Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 5

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 5

“اور پلیز،جب آپکی جاب کا انتظام ہو جائے تو ہانا کے نوڈلرز واپس کر دیجئے گا”
“کر دوں گی”
“اور۔۔۔ ایک اور بات۔۔۔۔ دوبارہ اپنی ڈگری کے ساتھ چھیڑ چھاڑ مت کیجیئے گا۔۔۔ خاص کر پلس ایڈ کرنے کی غلطی۔۔۔”
یہ آخری لیکن سب سے خطرناک بم تھا جو کینٹین کے شور و غل میں بہت اہتمام سے پھٹا ۔۔ وہ انکی طرف ایسے دیکھنے لگی، جیسے ابھی ابھی افریقہ کے کسی قدیم قبیلے سے یہی لوگ اٹھا کر لائے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ دیکھو ڈرو نہیں وہ کوئی جنگلی درندہ نہیں، پیٹرول سے چلنے والی بڑی بس ہے جس پر سفر کیا جاتا ہے اور جسے ایک ڈرائیور چلاتا ہے۔۔ وہ قطعا کوئی درندہ یا بلا نہیں۔۔۔
ان تینوں کی شکلیں۔۔۔ جیسے قہقوں کی پھلجڑیوں کو اندر ہی اندر بجھا رہے ہوں۔۔۔ ہاں وہ تینوں اس آخری بات پر ہنسی کو دبانے کی کوشش کر رہے تھے اور کامیاب بھی تھے اور وہ دھاڑیں مار کر نہ رونے کی کوشش کر رہی تھی اور نا کام ہو رہی تھی۔۔ اسکی شکل سب بتا رہی تھی۔۔۔ اسے خیال آیا کہ اس نحوست کو لے کر اس پر جو حملے کئے گئے تھے وہ کتنے معمولی تھے ان جملوں کے مقابلے میں جو مونچسٹر میں مانچسٹڑ والوں نے کئے تھے۔۔
وہ تو ننھی سی چھوٹی سی بچی تھی۔۔۔ اسے خوش بھی نہ ہونے دیا گیا اور رلا دیا ۔۔۔رلا دیا۔
آنسووں کا سمندر اسکی آنکھوں میں تیرتا نظر آنے لگا۔
ان تینوں نے اسکی شکل کی طرف دیکھا اور بلکل خاموش ہو گئے پھر بائے کہہ کہ اٹھ گئے۔۔ اگر وہ اسکے اولین استاد تھے تو کمال کے تھے۔۔انہوں نے اسے سمندر میں دھکا دے دیا تھا یا ڈوب کر مر جاو یا تیر کر ابھر آو۔۔۔یا ڈر کر دبک جاو یا کود کر اڑ جاو۔۔۔
مانچسٹر میں ملنے والا پہلا سبق۔۔۔ مانچسٹر میں سنا جانے والا پہلا لیکچر اور مانچسٹر میں گرائے جانے والے اولین آنسو۔۔۔
“مانچسٹر میں خوشآمدید”
*۔۔@۔۔*
وہ کینٹین سے نکلی اور ایک ایسا گوشہ ڈھونڈھنے لگی جہاں کوئی نہ ہو لیکن ویکم ویک چل رہا تھا۔ یونیورسٹی میں ایسا رش تھا جیسے 14 اگست کو لاہور مال پر ہوتا ہے۔۔۔ خاص کر چمن اور ریگل چوک کے پاس۔۔۔ خیر وہ سبزے پر بیٹھ گئی۔۔۔اور منہ نیچے کر کے رونے لگی۔۔۔آج اسکا پہلا دن تھا تو وہ بہت اہتمام سے تیار ہو کر آئی تھی۔۔۔ اسنے مسکارا بھی لگایا تھا اور آئی لائنر بھی۔۔ میک اپ کے نام پر وہ یہ دو چیزیں ہی استعمال کرتی تھی۔۔کافی دیر تک وہ سوں سوں کرتی رہی۔۔اسکا مسکارا پھیل گیا اور آنکھیں رگڑنے سے آس پاس اوپر نیچے سیاہی پھیل گئی تھی۔۔اسکے پاس ٹشو نہیں تھا۔۔اپنے سفید دوپٹے سے وہ صاف نہیں کرنا چاہتی تھی۔انگلیوں سے جتنی آنکھیں صاف کر سکتی تھی اسنے کر لیں لیکن چہرے پر کافی سیاہی پھیل چکی تھی اور وہ عجیب مضحکہ خیز لگ رہی تھی پر اب اسے پروا بھی نہیں تھی کہ وہ اچھی لگ بھی رہی ہے یا نہیں۔۔ جی بھر کر رونے کے بعد وہ اٹھی ۔ایک سٹوڈنٹ اسکے پاس سے گزر رہا تھا جسے اسنے ہاتھ کے اشارے سے روکا۔ “مجھے جاب چاہیئے”۔ آنکھوں خو رگڑتے اسنے کہا۔
“جاب۔۔۔؟ میرے پاس جاب نہیں ہے”
“پاگل! مجھے جاب چاہئے۔کیسے ملے گی۔۔۔”؟ اسنے اپنا غصہ اس پر اتارنا چاہا۔۔۔
“اوہ۔۔ مجھے تو ابھی خود ڈھوڈنی ہے” کہہ کر وہ چلا گیا۔ تین چار ایسے ہی نمونوں سے ملتی وہ ایک جگہ جا کر کھڑی ہوگئی اور آس پاس موجود دوسرے اسٹوڈنٹس کو دیکھنے لگی۔۔ وہ بہت تیزی سے آرہے تھے۔ جا رہے تھے۔۔ ہنس رہےتھے۔باتیں کر رہے تھے قہقہے لگا رہے تھے۔وہ سب بہت خوش اور پر جوش تھے۔۔ان سب کے چہرے دمک رہے تھے۔ وہ چالیس ہزار اسٹوڈنٹس میں بلکہ یونیورسٹی میں پہلی لڑکی ہو گی جو ایک طرف کھڑی مزید رونے کی تیاری کر رہی تھے۔۔۔ وہ اپنے سنہری وقت کو برباد کر رہی تھی۔۔وہ چپ کھڑی سب کو دیکھتی رہی۔۔پھر اسے خیال آیا کہ اسے بھی چلنا چاہیئے۔۔اور ایک دم اسے یاد آیا کہ اسے اپنا اسٹوڈنٹ کارڈ بنوانا ہے۔۔ہو سکتا ہے صرف آج کے دن ہی بنے اور آج ہی نہ بنوانے پر اسے یونیورسٹی سے نکال دیا جائے۔
وہ پرجوش اسٹوڈنٹس کے ریلے میں شامل ہو گئی اور اونگوں بونگوں کی طرح منہ اٹھا کر چلتی رہی۔۔۔۔ گھومتی رہی۔۔۔ ایک سے دوسرے کیمپس جیسے تاریخی عمارت کا جائزہ لینے آئی ہو۔۔پڑھنے نہیں۔۔۔
“آپ کچھ ڈھونڈ رہی ہیں یقینا” گہری جامنی رنگ کی شرٹ پہنے اور ask me (مجھ سے پوچھیں) کا بورڈ ہاتھ میں لیئے وہ خود ہی اسکے قریب آیا تھا۔۔۔ وہ دو تین بار اسکے پاس سے گزری تھی بلکہ وہ کئی اور ask me کے پاس سے گزری تھی۔
“مجھ سے پوچھئے میں آپکی مدد کروں گا” اوہ اچھا۔۔۔ask me کا بورڈ وہ اس لئے کئے گھوم رہا تھا۔ اسکا خیال تھا کہ وہ کسی ویب سائٹ کی پروموشن کر رہا ہے۔
“مجھے اسٹوڈنٹ کارڈ بنوانا ہے” یہ کہتے وہ اسکی بے جا لمبی ناک کو دیکھنے لگی۔
“ویل یہ تو بہت آسان ہے” اسنے ہاتھوں کے اشاروں اور زبان کے کلام سے بتایا کہ کہاں جانا ہے۔
“مجھے سمجھ نہیں آئی”۔ امرحہ نے کندھے اچکا کر کر ایسے کہا جیسے اسکی کارکردگی کو انتہائی فضول کا خطاب بس دینے ہی والی ہو۔ اور سمجھ اسے اس لئے نہیں آئی تھی کیونکہ وہ اسکی لمبی ناک کی بناوٹ کو سمجھنے میں مصروف تھی۔
“یہاں چلی جائیں” اب اس نے اسکے ہاتھ ایک نقشہ دیا، اس پر ایک جگہ سرخ دائرہ لگایا۔
“آپکا دن اچھا رہے” وہ مسکرانے لگا اوع ایسا کرتے اسکی ناک پھیل سی گئی اور وہ پھر سے اسکی ناک کو گھورنے لگی۔
“کچھ اور پوچھنا ہے” وہ جزبز ہوا۔وہ یقینا جان چکا تھا کہ وہ اسکی ناک کو گھور رہی ہے۔
اب وہ ہاتھ میں پکڑے نقشے کو دیکھنے لگی اسکول کے نصاب کی کتاب کے نقشے کے علاوہ یہ اس کے ہاتھ میں آنے والا پہلا نقشہتھا جو کسی عمارت کا تھا۔ اور وہ دعوے سے کہہ سکتی تھی۔ وہ اس نقشے کو استعمال کر کے بھٹک تو کئی بار سکتی ہت لیکن اصل مقام پر پچاسویں کوشش پر بھی نہیں پہنچ سکتی تھی۔۔۔
مزید کسی سے کوئی لیکچر نہ سننا پڑے وہ آرام سے نقشہ لے کر بھٹکتی رہی۔۔۔ بھٹکتی رہی۔۔۔ اسے ایک ڈر اور بھی تھا کہ کہیں دائم، نوال وغیرہ اسکے پیچھے نہ ہوں کہ دیکھیں یہ اپنے کام کر بھی پاتی ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔
ادھر ادھر گھومتے تین چار بار لمبی ناک والے نے اسے نوٹ کیا۔
“آپ جا کیوں نہیں رہیں؟۔۔ نقشہ دینے والا اسکے پیچھے آیا۔
“مجھے راستہ ہی نہیں مل رہا”
میں نے نشان لگایا تو ہے۔۔۔ بورڈ پڑھتی جائیں اور چلتی جائیں”
“آپ مجھے چھوڑ آئیں”
” ہائیں۔۔۔” اسکی دونوں کچھ زیادہ پھیل گئیں۔ امرحہ کا انداز ہی ایسا تھا کہ بھائی
زرا مجھے میری دوست کے گھر تک تو چھوڑ آو۔
ایک بار پھر اسنے ہاتھ سے اشارے کر کے سمجھایا۔۔یہاں سے دائیں پھر سیدھا۔۔ پھر تھوڑا سا بائیں اس طرف۔
“مجھے نہیں سمجھ آ رہی۔۔۔ آپ مجھے چھوڑ آئیں مجھے ڈر لگ رہا ہے”
“ڈر۔۔۔!” اس بار وہ بے چارہ ایسے حیران ہوا جیسے اسکا کوئی مردہ رشتہ دار اسکے سامنے آ کھڑا ہوا ہو۔
“کیسا ڈر؟” آج ہالوین نہیں ہے”
مجھے ان سب سے ڈر لگ رہا ہے” اس نے آس پاس چلتے پھرتے ہر قوم و نسل کے لڑکا لڑکی کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
امرحہ کی طرف اچنبھے سے دیکھتے رہنے کے بعد اسنے ایک قہقہہ لگانا ضروری سمجھا، پھر واکی ٹاکی نکال کر بالنے لگا
“جارج۔۔۔ سنو ایک ہندوستانی لڑکی”
“پاکستانی” اسکی بھنویں تن گئیں۔
“جارج ایک پاکستانی۔۔ بلیو اینڈ وائٹ”
“ڈارک بلیو شرٹ اینڈ وائٹ دوپٹہ”
“ڈارک بلیو شرٹ اینڈ وائٹ دو پاٹا”
“دو پٹہ”
“دو پا ٹا۔۔۔ میں آئے گی اسے پلیز آگے سے اگے ریفر کررے جانا اور اسے اسٹوڈنٹ کارڈ کاونٹر تک پہنچا دینا”
“ریفر کیوں کرنا ہے۔۔۔ اتنا وقت کس کے پاس ہے” جارج کی آواز اس نے بھی سنی
“اسے ڈر لگ رہا ہے” لمبی ناک والے نے سنجیدگی سے کہا۔
“ڈر ۔۔۔ کیا مزاق ہے یہ”
“وہ سنجیدہ ہے۔۔۔ مکمل سنجیدہ۔۔۔ یا یونیورسٹی میں اعلان کروا دو کہ سب تھوڑی دیر کیلئے یونیورسٹی خالی کر دیں۔۔تاکہ وہ اپنا اسٹوڈنٹ کارڈ بنوا سکے۔۔۔۔ تم سن رہے ہو جارج۔۔”
جارج یقینا سن رہا تھا۔۔۔ کیونکہ اسکا بلند بانگ قہقہہ امرحہ نے بھی سنا تھا۔۔۔ حد ہے کوئی مجھے سمجھتا کیوں نہیں ہے اخر۔۔۔
“اس طرف چلی جائیں۔۔۔ اگلے اسک می کو اپروچ کریں”
اسنے دائیں طرف اشارہ کیا۔۔۔ وہ دائیں طرف چلی گئی اور ایک اور آسک می کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔ وہ اس کی طرف دیکھنے لگا کہ جو پوچھنا ہے پوچھو۔۔۔
“میں اپکی کیا مدد کر سکتا ہوں”
یعنی یہ وہ جارج نہیں تھا جسے اسنے اپروچ کرنا تھا۔
“مجھے اسٹوڈنٹ کارڈ بنوانا ہے” ٹھیک ہے۔۔۔ یہ لیں یہاں چلی جائیں”۔ اسنے بھی سرخ دائرہ لگا کر اسے دیا۔
“مجھےنقشہ نہیں چاہیئے”
“تو۔۔۔ انتظامیہ نے ابھی تک ایئر بس کا انتظام نہیں کیا یہاں” وہ طنزا ہنس بھی نہ سکا۔
اف کتنی تیز زبانیں تھیں ان سب کی۔۔۔
مجھے وہاں تک چھوڑ آئیں۔۔،،،
چھوڑ آوں۔۔۔میں۔۔۔کیوں ؟آپ کو آسانی سے راستہ مل جائے گا۔۔۔ویسے میں آپ کو بتا دوں۔۔میں آسک می ہوں۔۔ڈراپ یو نہیں۔۔کیا اس خوبصورت انسان کو کسی نے بتایا نہیں تھا کہ ایسے طنز باتیں کرتے وہ بالکل اچھا نہیں لگتا۔۔۔
نہیں مل رہا نا راستہ–اس نے اس آسک می کو دادا ہی سمجھ لیا تھا اس کے لاڈاٹھاتے نہیں تھکتے تھے۔سب اپنے اپنے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔آپکو بھی مل جائیگا۔سب تیز ہیں۔۔چلاک ہیں۔۔مکار ہیں۔۔میں نہیں ہوں۔۔میں ڈرپوک ہوں۔۔اس نے روانی سے اردو میں کہا اور خاموش ہوگئی اور صرف کندھے اچکائے کہ نہیں مل رہا۔۔سب ذہین ہیں۔۔۔ذمہ دار ہیں۔۔پڑھے لکھے ہیں اور خاص طور پر اپنی مدد کے آپ قائل ہے۔۔جواب اردو میں آیا۔۔اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اس انگریز کو دیکھا جس کی آنکھیں گہری بھوری تھیں۔اور سفید سرخی مائل رنگت تھی۔اور بڑے بڑے کان تھے۔کچھ زیادہ ہی بڑے کان تھے۔
اس کا وا کی ٹاکی بولا۔ بلیو شرٹ وائٹ دوپاٹا۔۔۔پاکستانی۔۔۔­۔نظر آئے تو پلیز آگے ریفر کریں۔۔
میں تھک گئی ہوں چلتے چلتے اور بھوک بھی لگی ہے۔مجھے کتنا اور آگے ریفر کریں گے۔
یہ آپ کا پہلا دن ہے،،،
،،،،جی۔۔۔۔
آپ پہلے ہی دن تھک چکی ہیں۔
آسک می کا بورڈ پکڑے یہاں کھڑے یہ میرا تیسرا دن ہے۔میں ابھی تک نہیں تھکا۔
آپ لڑکے ہے۔۔۔
آپ جیسی لڑکیاں بھی نہیں تھکتیں۔۔۔اس نے دور کھڑی لڑکی کی طرف اشارہ کیا جو بورڈ لئیے کھڑی تھی اور پھرتی سے اسٹوڈنٹس کی رہنمائی کر رہی تھی آپ ہم سے پوچھ کر ہم پر کوئی احسان نہیں کر رہی بلکہ ہم کر رہے ہیں۔آپ نہیں ہم تھکے ہیں۔ہمیں اس کام کے پیسے نہیں ملیں گے۔۔ہم یہ بورڈ لے کر رضاکارانہ خدمات پیش کر رہے ہیں۔آپ ایک باس کی طرح ہم پر حکم نہیں چلا سکتی۔۔تھک گئی ہیں تو سینما جاکر بیٹھ کر ٹام اینڈ جیری دیکھیں۔۔آپکی تھکن دور ہو جائے گی۔۔اگر یہ لیکچر تھا تو اسے کسی ایسے پروفیسر کا ناک توڑ دینا چاہئیے۔۔امرحہ نے اپنے ہاتھ کا گھونسہ بنایا۔۔
آپکو بات کرنے کی تمیز سیکھنی چاہئیے۔۔امرحہ چلا پڑنا چاہتی تھی بس۔۔اور ہاتھ سے بنے گھونسے کا استعمال بھی کرنا چاہتی تھی۔آپکو تھکن اتارنے کی مشق کرنی چاہئیے۔۔وہ آوازوانداذ سے ہی ناک توڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔
میں بہت باہمت ہوں اس نے جتا کر کہاں۔
بیسٹ آف لک۔۔۔اس نے کہ کر منہ دوسری طرف کر لیا کہ اب جاو۔۔۔
وہ دوسری طرف جا کر ایک لڑکی سے پوچھنے لگی اور پوچھتے پاچھتے آخر کار اسٹوڈنٹس کاونٹر پر پہنچ گئی۔اور اپنے کاغذات دینے کے بعد تصویر کیلئے ڈیجیٹل کیمرے کے سامنے آکربیٹھ گئی۔
تمھارا کچھ گم ہو گیا ہے؟کاونٹر نے کاونٹر سے اپنا ادھا گنجاسر آگے کر کے مسکرا کے اس سے پوچھا۔

Read More:  Tery Ishq Nachaya by Hoor e Shumail – Episode 7

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: