Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 7

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 7

وہ گھر گئی تو اس نےشرلی عذرہ وغیرہ سب سے کہے دیا کہ کل ہر صورت وہ خود اور اپنے دوستوں کو لے کر اس کے کیفے آجائیں….چاروں نے آنےکا وعدہ کر لیا سوائے ہانا کے…..اور انہوں نےاسے یقین دلایا کہ وہ کوشش کر کے اپنے ایک یادو دوستوں کو بھی ساتھ لے آئیں گی….صبح وہ دائم اور نوال بھی گئی انہیں سب سچ بتا دیا۔دائم کتنی ہی دیر بے یقینی سے اس کی شکل دیکھتارہا۔
”تم نے کس قدر چالاکی سے یہ سب کیا ہے….ہے نا“
”کرنا پڑا“ اس نے کندھے اچکائے۔
”میں اپنے ہم جماعتوں کو اور دوستوں کو بھی کہے دیتا ہوں….کتنے دن کا ٹرائل ہے؟“
”ایک ہفتے کا….اگر روز آٹھ دس لوگ آئیں تو….“
”آٹھ دس تو کم ہے آخری روز تک میں تمہیں چالیس کر دوں گا۔“
یہ ٹھیک ہے“ اور پھر یوں پہلے دن دس…دوسرے دن پندرہ…پھر اٹھارہ،بیس….پچیس اور آخری دن تین کم پچاس اسٹوڈنٹس وہاں کافی پینے گئے اور مزے کی بات یہ کہ انہوں نےاپنی پرفارمنس کی حد ہی کر دی…وہ کافی پینے جاتے،کاؤنٹر تک آتے جاتے۔
”کتنے نوبل انسان ہیں آپ۔“مسکرا کر کہا جاتا۔
”آپ نے ایک مسلم خاتون کو بغیر کسی امتیاز کے نوکری دی۔“
”آپ جیسے انسان دوست لوگ آج کل کہاں ملتے ہیں۔“
”ہم سب ضرور اپنے پروفیسر سے آپ کی تعریف کریں گے،آپ کو ہمارے کانووکیشن ڈے پر ضرور آنا چاہئے۔“
”بہت فرشتہ صفت ہیں آپ…ایسی صفات آج کل نا پید ہیں۔“
اب ہم ہر روزصرف یہاں ہی آیا کریں گے کافی پینے“
”چھ دن ہر پرفارمنس کے ساتھ ساتھ وہ مسکراتا رہا، مسکراتا رہا….”میں نے اپنے زندگی میں بہت ڈرمے دیکھے لیکن ان چھ دنوں میں جو یونیورسٹی والوں نے میرے کیفے ڈرامہ سیشن کیا،وہ سب سے شاندار رہا۔“
وہ دنگ کھڑی کاؤنٹر پہ ہاتھ رکھے اسے ہنستے ہوئے دیکھتی رہی، اس کا تو خیال تھا اس کا پلان کامیاب رہا لیکن یہ کیا…..تم ایک کاروباری انسان کو اُلو نہیں بنا سکتیں..رائٹ“؎
”رائٹ“اس نے کمزور سا رائٹ کہا۔
”پر تم ایک کاروباری انسان کو متاثر ضرور کر سکتی ہو….رائٹ..“
”رائٹ“وہ مسکرانے لگی۔
دیکھو مس اخروٹ…..!میں تمہیں یہاں ایسے نہیں رکھ سکتا۔“وہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا اور امرحہ بھی….اس کی خوشی اڑن چھو ہو گئی۔
”کافی کمپنی اس ڈریس کے لئے مجھے پے کرتی ہے اور اس کیفے کے پچاس فیصد مالکانہ حقوق کمپنی کے پاس ہی ہے لیکن کیونکہ میری دلچسپی بڑھ گئی ہے کہ میں یونیوورسٹی کے کانووکیشن میں بلایا جاؤں تو میں تمہیں عارضی طور پر یہاں رکھ سکتا ہوں….جب تک تمہیں کہیں اور نوکری نہیں مل جاتی،تم یہاں کام کرسکتی ہو لیکن اگرکمپنی نے اعتراض کیا تو مجھے تمہیں فوراً نکالنا ہو گا“
کمپنی اعتراض نہیں کرے گی۔“وہ خوشی سے نہال ہو کر بولی۔
”کیوں؟تمہیں کسے پتا“
”میں دعا کروں گی ،کمپنی اعتراض نہ کرے“
”تم یہ دعا کیوں نہیں کرتیں کہ تمہیں کہیں اچھا سا کام مل جائے“
”وہ بھی کر رہی ہوں ساتھ ساتھ لیکن فی الحال مجھ پہ یہی دعا واجب ہے….کہ کمپنی اعتراض نہ کرے“وہ اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے مسکرا رہا تھا۔
”اور مجھے اخروٹ مت کہئے آپ مجھے چلغوزہ کہہ سکتے ہیں کیونکہ چلغوزہ مجھےبہت پسند ہے۔“وہ خوشی سے بولتی ہی چلی جا رہی تھی کیفے سےباہر مانچسڑ کی سڑکوں پر اُڑنے والی رات اس رات بہت روشن تھی جب سیاہی سفید ہو جائے راتیں روشن ہو جائے تو زندگی کی شاخوں سے نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔خوشبو دیتی ہوئی۔پھولوں اورپھلوں سے لدی ہوئی
وہ کام سے بھی لگ گئی اور کلاسسز میں بھی مصروف ہو گئی۔ساتھ ہی اس نے بھی نوڈلز کھانےشروع کر دیے۔اپنی پہلی تنخواہ سے اس نے سب سے پہلے ہانا کی پسند کے نوڈلز کا بڑا پیکٹ لیا جو وہ دو ہفتے تک کھا سکتی تھی۔ساتھ ہی انڈے،دودھکے ڈبے،جام، ڈبل روٹی لےکر اسے نے فریج بھرا تاکہ وہ سب بھی استعمال کریں….اب اسے رہائش کی تلاش تھی….ساتھ ساتھ وہ اپنا رہائش کا مسئلہ بھی حل کر رہی تھی ۔گو شرلی نےاس سے کہہ دیا تھا کہ وہ اتنی پرشان نہ ہو رہائش کے لیے لیکن وہ پریشان تھی اگر اسے انہوں نے خندہ پیشانی سے اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ڈھیٹ بن کر مستقل ہی وہاں جم جاتی اور بہانے بناتی کہ اسے رہائش نہیں مل رہی ۔چونکہ اسے شروع سے بہت زیادہ کھانے کی عادات تھی تو ابھی وہ مکمل طور پر اپنی بھوک پر قابو نہیں پا سکتی تھی۔چنے منے سے ناشتے سے تو اس کا کچھ بنتا ہی نہیں تھا اس سے زیادہ تو وہ شام کی چائے میں اُڑا جایا کرتی تھی۔دوپہر کے کھانے کے وقت یونیورسٹی میں اسےکسی نہ کسی ٹوئیٹ مل جاتی۔ٹوئیٹ…(Twit) تو ٹوئیٹ کا قصہ کچھ یوں تھاکہ کسی بھی فرینڈیاہائے ہیلوفرینڈیا کلاس فیلو کے پاس جایا جاتااور اس سے کہا جاتا ۔”ٹوئیٹ می پلیز“(مجھے ٹوئیٹ کرو)اگر وہ چاہتا یا افورڈ کر سکتا تو اسے ٹوئیٹ کر دیتا یعنی ایک کپ چائے ،کافی یا کوئی بھی کولڈرنک پلا دی جاتی۔دائم گروپ نے اسے اپنی ساری ٹوئیٹس دے دی تھیں۔ٹوئیٹ مانگنے والے کو وہ ٹوئیٹ واپس بھی کرنی ہوتی تھیں۔اب منظرکچھ یوں ہوتا کہ دائم یا نوال اس سے کہتے کہ جو سامنے حماد بیٹھا ہے اس کے پاس میری چھ ٹوئیٹس ہیں۔اس کے پاس جاؤ اور کہو ”ٹوئیٹ می بیک پلیز“وہ جاتی اور کہہ دیتی۔اسی طرح شرلی ،عذرہ اور ایسےہی دوسرے ہائے ہیلو دوست اپنی ٹوئیٹس دے دیتے۔اکثر جن کی تین یا چار ٹوئیٹس اکھٹی ہو چکی ہوتیں ان کا وہ برگر کھا لیتی لیکن برگر،سینڈوچ یا پیزا کھائے جانے پر ایک ایکسٹرا ٹوئیٹ منفی ہوجاتی یعنی اگر چار ٹوئیٹس ہے تو تین کا برگر اور ایک منفی یعنی باقی زیرو….اور اگر تین ہی تھیں تو ایک جمع ہو جاتی یعنی برگر کھانے والےکھاتے میں ایک ٹوئیٹ آجاتی۔پہلی بار تو امرحہ کو کافی سے زیادہ شرم آئی بھر اس نے محسوس کیا کہ امیر کبیر اسٹوڈنٹس بھی ایسا کر لیتے ہیں تو وہ بھی کرنے لگی….وہ دائم نوال شرلی کے پاس جاتی ریفری”آٹوئیٹ پلیز “کہتی وه سوچتے.ادھر ادھر دیکھتے.
وه سامنے….ہاں وہاں گراؤنڈ میں…وه جس نے سفید شرٹ پہنی ہے. ہاں وہی اس کے پاس جاؤ.”
کاغذ پہ لکھ دیا جاتا” ٹوئیٹ ہر بیک “(اسے ٹوئیٹ واپس کر دو)اسی کاغذ پر ٹوئیٹ دینے والا لکھ دیتا” بقایا دو” باقی کی دو بھی وہ ہڑپ کر جاتی.اسےبڑا مزہ آ رہا تھا. اسے ٹوئیٹ پہ ٹو ئیٹ مل رہی تھیں…..اس نے دادا کو سب بتایا.
“مانگنے کے نت نئے انداز” وہ ہنسنے لگے.
“دینے کے نت نئے انداز دادا.”
“کیا کمال کا جواب دیا ہے تم نے” وہ بہت خوش ہوئے.اس دن وہ دائم گروپ کی ایک لڑکی اقصیٰ کےپاس گئی اورٹوئیٹ ریفرکرنے کے لئےکہا.
یہ تمہیں لائبریری میں ملے گا ورنہ کہیں نہیں ملے گا اس وقت ….بڑے بڑے کان ہیں اس کے…لائبریری میں کسی سے بھی پوچھ لینا.تمھیں اس کا بتا دیا جائے گا.”پوری بیس ٹو ئیٹس ہیں میری اس کے پاس”.
“بیس..!”،امرحہ کے منہ میں پانی بھر آیا.آرام سے چار پانچ برگرکھائےجاسکتےہیں’کافی بھی…..آرام سے دوہفتےنکل جائیں گے.
یعنی اگلےدوہفتوں کےلیے بالکل خوار نہیں ہوناپڑےگا….وہ لائبریری میں آگئی اور سرگوشی کے انداز میں اسکاپوچھا.
“میں سمجھ نہیں پائی….کونسی کتاب چاہئے؟؟”
“اف..کتاب نہیں چاہئے…عالیان کا پوچھ رہی ہوں.جس کی بڑے بڑے کان ہیں.”
ایک ہلکی سی مسکراہٹ لائبریرین کے چہرے پر نمودارہوکرمعدوم ہو گئی اوراس نےہاتھ سے اشارہ کرکے بتایاکہ وہ کہاں بیٹھا ہے.وہ اسکےپاس آئی اور کاغذ جس پراقصیٰ کی لکھائی میں ٹوئیٹ کالکھاتھااسکےاگےکیا.
اس نے اپنی موٹی سی کتاب سے نظر اٹھاکراس چٹ کوپڑھاپھرجس ہاتھ نےچٹ تھام رکھی تھی’اس خفگی سے گھورا…اس کی پیشانی پر پتلی سی لکیربن کرغائب ہو گئی.
“سوری اس وقت نہیں”اس نے آ ہستگی سے کہا.
“پھرکس وقت؟؟”
“بس آج نہیں….ان فیکٹ اگلے ہفتے تک نہیں…برائےمہربانی اس سےپہلےمجھےتنگ نہ کیا جائے.”
پر مجھے توابھی اسی وقت بھوک لگی ہے.”اسکی تیز آواز پر وہ بھوری آنکھوں والا حیران رہ گیا.پیشانی پرخفگی سے دو لکیریں بن کر ابھریں اوروہیں براجمان رہیں.
“ٹوئیٹ می بیک.” امرحہ نےدونوں ہاتھ سینے پر باندھ کرتھوڑی اوراونچی آوازمیں کہا.یہ وہی تھاناجواس دن ویلکم ویک میں اس پرچلا رہاتھا.اب وہ اس پر چلا سکتی تھی.
“میں نہیں کر رہا.” اس نےذرا سختی سے کہا.
“میں کیا کروں….مجھے تو بھوک لگی ہے.” اس نے اس طرف آتےہوئےایک اورکام کیاتھا.اس نےکاغذپرخودہی سینڈوچ لکھ دیاتھا.
اسکی تیزبھوری آنکھیں ایک لحظےکےلیےسیاہی مائل سی ہوئیں.پیشانی پر شکنوں کاجال سا بچھ گیا.90ءکے ہیروز کی طرح اس نے گردن کو ہلکا سا جھٹکا دے کر اس کو گھورااورپھروہ ٹوئنٹی ز کے ہیروکی ترطرح مکمل نظرانداز کرکےاٹھ کھڑاہوا.
“میں نے کہانا’اگلےہفتےسےپہلےمیرےپاس نہ آنا.” وہ لائبریری بلڈنگ سے باہر نکلا.
“میں کچھ نہیں جانتی.”وہ بھی اسکے ساتھ نکلی.اس نے اس کے ہاتھ سے کاغذ کھینچااورتیزی سے آگےآگےچلنےلگا.
وہ اسکے پیچھے پیچھے لپکی کہ وہ کینیٹن جارہاہے.لیکن…..وہ تو…..وہ تو
“یہ کیا ہے اقصیٰ؟؟” اس نےدوانگلیوں میں اٹکایا کاغذ اقصیٰ کےآگےکیا.
“کس بھوکی کومیرےپیچھےلگادیاہے؟؟

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: