوں اور اشاروں کو اہمیت دینے لگا۔ ہال میں کبھی کبھار ہونے والے خود ساختہ تھیٹر میں وہ ہنسا ہنسا کر سب کو لوٹ پوٹ کر دیتا ۔۔ وہ کئ کام ایک ساتھ کرنے لگا تھا۔ جیسے اس کے پاس وقت کا نہ ختم ہونے والا ذخیرہ موجود ہو اور اپنی توانائیوں کو وہ کہیں بھی لگا دینا چاہتا ہو۔ پڑھائ کے علاوہ بھی اسے بہت کچھ سوجھنے لگا تھا۔ وہ بالتا تو خود کو روکنا نہیں چاہتا۔۔ خاموش ہوتا تو کبھی بول پڑنے پر مائل نہ دکھتا۔۔ ہنستا تو اس کے قہقہے کانوں کو پریشان کرتے۔ کہیں کھڑا ہوتا تو اپنے گرد مجمع اکھٹا کر لیتا اور اس کے چلنے پھرنے کا انداز ایسا ہو گیاکہ شاید وہ غصہ میں آیا جاتا ہے۔اس میں تکبر نہ چھلکا،لیکن وہ شان بے نیازی کا قائل نظر آنے لگا۔ اس پر نظر اٹھتی۔۔ ٹھرتی ۔۔ اور یہ سوچ پیدا کرتی۔ “کیا یہ عالیان ہے یا نہیں۔۔ تو پھر عالیان کہاں ہےـ؟”
کئ فریشرز کو اس نے کوڑے دان میں بند کیا اور کتنوں کو اسٹور میں لاک کیا گمان گزرنے لگا کہ ہو سنگدل ہوگیا ہے۔ جب وہ چپ ہوتا تو یہ گمان بھی گزرتا کہ کسی کے بارے میں وہ بے حسی سے سوچ رہا ہے۔۔ کسی سے لڑ رہا ہے۔۔ دلائل دے رہا ہے۔۔ ثبوت مانگ رہا ہے۔۔ وہ جنگ کی حالت میں لگتا۔۔ دوندو لڑتا ہوا بھی۔۔ ڈھیر صورت شکست خوردہ بھی۔۔ وہ اختتامیہ بھی لگتا اور شروعات بھی۔
کتنی ہی علامتیں اس میں سر اٹھا کر کھڑی ہوگئیں جس میں سب سے نمایاں “میں تکلیف میں ہوں” تھی کتنے ہی اشارے اس کی سمت ابھر کر معدم ہوجاتے جس میں سب سے نمایاں “مجھ سے دور رہا جاۓ” ہوتے۔
وہ ایک ایسے میدان کی صورت اختیار کر گیا جس میں جابجا قبریں کھودی جا رہی ہوں کہیں کسی گلستان کی آبیاری کی تیاری نہ کی جا رہی ہو،نہ اس کی اجازت لی اور دی گئ ہو۔ اس دور افتادہ عمارت کی چھت سے رسّے سے کودنے کا ٹاسک اس نے ایسے جیت لیا کہ کوئ اسے ہرانے کے بارے میں سوچ نہ سکا۔ ہاں ایسے وقتوں میں وہ بے رحم لگنے لگتا جیسے وہ ایسا گوریلا کمانڈر ہو جو بغاوت کا ارادہ بانھ چکا ہو۔ اس کی سائیکل سڑک پر ایسے دوڑنے لگی جیسے وہ کوئ میزائل ہو جسے ہدف کی طرف داغ دیا گیا ہو۔
انچائ سے پانی میں الٹی چھلانگیں لگاتے اس نے اپنے ساتھ بےدردی کا رویہ اپنا لیا کہ کارل نے اسے روک کر پوچھا۔
“تمھارا دماغ کام کر رہا ہے نا۔بس کرو۔” وہ ہنس کر کارل کو پرے کرتا اور پھر سے شروع ہوجاتا۔ سب دوست بس اسے دیکھتے ہی جاتے۔ سائ زیر لب دعائیں دہراتا اور یہ دعائیں تب بھی دہرائیں گئیں جب وہ دوانچی پہاڑیوں پر تنی رسّی پر چل رہا تھا۔
کارل پہلے ہی اس پار جا چکا تھا۔ انہیں سب سے کم وقت اسکور کرنا تھا۔ اور جب وہ رسّی پر چڑھا تو اس نے حفاظتی بیلٹ کھول دی اور انچائ سے نیچے جھانکا،کارل کے دماغ میں چھانکا ہوا اگر اس کے دو پر ہوتے تو وہ اڑ کر اسے منہ میں دبوچ کر اس طرف لے آتا۔ وہ رسّی پر چل رہا تھا، اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ بہت بلندی پر تھے اس کی مدد کے امکان صفر تھے ان سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان سے اپنا سانس بحال رکھنا مشکل ہو گیا۔
“یہ پاگل کیا کرنے جا رہا ہے۔؟”کارل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیا کر گزرے۔
“میرا خیال تھا یہ ٹھیک ہوگیا ہے۔”سائ بڑبڑایا۔ وہاں آٹھ لڑکوں کا گروپ موجود تھا، تین فریشرز،دو سئنیرز فریشرز نے اسے ایک چیلنج جانا کہ وہ انہیں آزما رہا ہے کہ ایسے کر کے دکھاؤ تو تمھیں جانیں اور ان کا کوئ ارادہ نہیں تھا اس کے چیلنج پر بھڑکنے کا وہ کھیلنے آۓ تھے جان پر کھیلنے نہیں اور وہ جان پر ہی کھیلنے آیا تھا۔۔ سب سے معمولی چیز “عالیان” کو وہ کہیں اٹھا کر پھینک دینا چاہتا تھا۔
کارل اور سائ کو اس کی ذہنی حالت کے بارے میں ٹھیک ٹھیک اندازہ ہوگیا۔ وہ انہیں دھوکا دیتا رہا تھا اور وہ اس کے دھوکے میں آگۓ تھے۔ وہ اتنی اونچائ پر اکیلا کھڑا تھا اسے نیچے جا گرنے کا کوئ ڈر نہیں تھا۔ اس نے سب سے کم وقت اسکور کیا تھا۔کارل نے اسے گریبان سے پکڑ لیا۔” اگر تم مرنا چاہتے ہو تو مجھے بتاؤ،میں تمھیں گولی مارنے کا جذبہ پیدا کرلوں گا۔۔ اسکے لیے تمھیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے”۔ وہ اسے غصے کی زیادتی کی وجہ سے جھنجھوڑ رہا تھا۔
“ٹھیک ہے مار دو گولی۔” اس نے سنجیدگی سے کہا اور جھانک کر نیچے دیکھا اتنا اونچا آکر بھی وہ کہیں بہت نیچے گرا ہو ہی ہے۔
کارل نے اس کے جبڑے پر پوری قوت سے گھونسا مارا کہ اس کے منہ سے خون نکلنے لگا، وہ بھاگ کر رسّی پر چڑھ گیا اور حفاظتی بیلٹ کھول دی۔ “اب دیکھو مجھے۔۔ اور جانو کہ کیسے جان نلکلتی ہے۔۔”
عالیان نے اپنے لب بھینچ لیے اور اس افسوس ہوا۔۔ کارل بے دردی سے رسّی پر چل رہا تھا جیس اسے بھی اپنی جان کی پرواہ نہیں۔۔ لیکن عالیان کو اس کی پرواہ تھی وہ محسوس کر رہا تھا کہ پہاڑ اس کے پیروں تلے سے کھسک رہا ہے۔
فریشرز کھڑے ان دونوں کی شکلیں دیکھ رہے تھے۔سائ پھر سے زیرلب دعائیں پڑھنے لگا تھا اور عالیان کارل سے اپنی نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا۔
“ہاں یہ ٹھیک ہے،جان اس وقت نہیں نکلتی جب اپنی جان نکلتی ہے۔۔ جان اس وقت نکلتی ہے جب اپنے کسی پیارے کی جان نکلتی ہے اور اس نے یہ جانا کہ ہم اپنے پیاروں کی جانوں کے حقدار ہیں اپنی نہیں۔”اس نے بے بسی سے نظر اٹھا لر آسمان کی طرف دیکھا کہ اتنا کچھ جان لینے پر بھی وہ جان لینے والا کیوں نہیں ہورہا۔
اور یہ کہ زندگی کے سب ہی اجالے” شب گزیدہ” کیسے ہوکۓ اور کے ارتکاز کے سنناٹوں نے “عائشہ نیازی” کے کرب آمیز چغے کس دھاگے سے بن لیے۔
“سراب مسلسل”ـ”داستان حیات” میں کس رخ سے داخل ہو کر پناہ گریں ہوا اور قطرہ شبنم”بہ نوک خارمی رقسم” ہونے پر راضی کیسے ہوگۓ۔
——————–
عالیان اور ویرا کی جو تصویرں ادھر ادھر گھومتی تھیں وہ امرحہ کی نظروں سے بھی گزر ہی جاتی تھیں۔ شزا تو خاص اسے وہ تصویرں موبائل پر بھیجتی تھی۔ وہ ان تصویروں کو دکھ سے دیکھتی نہ غصہ اور حسد سے۔۔ وہ عالیان اور ویرا کی تصویریں ہوتیں اور دونوں ہی اسے پیارے تھے۔ ہاں کبھی کبھی ان تصویروں کو دیکھتے اسے سانس لینے میں مسلہ ہوتا اور ایک بار اس نے محسوس کیا کہ جسے ہم سارے کا سارا اپنا سمجھتے ہیں وہ سارے کا سارا کسی اور کا ہوجاۓ تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئ ہمارے ٹکڑے کر کے چیل کوؤں کو کھلا رہا ہے اور ہمیں دکھا بھی رہا ہے کہ دیکھو کیسا لگتا ہے۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: