Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 53

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 53

عالیان ہنس دیا .’تم ایسے کیوں ہو?’
‘لڈل اینجل سا?’ کارل نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں ..’Big devil بگ ڈیول سا ?
‘کیا میں بگ ڈیول ہوں.. نہیں نا ? ‘ اس نء پیچھے بیٹھی قصہ گو کی طرف رخ مور کر کہا اور رشوت کے طور پر چاکلیٹ نکال کر آگے کی
عالیان پھر مسکرایا ‘بند کرو اپنا یہ ڈرامہ’
‘ویسے تم نہت گم صم سے ہو ..کچھ ہوا ہے ?
میں ٹھیک ہوں .. ہونا کیا ہے ? کارل کی نظروں سے وہ بچ نہیں آسکتا تھا
کچھ ہے تو بتاؤ فرش .. تم شور سے پریشان ہو ..
یو نو می سارااسٹیڈیم خا لی کرواسکتا ہوں ابھی جا کر برازلین فین کو دبوچ لیتا ہوں اور اسکی ٹیم کے بارے میں بھرکتا ہوا جملہ کہہ دیتا ہوں..بس پھر گیم شروع اور یاں جو افواہ میں بم کی یہاں پھیلا سکتا ہوں..وہ بم بننے سے اب تک کسی نے نہیں پھیلائ ہو گی..بس پھر اسٹیڈیم خالی ‘.
اتنے پیسے لگا کر ہم میچ دیکھنے آئے
ہیں خالی اسٹیڈیم نہیں ‘
پتا نہیں کیوں مجھے میچ دیکھنے سے زیادہ دلچسپی کسی اور چیز کو دیکھنے میں ہے بڈآی اگر میں شائقین کو آپس میں لڑوادوں تو کیسا رہے گا میچ تو کئ بار دیکھ چکے ہیں ہم اب ذرا یہ بھی تو دیکھیں براہ راست ہنگامہ دیکھنے میں کیسا لگتا ہے ?’
‘شیشے کی خالی بوتلیں تمہارے سر پر لگیں گی نا تو مزہ آ جائے گا براہ راست ہنگامہ دیکھنے کا’
وہ انسان ابھی بنا نہیں جو کرل کے ساتھ یہ کر سکے .. کارل ادھر ادھر دیکھنے لگا اور کس کے پا س سے کھانے کی چیز اڑائ جا سکتی ہے
‘وہ بنا بنایا انسان تمہارے ساتھ بیٹھا ہے ‘
‘تم بھی کارل ہو’ کارل نے اس کے دونوں گال مروڑے
میچ شروع ہونے میں ابھی وقت تھا بڑی بڑی اسکرینوں پر اسٹیڈیم پر موجود شائقین دکھائے جا رہے تھے
‘یہ مقامی شائقین تو ابھ سے پاگال ہو رہے ہیں’ کارل نے زرا دور موجود ایک لڑکے کی طرف اشارہ کیا جو اپنی ٹیم کے حق میں عجیب و غریب نعرہ لگا رہا تھا
‘تمھارا اھی نشہ ٹوٹ رہا ہوگا , جا کر تم بھی اس کے ساتھ پاگل ھو جاؤ’عالیان نے اسی لڑکے کی سمت دھکہ دیا
امرحہ نے سائ کو منی کر دیا تھا کہ وہ ویرا کو نہ بتائے کہ وہ وہاں موجود ہے انہیں سائ کی آمد کا پتا تھا اسکی نہیں .. ویسے بھی انہوں نے کل چلے جانا تھا این اور امرحہ نے بھی انگلینڈ ٹیم کی شرٹس پہن رکھی تھیں
این ایسے اچھل رہی تھی جیسے جاپانی نا ہو بلکہ برطانوی ہو اور اسکا ایک آدھ بھائ یا دوست ٹیم میں شامل ہو . اس نے ٹیم کی نمائندگی کرتی لمبی سی ٹوپی بھی پہن تکھی تھی اور منہ کو پورا رنگا ہوا تھا ساتھ ہاتھ میں بورڈ پکر رکھا تھا ‘ٹرافی ہماری ہے’ جس پر پیچھے کہیں سے کسی نے کلر بال پھنک کر اسے بد نما کر دیا تھا یعنی ٹرافی انگلینڈ کی نہیں برازیل کی ہے
منظر کچھ ایسا تھا جیسے ولڈ کپ فائنل ہو
امرحہ کچھ بہتر محسوس کر رہی تھی وہاں آکر ..ویسے بھی عالیان نے رات کو جو کال کی تھی اور کسی بھی وجہ کو لے کر کی تھی ..اس کے لئےبہت بڑی بات تھی وہ بھی کھڑی ہر کر اہن کے ساتھ اچھلنے لگی اور ریہرسل کے طور پر بنائ جانے والی ‘ویز’ کا حصہ بننے لگی پورے اسٹیڈیم میں لہریں گھوم رہی تھیں اور یہ قابل دید منظر تھا
وہ ہنسے لگی .. اسے سب اچھا لگا جیسے سارے غم بس مٹ گئے
عالیان .امرحہ ..ویرا اور کارل ایک ساتھ چلائے ..
اسکرین پر اچھلتی این کے قریب وہ کھڑی تھی اور اپنی طرف آنے والی لہر کو دیکھ رہی تھی تینوں نے اسے دیکھ لیا تھا ویرا، نے اسے فون کیا
تم کہاں ہو امرحہ؟
وہ ہنس دہ اسٹیڈیم
پاگل گندی بچی بتا نہیں سکتی تھی
میں نے سوچا سرپرائز دوں
سرپرائز اسکرین پر آ کر ویرا بہت خوش تھی اسے دیکھ کر
این اور امرحہ سائی کے ساتھ ہیں ویرا نے سب کو بتایا
تم نے بتایا نہیں کے تمہارے ساتھ امرحہ بھی ہے عالیان نے سائی کو فون پر کہا
اس نے منا کیا تھا عالیان
عالیان خاموش ہو کر اسکرین کی طرف دیکھنے لگا وہ پھر سے نظر آ جائے مگر اب کھلاڑی کھیل رہے تھے
امرحہ کے پیچھے فاؤل فاؤل کے نعرے لگنے لگے
یہ کیا ہو رہا ہے سائی کوئی لڑائی ہو رہی ہے کیا؟ امرحہ سہم گی
یہ سب ہوتا ہے امرحہ آخری منٹوں میں دیکھنا کیا ہو گا
دوسرا ہاف ختم ہونے والا تھا ویرا کو میسج آیاوہ پڑھ کر پریشان ہو گئی
کیا ہوا شاہ ویز نے پوچھا؟
میرے دوست کا میسج ہے اس نے کہا کوئی ہنگامہ ہونے کی خبر ملی ہے
کیسے ہنگامے کی؟
زیادہ اسے بھی نہیں پتا کوئی غیر ملکی نے نشانہ بنایا ایسا ہی ہے کچھ
ایسا کچھ نہیں ہو گا ایسی خبریں پھیل جاتی ہیں یہاں بہت اچھی سیکیورٹی ہے پولیس جانتی ہے امن کیسے رکھنا ہے تمہیں خبر ملی انہیں بھی تو ملی ہو گی
کارل نے کہا اچھا ہنگامہ ہو ہی جائے میں بھی تو دیکھو فلم بنا ٹیکٹ کے
اور پھر تمارا دوست کنفرم بھی نہیں عالیان نے کہا۔
ویرا نے سب دوستوں کو میسج کر دیا کے میچ ختم ہوتے ہی فورا اسٹیڈیم سے نکلیں کوئی خطرہ مول نہیں لینا کوئی بدمدگی نظر آئے تو پرسکون رہیں

آخری پندرہ منٹ میں برازیلیں کھلاڑیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا، لیکن آخری چھٹے منٹ میں گول انگلینڈ نے کردیا۔
جوش اور افسوس سے ٹیموں کے شائقین نے اسٹیڈیم سر پر اٹھا لیا۔ سائی ویرا کا پیغام پڑھ چکا تھا۔ اس نے امرحہ اور این کو چلنے کے لیے کہا۔ عالیان اور ویرا اٹھ چکے تھے جبکہ اچھلتا کودتا کارل پہلے ہی کہیں غائب ہوچکا تھا۔ ویرا نے اب واضح خطرے کی بو سونگھ لی تھی۔ کہیں کوئی ایسا نعرہ گونجتا کہ اس حصے میں بات بڑھ جاتی۔ میچ کے دوران گالی گلوچ، ہاتھا پائی، توتڑاخ، خالی بوتلیں پھینکنا عام باتیں تھیں، لیکن ایسی تندی اور طیش نہیں ہوتا تھا جو اب دکھائی دے رہا تھا۔ جیسے سب جان بوجھ کر کیا جا رہا تھا۔
“سائی نکل چکا ہے؟”عالیان نے پوچھا۔
“ہاں۔۔ اس نے کہا وہ جا رہا ہے۔”ویرا نے فون کان سے ہٹایا۔
وہ دونوں اسٹیڈیم سے سے باہر نکل آۓ۔ ابھی وہ سڑک تک ہی آۓ تھے کہ پولیس کی نفری تیزی سے اسٹیڈیم کی طرف بھاگتی ہوئی نظر آئی۔ ان کا انداز الرٹ تھا۔ ایک دم ہی اسٹیڈیم کے باہر اسٹیڈیم کے اندر کچھ ہوجانے کا منظر نمایاں ہوگیا۔
“چلو عالیان ۔۔ جلدی چلو۔” ویرا آگے کو بھاگی وہ بھی سڑک پر اس کے ساتھ بھاگا اور ذرا دور جاکر رک گیا۔
“کیا ہوا۔؟” ویرا پلٹی۔
“امرحہ۔” اس کے چھرے کے سارے رنگ اڑ گئے اور اسے دیکھ کر ویرا کی اپنی شکل پر ساۓ لہراۓ۔
ویرا نے فون نکالا۔۔ امرحہ کو فون کرنے کے لیے۔۔لیکن عالیان پہلے ہی کال ملا چکا تھا۔
دو بار بیل ہوئی ۔” ہیلو۔” امرحہ کی آواز آئی۔
“امرحہ !تم کہاں ہو؟”
الفاظ پورے ادا نہیں ہوۓکہ فون ڈیڈ ہوگیا۔ اس نے دبارہ کال ملائی، لیکن فان بند جا رہا تھا۔
———————
اس کا فون بند جانا ہی تھا۔ اس کے فون کی بیٹری نکل چکی تھی اور وہ کہیں دور گر گیا تھا۔ اور وہ خود بھی گر گئی تھی۔ وہ بس نکل جانے کو ہی تھے کی بھڑکا ہوا ایک گروپ اوپر سے گھتم گھتا ہوتا ان کے اوپر آکر گر گیا۔ امرحہ کا سر کسی سخت چیز سے ٹکرایا اور اس کے سر سے خون نکلنے لگا۔ سائی نے جلدی سے اسے اٹھایا۔ ایک مقامی فین نے سب کو دھکا دیا۔ سائی بھی دور جا کر گرا۔
میچ کا آخری منٹ ختم ہوچکا تھا۔ انگلش ٹیم جیت چکی تھی اور فوراً اسٹیڈیم میں مختلف جگہوں پر گروپ کے گروپ آپس میں الجھ کر گھتم گھتا ہو گۓ۔ اور ایک دوسرے پر مختلف ٹھوس چیزیں پھینکنے لگے تھے۔ اس سارے عمل کو تیس سیکنڈ بھی نہیں لگے ہوں گے، جیسے سب کھچ پلان تھا کہ ایسا ہی ہونا ہے۔
اسٹیڈیم کی اندرونی حالت ایک دم سے بدلی اور عام شائقین سہم گئے۔ منظر ہولناک ہوگیا۔ شور بڑھ گیا اور ہنگامے کے آثار نمایاں ہو گئے جو چھپا ہوا تھا وہ نکل آیا۔ اسٹیڈیم نے جنگ کا میدان بدنے میں ایک منٹ کا وقت بھی نہ لیا۔ این کہیں آگے نکل چکی تھی۔ امرحہ کوسر پر چوٹ کی وجہ سے بری طرح سے چکر آرہے تھے۔ سائیبھی کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ اکیلی دھکےکھاتی، جگہ بناتی آگے بڑھنے لگی کی ایک ہپی لڑکے نے اسکا بازو دبوچ لیا۔ سیکیورٹی فوج تیزی سے اندر داخل ہو رہی تھی۔ ساتھ ہزار شائقین کے ہجوم میں ایک دم سے بھگدڑ مچی۔ تیزی سے باہر نکل جانے کا انداز ایسا ہوگیا کہ قیامت آگئی ہو۔ خالی بوتلیں اور جسم کے دوسرے حصوں پر آکر رلگنے لگیں۔ دوبارہ امرحہ کی کمر پر کوئی وزنی چیز آکر لگی۔ جس نے اس کا بازو دبوچا تھا۔ پوری قوت لگا کر اس سے بازو چھڑوا کر وہ آگے کو بھاگی تھی۔ لیکن اس کے بازو پر پھر وہی گرفت پڑی اور سرخ آنکھوں والے اس عادی نشی ہپی لڑکے نے اس کی گردن پر جھک کر کاٹنا چاہا۔ امرحہ نے پوری شدت سے چیخ ماری۔
اس کا فان بند جا رہا ہے، یہ معلوم ہوتے ہی اپنا فون سڑک پر ہی پھینک کر وہ روش میں مخالف سمت بھاگا، ویرا بھی اس کے پیچھے لپکی۔
“تم اس گیٹ کی طرف جاو میں دوسرے گیٹ کی طرف جاتی ہوں۔” بھاگتے ہوۓ ویرا چلائی۔
اس کے بھاگنے کے انداز میں ایسی شدت تھی کہ وہ بہت سو کو پھیلانگتا، گراتا ، دھکے دیتا ہوا آگے بڑھا۔ ایک ہجوم تھا جو منتشر باہر نکل رہا تھا اور پولیس کی نفری بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ جو ہجوم میں نظم لانے کی کوشش کر رہے تھے۔ بچوں کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ بھگدڑ کا ماحول تھا۔
“امرحہ ” وہ پوری قوت سے رش میں گھس کر چلانے لگا۔ اس کی آواز میں ایسی گرج تھی کہ اتنی افراتفری میں بہت سوں نے اسے گھری ردن موڑ کر دیکھا۔
“امرحہ ” وہ پھر چلایا اس کی سانسیں بے قابو ہورہی تھیں۔ اگر امرحہ فوراً اس کے سامنے آجاتی تو وہ زمین پر گر جاتا۔ اس میں کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رہی تھی۔ وہم اسے ہولانے لگے تھے اور خوف نے اس کے دل پر پنجے گاڑ دیے تھے۔
اسے الہام ہوا اور وہ گیٹ سے اندر ہوگیا۔ پولیسکی نفری کھڑی سب کو باہر نکال رہی تھی۔لیکن وہ سر کو جھکا کر اس کے پقر ہوگیا۔اس نے پورے اسٹیڈیم کے ہزارو چکر بھی لگانے پڑے تو اسے کم لگتے اس انسان کے لیے جسے ڈھونڈا جارہا تھا۔
امرحہ باہر ہوسکتی تھی اسے یہ خیال آیا لیکن اس کا وجدان اسے بتا رہا تھا کہ وہ اندر ہی ہے اور ٹھیک نہیں ہے۔
اس نے ا کا بازو کسی خنخوار جانور کی طرح پکڑ رکھا تھا اور وہ اسے گھسیٹ کر کسی خاص سمت لے کر جارہا تھا۔ وہ چلا رہی تھی، خود کو آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن اس ہپی کے دوسرے ساتھی نے اس کے گرد گھیرا سا بنا لیا تھا اور اسے مضبوطی سے کمر سے پکڑ رکھا تھا اور وہ دونوں آپس میں اپنی زبان میں بات کر رہے تھے جسے امرحہ نہیں جانتی تھی۔
عالیان تیزی سے ادھر ادھر بھاگ رہا تھا اور اسے مسلسل آوازیں دے رہا تھا،
ہیلی کاپٹر گراؤنڈ کے اوپر پرواز کرنے لگے۔ یعنی معاملہ شدت اختیار کر چکا تھا۔
سیکیورٹی فورس ہر طرف پھیل رہی تھی۔ کہیں سیکیورٹی فورس اور شائقین میں تصادم ہورہا تھا۔ کہیں شائقین اور شائقین میں ۔ معاملہ ایسے بگڑ رہا تھا جیسے جلتی آگ پر تیل ڈالا جا رہا ہو۔
وہ اسے دیے وسرے گیٹ سے نکال کر باہر لے جا رہے تھے۔ ان کا انداز کچھ ایسا تھا کہ وہ اسے گاڑی میں ڈال کر لے جانے والے ہیں۔ وہ معاشرے کے موقعے سے فائدہ اٹھانے والے ناسور تھے جو ہر جگہ پاۓ جاتے ہیں اور اپنی بد خسلتیسے باز نہیں آتے۔ کارل کو سائی مل گیا تھا اور اس نے امرحہ کے لاپتا ہونے کا بتا دیا تھا۔ دوسری طرف سے کارل آیا تھا۔ این، سائی، شاہ ویز اور چند دوسرے اسٹوڈینٹس اسے رش میں باہر دیکھ رہے تھا۔ سائی نے سب کو فون کر کے بتا دیا تھا، کیوں امرحہ کا فون بند جا رہا تھا تو اسے ڈر تھا کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔
کارل کی نظر دور سے امرحہ پر پڑی اور وہ تیزی سے بھاگتا ہوا اس کی طرف آیا۔ وہ عام نارمل انداز میں نہیں چل رہی تھی۔ اسے ایک لڑکا گھسیٹ رہا تھا اور دوسرا باا بار اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کا منہ دبا رہا تھا۔ کارل اس کے پاس پھنچتا اس سے پہلے عالیان سیٹیں پھیلانگتاپوا ان کے قریب چلا گیا۔ وہ پیچھے کہیں سے بہت تیزی سے بھاگتا ہوا آیا تھا اور آتے ہی اس نے ان لڑکوں کو لاتیں اور گھونسیں مارنا شروع کر دیے۔ کارل بھی پھنچ گیا اور جس کی گردن ہاتھ آئی دبوچ لی۔
امرحہ بری طرح سے خوف زدہ تھی۔ وہ کانپ رہی تھی اور اس کے سر سے خون نکل رہا تھااور ناک منہ سے بھی۔
دولڑکے پہلے ہی بھاگ گئی اور ایک کارل سے خود کو چھڑا کر بھاگا۔ امرحہ پر نظر پڑتے ہی عالیان کی آنکھيں نم ہوگئیں۔ اس نے ڈری سہمی امرحہ کو اپنے ساتھ لگا لیا اور ہاتھ سے اس کی ناک منہ کا خون صاف کیا اور اس کے سر کے زخم کو دیکھنے لگا۔
“تمھیں کافی چوٹ آئی ہے۔” اس نے یہ کہا اور اس نے یہ سنا تو وہ فوراً خود کورونے سے روک نہیں سکی۔
“نہیں زیادہ نہیں مجھے بلکل تکلیف نہیں ہورہی اب۔” ٹوٹ ٹوٹ کر الفاظ نکلے جیسے جزبات کی شدت سے الفاظ بکھر سے گئے۔
اس کا سر عالیان کے سینے سے لگا تھا۔ اس سر پر لگی کتنی ہی بڑی چوٹ میں درد کیسے اٹھ سکتا تھا بھلا۔
کارل نے جلدی چلنے کا اشارہ کیا اور آگے بھاگ گیا۔ اسے اپنے ساتھ لگاۓ عالیان باہر کہ طرف آیا۔
اور گیٹ سے باہر ہونے سے پہلے ایک زور دار دھکا لگا کہ امرحہ کا ہاتھ عالیان سے چھوٹ گیا اور وہ گر پڑنے کے انداز سے بہت آگے نکل گئی۔
“سڑک سے دور کسی محفوظ حصے کی طرف بھاگ جانا امرحہ ۔!” عالیان پیچھے سے چلایا اور پورا زور لگا کر اس نے ہجوم میں سے جگہ بنا کر آگے نکل جانا چاہا۔ امرحہ نے دھکے کھاتے، آگے بڑھتے گردن موڑ کر اسے دیکھا اور عالیان کا دل وہیں ٹھر گیا۔
“احترام واجب ہے۔ سماں عشق ہے۔”
ہجوم نے اسے ایک اور دھکا دیا وہ آگے نکل گئ۔
دھکے نے اسے لڑکھڑا دیا اور وہ اور پیچھے ہوگیا۔
امرحہ نے پھر گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
“وقت نے دغادی وہ وہیں ٹھر نہ گیا۔”
اگلے دھکے سے وہ باہر نکل گئ۔
سڑک کا منظر کچھ اور ہوچکا تھا۔ منٹوں کی گیم تھی۔ لمحوں میں بدل گئ۔ سیکیورٹی فورس منتشر ہجوم سے نپٹنے میں مشغول تھی۔ رات کا وقت تھا اور آنسو گیس کے دھوئیں نے رات کو خطرناک بنا دیا۔ ربڑ کی گولیاں فائر کی جا رہی تھیں۔ مختلف اشکال کے ماسک پہنے ہوۓ افراد سیکیورٹی فورس پر ٹھونس چیزیں اور انسو گیس اچھال رہے تھے۔ کہیں کچھ گروپس آپس میں متصادم تھے، کس فورس کے ساتھ۔۔
ایک بڑا ہنگامہ برازیلا اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پھوٹ چکا تھا۔
ایک ایسا ہنگامہ جو سانحہ میں بدلنے ہی والا تھا۔ ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں چار سو گونج رہی تھیں۔دور دور تک سڑک پر ایک جنگ کا عملی منظر دیکھا جا سکتا تھا۔
“تصادم کی تصویر تھی اور بغاوت کی بو۔”
وہ سڑک پر نکل کر ایک سمت بھاگنے لگا۔ کارل اس کے پیچھے ہی تھا۔
“امرحہ کہاں ہے ؟”کارل نے چلا کر پوچھا۔
“اسے میں نے سڑک سے دور نکل جانے کے لیے کہا تھا۔” دو فائر فضا میں گونجے اقر چیخوں سے کان پھٹنے لگے۔ ان پر شیشے کی بوتلیں اچھالی گئں ایک نے آگے بڑھ کر کارل پر حملہ کرنا چاہا جسے کارل نے پہلے ہی دبوچ لیا اور سڑک کے ایک طرف نیچے زمین پر پٹخ دیا۔
وقفے وقفے سے،لیکن تیزی اور شدت سے انسو گیس اچھالی جا رہی تھی اور ربڑ کے فائر کیے جا رہے تھے۔ کون دفاع کر رہا تھا اور کون حملہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ عالیان تیزی سے سڑک پر بھاگ رہا تھا اور چلا رہا تھا۔” امرحہ ۔”
اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکتی جا رہی تھی اور اس کی آنکھوں کے آگے بار بار اندھیرا چھا رہا تھا۔ اسے اپنا خواب یاد آرہا تھا۔۔ اندھیرا۔۔ دھواں۔۔ تصادم اور خطرہ۔
نشانیاں اچھی نہیں تھیں۔ وہ ذرا دیر کو رک کر ہانپنے لگا۔ اس سے اگلا قدم اٹھانا مشکل ہورہا تھا۔ اس کے پیروں کے پاس آکر ایک گیس کا گولا گرا۔ وہ تیزی سے دوسری طرف ہوا۔ اس کے بازو پر ربڑ کی گولی آکر لگی، لیکن وہ رکا نہیں، اس کا جسم اسے حرکت کرنے سے جواب دیتا جا رہا تھا۔ اس کی کیفیت اس انسان سی ہوگئ، جسے اپنے کسی عزیز کے تابوتکو اٹھانے کے لیے کہاجاتا ہے اور وہ خود کو پہاڑ اٹھا لینے کے قابل تو سمجھ لیتاہے، لیکن تابوت نہیں۔
برازیلا اسٹیڈیم دھواں اگلنے لگا۔ چند ایک جگہ آگ بھڑک اٹھی تھی۔ دھئیں کے پھیلاوں سے سڑک پر حرکت بحال ہوگئ۔
پوری قوت لگا کر وہ پھر بھاگا اور چلایا۔ “امرحہ ـ” وہ ساری دنیا کو آگ لگا دے گا۔ اگر کچھ ہوا تو وہ سب جلا ڈالے گا۔ اب وہ طیش سے سڑک پر بھاگنے لگا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا۔ راستے میں آنے والوں کو روند ڈالے، کچل ڈالے، ورنہ حاق پھاڑ کر اتنی شدت سے چلاۓ کہ سب اپنی اپنی جگہ ساکت ہوجائیں۔
اس نے پھر آواز دی۔ “امرحہ ۔”
———————
اس کا دوپٹا کب کا کہیں گر چکا تھا۔ اسے چلنے میں مسلہ ہو رہا تھا۔ چند لوگ اس پر آگرے تھے اور اس کی ٹانگ جیسے ٹوٹ ہی گئ تھی۔ دھوئیں کے بادلوں میں اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سخت چبھن ہورہی تھی اور ان میں سے مسلسل پانی نکل رہا تھا۔
وہ گبھی ایسے کسی تصادم سے دوچار نہیں ہوئی تھی۔ وہ تو زندگی میں پہلی بار اسٹیڈیم فٹ بال میچ دیکھنے آئی تھی۔ اسے تو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ ہنگامی صورتحال میں کیا کرنا چاہیے۔ اس وقت اس کی عقل بلکل ماؤف ہوچکی تھی اور وہ بری طرح سے سہم چکی تھی۔ اسے ہر ایک سے ڈر لگ رہا تھا کہ کوئی اسے گھسیٹے گا اور مار دے گا۔ سڑک کا منظر انتہائی ہولناک ہوچکا تھا۔ اس کا دل چاہا واپس اندر بھاگ جاۓ۔
اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کس طرف بھاگے اور پھر جس طرف بہت سے لوگ بھاگے جا رہے تھے وہ بھی بھاگنے لگی۔ سڑک پر وہ سب منتشر ہوگئے۔ سیکیورٹی فورس کی نفری بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ پھر بھی تصادم تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ وہ تیزی سے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ لیکن اب وہ ڈیفنس کرنے کی پوزیشن میں آچکے تھے جو گروپس حملے رک رہے تھے، ان کے حملے بہت شدید تھے۔
صرف چند منٹ لگے یہ سب ہونے میں۔ صرف چند منٹ۔
عالیان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ ٹھیک سمت بھاگ رہا ہے یا نہیں، بس اسے اس کا وجدان کہہ رہا تھا کہ اسے اسی سمت جانا ہے۔
ایک اور گولا اس کے ذرا پیچھے اور آگے آکر گرا۔۔ اور دھوئیں کے بادل پھیلنے سے پہلے اس نے امرحہ کو بہت دور دیکھ لیا۔
“امرحہ ۔” وہ پوری جان سے چلایا کہ وہ اس کی طرف دیکھ لے، لیکن وہ بہت دور تھی، اس سے ٹھیک سے چلا نہیں جا رہا تھا۔ وہ ڈر کر کھڑی تھی۔ اس سے ذرا آگے ایک گروپ میں تصادم ہورہا تھا اور اس کے پیچھے گیس کے گولے پھینکیں جارہے تھے۔
فاصلہ سمٹا۔ وہ بھاگ کر اس کی طرف لپکا۔
سڑک کے دوسری طرف سے اس پار سے ویرا نے اسے دیکھ لیا اور وہ اس کی طرف بھاگی۔
“امرحہ۔”فاصلہ سمٹ چکا تھا۔ وہ اس سے کچھ ہی دور تھا۔ اب امرحہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
“ارتکاز واجب ہوا۔ سماں یار غالب آیا۔”
اور اتنی دور سے وہ عالیان کے اس طرح اپنی طرف بھاگتے آنے پر فدا ہوگئ۔
“محبت صبح کا عالم ہے۔ اس میں رات نہیں ہوتی۔”
وہ اس کے لیے کیسے بھاگا پھر رہا تھا۔
“محبت ابد کی گھڑی ہے۔ یہ فنا نہیں ہوتی۔”
جو ہوچکا تھا اب تک۔ وہ مٹ چکا تھا۔
“محبت، طرب کا ساز ہے اس میں آہ نہیں ہوتی۔” جو فاصلہ تھا وہ کم ہونے لگا تھا۔
“کہیں مت جاؤ۔” دھوئیں کے بادلوں نے دو لوگوں کی ایک سوچ کو جا لیا۔” اب کہیں مت جاؤ۔”
وہ عالیان کی طرف گھوم چکی تھی اور اس کی طرف آرہی تھی۔
اور ایک بھڑکے ہوۓ لڑکے نے انگلینڈ ٹیم کی شرٹ پہنے ایک لڑکی کے سر پر شیشے کی وزنی بوتل سے ضرب لگائی۔
وہ لڑکی جو امرحہ تھی۔ ویرا بجلی کی سی تیزی سے امرحہ کی طرف لپکی۔
شرٹ پہنے ایک لڑکی کے سر پر شیشے کی وزنی بوتل سے ضرب لگائی ۔
وہ لڑکی جو امرحہ تھی ۔ویرا بجلی کی سی تیزی سے امرحہ کی طرف لپکی۔
کارل اور سائی بھی اگے پیچھے اس کی طرف آ رہے تھے اس کے سر پر چوٹ لگتے دیکھ کر عالیان کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی وہ بھاگتے بھاگتے روک گیا کیونکہ
دو فائر ہوئے
برازیل کے اسٹیڈیم کے باہر پھیلا دھواں عالیان کی آنکھوں میں گھس آیا ۔سارا بھاگتا دوڑتا ہجوم اسے پاؤں میں دوندتے جا رہا تھا
وہ جہاں تھا وہی کھڑا رہا
ایک فائر ربڑ کی گولی کا تھا
ویرا پوری شدت سے چلائی اور سب پر پھلانگتی ہوئی اس کی طرف آئی۔
دوسرا فائر ربڑ کا نہیں تھا
کارل اور سائی نے کتنے لوگوں کو دھکے دے کر اس تک پہنچنا چاہا کچھ فاصلے دائمی جدائی کے ہاتھوں طے پاتے ہیں اس سے پہلے نہ خبر ہوتی ہے نا احساس
وہ سڑک پر گھٹنوں کے نل گری اور پھر پشت سڑک پر جا لگی۔خون اس کے گرد پھیلنے لگا
امرحہ اس نے چلانا چاہا مگر چلا نہیں سکا وہ وہی کچھ دور تھا جو امرحہ کا عالیان تھا ۔
اس نے اسکی طرف بھاگنا چاہا بھاگ نہیں سکا
تو یہ ثابت ہو گیا جسم سے جان اس وقت نہیں نکلتی جب اپنی جان نکلتی ہے یہ جان اس وقت نکلتی ہے جب جان سے پیارے کی جان نکلتی ہے ۔
دعا واجب کر دی گئیں اسمان پر منادی ہوئی
اس کے جسم سے جان نکل گئی اور وہ گھٹنوں کے بل سڑک پر گرتا چلا گیا
امرحہ کے پاس پہنچے سے پہلے کارل نے عالیان کو دیکھا تو اس نے جانا کے ایک مر چکا ہے دوسرا مرنے جا رہا ہے
کیونکہ عالیان نے اس انسان کی آنکھیں بند ہوتی دیکھ لیں
جس میں اس نے خود کو بند کر لیا تھا
اسکی آنکھوں سے خون ٹپکنے لگا ان کا رنگ سرخ نہیں تھا
امرحہ کے وجود سے عالیان کی اپنی زندگی قطرہ قطرہ پہنے لگی۔
اے آنکھ تو کیوں روتی ہے قافلے والے چلے گئے
وہ پیچھے اکیلا چھوڑ گئے اے آنکھ تو رونا بند کر
اس قافلے میں میرا محبوب تھا افسوس ہاًں پھر تو رو
سانس روک لی دل دھڑکنا بھول گیا
امرحہ اور عالیان کے درمیان اس کششِ کا فاصلہ وقت کیسے کرے گا عالیان کی زندگی میں امرحہ ایک خوبصورت یاد بن کر رہے گی ۔

Read More:   Nakhreeli Mohabbatain by Seema Shahid – Episode 19

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply