Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 54

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 54

یوں جیسے امیر شہر مچان پر کھڑا رہ گیا ہو اور زہر بجھے نیزوں نے اس شہر کی زندہ سانسوں کو مالِغنمت سمجھ کر لوٹنا شروع کر دیا ۔
نکر حیات پر آگ کے گولے برسائے جانے لگے ۔اور خاتمے کی راگ دیمک بنی گس گئ ہے
امیر جہاں اپنے لوٹنا سڑک پر دیکھ رہا تھا
موت کی سانس اس ہو کرتیں پھر بھی وہ زندگی کی لو پھونک مار کر بھجا دینے کا اختیار بحکم خدا اپنے پاس رکھتی ہے
اس کے شہر یہ پھونکیں تیز آندھی کی طرح چلیں۔
امر اور مرن زندگی دو لفظ ہیں ۔
سیکیورٹی فورس نے امرحہ کی طرف یکدم یلغار کی اور اس کے گرد اپنی ڈیفنس شیلڈر لیے دائرے میں کھڑے ہو گئے اور دوسرے کچھ کھڑے کچھ گھٹنوں کے بل۔
۔پوزیشن لیے ربڑ کی گولیاں فائر کرنے لگے، جبکہ وہ اس طرف ایسے ایستادہ جیسے اب وقت آخر تک یہی حکم اس پر مہر تھا۔
شور ایک دم دھماکوں کی صورت پھٹا۔ انسانی بستی کے گولے نے کشش کا تھال الٹ دیا اور برازیلا اسٹیڈیم زمین سے پہلے اٹھا اور پھر ہر چیز اپنی حد بندی سے نکل جانے کے لیے اپنی حدوں کی نافرمان ہوئ اور عمارتیں اور لوگ بے وزن ہونے لگے۔ پھول اور درخت۔ جھیلیں اور ابشاریں۔ سبزے اور خطےکرہ زمین سے اٹھنے لگے۔ بہاریں اور نغمے۔ ابابیلیں اور فاختائیں۔ خوشبوئیں اور میوے بھی پیچھے نہ رہے۔
“اور اے ابن الوقت! ان دو لفظوں کی حقیقت مجھ پر اب کھلی۔”
“امر “یار کا ہونا اور “مرن”اس کا نہ ہونا۔
اپنے ہی جسمکے جلنے کی بو بلا تامل اس کے نتھنوں میں گھسنے لگی۔ حرکت کرنے کے لیے جو طاقت درکار تھی، وہ اس کے دائراہ اختیار میں نہ تھی۔ کارل،ویرا یا سائی اس طرف اس کے پاس
یوں جیسے امیر شہر مچان پر کھڑا رہ گیا ہو اور زہر بجھے نیزوں نے اس شہر کی زندہ سانسوں کو مالِغنمت سمجھ کر لوٹنا شروع کر دیا ۔
نکر حیات پر آگ کے گولے برسائے جانے لگے ۔اور خاتمے کی راگ دیمک بنی گس گئ ہے
امیر جہاں اپنے لوٹنا سڑک پر دیکھ رہا تھا
موت کی سانس اس ہو کرتیں پھر بھی وہ زندگی کی لو پھونک مار کر بھجا دینے کا اختیار بحکم خدا اپنے پاس رکھتی ہے
اس کے شہر یہ پھونکیں تیز آندھی کی طرح چلیں۔
امر اور مرن زندگی دو لفظ ہیں ۔
سیکیورٹی فورس نے امرحہ کی طرف یکدم یلغار کی اور اس کے گرد اپنی ڈیفنس شیلڈر لیے دائرے میں کھڑے ہو گئے اور دوسرے کچھ کھڑے کچھ گھٹنوں کے بل۔

۔پوزیشن لیے ربڑ کی گولیاں فائر کرنے لگے، جبکہ وہ اس طرف ایسے ایستادہ جیسے اب وقت آخر تک یہی حکم اس پر مہر تھا۔
شور ایک دم دھماکوں کی صورت پھٹا۔ انسانی بستی کے گولے نے کشش کا تھال الٹ دیا اور برازیلا اسٹیڈیم زمین سے پہلے اٹھا اور پھر ہر چیز اپنی حد بندی سے نکل جانے کے لیے اپنی حدوں کی نافرمان ہوئ اور عمارتیں اور لوگ بے وزن ہونے لگے۔ پھول اور درخت۔ جھیلیں اور ابشاریں۔ سبزے اور خطےکرہ زمین سے اٹھنے لگے۔ بہاریں اور نغمے۔ ابابیلیں اور فاختائیں۔ خوشبوئیں اور میوے بھی پیچھے نہ رہے۔
“اور اے ابن الوقت! ان دو لفظوں کی حقیقت مجھ پر اب کھلی۔”
“امر “یار کا ہونا اور “مرن”اس کا نہ ہونا۔
اپنے ہی جسمکے جلنے کی بو بلا تامل اس کے نتھنوں میں گھسنے لگی۔ حرکت کرنے کے لیے جو طاقت درکار تھی، وہ اس کے دائراہ اختیار میں نہ تھی۔ کارل،ویرا یا سائی اس طرف اس کے پاس کوئی نہیں تھا۔ وہ اس طرف سامنے امرحہ کے پاس تھے۔ جو شدت تکلیف میں ہوگی یا اس سے مبرا ہوچکی ہو گی۔
الہام اس کے کانوں میں پھونکیں مارنے لگے اور پیش گوئی کی زبانیں نکل آئی۔
سائرن بجاتی ایمبولینس آئی۔ سیکیورٹی فورس نے جیسے اب دبنگ دھاوا بول دیا اور سڑک سے ہجوم ایسے چھٹنے لگا جیسے وہ سب اسی ایک سانحے کے انتظار میں تھے، جو عالیان پر گزر چکا تھا۔ ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے تھے۔ ایمبولینس اور رضاکار تیزی سے حرکت میں آچکے تھے۔ فورس سڑک پر اور اطراف میں جال کی طرح پھیل گئ۔ دو اہلکار دور سے عالیان پر بھاگتے ہوۓ چلاۓ، پھر ایک چلاتے ہوۓ اس کے قریب آیا اور جھک کر اسے بازو سے پکڑ کر اٹھا کر گھسیٹنے لگا۔ ساتھ وہ تیز آواز میں کچھ کہہ رہا تھا اور پھر اتنی افراتفری میں اس نے ذرا کی ذرا جھک کر اسے دیکھا چوک گیا۔
“تم ٹھیک ہو؟”اس نے پوچھا۔
ایمبولینس اب جا رہی تھی۔ اور وہ اس کے قریب سے گزر گئ۔ نتھنوں سے بو اس کے اندر اترنے لگی۔
امیر شھر نے اپنی ہتھیلیوں کو خولی پایا۔ جیسے ابتداۓ وقت سے اٹھا ہجر وصل کی دھرتی پر قیام گاہ بناتا، ابدیت کی مشعلوں سے روشن” شھر” اجڑ گیاـ
“تو امرحہ چلی گئ۔ یا جا رہی ہے۔ یا چلی جاۓ گی۔”
دل نے دھڑکنیں مستعار لیں، سانسو نے زندگی کو التجائیہ صدا دی اور اس کے مجسمے میں سیکیورٹی اہلکار نے اسے ایک محفوظ حصے کی طرف اچھال سا دیا ارو تیز آواز میں ایک سمت چلے جانے کا اشارہ کیا لیکن وہ سیکیورٹی اہلکار کے بتاۓ اشارے کی مخالف سمت بھاگا اور راستے میں آنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو دھکیلتا اور پھیلانگتا اس مقام تک پہنچ گیا ، جہاں سڑک سرخ تھی اور کانچ کی بوتلیں ٹوٹی ہوئی بکھری پڑی تھیں اور خون کے چھینٹے کانچ پر جمع تھے۔
اس بار تین، چار اہلکار اس کی طرف لپکے کہ اسے اٹھا کر کہیں پھینک دیں کہ وہ تیزی سے ان سے ٹکراتا ہوا اس جگہ پر جھک کر بیٹھ گیا اور خون پر اپنے ہاتھ رکھ لیے۔
“اور سن اے شھر یاراں کی ملکہ ! اس میں ذرا وقت نہ لگا اور میں تم ہوگیا اور تم ہی رہ گیا۔”
اور اس کے آنسوں اس خون پر گرے جو امرحہ کا تھا۔ اہلکاروں نے اسے کوئی ضدی۔۔ عجیبب وغریب حرکتیں کرنے والا فین سمجھ کر گردن، بازو اور کالر سے پکڑ کر اٹھایا اور اسے دور لے جانے لگے۔
———————
جب اسے ایسے سڑک سے دور لے جایا جا رہا تھا تو سائی نے پیچھے سے چلا کر اس کا نام لیا۔
“کب سے ڈھونڈ رہا ہو تمھیں کہاں تھے تم؟”
سائی اس کی طرف بھاگا آیا اور اپنایونی ورسٹیراز دکھایا۔اہلکار نے اس کا بازو چھوڑ دیا تیز تیز یہ کہہ کر چلا گیا کے جلدی اپنی جائے رائش کی طرف چلے جائیں
اس دوران عالیان سہم کر سائی کو دیکھ رہا تھا پھر سائی سے الگ اگے تیز تیز چلنے لگا۔سائی کے لیے عالیان کی یہ حرکت غیر متوقع تھی ۔
عالیان سائی چلایا اور اس کے پیچھے لپکا۔
کہاں جا رہے ہو اس کی طرف تیز چال چلتے ہوئے سائی نے ہانپ کر کہا ان چند منٹوں کی بھاگ دوڑ میں وہ بری طرح تھک چکا تھا
یہ اب مجھے بتائے گا کہ امرحہ کے ساتھ کیا ہوا؟
عالیان بھاگنے لگا اس نے سوچا کہ اب بس دنیا میں کئ جاچھپے کے اسے معلوم ہو سکے اور نہ کوئی اسے بتا سکے کے امرحہ چلی گئی وہ کبھی بھی اس کی بند آنکھوں کو اپ ی کھلی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکے گا کبھی نہیں
عالیان تم اسپتال جا رہے ہو اس کے ردِعمل سے سائی چلایا
اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ عالیان کیا کر رہا ہے
یا پھر یہ اپنا دماغی توازن گھو گیا ہے ۔
عالیان نے رفتار تیز کر دی اپنے بگڑے دماغی حالت کی تصدیق کر دی۔سائی نے جیسے بھانپ لیا اس کا دل بھر آیا
اسٹیچر پر جاتے ہوئے اس نے تمارا نام لیا تھا سائی نے چلا کر کہا۔
خود اگے نکلتا ہوا سڑک کو پیچھے چھوڑتا ہوا عالیان رک گیا ایمبولینس فائر برگیڈ کی گاڑیاں آ جا رہی تھی اس نے پلٹ کر سائی کو دیکھا پھر شجر ستاروں سے بھرا آسمان دیکھا جیسے خدا تک جانے کا رستہ تلاش کر رہا ہو۔
وہ زندہ ہے نا سائی وہ دونوں فاصلے سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے
آؤ اسپتال چیلں عالیان سائی اس کے پاس آ چکا تھا اپنی ہاتھ سے اس کے گیلے گال صاف کر رہا تھا ۔
خدا کے لیے بتاؤ سائی؟
اسے کچھ نہیں ہو گا عالیان اس نے محبت سے عالیان کے ہاتھ تھام کر دبا کر کہا جو کہنا ضروری تھا پر امید رہنا بہت ضروری تھا
اسے کچھ نہیں ہوا یہ کہہ دو خدا کے لیے ۔
اس نے اپنے ہاتھ چھڑوا کر سائی کو شانو سے تھام کر جھنجھوڑا۔
“پلیز کہہ دو۔۔” کھڑے ہونے کی طاقت پھر سے ختم ہونے لگی اور وہ کھڑے رہنے سے معزور اور گر جانے پر مجبور ہوگیا۔ سائی اس کے پاس نیچے بیٹھ گیا اور اس کے گال کو شفقت سے چھوا۔
“آؤ عالیان ! ہم خدا سے دعا کریں۔”
تھوڑی دیر ان کے درمیان خاموشی رہی ، جیسے انہونی کی چاپ پر کان دھرنے جارہے ہوں۔
“آؤ۔۔ ہم امرحہ کے پاس چلیں۔” سائی نے کہا جس پر عالیان نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ دیکھنے کا یہ انداز امید کی کرن کھوجنے جیسا تھا۔
کیا روم کے مصوروں نے “عشق عیاں” کے ساۓ تلے بناۓ اپنے شاہکاروں پر سیاہ دوات انڈیل دیں، جبکہ اس کے وجدان نے سنگ دلی کو آنکھوں پر بٹھاۓ اور رحم دلی کو بالاۓ طاق رکھتے اپنے مرتب سوال نامہ میں سے پہلا سوال اس پر داغا اور وہ بلبلا اٹھا۔
“کیا الہامی اوراق حکم کی بجاآورئ کے لیے رازداری اور پوشیدگی سے پھڑپھڑاۓ؟”دوسرے نے پہلے وجدان کو مات دی۔
اور کیا دجلہ وفرات میں جوار بھاٹا اٹھا اور پربت کی چوٹیاں سوگ میں اس لیے جھک آئیں کہ آفاق نے تمھاری دعاؤں کو الٹ دیا، کیونکہ انہوں نے “ہجریار” کو مر قسم پایا۔ اور کیا سزا کے لیے تمھارا زندہ رہنا قائم ٹھرا، اور مبارک ساعتوں کو ہمیشہ کے لیے رخصت کر دیا گیا۔
سائی نے دیکھا کہ وہ سکڑتا جا رہا ہے جیسے مٹ جانے کو ہے۔
کیا “بحریاراں”پر رواں سفید بادبانی کشتیاں بس ڈوب جانے کو ہوئیں اور “مشک آہوں” مثل کافور۔۔ “کافور” ہوا۔
———————
ہسپتال میں کھڑے اس کی آنکھيں خشک ہونے میں نہیں آرہی تھیں۔ کارل، ویرا ، سائی اور باقی سب اس کے ارد گرد، آس پاس کھڑے تھے۔ ویرا اس کا ایک ہاتھ اپنے ہوتھ میں لے کر سہلا رہی تھی۔ اس کے اپنے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ زندگی میں پہلی بار کمزوری اور کم ہمتی کا شکار ہوئی تھی۔ ساری انسانی طاقت سب ایک جگہ بے بس ہوجاتیں ہیں جہاں “ہوجا “کاحکم لگ جاتا ہے۔
کارل کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ عالیان سے ایسا کیا کہے کہ وہ آرام سے کہیں بیٹھ جاۓ اور پانی کے دو گھونٹ ہی پی لے۔ دیوار کے ساتھ لگ کر وہ کب تک ایسے ہی کھڑا رہنا چاہتا ہے جیسے “آنے والوں” اور “جانے والوں” کا راستہ روک لے گا۔
رات کے دو بجے کا وقت ہے ان سب کو وہاں کھڑے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں۔ آپریشن تھیٹر سے امرحہ کو آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔ وزنی بوتل کی دو ضربیں اس کے سر کے پچھلے حصے اور گرسن سے ذرا نیچے لگی تھیں۔ گولی اس کا بایاں شانہ چھو کر گزری تھی۔ وہ گولی اس کے دل، اس کے سر، اس کی آنکھ پر لگتی اگر بوتل کی ضرب سے وہ اپنا توازن کھو کر لڑکھڑا نہ جاتی۔۔ پھر وہ وہی مر جاتی۔
کتنی ہی بار لیڈی مہر، سادھنا،شارلٹ، مورگن فون کر چکی تھیں، لیکن عالیان نے کسی سے بھی بات نہیں کی تھی۔ وہ بس خاموش کھڑا تھا۔ بچپن سے لے کر اب تک کی زندگی اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس کھڑا مارگریٹ کا انتظار کر رہا ہے۔ مارگریٹ کو سسکتے ہوۓ سن رہا ہے۔ کڈز سینٹر کے کسی کونے میں چھپا بیٹھا رو رہا ہے۔ ماما مہر کے سینے سے لگا خود کو رونے سے روک رہا ہے۔ وہ جتنا کچھ بھی دیکھ رہا تھا ان میں خود کو دکھوں میں گھرا ہی دیکھ رہا تھا۔
پھر ان مناظر میں امرحہ آگئی اور بار بار پلٹ کر آتی رہی۔۔ خود پر اختیار رکھتے اس نے امرحہ آنکھوں کے سامنے سے ہٹنے نہیں دیا، کیونکہ اسے یہ خوش فہمی لاحق ہوئی کہ ایسے وہ امرحہ کو زندہ رکھے ہوۓ ہے۔
وہ ایک خوش آئندہ عمل ہے۔ جبکہ اسی دوران جب جب اسے ماما مارگریٹ تابوت میں آنکھیں بندکیے نظر آئیں تو وہ سہم کر چونک چونک جاتا۔ اسے بد شگون جانتا اور فوراً اسے نظرانداز کر دیتا۔
کارلاور ویرا کتنے ہی طریقوں سے ڈاکٹر اور اسٹاف کی منت کرچکے تھے کہ انھیں دور سے امرحہ کو دیکھ لینے دیا جاۓ، لیکن انھیں اجازت نہیں مل رہی تھی۔ رات چار بجے کے قریب کارل دس منٹ کے لیے ایک سینئر ڈاکٹر کے آفس میں گیا اور صرف پانچ منٹ کی اجازت لے کر باہر آیا۔ عالیان کا ہاتھ پکڑ کر اسے آئی سی یو ڈیپارٹمنٹ کے اندر کیا اور ایک نرس آگے اسے امرحہ کے کمرے کے سامنے شیشے کے اس طرف لے آئی۔
وہ امرحہ کو دیکھنا بھی چاہتا تھا اور نہیں بھی، وہ یہ ہمت کر بھی رہا تھا اور نہیں بھی، اس نے سر جھکا رکھا تھا اور اسے اٹھانے کے لیے تیار بھی تھا اور نہیں بھی۔ کیونکہ کسی چلتے پھرتے انسان کو بے بسی سے زندگی اور موت کے بستر پر پڑے دیکھنا سب سے بدترین منظر ہوتا ہے۔ ایسے مناظر اپنی تاب میں بے مثال ہوتے ہیں۔
اس نے اہک ہاتھ پھیلا کر شیشے پر رکھا اور پھر دوسرا، دس انگلیوں کی جھریوں میں سے ایک جھری پر اپنی آنکھ رکھ دی اور دوسری آنکھ کو تین انگلیوں اوٹ میں بند ہی رکھا۔ نقشنین آخروٹی قد آدم آئینہ ہے اور ارغوانی پوشاک میں ملبوس، گھیر دار فرشی دامن کو گھٹنوں سے ذرا سا اوپر اٹھاتی امرحہ کو منعکس کررہا ہے۔ شفاف روشنی گندم کی بالیوں کی طرح اس کے ادھ گنسھے بالوں میں جھوم رہی ہے۔
ڈریگن پریڈ سے پہلے وہ یہ خواب دیکھا کرتا تھا۔
زخموں میں جکڑی اور مختلف مشینوں اور ٹیوبوں سے منسلک امرحہ کو اس نے دیکھا اور آنکھیں بند کر لی۔ انگلی کی جھری سمیٹ لی، خواب کی کھڑکی کھول دی۔
“اس کے جوتے کو بکل بند ہونے میں نہیں آرہا اور اتنی گھیردار پوشاک اسے الگ سے تنگ کر رہی ہے۔” اس نے آنکھ کو کھولا اور اسے قطاً نہیں مسلا کہ وہ ٹھیک سے کام کرے۔ ایسے منظر کو دیکھنے کے لیے شفاف بینائی کی ضرورت بھی کسے تھی بھلا۔
دونوں ہاتھوں سے اس نے گھٹنوں سے ارغوانی ریشم کو پکڑ کر اٹھا رکھا ہے اور وہ نیچے بیٹھ کر اس کے جوتے کو بکل بند کر رہا ہے اور پھر سر اٹھا کر مسکرا کر اسے دیکھتا ہے۔
“تم سے اتنا سا کام بھی نہیں ہوتا؟” وہ کہہ رہا ہے۔
“اگر ہوجاتا تو تم یہ شرف کیسے حاصل کر پاتے؟”آنکھيں ترچھی کر کے گردن کو ادا سے ذرا اور اٹھا کر اس نے کہا۔
آنکھيں بند کیے گردن سیدھی رکھے اس نے اب خاموش رہنا پسند کیا۔
اگر اسے اندر جانے کا موقع دیا جاۓ تو وہ آنکھوں پر پٹی باندھ لے اور صرف ہاتھ سے چھو کر اسے محسوس کرے۔
تم نے یہ پیغامات مجھ سے نہیں لیے تو میں نے یہ یہاں باندھ دیے۔
“رک جاؤ۔”
“روک لو۔”
انگلیوں کی جھریاں اس نے پھر سمیٹ لیں اور اپنے جھکے شانوں اور بند آنکھوں اور اپنے اونچے قد کے ساتھ وہ ایک “دعا” میں ڈھلنے لگا۔
حمزہ توف کے گاؤں میں سفر پر جانے والوں کی بخیریت واپسی کے لیے چراغ دیپ محل میں رکھ دیے گیے اور پھر گاؤں بھر کی چوکھٹیں چراغوں سے سج گئیں اور اب وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کی لوئیں دھیمی ہونے سے پہلے مسافر لوٹ آئیں گے۔ شیشے کی دیوار پر پھیلی ہتہیلیوں پر اس نے اپنا سر ٹکا دیا اور اس کا وجود” لو “میں بدلنے لگاـ اور دعا کے چراغوں میں جل جانے کو ہوا ، جانے والوں کی راہ میں ایک ایک کر کے چراغ رکھے جانے لگے اور دور کہکشاؤں کے ہجوم کو چیرتی ان کی لوئیں “عرش معلٰی”پر سجدہ ریز ہونے کو باوضو ہوئیں۔
دعا میرا کلام ہے۔
اس پر میرا اختیارہے۔
قبولیت اس کا “جمال” ہے۔
اسے اب اس دعا سے ضروری کام کوئی نہیں تھا۔ اس کا ارتکاز بیرونی دنیا کی کوئی مداخلت توڑ نہیں سکتی تھی۔
کارل نرس کے ساتھ آیا شاید نرس اسے شائستگی سے کہہ کر اور اس کا شانہ ہلاہلا کر تھک گئی تھی۔ کارل نے اسے شانوں سے تھاما اور باہر لے آیا۔ لیکن دراصل وہ وہیں “مقام دعا” پر ہی کھڑا رہ گیاـ وہ کسی کو یہ نہیں سمجھا سکتا تھا کہ اپنی من پسند جگہ پر موجود ہونے کے لیے وہاں ظاہراً موجود ہونا ضروری نہیں ہوتا۔
کارل نے اسے ایک جگہ پر بیٹھا دیا اور خود بھی بیٹھ گیا اور کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا۔۔ شاید وہ پوچھنا چاہتا تھا۔
“اتنی زیادہ محبت کرتے ہو امرحہ سے۔۔ اتنی کہ مرے جا رہے ہو اس کے لیے؟”
ذرا دور بیٹھے ویرا اور سائی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ویرا اپنی ہتھیلیاں مسلنے لگی، جو وہ نہیں کیا کرتی تھی۔لیکن اب وہ سب ہوگا جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ویرا اٹھ کر عالیان سے دور چلی گئی۔ اس کے لیے مشکل تھا اسے ایسے دیکھنا، کتنا کچھ ایک دم سے زندگی میں مشکل ہوگیا تھا۔ جیسے گن گن کر سانس لینا۔ کوئی کارل سمیت ان سب سے پوچھتا اب تک کتنی گنتی ہو پائی۔
———————
“سادھنا کمرے کی کھڑکی کھول دو” نشست گاہ میں بیٹھے انھوں نے کہا۔
“اتنی ٹھنڈ میں ؟”
“ہاں کھول دو۔۔ بلکہ سب کھڑکیاں کھول دو۔”
“آپ کو ٹھنڈ لگ جاۓ گی۔”
“ٹھنڈ لگ جاۓ کوئی غم نہ لگے۔”
انھوں نے بڑی دل گرفتی سے کہا۔
دونوں کئی گھنٹے سے خاموش نشست گاہ میں بیٹھی تھیں۔ سادھنا نے اپنی عبادت کی تھی۔۔ اور لیڈی مہر نے اپنی۔۔ اور دونوں ہی نے ایک ہی انسان کی لیے کتنی ہی دیر دعائیں کی تھیں۔ فون ان کے پاس ہی رکھے تھے اور جب کوئی فون بجتا تو دونوں ہی اسے اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتی تھیں۔
لیڈی مہر اپنی آنکھیں پوچھ رہی تھیں۔
———————
آنکھیں بار بار صاف کرنے پر بھی خودبخود نم کیوں ہورہی ہیں اور ان کے ہاتھ پیر کیوں کانپ رہے ہیں۔ یہ سمجھ نہیں آرہی۔ انھوں نے امرحہ کو فون کیا، لیکن اس کا فون بند جا رہا تھا۔ انھوں نے خود ہی سوچ لیا کہ میچ دیکھ رہی ہوگی۔ موبائل کی چارجنگ ختم ہوگئی ہوگی۔ چند گھنٹے انھوں نے مشکل سے گزارے، فون پھر بھی بند ہی لا۔ اٹھ کر نفل پڑھے، دعا مانگی،لیکندل پر گہری ہوتی افسردگی کم نہیں ہوئی۔ بس ان کا دل امرحہ میں ہی اٹکا ہوا تھا اور بس یہ ہی چاہت تھی کہ اس کی آواز سن لیں۔ انھوں نے سادھنا کو فون کیا۔
“امرحہ فون نہیں اٹھا رہی، تم ویرا یا این کا نمبر دو یا سائی کا۔”
سادھنا چپ ہو کر سوچنے لگی پھر کچھ دیر بعد بولی۔
“وہاں سگنلز کا مسلہ ہے شاید میں این اور ویرا کو خود بھی فون کر رہی ہوں۔ کسی کا نمبر نہیں مل رہا۔ یہ بچے باہر جا کر لاپرواہ ہوجاتے ہیں۔ کھوم پھر کو واپس ہوٹل آئیں گے تو خود ہی کر لیں گے۔” سادھنا نے جھوٹ بولا۔
“میچ تو کب کا ختم ہوچکا ہوگا۔”
ہاں ۔۔ پر سنا ہے میچ کے بعد وہں سڑکوں پر نڑا مورچ ہوتا ہے۔۔ میچ انگلینڈ جیت گیا ہے ۔۔ تو شاید” سادھنا کی زبان لڑکھڑا سی گئی۔
دادا نے فون بند کر دیا۔ ٹی وی پر چلنے والی برازیلا اسٹیڈیم میں ہونے والے تصادم کی چھوٹی سی خبر انھوں نے دیکھی نہیں تھی ۔ اس کے علاوہ گھر میں کسی کو معلوم نہیں تھا ۔۔امرحہ اس وقت برازیل میں ہے دونوں کے معمولات زیادہ تر دونوں میں ہی رہتے تھے دادا کو امرحہ کے علاوہ کسی اور سے بات نہیں کرنی ہوتی تھی ۔
©©©©©©
اس کے دونوں بازوؤں اسے ہو گئے تھے جیسے انگاروں پر جل رہے ہوں وہ تھک چکی تھی مگر جال جیسے کاٹتے رہنا تھا جیتنی تیزی سے وہ کاٹتی اتنی تیزی سے اور بن جاتے
جیسے مکڑوں کو اس کی سزا کے لیے یہ کام دیا گیا ہو
یک دم جالوں نے اس کے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اس کی ساری قوت ختم ہو گئی ۔اس کے زہین میں اشکال بننے لگی۔
اگر میں جوان ہوتا تمارے ساتھ کرکٹ کھیلنا میں بوڑھا انسان ہوں جلدی تھک جاتا ہوں ۔
آواز رستہ بنا کر آئی اور اسے چھو کر چلی گئی
مجھے ویرا کہتے ہیں سپر پاور روس کو تو تم جانتی ہو گی
میں اسی ملک کی سپر گرل ہوں ۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں تم مجھے دی ویرا کہو۔
ویرا کی اشکال بن کر آئی وہ سائیکل سے گر گئی ۔تمہیں ہر حال یہ ریس جیتنی ہے میری ایک ٹانگ ٹوٹ جائے یا دونوں
پھر سائی کی اشکال بننے لگی
کارل کو دیکھا جو ٹھنڈے برف والے پانی میں جان لیوا احساس ہوا۔
اس کے بعد اس کے کانوں میں شور بڑھ گیا جیسے ساری دنیا کے حشرات کرلا رہے ہیں
اسی دوران ایک آواز عرش کو چھوتی ہوئی خدا کی پناہ میں اسے سمٹنے کو ہوئی
وہ اندھا دھند بھاگ رہی ٹکرا رہی گر گئی خواب در خیال خواب ہو گیا ۔
آواز نے بلندیوں پر اور بلندیاں جمائیں اور وہ عرش میں جا بسنے کو ہوئی۔اے خدا بلند سے بلند کرتی چلی گئی
یہ کون ہے خواب در خیال کی پہلی پہیلی نہ بوجھ سکی۔
آخر کار وقت کے زمر نے آنکھیں کھول دی
امرحہ شور دب گیا بڑھ گیا مگر پہیلی خواب در خیال کی اس نے بوجھی لی۔
عالیان وہ شدت سے کراہنے لگی دونوں ہاتھ چلا کر جالوں کو چاک کر ڈالا۔
عرش معلہ پر کسی دعا نے جا کر سجدہ کیا
بہت دیر بعد اس نے آنکھیں کھولی تو وہاں کوئی نہیں تھا
ایک نرس اور ڈاکٹر اسے چک کر رہے تھے اس کا بی پی چک کرتے نرس نے مسکرا کر دیکھا
وقت تمہیں زندہ رکھے مجھے کہا گیا کہ میں تمہیں یہ کہوں۔وہ ماحول کو پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی ۔
لیکن صرف اس جملے کو ہی پہچان سکی۔اس اسے یہ یاد رہ گیا کے کس نے اسے یہ کہنے کا کہا ہو گا۔وہ پھر سے گہری نیند میں چلی گئیں ۔جب دوبارہ آنکھیں کھولی تو شیشے کے باہر کوئی کھڑا اسے نظر آیا ۔
یہ کون ہے ایسے کھڑا ہے جیسے کوئی اس کا پیارا مر چکا ہے
اسے پہچاننے میں تھوڑا وقت لگا۔کیونکہ وہ عالیان تو تھا
مگر عالیان جیسا نہیں تھا تو یہ عالیان ہے ان کا کون عزیز مر چکا ہے ؟
کیا وہ میں ہوں تو کیا میں مر چکی ہوں یا ابھی زندہ ہوئی ہوں۔اس نے بہت کوشش کی کے جاگی رہے مگر دماغ پھر سے سو گیا ۔
©©©©©©©©©©©
اپنے دونون ہاتھ اس نے شیشے پر رکھے ہوئے تھے جیسے چھو رہا تھا ہسپتال کا سٹاف اس سے اجز آ چکا تھا
وہ لڑکا نہ تھک رہا تھا نہ ہٹ رہا تھا
وہ اس او کے روم کے باہر کھڑا رہنے پر مجبور ہو چکے تھے
اس کے دوست کا کہنا تھا کہ آخر وہ ہوش میں کیوں نہیں آرہی اٹھ کر بیٹھ کیوں نہیں رہی۔اتنا بڑا ہسپتال ایک نھنی سی لڑکی نہیں ٹھیک کر پا رہا ۔
نھنی لڑکی سب سے انجان لیٹی کے باہر کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے
جس رات وہ ماما مارگریٹ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا تھا وہ دراصل اسی خوش فہمی میں تھا کے ماما چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گی -پر کوئی نہیں تھا۔ وہ اس طرف سامنے امرحہ کے پاس تھے۔ جو شدت تکلیف میں ہوگی یا اس سے مبرا ہوچکی ہو گی۔
الہام اس کے کانوں میں پھونکیں مارنے لگے اور پیش گوئی کی زبانیں نکل آئی۔
سائرن بجاتی ایمبولینس آئی۔ سیکیورٹی فورس نے جیسے اب دبنگ دھاوا بول دیا اور سڑک سے ہجوم ایسے چھٹنے لگا جیسے وہ سب اسی ایک سانحے کے انتظار میں تھے، جو عالیان پر گزر چکا تھا۔ ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے تھے۔ ایمبولینس اور رضاکار تیزی سے حرکت میں آچکے تھے۔ فورس سڑک پر اور اطراف میں جال کی طرح پھیل گئ۔ دو اہلکار دور سے عالیان پر بھاگتے ہوۓ چلاۓ، پھر ایک چلاتے ہوۓ اس کے قریب آیا اور جھک کر اسے بازو سے پکڑ کر اٹھا کر گھسیٹنے لگا۔ ساتھ وہ تیز آواز میں کچھ کہہ رہا تھا اور پھر اتنی افراتفری میں اس نے ذرا کی ذرا جھک کر اسے دیکھا چوک گیا۔
“تم ٹھیک ہو؟”اس نے پوچھا۔
ایمبولینس اب جا رہی تھی۔ اور وہ اس کے قریب سے گزر گئ۔ نتھنوں سے بو اس کے اندر اترنے لگی۔
امیر شھر نے اپنی ہتھیلیوں کو خولی پایا۔ جیسے ابتداۓ وقت سے اٹھا ہجر وصل کی دھرتی پر قیام گاہ بناتا، ابدیت کی مشعلوں سے روشن” شھر” اجڑ گیاـ
“تو امرحہ چلی گئ۔ یا جا رہی ہے۔ یا چلی جاۓ گی۔”
دل نے دھڑکنیں مستعار لیں، سانسو نے زندگی کو التجائیہ صدا دی اور اس کے مجسمے میں سیکیورٹی اہلکار نے اسے ایک محفوظ حصے کی طرف اچھال سا دیا ارو تیز آواز میں ایک سمت چلے جانے کا اشارہ کیا لیکن وہ سیکیورٹی اہلکار کے بتاۓ اشارے کی مخالف سمت بھاگا اور راستے میں آنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو دھکیلتا اور پھیلانگتا اس مقام تک پہنچ گیا ، جہاں سڑک سرخ تھی اور کانچ کی بوتلیں ٹوٹی ہوئی بکھری پڑی تھیں اور خون کے چھینٹے کانچ پر جمع تھے۔
اس بار تین، چار اہلکار اس کی طرف لپکے کہ اسے اٹھا کر کہیں پھینک دیں کہ وہ تیزی سے ان سے ٹکراتا ہوا اس جگہ پر جھک کر بیٹھ گیا اور خون پر اپنے ہاتھ رکھ لیے۔
“اور سن اے شھر یاراں کی ملکہ ! اس میں ذرا وقت نہ لگا اور میں تم ہوگیا اور تم ہی رہ گیا۔”
اور اس کے آنسوں اس خون پر گرے جو امرحہ کا تھا۔ اہلکاروں نے اسے کوئی ضدی۔۔ عجیبب وغریب حرکتیں کرنے والا فین سمجھ کر گردن، بازو اور کالر سے پکڑ کر اٹھایا اور اسے دور لے جانے لگے۔
———————
جب اسے ایسے سڑک سے دور لے جایا جا رہا تھا تو سائی نے پیچھے سے چلا کر اس کا نام لیا۔
“کب سے ڈھونڈ رہا ہو تمھیں کہاں تھے تم؟”
سائی اس کی طرف بھاگا آیا اور اپنایونی ورسٹیراز دکھایا۔اہلکار نے اس کا بازو چھوڑ دیا تیز تیز یہ کہہ کر چلا گیا کے جلدی اپنی جائے رائش کی طرف چلے جائیں
اس دوران عالیان سہم کر سائی کو دیکھ رہا تھا پھر سائی سے الگ اگے تیز تیز چلنے لگا۔سائی کے لیے عالیان کی یہ حرکت غیر متوقع تھی ۔
عالیان سائی چلایا اور اس کے پیچھے لپکا۔
کہاں جا رہے ہو اس کی طرف تیز چال چلتے ہوئے سائی نے ہانپ کر کہا ان چند منٹوں کی بھاگ دوڑ میں وہ بری طرح تھک چکا تھا
یہ اب مجھے بتائے گا کہ امرحہ کے ساتھ کیا ہوا؟
عالیان بھاگنے لگا اس نے سوچا کہ اب بس دنیا میں کئ جاچھپے کے اسے معلوم ہو سکے اور نہ کوئی اسے بتا سکے کے امرحہ چلی گئی وہ کبھی بھی اس کی بند آنکھوں کو اپ ی کھلی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکے گا کبھی نہیں
عالیان تم اسپتال جا رہے ہو اس کے ردِعمل سے سائی چلایا
اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ عالیان کیا کر رہا ہے
یا پھر یہ اپنا دماغی توازن گھو گیا ہے ۔
عالیان نے رفتار تیز کر دی اپنے بگڑے دماغی حالت کی تصدیق کر دی۔سائی نے جیسے بھانپ لیا اس کا دل بھر آیا
اسٹیچر پر جاتے ہوئے اس نے تمارا نام لیا تھا سائی نے چلا کر کہا۔
خود اگے نکلتا ہوا سڑک کو پیچھے چھوڑتا ہوا عالیان رک گیا ایمبولینس فائر برگیڈ کی گاڑیاں آ جا رہی تھی اس نے پلٹ کر سائی کو دیکھا پھر شجر ستاروں سے بھرا آسمان دیکھا جیسے خدا تک جانے کا رستہ تلاش کر رہا ہو۔
وہ زندہ ہے نا سائی وہ دونوں فاصلے سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے
آؤ اسپتال چیلں عالیان سائی اس کے پاس آ چکا تھا اپنی ہاتھ سے اس کے گیلے گال صاف کر رہا تھا ۔
خدا کے لیے بتاؤ سائی؟
اسے کچھ نہیں ہو گا عالیان اس نے محبت سے عالیان کے ہاتھ تھام کر دبا کر کہا جو کہنا ضروری تھا پر امید رہنا بہت ضروری تھا
اسے کچھ نہیں ہوا یہ کہہ دو خدا کے لیے ۔
اس نے اپنے ہاتھ چھڑوا کر سائی کو شانو سے تھام کر جھنجھوڑا۔
“پلیز کہہ دو۔۔” کھڑے ہونے کی طاقت پھر سے ختم ہونے لگی اور وہ کھڑے رہنے سے معزور اور گر جانے پر مجبور ہوگیا۔ سائی اس کے پاس نیچے بیٹھ گیا اور اس کے گال کو شفقت سے چھوا۔
“آؤ عالیان ! ہم خدا سے دعا کریں۔”
تھوڑی دیر ان کے درمیان خاموشی رہی ، جیسے انہونی کی چاپ پر کان دھرنے جارہے ہوں۔
“آؤ۔۔ ہم امرحہ کے پاس چلیں۔” سائی نے کہا جس پر عالیان نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ دیکھنے کا یہ انداز امید کی کرن کھوجنے جیسا تھا۔
کیا روم کے مصوروں نے “عشق عیاں” کے ساۓ تلے بناۓ اپنے شاہکاروں پر سیاہ دوات انڈیل دیں، جبکہ اس کے وجدان نے سنگ دلی کو آنکھوں پر بٹھاۓ اور رحم دلی کو بالاۓ طاق رکھتے اپنے مرتب سوال نامہ میں سے پہلا سوال اس پر داغا اور وہ بلبلا اٹھا۔
“کیا الہامی اوراق حکم کی بجاآورئ کے لیے رازداری اور پوشیدگی سے پھڑپھڑاۓ؟”دوسرے نے پہلے وجدان کو مات دی۔
اور کیا دجلہ وفرات میں جوار بھاٹا اٹھا اور پربت کی چوٹیاں سوگ میں اس لیے جھک آئیں کہ آفاق نے تمھاری دعاؤں کو الٹ دیا، کیونکہ انہوں نے “ہجریار” کو مر قسم پایا۔ اور کیا سزا کے لیے تمھارا زندہ رہنا قائم ٹھرا، اور مبارک ساعتوں کو ہمیشہ کے لیے رخصت کر دیا گیا۔
سائی نے دیکھا کہ وہ سکڑتا جا رہا ہے جیسے مٹ جانے کو ہے۔
کیا “بحریاراں”پر رواں سفید بادبانی کشتیاں بس ڈوب جانے کو ہوئیں اور “مشک آہوں” مثل کافور۔۔ “کافور” ہوا۔
———————
ہسپتال میں کھڑے اس کی آنکھيں خشک ہونے میں نہیں آرہی تھیں۔ کارل، ویرا ، سائی اور باقی سب اس کے ارد گرد، آس پاس کھڑے تھے۔ ویرا اس کا ایک ہاتھ اپنے ہوتھ میں لے کر سہلا رہی تھی۔ اس کے اپنے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ زندگی میں پہلی بار کمزوری اور کم ہمتی کا شکار ہوئی تھی۔ ساری انسانی طاقت سب ایک جگہ بے بس ہوجاتیں ہیں جہاں “ہوجا “کاحکم لگ جاتا ہے۔
کارل کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ عالیان سے ایسا کیا کہے کہ وہ آرام سے کہیں بیٹھ جاۓ اور پانی کے دو گھونٹ ہی پی لے۔ دیوار کے ساتھ لگ کر وہ کب تک ایسے ہی کھڑا رہنا چاہتا ہے جیسے “آنے والوں” اور “جانے والوں” کا راستہ روک لے گا۔
رات کے دو بجے کا وقت ہے ان سب کو وہاں کھڑے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں۔ آپریشن تھیٹر سے امرحہ کو آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔ وزنی بوتل کی دو ضربیں اس کے سر کے پچھلے حصے اور گرسن سے ذرا نیچے لگی تھیں۔ گولی اس کا بایاں شانہ چھو کر گزری تھی۔ وہ گولی اس کے دل، اس کے سر، اس کی آنکھ پر لگتی اگر بوتل کی ضرب سے وہ اپنا توازن کھو کر لڑکھڑا نہ جاتی۔۔ پھر وہ وہی مر جاتی۔
کتنی ہی بار لیڈی مہر، سادھنا،شارلٹ، مورگن فون کر چکی تھیں، لیکن عالیان نے کسی سے بھی بات نہیں کی تھی۔ وہ بس خاموش کھڑا تھا۔ بچپن سے لے کر اب تک کی زندگی اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس کھڑا مارگریٹ کا انتظار کر رہا ہے۔ مارگریٹ کو سسکتے ہوۓ سن رہا ہے۔ کڈز سینٹر کے کسی کونے میں چھپا بیٹھا رو رہا ہے۔ ماما مہر کے سینے سے لگا خود کو رونے سے روک رہا ہے۔ وہ جتنا کچھ بھی دیکھ رہا تھا ان میں خود کو دکھوں میں گھرا ہی دیکھ رہا تھا۔
پھر ان مناظر میں امرحہ آگئی اور بار بار پلٹ کر آتی رہی۔۔ خود پر اختیار رکھتے اس نے امرحہ آنکھوں کے سامنے سے ہٹنے نہیں دیا، کیونکہ اسے یہ خوش فہمی لاحق ہوئی کہ ایسے وہ امرحہ کو زندہ رکھے ہوۓ ہے۔
وہ ایک خوش آئندہ عمل ہے۔ جبکہ اسی دوران جب جب اسے ماما مارگریٹ تابوت میں آنکھیں بندکیے نظر آئیں تو وہ سہم کر چونک چونک جاتا۔ اسے بد شگون جانتا اور فوراً اسے نظرانداز کر دیتا۔
کارلاور ویرا کتنے ہی طریقوں سے ڈاکٹر اور اسٹاف کی منت کرچکے تھے کہ انھیں دور سے امرحہ کو دیکھ لینے دیا جاۓ، لیکن انھیں اجازت نہیں مل رہی تھی۔ رات چار بجے کے قریب کارل دس منٹ کے لیے ایک سینئر ڈاکٹر کے آفس میں گیا اور صرف پانچ منٹ کی اجازت لے کر باہر آیا۔ عالیان کا ہاتھ پکڑ کر اسے آئی سی یو ڈیپارٹمنٹ کے اندر کیا اور ایک نرس آگے اسے امرحہ کے کمرے کے سامنے شیشے کے اس طرف لے آئی۔
وہ امرحہ کو دیکھنا بھی چاہتا تھا اور نہیں بھی، وہ یہ ہمت کر بھی رہا تھا اور نہیں بھی، اس نے سر جھکا رکھا تھا اور اسے اٹھانے کے لیے تیار بھی تھا اور نہیں بھی۔ کیونکہ کسی چلتے پھرتے انسان کو بے بسی سے زندگی اور موت کے بستر پر پڑے دیکھنا سب سے بدترین منظر ہوتا ہے۔ ایسے مناظر اپنی تاب میں بے مثال ہوتے ہیں۔
اس نے اہک ہاتھ پھیلا کر شیشے پر رکھا اور پھر دوسرا، دس انگلیوں کی جھریوں میں سے ایک جھری پر اپنی آنکھ رکھ دی اور دوسری آنکھ کو تین انگلیوں اوٹ میں بند ہی رکھا۔ نقشنین آخروٹی قد آدم آئینہ ہے اور ارغوانی پوشاک میں ملبوس، گھیر دار فرشی دامن کو گھٹنوں سے ذرا سا اوپر اٹھاتی امرحہ کو منعکس کررہا ہے۔ شفاف روشنی گندم کی بالیوں کی طرح اس کے ادھ گنسھے بالوں میں جھوم رہی ہے۔
ڈریگن پریڈ سے پہلے وہ یہ خواب دیکھا کرتا تھا۔
زخموں میں جکڑی اور مختلف مشینوں اور ٹیوبوں سے منسلک امرحہ کو اس نے دیکھا اور آنکھیں بند کر لی۔ انگلی کی جھری سمیٹ لی، خواب کی کھڑکی کھول دی۔
“اس کے جوتے کو بکل بند ہونے میں نہیں آرہا اور اتنی گھیردار پوشاک اسے الگ سے تنگ کر رہی ہے۔” اس نے آنکھ کو کھولا اور اسے قطاً نہیں مسلا کہ وہ ٹھیک سے کام کرے۔ ایسے منظر کو دیکھنے کے لیے شفاف بینائی کی ضرورت بھی کسے تھی بھلا۔
دونوں ہاتھوں سے اس نے گھٹنوں سے ارغوانی ریشم کو پکڑ کر اٹھا رکھا ہے اور وہ نیچے بیٹھ کر اس کے جوتے کو بکل بند کر رہا ہے اور پھر سر اٹھا کر مسکرا کر اسے دیکھتا ہے۔
“تم سے اتنا سا کام بھی نہیں ہوتا؟” وہ کہہ رہا ہے۔
“اگر ہوجاتا تو تم یہ شرف کیسے حاصل کر پاتے؟”آنکھيں ترچھی کر کے گردن کو ادا سے ذرا اور اٹھا کر اس نے کہا۔
آنکھيں بند کیے گردن سیدھی رکھے اس نے اب خاموش رہنا پسند کیا۔
اگر اسے اندر جانے کا موقع دیا جاۓ تو وہ آنکھوں پر پٹی باندھ لے اور صرف ہاتھ سے چھو کر اسے محسوس کرے۔
تم نے یہ پیغامات مجھ سے نہیں لیے تو میں نے یہ یہاں باندھ دیے۔
“رک جاؤ۔”
“روک لو۔”
انگلیوں کی جھریاں اس نے پھر سمیٹ لیں اور اپنے جھکے شانوں اور بند آنکھوں اور اپنے اونچے قد کے ساتھ وہ ایک “دعا” میں ڈھلنے لگا۔
حمزہ توف کے گاؤں میں سفر پر جانے والوں کی بخیریت واپسی کے لیے چراغ دیپ محل میں رکھ دیے گیے اور پھر گاؤں بھر کی چوکھٹیں چراغوں سے سج گئیں اور اب وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کی لوئیں دھیمی ہونے سے پہلے مسافر لوٹ آئیں گے۔ شیشے کی دیوار پر پھیلی ہتہیلیوں پر اس نے اپنا سر ٹکا دیا اور اس کا وجود” لو “میں بدلنے لگاـ اور دعا کے چراغوں میں جل جانے کو ہوا ، جانے والوں کی راہ میں ایک ایک کر کے چراغ رکھے جانے لگے اور دور کہکشاؤں کے ہجوم کو چیرتی ان کی لوئیں “عرش معلٰی”پر سجدہ ریز ہونے کو باوضو ہوئیں۔
دعا میرا کلام ہے۔
اس پر میرا اختیارہے۔
قبولیت اس کا “جمال” ہے۔
اسے اب اس دعا سے ضروری کام کوئی نہیں تھا۔ اس کا ارتکاز بیرونی دنیا کی کوئی مداخلت توڑ نہیں سکتی تھی۔
کارل نرس کے ساتھ آیا شاید نرس اسے شائستگی سے کہہ کر اور اس کا شانہ ہلاہلا کر تھک گئی تھی۔ کارل نے اسے شانوں سے تھاما اور باہر لے آیا۔ لیکن دراصل وہ وہیں “مقام دعا” پر ہی کھڑا رہ گیاـ وہ کسی کو یہ نہیں سمجھا سکتا تھا کہ اپنی من پسند جگہ پر موجود ہونے کے لیے وہاں ظاہراً موجود ہونا ضروری نہیں ہوتا۔
کارل نے اسے ایک جگہ پر بیٹھا دیا اور خود بھی بیٹھ گیا اور کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا۔۔ شاید وہ پوچھنا چاہتا تھا۔
“اتنی زیادہ محبت کرتے ہو امرحہ سے۔۔ اتنی کہ مرے جا رہے ہو اس کے لیے؟”
ذرا دور بیٹھے ویرا اور سائی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ویرا اپنی ہتھیلیاں مسلنے لگی، جو وہ نہیں کیا کرتی تھی۔لیکن اب وہ سب ہوگا جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ویرا اٹھ کر عالیان سے دور چلی گئی۔ اس کے لیے مشکل تھا اسے ایسے دیکھنا، کتنا کچھ ایک دم سے زندگی میں مشکل ہوگیا تھا۔ جیسے گن گن کر سانس لینا۔ کوئی کارل سمیت ان سب سے پوچھتا اب تک کتنی گنتی ہو پائی۔
———————
“سادھنا کمرے کی کھڑکی کھول دو” نشست گاہ میں بیٹھے انھوں نے کہا۔
“اتنی ٹھنڈ میں ؟”
“ہاں کھول دو۔۔ بلکہ سب کھڑکیاں کھول دو۔”
“آپ کو ٹھنڈ لگ جاۓ گی۔”
“ٹھنڈ لگ جاۓ کوئی غم نہ لگے۔”
انھوں نے بڑی دل گرفتی سے کہا۔
دونوں کئی گھنٹے سے خاموش نشست گاہ میں بیٹھی تھیں۔ سادھنا نے اپنی عبادت کی تھی۔۔ اور لیڈی مہر نے اپنی۔۔ اور دونوں ہی نے ایک ہی انسان کی لیے کتنی ہی دیر دعائیں کی تھیں۔ فون ان کے پاس ہی رکھے تھے اور جب کوئی فون بجتا تو دونوں ہی اسے اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتی تھیں۔
لیڈی مہر اپنی آنکھیں پوچھ رہی تھیں۔
———————
آنکھیں بار بار صاف کرنے پر بھی خودبخود نم کیوں ہورہی ہیں اور ان کے ہاتھ پیر کیوں کانپ رہے ہیں۔ یہ سمجھ نہیں آرہی۔ انھوں نے

Read More:   Woh Larki by Umair Rajpoot – Episode 1

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply