Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 8

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 8

.”یہ کیا ہے؟” امرحہ نے اس امریکی نقوش کے حامل فرنچ غصے کو سہم کر دیکھا یہ اس نے کیا کہہ دیا اتنے دھڑلے سے امرحہ نے آس پاس دیکھا اف یونیورسٹی کے سارے اسٹوڈنٹ انگوٹھا ہلا ہلا کے شرم کرو شرم کرو کہہ رہے تھے پہلے تو امرحہ نے آنکھیں میچ لیں پھر اس نے غصے سے بھڑک کر اسے دیکھا اقصی نے پڑھا کاغذ پہ سینڈوچ لکھا تھا.ٹوئیٹ می بیک پلیز اقصی نے اس کی عزت رکھ لی اگلے ہفتے تک اس نے شان سے کندھے چکائے جیسے بڑا نقصان کرنے کے بعد اطالوی چکاتے ہیں بےنیازی سے بھی اور خونخواری سے بھی.تم دونوں ہینڈل کر لو پلیز اقصی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ایک بھوکے اور دوسرے کنگلے کو کیسے ہینڈل کرے اور وہ یہ کہہ کر گراؤنڈ سے اٹھ کر چلی گئی.”اگلے ہفتے سے ایک بھی دن پہلے میرے پاس نہ آنا۔“لمبے کانوں والے نے ناک پھلا کے کہا اور پھر سے لائبریری کی طرف جانے لگا۔”اگلے ہفتے تک میں بھوکی مر جاؤں گی“ وہ پھر سے اس کے ساتھ چلنے لگی
”ایک میری ہی ٹوئیٹ پہ زندہ ہو کیا؟“ وہ پھر سے ایک فرنچ بن گیا جو غصے کو دبانے کے لیے لفظ چباتے ہیں تو آنکھیں سرد مہری سے اندر کر لیتے ہیں اختلاف اپنی جگہ لیکن وہ اس کے اسی طرح خم ہے کے طنز جھاڑنے پر اسے دیکھتی رہ گئی۔غصہ کر بھی رہا تھا اور نہیں بھی کیسی بات تھی۔
”آج تو اسی ٹوئیٹ پہ رہنا ہے سارے پیسے ختم ہو گئے اور نوڈلز بھی صبح جلدی کی وجہ سے چائے بھی نہیں پی“ اس بات پر وہ ذرا رکا اپنے کراس بیگ کو اپنی گردن سے نکال کر کھنگالنے لگا تھوڑا وقت لگا لیکن وہ مطلوبہ چیز نکال چکا تھا اس نے ایک چاکلیٹ نکالی جو آدھی کھائی ہوئی تھی یہ لو آدھی کھائی چاکلیٹ اس کی طرف پڑھائی اس سے کیا ہو گا چاکلیٹ دیکھ کر امرحہ کو خوشی تو ضرور ہوئی لیکن فی لحال اسے سینڈوچ ہی کھانا تھا ۔”کافی کیلوریز ہیں اس میں“ بھوری آنکھوں والے نے بیگ کو واپس گلے میں ڈالا ایک ہاتھ جینز کی جیب میں ڈالا اور ایسے کھڑا ہو گیا جیسے اس کا فوٹو سیشن ہو رہا ہو۔”لارڈ میئر جوانی کے دنوں میں یونیورسٹی میں چیریٹی کرتے ہوئے۔“ فوٹو کا کیپشن اس سے بڑھ کر اور کیا ہوتا۔”مجھے کیلوریز نہیں چاہئیں… کھانا چاہیے۔“
”تو یہ کیا بھوسا ہے؟“ لارڈ میئر نے بہنوئیں اچکائے اور کچھ ایسے اچکائے کہ پیشانی پر گرے بھورے بالوں سے جا ملیں۔
”اور یہ چھوٹی بھی ہے چھوٹی اور آدھی کھائی ہوئی اور پھر میں کیوں کسی کی چیز کھاؤں۔“
”بھنویں… اس بار سوالیہ اچکیں… یعنی اتنی ایگو ہے تم میں …اچھا.. سچ میں..“
”دوسری طرف سے کھا لو آخری کنارہ پھینک دینا۔“ وہ منہ بنائے کھڑی رہی…. اس نے پھر سے بیگ کھنگالا اور ایک پیکٹ نکالا….. جس میں ریپر کو ایک کامن پن سے بند کیا گیا تھا۔ تا کہ اندر کوئی موجود میوہ جات بیگ میں بکھر نہ جائیں۔ پیکٹ بسکٹ کا لگتا تھا۔
” یہ لو اور یہ بھی لو“ چاکلیٹ اور بسکٹ دونوں اس کے آگے کیے۔ اس نے دونوں پیکٹ پکڑ لیے… ایک میں موجود چاکلیٹ اس نے دیکھ لی تھی دوسری کی پن نکالی تو وہ بسکٹ کا چورا تھا۔
”مجھے کیا سمجھ رکھا ہے چیریٹی کر رہے ہو“ امرحہ بری طرح سے برا مان گئی۔ لیکن اس نے جیسے سنا ہی نہیں اور وہ تیزی سے لائبریری کی طرف جانے لگا۔
جو دونوں پیکٹ ہاتھ میں لیے کھڑی ہے۔اس تو آپ جانتے ہی ہیں۔ لیکن جو جا چکا ہے کیا اسے جانتے ہیں؟ عالیان مارگریٹ…. وہ اپنی ماں کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
*……*……*
رہائش کا مسئلہ تھوڑا سنجیدہ ہوتا جا رہا تھا۔جو رہائش مل رہی تھی، وہ مہنگی تھی، جو سستی تھیں یا وہ بہت دور تھیں یا لڑکوں کے ساتھ تھیں۔یعنی لڑکے لڑکیاں ایک ہی فلیٹ میں….سب اس کے لیے اپنی اپنی جگہ پر کوشش کر رہے تھے۔وہ ایک ،دو برطانوی، پاکستانی،ہندوستانی گھرانوں میں بھی گئی، لیکن وہ رہائش بھی اس کی گنجائش سے بہت زیادہ تھی۔ وہ بہت نارمل سی ایک رہائش افورڈ کر سکتی تھی۔یعنی بے حد سستی سی۔ جتنی زیادہ سستی ہو سکے اتنی سستی اور یونیورسٹی کے پاس بھی…..
”ایک لینڈ لیڈی ہیں تو، لیکن ایک مسئلہ ہے کہ وہاں کم ہی لوگ رہنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ ان کو سمجھنا بہت مشکل ہے وہاں جا کر دیکھ لو شاید تم ان کو سمجھ سکو۔“
”ٹھیک ہے وہاں بھی جا کر دیکھ لیتی ہوں۔“ اس کا منہ لٹک گیا۔
ہاں… ایسے ہی منہ لٹکا لینا… اور وہ اپنا مشہور زمانہ آزمودہ فقرہ ضرور کہنا،منحوس ماری… مجھے تو مر جانا چاہیے۔اس بات پہ وہ نوال سے زیادہ ہنسی۔ایک، دو، لڑکیاں ہیں جو وہاں گئی تھیں۔ ایک چند دن بعد ہی واپس آ گئی اور ایک نے چند ہفتے بعد وہ گھر چھوڑ دیا۔وہ اسے شٹل کاک کہ رہی تھی۔
”نام اچھا ہے شٹل کاک۔“
ٓکہانی آتی ہے تمہیں“
”ہاں ایک ،دو، آتی ہیں
”گڈ…سنا ہے وہ ہر رات کہانی ضرور سنتی ہیں۔
اچھا… صرف کہانی… مطلب کرایہ نہیں لیں گی؟
ہاہاہا کرایہ تو ضرور لے گی ساتھ میں کہانی بھی،
ٹھیک ہے، میں دو چار کہانیاں یاد کر کے جاتی ہوں۔
‏……
شٹل کاک کا پتا لے کر وہ چھٹی والے دن شام کو آ گئی۔یہ ایک دو منزلہ برطانوی طرز تعمیر کا کافی بڑا گھر تھا۔گھر کے آگے سبزے کا بڑا قطعہ تھا۔جس میں مختلف اقسام کے پودے اور پھول لگے تھے۔ساری عمارت سفید رنگی تھی اور وائٹ ہاؤس کا چھوٹا سا منا سا نمونہ لگ رہی تھی۔امرحہ کو شٹل کاک کا بیرونی نظارہ بہت پسند آیا۔بلکہ بہت ہی زیادہ پسند آیا۔
اگر اسے یہاں رکھ لیا جائے تو وہ کافی شاندار قسم کی رہائش گاہ ثابت ہو والی تھی۔
.‎بیل دی اور کافی دیر تک دیتی رہی کھڑکیوں سے بھی جھانکتی رہی
دروازہ بھی بجایا۔لیکن کوئی بات نہیں بنی۔ وہ دروازے کے پاس سیڑھی پر بیٹھ گئی کہ شاید مالکن بازار گئی ہوں۔کوئی بیس منٹ بعد دروازہ کھلا… وہ جلدی سے اٹھ کے دروازے تک آئی ۔”مجھے کہانی آتی ہے۔“ جھٹ سے کہا۔
سامنے والی کی ہنسی کافوارہ نکلا۔وہ ہلکے گلابی رنگ کی ساڑھی میں تھی۔ لمبی پتلی سانولی سی … کالے سیاہ بالوں کی چوٹی بنائے ہوئے اور انہیں کندھے پر گرائے ہوئے۔
“مجھے کمرہ چاہیے‎‏”.
”اندر آ جاؤ“ وہ ہنستی ہوئی اندر کی طرف بڑھی۔امرحہ بھی اس کے پیچھے چلنے لگی۔
بعد ازاں امرحہ کو معلوم ہوا کہ وہ لینڈ لیڈی کو شام کی چائے پلا رہی تھی۔پھر ان کا منہ دھلایا کپڑے تبدیل کروائے۔
بیل دینے والا دروازہ پیٹنے والا جائے بھاڑ میں ہم کیا کریں۔ لینڈ لیڈی کی نشست گاہ میں ٹھنڈےآتش دان کے پاس بیٹھی باب جیبریل کا انگلش ترجمہ پڑھ رہی تھیں۔اس کی سانس اٹکنے لگی….یعنی شاعری بھی سنانی پڑے گی وہ بھی ایسی اعلا پائے کی …یعنی یہاں بھی اس کا کام بننے والا نہیں تھا ۔بہت دیر اس کا انٹریو ہوتا رہا۔وہ بہت صبر سے اور اپنی طرف سے چالاکی سے سارے سوالات کے جوابات دیتی رہی۔”کھانا پکا لیتی ہو؟کیا کیا پکا لیتی ہو؟“
”چاول ،روٹی اور تنور ہو تو نان بھی لگا لیتی ہوں۔“اس نے اس چیز کا نام لیا جو برطانیہ میں میسر ہو ہی نہیں سکتی تھی۔”تنور“
”بیسن کی روٹی…آلو…. گوبھی…..قیمے کے پراٹھے…مولی کے بھی….نان پہ بیسن لگا کر اسےتل بھی لیتی ہوں۔بہت مزے کا بنتا ہے۔آلو کے پکوڑے…بینگن،پالک،چکن کے،مچھلی کے بھی بنا لیتی ہوں۔“ لینڈ لیڈی اپنے بچوں کے سے چھوٹے چھوٹے ہاتھ ٹھوڑی تلے رکھےاسے دیکھتی رہیں۔”ہو چکا تمہارا؟اب بتاؤکھانا پکا لیتی ہو؟“اس کا منہ لٹک گیا۔اس کی چالاکی کسی کام نہ آئی۔دادی ٹھیک کہاکرتی تھیں کہ انسان کو زندگی میں سب کام آنے چاہئیں۔نا معلوم زندگی کہاں لے جائے اور کون سا سیکھا کام…کام آجائے۔”گوشت کا سالن اور چاول بس …روٹی بھی“
”سادھنا!یہ پرٹھوں کی اتنی ورئٹی کام کی ہیے؟“
”جی ہفتے میں دو بار یہ ہو جائے گا۔باقی گوشت کا سالن اور چاول۔“میڈم سادھنا اسی کے ساتھ صوفے پر ذرا کنارے پر بیٹھی تھیں سویٹر بن رہی تھیں۔”سودا سلف بھی لانا ہوگا“
”جی میں لے آؤگی،سنڈے کے سنڈے۔“
”سنڈے ونڈے ہم نہیں جانتے۔جب جب سادھنا کہے گی لانا ہو گا،تازہ سبزی آتی ہے روز….حلال گوشت آتا ہے…بولو ہاں یا نا؟“
”ہاں جی ہاں…..“
”گڈ…اچھا اب بولو کہانی آتی ہے کوئی؟“
”جی آتی ہے دو“
”گڈکون کون سی ؟سناؤ ذرا۔“
”ایک کوا تھا ،بہت پیاسا تھا…ادھر اڑا اُدھر اڑا….“
دوسری؟
”دوسری خرگوش اور کچھوے والی۔“سادھنا تیزی سے سلائیاں چلانے لگی،تاکہ اس کی ہنسی کم سے کم اس کے منہ سے نکلے….لینڈ لیڈی البتہ ہونٹ بھینچے بیٹھی رہیں۔
”بی بی! یہاں رہنا ہے یا نہیں؟“
”رہنا ہے۔“
تو کہانیاں بدلو۔
میں اچھی اچھی کتابیں لے لوں گی…آپ کو پڑھ کر سناؤں گی۔
گڈ
کرایہ پہلے بتا دیں پلیز
”پہلے شرائط سن لو….تم سے پہلے تین لڑکیاں جا چکی ہیں۔تم چوتھی آئی ہو سادھنا یہاں دو سالوں سے رہ رہی ہے۔“ اس نے سہم کر سادھنا نامی ”لڑکی“ کو دیکھا ۔ہائے میری عمر بھی اتنی لگتی ہے کیا؟
”سادھنا سے پہلے یہاں چھ لڑکے رہ کر گئے ہیں۔اچھے لڑکے تھے ،سارا کام کر دیتے تھے۔میں تو اب بھی لڑکوں کی حق میں ہی تھی ۔پر اب سادھنا کی وجہ سے لڑکیاں ہی رکھتی ہوں۔سارے گھر کی صفائی کرنی ہو گی اور صبح ہی کر کے جانی ہو گی۔باقی کےکمرے بند ہیں اور جتنا بھی گھر استعمال ہو رہا ہے۔وہ تمہیں صا ف کرنا ہو گا۔کھانا بنانا ہو گا۔ہفتے میں دو دن پودوں کی کانٹ چھانٹ اور کھڑکیوں کی صفائی….ایک ہفتہ تم میرے کپڑے لانڈری کرو گی اور استری بھی ایک ہفتہ سادھنا کرے گی۔جتنی زیادہ لڑکیاں یہاں رہنے کے لئے آجائیں گی اتنا ہی کام کم ہو جائے گا۔میرے کمرے کا جو سینٹرل کارپٹ ہے،اسے دھوپ کے دنوں میں تمہیں دھوپ لگوانی ہو گی۔پاکستان میں اپنے گھر کا نمبر تمہیں مجھے دینا ہو گا۔کیونکہ اگر میں نے تمہیں ٹریک سے اترتے ہوئے دیکھا یعنی اگر تم میں کوئی غلط ہرکت دیکھی تو فوراً میں تمہارے گھر والوں کو بتاؤں گی،تم ایک مسلمان لڑکی ہو ،اس لئے میں تمہارے پاس کو ئی ایسی ویسی چیز نہ دیکھوں،ورنہ میں تمہیں فوراً یہاں سے نکال دوں گی اسی وقت چاہے باہر برف باری ہو رہی ہو اور تم نمونیہ کا شکار ہو ۔تمہارے ہر طرح کے دوست یہاں آسکتے ہیں،لیکن اگرمیں نے ان دوستوں میں خرابی دیکھی تو بھی تمہیں یہ جگہ چھوڑنی ہو گی۔ بے شک تمہیں پورے انگلینڈ میں کہی جگہ نہ ملے۔اگر میں سوتی ہوں تو چٹکی کی آواز سے بھی اٹھ جاتی ہوں۔اس لئے جب میں سوؤں تو تم ایسی ہو جانا جیسے گونگی ہو۔“لینڈ لیڈی بولتی رہیں بولتی رہیں۔وہ جس صوفے پہ بیٹھی تھی اسی پر اونگھنے لگی۔کوئی تین گھنٹے بعد اس کی آنکھ کھلی تو وہ اسی صوفے پہ آڑی ترچھی پڑی سو رہی تھی۔اس کی نظر چھت پہ لگ بڑے سے فانوس پہ گئی جو روشن تھا۔ لیکن اس کی نیند اے بھری آنکھیں اس فا نوس میں سے مختلف رنگ نکلتے دیکھ رہی تھیں۔وہ رنگ اڑ رہے تھے ۔
”کیا مجھے کسی ڈان نے اغوا کر لیا ہے ۔“چھت اور قدآدم کھڑکی کی قد آدم پردوں کو گھورتے اس نے سوچا۔
”میں یہاں ہوں…. کہاں ہوں…. میں؟“ وہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹھی ،سادھنا ،لینڈ لیڈی کی راکنگ چیئر کے پاس صوفے پر بیٹھی کہانی سنا رہی تھی۔اسے لگا وہ صرف پانچ منٹ ہی سوئی ہے۔”اور کیا ،کیا کہہ رہی تھیں آپ؟“ وہ آنکھیں ملنے لگی۔” تم ایسے ہی ہر جگہ لم لیٹ ہو جاتی ہو لڑکی؟“ لینڈ لیڈی ہنس کر بولیں۔ امرحہ لفظ لم لیٹ پر حیران ہوئی۔خالص دیسی لفظ تھا۔یقینا کوئی پاکستانی سکھا کر گیا تھاانہیں۔
” نہیں… جی… بس آج تھکی ہوئی تھی تو “
”جاؤ کھانا کھا لو کچن میں رکھا ہے“
” کھانا؟“ جیسے صدیوں بعد یہ لفظ سنا تھا. وہ جلدی سے کچن میں گئی اور سارے ویجی ٹیبل رائس اور چکن سوپ ہڑپ کر گئی. کافی بنائی اور مگ لے کر آ گئی لینڈ لیڈی اسے دیکھتی ہی رہ گئیں۔”کافی کس سے پوچھ کر بنائی تم نے ؟“ اوہ ! پھر غلطی کر دی اس نے“ وہ خاموش کھڑی دونوں خواتین کو دیکھتی رہی اور منہ لٹکا لیا۔شکل پر بیچارگی لے آئی۔”بیٹھ کر پی لو“ لینڈ لیڈی کے اعصاب کچھ ڈھیلے ہوئے۔ وہ بیٹھ کر پینے لگی برا نہ ماننا پر تم ایشیا والے بہت تنگ کرتے ہو ایک لمبا وقت تمہیں بنیادی اخلاقیات سکھانے میں لگ جاتا ہے اور تم لوگ کھاتے بھی بہت ہو مجھے کوئی اعتراض نہیں پر تھوڑا اپنی عادات پر قابو پاؤ انہیں درست کرو. امرحہ خاموشی سے کافی پیتی رہی. تم جا کر سو جاؤ سادھنا اور تم امرحہ مجھے میرے کمرے میں لے چلو. وہ انہیں کمرے تک لے آئی. وہ ایک ٹانگ سے معذور تھیں. دائیں ٹانگ فالج زدہ تھی. دایاں ہاتھ بھی مشکل سے حرکت کرتا تھا. لیکن ٹانگ کی طرح مفلوج نہیں تھا. انہیں ان کے بیڈ پر لٹایا۔میرے بال بھی اتار دو. ”بال امرحہ کو لگا ان کے دماغ کے ساتھ بھی کچھ مسئلہ ہے“
” ہاں بھئی !آؤتو“ تو وہ قریب ہوئی اور بالوں پر ہاتھ رکھ کر کھینچا اور وگ اس کے ہاتھ میں آ گئی اور اندر سے بمشکل آدھ انچ لمبے بال نکلے۔
پھر وہ سوئچ بورڈ کی طرف آئی اگر اس نے ٹھیک سے گنے تو وہاں کم سے کم پچیس سے زیادہ بٹن تھے۔نائٹ بلب کا شیڈ پسند کرنے میں انھوں نے کافی زیادہ وقت لیا۔پھر ہلکے سرمئی کو انھوں نے اتوار کی رات کے لیے پسند کیا اور اسے جانے کے لیے کہا۔
” تم ساتھ والے کمرے میں سو جاؤ صبح اپنا سامان لے آنا۔“خوشی سے اس کی چیخ نکل گئی۔ کیونکہ تین وقت کے کھانے کے ساتھ یہ جگہ اسے بہت ہی سستی پڑ رہی تھی۔”اور ہاں دوبارہ کچن میں نہ جانا۔“ لیکن وہ پہلے کچن میں گئی ایک کپ اور کافی بنائی اور اور ایک کپ کافی کی قیمت کچن کاؤنٹر پر رکھ دی اور کمرے میں آ کر سو گئی۔ درمیان میں اس کی آنکھ کھلی تو اسے اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا۔ اس نے فورا شرلی کو فون کیا۔ میں پولیس کو کال کرنے ہی جا رہی تھی، تم نے ہمیں پریشان کر دیا۔وہ ابھی اتنی ذمےدار نہیں ہوئی تھی۔
*…….*……..*
اگلے دن سامان لا کر اسے کمرے میں سیٹ کیا.پھر اس دن سنی ڈے تھا تو کارپٹ کو اٹھا کر دھوپ میں ڈالا…. کپڑے دھوئے، استری کئے، پھر انہیں لیڈی مہر کے وارڈروب میں لٹکایا۔سادھنا کے ساتھ مل کر کھانا بنایا اور پھر کیفے آ گئی۔ واپسی پر بک سٹور ہوتی گئی۔لیکن وہاں اردو کی کتابیں بہت کم تھیں جو تھیں وہ بہت ادبی تھیں زیادہ تر شاعری کی تھیں۔آگ کا دریا،خدا کی بستی‎،‎اداس نسلیں‎،‎من چلے کا سودا وغیرہ وغیرہ ایک تو وہ فی الحال اس طرح کی مہنگی کتابیں خرید نہیں سکتی تھی۔دوسرے اس عمر میں اپنے سر کے بال جھڑوانا نہیں چاہتی تھی۔وہ یہ سب کتابیں پڑھ چکی تھی لیکن پڑھ کر سنا نہیں سکتی تھی۔یہ ایک صبر آزما کام تھا اور اتنا زیادہ صبر اتنی سی عمر میں نہیں کرنا چاہتی تھی۔اسے ایک سادہ سی سستی سی کتاب چاہیے تھی۔ اس نے اپنی پاکستانی ہم جماعت سے بات کی تو اس نے اسے اپنی خالہ کی ایک کتاب لا دی “کھیل تماشا”اشفاق احمد کی ایک تو مفت میں کتاب مل گئی تھی دوسرا زیادہ موٹی نہیں تھی۔اپنی باری پر اس نے لیڈی مہر کو کھیل تماشا سنانا شروع کی وہ تو مزے سے سنتی رہی لیکن امرحہ کے دماغ کے کہیں اوپر سے الفاظ گزر گزر کر جاتے رہے وہ بلاشبہ اپنی طرز کی شاہکار کتاب تھی.لیکن امرحہ جیسے کندذہن اسے بیکار بنا رہے تھے لیڈی مہر اسے بار بار پیچھے لے جاتیں کئی کئی سطروں کو بار بار پڑھواتیں اتفاق سے اس نے ایک بڑا معرکہ سر کر لیا تھا۔کھیل تماشا کے سننے والے اور سنانے والے دونوں کا دل موہ لیا تھا۔تحت پور کے ماسٹرہالی اور ان پر مر مٹنے والی رجنی نے نشست گاہ میں جادو سا جگا دیا جیسے ایسے لگتا ہے جیسے ماسٹرہالی اپنی کلا رنٹ پہ آساکی وار ان کے سامنے بیٹھے ہی بجا رہے ہوں.اور رجنی عین ان کے سامنے داسی بنی بیٹھی ہو۔لیڈی مہر نہال ہو گئی بہت کمال کی شاندار سادھنا قدیم بنگالی اور بھوج پوری لوک کہانیاں سناتی تھی جو اس نے اپنے بنگالی باپ بھوج پوری ماں سے سنی تھیں.اور حیرت انگیز طور پر وہ کہانیاں اتنی تھیں کہ امرحہ کو لگتا سادھنا نے اپنی زندگی کے اتنے سال صرف کہانی سنتے ہی گزارے ہیں۔جب وہ رات کو کہانی شروع کرتی تو اس کی آواز میں سارے بنگال کا سحر سمٹ آتا۔ وہ کنگا جمنا کی طرح رواں دواں ہو جاتی ہلکورے کھاتی شفاف ہو ہو جاتی اکثر اس کی کہانیاں پرسوز ہوتیں لیکن وہ انہیں اتنی نرمی اور چاہت سے سناتی کہ لگتا ہی نا کہ ان کہانیوں میں سوز ہے۔ سادھنا بمشکل بتیس سال کی تھی اور اس کے آٹھ سالہ بیٹے کو ہڈیوں کا کینسر تھا۔سادھنا کی کہانی محبت سے شروع ہو کر امرجیت پر ختم ہوتی۔وہ پرسوز کہانی سناتے ہوئے بلکل آبدیدہ نہیں ہوتی بلکہ ایسے لگتا کہ اس کا آٹھ سالہ بیٹا اس کے سامنے کھڑا ہے اور اسے کہہ رہا ہے.جو دکھ پر روتا ہے وہ تو پھر انسان ہوا لیکن جو کم بختی پر روتا ہے وہ بھی کوئی انسان ہوتا ہے؟وہ بھی کوئی انسان بھلا
تو سادھنا کیونکر روتی،جب اس کا بیٹا ہی جواں حوصلہ ہے….ساری تکلیف سہ کر بھی اسے فون کرتاہے اور کہتا ہے۔میں جب تک زندہ رہوں گا….کبھی رو کر نہیں سوؤں گا….کبھی رو کر آنکھ نہیں کھولوں گا…ڈکٹروں کے سارے آوزار اور ان کی دوائیں…. اور میرے جسم کی ساری تکلیف بھی مل کرمجھے ہرا نہیں سکے گی۔میں نہیں روؤں گا ماں کبھی نہیں۔
تو ایسے بچےکی ماں کیسے روتی….وہ بات بات پر مسکراتی…ہنستی…اس کہ کہانیاں کیوں نہ ”امر جیت“ ہوتیں….اسکی آواز میں ایسا سحر کیوں نہ آتا جو تھپک تھپک کر سلا دیتا ہے۔دل پہ کیسا ہی بوجھ کیوں نہ ہو….اس کی کہانی کی پرستان لے ہی جاتی ہے۔سادھنا کی کہانی سنتے سنتے وہ نشست گاہ میں ہی سو جاتی جیسے کوئی وہ لوری سناتا ہو جو جنگ سے لوٹ آنے والا اپنے بچوں کو اور جنگ جیت جانے والااپنے کنبے کو سناتاہے وہی جواں مردی کے قصے اور شہیدوں کے لہو رنگ فسانے۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: