Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 56

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 56

وہ ٹھیک ہو جائے گی وہ اتنی جلدی بےہوش نہیں ہوتی اگر سر پر چوٹ نہیں آتی تو
اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر گرنے لگے۔
ایک جوان مرد رو رہا تھا ٹھیک کر رہا تھا ۔ایک مرد اگر اپنی بیوی بیٹی ماں کے لیے روتا ہے تو ان سے بے حد محبت کرتا ہے اس لئے کہہ کر وہ حد افزودگی میں نظر آنے لگی۔
جب عالیان ایک بار امرحہ کو دیکھ آیا تو میں نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔تم ایک اچھے اداکار ہو اور امرحہ بھی
تم امرحہ کے علاوہ سب کے ساتھ خوش رہنے کی اداکاری کرتے رہے ۔دنیا کے ہر انسان کے ہوتے تم نے امرحہ کو جاتے دیکھا تو ساری اداکاری بھول گئے ۔تم دنیا کے ہر انسان کے ساتھ خوش رہ سکتے ہو مگر زندہ تم امرحہ کے ساتھ رہ سکتے ہو۔میرے ساتھ تعلق نبھانے کی کوشش اچھی تھی ۔
تمہارے دل میں میں نے اپنا احترام کھو دیا ویرا۔
اس نے اس انداز سے کہا کے میرے دل میں اس کا اور احترام بڑ گیا اور میں نے کہا
ہاں ایسا ضرور ہوتا اگر تم نے مجھ سے کہا ہوتا کے تم مجھ سے محبت کرتے ہو ۔تم نے ہمیشہ بس کہا کے تم اچھی لڑکی ہو ۔۔اب تم امرحہ کو بتا دینا کے اگر تم دونوں میں تیسرے کی گنجائش ہوتی تو عالیان برازیلا میں امرحہ کے لیے دیوانہ ہو کر نہیں بھاگ رہا ہوتا ۔اس بار تم اسے زیادہ یقین سے بتانا زیادہ وقت لینا ہاتھ پکڑ کر بات کرنا تا کے جا نہ سکے۔وہ انکار نہیں کرے گی میں نے اسے بے ہوشی میں تمہارا نام بڑبڑاتے سنا اس سے بس منظر کی ساری روشنیاں بجھ گئی
میں بےوقوف تھی یہ سب جان نہیں سکی۔اب سمجھ نہیں آرہا میں یہ کہانی اپنےپوتو کو سناؤں گئی تو میرے بارے میں کیا سوچیں گے ۔کیا وہ اپنی گرینڈ مام کو برا کہیں گے؟
اس نے گیلے گال صاف کیے وہ اپنی گرینڈ مام پر فخر کریں گے پیچھے سے سازئی نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو وہ چونک کر پلٹی۔
لوگ گم ہو گئے لائٹ بند ہو گئی کہانی سنا دی گئی
وہ اکیلی کھڑی تھی سائی ہوٹل شفٹ ہو چکا تھا ایک گھنٹے کی نیند بھی لے چکا تھا ۔پھر وہ بے چین ہو کر اٹھا اسے یاد آیا وہ بہت خوش سویا تھا کیونکہ المیہ داستان ترمیہ ہو چکی تھی ۔۔تو پھر ہربڑاکر کیوں اٹھا وہ بیڈ پر بیٹھ گیا اتنے سال ہوئے اسے سائئ بنے اب سب کے پاس جاتا سنو کوئی کام تو نہیں شاید کسی کو میری ضرورت ہو
وہ اٹھا دوسری منزل آیا دستک دی جواب نہیں آیا
پھر یہ سوچا کہ امرحہ کے پاس ہسپتال نہ چلی گئی ہو۔
اسے فون کیا فون بند تھا ۔۔کاونٹر سے پوچھا انہوں نے ایک بارکی طرف اشارہ کیا ڈھونڈنے لگا وہ خاموش خود سے باتیں کرتی اکیلے میں وہ اس کے پیچھے سب سنا، اسے خبر بھی نہیں
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے لے آیا، دونوں کارپٹ پر دیوار کے ساتھ بیٹھ گئے
میں جانتا ہوں تم دکھی ہو بات سائی نے شروع کی
ہاں بہت دکھی ہو سائی سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں مجھے ہمیشہ یہی لگا امرحہ عالیان کو دوست کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتی
۔۔عالیان۔۔ سائی ایسا ہی تو ہوتا ہے ایک بریک اپ کے بعد کچھ وقت لگا اور سب ٹھیک۔۔ میں امریکہ سر واپس آئی تو امرحہ مجھے کچھ بدلی ہوئی لگی۔ میں نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ دادا ایسے لڑکے سے اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں جس کو وہ پسند نہیں کرتی۔ میں نے پوچھا تو تم کسی اور کو پسند کرتی ہو؟ تو اس نے کہا مجھے اس سب سے دلچسپی نہیں ہے” یہ کہہ کر ویرا نے تاسیف بھرا انداز اپنا لیا۔
“کیا میں ایک بری لڑکی ہوں سائی؟” سائی کو جیسے دلی صدمہ ملا۔
“پتا نہیں”اس نے خودکلامی کے انداز میں کہا۔
کچھ باتوں کے ہوجونے میں ہمارا اختیار نہیں ہوتا ویرا۔ ان کے ہونے یا نہ ہونے پر۔ ایک اچھا ڈرائیور اگر حادثہ کر دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ برا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سڑک، گاڑی اور دوسرے عوامل نے مل کر اس حادثے کے اسباب پیدا کر دیے ہیں۔ اچھے اور برے واقعے کے اسباب بنتے ہیں ویرا۔
“عالیان کو خود کو پاگل بنانے کے ضرورت کیا تھی سائی! تم نے دیکھا وہ کیسے اس کا نام لے لے کر بھاگتا پھر رہا تھا۔”
“اس نے خود کو پاگل نہیں بنایا ویرا بس چاید اس پر زرا دیر سے ادراک ہوا۔”
دونوں تھوڑی دیر خاموشی سے اپنی اپنی جگہ اپنی اپنی سوچ کو سوچتے رہے۔
“تو گرینڈ موم نے عالہ ظرفی کو مظاہرہ کیا۔” سائی نے ہنس کر ایک نئی بات شروع کی۔
ویرا زرا سا ہنس دی۔” اگر نہ کرتی تو امرحہ روسیوں کے بارے میں اپنے پوتوں پوتیوں کو کیا بتاتی کہ وہ خودغرض ہوتے ہیں اور ہماری جگہوں پر قابض ہوجاتے ہیں۔ وہ خود روس آتی نہ اپنی پوتی کو کبھی آنے دیتی، بلکہ روس کے بارے میں ٹی وی میں کوئی چل رہی ہوتی تو وہ چینل بدل دیتی۔ اور سوچتی کہ روس دنیا کے نقشے پر ہوتا ہی نہیں تو کتنا اچھا ہوتا۔”
سائی پوری جان سے ہنسنے لگا۔” تم مذاق میں ایسا کہہ سکتی ہو، لیکن حقیقت میں ایسا کبھی نہ ہوتا۔” اگر میری اور عالیان کی شادی ہوجاتی تو ایسا ہی ہوتا۔” وہ اپنی ہتھیلیاں مسلنے لگی اور ایسا کرتے وہ ایسی بچی لگنے لگی، جس کی ساری گڑیاں چرالی گئی ہوں اور ان کے کپڑے جلا دیے گئیں ہوں۔
سائی نے محبت سے اسے دیکھاـ” سائی اس مشرقی لڑکی کا پرنس تھا۔ تمھارا پرنس چارمنگ کہیں اور تمھارا انتظار کر رہا ہوگانا۔”
ہاں بس یہی کام رہ گیا ہے۔ سب کام چھوڑ کر اس پرنس چارمنگ کو ڈھونڈتے پھرنا یا اس کے انتظار میں بیٹھ جانا۔ میں ایک بالغ اتنی بڑی سی لڑکی ہوں۔ دی لیڈی ویرا مجھے تم ان فیری ٹیلز سے نہیں بہلا سکتے۔ وہ چڑ گئی۔
“فیری ٹیلز ہماری حقیقی زندگی سے زیادہ خوبصورت نہیں ہوسکتیں ویرا۔”
“جہاں ایک سائی ہے ، ایک ویرا ، ایک کارل، دو امرحہ اور عالیان، کیا کسی فیری ٹیل میں یہ سب ہوں گے؟”
ہمارے پاس دکھ ہیں، ملنا، بچھڑنا، رونا، مسکرانا، گر جانا، اٹھ جانا۔۔ یہ سب ہیں کہیں کم ۔۔ کہیں زیادہ۔۔ شان دار محل ۔۔ قیمتی ملبوسات، آرائش زندگی، کھیل کود، مسکراہٹیں، خوب صورتی اور نغمے ہی زندگی کو فیری ٹیل نہیں بناتے۔ زندگی کو فیری ٹیل ہماری ساچ بناتی ہے۔ پرنس چارمنگ وہ نہیں جو ایک بڑی سلطنت کو بشہزادہ ہے یا جو بہت خوبصورت ہے۔ پرنس چارمنگ ہر وہ انسان ہے جو ایک شفاف دل کا مالک ہے۔ جو بلا امتیاز انسانوں سے محبت کرتا ہے۔ میں ، تم، عالیان، امرحہ، کارل، ہم سب۔
یہ زندگی تب بھی فیری ٹیل سےخوبصورت ہے جب ہر سائت ہمیں فضا میں بسی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ آسمان شاندار محل کی طرح لگتا ہے اور زمین مخملیں قالین جو ہر ایک نئے قدم پر ایک نئے رنگ میں ڈھلتا ہے۔”
ویرا نے سائی کے کھندے پر سر رکھ دیا اور اسے
اسے خاموشی سے سنتی رہی اور سنتے سنتے سو گئی۔ سائی نے اسے ایسے سوتے دیکھا تو چاہا کہ آج کی پوری رات اسے اس انسان کے لیے دعائیں کرتے گزار دینی چاہیے اور وہ زیر لب دعائيہ نظموں کو اییسے دہرانے لگا کہ وہ نیند سے جاگ نہ جاۓ لیکن نیند میں ہی سن بھی لے۔
“ویرا۔” موت سی برف میں کھلتے اکلوتے پھول کی طرح وہ اس احساس کو خاطر میں نہ لائی کہ خزاں میں وہ ا”کیلی بہار” ہےـ
میری کہانی کہ یہ دو کردار۔
طلوع آفتاب سے۔
دوستی میں حرف خاص سے۔
مثالوں میں “بے مثال” سے۔
——————–
برازیلا سے وہ وی آئی پی سیٹ سے مانسچڑ آئی جہاں اسے ڈاکٹروں کی اگلی ہدایت تک رہنا تھا۔ سارے اخراجات برازیلیں حکومت اٹھا رہی تھی۔ وی اسے مکمل صحت یاب کر کے بھیجنا چاہتے تھے۔ لیکن اسے مانسچڑ آنے کی جلدی تھی۔ اس کی وجہ سے اس کے ساتھ رہنے والوں کی تعلیم کا نقصان ہورہا تھا۔ وہ سب لوگ ویک اینڈ کا سوچ کر میچ دیکھنے گۓ تھے۔ این، ڈیرک وغیرہ پہلے ہی واپس آچکے تھے۔ کارل ، ویرا، سائی اور عالیان اس کے ساتھ ہی تھے۔ کارل کا تو ویسے بھی برازیلا میں ٹی وی پر مستقبل کافی روشن ہوگیا تھا۔ اسے تو چند اور دن وہاں رکنے پر اعتراض نہیں تھا۔
سادھنا اور لیڈی مہر ائیر پورٹ سے اس کے ساتھ ہسپتال گئے، اور ہسپتال میں اس کے پروفیسرز، کلاس فیلوز، یونی فیلوز آ، آ کر ملتے رہے۔ شزا بھی اس کے لیے پھول لے کر آئی۔ ڈیرک تو برازیلا میں بھی اس سے کئی بار مل چکا تھا اور دائم وغیرہ کا گروپ ہانا، شرلی، سب وہاں پر بھی اس سے مل گئے تھے اور یہاں بھی آتے رہے۔ اسٹور کا مینیجر، اس کے کولیگز اور اس کا پہلا باس تو کئیں بار آۓ۔
“یہ کیسا حادثہ تھا مس آخروٹ! جو تمھیں برازیلا میں پیش آیا اور تمھیں ٹھیک کر گیا؟” انھوں نے سنجیدگی سے اس کا جائزہ لے کر کہا۔
مس آخروٹ جواب میں صرف مسکرادی۔
“تو برازیلا نے تمھیں بدل دیا۔”
“شاید ۔۔”وہ اور مسکرا دی۔
اس دوران کارل نے اس کے لیے لائی جانے والی چاکلیٹس اور کوکیز کو سعادت مندی سے اپنے پاس محفوظ کرنا شروع کر دیا۔ سائی نے امرحہ سے کہا کہ اس نے سب سے کہا ہے کہ پھول لے جانے کے بجاۓ وہ چاکلیٹس لے جائیں، کیوں کے امرحہ کو چاکلیٹس بہت پسند ہیں نا۔۔ اور ایک ایسا انسان جس کے شانے پر گولی لگی ہو، اسے ایسی چھوٹی چھوٹی خوشیاں تو مہیا کر دینی چاہیں نا۔
ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں سے ایک بھی امرحہ کے منہ میں گئی، البتہ ہال میں کارل نے اپنے کمرے کی حفاظت چوری پروف کردی۔
جب وہ گھر آئی تو اس کے کمرے کو سادھنا، ویرا اور این نے مل کر محتلف پوسٹرز، کاٹونز اور دعاؤں سے سجا رکھا تھا۔ دیواروں پر اس سب کی مختلف موقعوں پر لی جانے والی تصویریں لگیں تھیں اور یونی فیلوز کے پیغامات کارڈز کی صورت دیواروں سے جھول رہے تھے۔
یونیورسٹی نے اسے آفیشل لیو دے دی تھی۔ اس کے لیکچر ریکارڈ کیے جا رہے تھے اور اسے گھر ملتے تھے۔ سائی ایک بار اس کے پاس ضرور آتا۔ کافی پی کر چلا جاتا۔ عالیان یونی سے پہلے، یونی اور جاب کے بعد اتنی بار اس سے مل کر جاتا کہ لگتا وہ واقعی اسپئڈرمین ہے۔ عمارتیں پھیلانگتا آتا جاتا ہے۔
کارل اپنی الٹی سیدھی تصویریں کھیچ کھیچ کر اسے بھیجتا رہتا کہ “خوبصورت انسان کو دیکھنے سے انسان جلد صحت یاب ہوتا ہے۔”
وہ اب تک ہی فون پر دادا سے بات کرتی رہی تھی اور اسے حیرت یہ ہوئی تھی کہ دادا نے ایک بار بھی Pg#199
۔۔ نہیں کہا نا کہ وہ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔جب وہ شٹل کاک آگئی تو اٹھ کر بیٹھنے لگی جبکہ ابھی اٹھنے سے اس کے سر میں ٹیسیں اٹھتی تھیں اور اس کا بایا شانہ درد کرتا تھا اور اکثر وہ کئی کئی گھنٹے متلی کا شکار رہتی تھی اور اچانک ہی اسے بخار ہوجاتا تھا تو دادا پہلی بار اسے دیکھ کر بات کر نے لگے کیونکہ اس نے کہا تھا کہ وہ انہیں دیکھنا چاہتی ہے۔
“اب مجھے بتاو کیا ہوا تھا؟”
“ایسے ہی فینز بھڑک اٹھے اور لڑتے لڑتے مجھ پر گر گئے۔”وہ ٹیک لگا کر بیٹھی تھی اور اس کے چہرے پر زخم کے نشانات اب کچھ مندمل اور کچھ قابل برداشت ہوگئے تھے۔ سر کو اس نے دوپٹے سے ڈھانپ رکھا تھا کیونکہ پچھلے حصے میں لگی بینڈچ سامنے سے زرا سی نظر آتیطاور گردن کی بھی۔
“بس۔۔”دادا نے آرام سے پوچھا۔
“جی۔۔”جو جھوٹ سادھنا نے بولا تھا وہ اسے ہی لے کر آگے چل رہی تھی۔
“تمھارے بس اتنے معمولی سے زخمی ہونے پر ویرا، کارل، سائی اور عالیان اتنے پریشان ہو گئے؟”
“وہ مجھے ہوش نہیں آرہا تھا نا اس لیے۔ میرے سر پر چوٹ آئی تھی۔ بس خوف زدہ ہوگئی تھی بہت، بہت زیادہ۔”
مانسچڑ کے ہسپتال میں جب وہ آئی تو قس نے بتایا وہ گھر آچکی ہے اور جب گھر آگئی تو بتایا یونی جانے لگی ہے۔ اور دادا نے اس سے ایک بھی بار کوئی سوال یا تکرار نہیں کی، جو وہ کہتی وہ سن لیتے اور اسےصحت مندی اور سلامتی کی دعائیں دیتے رہتے۔
“جب میں نے باری باری ویرا، سائی اور عالیان کو دیکھا تو مجھے جیسے کچھ بھی پوچنے کی ضرورت نہیں پڑی اورچمجھے لگا کہ وہ مجھ بےچارے باڑھے پر ترس کھا رہے ہیں۔ مجھے صدمے سے بچانا چاھتے ہیں۔ میں نے شہریار کی مدد لی۔ وہ ایک پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہے۔ اس نے کچھ وقت لگایا انٹرنیٹ پر اور اسے معلوم ہوا کہ تصادم میں کل تین لوگوں کو گولیاں لگیں ہیں اور ان میں سے ایک مانسچڑ یونیورسٹی کی اسٹوڈینٹ ہے۔ پھر اس نے یونیورسٹی انتظاميہ سے رابطہ کیا اور اسے بتایا گیا کہ وہ ایک اسٹوڈینٹ امرحہ واجد ہے۔ تم نے مجھ سے جھوٹ اس لیے بولا کہ میں ایک بوڑھا انسان ہوں۔ ایسی خبر سن کر مجھے کچھ نہ ہوجاۓ۔ سادھنا سے لے کر سائی تک سب مجھ سے چھپاتے رہے۔ یہ ایک اچھی حکمت عملی تھی مجھ بوڑھی جان کے لیے امرحہ ۔۔ لیکن میں انجائنا کے درد کا شکار ان ہی دنوں ہوا۔ جانتی ہو کس لیے؟ کیونکہ تم نے خو کو خود ہی مر جانے دیا۔ تم نے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی۔ تم نے خود کو اہم نہیں جانا۔ تمھیں بہانہ مل گیا مرنے کا۔ تم نے چاہا کہ تم مر جاو۔۔ تم نے خود کو نحفوظ کرنے کی کوشش نہیں کی۔۔طتم نے اپنی کمزوری ظاہر کی، ہمت اور طاقت نہیں ۔”
“یہ غلط ہے۔”

“یہ غلط تب ہوتا اگر تم ٹھیک رہتی۔ تم موت کی باتیں کرتی تھیں۔ میں نے اپنا پاسپوٹ ایمرجنسی ویزے لے لیے بھیجا، لیکن مجھے ویزا نہیں ملا۔ میں وہاں آتا امرحہ اور تم سے پوچھتا کہ کیا زندگی واقعی ایسی بےکار شے ہے کہ اسے موت کے حوالے کر دیا جاۓ۔”
“نہیں۔۔ وہ ایک حادثہ تھا دادا اور بس۔”
“تم ساری دنیا سے جھوٹ بول سکتی ہو، مجھ سے نہیں۔”
وہ خاموش ہو گئی۔
“تم مرنا چاہتی تھیں؟”
“ہاں۔” اس نے اطراف کر لیا۔ “میں نے خود کو مارنا نہیں چاہا تھا، لیکن وہ سب جب وہاں ہوا تو میں نے دعا کی تھی کہ کاش میں مر جاؤں۔ کیونکہ میں خودکشی نہیں کر سکتی تھی اور طبعی عمر تک خود کو گھسیٹ نہیں سکتی تھی۔ میں بظاہر بھگتی رہی خود کو بچانے کے لیے اوع اندر ہی اندر میں یہ خواہش کرتی رہی کہ میں زندہ نہ رہوں۔”
مجھے سزا دینے کے لیے، یہ بتانے کے لیے کہ. اگر ہم زندہ لوگوں کئ قدر نہیں کرتے تو وہ مر کے اپنی قدر بڑھو لیتے ہیں. ”
وہ خاموش رہی کیونکہ یہ ہی سچ تھا. وہ عالیان اور دادا کو مر کر دکھانا چاہتی تھی اسلیے بھی کہ اسے زندہ رہنے میں دلچسچی نہیں. رہی تھی.
“پاکستان آجاو. ”
ایسا نہیں ہو سکتا … وہ رو دینے کو ہو گئ.
“پھر چلی جانا میں تمہاری دیکھ بھال کرنا چاہتا ہوں تم سے ملنا چاہتا ہوں”
وہ دادا کئ طرف دیکھنے لگی. “آپ مجھے واپس نہیں آنے دے گے؟؟”
“ایک نمازی سے وعدہ لے لو”دادا نے بہت پر یقین انداز سے کہا..
“ٹھیک ہے پھر مجھے وعدہ دیں. “اس نے بہت دیر سوچنے کے بعد کہا.
اس کے پاس دس چھٹیاں تھیں, وہ ان چھٹیوں میں جا کر واپس آسکتی تھی. اس نے اپنا ٹکٹ بک کر والیااور ویرا کو ساتھ چلنے کے لئے کہا.
“تم لیوپر ہو میں نہیں. “ویرا نے اس کی گال پر چٹکی لی
. ” چند دنوں کئ بات ہے. تمہیں یونی سے نکال نہیں دیا جاے گا. ”
ویرا وار زیادہ ہنسنے لگی لیکن شرارت سے. “میں تمہارا یہاں انتظار کروں گئ بلکہ ہم سب کریں گے. ”
میں ایک خود غرض لڑکی ہوں نا ویرا؟؟؟عالیان کے ساتھ وہ آگے اسے بڑھئ کیسے اس پر سرف اس کا حق تھا . اور خود غرضی سے بھی ویرا کے بارے میں نہیں سوچا اور اب وہ اتنے دنوں سے ویرا سے بات کرنا چاہ رہی تھی لیکن ہمت نہیں ہو رہی تھی .
“تمہارے کمرے میں رکہا وہ البم میں نےدیکہ لیا ہے جس میں میری تصویر پر تم نے لکھا ہے. دوستی کئ تعریف کے لیے ویرا کا نام کافی ہے. اگر تم خود غرض ہو تیں تو اپنے البم میں جگہ جگہ مجھے محفوظ نہ کر تیں. ”
” میں تم سے حسد کرتی رہی اور تمہیں اپنا دشمن بھی سمجہتی رہی لیکن یہ سب پرانی باتیں ہیں
پھر میں نے عالیان کے لئے تم سے بہتر کسی کو نہیں پایا. ”
ویرا ہنس دی. ” عالیان کے لیا تم ساری دنیا کو اپنا دشمن بنا لیتں . یہ سرف تم ہئ کر سکتی ہو اور میں ان جزبات کئ قدر کرنے پر مجبور ہوں. ”
“تم دکہ اور تکلیف سے گزریں؟؟بہت مشکل سے امرحہ یہ پوچھا پائ.
“ہاں میں گزری امرحہ!لیکن اس سے بہت کم جس سے تم گزریں میں تم دونوں سے محبت کرنے پر مجبور ہوں. تم سرف عالیان کی ہئ نہیں ہو اور عالیان سرف تمہارا ہئ نہیں ہے اور یہ حسد ورشک سے کہیں آگے کے جزبات ہیں. ” اپنے گال سے اس کے گال رگڑ کر ویرا طلئ گئ. یہ سبح کا وقت ہے اور وہ یونی جانے سے پہلے اس سے مل کر جاتی ہے.
ٹھیک ہے. وہ عالیان کے ساتھ آگے نکل آی ہے لیکن اب اگر وہ گردن موڑ لر پیچھے دیکہتی ہے تو جانتی ہے کہ پیچھے کتنی توڑ پہوڑ کرتی آی ہے. اور اس توڑپہوڑ میں سب سے زیادہ نقصان میں ویرا ہئ ہے. ”
انسان اپنے عمل میں کتنی ہئ کھرا کیوں نہ ہو, کہیں نہ کہیں وہ اتنا پست سرور ہو جاتا ہے کہ خود سے بھی نظریں نہیں ملا پانا. ویرا کی سورت یہ پستی اسے یاد رکہنی ہوائ.
اگلے دن جب اس کی فلایٹ تہی پاکستان کئ تو رات کو سوتے میں غیر معمولی آوازں کے ارتعاش سے اس کی آنکھ کھل گی. دن بہر اس کی عالیان سے بات نہیں ہو سکی تھی کہ وہ اسے بھول گیا آخر بھول گیا.
وہ چند دنوں سے کافی مصروف نظر آرہا تھا اس سے کھڑے کھڑے مل جاتا اور ماما مہر کے ساتھ باتوں میں مصروف رہنا. اس کے سامان کو اس نے معنی خیزی سے دیکھا اور کوئ تبصرہ نہیں کیا اور اسے یہ سب برا اور اسے کوئ فرق نہیں پڑ رہا ھے.. یعنی محبت پھر سے کم ہونے لگی ہے.دونوں کے درمیان متوقع ضروری باتیں ایک طرف رہ گئیں اور جیوں رہ گئیں وہ سوچتی رہ گئ
تو رات کے پہلگ پہر اسکی آنکھ کھلی اسے سمجھ نہیں آئ کہ اتنی ٹھنڈ میں سادھنا نے اسکے کمرے کی کھڑکی آخر کس کے لیے کھول دی کہ جو براازیلا میں گولی سے نہیں مری یہاں ٹھنڈ میں مر جائے.. جب وہ سوئ تھی کھڑکی بند تھی اب کھڑکی کھلی تھی اور ٹھنڈی ہوا فرصت سے اندر آ رہی تھی اور ساتھ اپنے سنگ کچھ اور بھی لا رہی تھی
یہ ننھی منھی چھوٹی بڑی گھنٹیوں کے ہوا کے دوش پر بجنے کی آوازیں تھیں .. وہ زیر لب ہنسی .. یہ میرا خواب ہے.. تمہیں تو پھر آگے بڑھنا چا ہیے. وہ کھڑکی تک آئ
دھند میں لپٹے درخت پر شٹل کاک کے بیرونی دیوار پر لگی لائٹ ایسے پڑ رہی تھی کہ وہ آدھا اندھیرے میں تھا آدھا نیم روشنی میں اور جو نیم روشنی میں تھا وہ رنگ برنگی اشکال میں جھولتے کارڈوں سے سجا تھا اور وہ اس دو شیزہ کی طرح مسکرائ جسے اسکا غمشدہ جوتا مل چکا تھا
حال ماضی کے درخت کی شاخوں پر فاتح ہونے پہ متبسم ہے تو شہزادے نے جان لیا کہ اسے کیا کرنا ہے اور ادھوری کہانی مکمل کرلی گئی ہے اس نے ھرم.کوٹ پہنا دائیں ہاتھ سے مفلر کو گردن پر بل دیے بائیں ہاتھ سے اسے کام.کرنے میں مشکل ہوتی تھی لیکن اب یہ مشکل.رفع ہو گئ تھی
درا صل سارے ہی دربدر برازیلا کے اسپتال میں ہی رفع ہو گئے تھے اس نے ہر رات درخت پر جھولتے پیغامات پڑھنے کے خواب دیکھے تھے اس کے خواب نکل کر حقیقت میں بدل گئے وہ باہر آئی اور گھوم کر کمرے کے سامنے لگے درخت کی طرف آئی یہ میرا خواب ہی ہے ہاں ضرور خواب ہی ہے وہ بڑبڑائی پیغامات مختلف رنگوں سے جھول رہے تھے
عالیان :سکے پر کند نام امرحہ کی طرف اچھالا جو اس کی پیشانی پر سج گیا
امرحہ:اسی سکے پر کند نام امرحہ نے عالیان کی طرف اچھال دیا جو اس کے انکھ کے پاس دمک اٹھا عالیان اندھیرے حصے میں کھڑا تھا امرحہ اسکی موجودگی سے انجان تھی اس کا خیال تھا امرحہ کو درخت تک لانے میں بہت دشواری ہو گئی مگر ایسا نہیں ہوا اندھیرے سے روشنی کی طرف اس نے قدم بڑھائے

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: