Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 51

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 51

فریشر اور عالیان، کارل کی دو ٹیموں کے درمیان میچ تھا آپس میں انھوں نے انعامی رقم بھی طے کی تھی۔
کارل امرحہ کے پاس آیا۔ “ہمارا میچ ہے ٹیم کا حصہ بننا ہے تمھیں”
“مجھےکھیلنا آتا ہے نہ مجھے اس میں دلچسپی ہے۔”
“تمھیں صرف بھگنا ہے۔۔ برف پر بھاگ تو لوگی ناں۔۔ ورنہ گرتی رہنا۔۔ گول کرنے کی ضرورت نہیں نہ ہی ڈیفنس۔۔ تم بہت انجواۓ کروگی امرحہ ۔۔ میرا خیال ہے تمھیں مھجے فوراً ہاں کہہ دینی چاہیے۔”
“میرا نہیں خیال۔” وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی دیوار سے پشت ٹکا کر کھڑی تھی۔
“دیکھنے آؤگی۔” وہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔
“نہیں ۔”وہ بلاوجہ کتاب کا کونا مروڑنے لگی۔
“تمھیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم کبھی دوست رہے ہیںـ”
“یاد ہے سب اور یہ بھی کہ وہ سب کبھی تھا۔”
“میں تمھیں برف میں دبانا چاہتا ہوں۔”
“مجھ میں اب برف میں دبنے کی طاقت نہیں رہی۔۔ تم مجھے زمین میں دفنا سکتے ہو۔”
“آخر یونیورسٹی کی ہر لڑکی مجھ سے دور کیوں بھگتی ہے؟” اس نے اس کی آخری بات کے اثر کو ذائل کرنا چاہا۔
“آخر تم ہر لڑکی کو دور کیوں بھگا دیتے ہو؟”
“اتنا اچھا تو ہوں میں ۔۔” اس نے منہ لٹکا لیا اور پھر ایک دم ہنس کر بولا۔
“اب تو آؤگی نا؟”
امرحہ نے ناں میں سر ہلایا۔ “تمھاری آفر کا شکریہ لیکن میری طرف سے معزرت۔”
“تم ایک الجھا سوال لگنے لگی ہو۔۔ بلکل عالیان کی طرح۔” چڑ کر کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔
عالیان ! اس نے اس نام کی سرگوشی ایسے کی جیسے کوئی جرم کر رہی ہو۔ کارل کو جاتے دیکھ کر اس کا دل چاہا کہ اس کے پیچھے جاۓ، وزنی فائل اس کے سر پر دے مارے اور کہے” ہاں بڈی میں ضرور کھیلوں گی ہم فریشر کو ہرا دیں گے” لیکن وہ یہ نہ کرسکی۔
ویرا نے بھی اسے منانا چاہا میچ کے لیے، لیکن اس نے طریقے سے اسے منع کر دیا۔ این گئی تھی اور اپنے موبائل سے اسے میچ دکھا رہی تھی۔ اس میچ کی دھوم مچی تھی، وہ برف پر بھاگ رہے تھے، گر رہے تھے، لڑ رہے تھے، ایما بھی فریشر کی ٹیم کا حصہ تھی اور کارل نے اتنی بار اسے برف پر گرایا کہ بےچاری کے منہ سے خون نکلنے لگا اور وہ فرسٹ ہاف سے پہلے ہی میچ چھوڑ کر چلی گئی۔
تینوں گول عالیان نے کئے تھے اور وہ برف پر ایسے بھاگتا رہا جیسے زمین کو روند ڈالنا چاہتا ہو اور فٹ بال کو اس نے ایسے پیروں کے نشانے پر رکھ رکھ کر اچھالا جیسے سنگ باری کر کے کسی کو مار ڈالنا چاہتا ہو۔ عالیان، کارل کی ٹیم جیت گئی۔
اس رات اسے پھر نیند کی گولیاں کھا کر سونا پڑا۔ اسے عالیان، ویرا، کارل کے پرجوش نعرے رات بھر سنائی دیتے رہے۔ وہ اپنے دل کے مقام کر مسلتی رہی۔ نیند کی گولیاں بھی نیند لانے میں ناکام ہوگئیں تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی، اپنے بستر پر اور گہرے گہرے سانس لینے لگی اور میچ کی ریکارڈنگ نکال کر عالیان کو برف پر گرتے، اٹھتے، فٹبال کی طرف لپکتے دیکھنے لگی۔ اور اس نے یہ بھی جان لیا کہ اب اسے صرف پڑھنے سے ہی سروکار نہیں رہا۔ ایک عالیان میں کتنے ہی نئے انسان گھس آۓ ہیں۔
اور پھر کرسمس کی چھٹیاں شروع ہوگئی اور سب جانے لگے۔ مانسچڑ راج ہنسوں سے خالی ہونے لگا۔
“ہمارے ساتھ چلو امرحہ!”سائی نے اس کی منت کی۔
“مجھے نہیں جانا۔ دادا نے منع کیا ہے۔”
“تم جھوٹ بول رہی ہو۔”
“ہاں۔۔ پھر سچ یہ ہے کہ مجھے نہیں جانا۔” اس نے بے تاثر انداز میں کہا۔ جسے دیکھ کر سائی افسردہ سا ہوکر خاموشی سے چلا گیا۔
ویرا نے بھی اسے ساتھ چلنے کو کہا کہ ان چھ لوگوں کا گروپ جا رہا ہے وہ بھی چلے، لیکن اس نے بہت عام سے انداز میں پڑھائی کا بہانہ بنا کر ٹال دیا۔
“پھر تو یہ موقع نہیں ملے گا نہ، ایک ساتھ ہونے کا شاید یہ آخری چانس ہے۔” اس نے ویرا کو مسکرا کر دیکھا دیا لیکن ساتھ پھر بھی نہیں گئی۔
عالیان، کارل، سائی، ویرا، شاہ ویز اور ان کا کوئی داسرا مشترکہ دوست مل کر جا رہے تھے لیڈی مہر نے سائی کو بلا کر ہدایت دی تھیں کہ ہر وقت عالیان کے ساتھ ساتھ ہی رہنا۔
اسے ان سب کے جانے کا انتظار تھا، اسے ایک اہم کام کرنا تھا جس کا موقع پھر کبھی نہیں ملنا تھا اور جب وہ سب چلے گئے تو وہ یونی آگئی۔
———————
“برف جدائی کی پیامبر ہے یہ بہار کے درمیان حائل ہے۔
آسمان سے یہی پیامبر نازل ہورہا ہے۔”
کسی سل گرفتہ پری کی فراق دیدہ انگلیوں سے نکلتے بربط کے ساز کی مانند دھند اپنی دل ربائی کے قصے بیان کرنے سے زیادہ فراقیہ قصوں پر رونے پر قائل ہے۔
وہ جیسے ہی یونیورسٹی کی سڑک پر آئی دھند نے درد بینا کی طرح اس سے لپٹ جانا ضروری سمجھا۔
وہ بزنس ڈیپارٹمنٹ نہیں جا سکی تھی۔ وہ اس کی بیرونی دیوار کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی اور ان دیواروں پر ہاتھ رکھ دیے جن کے پاس، جن کے ساتھ وہ لگ کر کھڑا ہوا کرتا تھا۔ اس نے ساری دیواریں چھو ڈالیں اور وہ درختوں کے پاس آگئی جن کے قریب وہ کھڑے ہوۓ تھے۔ اس حصے میں جہاں کبھی وہ بیٹھے تھے۔ ان کونوں میں جہاں بیٹھ کر وہ کتاب پڑھا کرتا تھا اور کافی پیا کرتا تھا۔
وہ نظروں سے ان جگہوں کی نظریں اتار رہی تھی۔ اب اسے ڈر نہیں تھا کہ کوئی اسے دیکھ لے گا اس لیے اس نے اپنے گیلے گال صاف نہیں کیۓ۔ جب سے اس نے اسے تھپڑ مارا تھا اس نے اس سے فاصلہ رکھ کر بھی نہیں دیکھا تھا، اس سے بات نہیں کی تھی۔ ہسپتال میں وہ سر جھکاۓ بیٹھی رہی تھی۔ یہ سب اس عہد کا حصہ تھا جو اس نے خود سے کیا تھا کہ وہ اسے اور تکلیف نہیں دے گی۔ لیکن اپنے لیے وہ اور تکلیف اکھٹی کرنے یہاں اس کے تصورات سے لپٹنے آگئی تھی۔
سفید مانسچڑ میں خون آلود یادیں اپنی بنیادوں سے اٹھ کھڑیں ہوئیں اور زندگی نے اس کے اشکوں پر ترس کھا کر پیچھے کی طرف اپنی سواری موڑلی۔
تان سین نے چراغاں کرنے کے لیےدیپک راگ کی چوکڑی جمائی۔
سفید دھند میں جگنو ٹمٹمانے لگے اور آسمانی مرغولوں کو چاک کرتا عالیان اس کی طرف بڑھنے لگا۔۔ دائیں سے۔۔ بائیں سے۔۔ آگے سے۔۔ پیچھے سے۔۔ ہر طرف سے لیکن اب اسے اس سے بھاگنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ وہ تو چاہتی تھی کہ وہ اس کی طرف آۓ اور وہ آرہا تھا۔
“جو حقیقت میں واقع نہ ہوسکے وہ قرب کی چاہ کروالیتی ہے۔”
وہ ایڑی کے بل گھوم گئی اور اس نے ہر طرف سے اسے اپنی طرف آنے دیا۔ اسے اس خواب کے سراب ہونے پر کوئی اعتراض نہ ہوا۔
“عالیان۔۔ ” اس نے سر گوشی کو جھٹکا اور آواز کو بلند ہوجانے دیا۔
وہ یونی محراب کے پاس تھی اس محراب کے پاس وہ کمر ٹکا کر اس کا انتظار کیا کرتا تھا۔ اس نے اس مقام پر اپنے گال رکھ دیے اور دونوں ہاتھوں سے اس جگہ کو تھام لیا۔
بے اختیاری، بے خودی کی ہم جولی ہے اور یہ دونوں ہم جولیاں “محبت” کی صفوں میں اول ہیں۔
اس کی بے اختیاری نے اس کی خشبو کو جالیا اور بےخودی اس خشبو میں جھومنے لگی۔ ایک بچہ اپنی ماں کو نظم سناتا ہوا فٹ پاتھ سے اس کے پاس سے گزرا اس نے اپنی حالت میں پھر بھی تبدیلی نہیں کی۔
کچھ وقت ایسے ہی گزر گیا۔
ارواح سے مبرا ہستیوں نے جانا کہ” محبت کی عبادت “کی جارہی ہےـ
پھر وہ اسی کے انداز میں کمر ٹکا کر کھڑی ہوگئ۔ زندگی کی سواری نے ان سب یادوں کو اس کے پاس اتارنا شروع کر دیا جو متلق العنان بنی اس کی ذات پر حکمرانی کرنے پر نازاں تھیں۔
“تمھیں بات کرنے کی تمیز سیکھنی چاہیے۔”
“تمھیں تھکن اتارنے کی مشق کرنی چاہیے۔”
وہ اپنی مرضی سے ایک ایک منظر کو دہراتی رہی۔
“لاہور خالی ہوچکا ہے اس کے پاس سب نہیں رہا۔ تم جو یہاں ہو۔”
“امرحہ ! دیکھو میں تمھارا چلینج قبول کرتا ہوں۔”
وہ قلابازیاں کھا رہا تھا۔ محراب کے ساتھ ٹکی کھڑی امرحہ اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
“میں سارا مانسچڑ اکھٹا کر لاؤں گا۔” وہ ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑا ہوگیا۔
“جاؤ کر لاؤ۔”امرحہ اسے جواب دے رہی تھی۔
“ان کے ہاتھ میں بورڈز ہونگےـ”
“ضرور ہونے چاہیں۔” وہ پورے دل سے مسکرائ۔
ساری ڈریگن پریڈ محراب کے سامنے سجی کھڑی تھی اور اس میں وہ مسکراتی کھڑی تھی۔
“ایک بورڈ تم بھی تیار رکھنا۔” اس نے اس کے گال چھو کر کہا۔
“وہ تو میں نے کب سے تیار کر لیا۔” کہہ کر وہ پریڈ میں بھاگ گئ اور وہ اس کا نام لیتے اس کے پیچھے بھاگنے لگا اور پیچھے سے اس کا بازو پکڑ کر اسے روک لیا۔
“مجھ سے شادی کروگی امرحہ ؟”
دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔ ساری پریڈ ان کے گد اکھٹی ہونے لگی۔ سارا ہجوم ان دو کے گرد سمٹ آہا۔ چینی ساختہ ڈرموں کی قطاریں سجادی گئیں اور سرخ لباس پہنے لڑکوں نے ڈرم اسٹک کو ہوا میں بلند کر لیا۔
“ہاں۔ “اس نے وہ مسراہٹ اپنے چھرے پر سجالی جو تا عمر نہیں سجنے والی تھی شاید، سرخ لباس والوں نے اپنے اٹھے ہاتھوں کو ڈرموں پر بے قابو ہوجانے دیا۔ رنگ پھیل گئے۔ خشبو بکھر گئ۔ چراغ جل اٹھے۔ دن سج گیا۔ بہار نکل آئی۔ ایک امرحہ اور ایک عالیان کے گرد پریڑ دائرے میں چکرانے لگی۔ تو ان کی بہار کا ماخز وہ تھے۔ ہاں اس بار ان کی بہار کا ماخز وہ تھے۔ مشرق کی سندری اور مغرب کا سلطان۔
امرحہ نے ہاتھ پھیلاے اور کچھ برف اس میں اکھٹی کی اور اس مٹتے بنتے ہیولے کی طرف اچھال دی جو وہاں نہیں تھا اور صرف وہاں ہی تو تھا۔
تم اتنی دیر سے آۓ عالیان۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ کھڑا لرلیا اور وہ کھڑا ہوگیا۔
“کیا تم میرا انتظار کر رہی تھیں؟” اس کی تھوڑی کو چھو کر اس نے شرارت سے پوچھا۔
“کیا نہ کرتی؟”ہونٹ کاکونا دبا کر اس نے کہا۔
“میں ایک برا انسان ہوں میں نے تمھیں انتظار کروایا۔”
“دیکھو عالیان ! تمھارا مانسچڑ برف میں ڈوب رہا ہے۔” اس سفید مانسچڑ کی طرف ہاتھ کیا۔
“دیکھو ذرا۔۔ میرے مانسچڑ کو کون دیکھ رہا ہے” اس نے دو انگلیوں سے اس کی ناک پکڑ لی۔
“مجھے امرحہ کہتے ہیں۔۔ کون نہیں۔” اپنی ناک چھڑوا کر اس نے اس کی ناک پکڑ کر کہا۔
“کیا میں تمھارے لیے برف اکھٹی کردوں امرحہ ؟” اس نے اس کے منہ کے سامنے آکر پوچھا ان دونوں کی آنکھوں نے طویل سفر طےکیا۔ جس کے کبھی نہ ختم ہونے کی دعائیں کی جاتی ہیں۔
“برف کیوںـ؟”
تا کہ تم اس سے اپنی پسند کا گھر بنالو. بلکہ آؤ چلؤ یہاں بیٹھ کر گھر بناتے ہیں. “اس کا ہاتھ پکڑکر وہ اسے برف کے ڈھیر کے پاس لے جانے لگا.
“نہیں عالیان تم یہاں میرے پاس کھڑے رہا, کہیں مت جاؤ وعدہ کرو. کہیں نہیں جاؤ گے. ؟ اس کی آواز میں سارا بچا کھچا درد سمٹ آیا.
دونوں ایک ساتھ جڑے محراب میں دبکے تھے. ان کے سر ایک دوسرے سے مس ہو رہے تھے اور دایاں ہاتھوں کی ہتھیلیاں اپنی لیکروں اسمیت ایک دوسرے میں مدغم ہوئ تھیں.
“نہیں جاؤں گا. “اس نے اس کے گال پر پھوک ماری. اور.
عرب کئ ریت نے اڑ کر آمنہ کئ پیشانی کا بوسہ لیس. سیاہ چغے میں لپیٹے آنسووں. سے بھگیے چہرے کو اس نے زمین پر سجدے کے لئے تیار کیا. وہ محمد بخش کے لیے خدا سے اس کی ساری رحمتیں مانگنے والی تھی. اور پھر وہ خود کو خدا کے حوالے لر دینے والی تھی. آمنہ ایک درویش سفت عورت ..اس مرد سے دستبردار ہونے جارہی تھی حس سے وہ وابستہ ہوئ تھی.
اس نے آنکھیں بند کیں اور ان آنکھوں کے پردوں پر محمد بخش کو پایا اس نے آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑدیں. عالیان نے امرحہ کئ. “اگر میں برف ہوتی تو تمہارے قدموں پر گرتی. ”
“تم برف ہوتیں تو میں بھی برف ہوتا. مجھے وہی ہونا ہے جو تمہیں ہونا ہے امرحہ.. “اس نے دونوں ہتھلیاں اس کے گالوں پر رکہ کر کہا .
وہ ہنسنے لگی. “یارم…. یارم. ” وہ گنگنانے لگی.
مجھ پر جو راز کھولا گیا ہے وہ تم ہو امرحہ. ناک پھر اس کے ہاتھ میں تھی.
کیسا راز؟؟؟
یہی زندگی کیا ہے. زندگی امرحہ ہے. “وہ ہنسنے لگی اور اس نے اپنا سر دیوار کے ساتھ جڑ دیا اور اس کئ آنکھوں میں دیکھ کر مسکرانے لگی. اور….پھر ….پھر اسے آنکھیں کھول دینی پڑیں اور ان کئ نمی کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرنا پڑا. وہاں کھڑے کھڑے اسے کہی پہر بیت چکے تھے پھر بھی وہ وہاں تاعمر کھڑی رہنے پر بضد تھی .
دادا نے اس کی منت کی کے وہ بھی کئ گومنے چلی جائے
خود کو مانچسٹر کے طلسم سے دور لے جانا چاہتی تھی
سامان باندھ کر این کے پیچھے فرانس چلی گئی ۔اس کے ساتھ کومنے میں مصروف رہی نیے سال کے جشن کو دیکھتی رہی۔لوگ کیا کیا کر رہے تھے امرحہ نے اپنی ہتھیلیوں کو مسلا یہ سب اتنے خوش کیوں ہیں ۔؟
عالیان نے اسمان پر بننے مٹنے والے رنگوں کو دیکھا اور نظریں ہٹانے میں ناکام رہا اس پر تھکن سی سوار ہو گئی رات تو ابھی ہوئی تھی اس کے اگے کھڑے کاتل ویرا سائی اچھل کود کر رہے تھے عالیان بس ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا
سب سے نظریں بچا کر اس نے کہیں دور نکل جانا چاہا ۔
کہاں جا رہے ہو عالیان؟ ویرا نے پوچھا
میں کچھ کھانے کے لیے لینے جا رہا ہوں۔۔۔ بس ابھی آیا ۔ اس نے جھوٹ بولا اور تیزی سے ہجوم میں خود کو گم کر لیا کہ ویرا اسے لپک کر نہ آ لے ۔ وہ چلتا رہا چلتا رہا اور میڈرڈ کے ایک گم نام سے چھوٹے سے کیفے میں بیٹھ گیا۔
وہ کافی کی کتنی پیالیاں پی چکا تھا وہ گنتی بھلا چکا تھا اس نے اپنا سر لکڑی کی میز پر رکھا تھا اور نظریں گلی میں ساز بجاتے اس نوجوان پر ٹکا دی تھیں، جس کے سامنے کئی بچے اور بوڑھے ناچ رہے تھے۔
اتنے بھدے ساز اور آواز پر یہ سب کیسے ناچ سکتے ہیں اور آخر وہ کیا وجہ ہے جو انہیں ایسے ناچنے پر مجبور کر رہی ہے۔ وہ سوچنے لگا
ساز کا تار ٹوٹا اور اسے ایک تھپڑ کی گونج سنائی دی۔۔
“بہت محبت کرتی ہوں میں تم سے۔۔”
اچھا تو ساز اس کے لیے رکا۔۔اور تار یوں ٹوٹا
اس نے میز پر پڑے اپنے سر کا رخ بدل لیااور اس بار اسکی نظر ایک ٹوٹے ہوئے لیمپ پوسٹ پر جا پڑی۔۔جو کبھی روشن ہوتا ہوگا۔۔
⚛ ⚛ ⚛
ویرا کو جب اس کے فرانس جانے کا معلوم ہوا تو وہ بہت خفا ہوئی۔۔
تم میرے ساتھ کیوں نہیں گئیں۔۔؟ وہ بہت سخت ناراض تھی۔
تم نے فرانس نہیں جانا تھا اور مجھے فرانس دیکھنا تھا۔ وہ اپنے کپڑے الماری میں رکھ رہی تھی۔
تم کہتی تو ہم فرانس چلے جاتے ۔ تم نے تو کہا تم نے جانا ہی نہیں ہے۔
تم تین چار بار فرانس جا چکی ہو میرے ساتھ پھر سے جاتی تو تمہارا ٹور خراب ہو جاتا ۔
تمہارے ساتھ ہوتی تو اس بار فرانڈ دیکھنے کا مزا آ جاتا۔۔ویرا نے منہ پھلا لیا
سائی اس سے اتنا ناراض ہوگیا کہ خفگی کی زیادتی سے اس سے بات ہی نہیں کی۔۔
امتحانات شروع ہوگئے۔۔
امتحانات کی تیاری کے لیے وہ علی لرننگ نہیں گئی۔ اس نے گھر میں ہی تیاری کرلی۔ اور دل لگا کر پڑھنے کی کوشش کی تاکہ اس کا رزلٹ اچھا رہے ۔
سب کتابوں میں گم ہو گئے کارل تک لائبریری میں پایا جاتا البتہ ایما کو علی لرننگ میں زور دار کرنٹ کاجھٹکا دے کر اسے فلور پر لڑکھڑا کر اس نے اس کے دائیں ہاتھ میں فریکچر کروا دیا اور کوئی بھی زندہ یا مردہ ثبوت نہ چھوڑا جو یہ ثابت کر سکے یہ سب اس نے کیا ہے۔۔۔ ایما نے انگھوٹی اس کے منہ پر دے ماری تھی۔ وہ اسے ہی کہیں اٹھا کر دے مارنا چاہتا تھا۔
عالیان کبھی کبھی علی لرننگ میں ایسے ہی گشت کرتا پایا جاتا تو کارل اسے گھسیٹ کر اسٹڈی روم میں لیکر جاتا یا کبھی دور سے ہی چلاتا۔
تمہارا دماغی توازن ٹھیک ہو جائے تو اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ جانا۔۔امتحانات ہوگئے۔۔۔اور رزلٹ بھی آگیا
چوتھا اور آخری سمسٹر شروع ہوگیا۔
وقت نے اپنی طنابیں ڈھیلی چھوڑ دیں اور وہ خلافِ توقہ سست روی سے گزرنے لگا۔۔ زندگی ایسی اداکارہ بن گئی جو میک اپ اتار دے اگلا سوانگ رچانے سے پہلے پرسکون بیٹھے رہنے کی کوشش کر رہی ہو۔۔اس کے ہاتھ گود میں ہوں اور وہ بڑی بے دردی اور بے حسی سے اپنا دھلا چہرہ ائینے میں دیکھ رہی ہو۔۔
شٹل کاک میں لیڈی مہر کے ایک ساتھ چار بچے آ گئے تھے۔ ڈینس اور مارک دو دن رہ کر چلے گئے تھے جبکہ شارلٹ اور مورگن رہ گئیں۔۔
جورڈن آیا ہے ؟ این نے شارلٹ سے ملتے ہی پوچھا ۔۔
نہیں۔۔شارلٹ پوری جان سے قہقہ لگا کر ہنسی۔
ویرا کو عالیان کی فیوچر وائف کی حیثیت سے لیڈی
مہر نے ان سے ملوایا ۔ہفتے کے دن شارلٹ اور مورگن عالیان کو ساتھ لے کر سائیکلوں پر مانچسٹر کی سڑکوں پر نکل پڑے۔۔اور ان دونوں نے عالیان کی جیب میں ایک پونڈ نہیں رہنے دیا۔تینوں کی آپس میں اچھی دوستی تھی اور رابطے میں رہتے تھے ۔
تم مانچسٹر میں شادی کرو گے یا روس میں؟
ریسٹورنٹ میں ڑینر کرتے آنکھ مار کر شارلٹ نے پوچھا ۔
مجھے ہمیشہ یہ کیوں شک ہے کے ماما کے ہی گھر میں تمہاری دلہن موجود ہے ۔مورگن بولی
تم کچھ نیا تو کرتے شارلٹ کے دانت ہی اندر نہیں ہو رہے تھے ۔
نیا کیا؟
یہی کہ اچھلتے کوداتے چھلانگیں لگاتے اپنی دلہن کا ہاتھ پکڑ کر بھگا لے جاتے اس کی لمبی سفید پوشاک اسے بھاگنے نہیں دے رہی ہوتی تم اٹھا کر بھاگتے
ہر لڑکی کے اندر ایک ہیرو چھا ہوتا جو کچھ نیا کرے
تو تم خوش قسمت ہو تمہیں ہیرو مل گیا عالیان ہنس پڑا
مورگن اٹھی اور کہہ کہ میں شروع ہونے جا رہی ہوں اس نے مائیک اٹھایا اور کچھ ابتدائی الفاظ کہے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا پھر وہ شروع ہو گئی عالیان اور ویرا کی فرضی داستان عشق سنانے
ایک دن ایک لڑکی اپنی ہی دھن میں سائیکل چلانی جا رہی تھی کہ ایک بھلکڑ سے لڑکے کے ساتھ اس کی ٹکر ہو گئی
لڑکی ویرا. لڑکا عالیان
شارلٹ نے اس کی طرف اشارہ کیا سب گردن موڈ کر عالیان کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے عالیان کو بھی مسکرانا پڑا۔
یہ ان دونوں کی پہلی ملاقات تھی کہہ سکتے ہیں سائیکل کی پہلی ٹکر. ایک رات ویرا اپنے گھر جا رہی تھی کچھ غنڈے اس کے پیچھے آئے۔انہوں نے اسے دبوچ لیا ٹھیک اسی ٹائم ادھر عالیان آ گیا بالکل فلموں کی طرح ہوا ہیروہن نھنی سی بچی بن جاتی ہے اور پھر ہیرو اپنا کام جاری کرتا ہے
مطلب ہیرو کے ہوتے ہیروہن بہادری نہیں دکھاتی آخری جملہ شارلٹ نے سر گوشی کی صورت کیا ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر ہال میں تالیاں گونج پڑی
عالیان نے اپنا سر جھکا لیا یہ کیا کر رہی ہے شارلٹ
ماما کا اس کے بارے میں خیال بالکل ٹھیک ہے ۔
جارڈن کی جگہ اسے فلموں میں کام کرنا چاہیے دوسری مسٹر بین آرام سے بن جائے گی ۔مورگن کے الفاظ اور انداز پر عالیان بلند قہقہہ لگا کر ہنسا
خدا کے لیے اسے ہی قہقہے لگاتے رہا کرو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے تمہیں مورگن نے محبت سے اس کی تھوڑی کو چھو کر کہا ۔
عالیان نے ویرا کو اٹھایا اسکی ناک پیشانی سے خون صاف کیا اسے ساتھ گھر تک چھورنے آیا۔جبکہ اس کو ٹیکسی بھی تو کروا کر دے سکتا تھا ۔
کہانی یہاں شروع ہوتی ہے لیکن میں آپ کو تھوڑا بہت بتا دوں تاکہ آپ کا تجسسو برقرار رہے ویرا کو ایک اور لڑکا بھی پسند کرتا ہے جو اپنے کالج کا باکسر ہے اور عالیان کو ایک امیر باپ کی بیٹی پسند کرتی ہے جو کرائے کے غنڈوؤں سے لوگوں کا حلیہ بگاڑنے کو برا نہیں سمجھتی
تمہیں یاد ہے میری شادی پر تم نے گانا گایا تھا گٹار کے ساتھ عالیان پارٹی میں موجود کسی اور کے لئے پرفومس دے رہا تھا ہمارے لئے نہیں ۔
لیکن میری شادی میں تو ویرا تھی ہی نہیں مورگن نے گلاس سے منہ لگاتے ہوئے کہا۔
باکسر کو معلوم ہو چکا عالیان کا وہ اپنے دوستوں کے ہم راہ عالیان پر ہلیہ بول دیتا ہے شارلٹ ساتھ ساتھ اداکاری بھی کر کے دیکھا رہی تھی شارلٹ کی شادی میں ویرا موجود تھی اور میری فرمائش پر بھی تم نے گانا نہیں گایا تھا ۔
اس کا انداز ایسا ہو گیا تھا اس نہماک سے اسے دیکھ رہے تھے کچھ نے کھانا چھوڑ دیا تھا
ویرا کومے میں تھی نا
شارلٹ کا تو بائیں ہاتھ کا کھیل تھا باتوں باتوں میں کہانی بن لینا۔ماما کو وہ ہنسا ہنسا کر دہرا کر دیتی تھی
جھٹ پھٹ کہانی بنا کر سنا دیا کر کرتی تھی جس میں امرحہ پاکستان آگئ اور عالیان اس کی تلاش میں پیچھے جاتا ہے لیکن سب اس نے کیا مزاحیہ انداز میں تھا ۔
وہ ڈئینر کے بعد انہیں گھر تک چھوڑنے اور ہال تک واپس آنے کی ہمت جواب دیے چکی تھی مجھے لگاتا ہے اس بار دلہا بھاگےگا
ٹھنڈ میں بھی اس کی پیشانی پر پسینہ آ گیا دوسروں کے سامنے نارمل بن کر رہنا آسان نہیں ہوتا رات کے اندھیرے میں وہ سائیکل کور چلتا رہا
ماما مہر کو وکیل کیس ہنڈل کر رہا تھا اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی ولید البشر باز آنے کو تیار نہیں تھا
ٹھنڈی رات اس کی سوچوں کی گوا بنی
کیا وہ اس لیے اس وقت سائیکل چلا، رہا ہے کہ کچھ ٹائم پہلے شارلٹ نے ہال میں کیا کہا اس کی اور ویرا کے محبت بھری داستان سنائی ہے اس کہانی میں کرداروں کے نام بدل دیے گئے
کہانی میں ایک کردار کی موت ہو تو دوسرا خود مر جاتا ہے
موت
کی کہانی میں ہو، یا، حقیقت میں اسے خوشآمدید نہیں کیا جا سکتا
موت سایہ بن کر آئے یا سایہ بن کر ساتھ لے جائے اس کی نحوست کم نہیں ہوتی ڑ
امرحہ کو پرانی امرحہ کہہ کر بھی پکارا نہیں جا سکتا مگر امرحہ دادا کے ساتھ پرانی امرحہ بن کر باتیں کرتی رہی ۔دادا اس کے لیے پہلے جیسے ہوں گے مگر وہ دادا کے لیے پہلے جیسی نہیں رہی تھی باتیں کرتے دادا کو اب کئ بار پوچھنا پڑا
سن رہی ہو امرحہ
وہ سر ہلا دیتی۔
واجد سارے گھر کو پینٹ کروا، رہا اور تمارے لئے عماد کا کمرہ خالی کروا کر ڈائزانر کو بولا اچھی سی ڈائکریٹ کرو میری بیٹی آ رہی ہے بہت پڑھی لکھی ہو گئ اب تو تمہیں سب بدلا ملے گا خوب صورت ہو گیا بہت سے پھول بھی لگوائے واجد کہہ رہا تھا تمہیں نیو کار بھی لے دے گا۔
اور ہاں میں تمہیں پارک لے جایا کروں تم وہاں سائیکل چلانا
خاندان سے واجد نے رابطہ ختم ہی کر دیا بہت کم آنا جانا
ویسے بھی اب تم خود سمجھ دار ہو گئی ہو. خود کو بدل لیا ہے اب معاشرے کو بدلنا ہے سن رہی ہو امرحہ؟
جی دادا جان اس نے سنا نہیں بھی ہوتا تو ویسے ہمی بھرتی اور گہرا سانس لیتی۔
اچھا بتاؤ اب میں نے کیا کہا؟
آپ نے کہا؟ وہ سوچ میں پڑ گئی اپ نے کہا حماد نے ہیوی بائیک لے لی وہ چلاتا آپ کو ڈر لگتا ہے ۔
امرحہ یہ تو میں نے ایک گھنٹے پہلے کہا تھا اس کا مطلب تم نے اس کے بعد نہیں سنا۔
سنی ہیں دادا
ان کو اپنی باتیں دہرانی پڑتی سائی کو بھی اس کے سامنے بات دوہرانی پڑتی۔
میں تمہیں کل فون کر رہا تھا تم نے بات کیوں نہیں کی؟
میں مصروف تھی سائی وہ کینٹن میں تھی سائی اسے ڈھونڈاتا ہوا آیا۔
جب مصروفیات ختم ہو جاتی تو کر لیتی مجھے کال
میں پھر بھول گئی اس نے جھوٹ کہا وہ سائی سے بات کرنا ہی نہیں چاہتی تھی وہ کئ بار انکار کر چکی تھی وہ بار بار اسرار کرتا
میں نے تمہارے لیے بھی آن لائن ٹیکٹ بک کروا لی ہے
سائی میں کہہ چکی ہوں مجھے نہیں جانا اسے غصہ آ گیا ۔
ساری یونی جا رہی ہے تم کیوں نہیں؟
بس نہیں مجھے شوق نہیں ہے فٹبال میچ دیکھنے کا
میچ نہیں دیکھنا ہمارے ساتھ بیٹھ جانا
سائی نہیں تو نہیں
امرحہ میری دوستی میں کیا کمی رہ گئی ۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Jinnat Ka Ghulam Novel By Shahid Nazir Chaudhry Read Online – Episode 1

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: