Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 6

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 6

تمھارا کچھ گم ہو گیا ہے?کاؤنٹرسر نے کاؤنٹر سے اپنا آدھا گنجا سر آگے کر کے مسکرا کر اس سے پوچھا-“نہیں “- “تو مسکراؤبھئی —تم مانچسٹر میں ہو”- “مانچسٹر میں مسکرانا پڑتا ہے?” ” بالکل کیونکہ مانچسٹر مسکرانے پر مجبور کرتا ہے;یہاں اداسی کا کیا کام ہے -یہ تو دنیا بھر کے Swans (راج ہنس)کی جگہ ہے وہ مسکرا دی-“بلیک سوان “اسے بربراہٹ سنائی دی-اور اسک تصویر کھینچ دی گئی-“یہ نہیں ایک اور پلیز”اس نے اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے کہا-اس بار وہ مسکرائی اور وائٹ سوان بن گئی کیونکہ وہ دل سے مسکرائی وہ مسکرا ہٹ جو اس نے یہاں آکر سیکھی تھی-کیونکہ اس رونے کی عادت تھی-اسے یہی عادت ڈالی گئی تھی-بات بات پر رونے کی-اسے بات بات پر رلانا سب کا پسندیدہ مشغلہ تھا-اور وہ دل چھوٹا کر کے بیٹھتی تھی کیونکہ اسے دل بڑا کرنا سکھایا ہی نہیں گیا تھا,یہی اسکا ماحو ل تھا جو اسے ملا تھا-اسی ماحول کی وہ عادی تھی اسے نہیں بتایا گیا تھا کہ جس زمین پر رینگا جاتا ہے اسی پر شان سے چلا جا سکتا ہے اوردوڑا بھی-وہ ایسی ہی رینگتی,روتی دھوتی,زندگی گزارتی رہتی اگر وہ یہاں نہ آتی ;کیونکہ اسے کبھی نہی کہا گیا تھا ” یو آر اے برڈ مائی ڈیئر فلائی جسٹ فلائی (میری پیاری تم ایک پرندہ ہو—-اڑو بس اڑو)اسے تو کہا گیا تھا کہ تو منحوس ہے, بدبخت ہے ,کالی نظر اور کالی زبان والی ہے-مانچسٹر یونیورسٹی کے اندر رو اسے کچھ اور سکھایا جا رہا تھا-“مسکراؤ کے زندگی میں رونے کے لئے کوئی دن نہیں بنا—–” اڑو کے اڑنے کا حق صرف پر والوں کے پاس نہیں ہے-“اور ایسے کھل کر مہکو کہ تم سے بہتر گلستان میں کوئی گل نہیں -” “تم سب کر سکتی ہو ,تمھارے پاس سب ہے ,تمھارے ہاتھ میں سب ہے-ناکامی اور مایوسی کی فضا میں ہمیشہ سانس بھرنا تم پر فرض نہیں “-کارڈ لے کر وہ بہت خوش ہوئی;اس نے کاؤنٹر سر کا شکریہ ادا کیا ,بس اتنی سی تو بات تھی-اسکو سمجھ آگیا تھا کہ اس درسگاہ کو دنیا کی بڑی درسگاہو ں میں کیوں شمار کیا جاتا ہے-اس درسگاہ نے اسے پہلے دن ہی رینگنے سے چلنا سکھا دیا تھا-ذمہ داری,خوداری,آگے بڑھنے کی صلا حیت عطا کر دی تھی-ہاتھ میں کارڈ لے کر وہ اپنی مسکارا پھیلی سیاہی سے اٹی آنکھوں کو دیکھنے لگی اور ہنس پڑی—-وہ پرجوش تھی کچھ بھی نہیں ہوا تھااگر وہ بدصورت بھی لگ رہی تھی تو—-یہاں دماغ والوں کو سلوٹ کیا جاتا تھا;خوبصورت چہروں کو نہیں —-اور دماغ کو کام پر لگانا ایسا مشکل کام بھی نہیں تھا سب آسان تھا—سب—کچھ دور بھی نہیں تھا ,سب پاس تھادونوں ہاتھوں کی دونوں مٹھیوں میں تھا,ڈپارٹمنٹ سےنکل کر وہ باہر آگئی دن روشن تھاار ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی ,اسکے بال نرمی سے لہرانےلگے-اس نے اپنے بیگ کا اسٹرپ لمبا کیا اود اسے دوسرے سٹوڈنٹس کی طرح کراس کر کے پہن لیا(دائیں سے بائیں طرف) اور اعتماد سے چلنے لگی-“امرحہ واحد”گولڈ میڈل لینے کےلئےدوڑ میں پوری جان سے شامل ہو چکی تھی-تماشائیوں کی خالی نشستوں پر اسےکسی صورت نہیں بیٹھنا تھا-اسکےنام کی نشست اب کبھی وہاں نہیں ہوگی-%%%%%%آکسفورڈ روڈ پر وہ سیدھی چلتی جا رہی تھی-صبح اس نے وہ منا سا ناشتہ کیا تھااب اسےبھوک لگی تھی لیکن وہ کھانا کھانے نہیں جا رہی تھی نوکری کی تلاش کے لئے جا رہی تھی-یونیورسٹی کےاندر کی طرح باہر بھی سٹوڈنٹس کی رونق لگی تھی-کچھ ذرا آگے زرا آگے سڑک اس پار اسے چرچ نظر آیا-اسکا دل چاہا کے اندر جا کے چر چ کو دیکھےپھر وہ اپنی ہی سائیڈ پر چلتی رہی اب دو سال یہں رہنا تھا تو وہ سب دیکھ لے گی-اگر نوکری کا انتظام نہ ہوا توایک ماہ بعد ہی واپس جانا پڑے گا-سڑک ختم ہوگئی لیکن اسے کوئی جگہ ایسی نظر نہ آئیجہاں وہ نوکری کی بات کر سکتی—سڑک کے سامنے دوسری طرف اسے عبدالہادی ِحلال فوڈ کی دکان نظر آئی-سڑک پار کر کے وہ اس دکان میں آئی-بلاشبہ اسکی ٹانگیں کانپ رہی تھیں,بھلے سے کانپتی رہتیں اس نے اندر جا کر اس نے کاؤنٹر بوائے سے بات کی اس نے سلیقے سے اسے بتایا کہ فی الحال اسے وہاں نوکری نہیں دی جا سکتی-“کیا کچھ دن بعد دی جا سکتی ہے ,دو ہفتوں بعد—”
”نہیں ….. شاید ایک سال بعد جب میں یہاں سے چھوڑدوں گا۔“وہ اگلے اسٹور”پک اینڈ کلک “میں گئی۔وہ کمپیوڑ اسٹور تھاور وہ کمپیوٹر رپئرنگ کے بارےمیں یقیناً نہیں جانتی تھی اور ظاہر ہے اسے نوکری نہیں دی گئی٬جبکہ اسی اسٹور پر دوسری لڑکیاں کمپیوٹر رپئرنگ کا کام کررہی تھیں۔ان ہی اسٹورز اور دوکانوں کے عین سامنے سڑک پار کرکے مشہور برگراور پزا کے چھوٹے چھوٹے ریسٹورنٹ کھلے تھے وہ وہاں بھی گئی اور زیادہ خود اعتمادی سے گئی ۔اب اس کے صرف دل کی دھڑکن تیز تھی …..لیکن شام تک نہ اس کی دل کی دھڑکن تیز رہی نہ ٹانگوں میں کپکپاہٹ،صرف زبان میں تیزی رہی جو ہرریسٹورنٹ،دوکان،اسٹور میں جاتے ہی تیزی سے چلنے لگتی…..وہ تھک گئی تھی لیکن رکی نہیں…..اسےبھوک بھی لگی تھی لیکن پیسے بچانے کے لئے اس نے باہرسے کچھ بھی لے کر نہیں کھایا….اور اس سے بھی بڑھ کر اس نے یہ کام کیا کہ اس نے سائیکل چلانے والی ایک لڑکی سے لفٹ مانگی اس نے کاغذ پہ لکھے ہوئے پتے کو لڑکی کے آگے کیا۔
”میں تمہیں مین روڈ تک لے جا سکتی ہوں…..آگے تم پیدل چلی جانا۔“اس نے کہا ۔اب سائیکل پر بیٹھتے اسے قطعا ً ہنسی نہیں آ رہی تھی۔اس کے پیٹ میں بھوک کی وجہ سے بل پڑ ہے تھے لیکن اسےرونا نہیں آ رہا تھا وہ اُدس اور غم زدہ بھی نہیں تھی۔وہ خود کو بے چاری بھی محسوس نہیں کر رہی تھی۔صبح ان ہی کھلی روشن،قدیم عمارات سے گزارتے ہوئےبھی وہ امرحہ واجد ہی تھی اور ان ہی سڑکوں سے پھرسے گزرتے ہوئے بھی وہ امرحہ واجد ہی رہی …….تبدیلی ظاہر میں نہیں باطن میں آئی تھی ….اور کافی سے زیادہ آچکی تھی….کافی سے زیادہ آنے والی تھی۔گھر آئی تو اس کا لنچ کاؤنٹر پر رکھا تھا اور گھر میں کوئی بھی نہیں تھا۔سب اپنے اپنے کام پہ جا چکی تھیں۔اس نے لنچ کو رات کے کھانے کے طور پرکھا لیا اور منہ ہاتھ دھو کر تازہ دم ہو کر سو گئی۔دو گھنٹے بعد وہ اُٹھی تو کتابیں پڑھنے لگی۔رات کو وہ ایک ایک کر کےآتی گئیں اور سوتی گئیں۔لیکن وہ جاگ کر پڑھتی رہی۔
*………..*……….*
اگلے دن صبح اس نے شرلی کے ساتھ جاب کی بات کی کہ اسے کہاں جانا چاہیے اور کہاں نہیں۔شرلی نے اسے دو تین جگہوں کے نام بتائے اور پتے بی سمجھا دیے۔
پہلے وہ یونیورسٹی آئی تاکہ اپنی کلاسز کا معلوم کر سکے …..اس کے لئے یونیورسٹی ایریا میں الگ سے بہت وسیع کیمپ لگایا گیاتھا جہاں ہر ڈیپارٹمنٹ کا کاؤنٹر لگا تھا اور سینئر اسٹوڈنٹس ان کاؤنٹرز پر اپنی خدمات رضا کارانہ طور پر انجام دے رہے تھے سب گرے پرپل یونیفارم میں ملبوس تھے تاکہ انہیں دور سے ہی پہچان لیا جائے….اس ایریا میں بھی ایسا ہی رش تھا جیسے وہاں ایک مہذب اتوار بازار سجا ہو…آہستگی سے لیکن جلدی جلدی بولنے کی آوازیں تھیں اور ایک ساتھ ایک جگہ جمع ہو کر شور بن گئی تھیں۔وہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر اپنے مطلوبہ کاؤنٹر تک آئی اور بنیادی معلومات لینے لگی۔لیکن ایک مسئلہ تھا جو لڑکی اسے سب سمجھا رہی تھی وہ فرنچ تھی اور اس انگلش اچھی ہو کر بھی امرحہ کہ سر اوپر سے گزر رہی تھی … اس نے لڑ کی سے ایک دو بار کہا کہ….” برائے مہربانی پھر سے بتائیں اور آہستہ بتائیں میں سمجھ نہیں پا رہی۔“اور لڑکی نے ایسا کیا بھی امرحہ پھر بھی کچھ خاص سمجھ نہ سکی۔
”ڈیرک ! سنو تم ان کی مدد کرو۔“ لڑکی نے خوش اخلاقی سے اپنے ساتھی سے کہا جو ان دونوں سے رخ موڑے کسی دوسرے کا مسئلہ حل کر رہا تھا۔
”جی…. ڈیرک نے اس کی طرف دیکھا اور اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
یہ وہی ask me کا بورڈ پکڑے لمبی ناک والا تھا۔اس سے پہلے امرحہ کچھ بولتی…اس نے اپنی ناک کو ایک ہاتھ سے چھپا لیا۔امرحہ کا دل چاہاکہ واقع اس کی ناک پر اپنےہاتھ میں پکڑی موٹی فائل دے مارے….یہ انسان یقیناً اس کو کوئی مشہور زمانہ مذاق بنا دے گا جو ساری یونیورسٹی میں مشہور ہو جائے گا….
”فرمائیے…میں آپ کو کیسے ڈرا سکتا…..ائی ایم سوری آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔“ناک بدستور اس نے بائیں ہاتھ سے چھپا رکھی تھی۔امرحہ نے کاغذ اس کی طرف بڑھایا جس پر اس کے مضمون لکھے تھے اور اس نے پڑھ کر دوسرےکاغذ پر کم سے کم پندرہ منٹ لگا کر اچھی خاصی تفصیل کے ساتھ سب کچھ لکھ دیا…کلاس کے اوقات کار….ٹیچرز کے نام….مزید مدد کے لئے اسی کے جماعت کےدو تین ہم جماعتوں کے نام….ان کے رہائش کے پتے۔پھر اس نے نقشہ نکالا اور اس پر سرخ دائرہ لگایا۔یہ آپکا ڈیپارٹمنٹ ہے۔”اسے اس کا ڈیپارٹمنٹ دکھا لاؤ۔“اس نے فرنچ لڑکی سےکہا۔لڑکی نے اچنبھے سے اسے پھر ڈیرک کو دیکھااور امرحہ کےکچھ کہنے سے پہلے ہی پوچھ لیا۔
”کیوں یہ خود چلی جائے گی نا….“
”نہیں یہ خود نہیں جاتی……اسے ڈر لگتا ہے…..“
امرحہ نے ڈیرک کے ہاتھ سے کاغذجھپٹ لیا…ڈیرک کے قہقہے نےدور تک اس کا پیچھا کیا….وہ دعا کر رہی تھی کہ پہلے دن جو جو لوگ سے ملے ہیں٬ان سے دوبارہ اس کی ملاقات….ایک لڑکی اس کے پاس سے گزری اور ایک دم رک گئی۔
”کوئی مدد چاہیے؟“ساتھ ہی اس نے امرحہ کے ہاتھ میں پکڑا کاغذ لے لیا۔یہاں جانا ہے نہ….میں ابھی یہیں سے آ رہی ہوں بلکہ پھر سے وہیں جا رہی ہوں….آ جاؤ میرے ساتھ۔“وہ خواری سے بچ گئی اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔وہ اسے ڈیپاٹمنٹ تک چھوڑ کت گئی…..اس نے اپنی کلاسسز دیکھ لیں اور اوقات کار بھی…. اپنی کلاسسز دیکھ کر اسے کافی خوشی ہوئی۔وہ اس کی سوچ سے زیادہ خوبصورت تھیں۔یونیورسٹی سے نکل کروہ پیدل ہی پھر سے نوکری کی تلاش میں لگ گئی….لیکن یہ کام تو مشکل ہی بنتا جا رہا تھا۔یونیورسٹی سے بہت زیادہ دور وہ نوکری کر نہیں سکتی تھی۔ اس طرح اس کا بس کا کرایہ لگتا اور اس کی بچت مشکل سے ہی ہو پاتی۔اس کی کلاسسز شروع ہو گیئں لیکن کام نہیں ملا اسے پرشانی یہ تھی کہ اگروہ کام نہ ڈھونڈ سکی تو پھر سے دائم کا لیکچر سننا پڑے گا گو کہ وہ اپنی جگہ ٹھیک تھا لیکن اپنی جگہ غلط وہ بھی نہیں تھی۔وہ انتھک کوشش کر رہی تھی۔
*……*…….*
ایک دن یونیورسٹی سے پندرا منٹ کی واک پر واقع کیفے کے سامنے سے اس کا گزر ہوا۔وہ یہاں پہلے بھی آ چکی تھی لیکن اسے جواب دیا گیاتھا کہ انہیں ضروت نہیں ہے۔اب ضروت ہے کا بورڈ کیفے کے سامنے رکھا تھا۔اس نے پہلے کیفے میں بیٹھ کر کافی پھر کاونٹر تک آئی…..اسے یہاں کام تو فوراً ہی مل سکتا تھا لیکن صرف ایک مسئلہ تھااور کافی بڑا مسئلہ تھا جو ویٹریس اسے نظر آ رہی تھیں انہوں نے گھٹنوں تک اسکرٹ پہن رکھا تھا جو ایک مشہور کافی کے لیبل جیسا تھا ،یعنی کمپنی کا چلتا پھرتا اشتہار تھیں اسے اشتہار سے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن وہ یہ اسکرٹ تو نہیں پہن سکتی تھی اور جوحالات جا رہے تھے ان کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ اس واحد نظرمیں آنے والے ”ضروت ہے “کے موقعے کو ہاتھ سے جانے بھی نہیں دے سکتی تھی۔اس نے کاؤنٹرکے پیچھے بیٹھے دراز قد فربہی مائل گورے چٹے انگریز سے بات کی….اس نے امرحہ سے چند سولات پوچھے
اور اسےہاں کہہ دیا…..وہ خوش ہونےکےبجائے دکھ سے اسے دیکھنے لگی یعنی نوکری ملی بھی تو کون سی جس پر شاید ابھی انکارہو جائے جب وہ اس کیاگلی بات سنے گا۔”مجھے اس کام کی بہت زیادہ ضرورت ہے…..اگر مجھے یہ نوکری نہ ملی تو میرا مستقبل بہت بری طرح سے تاریک
ہو جائے گا۔“اس نے اپنی طرف انگریز کو جذباتی کرنے کی کوشش کی تھی۔”میں نےتمہیں کام پررکھ لیاہے۔“
”میں یہ ڈریس نہیں پہن سکتی…میں جینز پر یہ شرٹ
پہن لوں گی بس۔“اس نے ویٹرس کی شرٹ کی طرف اشارہ کیا۔”تمہیں اتنا اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں….تم جاسکتی ہو۔“”اس دنیا کےروشن مستقبل کے لئے کیا آپ صرف
اس نامکمل ڈریس کو نظر انداز کر کےتعلیم حاصل کرنے کے لئے کوشش کرتی اسلڑکی پر ایک احسان نہیں کر سکتے۔ دنیاکاہرانسانعلم حاص کرنےوالے کی عزت کرتا ہے۔“
”مجھےصرف اپنے روشن مستقبل کی فکر ہے۔ ”
”آپکس مذہب کے ماننے والے ہیں؟“اس نے اسے
گھورا….یورپ میں کبھی بھی کسی سے بھی
اتنی جلدی اس کے مذہب کے بارے میں نہیں
پوچھ سکتے وہ برا مان جاتے ہیں۔”میں
یہودی ہوں۔“امرحہ کی سٹی گم ہو گئی۔وہ
یک ٹک اسے دیکھتی رہی۔
”مجھے گھورنا
بند کرو اور جاؤیہاں سے “
” دیکھئے جانب اگر آپ مجھے کام دیں گے تو سب آپ کی
تعریف کریں گے ایک یہودی نے ایک مسلم کا احترام کیا…اس کی اخلاقیات کا خیال رکھا…یو نو وغیرہ وغیرہ۔“
”یہ وغیرہ
وغیرہ کیا ہے؟“
”مزید تعریف….اور تعریف سب آپ کو اپنے سر آنکھوں پے بٹھائیںگے۔“
لیکن مجھے اپنی کرسی پر بیٹھناہیاچھا لگتا ہے۔
”پھر بھی ذرا سوچئے….یہیونیورسٹی ایریا ہے….اسٹوڈنٹس آپ کیکس قدر عزت کرے گے۔ہو سکتا ہے بلکہ مجھےتو یقین ہے کہ سالانہ کانووکیشن ڈےپرآپ کو خاص مدعو کیاجائے گااور آپ تقریر بھی کرے گے…ایسا دن آپ کی زندگی میں
دوبارہ کبھی نہیں آسکتا…“
”مجھے کانوکیشن میں جانے سے کوئی دلچسپی نہیں…“
”جبآپ جائے گے تب آپ کو یہ بہت دلچسپ لگے
گا۔“وہ کاونٹر پر بائیں ہاتھ کی چاروں
انگلیوں سے بجانے لگا اور اسے مزید دلچسپی
سے دیکھتا رہا…اس کی نیلی آنکھیں مزید
نیلی ہو گئیں۔
”میں نے سنا تھا انگریز بہت رحم دل ہوتے ہیں“
”میں پولش ہوں“
”مجھےاندازہ تھا لیکن پولش تو دنیابھر میں انسان دوست مشہور ہیں…اخلاقیات کی پاس داری کرنے والے…انسانی خدمت میں سب سے پہلے آنے والے…اور مدد کے لئے کبھی نہ پیچھے ہٹنے والے ..“
”تمہاریزبان ہمیشہ ایسے ہی چلتی ہے۔“
”نہیں لیکن جو کافی میں نے ابھی آپ کے یہاں سے پی ہے٬اس کے بعد سے کافی زیادہ…آپ مجھے ایک ہفتے کے ٹرائل پرراکھ سکتے ہیں“
”اس سے کیا ہو گا؟“
میں شرط لگا سکتی ہوں،جب لوگ مجھے ایک مسلم لیڈی کو فل ڈریس میں دیکھیں گے تو وہ اس طرف کھنچے چلے آئیں گے کہ یہ ایک انسان دوست کا کیفے ہے….یہاں کےمالک نے انسانیت کےلئے نام نہاد اصولوں کو توڑدیا۔“
”کیا واقعی؟“وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے کاونٹر بجانےلگا۔
”بلکل….آزما کر دیکھ لیں…“یہ کہتے امرحہ کی نظر اتاری جانی چاہئے تھی۔
”ٹھیک ہےکل سے آجانا تمہیں اصل کا ففٹی پرسنٹ ملے گا۔“
”مجھے منظور ہے…..ویسے آپ کو یہ اندازہ ہوگا ہی کہ روزانہ اس کیفے میں کتنے لوگ آتے ہیں…؟“امرحہ کی ذہانت بڑھتی جا رہی تھی۔
”میں دس سال سے کیفے چلا رہا ہوں،سال میں ایک صرف ایک بار آنے والوں کو پہچان لیتا ہوں“
”میرا مطلب کل اگر زیادہ لوگ آئے تو …“
”تو مجھے معلوم ہو جائے گا۔“وہ آنکھوں کو اندر کی طرف لے جا کر مسکرایا…..اور یہ مسکراہٹ اس پہ جم کررہ گئی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: