Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 57

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 57

محرم کے کانوں میں سر گوشیاں عیاں کرنے کو لپکیں اور پس منظر میں الله رکھا رحمان کی رازو نیاز کرتی دھنیں پریم پریت کے سرگم پر دل دھنتے محو اظہار ہو گئیں
دونوں اپنی اپنی منزل طے کر رہے تھے امرحہ کا خیال تھا کے اس یسج لڑی کو کارل اور سائی نے مل کر سجایا اور چلے گئے ۔اس نے ہاتھ بڑھیا اور ہوا میں جھولتے پیغام پکڑ کر پڑھنے لگی۔
میں نے تمہیں بہت یاد کیا ۔
دلفریب خوشی کے احساسات امرمہ کے دل پر نازل ہونے لگے وہ دوسرا پیغام پڑھنے لگی
تم ایک جادو گر ہو امرحہ امرحہ یوں مسکرائی جیسے اسکی بات چرا لی ہو
جب تم نے رونا شروع کیا میرا دل چاہا میں بھی تمارے ساتھ رو دوں کیونکہ ایک ہی جیسے لوگوں کو ایک ساتھ موقع کب ملتا ہے
امرحہ نے قہقہہ لگایا اور ڈر گئی کیونک اندھیرے میں درخت کے پیچھے سے عالیان سامنے آ گیا
اوو تم یہاں ہو؟
ہاں تو مجھے کہاں ہونا چاہئے
جہاں غائب رہنے کے لئے تم موجود رہتے ہو۔اسے یاد ایا وہ تو اس سے ناراض تھی ۔
وہ محبت سے اسے دیکھتا رہا اور یہ ناراض ہونا فرض سمجھتی حق بھی
میں نے ان پیغامات کو جلا ڈالا تھا میری یاداشت اچھی ہے دن رات لگا کر پھر سے لکھ لیے۔وہ اپنے غائب رہنے کی وجہ بتا رہا تھا وہ مکمل امرحہ سے چھپا رہا تھا کہ کیا غلطیاں کر رہا ہے ۔
تماری بالوں کی نوکیں تماری آنکھوں کو پریشان کر رہی ہیں
کیا میں تماری انکھوں کو اس پریشانی سے بچا لوں؟
اس نے مزہب انداز سے پوچھا اور جواب کا انتظار بھی نہیں کیا اس کی آنکھوں کو پریشانی سے بچا لیا
اپنی پیشانی پر اس کا لمس محسوس کرتے ہوئے وہ زرا پیچھے ہوئی اور سر اٹھا کر پیغام پڑھنے لگی۔
اس نے ایک چالاکی کی تھی دوسری زبانوں میں بھی پیغام لکھے تھے تا کہ امرحہ اس سے ان کے مطلب پوچھے وہ دو دن سے بھاگ بھاگ کر مختلف ہال میں جا کر لکھواتا رہا وہ ہنس ہنس کر لکھتے رہے اگر امرحہ گوگل کرتی تو سب کا مطلب اس پتہ چل جاتا کے عالیان مجھے اجازت دو میں تماری ناک پکر لوں کارل کے ہاتوں آنکھوں کے اشاروں سے کچھ ایسا مطلب ہی نکل رہا تھا ۔
کیا تم نے ٹھیک سے ناک صاف کرنا سیکھ لیا
نہیں
گندی چاکلیٹ کے ساتھ ناک بہتی ہے
اور چینی میں ایک جملہ عالیان تم ایک اچھی لڑکی ہو بلکہ تم میں بہت ساری لڑکیاں چھپی ہوئی ہیں
اور جاپانی جملے کا ترجمہ خدا کے لیے اپنے ایشین فیلنگ کو سنبھال کر رکھو آدھی یونی ان سے الجھ کر زخمی ہو چکی ہے جو بچی ہے وہ زخمی ہونے کے لیے قطار میں کھڑی ہے
اور مصری جملہ تھا
شکر ہے خدا کا ہمارا مانچسٹر ڈوبنے سے بچ گیا
اور کورین جملہ عالیان مجھ پر شکر لازم ہے لکھنے کے لئے کہا تھا اور کچھ یوں لکھ گیا
ہم بھی مانچسٹر کی پیداوار اپنی امرحہ لاہور پر اترے گی انہیں بھی معلوم ہو دن میں تارے رات میں سورج کیسے دکھتے ہیں پھر کیا، وہ شکر ادا کریں گے
اگلا جملہ اطالوی میں تھا وہ وہاں پہنچ گئی یہ کیا لکھا، ہے اس نے زمین پر گھٹنے ٹیک دیا، اس کا ہاتھ پکڑ لیا اس پر یہی لکھا ہے میرے سامنے جھک کر میرا ہاتھ تھام لو۔
اتنے چھوٹے جملے کا اتنا بڑا مطلب
ہاں جیسے ایک امرحہ کا مطلب سارا عالیان
اس سے اگلا پیغام فرنچ میں تھا اس نے چور آکھوں سے عالیان کو دیکھا اور پوچھنے کی غلطی نہیں کی ۔مگر بتانے کی جلدی کی اس کا مطلب ہے میرا دوسرا ہاتھ بھی تھام لو ۔۔بیٹھے بیٹھتے ہی اس نے اس کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑ لیا
اس بار اس کی ہنسی اتنی گونجی کے سیف الملوک میں پریاں کی آنکھوں میں چمک اتر آئی ہو جیسے۔
ایک پیغام کو وہ دوبارہ دوہرانے لگا، ہاتھ پکڑ کر امرحہ مجھ سے شادی کرو گی۔؟ جان کر، دوہرایا اس نے
امرحہ کا سارا وجود ہی خوف میں سمیٹ آیا اور اسے یاد آیا زندگی بھی کن کن مراحل سے گزارتی ہے وہ سب پیچھے رہ گیا، تھا اگے اب بڑھنا، تھا
محبت پر فرمان غالب آ گیا اور فراق رخصت ہو گیا محبت کو من کر کے محرم بنا دیا۔اب نہ تکرار کی ضرورت رہی نہ انکار کی۔

Read More:  ایک تھی شہزادی از مریم فاطمہ

وہ لاہور واپس آ گئی اور دیکھ کر بہت خوش ہوئی گھر ایسے سجا تھا جیسے کوئی اہم شخصیت آ رہی ہے اس کا نیا کمرہ بہت سجایا گیا مگر اس نے وہ حماد کو دے دیا خود اپنے اور دادا کے کمرے میں رہی
دانیہ کی منگنی ٹوٹنے کی خبر تو اسے مانچسٹر میں ہی مل گئی تھی واپس آ کر پتہ چلا خاندان سے تعلق بھی اب برائے نام رہ گیا
سب گھر والے والوں کو اس کے زخمی ہونے کا دادا نے بتا دیا، تھا گولی لگنے کا نہیں دادا اکیلے ہی اسے ائرپورٹ لینے آئے تھے وہ سمجھی نہیں تھی کیوں کیونکہ وہ گلے مل کر بہت رونا چاہتے تھے اسے سمجھ نہیں آ ریی تھی کیوں رو رہے ہیں ابھی وہ ٹھیک ہوئی تھی اسے دادا کی حرکت مشکوک لگ رہی تھی بلکہ دادا سے ہی ڈر لگ رہا تھا
یہ اتنا دور رہنے کا اثر تھا یا زخمی ہونے کا دادی اماں اس سے اکلوتا ہونے جیسا سلوک کر رہی تھی اس کے آنے کے تین گھنٹے بعد ہی تینوں میں جنگ چھیڑ گئی حماد علی اور دانیہ اپنی اپنی چیزیں لے کر قعلہ بند ہو گئے تینوں نے اس کا سامان کھول کر خود ہی سب کچھ نکال لیا تھا تین گھنٹے بھی پتہ نہیں کیسے روکے رہے
اس کو آئے ایک ہفتہ نہیں ہوا کے اس نے سنا، دادی کسی فیملی کو بلا رہی ہیں اس نے بہت آرام سے خود کو واش روم میں گرا لیا اور ظاہر کیا کہ اس سے تو چلا نہیں جاتا
آنکھوں کے اگے اندھیر چھا جاتا اور وہ بات کرنا ہی بھول جاتی سب ڈرامہ کیا
دادا البتہ زیرِ لب دیکھ کر ہنستے اس نے سوچا یہ اپنا شہریار تیار کر کے بیٹھے ہیں ایک دو شہریار دادی اماں کے پاس بھی ہیں
اس نے اور عالیان نے سب معاملات میں بات کی تھی امرحہ نے اس لیے نہیں کی فلحال کچھ بگاڑنا نہیں چاہتی تھی وہ یہ سب واپس جا کے کرنا چاہتی تھی حالات جیسے تھے ویسے تھے بس فرق تھا اس بار عالیان اس کے ساتھ تھا دادا کو منانا، تھا
عالیان نے اسے بتایا تھا دادا کی اور اس کی بات ہوتی رہتی ہے
تم سے ملنے کچھ لوگ آ رہے ہیں جس بسر اس نے معزور کا ڈرامہ کیا دادا وہی آ کر بولے
لیکن میں تو چل نہیں سکتی کیسے ملوں گی؟
آپ بھول رہے ہیں برازیلا میں کوئی گولی لگی تھی گولی سمجھتے ہیں آپ وہ گولی زرہ سی نظر آنے لگی۔
ہاں گولی مطلب گولی ہی دادا ہنس پڑے۔تو گولی کھانا آسان ہے اتنا درد رہتا مجھے چکر بھی آتے ہیں مانچسٹر سے لاہور صرف آپ کے لیے آئی ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ٹھیک ہو گئی مجھے بیمار سمجھا جائے دادا
وہ بیمار کے کمرے میں آجائیں گے دادا اس کے انداز سے محفوظ ہوئے ۔
ہو سکتا ہے اس ٹائم میں سو رہی ہوں وہ نیم دراز ہو گئی
جب تم جاگ رہی ہو گی وہ تب آئیں گے
میرے کمرے سے دوائیوں کی بو، آتی ہے مجھ سے بھی سادھنا کہتی ہے چھی چھی منہ بنانے میں تو اس کا جواب نہیں ۔
دادا بہت دیر ہنستے رہے پھر بولے میں ان مہمانوں کو انکار کر دوں کے تم نہیں ملنا، چاہتی
جی بالکل پھر کبھی سہی
پھر کب تم مانچسٹر چلی جاؤ گی لیڈی مہر کے پاس کئ وہ تمارا ہاتھ نہ مانگ لے
اس نے چونکنے میں وقت لیا کیونکہ بات دیر سے سمجھ آئی
آپ مزاق، کر رہے ہیں نا، دادا
نہیں امرحہ اب مزاق نہیں انہوں نے سنجیدگی سے کہا
سنو میری پیاری مانچسٹر سے دو خوبصورت لوگ لاہور آئے ہیں لیڑی مہر اور ان کا بیٹا عالیان اس وقت وہ ہوٹل میں ہیں ابھی ان کے ساتھ چائے پی کے آ، رہا ہوں کل دن میں عالیان ہمارے گھر آئے گا ۔
امرحہ کے دیکھنے اور سننے کےا نداز میں بے یقینی تھی.
آپ کیا کر رہے ہیں دادا؟اس نے سہم لر پوچھا اس کا رنگ پیلا پڑ گیا. اور اس کے شانے میں تکلیف اٹھی اور بڑہنے لگی.
“وہ سب جواب میں تمہارے لئے کر سکتا ہوں. مجھے تمہیں کچھ باتیں بتانی ہیں امرحہ! تم جانتی ہئ ہو کہ میری ماں اس کے لئے مر گئ تھیں کہ انہیں سانپ نے کاٹ لیس تھا اور ان کا بروقت علاج نہیں ہو سکا تھا. ہم سب بہن بھائ ان کے گرد جمع ہو کر رو رہے تھے اورمیںں دیکھ رہا تھا کہ کیسے موت ان کئ سفیدی کو سیاہی میں بدل رہی ہے. وہ میری زندگی کا سب سے درد ناک وقت تھا اور دوسرا درد ناک وقت وہ تھا جب تم میرے سامنے بیٹھی رو رہی تھیں. امرحہ تمہیں بھی سانپ نے کاٹ لیا تھا اور زہر تہماری آنکھوں سے پھوٹ رہا تھا وہ سنگ چور تھا اور اس کا زہر تمہاری رگوں میں دوڑتا مجھے دکھائ دینے لگا تھا. تمہاری سورت کئ سیاہی نے میری آنکھوں کا نور جزب کرنا شروع کر دیا اور میں جان گیا کہ بر وقت علاج نہ ہوا تو کون تمہیں مرنے سے بچا سکے گا. میں نے عالیان کے لئے لیڈی مہر سے بات کرنا چاہی لیکن مجھے سادھنا نے بتایا کہ عالیان اور ویرا شادی کر رہے ہیں . میری غیرت نے گوارانہ کیا کہ میں عالیان سے بات کروں. لیکن میں خدا کے خدمت میں اپنی بات رکہ دی ہے حقیقتاً یہ مجھے اس وقت معلوم ہوا جب میں نے برازیلا میں اس سے بات کی. ”
………………………
پہلی گفتگو کے بعد دوسری گفتگو ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ان کے درمیان ہوئ. دادا نے عالیان کو فوں کیا تھا
“تمہیں حیرت ہوگی میری بات سن کر لیکن اگر تم یقین رکہو کہ میں جہوٹ نہیں بول رہا تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے ایک دم سے تمہیں اپنے دل کے بہت قریب پایا ہے جنتی ہی قریب امرحہ ہے.میں ان احساسات کئ قدر کرتا ہوں جن کے زیر اثر تم اس حالت میں نظر آرہے ہو. میں ایک بوڑھا انسان ہوں میری سوچین بھٹک بھٹک جاتی ہیں لیکن میری ایک سوچ تم پر آکر ٹھہرا گئ ہے کہ میں نے جسیے انسان کے بارے میں امرحہ کی باتیں لاپروائ اور تنفر سے جیون سنیں . میں نے اس بات کو معمولی کیوں جانا جب اس نے کہا کہ تم ایک اچھے انسان ہو. ”
عالیان خاموشی سے سب سنتا رہا اور حقیقت یہ تھی کہا اسے اس بات کی پروا نہیں تھی کہ دنیا میں اپنی عظمت کئ دھاک کس کس پر بٹھا چکا ہے اسے سرف ایک ہی دکھ تھا کہ جو پیغامات اس کے لے لکھے گۓ اس نے وہ نہیں لیے اور جو ہاتھ اس سے چھوٹ گیا اس نے وہ مضبوطی پکڑ کیوں نہ لیا. اس وقت اس پر اپنی ذات کئ ساری پستیاں اور خرابیاں عیاں ہوگیں اور اس نے اپنا ساری بد سورتی دیکھ کئ.
“کبھی کبھی ہم بوڑھے کچھ باتیں دیر سے سمجھتے ہیں. “دادا نے یہ آخری بات کی جو ایک پچھتاوے کا احساس لئے ہوے تھی……….
“تم نے مجھ سے کہا کہ انسان کے ہجوم میں تمہیں ایک انسان ملا جس کئ آنکھ میں رحم دلی اور اخلاق میں نرمی ہے. میں یہ کیسے بھول گیا کہ ساری زندگی تم نے بے رحمی اور بد اخلاقی ہی دیکھی تھی تو اب اس کی اصل قدر دان تم ہی تو تھیں . تم نے کہا امرحہ تمہیں ہمیشہ اپنی قسمت پر شک رہا جو عالیان کے ملنے سے رشک میں بدل گیا اور تم نے کہا امرحہ کہ مشرق ایک گنجان خط ہے, فلسیفوں کے ان فلسفوں سے بھرا ہوا جن کے پنیدے میں تعصب ہوتا ہے اور کنارے پر منافقت.
تم نے اتنی بڑی بات کہہ دی میں کی راتیں اس سوچ کو لے کر جاگتا رہا کہ تم نے اتنی بڑی بات کسے سکھ کئ. تم معاشرے کئ جڑوں میں کب گہس گیں اور کھری کھوٹی حقیقت کیسے اکھاڑ لائیں.؟؟؟
تو تم واقعی میں بدل چکی تھیں ۔مجھے پہلے اس سوچ نے پریشان رکھا پھر جب میرے دل سے خود ساختہ تعصب چھٹا تو مجھے تم پر فخر ہوا
ہاں امرحہ قیمتی انسان سے مطلب حسب و نسب
میں یہی چاہتا تھا تم ہم دو میں سے ایک کا انتخاب کر لو
امرحہ کچھ وقت لگتا ہے ہم اپنے آپ کو پا ہی لیتے ہیں اور میں نے بھی اپنا کھرا کھوٹا پا لیا تمارے پاس کوئی آئلہ نہیں تھا انسان کے ناپنے کا پھر بھی تم نے جان لیا انسان کس کو کہتے ہیں ۔
اگر تم بے قصور ہوتے ہو تو قصور ہمارا بھی نہیں ہوتا ہاں امرحہ ہمیں یہ مان رہتا، ہے کہ ہماری اولادِ ہمارا سر نیچا نہیں ہونے دے گی ۔میرے جیسے اولاد کی خوشیوں کو نیچا نہیں ہونے دیتے۔ایک دن میں پارک میں بیٹھا ہوا تھا دیکھ رہا تھا بچے پرندوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ایک بچے نے اپنے باپ سے کہا مجھے باڑنا ہے باپ نے اسے کندھے پر اٹھا لیا، اور بازوں اس کے پکڑ کر کھول کے بھاگنے لگے اڑنے کے انداز میں وہ ایک اچھا انسان تھا مجھے سیکھا گیا کے میں تمارے دو پر کیوں نہیں بن گیا تاکہ تم اڑ سکو میں نے تمہیں موت کی طرف کیوں دھکیل دیا میں نے تمارا سارا جوش خروش ختم کر دیاتمارے مقصد ختم ہو گئے تم بجھ گئی میں نے پھر اپنا آپ تمہیں دے دیا.یہی سیکھا انسانوں کی قدر کرو انہیں گم نہیں ہونے دو۔
لیڈی مہر نے مجھے خود فون کیا تھا مجھے بہت سارے حساب کتاب کرنے ہیں اسی لیئے انہیں اور تمہیں بولایا
میں نے ہی انہیں منا کیا تھا میرے انے کا نہیں بتائیں مجھے پتہ تھا تم منا کر دو گی واجد سے ڈراؤ گی۔پھر خود بھی نہیں آتی کیونکہ تم سمجھتی ہو اس صورت حال کو
بابا نہیں مانے گئے امرحہ ڈر گئی
وہ بعد کی بات یہ اگر تمارے شانے میں گولی کے اثرات کم ہو گئے تو لیڈی مہر کے لیے کمرہ تیار کر دو وہ ہمارے گھر رہیں گی ان کے آنے کی اطلاع تماری دادی اماں کو دے دی
شانے کی تکلیف تو ختم تھی دماغ میں تھی بابا اور عالیان یہی سوچ رہی تھی
اس نے ہوٹل کی شاپ سے شلوار قمیض خرید کر پہن لیا
شلوار قمیض مجھ پر سوٹ کر رہی ہے اس نے ماما مہر سے پوچھا
یہ بنی ہی تمارے لیے ہے اس کی پیشانی چوم کر انہوں نے کہا
اسے تسلی نہیں ہوئی کیونکہ وہ تو ماں ہیں ایسے ہی بول سکتی تو اس نے ہوٹل کے باہر اسٹاف سے پوچھا سب نے ہنس کر کہا ہاں
اس نے سوچا ہوٹل والے ہیں اخلاق نبھا رہے ہیں لاہور والوں سے پوچھنا چاہئے ۔سڑک پر دو چا نہیں آٹھ دس لوگوں سے پوچھا وہ ہنس کر جواب دیتے اسے دل چاہا رہا تھا سب کو گلے لگا لے سجنو بیلیو میں آج لاہوری ہوایا۔
آج سے یہی میرا لباس ہے میں بھی لاہوری ہوں آپ کھیر کو انگلی سے چاٹتے ہو میں بھی آج چاٹوں گا ابھی نیا ہوں پتنگ بازی بھی سیکھ جاؤں گا نہاری پائے میں نان ڈبو ڈبو کر کھایا کروں گا ۔پھر امرحہ کو کال کی امرحہ کی دادا سے بات ہو چکی اسے پھر بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ عالیان لاہور آ چکا ہے ۔۔
امرحہ میں لوگوں سے پوچھا یہاں برف پڑھتی ہے انہوں نے کہا اتنی پڑتی ہے کہ ہم مہنوں گھر سے نہیں نکلتے
امرحہ ہنس، دی اور
اور یہ کہ میں ایک عورت سے پوچھا یہ امرحہ کہاں ملے گی الٹا وہ مجھ سے پوچھنے لگی کے وہ واپس آ گئی اتنی مشکل سے لاہور سے نکالی تھی اتنا تنگ کر رکھا ہے تم نے لوگوں کو
ہاہا مجھے سارا لاہور تو نہیں جانتا
لیکن سارا لاہور اب مجھے ضرور جان جا ئے گا۔
ایسے خوش تھا جیسے شہرِ لاہور کی چابی اسے پیش کر دی ہو
ضرور جان جائے گا اتنا چلا کر جو بول رہے ہو امرحہ نے اس کی خوشی محسوس کر لی تھی
چلا نہیں رہا خوش ہوں خواب میں اس شہر کی سڑکوں پر تمہیں ڈھونڈتا رہا ہوں اب خود نہیں گم جانا پیچھے شور بہت ہے
ہاں سفر میں ہوں اس لیے
کہاں کا سفر
اب مجھے کیا پتہ ڈرائیور چلا رہا میں پیچھے صبر بچے سے پوچھتا ہوں
یہ تمارے ساتھ بچے کیا کر رہے ہیں؟
سکول کے بچے ہیں یار
تو بس میں بیٹھے ہو؟
نہیں رکشے میں
کون سے رکشے میں؟
جس کے اگے پیچھے 5 6لوگ بیٹھتے ہیں

Read More:  Chand Mera Humsafar Novel By Hina Khan – Episode 5

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: