Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 60

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 60

عالیان بھی انہیں کے ساتھ بیٹھ گیا ۔باقی سب بھی
عالیان اور امرحہ جعفری کے آمنے سامنے بیٹھ گئے پل کے پل عالیان نے نظر اٹھا کر دیکھا اسے سرخ رنگ کی جھلک نظر آئی۔اس وقت اسے امرحہ کو دیکھنے کی جلدی نہیں تھی ۔
اسے امرحہ کو سننے کی بےچینی تھی ۔وہ اس مقام تک اس کی رضا مندی سے پہنچا تھا لیکن اسے وہ خاص جملہ سننا، تھا ۔ امام صاحب نے نکاح پڑھنا شروع کیا ۔امام صاحب نے بنیادی نکات کے بعد امرحہ سے پوچھا
قبول ہے؟؟
من پسند، سوال گلِ گلزار
قبولیت دو دلوں کے رنگ ایک ہو جانے کو ہے
امرحہ نے چاہا کے کہہ دے عالیان مارگریٹ قبول ہے
عالیان مسکرا دیا امرحہ بھی کیونکہ اس نے صاف الفاظ میں کہہ دیا اور اس نے سن لیا کہ قبول ہے ۔
یوں کہا کے سب سن لیں ۔
امرحہ کے بعد عالیان نے قبول ہے کہا۔قبول ہے اس نے پھر کہا۔۔۔نکارہ بجنے لگا. قبول ہے وہ کہتے رہنا، چاہتا تھا کہ کوئی ایسی سماعت نہ ہو جو سننے سے رہ جائے ۔دونوں کتنے خوش تھے انہیں محسوس ہوا کہ اب تک جو خوشیاں ملی وہ کتنی چھوٹی ہیں اس خوشی کے سامنے ۔نکاح پاک عمل ہے دو دلوں کے ملنے کا امام صاحب نے خطبہ نکاح دیا، اور دعا کرنے لگے ۔سب نمازی دعا میں شریک تھے امین کر رہے تھے ۔فرشتے بھی امین کہہ رہے ہوں گے ۔
پھر امام صاحب نے اٹھ کر عالیان کو گلے لگایا اور مبارک باد دی۔پھر دادا نے باقی سب نے گلے لگا کر مبارک باد دی
عالیان کو لگا، ساری دنیا نے اس کے نکاح میں شرکت کی ہے ۔اب جیسے ساری دنیا ہی جشن منا، رہی ہے ۔
حماد اور علی سب میں مٹھائی تقسیم کرنے لگے جو لیڈی مہر نے مہنگائی تھی ۔پھر عالیان خود بھی میٹھائی تقسیم کرنے لگا۔ڈھیروں مبارکیں وصول کی بچوں کے گالوں پر جھک جھک کر پیار کیا ۔
آپ دلہا ہو ایک بچے نے میٹھائی لیتے پوچھا
ہاں میں دلہا ہوں
اس نے خوش دلی سے کہا بلکہ اس کا دل تھا بار بار پوچھا جائے کہ میں دلہا ہوں ۔
دادا نے امرحہ کو کتنی ہی دیر سینے سے لگائے رکھا ۔
میں نے اپنا فرض ادا کر دیا مجھ سے زیادہ آج اس دنیا میں کوئی خوش نہیں ۔
میں کبھی بھی آپ کا شکریہ ادا، نہیں کر پاؤں گی دادا
بہت مشکل سے وہ یہی کہہ پائی۔
مسجد خالی ہونے لگی۔
عالیان نے Anslim ہال میں مشترکہ مبارک باد دی
اور کارل سائی سے کتنی دیر بات کرتا رہا
دیکھ لو دلہا نہیں بھاگا وہ مورگن سے کہہ رہا تھا ۔
مورگن ہنسی تم لاہور ہو نا، روس ہوتے تو بھاگتے
ایک سایہ سا اس کے چہرے پر لہریا ابھی اس کی بات ویرا، سے بھی ہوئی تھی وہ اس کے ساتھ کافی لمبا مزاق کرتی رہی ۔عالیان نے گہرا سانس لیا شاید ہميشہ اس کے دل میں رہنے والی تھی اس نے پیارے دلوں میں نے ایک پیادے دل کی مالکہ لڑکی کو ہاں کہہ کر کیسے واپس موڑ دیا تھا ۔امرحہ کی صورت وہ فائدے میں رہا تھا ۔اس پیاری لڑکی کا نقصان کر، کے اعلا ظرفی میں وہ ویرا میں وہ ویرا سے بازی نہیں لے سکتا
آپ شارلٹ اور مورگن کی شادی میں بھی رو رہی تھی ماما میری بھی میں تو کہیں رخصت ہو کر نہیں جا، رہا اس نے ان کی نم انکھیں صاف کی ۔
لیڈی مہر ہنس دی الله نے میری دعا قبول کر لی۔
میری بھی ماما وہ مسکرایا۔
سب کے ساتھ فوٹو بنائے پھر ماما کو گاڑی تک چھوآیا اور دادا سے اجازت لی کچھ دیر امرحہ کے ساتھ رہنے کی
©©©©©©©©©
عالیان نے اس کا وہ ہاتھ تھام لیا جس میں ماما کی انگوٹھی تھی امرحہ نے دوپٹہ لپیٹ رکھا، تھا اور سر جھکا ہوا تھا ۔اس کا ہاتھ پکڑ کر محرابی برامدے میں لے آیا۔جس کی ٹھنڈی ہوا سجدوں اور دعاؤں کی گواہ بنی تھی ۔دونوں ساتھ ساتھ کھڑے ہو گئے ۔
امرحہ مجھے عالیان کہتے ہیں اس کے بعد اسے اپنا آپ یاد آیا۔
عالیان مجھے زوجہ عالیان کہتے ہیں اس کا بھی وہی حال تھا
کیسی حیرت انگیز بات ہے امرحہ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا ایک لڑکی اس شہر کی ہو گی میری جان اپنی مٹھی میں لیے ہو گی۔
مجھے اس میں شک ہے
کس میں؟
تماری جان میں اپنی مٹھی میں رکھتی ہوں یہ اختیار تو تم رکھتے ہو۔
وہ ہنس دیا پھر پوچھا، یہ کیا ہے انگلی سے جھومر کو چھو کر پوچھا
یہ تم پر بہت اچھا لگ رہا ہے
کتنا اچھا؟
اتنا کے میں چاہتا ہوں تم اسے ایسے ہی ہر، وقت پہنے رکھو
امرحہ من چاہی ہنسی ہنس دی۔یہ ہر وقت نہیں لگایا جا سکتا ۔
پھر بھی میں یہی کہوں گا اسے ہر وقت لگایا جائے ۔
امرحہ کے جسم میں ہلکا سا ارتعاش تھا اور عالیان یہ محسوس کر سکتا تھا وہ زیرِلب مسکرایا اور امرحہ نے اسکی مسکراہٹ کو بڑا محبوب پایا جس محبت نے اس کے دل پر قبصہ کر لیا تھا ویباب اس کے نام کر دی گئی تھی
ملکیت کا یہ احساس سب پر حاوی ہو گیا۔
عالیان نے سوچا، جیسے چھپ کر دیکھنا وہ مقابل آ گیا وہ کون ہے جو س سے دور لے جا، سکے
میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں امرحہ۔
میں تم سے وہ سننا چاہتی ہوں
میں تم پر مر مٹا ہوں اور مجھے اپنا مر مٹنا بہت عزیز ہے
امرحہ دیر تک ہنستی رہی
اور میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میں ناراض ہو جایا کرو گا لیکن ایسا کبھی نہیں ہو گا کے میں تمہیں پسند کرنے لگ جاؤں
میں تم سے لڑوں گا مگر کبھی دور نہیں کروں گا۔میں عالیان تمارا ہونے کا حق کبھی تم سے نہیں چھینو گا
دنیا میں شاید ہی کوئی مکمل زندگی گزارنا ہو ہم بھی ان میں سے ہوں گے ۔ایسا کبھی نہیں ہو گا کے ہم مکمل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے ۔
اب وہ رکا اب بولنا نہیں سننا، چاہتا ہے جو میں نے تمہیں پیغامات لکھے تھے مجھے ان میں سے کوئی سنا، سکتی ہو۔
امرحہ نے اسے دیکھا ایسا بھی کیا ضروری ہے
ہے نا
مجھے کچھ یاد نہیں وہ ایسے ہو، گئی جیسے اسے تو اپنا نام بھی یاد نہیں
سندری امرحہ اپنی یاداشت سنبھالو
کیسے میرے سر پر زخم آئے ہیں ۔
تمارے زخم تو ٹھیک ہو گئے ہیں
پھر بھی ان زخموں نے یاداشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں مجھے یہ نہیں تھا کہ میں مرنے جا رہی ہوں مجھے تھا کے میں تم سے دور جا رہی ہوں میں نے دنیا کو دیکھنا چھوڑ دیا جب سے تمہیں دیکھا ہے سب بھول سکتی ہوں سوائے تمارے. اس کا کیا مطلب ہے
تم بتاؤ امرحہ کے لیے تالیاں
تم بجھ کر دیکھاؤ
عالیان دنیا مرسب سے پیارا ہے
ہاہاہا نہیں
کیا میں پیارا نہیں ہوں ابھی شادی ہوئی اسے لگا، اسے صدمہ ملنے والا ہے
نہیں نہیں مطلب کے اس کا یہ مطلب نہیں
اس کا مطلب ہو گا بہادری عالیان کے دم سے ہے ۔
تم کتنے خوش فہم ہو عالیان
مجھے ایسی خوش فہمیاں عزیز ہیں
عالیان تو تھکنے والا نہیں تھا پھر اس نے اس کے سر پر ہلکی سی ثضرب لگائی
آئی یاداشت واپس
امرحہ ایسے خوش ہوئی جیسے واقعی یاداشت آ گئی ہو۔
©©©©©©©©
ائیر پورٹ پر صرف سادھنا ہی آئی تھی عالیان کو حیرت ہوئی کوئی بھی نہیں آیا جاب پر جانا، اتنا ضروری تھا سب کو. جب وہ گھر آئے تو عالیان مسکرا، دیا دنیا میں ایک ہی مظلوم قوم ہے جو اپنے خلاف آواز بلند، نہیں کر سکتی
ہر کام ممکن ہے شوہر بن کر انسان بن جانا مشکل ہے شوہروں کی قوم
امرحہ کے لیے ایک نوٹ پر لکھا، تھا ہمارے پاس اب دو اپشن ہیں مانچسٹر سے نکل جائیں یا امرحہ کو جہھلنا پڑے
کافی ہنسنے کیے بعد دونوں اندر کی طرف چل پڑے. لپکے ۔دروازے پر ہاتھ رکھا وہ ایسے کھولاجیسے اندر سے کسی سےدھکا دیا گیا تھا ۔
اور ایک دم شٹل کاک کے کونوں کھدروں سے فوج نمودار ہوئی ایک زبان چلائیں سرپرائز ۔۔۔۔۔
کیسا اچھا سرپرائز تھا
کارل ویرا سائی سب اگے کھڑے تھے
آٹس شو ٹائم کارل نے انگلی اٹھا کر کہا ون ٹو تھری کر کے گلے میں جولتی گٹار پر زور سے ہاتھ مارا کے امرحہ دوبارہ کانوں میں ہاتھ رکھ لیا کے بہری ہی نہ ہو جائے ۔
عالیان نے خود کو اور امرحہ کو اٹھانے کی کوشش کی اور کارل ویرا اور سائی کا شور دیکھنے لگے۔جو کسی اسٹار کی خوفناک نقل کر رہے تھے پیچھے پوری یونی آ موجود ہوئی ہل ہل کر ان کا ساتھ دینے لگی
پھر سب نے مل کر کہا congratulations امرحہ نے سوچا کیسے شریف لوگ ہیں کیسے مبارکباد دے رہے ہیں
ان میں سے ایک نے گفٹ دیا جو بعد میں امرحہ نے بہت شوق سے اپنے کمرے میں جا کر کھولا پنچ نکل کر اس کتناک پر جا لگا، بہت بار دیکھا تھا اس نے فلموں ڈراموں میں ایسا پنچ مگر پھر بھی اسکی ناک کو سوجا گیا ۔
ایک تحفہ کارل کے لئے لایا تھا عالیان لاہور سے گزرتے ایک ایسی دوکان سے گزار جو روایتی دیسی سامان تھا وہاں سے عالیان نے کارل کے لیے حقہ پیک کروایا اس کا طریقہ بھی پوچھا لایا تم سگریٹ بہت پیتے ہو یہ ڈیڈ ہے اس کا
صرف ڈیڈ اٹھا لائے ماما، بھی لاتے
وہ اگلی بار جا کر لے آؤں گا. لپکے ۔دروازے پر ہاتھ رکھا وہ ایسے کھولاجیسے اندر سے کسی سےدھکا دیا گیا تھا ۔
اور ایک دم شٹل کاک کے کونوں کھدروں سے فوج نمودار ہوئی ایک زبان چلائیں سرپرائز ۔۔۔۔۔
کیسا اچھا سرپرائز تھا
کارل ویرا سائی سب اگے کھڑے تھے
آٹس شو ٹائم کارل نے انگلی اٹھا کر کہا ون ٹو تھری کر کے گلے میں جولتی گٹار پر زور سے ہاتھ مارا کے امرحہ دوبارہ کانوں میں ہاتھ رکھ لیا کے بہری ہی نہ ہو جائے ۔
عالیان نے خود کو اور امرحہ کو اٹھانے کی کوشش کی اور کارل ویرا اور سائی کا شور دیکھنے لگے۔جو کسی اسٹار کی خوفناک نقل کر رہے تھے پیچھے پوری یونی آ موجود ہوئی ہل ہل کر ان کا ساتھ دینے لگی
پھر سب نے مل کر کہا congratulations امرحہ نے سوچا کیسے شریف لوگ ہیں کیسے مبارکباد دے رہے ہیں
ان میں سے ایک نے گفٹ دیا جو بعد میں امرحہ نے بہت شوق سے اپنے کمرے میں جا کر کھولا پنچ نکل کر اس کتناک پر جا لگا، بہت بار دیکھا تھا اس نے فلموں ڈراموں میں ایسا پنچ مگر پھر بھی اسکی ناک کو سوجا گیا ۔
ایک تحفہ کارل کے لئے لایا تھا عالیان لاہور سے گزرتے ایک ایسی دوکان سے گزار جو روایتی دیسی سامان تھا وہاں سے عالیان نے کارل کے لیے حقہ پیک کروایا اس کا طریقہ بھی پوچھا لایا تم سگریٹ بہت پیتے ہو یہ ڈیڈ ہے اس کا
صرف ڈیڈ اٹھا لائے ماما، بھی لاتے
وہ اگلی بار جا کر لے آؤں گا
کیونکہ اب وہ محسوس کرتا کے وہ پرسکون ہو گیا ہے بے چینی کے نشان اس کے دل سے مٹنے لگ گئے تھے کافی بناتے امرحہ کو یاد کرتا اور وہی بھول جاتا امرحہ کے ساتھ لگ جاتا فون بند کرتا تو یہی سوچتا اب امرحہ کیا کر رہی ہو گی۔کبھی کبھی اسے خواب میں ڈر کر اٹھ بیٹھتا جو برازیلا میں ہوا وہ اس ٹائم فون نہیں کرتا بلکہ سائیکل لے کر آ جاتا اور امرحہ کو سوتے دیکھ کر سکون ہوتا تو چلا جاتا۔اب وہ دونوں مختلف کھیل کھیلتے میں چھپوں گا تم ٹائم نوٹ کر کے ڈھونڈنا ایک بار ایک انکل انٹی ائسکریم کھا رہے تھے امرحہ وہاں چھپی عالیان نے ایک منٹ میں بولا فریزر
پھر عالیان چھپا تو امرحہ نے 15 منٹ میں ڈھونڈا وہ ایسے کے گرنے کا نٹک کیا اور عالیان فورا آ گیا اور اس نے پکڑ کیا
پھر دونوں قہقہے لگا کر ہنسنے لگے کتنی بڑی ڈرامے باز ہو تم چلو پھر سے کرو وہ ساری بات سمجھ گیا یہ ڈرامہ سو بار بھی ہوا تو تم اس جال میں آ جاؤ گے ۔
میں پھر گر جاؤں گی تم پھر سے آ جاؤ گے عالیان نے چھپ جانے والا کھیل کسی اور دن کے لیے رکھا اور اسے وہ خواب سنانے لگا جس میں پھولوں سے لدی کشتی ان دونوں کے ساتھ رواں تھی اس نے اس خواب کو سچ کرنے کا وعدہ بھی کر لیا
©©©©©©©©©©©
لیڈی مہر چند دن مورگن کےپاس رہ آئی تھی وہ نانی بن گئی تھی انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کے خدا کی کس کس نعمت کا شکر ادا کریں
انسان دوست کو خدا نوازتا ہی رہتا ہے وہ کبھی دکھی نہیں ہوتے۔
ویرا کا بھائی چند دن کے لئے مانچسٹر آیا ایک کار میں اسے ٹھنس کر مانچسٹر گھمایا بے چارا پچھلی سیٹ پر کارل عالیان اور سائی کے ساتھ پچکپچک کر بیٹھا رہا اور ویرا کار چلاتی رہی امرحہ شور کرتی رہی
جاتے وقت وہ ویرا کے کیے بیان جاری کر گیا
اگر تم ان سب کو روس لانے کا ارادہ رکھتی ہو تو روس کے ٹکڑے ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔
ڈگری کے بعد شادی اور امرحہ عالیان کو وہء جانا، تھا
کہتے ہیں محبت اور جنگ میں سب جائز ہے
رات کی پارٹی میں میں تیاری ایسے کے کسی ہیرو ہیروئن سے کم نہ لگے شارلٹ نے کارل سے ایک فلمی پارٹی کے پاس حاصل کر لیے تھے عالیان کو تو زرا بھی دلچسپی نہیں تھی شاہ ویز سائی جا رہے تھے
ان تینوں کا جوش وخروش دیکھ کر عالیان قہقہے لگا رہا تھا پھر شارلٹ آ گئی اس کے ساتھ چہل قدمی کرنے لگی
تم نے برازیلا میں کتنے لوگ پھلانگ کر اور کتنے کو گھونسے مار کر بھاگے تھے میں یہ کہانی ماما کو ہی نہیں تماری شادی میں بھی سناؤں گی۔
ایسا کچھ نہیں ہوا وہ ہنس دیا
تو مورگن نے ٹھیک کہا تھا کہ میں شادی کے دن بھاگو گا شارلٹ نکاح کے بعد اسے کوئی پچاس بار کہہ چکی تھی اس سے بات کرتے بائے کی جگہ یہ جملہ کہنا شروع کر دیا تھا لیکن کتنا اچھا ہوتا تو عین شادی کے وقت بھاگتے کتنی حسرت ہے ایسے مناظر کو براہ راست دیکھنے کی ایسی چھوٹی خواہش بھی نہ پوری ہو تو کیا فائدہ
تم پارٹی میں جا رہے ہو
نہیں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے،
اچھی بات ہے ویسے ویرا اور امرحہ میرے ساتھ جا رہی ہیں این بھی اس اتفاق سے سادھنا بھی
عالیان چونکا کیا فلم اسٹار بھی آ رہے ہیں؟
آئیں یا نہ آئیں تمہیں تو اس میں دلچسپی نہیں
نہیں مجھے فلم اسٹارز سے ملنا ہے
کس والے سے؟ پیرا مونٹ کی فلم امرحہ سے ویسے ویرا امرحہ کافی تیار ہو کر جا رہی ہیں ۔
اچھا وہ سوچنے لگا اسے کیوں نہیں بتایا گیا
اسے اس لئے نہیں بتایا وہ آپس میں ہی انجوائے کرنا چاہتی تھی انہیں معلوم تھا کے کارل. جا رہا ہے ۔لیکن اسے لفٹ کسی نے نہیں کروانی تھی ۔
ہال واپس آ کر وہ بھی تیار ہونے لگا جانے کے لئے ۔ان سب کو اس پر ہنسنے کا موقع مل گیا وہ چپ کر کے ہنسی سنتا رہا اور پھر پارٹی آ گئے ۔کوئی لڑکی فون نہیں اٹھا رہی تھی اف کتنی تیز ہو جاتی ہیں جب لڑکیاں ایک ساتھ ہوتی ہیں
عالءان سیڑھیاں چڑھ چڑھ کر تھک گیا، اسے امرحہ کہیں بھی نظر نہیں آ رہی تھی اسے سادھنا، اور این ایک جگہ نظر، آ گئی
امرحہ کہاں ہے اس نے سادھنا، سے پوچھا، اس نے گندھے اچکا دیے۔
اف یہ خواتین بھی نا
اسے ویرا بھی نظر آ گئی قریب ہی شارلٹ تھی لیکن امرحہ نہیں تھی اس نے ان کے قریب جا کر امرحہ کا پوچھا انہوں نے اسے ایسے دیکھا جیسے جانتی نہیں کے کون ہے کیا بات کر رہا ہے
پھر وہ خود ہی سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگا دور امرحہ کی جھلک نظر آ ئی جو مسکرا کر کسی کی آڑ میں چھپ رہی تھی وہ اس کی طرف لپکا لیکن وہ وہاں تھی نہیں کتنی بار اسے ایسے ہی نظر آتی رہی اور غائب ہوتی رہی عالیان کو بہت شوق تھا نا اسے ڈھونڈنے کا تو وہ یہ شوق، آج اس کا پورا کر رہی تھی
کئ سو لوگوں میں چھپ جانے کا کھیل اچھا ہے رش بڑھ رہا تھا عالیان کا کام اور مشکل ہو رہا تھا ۔اسی افراتفری میں عالیان کا پاؤں سیڑیوں سے پھسل گیا اور وہ گر گیا ایک منٹ میں امرحہ اس کے سامنے تھی ۔جاؤ پھر چھپ جاؤ میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا میں سو بار گروں گا تم سو بار آؤ گی عالیان نے آنکھ مار کر کہا اور اٹھ کھڑا ہوا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا کے پھر چھپ نہ جائے آج وہ اس خواب کو حقیقت میں بدلنا چاہتا تھا امرحہ سرخ پوشاک میں تھی وہ یقینا انکار نہیں کرے گی. میں ایک خوش قسمت انسان ہوں میں ایک دوست رکتا ہوں میری خوشیوں کے رستے سارے میرے دوست کے دل سے ہو کر آتے ہیں
تمارے ساتھ بزنس کا ارادہ بدل دیا
وہ کس لئے؟
میرا خیال ہے پہلے مجھے زندگی انجوائے کر لینی چاہئے ۔
کتنے معصوم لگ رہے ہو یہ سب کہتے کارل
پتہ نہیں عالیان کوئی بدعا دے گیا ایسی معصومیت کی
میرا بھی دل کرتا شرارتیں کروں
برطانوی شہزاری کیسی ہے
ویسے ایما ایک اچھی لڑکی ہے اس کی مسکراہٹ بہت پیاری ہے میں اسے جب بھی اکیلا دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کتنی خوش قسمت ہے ایما تمارے بغیر کیسے خوش خوش ہے
وہ کتنی پیاری ہے یہ امرحہ تمہیں بتائے گی کیونکہ اس کی مسکراہٹ کا امرحہ کو تفصیل سے بتاؤں گا
ہاہا پھر تو ایما کو منا لو۔
میں عالیان نہیں کے اس کے پیچھے پاگل ہو جاؤں نہ وہ امرحہ ہے کے پاگل کر دے یہ لڑکیاں بھی حشرات کی طرح ہیں ہر طرف سے نکل آتی ہیں
تم جب تک لڑکیوں کو حشرات سمجھتے رہو گے وہ تمارے ساتھ سنجیدہ کیسے ہوں گی
میں خود کو انسان سمجھتا ہوں کافی ہے
اسی شام امرحہ ویرا کی سائیکل کے پیچھے بیٹھی آئسکریم کھا رہی تھی امرحہ نے تو ویسے بھی جاب چھوڑ دی تھی ویرا کے پاس وقت تھا تو دونوں. نکل پڑیں ادھر اُدھر کھاتے پیتے مانچسٹر میں اوارہ گردی کرتی رہی۔میں اب بھی رات کو اکثر ڈر کے اٹھ جاتی ہوں وہی سب نظر آتا ہے جو تمارے ساتھ برازیلا میں ہوا تھا وہ زندگی کا بد ترین احساس تھا امرحہ
میں نے محسوس کیا میرا جسم برے جان ہو رہا ہے مجھے کچھ سنائی دکھائی نہیں دے رہا
ویرا پہلی بار اس سے اس واقعے کو سن رہی تھی
سائیکل پر پیچھے بیٹھی امرحہ کی آنکھیں نم ہو گئی اور اس نے محبت سے ویرا کی کمر کے گرد اپنے ہاتھ حمائل کر لیے۔
میں نے اس وقت محسوس کیا امرحہ کے وہ زندگی کیا ہو گئی جو تمارے بغیر ہو گی میں نے خود کو روتے پایا لگ رہا تھا تمہیں کچھ ہوا تو میں ساری دنیا کو آگ لگا دوں گی اب تک سمجھ نہیں میرا ایسا کیا ہے جو تم سے جڑ گیا میں نہیں رہ پاتی تمارے بغیر
اب امرحہ سائیکل چلانے لگی ویرا پچھلے بیٹھ گئی
©©©©©©©©©
میں تمہیں اس لیے خوش قسمت نہیں کہوں گی کے تمہیں عالیان ملا اس لیے کہوں گی کے تم دیری کی بیٹی بن گئی ہو۔دونوں نشت گاہ میں بیٹھی تھی امرحہ ابھی ماما مہر کو ان کے کمرے میں سلا کر آئی تھی این بھی سو چکی تھی
جب میں جہاں آرہی تھی تو دل تھا مر جاؤ، انجانے ماحول میں انجانے لوگوں میں مجھے رہنا، عزاب لگتا ہے جب میں یہاں آ گئی مجھے لگا ایک گھر سے نکل کر دوسرے گھر آ گئی ہوں۔آریان بہت بمار تھا اس مجھے بہت سارے پیسوں کی ضرورت تھی اس گھر کے سارے پیسے میرے حوالے تھے
آج تک مجھ سے ایک پیسے کا حساب نہیں لیا۔روز آریان کو کال جاتی روز دیری اسے کہانی سناتی۔اریان کی ماں کی دعا رد کی جا سکتی مگر دیری کی نہیں
لیڑی مہر نے آریان کو مانچسٹر بلوا لیا تھا عالیان کی شادی کے لئے اور سادھنا سے گزرے وقت نہیں گزر رہا تھا
تم بہت خوش قسمت لڑکی ہو امرحہ سادھنا نے گیلی آنکھوں سے اسے کہا۔
ہاں بہت زیادہ اب دنیا میں کون ہے جو مجھے سیاہ بخت کہہ سکے
میں ماما، مہر کے زیرِ سیایہ رہنے والی ہوں
دادا روز فون کرتے روز رو پڑتے پہلے یہ تھا کے پڑھنے گئی ہے آ جائے گی اب یہ کے پرائی ہو گئی ہے وہ بابا کو بھی سلام دعا کرتی پھر خاموشی چھا جاتی اور فون بند، ہو جاتا دادا نے کہا تھا باپ کی خاموشی کا احترام کرو تو وہی کر رہی تھی ۔محبت ادھر بھی قائم تھی ادھر بھی رات کتنی سیاہ ہو سویرا ضرور ہوتا ہے
©©©©©©©©
سمسٹر ختم ہونے کو تھا پھر ان کی پیاری دلاری یونی میں گزرنے والے دن ڈائریوں میں قید کر رہی تھی
سب اسٹوڈنٹس اپنے اپنے زندگی کی راہوں میں بکھر جانے والے تھے ۔
سائی روپا، سے اظہار محبت نہیں کر سکا کہ وہ اس کی مشکلات کا باعث بنے گی لیکن روپا نے خود اظہار کردیا سائی کے لئے یہی بہت تھا ۔نوال اور دائم کی شادی ہو گئی ۔
خاص سمسٹر ختم ہونے سے پہلے کی تاکہ سب شرکت کر سکیں ۔امتحانات کے بعد عالیان اور امرحہ کی شادی کا شور تھا تو انہوں نے امتحانات سے پہلے ترجیع دی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: