Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 58

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 58

اف عالیان تم چاند گاڑی میں بیٹھ گئے
اسے چاند گاڑی کہتے ہیں سو کیوٹ
میں چاند گاڑی کو مانچسٹر کی سڑکوں پر بھاگتے دیکھ رہا ہوں تم نے کہا 5 6 اس میں تین اگے تین پیچھے بیٹھتے امرحہ کو اس کی فکر ہوئی کے تنگ بیٹھتا ہے ہم تنگ نہیں ہم پانچ پیچھے بیٹھے ہیں
پانچ امرحہ چلا اٹھی
ہاں امرحہ تین سیٹ پر ہیں دو بچے گھٹنوں پر ہیں
عالیان کا فون جا کر سڑک پر گرا بچوں نے شور ڈالا رکشہ روکو پھر جا کے فون اٹھا، لائے اس نے ان کیا امرحہ کی کال آ رہی تھی وہ فون گر گیا تھا وہ سر مسل رہا تھا جو زور سے لگ گیا تھا
تم تو نہیں گرے نا تو کوئی ٹیکسی نہیں لے سکتے تھے میں ٹیکسی کر رہا تھا پھر یہ چاند گاڑی پسند، آ گئی ہوٹل والے تو سائیکل دے رہے تھے مجھے رستہ معلوم نہیں تھا واپس، کر دی اگر تم سائیکل پر ہو رستہ بتاتی تم لاہور گھوم لیتے۔
ہاہا مجھے خود نہیں آتے رستے اپنے ساتھ آپکو بھی گم کر لیتی
اچھا، آؤ پھر گم ہو جائیں امرحہ عالیان کے علاوہ کسی کو نہیں ملتے۔
ہم نہیں میں نقشہ لے کر آ جاتا
یہ تمہاری یونی نہیں کے نقشہ لے آتے
میں امرحہ نہیں نقشہ ہاتھ میں لے کر گم جاؤں
دادا تو ملنے نہیں دیں گے اپنے گھر کا ایڈریس دو میں کھڑکی تک ا جاؤ گا
یہ مانچسٹر نہیں کے تم عمارتوں کو پھلانگ کر آ جاؤ
کیوں
یہاں ساتھ ابا، جی بھی ہوتے یہاں
اپنے پاپا، سے ڈرا رہی ہو میں ڈرنے والا نہیں
مینارِ پاکستان کے پاس چاند گاڈی رکی اس نے سلفی لی اور اپ ڈیٹ کر دی
کارل کو بھوکا کمنٹ آیا یہ تمارے ساتھ بیٹھے بچے کیا کھا رہے ہیں بونے چنے کھا رہے اور شکر کر رہے کارل جیسا بھوکا نہیں اور عالیان جیسا دل نہیں
عالیان نے لکھا اس کے کمنٹ کو ہر حال
میٹ نے لائک کیا۔
©©©©©©©©
شاہی مسجد میں نماز کے بعد وہ وہاں کھومتا رہا کاغذ کی کون میں بھنے چنے کھاتا رہا پھر دادا آ ملے اور لیڑی مہر کو گھر چھوڑ آئے تھے
تمارے دل میں شاید ہو کے تمارا، ویل کم اچھے سے نہیں ہوا، امرحہ کے گھر کی طرف سے میں ہی تمہیں آ کر مل رہا ہوں
نہیں میں نے ایسا کچھ محسوس نہیں کیا میں یہاں اجنبیت محسوس نہیں کی میرے ساتھ میرے گھٹنوں پر بچے بیٹھے اپنے ہاتھ سے میرے منہ میں چنے ڈال رہے تھے بہت اچھا لگا اس سے اچھا کیا ویل کم ہو گا
دادا کو عالیان کی بات بہت اچھی لگی
کیا اب ہم غور طلب باتیں کریں وہ کھانا کھا چکا تو دادا نے پوچھا ۔
اس نے سر ہلا دیا
میں نے یہاں آنے سے پہلے کہا تھا صرف ایک بار اگر تم اپنے والد کو ساتھ لے آو تو آسانی رہے گی بے شک اس کے بعد تم ان سے کبھی نہیں ملنا تو تم نے انکار کر دیا
کیا تم یہ کہہ سکتے ہو کے لیڈی مہر تماری والدہ ہیں
دادا اچھی طرح جانتے تھے وہ بہت بڑی بات کر رہے ہیں اور واقعی بڑی تھی عالیان کے چہرے کا رنگ ایک دم بدلا
ماما مہر میری ماما ہی ہے مگر ماما مارگریٹ کی موجودگی چھپانا ان پر ظلم ہے اور میں دوسرا انسان ہوں گا جو ان پر ظلم کروں گا میں آپ سے درخواست کرتا ہوں امرحہ کے گھر والوں کو ماما مارگریٹ کا بتائیں پہلے سے ہی اس نے بہت ٹھہر ٹھہر کر بات کی ۔
تم یہاں کے مسائل کو نہیں جانتے
میں اپنی خوشی کے لیے اپنی ماں کو کمتر کیسے کر دوں
عالیان امرحہ کا باپ نہیں مانے گا

عالیان خاموش ہو گیا جو میٹھا کھا چکا تھا وہ کڑوا ہو گیا تھا
دادا کے ک احساس تھا اس کا دل دکھایا ہے انہوں نے فون پر بہت باتیں کی مگر یہ بات سامنے کرنا چاہتے تھے
شاید تم سوچو واجد ایک جاہل انسان ہے تو اس جیسے سب باپ ایسے ہی ہیں
لیکن دراصل یہ ہمارا حساب کتاب ہے سیدھا سیدھا حساب کجھور کے درخت سے جو اترے وہی کجھور جو جھاڑیوں سے ملے وہ کھجور نہیں ہوتی ہم لوگ بنیاد کو دیکھتے ہیں عالیان
ہمارے یہاں شادی دو لوگوں میں نہیں دو خاندانوں میں ہوتی ہے اور دو خاندان مل کر نھباتے ہیں
دنیا بھر میں گھوم لو کوئی باپ اپنی اعلاد کو نقصان نہیں سوچتے اور کوئی ماں نہیں جو بچوں کی خوشی کے لیے کوشش نہیں کی ہو امرحہ کا باپ بھی اس کا برا نہیں چاہئے گا نہ ماں اس کی خوشی سے حاسد کرے گی لیکن کچھ خانہ پوری کرنی پڑتی ہے ضروری ہے ۔دادا کہہ کر اسے دیکھنے لگے۔
عالیان کو ایک بات سمجھ آ چکی تھی اس نے کتنی اسانی سے کہہ دیا تھا اس خطے کا سفر نہیں کرنا، جہاں انسان سے زیادہ رسموں کو اہمیت دی جاتی ہے دراصل رسموں کا احترام ہی انسان کا احترام ہے
مجھے تماری ایک بات بہت اچھی لگی تھی تم نے امرحہ کو اگسایا نہیں ورنہ زمانہ ایسی ترقی کر چکا یہ کام مشکل نہیں تھا
نہیں میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا اگر کرتا بھی تو امرحہ کبھی نہیں مانتی۔
میں جانتا ہوں تم کل آ رہے ہو پر کوئی بات نہیں کرنا بعد میں دیکھا جائے گا دادا کوئی زیادہ پر امید نہیں لگ رہے تھے
©©©©©©©©®
تمارا گھر بہت خوبصورت ہے امرحہ
شکریہ ۔۔ان کے سونے سے پہلے ان کے پاس بیٹھی تھی اماں اور دادی سے بھی اچھا میزبان ہونے کا ثبوت دیا
لیڑی مہر اور ان دو میں اچھی خاصی باتیں ہو گئی تھی
مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے تمہیں گھر میں دیکھ کر
مجھے بھی ۔۔شالٹ کا ہميشہ کہنا، ہے عالیان میرا لاڈلا ہے اب اس نے مجھے صاف صاف کہہ دیا، خبر دار جو امرحہ کو اپنی لاڈلی بنایا اگر ایسا ہوا تو وہ اہنی کہانیاں سنانا مجھے بند کر دیں گی
امرحہ ہنسنے لگی۔” پھر ایسا غضب مت کیجیۓگا۔” اس نے جب تمھیں مورگن کی شادی میں دیکھا تھا تو میرے کان میں کہا تھا۔ “اپ کی بہو خود چل کر آپ کے گھر آگئی ہے۔”
امرحہ ہنس دی، لیکن خوف سے وہ ٹھیک سے خوش بھی نہیں ہو پارہی تھی۔ دانیہ بھی اس کے ساتھ آکر بیٹھ گئی تو لیڈی مہر نے اس سے کہانی کی فرمائش کردی۔امرحہ اٹھ کر کمرے میں آگئ اور دادا کا انتظار کرنے لگی۔
دانیہ کو گوسپ میں کافی دلچسپی رہاکرتی تھی۔ اسی کا سہارا لے کر اس نے اپنی کالج کی لڑکیوں کی الٹی سیدھی کہانی بنا کر سنانی شروع کی اور کہانی اتنی دلچسپ ثابت ہوئی کہ دس منٹ کے اندر اندر لیڈی مہر سو گئیں۔
“دیکھا میری کہانی کا کمال؟” دانیہ نے فخریہ کہا۔
“ہاں دیکھا بوگس کہانیوں پر انھیں ایسے ہی نیند آجاتی ہے۔”
“تم جل رہی ہو۔”
“تمھاری خوش فہمی کو جلا رہی ہوں۔”
اگلے دن لنچ سے پہلے عالیان دادا کے ساتھ گھر آگیا اور کافی دیر تک حماد، علی، بابا اور دادا کے نرغے میں بیٹھا رہا۔ اماں اور دادی سے بھی بات چیت ہوگئی اس کی، کچھ دیر کو وہ ذرا اکیلا ہوا تو اس نے اپنی ایک سیلفی لی اور فخریہ اپڈیٹ کردی۔
“امرحہ کے گھر لنچ کے لیےـ”
“کنجوس امرحہ نے کیا کیا بنایاہے تمھارے لیے؟”کارل کا فوری فون آیا۔
“مانسچڑ کے بھیسنے کارل کا بھیجا پرائم ڈش ہےـ”
“پھر تو مانسچڑ کے دوسرے بھیسنے عالیان کے کان سیکنڈ پرائم ڈش ہوں گے۔”
“ہاہاہا۔”وہ ل کھول کر ہنسا کیونکہ آخر کار وہ امرحہ کے گھر آچکا تھا، لیکن امرحہ کہیں نظر نہیں آرہی تھی۔ اور پھر ڈرائنگ روم سے ملحق ڈائننگ میں اس نے اسے دیکھا۔ وہ میز پر کوئی کھانے کی ڈش رکھ رہی تھی۔ اور اس کا انداز ایسا تھا کہ وہ تو اسے جانتی ہی نہیں ۔۔ تم کون ہو اجنبی۔۔ کیا نام ہے تمھارا۔۔ پر دیسی ہو۔۔ ہمارے دیس کیا لینے آۓ ہو؟
عالیان اسے حیران دیکھتا رہا۔ “یہ امرحہ کو کیا ہوا؟”
لنچ جو امرحہ اور دانیہ کے علاوہ سب نے ساتھ بیٹھ کر کیا، کے بعد دادا نے عالیان کو چلنے اشارہ کیا۔
یعنی یہ کیا عالیان نے منہ بسور لیا۔ اس نے تو امرحہ کا کمرہ بھی نہیں دیکھا تھا،نہ ٹیرس نہ کھڑکی۔ نہ پوعا گھر کہ وہ لاؤنج کے کس صوفے میں بیٹھ کر، لیٹ کر ٹی وی دیکھتی تھی اور کس پر سے سوتے میں لڑھک کر گر جاتی تھی۔ کس دیوار کی کس تصویر کو ٹانگتے اسٹول پسل گیا تھا۔ اور لان کے کس حصے میں وہ کرکٹ کھیلتی رہی ہےاور اس کے گھر کے آس پاس کے وہ کون سے گھر ہیں جن کی ڈور بیل بجابجا کر وہ بھاگتی رہی ہے اور وہ کون سا گھر ہے، جس کی بیل بجاتے اسے الیکٹرک شاک لگا اور گھر میں وہ کون سی اونچائی ہے جس پر سے وہ سپر مین بنی کودنے والی تھی اور وہ کون سی دیوار ہے جس پر ا نے اسکول کا
ہوم ورک لکھ دیا تھا اور بدلے میں اس کے کان لمبے اور پونیں ڈھیلی کی گئی تھیں۔اور وہ لکڑی کی الماری کہاں ہے جہاں وہ چھپ کر بیٹھ جایا کرتی تھی کہ گھر کے باہر ایک شیر آگیا ہے اور وہ ہم سب کو کھا جاۓ گا، بڑا سا منہ کھول کر بس غڑپ کر جاۓ گا ہمیں۔۔ ہاں جی۔
عالیان کو ہوٹل آنا پڑا اور رات کو دادا لیڈی مہر کو بھی ہوٹل چھوڑ گۓ۔ انھوں نے رشتے کی بات کر دی تھی اور عالیان کے لیے امرحہ کا ہاتھ مانگ لیا تھا۔
واجد صاحب نے دادا کے اشارے پر ان سے کہا کہ وہ سوچ کر جواب دیں گے۔ دادا کے علاوہ امرحہ اور امرحہ سے متعلق معلومات سب کو بہت کم تھیں۔ وہ سب بہت اوپر اوپر کی باتیں جانتے تھے۔ جیسے انھیں پتا تھا کہ امرحہ کی لینڈ لیڈی ایک بیوہ خاتون ہیں۔ انھوں نے دس بچے لے کر پالے ہیں۔ اس کا انھیں علم نہیں تھا۔ انھیں پہلے اس بات پر حیرت تھی کہ امرحہ کے آتے ہی فوراً وہ کیوں آرہی ہیں۔دادا نے کہہ دیا کہ میں نے ہی بلایا ہے۔ ان کا بیٹا ہے اس کے لیے امرحہ کا ہاتھ مانگنا چاہتی ہیں۔
“امرحہ اسی گھر میں رہتی ہے جس می یہ لڑکا رہتا ہے؟”واجد صاحب کا پہلا سوال یہ تھا۔
“نہیں لڑکا ہاسٹل میں رہتا ہے۔”
“اپنے گھر کے ہوتے ہوۓ ہوسٹل میں کیاں رہتا ہے؟”
“یہ خاتون مہر جسمانی نقص کا شکار ہوگئی تھیں۔ ان کے ساتھ ہندستانی لڑکی ان کی دیکھ بھال کے لیے رہتی ہے اور امرحہ کی طرح چند دوسری لڑکیاں ، تو لڑکے کا قیام انھیں مناسب نہیں لگا۔”
یہ عالیان کے گھر آنے سے پہلے کی باتیں تھیں، جو دادا نے دادی اماں اور واجد صاحب کو بتائیں۔ وہ چاہتے تھے کہ عالیان سے مل لیں تو باقی باتیں بعد میں ہی ہوں۔ اور سب نے عالیان سے مل لیا اور الفاظ کے استعمال کے بغیر یہ بھی بتا دیا کہ انھیں عالیان سے مل کر کتنا اچھا لگا ہو تو دادا نے باقی باتیں بتانے کا فیصلہ کیا۔
“آپ کہہ رہے تھے کہ امرحہ کے کونووکشن کے لیے آپ مانسچڑ جائیں گے تو اب میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا۔ پھر دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔”
دادا نے اپنے آپ کو تیار کیا وہ اپنے بیٹے سے خوفذدہ نہیں تھے، لیکن وہ چاہتے تھے جو باتیں اب وہ آگے کرنے جا والے ہیں ان پر بھڑکے کے بجاۓ تحمل سے تبادلہ خیال کیا جاۓ۔
“کیا تمھیں عالیان پسند نہیں آیا؟”
“آیا ہے اسی لیے تو کہہ رہا ہو، وہاں چلیں گے۔۔ دیکھ بھال کر لیں گے۔”
“میں نے دیکھ بھال لیا ہے، میں چاہتا ہوں ہم دونوں کا نکاح کر دیں، منگنی کے حق میں، میں نہیں ہوں۔” دادا نے اپنی طرف سے بڑی سمجھداری کا مظاہرہ کیا۔
“آپ نے کہا دیکھ بھال لیا ہے اسے۔ آپ تو خود پہلی بار مل رہے ہیں۔ اور اتنی جلدی کیا ہے منگنی یا نکاح کی۔ کچھ ہی مہینے ہیں نا۔ ہم چلیں گے۔ پھر دیکھیں گے۔”
“ٹھیک ہے ہم مانسچڑ چلیں گے لیکن تم صبروتحمل سے میری چند باتیں سن لو۔”
واجد صاحب کی پیشانی پر پہلی بار شکن نمودار ہوئی۔” کیسی باتیں؟”
“عالیان مسلمان ہے اور بہت اچھا لڑکا ہے۔”
“وہی تو آپ کو کیسے پتا بابا کہ وہ اچھا ہے؟” وہ ہنسے۔
“پتا چل جاتا ہے۔” اس دلیل کو وہ کسی بھی دلیل سے پائیدار نہیں بنا سکتے تھے۔
“ایسے ایک بار ملنے سے نہیں پتا چلتا۔”
“میرا تجربہ اتنا ہوچکا ہے کہ۔”
“میرا تجربہ آپ جتنا نہیں ہوا۔ اور مجھے تجربہ نہیں تسلی کرنی ہے۔”
دادا نے ایسے گہرا سانس بھرا جیسے خود کو تسلی دیتے ہوں۔ “دراصل خاتون مہر ایک بے اولاد بیوہ خاتون ہیں، ان کے شوہر ڈاکٹر تھے۔ ان خوتون نے بچوں کی پرورش کے ایک پرائیوٹ ادارے سے دس بچے لے کر پالے، عالیان کے والد کو نام ولیدالبشر ہے اور وہ اس وقت ناروے میں ہے، ولیسالبشر اور عالیان کی ماں کے درمیان علیحدگی ہوگئی تھی۔” دادا کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کس بات کو پہلے کریں اور کس کو بعد میں۔ وہ ذرا گھبرا سے گئے۔
“تو یہ خوتون عالیان کی خالہ ہیں؟ یا کوئی اور رشتے دار؟” شکن گہری ہونے لگی۔
“یہ اس کی ماں ہیں، پالا ہے اسے۔” دادا شکن کی کہرائی ناپ سکتے تھے۔
واجد صاحب بہت دیر تک اپنے باپ کی شکل دیکھتے رہے ان کی ساری خوشی کافور ہوگئ جو عالیان سے مل کر ہوئی تھی۔
“یعنی عالیان بھی ان ہی دس بچوں میں سے ایک ہے جنھیں یتیم خانے سے لے کر پالا ہے؟”ان کا اندر پھٹ سا گیا ۔
یتیم خانے نہیں بچوں کے
ایک ہی بات ہوئی نا بابا باپ نے کیوں نہیں رکھا اسے؟ وہ عالیان سے اسے کہا نام بھی نہیں لینا چاہتے تھے
دادا جان گئے کہ کیسا وہ لڑکا جس سے واجد خوش اخلاقی سے بات کرتا رہا اب بد اخلاقی سے زیرِ بحث لایا جانے لگا۔
عالیان کی والدہ اسکے پچپن میں فوت ہو گئی تھی دادا نے
کہا
میں باپ کا پوچھ رہا ہوں وہ تلخی سے بولے
باپ اس کا لاپروا، انسان ہے اس کو کبھی بیٹے کی پروا نہیں ہوئی
باقی رشتے دادا نانا ماموں؟
عالیان کی ماں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی ۔
اور اس کے والدین اس کی شادی سے پہلے وفات پا گئے ۔
تو اس کی شادی کس نے کی والید البشیر کے ساتھ؟
ہمارے اور ان کے ماحول میں فرق ہے واجد
رشتوں میں تو فرق نہیں ہوتا خونی ہر جگہ ہوتے
بولیں نا اور باپ نے کیوں نہیں رکھا اسے؟
آپ نے منع کیا تھا میں ان سے کچھ نہ پوچھوں میں یہی سمجھا وہ امرحہ کی لینڈ لیڈی کا بیٹا ہے
باپ نے کیوں نہیں اپنایا وہ بھی ایک لڑکے کو کچھ تو وجہ ہو گئی میں کاروباری آدمی ہوں مجھے پاگل مت بنائیں
امرحہ آپ کی لاڑلی ہے اس کا یہ مطلب نہیں اسے آزادی دے دی جائے ۔یہ امرحہ کے ساتھ پڑھتا ہے نا یہ امرحہ اور آپ کا رچایا ہوا کھیل ہے امرحہ لیڈی کو اسکی ماں بنا کر لے آئی ورنہیتیم خانے ہوتا آزاد معاشرے کی پیداوار کسی کا گناہ
ایسا نہیں ہے دادا غصے سے بولے
تو پھر کیا ہے بابا آپ کے اور امرحہ کے بیچ کیا چل رہا ہے آپ نے اسے مانچسٹر بھیجا میں چپ رہا اب اس کی زندگی کا فیصلہ میں کروں گا باپ ہوں اس کا
عالیان بہت اچھا لڑکا ہے واجد
اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے کیا؟
کیا سب اچھے لوگوں کی پیشانی پر لکھا ہوتا ہے؟

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: