Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 50

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 50

اُسے پیارے تھے ہان کبھی کبھی اُن تصویروں کو دیکھتے اُسے سانس لینے میں مسئلٰہ ہوتا اور ایک بار اُس نے محسوس کیا کہ جیسے جِسے ہم سارے کا سارا اپنا سمجھتے ہیں وہ سارے کا سارا کسی اور کا ہو جائے تو ایسا لگتا ہے کہ کو ئ ہمارے ٹکڑے کر کے چیل کوؤں کو کھلا رہا ہو اور ہمیں دکھارہا ہوکہ دیکھو کیسا لگتا ہے ۔
اُس نے عالیان کے پاس جانے کی کوئ کوشش نہیں کی تھی۔اپنی غلطی کی معافی مانگنے کی۔ وہ اُسے اپنی صورت ہی نہیں دکھانا چاہتی تھی کہ اُسے پھر سے تکلیف ہو۔ اُس نے ایک خط لیکھ کے سائ کو دےدیاتھا کہ او اُس کے پاکستان جانے کے بعد عالیان کو دےدے ۔خط میں اُس نے اپنی غلطیوں کی معافی منگی تھی اور کچھ نہیں۔
ان ہی خزاں رسیدہ دنوں میں اُس کا سامنا پال سے ہوا ۔اُس کا انداز ایسے تھا کے جیسے وہ خاص اُس سے ملنے آیا ہو ۔اُس پہلے بھی اُس کا اس سے سامنا ہوتا رہا تھا لیکن وہ راستہ بدل لیتی تھی ۔
میں اب تم سے معزرت کرنے کے قابل ہو چُکا ہوں ۔ اُس نے مسکرا کر دوستانہ انداز میں کہا۔اُس کے پہلے ہی جملے پے امرحہ حیران رہ گئ۔وہ اُس کے سامنے کھڑا تھا۔
مجھے حقیقتاً اب افسوس ہوا ہے کہ میرا ردِ عمل کس قدر غلط تھا ۔ میں نے تمیں نقصان پنچانا چاہا بدلے میں تم نے اٰعلٰی ظرفی کا مظاہرا کیا تم نے یے ثابت کر دیا کہ تم ہر حال میں مجھ سے بہتر انسان ہو ۔امرحہ مجھے یے جلد ہی معلوم ہو گیا تھا کہ وہ پیغامات تم مجھے پوسٹ کرتی رہی ہو۔
امرحہ زارا سے چونکی اُس واقعے کے بعد امرحہ اُسے پیغامات پوسٹ کرتی رہی تھی۔

وہ ہفتے میں دو بار ایسا کرتی وہ باقاعدگی سے لیڑ اُسے ٹائپ کر کے بیجھتی رہی۔
شروع کے پیغامات چھوڑ کر میں نے بعد میں انے والوں کو زرا توجہ سے پڑھنا شروع کر دیا تھا پھر میں نے اُن پر سوچنا شروع کر دیا اور پھر میں ان سے متاثر ہونے لگا ۔ان میں کوئ ایسی بات نہیں ہوتی تھی کہ عام سمجھ بوجھ والے انسان کو اچھی نا لگے چند ماہ پہلے میں نے مذہب پر کچھ کتابیں لے کر پڑھیں اور مجھے معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک کتاب میں وہ لیکھا تھا جو تم مجھے لیکھ لیکھ کر پوسٹ کرتی رہی تھی ۔
“میں تمیں قرآن کی آیتیں لیکھ کر بیجھتی رہی تھی ۔
معلوم ہو گیا ہے مجھے تم نے میرے ساتھ ایسا سعلوک کیا میں متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکا ۔کیا تم مجھے انسان سمجھنا چھوڑ سکتی ہو امرحہ۔۔
امرحہ مسکرا دی اور کہا پال تم نے لا علمی کے باعث میرے مذہب کے بارے میں جو کہا تو میں نے معاف کر دیا ۔مگر میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستای کرتے میں تو میں یا کوئ بھی مسلمان برداشت نہیں کرتا۔
کچھ اور باتیں کر کے جب پال چلا گیا تو امرحہ کو لگا جیسے وہ کسی امتحان میں پاس ہو گئ ہو ۔چلو اس کے ہاتھ کوئ تو کامیابی آئ ۔ اُس واقعے نے اُسے کے اندر یے احساس پیدہ کیا کہ عقل اور سوجھ بوجھ سے کیے گئے عمل کبھی بے کار نہیں جاتے عقل کرشمعہ ساز ہے اور یہ معجزوں کی رتھ کی سوار ہے ۔ سائیکل پر جایا کرو نا یونی تم تو بھول ہی گئیں سادھنا رات کو اُس کے پاس بیھٹی باتیں کر رہی تھی۔
دل نہیں چاہتا سائیکل چلانے کو ۔وہ پڑھ رہی تھی۔
تمہارا تو اب زبان ہلانے کو بھی دل نہیں چاہتا ۔سادھنا نے اُس ہنسانا چاہا۔
میری زبان نے بہت کمالات دیکھائے ہیں نا۔ اسی لیے۔ اُس نے ہنس کر کہا لیکن بات مزاک نہیں تھی ۔اگر انسان سے غلطی نا ہو تو وہ انسان نا ہو۔
اگر غلطیاں ہی ہوتی رہے تو بھی انسان نا ہو۔ اُس نے سر اُٹھا کر کہا ۔
اُس کے انداز پر سادھنا خاموش ہو گئ اور کچھ دیر ٹہھر کر اپنے کمرے میں چلی گئی
اگلے دن وہ یونیورسٹی سے ہسپتال آ گئی کارل کا معمولی سا اکسیڈینٹ ہوا تھا ایک امیر زادے نے کارل نے چلا چلا، کر سڑک پر ہنگامہ کیا جس سے اس کی ہڈیاں چور چور ہو گی وہ خود امیر زادہ کے ساتھ پراویٹ ہسپتال آیا تھا وہ مزے کر رہا تھا اس کا چلنا تھوڑا مشکل ہو رہا تھا
امرحہ دو دن بعد اس کے پاس جانے کا فیصلہ کر سکی
ہسپتال کاونٹر پر لڑکی نے پوچھا تم دوست ہو امرحہ نے منہ بنا کر سر ہلا دیا۔
ٹھیک ہے مگر زیادہ دیر ہسپتال میں رکنا ٹھیک نہیں ہوتا
کتنا اچھا ہوتا تم سب کے ساتھ یونیوسٹی جوائن کر لیتے
دو دن بہت ہوتے ہیں ہسپتال میں اس نے منہ بنا کر کہا امرحہ اسکی بات سمجھ نہیں سکی۔
اس کا مطلب ہے تم اپنے دوست سے کہو جلدی ڈسچارج ہو جائے
امرحہ کارل کے روم کی طرف بڑھی پتہ نہیں ڈاکٹر کب اسے ڈسچارج کریں گے
امرحہ اس کے کمرے میں آئی تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اس کا خیال تھا عالیان نہیں ہو گا مگر وہ سامنے ہی بیڈ پر بیٹھا پیڈ پر کچھ نوٹ بنا، رہا تھا ۔دروازہ کھلنے پر سب نے سر اٹھا کر اسے دیکھا عالیان نے بھی
امرحہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی اندر جائے یا لوٹ جائے
کارل اچھل کر اس کی طرف لپکا ہائے امرحہ تم خالی ہاتھ تو نہیں آئی
سائی اور شاہ ویز پوسٹلگا رہے تھے جس پر لکھا تھا جلدی ٹھیک ہو جاؤ کارل۔سائی اور شاہ ویز نے بھی اسے دیکھ لیا اور مسکرائے ۔
لاؤ اب یہ چاکلیٹ کا ڈبہ مجھے دے دو اس نے کھنچے ہوئے بیڈ کی طرف آیا امرحہ کے تاثرات سے وہ سمجھ گیا وہ اسے بیمار نہیں سمجھ رہی تو چاکلیٹ لاک میں رکھ دی کے واپس ہی نہ مانگ لے پھر کراہنے لگا اپنی زخمی کلائی اور پاؤں دیکھانے لگا
عالیان نے ایسے ظاہر کروایا جیسے کمرے میں کوئی آیا ہی نہیں وہ اپنے نوٹ بنانے میں مصروف رہا
میں دو دن سے تکلیف میں ہوں تم اب آئی ہو امرحہ
امرحہ جاتے جاتے ہسپتال والوں کی خبرگری بھی کرتے جانا
ان کا بھی یہی کہنا، ہے کہ یہ دو دن تڑپتے رہیں شاہ ویز نے کہا
تم کب تک رہو گے یہاں امرحہ نے پوچھا
جب تک ٹھیک نہیں ہو جاتا۔
“لیکن تم تو مجھے ٹھیک لگ رہے ہو۔۔”
نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں نا! اس نے آنکھ مار کر کہا۔
تھوڑی دیر بیٹھ کر امرحہ اٹھ ائی۔ سائی امرحہ کے ساتھ باہر تک آیا اور اسے ہمدردی سے دیکھنے لگا جو کمرے سے باہر تک عجیب حالت میں چلتی آئی تھی۔
“تم بیٹھی ہی نہیں” آجاؤ واپس چلتے ہیں۔کارل اتنے مزے مزے کے لطیفے سنا رہا ہے نرسز کے بارے میں۔۔۔اور تمہیں پتا ہے ہسپتال کے رومز سے بھی کھانے پینے کی چیزیں غائب ہونا شروع ہوگئی ہیں اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ نرسز بھی یوں چلا سکتی ہیں۔ میرے سامنے ایک نے چلا چلا کر ہسپتال سر پر اٹھا لیا۔
اسکی کلائی پر جو کپڑا چپکا تھا وہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ وہ بےچاری ایک انجیکشن لگانے آئی تھی اسے رات کو۔۔ کون تھا جو اپنے اپنے روم سے نکل کر اس نرس کو دیکھ نہیں رہا تھا۔
سائی نے اسے ہنسانے کیلئے یہ سب کہا تھا اور اس یا دل رکھنے کو وہ ہنس دی اور چلی آئی اور اندر عالیان کارل کا لنگھڑا اسکیچ بنا چکا تھا اور اسکے زخمی ہاتھ میں ایک عدد چاکلیٹ کا ڈبہ بھی تھما دیا تھا۔۔۔ اور کارل کی آنکھیں۔۔۔کوئی دیکھتا تو عالیان سے پوچھتا۔۔
یہ کون سا کارل ہے جس کی آنکھیں اتنی سیاہ ہیں۔۔
اتنی سیاہ کہ ان میں جھانک کر مشرق کی ساری رمزیں بوجھی جاسکتی ہیں۔۔سارے قصے کہانیاں پڑھی جاسکتی ہیں اور جو اتنی محفوظ ہیں کہ ان میں اتر کر سارے دروازے بند کر کے قید ہونے کو جی چاہتا ہے۔ ایسی پناگاہیں جو زمین کو میسر نہیں، انکے مالک ہونے کا اعتراف صرف ایک ہی انسان پا سکتا ہے۔۔۔
ایسا انسان جس کے ساتھ لفظ “محبت”جڑا ہو۔۔۔
عالیان کی پنسل آنکھوں کی پتلیوں کو اور سیاہ کر رہی تھی اور وہ یہ جانتا نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔
⚛ ⚛ ⚛
فریشر میں سے ایک لڑکی ایما کے ساتھ کارل کی دوستی
اتنی بڑھ گئی کہ لڑکی کو کارل کو پرپوز کرنا پڑا اور کارل نے آخر یہ اعزاز حاصل کر ہی لیا کہ کوئی اسے بھی پرپوز کر سکتا ہے۔ لڑکی کا تعلق لندن سے تھا اور وہ کسی ہال میں رہنے کی بجائے ایک بہت بڑے گھر میں رہ رہی تھی۔ یعنی وہ اتنی اسیر تھی۔
یونی فیلوز کو کارل کی قسمت پر رشک آیا اور لڑکی کی قسمت پر افسوس ہوا،پھر انھی یونی فیلوزکو لڑکی کی قسمت پر رشک آیا اور کارل کی قسمت پر افسوس بھی نہ ہوا۔
کارل نے کوشش کی تھی کہ وہ ایک عام انسان بن کر رہے، لیکن ایک دن وہ عام انسان بنے رہنے سے چوک گیا۔ ایمان کی برتھ ڈے پارٹی پر جس میں لندن سے آیا اسکا خاندان بھی شریک تھا۔ اس نے کچھ ایسے پرانک(مذاق) کر ڈالے کہ سب دنگ رہ گئے کہ پرانک اور دہشت گردی میں کوئی میں کوئی تمیز نہ کیا۔۔۔؟؟
ان میں سب سے معمولی اور بےضرر پرانک صرف اتنا سا تھا کہ اس نے سرخ کارپٹ پر نظر نہ آنے والی ڈوری کی بارودی سرنگ بچھا دی جس سے پیر نہیں الجھتے۔۔
پھر اس نے ڈوری کے سرے کو آگ دکھادی۔۔اور وہ ڈوری کسی چھلاوے کی طرح سانپ بنی پھلجھڑی کی طرح کارپٹ پر رقص کرنے لگی۔۔ مہمانوں کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ بھاگ کر کہاں جائیں۔ ہر طرف اس پھلجھڑی کا جال بھڑک جاتا۔ یہ سب سے معمولی اور بےضرر پرانک تھا باقی کے معمولی اور غیر اہم پرانک۔۔ بقول مہمان”خدا کی پناہ”
بس اتنی سی بات تھی اور ایما نے اس کے منہ پر انگھوٹی دے ماری کہ وہ ایک دیوانہ انسان ہے۔۔۔
انگھوٹی سائی نے کیچ کی اور الفاظ عالیان نے یاد کر باقی کے ہال میٹس کو سنائے ۔۔ شاویز نے نیلا گاؤن پہن کر ایما بن کر۔۔۔سانحے کی ہوبہو نقل اتار کر دکھائی اور ہال میں”ایما برتھ ڈے پارٹی” کے عنوان سے تھیٹر کیا گیا۔۔جس نے تھیٹر ڈراموں کی تاریخ کو بدل ڈالا اور سب کامیڈی ڈراموں کا”باپ ڈرامہ”کا خطاب حاصل کیا۔
ایما تو پگل تھی کارل تو بس اسکی برتھڈے پارٹی کو یادگار بنا رہا تھا۔۔
“یادگار”
ویرا کے لیے وہ یادگار لمحہ تھا۔۔ان سب کے مشترکہ دوستوں کی برتھ ڈے پارٹی تھی جس میں ان دونوں نے گانا گایا تھا۔ اس نے عالیان کو روسی گیت کی مشق کروائی تھی اور وہاں موجود سب لوگوں کا ماننا تھا کہ اس سے بہترین گانا انہوں نے نہیں سنا اور پھر جب ویرا اکیلی گٹار پر گانا گانے لگی تو دور کونے میں کھڑے ہو کر عالیان اسے دیکھنے لگا ۔ اسکا عکس پانی کی طرح جھلمل کر رہا تھا۔ بن اور مٹ رہا تھا نہیں رہا تھا۔۔
” ویرا ایک اچھی لڑکی ہے اس نے خود سے کہا ، اور خود کو یاد دلایا۔
اسکی صورت بن اور بگڑ رہی تھی جو اچھی بات نہیں تھی اسے تو نقش ہو جانا چاہیے تھا۔
اس نے ویرا کے پاپا سے کئی بار بات کی تھی وہ اس سے اسکی دلچسپیوں کے بارے میں پوچھتے اور اس سے بات کر کے بہت خوش ہو جاتے۔۔
ماما مہر ہفتے میں دو بار اس سے مل کر جاتیں۔۔ اور وہ ریسٹورنٹ یا ہوٹل میں ڈنر کر لیتے، فلم دیکھنے چلے پہلے ماما مہر نے اسے چھپا کر رکھا ہوا تھا کہ ولید کے آدمی اس تک نہ پہنچ جائیں۔ اب اس احتیاط کی ضرورت نہیں تھی۔ ولید کے آدمی اب بھی اس کے پاس اسے مختلف بہانوں سے منانے آئے تھے اور وہ ان سے اچھی طرح سے نبٹتا تھا۔
اور ایک بار وہ سیکرٹ روم بھی گیا وہ سمجھ نہیں سکا کہ وہ وہاں کیوں آیا ہے ۔ اس نے ایسے ہی دیواروں کو دیکھا اسکی نظروں نے کچھ ڈھونڈنا چاہا۔ امرحہ کی لکھائی پر اسکی نہیں ٹھر گئیں اور اس نے نظریں پھیر بھی لی۔۔ تو پھر وہ یہاں کیوں آیا تھا؟ اس نے کاغذ پر چند سطریں لکھیں۔
” ویرا ایک اچھی لڑکی ہے۔۔بہت اچھی لڑکی۔۔”
وہ کاغذ کو گھورتا رہا کیا اسے یہی لکھنا تھا۔۔۔ ہاں پر یہی کیوں؟
میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میرے دل کی وسعت کہاں کھو گئی ہے۔۔۔
میں ظالم ہوں یا مظلوم۔۔
میں اچھا کر رہا ہوں یا میرے ساتھ برا ہو رہا ہے۔۔”
دوسرے کاغذ پر اس نے لکھ کر چپکا دیا اور مانچسٹر کی حدود سے دور نکل گیا۔۔
شام نے اپنا پیراہن رات کے حوالے کیا۔۔
رات تین بجے کے قریب وہ ایک دم سے اٹھی اور بستر ایسے چھوڑا جیسے قیامت آگئی ہو۔ کوٹ اور جوتے اس نے کیسے پہنے اسے معلوم نہیں ہوا اور وہ کمرے کے باہر بھاگی اور بیرونی دروازے کو پار کیا جو ان لاک تھا۔ اور تیزی سے شیڈ کی طرف بڑھی اور اپنی سائیکل نکالی ابھی وہ اس پر بیٹھ ہی پائی کہ سادھنا کی آواز اسکے پیچھے سے آئی ۔
امرحہ کہاں جا رہی ہو؟
وہ پسینہ پسینہ ہو چکی تھی اور اس کی سانسیں قابو میں نہیں آرہی تھیں۔۔کہ اس نے سادھنا کی طرف دیکھا۔۔ پھر خود کو اور سائیکل کو۔۔۔ Analm ہال میں آگ لگی ہے۔ آنسو اسکی آنکھوں سے
کسی سیلاب کی طرح نکل رہے تھے۔۔
تمہیں کس نے بتایا؟ سادھنا اس سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور ہاتھ سے اس کے آنسو صاف کرنے لگی۔۔
“مجھے؟” اب وہ چونکہ اور یاد کرنے لگی ۔
ہاں۔۔کس نے بتایا۔۔۔ سائی نے یا کارل نے؟؟
وہ خاموش سادھنا کو دیکھتی رہی اور پھر سائیکل کو واپس رکھا اور اپنے گال رگڑے اور گھر کے اندر قدم بڑھا دیے ۔ اس نے خواب دیکھا تھا یا کچھ اور تھا اس نے آگ لگی دیکھی تھی وہ سادھنا کے سامنے شرمندہ ہوگئی۔۔
بتاؤ امرحہ تمہیں کس نے بتایا؟ اس نے امرحہ کا شانہ ہلایا۔
کسی نے نہیں۔۔میرا وہم تھا شاید
سادھنا بہت دیر تک اسے دیکھتی رہی ۔ امرحہ! ہال میں واقعی آگ لگی تھی ابھی دس منٹ پہلے ویرا مجھے بتا کر اس طرف گئ ہے
. سب ٹھیک ہیں وہاں..”سادھنا نے اسکا گال چھو کرکہا –
“تو ویرا جا چکی ہے..”وہ واپس آپنے کمرے میں پالٹ آئ اور ان دعاؤں کو دوہرانے لگی جو تا عمر اسے عالیان کے لئے دہراتے رہنی تھیں پھر اس نے سائی کو فون کیا اور احوال پوچھا وہاں سب ٹھیک تھا حادثاتی آگ تھی جس پر قابو پا لیا گیا تھا- امرحہ نے فون بندکردیا تو سائی عالیان کے پاس آیا-
“کسی نے امرحہ کو اگ کے بارے میں نہیں بتایا تھا لیکن اسے معلوم ہوگیا اگر فون پر تم اسکی آواز سن لیتنے تو کانپ جاتے.. عالیان..! تم اسے خود سے الگ ہی رکھو لیکن اسے ناپسند نہ کرو.. اسے ایک اسے شخص کا مشوارہ مان کر اس پر عمل کرلو،جس نے اب تک کی عمر میں سب سے بےلوث محبت ہی کرنا سکھا اور سیکھایا ہے-“سائ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
عالیان کی آنکھوں کی پتلیاں جھلملا گئں اور وہ سائکے پاس سے اٹھ آیا۔غصہ،انا،دکھ،پچھتاوا،بےرحمی وہ ان سب کا ملغوبہ بن گیا تھا۔ وہ آج جو بن گیا اس نے ایسا بننے کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اب تک جو اس کے ساتھ ہوچکا تھا۔ اس نے یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا اس کے ساتھ ہوگا۔ وہ بیک وقت بےرحم اور رحم دل انسان بن گیا تھا۔ظالم اور معصوم،جلدباز اور صابر،ذہیں اور سودائ۔۔ آسان اور مشکل۔۔ وہ اپنی ذات کو بھول بھلیوں اور اپنے فیصلے کی گرداب میں پھنس چکا تھا۔ وہ اب ایک ایسے شخص کی کہانی بن گیا جس کے پاس سب ہوتا ہے بس اپنا آپ ہی نہیں ہوتا۔۔ جو سب کچھ ڈھونڈ نکالتا ہے سواۓ اپنے۔
ہارٹ راک میں اس کی نظر ایک ایسی لڑکی پر ٹھر گئ جس نے سرخ رنگ کی فراک پہن رکھی تھی اور بالوں کو کھلا چھوڑ رکھا تھا۔وہ ڈانس فلور پر ایسے ناچ رہی تھی جیسے کوئ اور بھی اسکے ساتھ ناچ رہا ہے،کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ رکھا ہے۔ کوئ اسے بانہوں میں تھام کر گھما رہا ہے۔آس پاس والوں نے اسے پہلے لڑکی کا ایک مزاق سمجھا پھر اسکی سنجیدگی اور کمال فن دیکھ کر انہوں نے مزاق کا پہلو ترک کر دیا۔
ڈانس فلور پر باقی سب رک کر پیچھے ہوگۓ اور وہ اکیلی ویسے ہی محو رقص رہی،جیسے اس کا محبوب اس کے ساتھ محو رقص ہے۔ اس کی آنکھيں بند تھیں اور چھرے پر کمال معصومیت،لڑکی کے انداز میں ایسی بےخودی تھی کہ گمان ہوتا تھا کہ وہ کسی نظر نہ آنے والے وجود کے ساتھ موجود ہے۔ سب اسے بہت فرصت سے دیکھ رہے تھے اور کوئ یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ رقص روک دے۔ ایسے رقص قسمت سے ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔سب نے اپنی حرکت کو جامد کرلیا کہ مبادا کوئ آواز ہو اور وہ چونک جاۓ۔
کچھ دیر گزری، اسنے آنکھيں کھولیں، اسے احساس ہوا کہ وہ کیا کرتی رہی ہے، لیکن وہ شرمندہ نہیں ہوئ بلکہ وہ مسکرائ جیسے”ملاقات محبوب”تمام ہوئ۔بخوشی،اور وہ ڈانس فلور سے ہٹ گئ۔
وہاں موجود ایک شخص اس کی کیفیت سمجھنے کا دعوا کر سکتا تھا۔ وہ عالیان تھا۔۔کچھ دن پہلے وہ کیفے کے اسٹور میں آیا تھا۔ اور اسٹور میں آکر باہر جانا بھول گیا تھا وہ فرش پر بیٹھ گیا اور کتنا ہی وقت گزار دیا وہ تب چونکا جب اس کا فون بجا۔ ویرا نے اسے کچھ نوٹس کے بارے میں پوچھنے کے لیے فون کیا تھا۔
ویرا کی آواز اسے واپس لے آئ اور وہ اس سے خائف نہیں ہوا۔ویرا سے زیادہ سمجھدار لڑکی اس نے آج تک نہیں دیکھی تھی۔اس کا دل بہت بڑا تھا وہ جلد برا نہیں مانتی تھی۔اس کی باتیں سننے میں مزا آتا تھا۔اس کے ساتھ چلتے اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا تھا۔وہ دل دکھانے والوں میں سے ہرگز نہيں تھی اس نے ایک بار اسے بادام کیک بنا کرکھلایا تھا اور وہ بیچاری خاموشی سےکھاگئ تھی، بچے ہوۓ آخری ٹکڑے کو کھانے پر عالیان کو معلوم ہوا کہ اس نے اس سے بدمزہ کیک ساری زندگی کبھی نہیں بنایا ہوگا۔
اور امرحہ نے بادام کیک بنانا سیکھ لیا تھا۔ اس نے وہ کیک سادھنا کے لیے بنایا تھا، اس کی سالگرہ کے لیے pg#200
سادھنا اس کا اتنا خیال رکھتی تھی اسے بھی کچھ اس کے لیے کرنا چاہیے تھا۔ویرا نے اخبار کے دفتر میں باقاعدہ جاب کرلی تھی،اور وہ کافی مصروف رہنے لگی تھی۔ امرحہ کا خیال تھا کہ ویرا بہت اچھی صحافی بن سکتی ہے۔ویرا اسے اپنے آفس بھی لے کر گئ تھی اور وقت نکال کر وہ اسے اپنی سائیکل پر بیٹھا کر مانسچڑ گھوماتی رہتی، اور ایک بار وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چھل قدمی کرنے لگی۔
امرحہ کا دل افسوس سے بھر گیا۔سائ ٹھیک کہتا ہے۔ سب اس کے ساتھ کتنے اچھے ہیں یہ وہ اندازہ بھی نہیں کر سکتی تھی اور اگر وہ ویرا کو بتادے کہ عالیان اس کے لیے کیا ہے تو ویرا شاید بہت آرام سے عالیان کو پہچاننے سے ہی انکار کردے۔لیکن اب اس کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی تھی۔
عالیان کے باپ کی آمد سے ویرا واقف ہوچکی تھی لیکن اسے کسی نے یہ نہیں بتایا تھا کہ امرحہ نے وہ سب کیا تھا۔اسے بہت اوپر اوپر کی عام سی باتیں معلوم ہوئیں تھیں۔ سادھنا،کارل،سائ، لیڈی مہر کسی نے بھی دوبارہ کسی سے اس واقعہ کا ذکر نہیں کیا تھا۔ عالیان امریکہ گیا تھا تو ویرا کو ہی معلوم تھا کہ وہ ماما مہر کو لے کر شارلٹ کے گھر گیا تھا۔
عالیان اور ولیدالبشر کی ملاقات کیسی رہی اس نے یہ بھی معلوم کرنا نہیں چاہا تھا۔لیڈی مہر نے اسے بس اتنا کھ دیا تھا کہ وہ عالیان سے اس بارے میں کوئ بھی بات نہ کرے اور اس نے ایسا ہی کیا تھا۔
———————
ویرا سے بہت کم بات ہوپاتی تھی اس کی،رات کو وہ بہت دیر سے واپس آتی اور یونی میں وہ اس کے ڈیپارٹمنٹ جا نہیں سکتی تھی۔ویرا کی اسٹڈی ٹف تھی اس لیےاسے لائبریری سے ہی فرصت نہیں ملتی تھی۔
امرحہ نے پہلی بار کے تجربے کی بعد، وقت سے پہلے اپنی اسائیمنٹ بنانا سیکھ لیا تھا۔ ویسے بھی اس کے پاس پڑھنے کے علاوہ کام ہی کیا تھا۔ یونی میں اس کے بہت سے دوسرے ڈیپارٹمنٹس کے دوست اسے ڈھونڈتے اسکے پاس آتے کہ وہ کہاں گم ہے، نظر کیوں نہیں آتی اور اس کے ایشین فلیگ نے لہرانا کیوں چھوڑ دیا ہے۔ اور اسکی سائیکل آج کل کسی کو گرا کیوں نہیں رہی۔اوراب ریس کب ہوگی۔۔ کارل کے ساتھ۔بلکہ اب تو فاٹ بال میچ ہونا چاہیے۔
کارل کے ساتھ اس کی سائیکل ریس اتنی مقبول ہوئ کہ جیسے اس نے ورلڈ سائیکلینگ کا میڈل جیت لیا ہو۔بہت بڑی تعداد آئ تھی اسٹوڈینٹس کی ریس دیکھنے۔وہ سب امرحہ کو سپوٹ کرنے آۓ تھے،اتنی اہم تھی امرحہ ان کے لیے۔اور اب بھی وہ اسے اپنی پارٹیز میں بلانا نہیں بھولتے تھے۔ دائم نے نوال کی برتھ ڈے پارٹی پر اسے بلایا ،لیکن وہ بار بار کے اصرار پر بھی نہیں گئ۔
اخبارات میں ویرا کے آرٹیکلز دھڑا دھڑ آ رہے تھے۔وہ ان آرٹیکلز کو پڑھتی اور ان کے تراشے کاٹ کر اس نے ایک فائل بنانی شروع کر دی،اسے یہ سب پاکستان اپنے ساتھ لے کر جانا تھا۔اب حقیقت میں وہ ویرا کو اپنے دل کے بہت قریب محسوس کیا کرتی تھی۔ایک ایسی دوست جو اسے اب تک کی زندگی میں اب تک نہیں ملی تھی۔ اس نے کارل کو چھرا لگوایا تاکہ امرحہ ہرحال میں جیت جاۓ۔ ویرا کے لیے اس کی جیت اتنی خاص تھی۔وہ فہرست بناتی تو تھک جاتی جو جو کچھ ویرا نے اس کے لیے کیا تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ روس لے جانا چاہتی تھی،اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا چاہتی تھی اور امرحہ واقعی میں اب اس کی مٹھی میں بند ہوجانا چاہتی تھی۔
“اختتام۔”وقت کا ہو یا کسی عمل کا۔۔کتنا بھی خوشگوار ہو،دکھی کر جاتا ہے۔۔ کسی بھی چیز کا ختم ہوجانا دل پر آری چلا جاتا ہے۔
سب ختم ہورہا تھا ۔۔ سب۔
فارغ وقت میں وہ البم بناتی رہتی۔کارل،ویرا،سائ اور عالیان کی مختلف تصویریں کاٹ کاٹ کر چپکاتی رہتی ساتھ ان کی کہیں باتیں لکھتی جاتی۔
Pg#201
۔۔ ایما برتھ ڈے پارٹی کی جتنی تصویریں یونی میں پھیلی تھیں، وہ سب اس نے حاصل کر لیں تھیں۔ ہال میں ہونے والے “ایما برتھ ڈے پارٹی” ڈرامہ کی تصویریں بھی اسے مل گئیں تھیں، جس میں عالیان ایما کا باپ بنا تھا، سائی ایما کی ماما اور شاہ ویز ایما اور وہ سب کارل پر قہر بن کر برس رہے تھے، اور باقی ہال میٹس ہنس ہنس کر مرنے کےقریب ہوگئے تھے۔
اس نے اس البم میں اپنا سارا جہان سمیٹ لیا۔ وہ اسے دیکھ دیکھ کر ہنستی اور روتی رہی۔ وہ ان سب کو اپنے سینے سے لگا کر رکھنا چاہتی تھی۔ اس کا دل ان سب سے آباد رہنے والا تھا۔ وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہنے والے تھے۔
لیڈی مہر کو بھی کہانیاں سنانا اس نے بند نہیں کیا تھا۔ اسے آخر کار خود سے کہانی بنانا آگیا تھا۔ اس نے اپنے خاندان کی پسند کی شادی کرنے والوں کے قصے کہانی بنا کر سنا دیے، جسے بہت پسند کیا گیا۔ این البتہ درمیان میں بہت سوال پوچھتی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اگر لڑکا لڑکی شادی کرنا چاہتے یں تو فلاں ماموں کو کیوں مسلہ ہے، یا فلاں تایا جی یا دادی جی یا ابا جی کو۔۔ اور آخر پھوپھو جی اپنی بیٹی کی شادی کہیں اور کیوں نہیں کر دیتیں اسی لڑکے سے کیوں۔۔ اور خالہ جی نے شادی میں نہ آنے کی دھمکی کیوں دی۔۔ اور آخر اس بات کا کیا مطلب ہے کہ “تم آج سے ہمارے لیے مر گئے۔”
نشست گاہ میں آتش دان کے پاس ویرا کے علاوہ سب ہوتے۔ کسمس آنے والی تھی تو ہو لیڈی مہر کے بچو اور ان کے بچو کے لیے تحائف بھی پیک کرتے جاتے۔ ایک پہاڑ تھا تحائف کا جو انھیں پیک کرنا تھا۔ وہ اور سادھنا مل کر ان تحائف کی خریداری بھی کرتے جو لیڈی مہر کو پسند آۓ۔
عالیان جاب پر جانے سے پہلے گول دائرے کی صورت سائیکل چلاتا ہی جاتا، چلاتا ہی جاتا، خود کو چکروں میں لےلیتا۔ اسے ایسا کرتے دیکھ کر چکر آنے لگتے لیکن وہ باز نہ آتا۔
کارل ارو وہ ایک ساتھ واپس آتے اور کسی نہ کسی ہال میٹ کے کمرے میں گھس جاتے، پیزا منگواتے، فلم دیکھتے اور دو گھنٹے سو کر یونی آجاتے اور کلاس میں اپنی آنکھيں بمشکل کھلتے پاۓ جاتے اور ایسے ہی ہو اونگھ رہے تھے کہ شاہ ویز نے دونوں کے ناک کے نتھوں میں دو عدد پینسلیں اڑس دیں اور تصویر کھینچ کر “The tab manchester”
بھجوادیں۔
امرحہ نے وہ تصویر دیکھی تو بے اختیار ہنس دی اور تصویر کو محفوظ کر لیا۔
دوسری طرف عالیان نے خوب جم کر خریداری کی چھٹیوں میں ٹور پر جانے کے لیے۔
“تم کتنا بدل گۓ ہو ، کتنی فضول چیزیں اٹھا لاۓ ہو۔” سائی نے اس کی خریداری دیکھ کر کہا۔
“ہاں۔۔ تاکہ اگلی بار ولید مجھے دیکھے تو اسے یہ نہیں لگنا چاہیے کہ میں بک سکتا ہوں کیونکہ شاید میں نے حسرت زدہ زندگی گزاری ہے۔”
“چیرٹی کے لیے فضول خرچی نہیں کرتے تھے، نیکی کرتے تھے۔ صرف ایک انسان کو دکھانے کے لیے فضول خریداری کر رہے ہو، نیکی ضائع کر رہے ہو۔” سائی نے تاسف سے کہا۔
نئی خریدی گئی شرٹس کو اپنے ساتھ لگا لگا کر دیکھتے عالیان کے ہاتھ رک سے گئے۔
“میں بہت برا ہوگیا ہو۔۔ ولیدالبشر جیسا؟” سنجیدگی سے وہ پوچھ رہا تھا۔
اس کے سوال پر سائی سہم کر اسے دیکھنے لگا۔ “تم کیاکیا سوچنے لگے ہو عالیان” اس نے نرمی سے کہا۔ کارل آیا، ساری خریداری کو دیکھا، دو شرٹس اٹھایں، ایک جوڑا جوتے، ایک ہڈ اور اپنے کمرے کی طرف یہ کہتے بھاگ گیا کہ “کرسمس کا گفٹ میں الگ سے لوں گا۔”
“کرسمس۔”
کرسمس کی چھٹیوں سے چند دن پہلے فٹ بال میچ کی دھوم مچی اور کافی زوروشور سے اس سے متعلق خبریں سنی گئی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: