Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 52

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 52

جو تم ٹھیک ہونے کو تیار ہی نہیں تمہارے لیےدنیا میں صرف ایک ہی انسان اہم ہے ہم سب کی اہمت صفر ہے سائی نے افسوس سے کہا
میرے لیے تم بھی اہم ہو سائی
تم ابن کے ساتھ فرانس چلی گئی اور مجھے انکار کر دیا
اب خود کو ایسے محدود کر لو گی اب تو تم سب کو اپنا دشمن ہی سمجھو گی۔تھوڑی تفریح کر سکتی ہو نا میرے گروپ کے ساتھ چلو
سائی تم مجھے بے جا مجبور کر رہے ہو جبکہ میرا بالکل بھی دل نہیں ہے
چلو مجبور ہی سہی ہر ایک مرا جا، رہا ہے جانے کے لئے
سارا مانچسٹر خالی ہو جائے گا تمہیں بہت مزا آئے گا دیکھ لینا
سائی تم سب جا رہے ہو نا، تو خالی مانچسٹر کی حفاظت کے لئے مجھے چھوڑ جاو اور اب مجھے کئ مزا نہیں آتا، سائی۔
بہت بار کی طرح تم مجھے پھر انکار کر رہی ہو امرحہ
امرحہ اس کی طرف دیکھ کر حیران رہ گئی اس زمینی فرشتہ جو ہمیشہ ساتھ رہا اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑا
جو ہرر وقت اس کے ساتھ مہربان رہتا۔
کارل نے بس اتنی مہربانی کی فریشزر کو بھڑکا بھڑکا کر ان سے مختلف کیھلوں میں ٹیکٹ دے کر کافی پیسے اکٹھے کر رہا تھا عالیان جانا نہیں چاہتا تھا کارل اسے لے جائے بغیر چھوڑ نہیں رہا تھا
مجھے پتہ ہے ٹرافی انگلینڈ کی ہے
اچھا تو بنا دیکھے ہی پتہ کر لیا
ہی ہی عالیان نے دانت نکالے
جوانی میں تم بنا دانت اچھے نہیں لگو گے ۔
ٹرافی ہماری ہے اس لیے ہم برازیلا جا رہے ہیں
برازیلا چلو گی امرحہ کارل امرحہ کے پاس بھی آیا اسے منانے
میرے پاس پیسے نہیں ہیں امرحہ نے بہانہ بنایا
میرے پاس ہیں وہ مسکرایا جس کی وجہ سے اس نے لائبریری کا بھاری فائن بھرا تھا وہ اسے اپنے پیسوں سے اسے برزیلا لے جا رہا تھا
امرحہ نے اسے نرمی سے دیکھا تم بہت اچھے ہو کارل
میں برا بھی بن جاؤ گا اگر تم نہیں گی تو
وہ مسکرا دی اور بیگ سے چاکلیٹ نکال کر اس کے اگے کی جو اس نے پکڑ لی
تم ایک خوش قسمت انسان ہو کیونکہ تم کارل ہو یہ کہہ کر وہ لائبریری سے نکل گئی
عالیان کارل ویرا شاہویز جمعہ کو ہی نکل گئے تھے سائی نے ٹھیک کہا تھا سار
جو تم ٹھیک ہونے کو تیار ہی نہیں تمہارے لیےدنیا میں صرف ایک ہی انسان اہم ہے ہم سب کی اہمت صفر ہے سائی نے افسوس سے کہا
میرے لیے تم بھی اہم ہو سائی
تم ابن کے ساتھ فرانس چلی گئی اور مجھے انکار کر دیا
اب خود کو ایسے محدود کر لو گی اب تو تم سب کو اپنا دشمن ہی سمجھو گی۔تھوڑی تفریح کر سکتی ہو نا میرے گروپ کے ساتھ چلو
سائی تم مجھے بے جا مجبور کر رہے ہو جبکہ میرا بالکل بھی دل نہیں ہے
چلو مجبور ہی سہی ہر ایک مرا جا، رہا ہے جانے کے لئے
سارا مانچسٹر خالی ہو جائے گا تمہیں بہت مزا آئے گا دیکھ لینا
سائی تم سب جا رہے ہو نا، تو خالی مانچسٹر کی حفاظت کے لئے مجھے چھوڑ جاو اور اب مجھے کئ مزا نہیں آتا، سائی۔
بہت بار کی طرح تم مجھے پھر انکار کر رہی ہو امرحہ
امرحہ اس کی طرف دیکھ کر حیران رہ گئی اس زمینی فرشتہ جو ہمیشہ ساتھ رہا اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑا
جو ہرر وقت اس کے ساتھ مہربان رہتا۔
کارل نے بس اتنی مہربانی کی فریشزر کو بھڑکا بھڑکا کر ان سے مختلف کیھلوں میں ٹیکٹ دے کر کافی پیسے اکٹھے کر رہا تھا عالیان جانا نہیں چاہتا تھا کارل اسے لے جائے بغیر چھوڑ نہیں رہا تھا
مجھے پتہ ہے ٹرافی انگلینڈ کی ہے
اچھا تو بنا دیکھے ہی پتہ کر لیا
ہی ہی عالیان نے دانت نکالے
جوانی میں تم بنا دانت اچھے نہیں لگو گے ۔
ٹرافی ہماری ہے اس لیے ہم برازیلا جا رہے ہیں
برازیلا چلو گی امرحہ کارل امرحہ کے پاس بھی آیا اسے منانے
میرے پاس پیسے نہیں ہیں امرحہ نے بہانہ بنایا
میرے پاس ہیں وہ مسکرایا جس کی وجہ سے اس نے لائبریری کا بھاری فائن بھرا تھا وہ اسے اپنے پیسوں سے اسے برزیلا لے جا رہا تھا
امرحہ نے اسے نرمی سے دیکھا تم بہت اچھے ہو کارل
میں برا بھی بن جاؤ گا اگر تم نہیں گی تو
وہ مسکرا دی اور بیگ سے چاکلیٹ نکال کر اس کے اگے کی جو اس نے پکڑ لی
تم ایک خوش قسمت انسان ہو کیونکہ تم کارل ہو یہ کہہ کر وہ لائبریری سے نکل گئی
عالیان کارل ویرا شاہویز جمعہ کو ہی نکل گئے تھے سائی نے ٹھیک کہا تھا ساری یونی ہی برزیل لینڈ کر رہی تھی
اس نے میچ کا زکر دادا سے نہیں کیا مگر سادھنا نے بتا دیا تھا
تم جھوٹ بول رہی ہو تمہیں میچ سے دلچسپی نہیں
تم مجھے معاف کرنے کے لئے تیار ہی نہیں امرحہ
دادا اسے عالیان نہیں دے سکے تھے وہ اب اسے سب دے رہے تھے ۔
ایسی بات نہیں میرا دل نہیں چاہا رہا۔اس کی آنکھیں نم ہو گئیں جو مشکل سے ہی خشک رہتی تھی اب
تمارا آخری سمسٹر ہے پھر تم واپس آ جاؤ گی جاؤ گھوم آؤ۔
دادا نے ویرا کا نام نہیں لیا انہیں لگتا تھا کہ ویرا کے نام سے اسے تکلیف ہوتی ہے جبکہ ایسا نہیں تھا ویرا کی دوستی اور محبت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی ۔ویرا نے اسے باقاعدہ ساتھ لے جانے کے لیے منت کی تھی ۔
تم اتنا کیوں بدل گئی ہو امرحہ کیا ہو گیا ہے چلو ہمارے ساتھ
میں کب بدلی ہوں ویرا؟
تم کتنی شدت سے مجھے انکار کر رہی ہو اور کئ بار ایسا ہوا، ہے ایسا لگتا ہے تمارے بھیس میں کوئی اجنبی ہمارے درمیان گھس آیا ہے اب تم عالیان سے بات نہیں کرتی اسے تنگ بھی نہیں کرتی اور بھی بہت کچھ میں جو محسوس کرتی ہوں میری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی وہم لگتا ہے سب
تمارا وہم ہی ہے ویرا میری پڑھائی اتنی ٹف ہو گئی زیادہ ٹائم اسائنمنٹ بنانے میں لگ جاتا ہے
ویرا خاموشی سے دیکھ رہی تھی روس تو چلو گی نا؟
ہاں اس نے اسے ٹالنے کے لیے بول دیا
جلدی نہیں آنے دوں گی وہاں سے ویرا نے انگلی اٹھا کر کہا
پھر دونوں ہنسنے لگی۔
امرحہ کیا کر رہی ہو
آواز جادو کی طرح چھو منتر ہوئی
وہ خوشی سے پلٹی تم آ گئے عالیان؟
ابو نواس کی شاعری روح میں ساعیت کرنے والی شاعری رحمان کے سروں سے ہم کلام ہوکر “سماں یار” میں دھنس گئ۔
“یہ سب کیا ہے؟”وہ اس سے زیادہ خوش ہوا۔
“ہماری کہانی۔ تم نے یہ پیغامات مجھ سے نہیں کیے تو میں نے یہ یہاں باندھ دیے۔” وہ چل کر ایک پیغام کے پاس گیا اور اسے پڑھنے لگا۔
“میں اپنی ابتداء پر تمھارا نام لکھتی ہوں اور میری انتہا تمھارے سوا کچھ نہیں ۔” پڑھ کر وہ مسکرانے لگا۔
امرحہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے لے گئی اور دائیں بائیں جھول کر شرارت سے مسکرانے لگی پھر اس نے دونوں ہاتھ اٹھا کر شاخوں پر جھولتی گھنٹیوں کو ترنم سے ایسے بجا ڈالا جیسے “اسد اللہ خان غالب” کے کلام سے لبالب ہوۓ، چاندی کی ظراف وادی کیلاش کی پریوں کی نازک انگلیوں تلے بج اٹھے۔
ارتکاز واجب ہے۔
سماں یار ہے۔
کشتی کی لمبی نوک جو پھولوں سے لدی ہوئی تھی۔ دھندلے اندھیرے پل کے نیچے سے نکلی اور اس نے پانی میں ہاتھ ڈال کر اس پر اچھال دیا۔
“عالیان پر۔”
اور ایک ایسی مسکراہٹ خود پر سجا لی جیسے وہ پرستان کی ملکہ ہو اور اپنے پری زاد کے ساتھ بکھی پر سوار پرستان کی پرواز پر جا رہی ہو۔
“مجھے تمھاری مسکراہٹ یاد آتی ہے اور میں خود مسکرانا بھول جاتا ہوں۔” عالیان نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور دن سے روشن اس کی آنکھوں کو پایا۔
“میری ساری مسکراہٹ تم نے لے لیں۔۔ اب کہتے ہو مسکرانا بھول گئے۔”
“تم آنکھوں کی پتلیاں گول گول گھمایاں کرتی تھیں؟”
“تم کہا کرتے تھے تو کرتی تھی۔۔اب تم کہتے ہی نہیں ہو۔” وہ اٹھلا گئی۔
“امرحہ۔۔ چلو ہم پھر سے دوست بن جاتے ہیں۔” اس کے ہاتھ کی پشت کو اس نے باری باری آنکھوں سے لگایا۔
“نہیں۔۔ اب ہم دوست نہیں بن سکتے۔” اس مے اپنے ہاتھ کی پشت کو دیکھا۔
“کیوں۔؟ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو ؟”
“نہیں۔۔ یہ نہیں کرسکتی۔”
“محبت کرتی ہو؟”
“محبت۔۔ یہ بھی نہیں۔”
“کوئی تو جزبہ ہوگا تمھارے پاس۔۔میرے لیے۔؟” کشتی چمکیلی جھیل پر رواں دواں تھی اور پھر وہ ایک دوسرے پل کے اندھیرے میں جا چھپی۔۔ ابابیلوں کے جھنڈ پیچجے رہ گئے اور کوئلوں کی کوکوں نے اندھیرے کے سروں کا پیچھا کیا۔
دوب(عمدہ گھاس)مخمل کی طرح بچھ گئی۔۔ اندھیرے سے روشنی میں آتے اس نے اپنا ایک ہاتھ اس کی کمر میں پایا اور دوسرا اس کے ہاتھ میں پیوست۔
“شوق دید واجب ہے۔”
“سماں رقص ہے۔”
وہ سرخ پوشاک میں تھی اور اس کے بالوں میں لہریں تھیں۔ دوب ائی ہموار زمین پر وہ محو رقص تھے۔ وہ شرما کر ایسے ہنس رہی تھی جیسے اسے اس پر اعتراض تھا۔
“نیلے سمندر میرے لیے سیاہ ہیں۔” گنگناہٹ صورت اس نے سرگوشی کی۔
“تمھاری آنکھوں کی سیاہی میں بس جانے کا خبط مجھے بہت پیارا ہے۔”
وہ مسکرانے لگی۔” اور۔۔”
“میرے پیروں تلے بچھی سب ہی راہیں تم تک آتی ہیں۔ تم یہ جان لو میری سانسیں تم سے ہوکر آتی ہیں۔”
اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ “اور۔۔”
“امرحہ مجھے انتظار رہے گا کہ انتظار کب ختم ہوگا۔” کہتے ہو اداس ہو گیا۔
“مجھے انتظار رہے گا کہ انتظار ختم
ہونے کا انتظار کیا جاۓ گا۔” کہہ کر وہ بیٹھ گئی۔ بے تحاشہ پھول اُگ آۓ۔

“بتاؤ تم کس کے لیے جان دے سکتی ہو؟” وہ بھی اس کے پاس نیچے بیٹھ گیا۔
“جان تو کب کی دے دی”
” ہم نے بہت گڑبڑ کردی نا امرحہ ”
“ہاں بہت۔۔ اور اب سوچنے کا وقت نکل گیا۔”
“میں نے تمھیں بہت یاد کیا۔”
“میں تمھیں بھول ہی نہیں پائی۔”
“تمھیں مجھے بتانا چاہیے تھا۔”
“تمھیں یاد رکھتے رکھتے میں سب بھول گئ۔ تمھیں بتانا بھی۔ تمھیں یاد رکھتے میں نے کچھ اور یاد رکھنا ضروری نہیں سمجھا۔”
“میں عالیان نہ ہوتا تو تمھارا خواب ہوتا۔۔ جسے تم ہر رات دیکھتیں”
“میں امرحہ ہو کر بھی عالیان ہی ہوں، تم میرے اندر بس چکے ہو، میں نے اپنا آپ رخصت کر دیا ہے عالیان۔”
“تم ایک جادوگر ہو امرحہ ۔” وہ خود کو اس کی آنکھوں کے اتنا قریب لے گیا کہ اس کی پلکھیں امرحہ کے گلابی گالوں پر لرزنے لگیں۔
“تم میرا سحر ہو عالیان۔”
“تم سے محبت مجھ پر فرض ہے۔”
“میں نے اس فرض کو قضا ہونے نہیں دیا۔” وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“کہاں جا رہی ہو؟”
“پتا نہیں۔”
“رک جاؤ۔”وہ بھی اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
“روک لو۔”اس نے گردن موڑ کرکہا خود کو نہیں۔
تیز روشنی نیم اندھیرے میں بدل گئی۔
خوف اور درد کی تتلیاں مقام نامعلوم سے اڑتی ہوئی آئیں۔ وہ سب سیاہ تھیں۔انہونی کا بگل بجا۔
“دعا واجب ہے۔”
“سماں ہجر ہے۔”
اس نے جھٹکے سے گردن کو اس کے گرتے ہوۓ وجود کی طرف موڑ کر اسے دیکھا۔ اس کے آس پاس خون ہی خون تھا۔ وہ اپنی جگہ بت بنا کھڑا تھا۔ اور ذرا دور اس کی بند ہوجانے پر مائل آنکھیں اس پر ٹکی تھیں۔ وہ اسے دیکھ رہی تھی۔ لیکن وہ اس کی طرف نہیں بڑھ رہا تھا۔
وہ کھڑا تھا۔۔ وہ کھڑا ہی رہا۔
“اور اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔”
“یہ تو بہ باف ہے۔”
اپنے لمبے لبادے میں لپٹی وہ” چاہ توبہ” کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھ گئیں۔ پیشانی سے کھینچ کر کنارے کو ناک تک لائیں اور ایک ساتھ اہنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھا لیے۔ اندھیری رات ان پر سایہ فگن تھی اور “آب توبہ” زمین کی تہوں میں جل تھل یو رہا تھا۔
انہوں نے دعا کی ابتداء کی۔” اےخدا۔ ”
اور آنکھیں بند کر لیں۔
عالیان نے آنکھيں کھول دیں۔
اس کی جسم میں خون کا ایک قطرہ نہیں رہا تھا اور اس کے دل نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ اس کی آنکھيں اندھیرے میں بھٹک رہی تھیں۔ اسے بہت دیر میں یاد آیا کہ وہ کہاں ہے۔ اس نے اٹھنے کی ہمت کی، لیکن اس کی ہمت جواب دے گئ۔
مارگریٹ کے مرنے کے بعد اس کے ساتھ یہ ہوتا رہا تھا۔ وہ اپنی من پسند جگہوں پر اس کے ساتھ پایا جاتا رہا تھا۔۔ اب پھر یوں۔۔ امرحہ کے ساتھ۔
جسم کی گرمی سے اس کا منہ جل رہا تھا۔ اٹھ کر وہ واش روم میں گیا اور منہ کر یخ پانی پیا۔ وہ برازیل میں تھا۔ ہوٹل کے کمرے میں دوسرے سنگل بیڈ پر موجاد کارل بے خبر سو رہا تھا۔ وہ ٹیرس پر آگیا اور بہت دیر تک شہر کی ٹمٹماتی روشنیوں کو دیکھتا رہا۔ اس کی کیفیت واپس مانسچڑ کی طرف بھاگ جانے کی سی ہوگئ تھی۔۔ شٹل کاک کی طرف۔۔ کھڑکی کے نیچے۔
اس پر ہلکی سی کپکپی تاری تھی اور اس کے ہاتھ واضح کانپ رہے تھے۔ اس کا ٹیرس کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھ کر رونے کو دل چاہا۔ بہت زیادہ روتے رہنے کا
وہ ٹھنڈے فرش پر بیٹھ گیا اور اپنے سر کو ہاتھوں میں تھام لیا اور پھر اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑلیا۔ اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ خواب کے آخری حصے کو دہراتا۔ فون بیڈ سائیڈ سے اٹھا کر واپس ٹیرس پر آکر اس نے سائی کو فون کیا۔
“تم ٹھیک ہو سائی۔؟”
“ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔ کیوں کیا ہوا۔۔ اس وقت فون کیا تم نے؟” سائی خود بھی نیند میں سے جاگا ہوا لگ رہا تھا۔
“نہیں کچھ نہیں ہوا۔۔ بس ایسے ہی فون کیا۔” سائی کچھ دیر خاموش رہا۔
“تمھیں کچھ کہنا ہے مجھ سے؟”
“ہاں۔۔”
“کہو۔۔”
“میرا بہت رونےکو دل چاہ رہا ہے۔ مجھے روشنی میں بھی اندھیرا نظر آرہا ہے۔”
“تم ماما مارگریٹ کو یود کر کے سوۓ تھے؟”
“انہیں میں نے بہت اچھے تصورات کے ساتھ یاد کیا۔ میں ان کے ساتھ بہت اچھی باتیں کی۔ میں اب کی اپنی کیفیت ٹھیک سے سمجھ نہیں پارہا سائی۔”
” تمھیں ایک اچھی نیند لینی چاہیے۔”
“ہاں۔۔ شاید۔۔ سائی تمھاری امرحہ سے کب ملاقات ہوئی تھی؟”
سائی اپنے بستر پر پورا اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس شخص نے جیسے صدیوں بعد امرحہ کا نام لیا تھا۔
“آج ملاقات ہوئی تھی۔ تم اسے فون کر سکتے ہو۔” سائی نے خوشی سے کہا۔
“ٹھیک ہے وہ۔؟” اس کی کپکپاہٹ کچھ کم ہوئی۔
“ہاں۔۔ بلکل ٹھیک ہے۔۔ بہت اچھا لگا تم نے اس کے بارے میں پوچھا۔”
“شکریہ سائی۔۔ تم سو جاؤ اب۔۔” شاید اس نے سائی کو بلاوجہ پریشان کیا۔
“تم بھی۔”
فون کو ہاتھ میں لے کر سوچتا رہا۔ پھر ہوٹل کے کاؤنٹر تک آیا اور امرحہ کو فون کیا۔
“ہیلو۔” امرحہ کی آواز آئی۔
وہ خاموش رہا۔ وہ بات کہاں سے شروع کرے گا اور کہاں ختم کرے گا۔ اور کہے گا کیا۔ تو وہ خاموش ہی رہا امرحہ نے فون بند کردیا۔
“میں نے تمھیں بہت یاد کیا امرحہ۔” فون بند ہوگیا تو وہ بڑبڑایا۔
“میں نے تمھیں وہ سزا دی جو خود میں نے بھگتی۔”وہ کمرے میں واپس آگیا اور ٹیرس پر کھڑا ہوگیا۔ اسی نہیں لگتا تھا کہ اسے نیند آسکے گی اب۔
آنکھيں جاگتے رہنے کا عہد باندھ چکی تھیں۔وہ سائی اور این کے ساتھ برازیلا آچکی تھی۔ وہ کافی دیر سے ٹیرس پر کھڑی تھی۔ اندر این سو رہی تھی۔ابھی جو فون آیا تھا، اس نے جان لیا تھا کس کا تھا۔
اس شخص کو شبہ تھا کہ وہ اس کی خاموشی کو پہچان نہیں سکتی تھی اور اسے یقین تھا کہ ایسا ہونا ممکن نہیں۔۔ کلام کے لیے الفاظ کی ضرورت ہوتی ہوگی، پہچان کے لیے نہیں۔ کیا وہ اسے پھر سے بتانا چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے اسے کتنی تکلیف کاٹنی پڑی۔ وہ کس تکلیف سے گزرا۔ اس کی اچھی بھلی زندگی کو اس نے اندھیرا کنواں بنا دیا۔ روشنی اندر جاتی ہے نہ اندھیرا باہر نکلتا ہے۔
وہ سب جو وہ اسے نہیں کہہ سکا۔ وہ اب کہنا چاہتا ہے۔ امرحہ کو خوف محسوس ہوا۔ خوف سے اس کا وہم کسی اژدھے کی طرح ہیوہیکل ہوگیا۔
اب وہ نئے سرے سے سوچ رہا تھا۔ پہلے دن سے۔ پہلی ملاقات سے۔ پہلے جملے سے۔ ایک لڑکی جس کی آنکھوں کا کاجل ایسے پھیل گیا ہے کہ گالوں کو بھی سیاہ کر گیا ہے۔ وہ اس کے سامنے کھڑی ہے۔ وہی لڑکی ڈریگن ڈریس میں اس کے ساتھ کھڑی ہے اور پھر وہی لڑکی ہر جگہ اس کے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔ وہ چھپ کر بیٹھتا ہے تو بھی۔ یہ کیسی لڑکی ہے جو اس کے ساۓ سے زیادہ اس کے ساتھ ہے۔ روح سے زیادہ اس پر سوار ہے۔

“تم کہتے ہو تم ماما مارگریٹ نہ بن جاؤ اور مجھے یہ خوف ہے کہ تم ولیدالبشر بن جاؤگے، اپنا کر چھوڑ دینے والے۔” سائی نے کہا تھا۔
اس نے اپنا سر تھام لیا۔
سر اٹھا کر اس نے چند گہرے گہرے سانس لیے۔کچھ بھی تھا وہ خوش تھی کہ عالیان نے اسے فون کیا تھا برا بھلا کہنے کے لیے ہی سہی۔ وہ اسے یاد تو رکھتا تھا۔ اس کا نام بھولا نہیں تھا۔ دنیا میں کوئی امرحہ بھی ہے اس میں یہ احساس زندہ تھا۔
زندہ رہنے کے لیے بہت ضرورتیں درپیش ہوں گی،لیکن جینے کے لیے صرف” ایک۔”
امرحہ کے لیے۔ “ایک عالیان”
عالیان کے لیے۔ “ایک امرحہ”
———————
آیئے برازیل اسٹیڈیم کر اندر چلتے ہیں۔
سریز کا فیصلہ کن میچ ہے۔ انگلینڈ اور برازیل آمنے سامنے آنے والے ہیں۔لگتا ہے سارا برازیل اٹھ کر اسٹیڈیم میں آگیا ہے۔ میچ شروع ہونے سےپہلے ہی لگ رہا ہے میچ ختم ہونے کے قریب ہے۔ دونوں ٹیمیں ایک ایک گول کر چکی ہیں اور اب دونوں ٹیموں کے شائقین مرے جا رہے ہیں کہ بس ان کی ٹیم فیصلہ کن گول کردے۔ برازیلیں شائقین کچھ تندی میں تھے۔ وہ انگلینڈ کے شائقین اور کھلاڑیوں کے نام لے لے کر فقرے چست کر رہے تھے۔ انہیں بتا رہے تھے کہ انگلینڈ ٹیم کس بری طرح سے ہار جانے والی ہے۔
یہ سب ہونا معمول ہے۔ فٹ بال کی دنیا میں جو نہیں ہوتا ہی کم ہوتا ہے۔ شائقین جتنا زیادہ کرتے ہیں۔ کم ہی کرتے ہیں۔ فٹ بال فیور اسٹیڈیم کے اندر اتنے ہائی ٹیمپریچر پر ہوتا ہے جیسے وہاں اہتمام سے آتش فشاں پھٹنے والا ہو۔ اس فیورکا تصور اسکرین سے میچ دیکھنے والے کرہی نہیں سکتے۔
وہ۔۔ ویرا۔۔ کارل اور چند دوسرے یونی فیلوز آگے پیچھے بیٹھے تھے۔ انہوں نے انگلینڈ ٹیم کی شرٹس پہن رکھی تھیں اور کارل، ویرا نے اچھل اچھل کر سارا اسٹیڈیم ابھی سے سر پر اٹھا لیا تھا۔ عالیان خاموش بیٹھا انھیں ناچتے دیکھ رہا تھا۔
ایسے ہی ناچتے کودتے کارل نے ایک پیاری سی بچی کی گود میں رکھے سینڈوچز غائب کر دیے۔ بچی جس کے ماما، پاپا اس کے پاس ہی کھڑے تھے، اپنی دھن میں اچھل رہے تھے تاکہ وہ اسکرین پر نظر آسکیں۔ ایک دم سے اپنی گود خالی پا کر رونے لگی اور اپنے اچھلتے کودتے باپ کی شرٹ کھینچنے لگی۔
” شرم کرو لٹل اینجل کو رولا دیا۔”عالیان نے تیزی سے چلتے اس کے جبڑے کو دونوں ہاتھوں میں سختی سے دبا کر کہا۔ بچی ان سے ذرا سی دور ہی بیٹھی تھی۔
“اینجل تو کسی نہ کسی طرح زندہ رہ ہی لیتے ہیں، ہم شیطانوں کو اپنا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ مجھے بھوک لگی تھی، میں نے محنت کی اور خوراک حاصل کرلی۔ ویسے بھی اس کا باپ اسے اور لے دے گا۔ میرا تو کوئی باپ نہیں ہے نا جو مجھے لے کر دے گا۔”
“میں ابھی بچی کے باپ کو بتاتا ہوں۔” عالیان اس کی طرف جانے لگا۔
“اگر تم نے یہ کہا تو برازیلا میں فٹ بال کی تاریخ کا سب سے بڑا ہنگامہ ہوگا اور وجہ صرف سینڈوچ ہوگا۔۔ ایک سینڈوچ کے لیےتم نجانے اتنے شائقین کو مروا دوگے اور کتنوں کو زخمی کرواکر عمر بھر کے لیے معزور کردوگے۔”
“یہ میں کروں گا؟”عالیان نے اس کے بال مٹھی میں جکڑ کے کہا۔
“ہاں تم ۔۔ صرف تم۔۔ ” اس نے بھی عالیان کے بال مٹھی میں جکڑ لیے۔ برازیلا اسٹیڈیم میں دو لڑکے ایک دوسرے کے بال مٹھی میں جکڑے کھڑے تھے۔
بچی کے ہاتھ میں اب ایک بڑی آئس کینڈی آچکی تھی اور کارل اب آئس کینڈی کو دیکھنے لگ تھا۔ بچی کے باپ نےپھرتی سے بچی کو چپ کروا دیا تھا۔
“تمھاری لٹل اینجل کی پسند اچھی ہے مجھے یاد آیا کہ میں آئس کینڈی کو بہت سے بہت مِس کر رہا تھا۔” کارل نے آنکھیں گول گھمو کر کہا۔ی یونی ہی برزیل لینڈ کر رہی تھی
اس نے میچ کا زکر دادا سے نہیں کیا مگر سادھنا نے بتا دیا تھا
تم جھوٹ بول رہی ہو تمہیں میچ سے دلچسپی نہیں
تم مجھے معاف کرنے کے لئے تیار ہی نہیں امرحہ
دادا اسے عالیان نہیں دے سکے تھے وہ اب اسے سب دے رہے تھے ۔
ایسی بات نہیں میرا دل نہیں چاہا رہا۔اس کی آنکھیں نم ہو گئیں جو مشکل سے ہی خشک رہتی تھی اب
تمارا آخری سمسٹر ہے پھر تم واپس آ جاؤ گی جاؤ گھوم آؤ۔
دادا نے ویرا کا نام نہیں لیا انہیں لگتا تھا کہ ویرا کے نام سے اسے تکلیف ہوتی ہے جبکہ ایسا نہیں تھا ویرا کی دوستی اور محبت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی ۔ویرا نے اسے باقاعدہ ساتھ لے جانے کے لیے منت کی تھی ۔
تم اتنا کیوں بدل گئی ہو امرحہ کیا ہو گیا ہے چلو ہمارے ساتھ
میں کب بدلی ہوں ویرا؟
تم کتنی شدت سے مجھے انکار کر رہی ہو اور کئ بار ایسا ہوا، ہے ایسا لگتا ہے تمارے بھیس میں کوئی اجنبی ہمارے درمیان گھس آیا ہے اب تم عالیان سے بات نہیں کرتی اسے تنگ بھی نہیں کرتی اور بھی بہت کچھ میں جو محسوس کرتی ہوں میری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی وہم لگتا ہے سب
تمارا وہم ہی ہے ویرا میری پڑھائی اتنی ٹف ہو گئی زیادہ ٹائم اسائنمنٹ بنانے میں لگ جاتا ہے
ویرا خاموشی سے دیکھ رہی تھی روس تو چلو گی نا؟
ہاں اس نے اسے ٹالنے کے لیے بول دیا
جلدی نہیں آنے دوں گی وہاں سے ویرا نے انگلی اٹھا کر کہا
پھر دونوں ہنسنے لگی۔
امرحہ کیا کر رہی ہو
آواز جادو کی طرح چھو منتر ہوئی
وہ خوشی سے پلٹی تم آ گئے عالیان؟
ابو نواس کی شاعری روح میں ساعیت کرنے والی شاعری رحمان کے سروں سے ہم کلام ہوکر “سماں یار” میں دھنس گئ۔
“یہ سب کیا ہے؟”وہ اس سے زیادہ خوش ہوا۔
“ہماری کہانی۔ تم نے یہ پیغامات مجھ سے نہیں کیے تو میں نے یہ یہاں باندھ دیے۔” وہ چل کر ایک پیغام کے پاس گیا اور اسے پڑھنے لگا۔
“میں اپنی ابتداء پر تمھارا نام لکھتی ہوں اور میری انتہا تمھارے سوا کچھ نہیں ۔” پڑھ کر وہ مسکرانے لگا۔
امرحہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے لے گئی اور دائیں بائیں جھول کر شرارت سے مسکرانے لگی پھر اس نے دونوں ہاتھ اٹھا کر شاخوں پر جھولتی گھنٹیوں کو ترنم سے ایسے بجا ڈالا جیسے “اسد اللہ خان غالب” کے کلام سے لبالب ہوۓ، چاندی کی ظراف وادی کیلاش کی پریوں کی نازک انگلیوں تلے بج اٹھے۔
ارتکاز واجب ہے۔
سماں یار ہے۔
کشتی کی لمبی نوک جو پھولوں سے لدی ہوئی تھی۔ دھندلے اندھیرے پل کے نیچے سے نکلی اور اس نے پانی میں ہاتھ ڈال کر اس پر اچھال دیا۔
“عالیان پر۔”
اور ایک ایسی مسکراہٹ خود پر سجا لی جیسے وہ پرستان کی ملکہ ہو اور اپنے پری زاد کے ساتھ بکھی پر سوار پرستان کی پرواز پر جا رہی ہو۔
“مجھے تمھاری مسکراہٹ یاد آتی ہے اور میں خود مسکرانا بھول جاتا ہوں۔” عالیان نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور دن سے روشن اس کی آنکھوں کو پایا۔
“میری ساری مسکراہٹ تم نے لے لیں۔۔ اب کہتے ہو مسکرانا بھول گئے۔”
“تم آنکھوں کی پتلیاں گول گول گھمایاں کرتی تھیں؟”
“تم کہا کرتے تھے تو کرتی تھی۔۔اب تم کہتے ہی نہیں ہو۔” وہ اٹھلا گئی۔
“امرحہ۔۔ چلو ہم پھر سے دوست بن جاتے ہیں۔” اس کے ہاتھ کی پشت کو اس نے باری باری آنکھوں سے لگایا۔
“نہیں۔۔ اب ہم دوست نہیں بن سکتے۔” اس مے اپنے ہاتھ کی پشت کو دیکھا۔
“کیوں۔؟ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو ؟”
“نہیں۔۔ یہ نہیں کرسکتی۔”
“محبت کرتی ہو؟”
“محبت۔۔ یہ بھی نہیں۔”
“کوئی تو جزبہ ہوگا تمھارے پاس۔۔میرے لیے۔؟” کشتی چمکیلی جھیل پر رواں دواں تھی اور پھر وہ ایک دوسرے پل کے اندھیرے میں جا چھپی۔۔ ابابیلوں کے جھنڈ پیچجے رہ گئے اور کوئلوں کی کوکوں نے اندھیرے کے سروں کا پیچھا کیا۔
دوب(عمدہ گھاس)مخمل کی طرح بچھ گئی۔۔ اندھیرے سے روشنی میں آتے اس نے اپنا ایک ہاتھ اس کی کمر میں پایا اور دوسرا اس کے ہاتھ میں پیوست۔
“شوق دید واجب ہے۔”
“سماں رقص ہے۔”
وہ سرخ پوشاک میں تھی اور اس کے بالوں میں لہریں تھیں۔ دوب ائی ہموار زمین پر وہ محو رقص تھے۔ وہ شرما کر ایسے ہنس رہی تھی جیسے اسے اس پر اعتراض تھا۔
“نیلے سمندر میرے لیے سیاہ ہیں۔” گنگناہٹ صورت اس نے سرگوشی کی۔
“تمھاری آنکھوں کی سیاہی میں بس جانے کا خبط مجھے بہت پیارا ہے۔”
وہ مسکرانے لگی۔” اور۔۔”
“میرے پیروں تلے بچھی سب ہی راہیں تم تک آتی ہیں۔ تم یہ جان لو میری سانسیں تم سے ہوکر آتی ہیں۔”
اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ “اور۔۔”
“امرحہ مجھے انتظار رہے گا کہ انتظار کب ختم ہوگا۔” کہتے ہو اداس ہو گیا۔
“مجھے انتظار رہے گا کہ انتظار ختم
ہونے کا انتظار کیا جاۓ گا۔” کہہ کر وہ بیٹھ گئی۔ بے تحاشہ پھول اُگ آۓ۔
“بتاؤ تم کس کے لیے جان دے سکتی ہو؟” وہ بھی اس کے پاس نیچے بیٹھ گیا۔
“جان تو کب کی دے دی”
” ہم نے بہت گڑبڑ کردی نا امرحہ ”
“ہاں بہت۔۔ اور اب سوچنے کا وقت نکل گیا۔”
“میں نے تمھیں بہت یاد کیا۔”
“میں تمھیں بھول ہی نہیں پائی۔”
“تمھیں مجھے بتانا چاہیے تھا۔”
“تمھیں یاد رکھتے رکھتے میں سب بھول گئ۔ تمھیں بتانا بھی۔ تمھیں یاد رکھتے میں نے کچھ اور یاد رکھنا ضروری نہیں سمجھا۔”
“میں عالیان نہ ہوتا تو تمھارا خواب ہوتا۔۔ جسے تم ہر رات دیکھتیں”
“میں امرحہ ہو کر بھی عالیان ہی ہوں، تم میرے اندر بس چکے ہو، میں نے اپنا آپ رخصت کر دیا ہے عالیان۔”
“تم ایک جادوگر ہو امرحہ ۔” وہ خود کو اس کی آنکھوں کے اتنا قریب لے گیا کہ اس کی پلکھیں امرحہ کے گلابی گالوں پر لرزنے لگیں۔
“تم میرا سحر ہو عالیان۔”
“تم سے محبت مجھ پر فرض ہے۔”
“میں نے اس فرض کو قضا ہونے نہیں دیا۔” وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“کہاں جا رہی ہو؟”
“پتا نہیں۔”
“رک جاؤ۔”وہ بھی اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
“روک لو۔”اس نے گردن موڑ کرکہا خود کو نہیں۔
تیز روشنی نیم اندھیرے میں بدل گئی۔
خوف اور درد کی تتلیاں مقام نامعلوم سے اڑتی ہوئی آئیں۔ وہ سب سیاہ تھیں۔انہونی کا بگل بجا۔
“دعا واجب ہے۔”
“سماں ہجر ہے۔”
اس نے جھٹکے سے گردن کو اس کے گرتے ہوۓ وجود کی طرف موڑ کر اسے دیکھا۔ اس کے آس پاس خون ہی خون تھا۔ وہ اپنی جگہ بت بنا کھڑا تھا۔ اور ذرا دور اس کی بند ہوجانے پر مائل آنکھیں اس پر ٹکی تھیں۔ وہ اسے دیکھ رہی تھی۔ لیکن وہ اس کی طرف نہیں بڑھ رہا تھا۔
وہ کھڑا تھا۔۔ وہ کھڑا ہی رہا۔
“اور اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔”
“یہ تو بہ باف ہے۔”
اپنے لمبے لبادے میں لپٹی وہ” چاہ توبہ” کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھ گئیں۔ پیشانی سے کھینچ کر کنارے کو ناک تک لائیں اور ایک ساتھ اہنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھا لیے۔ اندھیری رات ان پر سایہ فگن تھی اور “آب توبہ” زمین کی تہوں میں جل تھل یو رہا تھا۔
انہوں نے دعا کی ابتداء کی۔” اےخدا۔ ”
اور آنکھیں بند کر لیں۔
عالیان نے آنکھيں کھول دیں۔
اس کی جسم میں خون کا ایک قطرہ نہیں رہا تھا اور اس کے دل نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ اس کی آنکھيں اندھیرے میں بھٹک رہی تھیں۔ اسے بہت دیر میں یاد آیا کہ وہ کہاں ہے۔ اس نے اٹھنے کی ہمت کی، لیکن اس کی ہمت جواب دے گئ۔
مارگریٹ کے مرنے کے بعد اس کے ساتھ یہ ہوتا رہا تھا۔ وہ اپنی من پسند جگہوں پر اس کے ساتھ پایا جاتا رہا تھا۔۔ اب پھر یوں۔۔ امرحہ کے ساتھ۔
جسم کی گرمی سے اس کا منہ جل رہا تھا۔ اٹھ کر وہ واش روم میں گیا اور منہ کر یخ پانی پیا۔ وہ برازیل میں تھا۔ ہوٹل کے کمرے میں دوسرے سنگل بیڈ پر موجاد کارل بے خبر سو رہا تھا۔ وہ ٹیرس پر آگیا اور بہت دیر تک شہر کی ٹمٹماتی روشنیوں کو دیکھتا رہا۔ اس کی کیفیت واپس مانسچڑ کی طرف بھاگ جانے کی سی ہوگئ تھی۔۔ شٹل کاک کی طرف۔۔ کھڑکی کے نیچے۔
اس پر ہلکی سی کپکپی تاری تھی اور اس کے ہاتھ واضح کانپ رہے تھے۔ اس کا ٹیرس کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھ کر رونے کو دل چاہا۔ بہت زیادہ روتے رہنے کا
وہ ٹھنڈے فرش پر بیٹھ گیا اور اپنے سر کو ہاتھوں میں تھام لیا اور پھر اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑلیا۔ اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ خواب کے آخری حصے کو دہراتا۔ فون بیڈ سائیڈ سے اٹھا کر واپس ٹیرس پر آکر اس نے سائی کو فون کیا۔
“تم ٹھیک ہو سائی۔؟”
“ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔ کیوں کیا ہوا۔۔ اس وقت فون کیا تم نے؟” سائی خود بھی نیند میں سے جاگا ہوا لگ رہا تھا۔
“نہیں کچھ نہیں ہوا۔۔ بس ایسے ہی فون کیا۔” سائی کچھ دیر خاموش رہا۔
“تمھیں کچھ کہنا ہے مجھ سے؟”
“ہاں۔۔”
“کہو۔۔”
“میرا بہت رونےکو دل چاہ رہا ہے۔ مجھے روشنی میں بھی اندھیرا نظر آرہا ہے۔”
“تم ماما مارگریٹ کو یود کر کے سوۓ تھے؟”
“انہیں میں نے بہت اچھے تصورات کے ساتھ یاد کیا۔ میں ان کے ساتھ بہت اچھی باتیں کی۔ میں اب کی اپنی کیفیت ٹھیک سے سمجھ نہیں پارہا سائی۔”
” تمھیں ایک اچھی نیند لینی چاہیے۔”
“ہاں۔۔ شاید۔۔ سائی تمھاری امرحہ سے کب ملاقات ہوئی تھی؟”
سائی اپنے بستر پر پورا اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس شخص نے جیسے صدیوں بعد امرحہ کا نام لیا تھا۔
“آج ملاقات ہوئی تھی۔ تم اسے فون کر سکتے ہو۔” سائی نے خوشی سے کہا۔
“ٹھیک ہے وہ۔؟” اس کی کپکپاہٹ کچھ کم ہوئی۔
“ہاں۔۔ بلکل ٹھیک ہے۔۔ بہت اچھا لگا تم نے اس کے بارے میں پوچھا۔”
“شکریہ سائی۔۔ تم سو جاؤ اب۔۔” شاید اس نے سائی کو بلاوجہ پریشان کیا۔
“تم بھی۔”
فون کو ہاتھ میں لے کر سوچتا رہا۔ پھر ہوٹل کے کاؤنٹر تک آیا اور امرحہ کو فون کیا۔
“ہیلو۔” امرحہ کی آواز آئی۔
وہ خاموش رہا۔ وہ بات کہاں سے شروع کرے گا اور کہاں ختم کرے گا۔ اور کہے گا کیا۔ تو وہ خاموش ہی رہا امرحہ نے فون بند کردیا۔
“میں نے تمھیں بہت یاد کیا امرحہ۔” فون بند ہوگیا تو وہ بڑبڑایا۔
“میں نے تمھیں وہ سزا دی جو خود میں نے بھگتی۔”وہ کمرے میں واپس آگیا اور ٹیرس پر کھڑا ہوگیا۔ اسی نہیں لگتا تھا کہ اسے نیند آسکے گی اب۔
آنکھيں جاگتے رہنے کا عہد باندھ چکی تھیں۔وہ سائی اور این کے ساتھ برازیلا آچکی تھی۔ وہ کافی دیر سے ٹیرس پر کھڑی تھی۔ اندر این سو رہی تھی۔ابھی جو فون آیا تھا، اس نے جان لیا تھا کس کا تھا۔
اس شخص کو شبہ تھا کہ وہ اس کی خاموشی کو پہچان نہیں سکتی تھی اور اسے یقین تھا کہ ایسا ہونا ممکن نہیں۔۔ کلام کے لیے الفاظ کی ضرورت ہوتی ہوگی، پہچان کے لیے نہیں۔ کیا وہ اسے پھر سے بتانا چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے اسے کتنی تکلیف کاٹنی پڑی۔ وہ کس تکلیف سے گزرا۔ اس کی اچھی بھلی زندگی کو اس نے اندھیرا کنواں بنا دیا۔ روشنی اندر جاتی ہے نہ اندھیرا باہر نکلتا ہے۔
وہ سب جو وہ اسے نہیں کہہ سکا۔ وہ اب کہنا چاہتا ہے۔ امرحہ کو خوف محسوس ہوا۔ خوف سے اس کا وہم کسی اژدھے کی طرح ہیوہیکل ہوگیا۔
اب وہ نئے سرے سے سوچ رہا تھا۔ پہلے دن سے۔ پہلی ملاقات سے۔ پہلے جملے سے۔ ایک لڑکی جس کی آنکھوں کا کاجل ایسے پھیل گیا ہے کہ گالوں کو بھی سیاہ کر گیا ہے۔ وہ اس کے سامنے کھڑی ہے۔ وہی لڑکی ڈریگن ڈریس میں اس کے ساتھ کھڑی ہے اور پھر وہی لڑکی ہر جگہ اس کے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔ وہ چھپ کر بیٹھتا ہے تو بھی۔ یہ کیسی لڑکی ہے جو اس کے ساۓ سے زیادہ اس کے ساتھ ہے۔ روح سے زیادہ اس پر سوار ہے۔
“تم کہتے ہو تم ماما مارگریٹ نہ بن جاؤ اور مجھے یہ خوف ہے کہ تم ولیدالبشر بن جاؤگے، اپنا کر چھوڑ دینے والے۔” سائی نے کہا تھا۔
اس نے اپنا سر تھام لیا۔
سر اٹھا کر اس نے چند گہرے گہرے سانس لیے۔کچھ بھی تھا وہ خوش تھی کہ عالیان نے اسے فون کیا تھا برا بھلا کہنے کے لیے ہی سہی۔ وہ اسے یاد تو رکھتا تھا۔ اس کا نام بھولا نہیں تھا۔ دنیا میں کوئی امرحہ بھی ہے اس میں یہ احساس زندہ تھا۔
زندہ رہنے کے لیے بہت ضرورتیں درپیش ہوں گی،لیکن جینے کے لیے صرف” ایک۔”
امرحہ کے لیے۔ “ایک عالیان”
عالیان کے لیے۔ “ایک امرحہ”
———————
آیئے برازیل اسٹیڈیم کر اندر چلتے ہیں۔
سریز کا فیصلہ کن میچ ہے۔ انگلینڈ اور برازیل آمنے سامنے آنے والے ہیں۔لگتا ہے سارا برازیل اٹھ کر اسٹیڈیم میں آگیا ہے۔ میچ شروع ہونے سےپہلے ہی لگ رہا ہے میچ ختم ہونے کے قریب ہے۔ دونوں ٹیمیں ایک ایک گول کر چکی ہیں اور اب دونوں ٹیموں کے شائقین مرے جا رہے ہیں کہ بس ان کی ٹیم فیصلہ کن گول کردے۔ برازیلیں شائقین کچھ تندی میں تھے۔ وہ انگلینڈ کے شائقین اور کھلاڑیوں کے نام لے لے کر فقرے چست کر رہے تھے۔ انہیں بتا رہے تھے کہ انگلینڈ ٹیم کس بری طرح سے ہار جانے والی ہے۔
یہ سب ہونا معمول ہے۔ فٹ بال کی دنیا میں جو نہیں ہوتا ہی کم ہوتا ہے۔ شائقین جتنا زیادہ کرتے ہیں۔ کم ہی کرتے ہیں۔ فٹ بال فیور اسٹیڈیم کے اندر اتنے ہائی ٹیمپریچر پر ہوتا ہے جیسے وہاں اہتمام سے آتش فشاں پھٹنے والا ہو۔ اس فیورکا تصور اسکرین سے میچ دیکھنے والے کرہی نہیں سکتے۔
وہ۔۔ ویرا۔۔ کارل اور چند دوسرے یونی فیلوز آگے پیچھے بیٹھے تھے۔ انہوں نے انگلینڈ ٹیم کی شرٹس پہن رکھی تھیں اور کارل، ویرا نے اچھل اچھل کر سارا اسٹیڈیم ابھی سے سر پر اٹھا لیا تھا۔ عالیان خاموش بیٹھا انھیں ناچتے دیکھ رہا تھا۔
ایسے ہی ناچتے کودتے کارل نے ایک پیاری سی بچی کی گود میں رکھے سینڈوچز غائب کر دیے۔ بچی جس کے ماما، پاپا اس کے پاس ہی کھڑے تھے، اپنی دھن میں اچھل رہے تھے تاکہ وہ اسکرین پر نظر آسکیں۔ ایک دم سے اپنی گود خالی پا کر رونے لگی اور اپنے اچھلتے کودتے باپ کی شرٹ کھینچنے لگی۔
” شرم کرو لٹل اینجل کو رولا دیا۔”عالیان نے تیزی سے چلتے اس کے جبڑے کو دونوں ہاتھوں میں سختی سے دبا کر کہا۔ بچی ان سے ذرا سی دور ہی بیٹھی تھی۔
“اینجل تو کسی نہ کسی طرح زندہ رہ ہی لیتے ہیں، ہم شیطانوں کو اپنا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ مجھے بھوک لگی تھی، میں نے محنت کی اور خوراک حاصل کرلی۔ ویسے بھی اس کا باپ اسے اور لے دے گا۔ میرا تو کوئی باپ نہیں ہے نا جو مجھے لے کر دے گا۔”
“میں ابھی بچی کے باپ کو بتاتا ہوں۔” عالیان اس کی طرف جانے لگا۔
“اگر تم نے یہ کہا تو برازیلا میں فٹ بال کی تاریخ کا سب سے بڑا ہنگامہ ہوگا اور وجہ صرف سینڈوچ ہوگا۔۔ ایک سینڈوچ کے لیےتم نجانے اتنے شائقین کو مروا دوگے اور کتنوں کو زخمی کرواکر عمر بھر کے لیے معزور کردوگے۔”
“یہ میں کروں گا؟”عالیان نے اس کے بال مٹھی میں جکڑ کے کہا۔
“ہاں تم ۔۔ صرف تم۔۔ ” اس نے بھی عالیان کے بال مٹھی میں جکڑ لیے۔ برازیلا اسٹیڈیم میں دو لڑکے ایک دوسرے کے بال مٹھی میں جکڑے کھڑے تھے۔
بچی کے ہاتھ میں اب ایک بڑی آئس کینڈی آچکی تھی اور کارل اب آئس کینڈی کو دیکھنے لگ تھا۔ بچی کے باپ نےپھرتی سے بچی کو چپ کروا دیا تھا۔
“تمھاری لٹل اینجل کی پسند اچھی ہے مجھے یاد آیا کہ میں آئس کینڈی کو بہت سے بہت مِس کر رہا تھا۔” کارل نے آنکھیں گول گھمو کر کہا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: