Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 59

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 59

ہاں لکھا ہوتا ہے خاندان باپ دادا شرافت رکھ رکھاؤ۔حسبُ و نسب یہ ہوتی ہیں پریشانیوں کی لکھائی ۔ایک عورت کو اٹھا لائے اس کی ماں بنا، کر ۔
وہ اسکی ماہ ہی ہے واجد
سگی ماں تو نہیں نا پھر۔۔اور باقی کے بچے۔۔وہ سب کون ہیں ۔یہ کیسا خاندان ہے نہ اگے نہ پیچھے ایک عورت اس کے دس بچے۔
ایک عظم ماں کی بے عزتی کر رہے ہو واجد دادا نے دلی افسوس سے کہا۔
آپ نے میری بےعزتی کی ہے ایسے لوگوں کو گھر بلوا کر
کوئی ضرورت نہیں اب امرحہ کو وہاں جانے کی پہلے غلطی کر دی آپ کے حوالے کر کے
کیا بیٹی بیٹی لگا رکھی ہے بیٹی تب ہوتی اس کے درد سمجھتے کبھی آنسو پونچھے اس کے
اسے کھلایا پلایا جوان کیا کیا کم ہے؟
بڑا احسان کیا، ہے کھلا پلا کر جو جیتا ریے ہو کھلانا پلانا ہی سب نہیں ہوتا تم نے محبت کی ادائیگی کب کی تمہیں تو یہ بھی نہیں پتہ کے رونے کے لئے وہ گھر کے کس کونے کی طرف بھاگتی ہے
ہاں میں ایک برا باپ ہوں اب چپ کر جائیں ساری بات ختم
میں فیصلہ کر چکا ہوں آخری رائے تم سے لی ہے فیصلہ میرا ہی ہو گا۔
دادا نے ایسے سنجیدگی اور مضبوطی سے کہا کے واجد صاحب رک کر انہیں دیکھنے لگے۔امرحہ دانیہ کے کمرے میں تھی وہی سب باآسانی سن رہی تھی
آپ مجھے سب سچ سچ بتائیں کیا ہے یہ سب؟
عالیان کی والدہ ایک غیر مسلم تھی اس نے ایک مسلما ولید سے شادی کی عالیان ہوا اور وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا دھوکا دیا اس نے اسے ۔اور دوسری شادی کر لی عالیان کی ماں اور خاتونِ مہر ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتی تھی ۔
واجد اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا جو انہوں نے کہا اسان نہیں تھا
آپ ایک غیر مسلم عورت کے بیٹے کے لیے امرحہ کے رشتے کی بعث کر رہے ہیں۔
تجربے کی آنکھ سے دیکھا ہے میں نے یہ سب دیکھ چکا پہلے بھی دادا اٹھ کر کھڑے ہو گئے ۔کمرے میں دادی اور اماں آ گئی کے بات بڑھ نہ جائے۔دادا نے سب کو دیکھا اور کہا۔امرحہ میری ہے اور اس کے فیصلے کرنے کا حق بھی میرا ہے عالیان بہت اچھا لڑکا ہے مجھے اس کے ماضی سے کوئی سرکار نہیں ۔مجھے وہ پسند ہے میں امرحہ کی شادی اسی سے ہی کروں گا۔
آپ کو لڑکا پسند ہے یا پھر آپ کی لاڑلی اسے خود پسند کر کے لائی ہے؟
واجد تیزی سے کہتے امرحہ کی طرف بڑھے. امرحہ انہوں نے چلا کر بلایا
واجد دادا ان کی طرف لپکے
تمہیں وہاں پڑھنے بھیجا تھا یا یہ سب کرنے؟ وہ دانیہ کے کمرے میں اسکے پاس گئے اور بازو سے جھنجوڑا
دادا نے لپک کر انہیں امرحہ سے دور کیاعماد علی دانیہ سب کمرے میں موجود تھے
جاہلوں والے طریقے نہیں کرو تحمل سے بات کرو۔
کون ہے یہ امرحہ تم جیسے یہاں لائی ہو؟
دادا اسے بازو سے پکڑ کر بڑے جتن سے اپنے کمرے میں لائے
امرحہ رونے لگی یہ اسکی خوش فہمی تھی سب ٹھیک ہو جائے گا۔
بیٹھ جاؤ واجد خدا کے لیے تم وہ ہو اپنی اولاد کے پاس بیٹھ کر پیار سے کبھی بات نہیں کی تمہیں یہ بھی نہیں پتہ امرحہ وہاں کون سے مضمون میں پڑھ رہی ہے اور چلے ہو اس کی زندگی کے فیصلے کرنے تم جسے باپ ہوتے ہیں جن کی اولاد گھٹ گھٹ کر مر جاتی ہے اہنی بیٹی کے پاس بیٹھو اسے سنو اس کی جگہ خود کو رکھو پھر دیکھو
مجھے یہ رشتہ پسند نہیں بات ختم
بس نہیں آپ نے شہریار کی بات کی تھی اس کے خاندان کو بلوا لیں
تو تم نہیں مانو گے
کبھی نہیں میں نے اپنی ناک نہیں کٹوانی خاندان میں
ٹھیک ہے واجد بات ختم دادا نے دادی اماں کو اندر بلویا اور کہا جمعہ کو امرحہ اور عالیان کانکاح ہے میں نے امام صاحب سے بات کر لی ہے ۔
یہ بچگانہ حرکتیں چھوڑ دیں بابا بچگانہ ہوتی تو چھوڑ دیتا میں نے خاندان کے سمجھدار لوگوں سے بھی بات کر لیں
آپ نے ڈھنڈورا پیٹ دیا کیوں؟
دادی اماں کی آواز سے سہم گی امرحہ مانچسٹر بھی دادا کی مدد سے گئ تھی سب پر اچھی طرح بات واضح ہو گئی کہ. اس کی زندگی کے باقی فیصلے بھی انہیں ہی کرنے ہیں
وہ عالیان میں کچھ دیکھ کر ہی تو اس کے حق میں اتنا بول رہے تھے وہ کبھی بھی امرحہ کا برا نہیں چاہتں گے
سنو واجد زندگی میں پہلی بار اس کے دل کی بات کو سمجھو تماری بیٹی اسی لڑکے کے ساتھ خوش رہ سکتی ہے اور تماری مرضی اس میں لازم چاہئے ۔
تو آپ مان رہے ہیں امرحہ ہی لائی ہے اس لڑکے کو؟
میں سوالوں جوابوں میں تم سے نہیں جیت سکتا تم امرحہ کو نافرمانی کی بد دعا بھی دے سکتے ہو مگر یاد رکھنا فرمانبردار اولاد کو بدعا نہیں لگتی امرحہ بالغ ہے اسے اپنے فیصلے کرنے کا اختیار ہے مگر اس نے یہ سب تم پر چھوڑا
فرض میں سب سے پہلا فرض محبت کا ہوتا ہے
دادا نے لیڈی مہر کو سب بات سے اگاہ کیا مگر عالیان کو کچھ نہیں بتایا
ایک بار بابا پھر امرحہ کے پاس آئے
تمارے دادا تمارا نکاح کرنا چاہتے ہیں تم انہیں کہو تمہیں منظور نہیں پاکستان میں کمی نہیں لڑکوں کی
امرحہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی رہی
وہ چلائے امرحہ۔۔۔۔۔
ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے دادا ان دونوں کے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے
میرے لیے کچھ تو آسانیاں پیدا کریں بہت دھمے سے اس نے کہا ۔
جانتی ہو لوگ کتنی باتیں کریں گے
لوگ تو پیدا ہی باتیں کرنے کے لیے ہوئے میں اور تم بھی تو لوگ ہیں آج ہم شروعات کرتے ہیں سب کے خود منہ بند ہو جائیں گے دادا نے بھی آرام سے سب بول دیا ۔
دنیا آپ کے اشاروں پر نہیں چلے گی
دنیا میرے اشاروں پر نہیں چلے گی تو میں بھی دنیا کے اشارے پر نہیں چلتا۔امرحہ کی خوشیاں تو میں ہر گز اس کالی سیاہی سے نہیں لکھوں گا
مجھے معلوم تھا یہی کچھ ہو گا بابا غصے سے چلے گئے دادا اس کے پاس اسے چپ کروانے لگے ۔
اس لیے میں نے تمہیں اور عالیان کو یہاں بلوایا میں چاہتا تو مانچسٹر آ کر تم دونوں کی شادی کر دیتا پھر تمارا باپ بھی کہتا کہ تم نے خود سے کر لی اور میں پردے ڈال رہا ہوں پھر کبھی خاندان والے لڑکیوں کو پڑھنے نہیں بھیجتے باہر بہت سوچا میں نے اس بارے میں اب
ایک آخری حل یہی ہے کہ تم خود واجد کے پاس جاؤ کوشش کر کے دیکھو شاید مان جائے ۔
مجھے ان سے بہت ڈر لگتا ہے
آو میرے ساتھ وہ اسے لے کر اس کمرے میں آ گئے وہ خاموش بیٹھے تھے امرحہ قریب جا کر ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا
مجھ پر وہ بوجھ نہیں ڈالیں جو میں اٹھا نہیں سکوں
بہت مشکل ہو جائے گا پھر سب
میں تمارا باپ ہوں میرا کچھ خیال کرو میں تمارا برا، نہیں سوچوں گا۔
میرے بھلے پر ہاں کر دیں اس نے بڑی مشکل سے یہ الفاظ ادا کیا ۔
یہ کبھی نہیں ہو گا، امرحہ ان کا انکار ہی رہا ۔
وہ ان کا ایسے سن کر کتنی دیر ان کے پاس روتی رہی۔دل میں سوچ رہی تھی دادا بھی نہ مانتے تو یہ ناممکن ہو جاتا۔
جمحے کو تماری بیٹی کا نکاح ہے واجد دادا یہ کہہ کر امرحہ کو لے کر چلے گئے ۔
یہ نکاح کبھی نہیں ہو گا دادا امرحہ اور رونے لگی۔
اگر الله کی طرف سے لکھا ہے تو کوئی بھی نہیں روک سکتا
تمارے باپ نے کہا کے بے دین لڑکے کو لڑکی سونپ کر خود نتائج بھگتنا میں خود ڈگمگا جاتا ہوں بڑے کہتے ہیں کسی کا رشتہ لینا ہو اسکی ماں کو دیکھو اور میں نے خاتون مہر کو دیکھا بہت اچھی ہیں انہوں نے اچھی پرورش کی تو تسلی میں ہو جاتا ہوں
دادا نے بات ختم کی چپ چپ ہو گئے جیسے نیے سرے سے حساب کتاب کر رہے ہوں ۔
لیڈی مہر گھر آئی پھر سے بات کرنے مگر بابا، چپ کر کے گھر سے نکل گئے سب ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے۔
ساری صورتحال عالیان کو خبر ہو گئی یہ بھی کہ امرحہ چاہتی تھی مجھے ابھی کچھ نہ پتہ چلے ٹوٹ نہ جاؤں
پہاڑ تھا کہ سر ہونے کو نہیں آ رہا تھا
لیڑی مہر نے عالیان کو سوچوں میں گم دیکھا اور سمجھایا کہ تم روایتوں کے بارے میں غلط نہیں سوچو امرحہ کے دادا نے ہمیں سب پہلے بتا دیا تھا کچھ نہیں چھپایا گیا سب اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں ایک دوسرے کو غلط سمجھ رہے ہیں امرحہ کے باپ کے لئے تم غلط ہو اور تمارے لئے وہ
ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ ۔خبر دار رہنا سب کا، سامنا کرنا الگ دو باتیں ہیں ماما۔
میں ان کے اسٹور گیا سارا دن خوف زدہ ہی رہ
خود کو بہت کمتر محسوس کیا اور خوف شدت سے لگا کہ وہ میری ماما کے بارے میں کچھ کہہ دیں گے ۔میں ان کو اپنا، سمجھتا ہوں کیونکہ وہ امرحہ کے سب اپنے ہیں ۔لیکن وہ مجھے کبھی اپنا نہیں بنا، سکتے۔
وقت لگے گا، اور سب ٹھیک ہو جائے گا
سب غلط بھی ہو سکتا ہے
غلط بھی ہو تو بھی سوچو کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
امید بڑے کام کی چیز ہے اسے سنبھال کر رکھنا چاہئے
سب پر امید ہونے سے نہیں ہوتا نا ماما
سب کچھ ایک طرف عالیان بری طرح تکلیف میں تھا کے اسے پسند نہیں کیا گیا اسے لگ رہا تھا وہ سب سے پیچھے رہ جانے والا ہے بے کار انسان ہے جیسے ولید البشر اس کی طرف دیکھ کر قہقہہ لگا، رہا ہو کے دیکھ لی اپنی حثیت
تم دو عظیم عورتوں کے بیٹے ہو میرے دل میں تمہاری بہت قدر ہے
یہ دو عورتیں سب کے لیے کیوں عظیم نہیں ہیں اس نے امرحہ کے والد کا نام نہیں لیا۔
تو تمارے لئے ان کی کوئی اہمیت نہیں جو میں اور امرحہ ان کے بارے میں رکھتے ہیں
عالیان شرمندہ سا ہو ایسا نہیں ہے
جمحے کو تمارا نکاح ہے دادا نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا
اپ نے تو کہا تھا اپ نے نکاح والی بات امرحہ کے بابا کو منانے کے لئے کی تھی
میں بس، اس کا ردِعمل دیکھنا تھا اگر مان جاتا تھا بات اور تھی
آپ یہ سب امرحہ کے لیے کر رہے ہیں؟
میں وہ کر رہا ہوں جو مجھے ٹھیک لگ رہا ہے اس میں کچھ بھی غلط نہیں نہ میں نہ تم اور نہ یہ فیصلہ
مجھے نہیں لگتا یہ نکاح ہو گا میں خوف، زدہ ہوں اس نے دل کی بات کہہ دی دادا کے جانے کے بعد دیر تک سائی سے باتیں کرتا رہا اس کے بعد کارل سے کی ۔
امرحہ ویرا سادھنا سے ساری رات رائےاور تسلیاں لیتی رہی
دادا نے یہ بھی امرحہ کے باپ سے کہا کہ تماری بیٹی نے ایک بار خودکشی کی کوشش کی اور مری نہیں اب وہ بنا خود کشی کے مر جائے گی تم قبر پر بیٹھ کر انسو بہنا
بات اس انداز سے کی گئی کے دل رو دینے کو ہو گیا
دادا امرحہ کے پاس آئے وہ سر گھٹنوں میں دیے بیٹھی تھی
میں نے ویزے کے لیے کاغزات جمع کروا دیے ہیں
جلد ہی میں بھی مانچسٹر آ جاؤں گا مجھے یقین ہے واجد دانیہ اور سب کو آنے کی اجازت دے دے گا۔
آپ کیا بات کر رہے ہیں دادا وہ مجھے یہاں سے جانے دیں گے تب نا
امرحہ اب اپنے باپ کی خاموشی کا احترام کرو۔
یہ نکاح جمعہ کو ہو گا ورنہ کبھی نہیں ہو گا
آپ نے نکاح کا فیصلہ ہی کیوں کیا، دادا سال دو، سال ٹہھر جاتے ابا مان جاتے
میری عمر دیکھو امرحہ اتنا بوڈھا سوتا بھی ہے تو لگتا ہے اب آنکھ قبر میں کھولے گی پھر میرے بعد تمارا کیا ہو گا
میں ساتھ ہوں تو واجد نہیں مان را
میں نہیں ہوا تو کیا کر لو گی اس نے اپنی ایک دوست کو گھر آنے کا کہہ دیا تھا
آپ اپنے مرنے کی باتیں ایسے بے رحمی سے کیوں کر رہے ہیں امرحہ ان سے لپٹ گئی
موت تو اپنے وقت پر، آ جاتی ہے کسی سے مشورہ تھوڑا کرتی ہے اگر موت پوچھ کر آتی تو دنیا کا کوئی کام ادھورا نہیں رہتا اپنی ماں کے بعد میں نے تم سے بے حد محبت کی اور اس کی وجہ نہیں جان سکا۔
میں نے جو تمہیں تکلیف دی اسکی جتن کرتا ہوں
آپ نے مجھے کوئی تکلیف نہیں دی
دی ہے میں نے دی ہے اب دعا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔
امرحہ اور دادا ساری رات باتیں کرتے رہے
اس رات کا امرحہ کو صبع ہونے کا شدت سے انتظار تھا وہ اس دن کی روشنی اگے وقتوں کے لیے سنبھال کر رکھنا چاہتی تھی
©©©©©©©©
کیا تمہاری یونیورسٹی میں سب عالیان جیسے ہی ہیں
دانیہ نے پوچھا
نہیں سب الگ الگ ہی ہیں عالیان تمہیں اچھا لگا؟
لفظ اچھا بہت چھوٹا ہے عالیان اور دادا خریداری کرنے گئے ان کا موقع مل گیا
دادا اکثر کہا کرتے تھے امرحہ کی قسمت تم سب پر بازی لے جائے گی دادا کی ساری دعائیں تمہیں ہی لگ گئی ویسے دادا مجھے بھی کہتے رہتے ہیں کہ میں بھی ان کی پیاری ہوں اب دیکھتے ہیں کتنی دعائیں لگتی ہیں مجھے
امرحہ ہنسنے لگی۔
بہت خوش بھی تھی امرحہ اور بابا کا خیال آتے ہی بجھ بھی جاتی یہ خیال آتا امرحہ عالیان کے لیے انکار کر دو یہ شادی نہیں ہو سکتی
ان دنوں وہ سو نہیں سکی کھانا سہی سے کھا نہیں سکی سر میں کیسے درد رہااس کی بھی پروا نہیں کی زندگی ایک دم سے پھر سے ایسی. پیچیدہ لگنے لگی جو کبھی حل نہ ہو سکے۔دادا کی ساری حکمت دھری کی دھری رہ جائے گی
یہ کیا ہو رہا ہے سب معمولی ہے تو مجھے کیوں غیر معمولی لگ رہ ہے وہ یہ سب سوچتی
ادھر کارل کا بس نہیں چل رہ تھا کے اسکرین سے عالیان کا گلہ دبوچ لے
تم شادی کر رہے ہو میرے بغیر
تو نہیں کرنی تھی کیا ؟
زیادہ بکواس نہیں کرو زیادہ ایمرجنسی ہے کچھ دن روکو مجھے آنے دو
حالات کچھ ایسے ہیں کہ ضروری ہے اور یہ شادی نہیں
شاہ ویز کا کہنا ہے نکاح شادی ہی ہوتا، ہے
ارے شادی رخصتی ہوتی ہے نکاح نہیں
امرحہ کے لئے ہم کیسے بھاگ دوڑ کی کئ دن سوئے نہیں وہ ہسپتال تھی تو اور اب شادی ہمارے بغیر کارل اور دکھی لگنے لگا
تم نے تو کہا تھا بس امرحہ کے گھر والوں سے ملنے جا رہے ہو ماما نے مجھے یہی کہا، تھا کارل تم نے کہا تھا امرحہ کو جیت لانا یہاں جیت لانے کا ماحول نہیں ہے نکاح امرحہ کے دادا کا فیصلہ ہے میں انکار نہیں کر سکا۔
کافی دیر وہ کارل سے باتیں کرتا رہا پھر، اس نے امرحہ اور عالیان کی کہانی ماما کو سنائی وہ سو گی وہ پھر بھی نہیں سو سکا اسے ڈر تھا دادا ابھی آئیں گے اور کہیں گے نہیں ہو سکتا امرحہ کا روتے ہوئے فون آئے گا کہ واپس چلے جاؤ شادی نہیں ہو سکتی
اس میں صبع ہو گئی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی اس صبع کو کیسے خوشآدید کرے اس نے وہ انگوٹھی ہاتھ میں لی جو ماما مارگریٹ نے اسے دی ماما مہر اسے ساتھ لے آئی تھی کہ ہاں ہو جائے تو امرحہ کو پہنا دیں گے اسے یقین ہونے لگا، کہ اب یہ امرحہ کے ہاتھ میں نہیں دیکھ سکے گا۔انکار کا احساس اس پر ہیوی تھا خود کو اس نے صحراؤں میں بھٹکے پایا اور اس نے. ماما کے ساتھ ناشتا کرتے وہ ناشتا نہ کرنے کا بہانہ کرتا رہا ۔
عالیان تم کب بڑے ہو گے وہ ہنس دی
شادی کے بعد۔۔ وہ ہنس نہیں سکا
تم ایسے بجھے بجھے کیوں ہو میرے بیٹے ؟
سب باتوں کا علم ہونا تمہیں ضروری نہیں امرحہ کے دادا نہیں مجھے وعدہ کیا ہے وہ مایوس نہیں لوٹایں گے ۔اور بھی بہت ساری باتیں ہوئی تھی ہمارے درمیان تم بس، یہ جان لو وہ یہ نکاح جلد، سے جلد کر دینا، چاہتے ہیں ۔
امرحہ کے بابا مان بھی جاتے تو بھی وہ منگنی نہیں کرتے
عالیان وہ ضرور ہو کر رہے گا جو الله نے تمارے لئے طے کر لیا ہے تم نے کہا تھا تم ایک اچھی دعا مانگنا سیکھ گے ہو۔ اس اچھی دعا کو پھر، سے دوہراؤ۔
©©©©©©©©©
میں عالیان سے محبت کرتی ہوں اور امرحہ سے بھی اور اس خالص محبت میں کوئی کوٹ نہیں ۔اگر برازیلا میں امرحہ کی موت ہو جاتی تو دو لوگ جاتے میں نے جان لیا ایک کے ساتھ دو موتیں کیسے ہوتی ہیں ۔میں نے پھر خود کو روک لیا میرا، عالیان پر گرفت تھی جو کے امرحہ پر نہیں تھی ۔سائی کہتا، ہے بہت کم لوگ ملانے کا، سبب بنتے ہیں اکثر دور کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں ۔
عالیان کو امرحہ سے پہلی نظر میں پیار ہوا اور اسے یہی تھا ساری دنیا میں ایک وہی ہے جس کے ساتھ وہ رہ سکتا ہے آپ سب کا کہنا ہے میں اکیلی ہو، گئی ہوں میرا ماننا، ہے اب امرحہ کے بغیر شاید ہی میری زندگی مکمل ہو جب میں مانچسٹر آ رہی تھی تو پاپا. نے کہا تھا ۔دیکھتا ہوں تم مانچسٹر سے ایسا کیا لے کر آتی ہو جو روس سے نہیں ملتا۔تو اب میرے پیش کرنے کے لیے امرحہ ہے
ساری کلاس ہنس دی
امرحہ کے پاس عالیان ہے
عالیان کے پاس کارل اور کارل کے پاس شیطان
کسی ایک نے کہا تو سب ہنس پڑے کارل بھی
عالیان اس وقت پاکستان میں ہے اور چند گھنٹوں میں اس کی شادی ہو جائے گی اور مجھے ان کی شادی میں شرکت کرنی ہے وہ بہت دھما بولی ان کی ہنسی میں شامل بھی نہیں ہو سکی۔
مجھ سے ایک لڑکی نے کہا کہ اب امرحہ سے ہار مان لی دوستی ختم کر لی تو ہم کوئی حالتِ جنگ میں نہیں تھے اور دوستی تو ویسی ہی ہے میں نے حقیقت کو کھلِ دل سے قبول کیا ہے امرحہ اور عالیان کی کہانی کو نیک تمناؤں کی ضرورت تھی میں آج کے دن ان کے لئے بہت دعا گو ہوں
اس کی آواز میں نمی تھی سب جان گئے کہ وہ بہادر بننے کی کوششیں کر رہی ہے ۔
میں کھوکھلی ہندی ہنس رہی ہوں میں عالیان کو بہت یاد کرتی ہوں ۔اس کا ہاتھ پکڑ نے کا حق میں نے کھو دیا۔
سائی جو ان دونوں کو اپنے ساتھ لے جانے آیا تھا کلاس کے باہر سب سن کر اس کا دل سکڑنے لگا پھر ویرا کلاس سے ایسے نکلی جیسے عالیان کی زندگی سے
©©©©©©©
وہ جمعہ کی نماز سے دو گھنٹے پہلے ہی آ گیا اور مسجد میں ٹیک لگائے گنبد کو دیکھ رہا تھا وہ بہت شدید مارگریٹ کو یاد کر رہا تھا اس کی آنکھیں بھیگ رہی تھی اور وہ محسوس کر رہا تھا ۔مرنے والے ہمارے ساتھ ساتھ زندہ رہتے ہیں بہت دیر وہ سر جھکائے ایسے بیٹھا رہا
اس نے اپنے سر کو زرا، سا، اوپر اٹھایا ہاتھ میں پکڑا جھومر ماتھے پر لگا، کر، دیکھنے لگی ۔سرخ دوپٹے کو کھنچ کر ناک تک گھونگھٹ کی صورت لے آئی۔
دادا نے ایک دم سے دروازہ کھولا تو وہ گھبرا گی اور جھومر والا ہاتھ سمیٹ کر نیچے کر لیا ۔گھونگھٹ ناک تک ہی رہا ۔
اس نے رخ نہیں موڑا دادا نے آئنے سے دیکھ کر کہا دلہن دلہن کھیلنے والی اب خود دلہن بنی ہوئی ہے وہ ایک نیے روپ میں لگ رہی تھی ایک الگ امرحہ دادا نے سوچا پرانی امرحہ کہاں گئی ۔نیا روپ کہاں سے چرا لائی۔
جھومر والے ہاتھ کو پسینہ آ گیا اس نے گھونگھٹ اٹھا کر مڑ کر دادا کو دیکھا اور مسکرا دی۔اس نے نہ میک آپ کیا تھا نہ زیوار پہنا تھا دائرے میں لگی مہندی اس کے ہاتھ پر برجمان تھی ۔اس نے ابھی جوتے نہیں پہنے تھے مگر قد میں اونچی تھی ۔آج اس سے زیادہ خوبصورت دنیا میں کوئی نہیں تھا ۔آج مسرت پر اس کی بادشاہی تھی ۔
دادا نے اگے بڑھ کر اس کی پیشانی چوم لی اور ہاتھ پکڑ کر واجد کے کمرے میں لے آئے۔
وہ خوف سے کچھ بول نہیں سکی دادا نے بابا کا ہاتھ اٹھا کر اس کے سر پر رکھ دیا پھر لے کر باہر آ گئے ۔اماں دادی نے سب کیا جو انہیں خیرات کرنا تھا ۔شاہی گاؤں کے لوگ استقبال کے لیے گھروں سے باہر نکل آئے ۔
©©©©©©©©©
نماز جمعہ کی ادائیگی ہو گئی اور دعا مانگی جانے لگی
نماز کے بعد دادا حماد اور چند بزرگ عالیان کے پاس آ گئے
خواتین والے حصے میں لیڈی مہر بھی آ گئی اور نماز سے پہلے وہ انہیں دعائیں لے آیا، تھا اور ان کا ہاتھ چوم آیا تھا ۔
دعا ہو گئی تو عالیان اٹھا امام صاحب نے سب نمازیوں کے بیٹھے رہنے کا کہا۔اور پھر عالیان کا تعارف کروایا
یہ عالیان مارگریٹ ہے یہ برطانیہ سے آئے ہیں یہ مانچسٹر یونیوسٹی میں پڑھ رہے ہیں ان کی حقیقی والدہ فوت ہو چکی یہ اپنی سر پرست والدہ کے ساتھ آئے ہوئے ہیں عالیان الحمدلله مسلمان ہیں اور بنتِ عبدالوجد عبدالکریم سے نکاح کرنے آئے ہیں یہ چاہتے ہیں آپ سب ان کے نکاح میں شرکت کریں اور دعائیں دیں۔
عالیان امرحہ کا امرحہ عالیان کی
عالیان نے خود پر سب کی نظریں پائی اور مسکراہٹ چھپانے میں نکام رہا ۔اس نے جانا کے سب اس کے دل کی تیز تیز دھڑکنے سن رہے ہیں ۔
عالیان نے قریب بیٹھے دادا کی طرف دیکھا اور دھمی آواز، سے پوچھا اجازت ہے دادا۔؟
جواب میں دادا مسکرائے
عالیان قاری صاحب کو حق مہر، اور سب تفصیلات بتا چکا، تھا ۔پھر دادا نے گواؤں کے نام لئے اور ان کا تعارف کروایا ۔
پھر قاری صاحب خواتین کے حصے میں گے نکارہ بجنے لگا ساعت نکاح
گھونگھٹ سے وہ دیکھ سکتی تھی کون آ رہا ہے اور کیسے ساتھ لا رہا ہے ۔وہ دونوں کتنے لوگوں کی موجودگی میں کہاں موجود ہیں ۔
یارم یارم یارم میرے یار میرے دوست میرے محبوب
خوشی نے اپنے پرانے سارے معنی کھو دیے۔
وہ بگی سے اترا کوئی اس جیسا نہیں تھا اس کی طرف نظر بھر کے دیکھنا مشکل ہو رہا تھا ۔
وہ جو دلہا ہے
عمبر آب سا
عشق میں قیام سا
زبان فیض میں کلام سا
وہ سنجیدہ تھا مگر اندر اس کے جشن کا سامں تھا ۔آنکھیں اس کے راز اگل رہی تھی ۔گھونگھٹ کے پار امرحہ مسکرا دی۔اسے صبع عالیان کا میسج آیا تھا ماما کہتی ہیں اگر خدا کی طرف سے نکاح طے ہے تو بس طے ہے ۔اگے ہمیں کچھ نہیں سوچنا چاہئے ۔
لیڈی مہر اس کے ساتھ تھی اور وہ دیکھ رہی تھی کے کیسے وہ اپنے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا رہی تاکہ اس کی ہنسی نمایاں نہ ہو ۔جب اس نے گھونگھٹ نکال لیا تو ویرا نے دیکھا وہ آج سے پہلے اتنی خوبصورت کبھی نہیں لگی
اگر یہ سرخ رنگ کا کمال ہے تو اسے ہمیشہ یہی پہننا چاہیے ۔
سب باتیں کر رہی تھی امرحہ نے اشارے سے چپ کروایا کے امام صاحب آ رہے ہیں اس نے عالیان کا نام نہیں لیا۔امام صاحب جعفری کے پاس نیچے کالین پر بیٹھ گئے ۔

Read More:   Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Episode 7

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply