Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 55

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 55

وہ چلی گئیں ۔اتنا بڑا ہو کر بھی وہ اس لیے کھڑا ہے کہ وہ کہیں جا نہیں سکے گی مسلہ پہلے بھی وہی تھا مسلہ اب بھی وہی ہے جب ڈاکٹرز اسے اچھی طرح چک آپ کر چکے تو وہ بس دو منٹ اندر جا سکا۔اس کے قریب جا کر اس کا دائیں ہاتھ اپنی ہتھلی پر رکھا
خدا مجھ پر بہت مہربان ہے امرحہ اس میں کوئی شک نہیں
دو منٹ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے کھڑا رہا ۔
وہ آنکھیں کھول نہیں پائی مگر اس کی چاپ کی منتظر اس کی سماعت بازی لے گئ۔
خدا مجھ پر مہربان ہے امرحہ
اس کی ہتھیلی کی گرمی محسوس کر پا رہی تھی
یارم یارم کلام فارسی رباعبوں کے ہجوم سے اٹھا
یہ خواب ہے تو اس کے نہ ٹوٹنے کی دعا ضرور کرنی چاہیے
اگر حقیقت ہے تو اس کے خواب نہ ہونے کی دعا بھی لازم ہے
کچھ اور وقت گزرا اسے محسوس ہوا کسی نے نرمی سے اس کے ہاتھ کو چھوا اور پیشانی پر بوسہ دیا۔
میں زندگی میں کبھی نہیں روئی اور تم نے رلا، دیا
سب خراب کاموں کی زمہ دار تم ہو امرحہ
جب سائی آیا وہ سوئی جاگی سی تھی وہ اسے دیکھ کر چلا گیا پھر کارل آیا۔
خدا تم سے پوچھے امرحہ خود بیڈ پر لیٹی ہو اور ہمیں باہر کھڑا کیا ہوا ہے ۔باہر بیٹھنے کی جگہ ہے لیٹنے کی نہیں میرے اگے پیچھے کتنے لوگ کھانے پینے کی چیزیں لیے گھوم رہے ہیں کسی پر ہاتھ صاف نہیں کیا شرافت سے اپنا لے کر کھاتا رہا ۔تم اس حالت چند اور گھنٹے رہی تو میں فرشتہ صفت انسان بن جاؤں گا مجھے فرشتہ بننے سے بچا لو امرحہ
کھولتی بند ہوتی آنکھوں سے امرحہ پہلی بار مسکرائی
تم فرشتہ بن بھی گے تو فرشتوں میں شیطان کہلاؤ گے امرحہ نے سوچا۔
بہت زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں رہی اس نے پاپا کو فون کیا ۔۔پاپا آپ ٹھیک کہتے ہو اس نے آواز میں ٹہھراؤ پیدا کرنے کی کوشش کی ۔کیا وہ اس کی آواز سے چونک گئے امرحہ تو ٹھیک ہے نا؟
وہ ٹھیک ہو رہی ہے
تو تم کس بارے میں مجھے ٹھیک کہہ رہی ہو ویرا؟
جو زیادہ عقل مند، ہوتے ہیں وہ ایک ایسی بیوقوفی کر جاتے ہیں جو ان کی زہانت پر قہقہہ لگاتی ہے ۔
تو تم نے یہ بیوقوفی کی؟ انہیں بات سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔وہ کس بے وقوفی کی طرف اشارہ کر رہی ہے
ہاں اس کی آواز بھیگ گی وہ اپنے باپ کے سامنے رو پڑی۔
تمہیں خود کو مضبوط کرنا چاہیے ۔جب وہ کافی دیر رو چکی تو انہوں نے کہا۔
مجھے تکلیف اس بات سے ہوئی کے میں انجان رہی اور مجھے انجان رکھا گیا ۔
کیا تم یہ چاہتی ہو تمارے بارے میں لوگ سوچیں کہ تم برف سی ٹھنڈی بے معنی ہو ۔تم میں جزبات کی وہ گرمی نہیں جو ہم انسان ایک دوسرے سے کرتے ہیں ۔
ویرا خاموشی سے سنتی رہی۔
تم نے ایک بار مزاق میں مجھے کہا تھا کے تم تجربات میں مجھ سے اگے نکل گئی ہو۔میں نے یہی کہا تھا کہ کتنا ہی تجربے کار ہو انسان کے اندر کے بھید نہیں جان سکتا ۔
وہ عالیان سے ایک بار ملے تھے اور انہیں یہ جاننے میں دیر نہیں لگی کے ویرا امرحہ عالیان کی صرف دوست نہیں ہے
ٹھیک کہہ رہے ہیں اور عالیان کا بھید امرحہ ہے وہ آواز سے رونے لگی اس لئے نہیں کے بھید کھلا اس لیے کے بہت دیر سے کھولا۔
©©©©©©©©©©
وہم یقین میں لیپٹے ان پر کھل رہے تھے ۔اور دادا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا جب ساندھنا کو خبر ہوئی کے اب امرحہ خطرے سے باہر ہے تو بتایا کہ چھوٹا سا ہنگامہ ہوا امرحہ تھوڑی زخمی ہوئی ہے ۔بس خوف سے بے ہوش ہے دادا کو سن کر کھڑا رہنا مشکل ہوا دیوار کا سہارا لینا پڑا
امرحہ ٹھیک ہے دوائیوں کے زیرِ اثر سو رہی ہے
تم جھوٹ بول رہی ہو تم اب بھی جھوٹ بول رہی ہو
سادھنا چپ کر گئی وہ جھوٹ ان کے لئے ہی بول رہی تھی ۔
دور تھے تو یہ صدمہ سہنا مشکل ہو گا
دوسری طرف شاہ ویز مانچسٹر واپس پہنچ چکا تھا
ویرا کی روسی انگلش تلفظ دادا کو سمجھ نہیں آرہی تھی اور وہ تیز تیز اردو بولے جا رہے تھے جو ویرا اور سائی کو سمجھ نہیں آ رہے تھے جب بھی ان لوگوں کی دادا سے بات ہوتی درمیان میں امرحہ بات کلیئر کرتی۔۔وہ اشاروں سے انہیں پرسکون رہنے کا بول رہے تھے مگر سب بے کار جا، رہا تھا۔وہ بار بار اپنی گیلی انکھین صاف کر کے کہہ رہے تھے انہیں امرحہ سے ملوایا جائے
سائی ٹیبلٹ عالیان کے پاس لایا
تم امرحہ کے دادا سے بات کر لو تمہیں اردو آتی ہے ۔
انہیں ہماری کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی ۔وہ آنکھیں مسل کر ٹیبلٹ لے کر پر سکون گوشے میں آ گیا ۔گلے کو صاف کر کے سلام کیا
امرحہ ٹھیک ہے دوائیوں کے اثر سے سو رہی ہے جلدی جاگ جائے گی ہسپتال کے رولز سخت ہیں ہم ابھی اس کے پاس نہیں جا سکتے۔سائی یہی کہہ گیا اور وہ سب اس نے کہہ دیا۔
دادا خاموش ہو گئے اور معلوم کرنے لگے کے کتنی زخمی ہے
جو شخص امرحہ سو رہی کا جھوٹ بول رہا تھا وہ صدیوں کا جاگا لگ رہا تھا
ایک ہی دکھ کو جھیلنے دو لوگ آمنے سامنے آ گئے
دادا کی تصدیق عالیان کو دیکھ لینے سے ہو گئی ۔اب پہلے جیسے نہیں تھے جو وسوسوں کی وجہ سے ہو گئے تھے
وہ زخمی کیسے ہوئی دادا نے پوچھا
مجھے ٹھیک سے نہیں پتہ
دنیا کے ایک کونے میں ایک شخص اور دوسرے کونے میں دوسرا پر دادا جان گئے کے ہسپتال والا شخص ان سے کئ اگے بازی لے گیا امرحہ کی تکلیف سے وہ اپنی یاداشت کھو بیٹھا ۔وہ سمجھ گئے وہ ایک ایسے شخص سے ہم کلام ہیں جو احترام اور رحم دلی ہے خود تکلیف میں ہے ان کے زخموں پر مریم لگا رہا ہے
تم عالیان ہو وہ جان تو چکے تھے بس احترام دینے کے لئے پوچھا اس نے سر ہلایا
امرحہ ٹھیک عالیان اس با انہوں نے یہ پوچھا
جی ٹھیک ہے اور ٹھیک ہی رہے گی
زندگی میں پہلی بار اس جزبے کو پاس سے محسوس کیا کیسا لگتا ہے ضروری نہیں جو ہمیں بہت پیارا ہو وہ دوسرے کو بھی اتنا ہی ہو
یونی میں آٹھ معمولی ذخمی ہوئے تھے ان میں ایک امرحہ تھی جیسے گولی لگی تھی باقی معمولی زخمی تھے ۔امرحہ کے علاوہ پانچ اور ابھی تک ایڈمنڈ تھے باقی واپس مانچسٹر جا چکے تھے
حکومتی نمائندے بار بات ہسپتال کا چکر لگا، رہے تھے اس دوران کارل اور ویرا نے ایک کانفرنس میں حصہ لیا کانفرنس میں کارل نے صحافیوں سے ایسے اپ ڈیٹ کیا کے ایک صحافی نے دوسرے کے کان میں پوچھا
یہ کسی بڑی سیاسی پارٹی کا ڈیزسن تو نہیں کسی کو بولنے نہیں دے رہا
کارل ہی حاضر دماغ تھا اور اس سب معمولات میں عین شاہد گواہ تھا جو ہر طرح سے بریک بینی سے جائزہ لے رہا تھا اس بے چارے نے اپنے جسم پر لاتعداد بوتلیں کھائی کتنے لوگوں کو بچایا اور ایک فائر کرنے والے کے سر کھونسا بھی ماراآنسو گیس والوں کو لاتیں ماری کتنوں کو گھسٹ کر باہر نکالا ۔اس کی کمر پر ذخم آئے کہنیوں چھل گئ
سر سے خون نکلا مگر، اس نے کسی زخم کی پروا نہیں کی
خطاب دیتے اس کے پاسپورٹ پر
Banned tilla fter death
کا ٹھپا لگا دیتے ۔
اس کی دھواں دار پرفارمنس دیکھ کر دوسرے چینلز اسے کال پر کال کرنے لگے اس نے تھوڑا تھوڑا وقت سب کو دے دیا ۔اور ساتھ یہ بھی بتایا کے وہ مانچسٹر یونی کا اسٹوڈنٹ ہے اور اسٹوڈنٹ کا لون جلد سے جلد اترنا چاہتا ہےکارل اگر چاہتا تھا آرام سے الیکشن جیت جاتا تھا
گولی امرحہ کو چھو کر گزری اور مشہور وہ ہو گیا ۔
کارل نے ہر ایک کا ہر عمر کا بن کر بتایا کے کیسے جوان لڑکی فیشن والی بنا اس کے سر پر بوتل ماری گئی پھر نک چڑی لڑکی بنا سب کو ہنسا ہنسا کر مرنے کے قریب کر دیا
فلور پر کھڑا کارل کمیرے کی طرف دیکھ کر اشارہ کر کے کہنے لگا۔
ایسے تو آپ کے سر پر دو تین بوتلیں اور مار دے گا۔تو یہ ردِعمل ٹھیک نہیں شکر کریں ایک بوتل لگی ہے سر پر ہاتھ رکھ کر نکلنے کی کوشش کریں اپنے ناخنوں کو ہتھیار سمجھنا چھوڑیں۔یہ ہتھیار ہوتے تو فوج میں سپاہیوں کی جگہ بلیاں بھرتی ہوتی سب بہت ہنسے اور اس دباؤ، سے نکل آئے تھے جو امرحہ کو لے کر ان کو تھا ۔یہ اس رات کی بات ہے جب امرحہ کو روم شفٹ کر دیا گیا
شو کے بعد اسے مانچسٹر سے اپنے پروفیسر کافون آیا۔
میں نے اور میری بیوی نے تمہاری حرکتوں سے پہلی بار مزا لیا۔ہم بہت ہنسے میں تو ہنسے ہوئے صوفے سے گر گیا تم اتنے کیوٹ تھے ہميشہ سے یا میری نظر کمزور رہی ہے
جواب میں کارل نے لمبا قہقہہ لگایا افسوس ہے پر یہی سچ ہے آپ کی نظر ضرورت سے زیادہ کمزور رہی میں مانچسٹر آتے آپ کے ٹومی کی خیریت پوچھنے آؤں گا ڈینر بھی کر لو گا۔
اسے روم شفٹ کر دیا گیا ویرا اور سائی اس کے ساتھ رہے۔
سب کلاس فیلوز آتے جاتے رہے اور سب کی رات فلائٹ تھی جو جا چکے وہ ویڈیو کال سے حال پوچھتے رہے ۔
کارل صبع سے یہی تھا پھر ہوٹل تیار ہونے چلا گیا ۔
اسے اسٹوڈیو جانا تھا وہ وقفے وقفے سے امرحہ کو پھول دیتا رہا بقول سائی وہ ادھر اُدھر سے گول کر کے لاتا رہا
اس دوران عالیان کونے میں رکھی کرسی پر خاموشی سے بیھٹا رہا جب سائی اور ویرا چلے گئے تو اپنی کرسی اس کے بیڈ کے پاس لے آیا۔امرحہ سو چکی تھی اور اس کے سر میں درد اور آنکھیں بار بار بند ہو جاتی تھی
وہ دوائی کے اثر میں تھی مگر درد سے ہل جول رہی سوتی جاگتی تھی عالیان خاموشی سے اپنی انکھوں میں اس کی تصوریں اتار رہا تھا
دن نے شام کو آواز دی شام رات پر ختم ہوئی۔وہ خاموشی سے اس کی تصوریں چراتا رہا ۔
زمانہ حال کے امرحہ عالیان آمنے سامنے کھڑے ہو گئے
اس نے ایک دم سے رنگ بکھرے موقلم کو مٹھی میں جکڑ لیااور آنکھیں کھول دی۔
میں ایک امرحہ
میں اس کے سنگ سنگھا اس کے ہمرہ قابض ہوتی چلی گئی
لفظوں کی فل حال ضرورت باقی نہ رہی۔وہ اسے دیکھ رہی تھی وہ سر جھکائے اس کی ہتھیلی پر رنگ بکھیر رہا تھا
جو دنیا کی کسی بھی دکان سے نہیں خریدے جا سکتے پھر سر اٹھایا اور اس کی مسکراہٹ کو جان لیا وہ بھی اس دیکھ کر مسکرانے لگا جیسے زندگی میں کبھی کانٹا بھی نہ چھبا ہو ۔
تم نے میرے ہاتھ پر کیا بنایا اتنے لمبے عرصے بعد گفتگو کا آغاز ہوا اور امرحہ نے یہ پوچھا پہلا سوال۔
خود کو ۔۔اس نے وہ جواب دیا جس کے بعد باقی سوال کی ضرورت نہیں رہی۔
خود کو۔۔۔۔۔ اس نے انجانی خوشی میں کتنی بار دورایا
اس سوال کے جواب میں اور کوئی جواب ہوتا تو کتنا بدصورت ہوتا۔اس نے خود کو اس کی دسترس میں کر دیا
خود کو اس میں رقم کر دیا ۔
جھالروں کو کناروں میں پیوست رکھے چمکتے دمکتے سرخ وسبزباریک تھال پوشوں کو اتار لیا گیا اور تھالوں کو چھتوں اور شہہ نشینوں،دہلیزوں اورچوکھٹوں میں تقسیم ہوجانے دیا۔امرحہ نے محسوس کیا کہ مسرت نقرئی قہقہے لگاتی اس کی وجود میں اہتمام سے سرایت کر رہی ہے اور اس بار اس کا قیام عارضی نہیں ہو گا…..یقیناً نہیں ہو گا۔اس نے چاہا کہ وہ چھلانگ لگا کر بیڈ سے کود جائے اور کھڑکی سے باہر خود کو نکال کر پوری قوت سےچلا کر پوچھے۔”کیا اس وقت دنیا میں مجھ سے زیادہ خوش قسمت انسان کوئی ہے؟“
”ہے…….؟اچھا پھر یہ بتاؤ تمہارے پاس عالیان ہے؟“
لیکن اس نے یہ سب نہیں کیا کیونکہ اسے کچھ اورکرنا اور کہنا تھا۔
”تم نے تو کہا تھا میں تمہارے لیے مرچکوں جیسی ہوں…..میں مر بھی جاؤں تو بھی تمہیں فرق نہیں پڑے گا۔“
امرحہ اپنی ساری تکلیف بھول چکی تھی لیکن اسے حیرت انگیز طور پر یہ سب اپنے نام کی طرح یاد تھا،وہ آگے بڑھنے سے پہلے پچھلے حساب چکانا چاہتی تھی۔
لفظ مر کے استعمال سے جیسےعالیان پھر سے نیم مردہ سا ہوگیا اور اداسی سے بولا”ہاں مجھے صرف فرق ہی نہیں پڑا۔“
تم ایک برے انسان ہوامرحہ ذرا سا اُٹھ کر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور یہ کرتے اس نے جان بوجھ کر عالیان کی مدد نہیں لی۔
”بلاشبہ…… میں ایک برا انسان ہوں۔“عالیان نے بہت آرام سے مان لیا۔
”تم انتہائی بددماغ اور غصیلے انسان ہو ۔“پہلے جملے سے امرحہ کی تسلی نہیں ہوئی۔
“ہاں،اور میں دیوانہ سا بھی ہوں.”عالیان نے اسکی تسلی کرنی چاہی.
“تم ضدی اور ہٹ دھرم بھی ہو.”
“بلکل ،اور میں بھی بہت بد تمیز بھی ہوں.”
“ہاں تم نے ابھی تک بات کرنے کی تمیز نہیں سیکھی. تم اتنے….کتنے سارے بڑے ہو گئے ہو لیکن ابھی اتنا بڑا سا منہ بسور لیتے ہو.تمہاری آنکھوں کی سختی بارود کی طرح محسوسات کے پرخچے اڑا دیتی ہے.”
“ہاں….بلاشبہ تم سچ کہہ رہی ہو.”اسنے کہا جبکہ امرحہ کے ذخیرہ الفاظ پر وہ ہنسنا چاہتا تھا.
“تمہارا دل پتھر کا انسان ہوں.”
امرحہ کو سمجھ نہیں آتی کہ اور اسے کیا کیا کہے.جو یونیورسٹی کی محراب میں اسے سمیٹے کھڑی تھی.وہ اب اسے اس کی برائیاں گنوا رہی ہے اور اسے بتا رہی ہے کہ وہ کس قدر برا ہے.
کہا جاتا ہے کہ عورت شکوے کا دوسرا نام ہے اور میں یہ کہتی ہوں کہ “محبوبہ”شکوے کا پہلا نام ہے.
“میں نے سنا کہ تم مجھے آوازیں دے رہے ہو اور تمہاری آواز فرش اور عرش تک اٹھتی جاتی ہے.”عالیان کی برائیاں ختم ہو گئیں یا اسکی یاداشت جاتی رہی تو اگلی بات اسنے یہ کہہ دی اور بے آواز رونے لگی اور ادی رونے کے دوران اسنے فیصلہ کیا کہ اسے عالیان کے ساتھ انتہائی سخت رویہ اپنانا چاہئیے. کم ازکم اتنے وقت تک کے لیے جتنے وقت عالیان نے اپنائے رکھا.
“تم میرا ہاتھ چھوڑ دو اور سن لو میں کئی سالوں تک تم سے بات نہیں کروں گی.”
اور عالیان جو دلگرفتی سے اسے روتے ہوئے دیکھ رہا تھا کہ اور سوچنے لگا تھا کہ شاید وہ اسے ناپسند کرنے لگی ہے اس کی اس بات پر ہنس دیا.
“ٹھیک ہے مت کرنا بات لیکن صرف اتنا بتا دو کہ امرحہ میرے ساتھ تو رہو گی؟”
“نہیں.”امرحہ نے انکار کر دیا.
“یہ بھی ٹھیک ہے…. پھر میں تمہارے ساتھ رہ لوں گا.”امرحہ کی گیلی پلکوں کو اسنے انگلی کی پور سے خشک کرتے ہوئے کہا.
“نہیں….”اسنے پہلے سے ذیادہ سختی سے کہا.
اور عالیان نے اسکی ادا جانا اور اسے بتانا چاہا کہ اب دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں رہی جہاں امرحہ اسے چھوڑ کر رہ سکے اور اسے وہاں رہنے بھی دے.
“میں اس بات پر قائم رہوں گی.”عالیان جواب میں خاموش ہی رہا تو اسنے اسے یاد دلایا کہ “نہیں”کا مطلب کیا ہوتا ہے…..””نہیں ہی”.
عالیان پھر ہنس دیا.”اس بار نہیں کا مطلب نہیں نہیں ہے امرحہ ،ہوا بھی تو میں اس نہیں کو قبول نہیں کروں گا.”اسنے اسکے ہاتھ کو اپنی ہتھیلیوں کے درمیان نرمی سے رکھا.
“سنو امرحہ میں نے ایک اچھی دعا مانگنا سیکھ لیا ہے.میں نی جان لیا ہے کہ ہمیں کس ساعت میں دیر تک قیام کرنا ہے کہ ہم اس ساعت کو جالیں جو خدا کی رضامندی سے لبریز ہوئی ہوتی ہے کہ ہمیں ہماری پسندیدہ نعمت عطا کر فی جاتی ہے.میں نے ان نعمتوں کا شمار کرنا چاہا جو ہمیں عطا کی گئیں اور میں نے ماما کے بعد تمہارا نام لیا.میں نے خدا کو بتایا کہ اسکی مہربانی مجھ پر کیسے ظاہر ہوئی.”تمہاری آنکھیں.”یہ بھی سنو امرحہ کہ میں نے جان لیا ہے کہ بہاروں کا ہمیشگی قیام کسے کہتے ہیں. یہ ایک امرحہ کا ایک عالیان کے پاس ہونے کو کہتے ہیں.مجھے معلوم ہوا کہ خوشنما تخلیقات کی خوشنمائی کا راز کیا ہے.”یہ ایک امرحہ اور عالیان کا ساتھ ہے.”
“میں نے اس حقیقت کی تفصیلات پالیں کہ کوئی چال،کوئی پینترا کارگر نہیں کہ جو دل پر ازمایا جائے اور یہ ہمارے اختیار میں رہے اور دنیا میں کوئی حکمت ایسی نہیں جو اس میں داخل ہو جانے والے کو نکال باہر کرے اور یہ ممکن کر دکھائے کہ میرا جو حصہ تم میں ہے وہ تم واپس کر سکو اور میرے پاس جتنی ادھوری،مکمل تم ہو وہ میں تمہیں لوٹا سکوں اور ہم الگ الگ زندگی گزار سکیں.ایسی حکمتیں ناپید ہیں امرحہ اور ایسی حکمتیں ناپید ہی رہیں گی.”کہہ کر وہ رکا.
شیرینی تقسیم کر دی گئی اور چاندی کے سکے زمانہ حال کے مہمانوں کے سروں کے اوپر سے اچھال دیئے گئے اور اب وہ اپنے سازندوں کی طرف لپک رہے ہیں…..ان سب کو ایک دعائیہ گیت گانا ہے اس متوقع دلہن کے لیے جس کے گلانار گالوں کو سرخی کی لیے غازے کی ضرورت نہیں رہی.
“میری بے اعتنائی پر تمہارا شکوہ جائز ہے اور تمہاری کم عقلی پر میرا’لیکن اب اگر ہم اس سب کو خوبصورت پروں والا سرخاب بنا کر اڑا دیں گے تو ہمیں ان تتلیوں کے پیچھے بھاگنے کا موقعہ مل جائے گا خو بے اعتناء اور کم عقل نہیں اور جو خوش رنگ پھولوں پر قیام کرتی ہیں اور معصوم لوگوں کو چھو کر گزرنا ناپسند کرتی ہیں.”
کیا کھڑکی کھلی رہ گئی ہے…..یقینا ہاں…..کیونکہ آسمان سے اترتی کہکشاں قافلوں کی صورت کھڑکی سے کمرے میں اترنے لگی ہے اور ان کے سروں سے گھوم کر دیواروں پر اسی تصویر میں ڈھل کر نقش ہو چکی ہے جو تمثال گر نے اسکی ہستی پر سجا دی ہے.
“میں ہزاروں الفاظ جانتا ہوں،معنی بے معنی کئی جملے بول سکتا ہوں لیکن مجھے افسوس ہے امرحہ اپنا مدعا بیان کرنے کے لئے میرے پاس اچھے الفاظ ہیں نا پراثر جملے.”
اب ابو علی ابن مکلاء کے شاگرد خطاط درسگاہ کے سفید سنگی احاطے میں حوض کے اطراف قطار میں بیٹھنے لگے ہیں.
وہی جملہ جو مجھ پروارد ہوا اور جس کے متعلق میں نے اب جانا.
“درسگاہ کی اونچی سفید محرابوں نے شفیق استادوں کی طرح خطاطوں کی نگرانی کی.”
“اور پھر اسے”تعویذ حب”صورت لکھ کر”محراب حب”کی چوکھٹ سے باندھ دیا.”وہ بولتا گیا.
سنگ بصرئ کی تختیاں خطاطوں نے تھام لیں اور مبتلائے تعریف خدا ہوئے.
“ایک پہلی اور آخری بات صرف اتنی ہے کہ میں پہلے عالیان تھا…..پھر میں تم ہو گیا اور اب میں تم ہی رہ گیا امرحہ .”
اسکی ہتھیلی کو وہ آنکھوں تک لے گیا اور …….
“استاد محترم کے اشارے پر صندلی قلمیں بلوری دواتوں میں ڈبو کر “عروس الخطوط.”اپنائے انہوں نے خطاطی کی ابتدا کی.
“محبت آسمانی فرمان ہے نافرمانی کی اجازت نہیں.”
سنگ بصرئ کی پیشانی پر انہوں نے لکھ دیا.
اسی ہاتھ کو آنکھوں سے ہونٹوں تک لے آیا.
“محبت پرندہ پربت ہے پاتال اسکا نشیمن نہیں….”
سنگ بصرئ کی دوسری سطر کر دی گئی …..
پھر اسکے ہاتھ پر وہ احترام بجا لایا…..
“محبت مشک ہے بھید میں قید نہیں.” تو تحریر مکمل ہوئی …..”لوحِ حُب “لکھ دی گئی ۔
شگرفی ،ارغوانی،سبزو لاہی سیاہی سے ب خطاط گل کاری کرتے جاتے ہیں اور خدا واحد کی تعریف بیان کرتے جاتے ہیں اور پھر دعا کی ابتدا کچھ یوں کرتے ہیں ”لوحِ حُب کو خدا وقت کے ہاتھوں زندہ رکھے……زندہ رکھے……پرشاب رکھے…..وقت کے زوال سے خدا اسے بچائے رکھے……بچائے رکھے اور” محراب حُب “ کی پیشانی پر روشن رکھے……یوں رکھے کہ ”روزِازل“”روزِابد“سے جا ملے…..“
*………..*………..*
گہرائی ہے…..اونچائی ہے……لوگ ہیں ……پس منظرمیں بجھتے شہر کی چلتی روشنیاں ہیں……اور اس کے سر کے عین اوپر کئی سو کرسٹل لڑیوں کا چھتا ہے جو برقی ارتعاش سے ایسے حرکت میں ہے جیسے مشرقی حسینہ بے خودی میں اپنا آنچل دھیمی ہوا کے سپرد کر رہی ہو۔
”مشرقی حسینہ……امرحہ“
مقام اونچائی پر ہے اور وہ مائیک کے سامنےہے۔
”وہ…..ویرا“
اس نے بجھتے شہر کی جلتی روشنیوں کو دیکھا اور اس کی آنکھیں اداسیوں کے پانیوں سے چمکنے لگیں اور گلے کو کھنکارے بنا اس نے بولنا شروع کیا۔”پہلے میں نے بات شروع کی اور ختم کرنا بھول گئی اب مجھے سمجھ نہیں آرہی میں بات کہاں سے شروع کروں امرحہ سے…..خودسے یا عالیان سے…..؟“
”امرحہ ……“آپ اسے نہیں جانتے میں بھی نہیں جانتی تھی ،مجھے صرف یہ معلوم تھا وہ میری دوست ہے لیکن کچھ وقت گزارہ ،مجھے معلوم ہوا میں اس کی دوست نہیں تھی۔اگر میں اس کی دوست ہوتی تو وہ مجھ سے وہ سب کہہ دیتی جو کسی اور سے نہیں کہہ سکتی تھی۔وہ بات جو اس نے آپریشن تھیٹر میں جانے سے پہلے کہی یا اس وقت جب وہ گر گئی تھی۔جب میں اس کی طرف لپکی تو میں نے دیکھا وہ پوری شدت سے آنکھیں کھولے رکھنے کی کوشش کر رہی ہے……میں نے گردن موڑ کر دیکھا تو وہ اتنی تکلیف میں بھی اس سمت دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی جس طرف عالیان گر چکا تھا۔ایسی تکلیف دہ بے ہوشی میں وہ ہاسپٹل آنے تک کہی بار چونک کراُٹھی اور اس نے عالیان کا نام لیا۔جتنی بار وہ چونک کر اُٹھی اتنی ہی بار وہ اپنے زخموں سے زیادہ کسی اور ہی تکلیف میں تھی۔“
ویرا رکی اور اس نےایک نظرسب کو دیکھا ۔وہ دیکھ سکتی تھی جن کو وہ اپنے اور عالیان کےبارےمیں بتاگئی تھی انہیں امرحہ کےبارے میں جاننا کیسا لگ رہا تھا۔”شاک“
ویرانے سر اُٹھا کر گرنے کے قریب آنسوؤں کو آنکھوں کے اندار کرنا چاہا لیکن وہ اندر ٹھہرے دوسرے آنسوؤں کو بھی باہر لے آئے۔
”عالیان خوبصورت دلوں میں سے ایک کا مالک وہ سٹرک پر ایسے گر گیا جیسے گولی اسے لگی ہو وہ بھی سیدھے دل پر“وہ رکی اور کافی ٹائم روکی رہی۔
”ایک ہی وقت میں دونوں ایسے مجھ پر آشکار ہوگئے۔“
جب امرحہ آپریشن تھیٹر میں تھی اور عالیان سر جھکائے خاموش کھڑا تھا تومیں اس کے پاس گئی اور اس سے کہا۔
”وہ ٹھیک ہوجائے گی وہ اتنی جلدی بےہوش نہ ہوتی اگر اس کے سر پر ضرب نہ لگتی۔“

Read More:   Nakhreeli Mohabbatain by Seema Shahid – Episode 10

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply