Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 9

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 9

اس دوران ایک چھوٹا سا واقع ہوا جو کافی بڑی صورت اختیار کر گیا۔اسےاور اس کےچند کلاس فیلو کو یونیورسٹی کے ایک دوسرے گروپ نے اپروچ کیا….وہ مانچسٹر میں اپنی نئی کلاسسز کے شروع ہونے کے سلسلے میں ایک پارٹی کا اہتمام کر رہے تھے۔….اور پارٹی کے انتظامات کے لیے انہوں نے یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کو ہی موقع دیاتھا۔تاکہ وہ چند گھنٹوں میں کچھ زیادہ پونڈ کما سکیں…اس کے کلاس فیلوز نے ہاں کہا تھا…اس نے بھی کہہ دیا…انہیں پارٹی کے سارے انتظامات دیکھنے تھے….ڈیکوریشن سے لے کرسرونگ تک….پارٹی ان میں سےکسی ایک سٹوڈنٹ کے گھر کے لان میں تھی اور جہاں یہ گھر تھا وہاں باقی گھرکافی دور دور تے
تھے۔جن کے آگے سڑکیں کھلی اور کشادہ تھیں۔ سرشام ہی ان سب نے پارٹی کے لیے ابتدائی سیٹنگ مکمل کر لی….باقی ان کا کام میزوں پر کھانے کی اشیا رکھنا تھا جو ذرا ہٹ کر الگ سے لگی تھیں۔انہیں ہر فرد کو الگ الگ نہیں پیش کرنا تھا۔
”تم شکل سے بہت زیادہ پاکستانی لگتی ہو“ایرک اور اس کے دوسرے دوست اسے تشویش سے ایسے دیکھنے لگے کہ اسے تشویش ہونے لگی۔وہ سب پارٹی کے انتظامات دیکھنے آئے تھے۔”میں ہوں بھی پاکستانی۔“وہ برا مان گئی”نہیں ہمارامطلب….وہ سب ذرا ڈرتے ہیں….ذرا سے کچھ زیادہ ہی ڈرتے ہیں۔“
”ڈرتے ہیں ….کون…؟“
”آج کی پارٹی میں آنے والے زیادہ تر اسٹوڈنٹس….“وہ کافی زیادہ گول مول سی باتیں کر رہا تھا۔”انہیں پاکستان فوبیا ہے کیا؟“
”نہیں….شاید ہاں….یہ اخبارات….ٹی وی…میڈیا دماغ خراب کر دیتے ہیں…جو کچھ اخبارات میں کہا جاتا ہے اس پر یقین کرلیتے ہیں….اور تم ہو بھی مسلم….پلیز ایسے برا نہ مانو….دھماکوں سے بہت ڈر لگتا ہے انہیں۔“
”دھماکوںسے ڈر لگتا ہے..میں مسلم ہوں…آخر کیا مطلب ان سب باتوں کا..مجھے بھی دھماکوں سے ڈر لگتا ہے ….لیکن میں نے تو تمہیں نہیں بتا رہی۔“وہ ایک نہ سمجھ سکی۔”دیکھا تم برا مان گئیں….تم غلط سمجھ رہی ہو…یہاں کون سا دھماکا ہونے جا رہا ہے…مطلب کچھ ہو گا ہی نہیں تو ڈرنا کیسا؟“
”کچھ ہونے کا خطرہ ہے یہاں…کوئی بلاسٹ؟تم مجھے ڈرا رہے ہو؟“
”میں تمہیں صرف بتارہا ہوں…ان میں سے زیادہ تر کے انکل اور فادرز پولیس میں ہیں….بس ایسے ہی بتا رہا ہوں….ایسے پریشان نہ ہو۔“
“امرحہ کا سر چکر انے لگا۔کیا کہ رہے ہو….کیاسمجھانا چاہ رہے ہو مجھے؟؟”
“ایسے ہی تم سے باتیں شیئر کر رہے ہیں”
ایسے باتیں شیئر کرتے ہیں…..تم سب مجھے شک سے گھور رہے ہو….تمہیں لگتا ہے میں یہاں دھماکا کروں گی…میں…کیا مذاق ہے یہ؟؟”
ایسی تو کوئی بات ہم نے نہیں کی…تم کیا سے کیا سوچ رہی ہو؟؟؟
ہاں سیدھے سیدھے یہ بات نہیں کی’پرجوکی’ ہیں ان کا مطلب خوف ناک ہے.”
“ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں’تمہارا تو ابھی سے رنگ اڑ، گیا ہے”
“ابھی سے مطلب….” اسکا رنگ واقعی اڑ’ اڑ گیا تھا.
وہ گڑبڑا گئے تھے…”مطلب ہم تو صرف باتیں کر رہے ہیں .”
ایسی خطر ناک باتیں ہی کرتے ہو تم سب؟مجھے تمہاری باتیں پسند نہیں آ ئیں.”
وہ اپنے کم میں لگ گئی اور اندر ہی اندر سہم بھی گئی..یعنی اگر ذرا سی بھی کوئی گڑ بڑ ہو گئی تو یہ لوگ صاف صاف اس پر الزام لگا دیں گے..پولیس اور پھر…..
لان میں ایک طرف اونچائی پر ڈی-جے کا انتظام کیا گیا تھاجیسے کلب میں ہوتا ہے…اندھیراگہراہوا تو ٹوئسٹ لائٹس نے اور twist بڑھا دیا…انہوں نے ڈی-جے ساؤنڈ چیک کیا جو خطر ناک حد تک تیز تھا.نیلی’پیلی’ہری’لال ٹوئسٹ لائٹس حرکت کرنے لگیں.سب آنے لگے….انہوں نے میزوں پر پہلے سے ہی سوفٹ ڈرنکس رکھ دیں تھیں۔دوگھنٹےبعد انہیں کھانے کی چیزیں رکھنی تھیں۔
ایک گھنٹہ گزر گیا…دوسرا بھی گزر گیا….ان سب نے مل کر میزوں پر کھانے کی اشیا رکھ دیں..ڈی-جے نسبتاہلکی آواز میں میوزک کے ساتھ تجربات رہا …جو امرحہ کو کافی پسند آئے…وہ گلاسوں کی ٹرے رکھنےجا رہی تھی کہ ایرک نے اسے آواز دی….وہ اس کے قریب جا ہی رہی تھی کہ ایک زوردار دہشت ناک دھماکہ ہوا۔اتنا زور دارکہ کانوں کے پردے پھٹنے کے قریب ہو گئے… امرحہ بری طرح لڑھک کر گری… اسی دھماکے کے ساتھ شیشے ٹوٹنے کی آوازیں اور کچھ انسانی چیخوں کی آوازیں بھی آئیں۔ پورے ایک منٹ تک سناٹا رہا۔ امرحہ زندگی میں کبھی اتنی خوفزدہ نہیں ہوئی تھی جتنی اس دھماکے سے ہو گئی تھی۔وہ بمشکل اٹھی اور اس پاس نظر دوڑانے لگی کی کوشش….دوسرے لوگ بھی کچھ اٹھ چکے تھے کچھ اٹھ رہے تھے۔یہ ایک خوف ناک منظر تھا اس لیے نہیں کہ وہاں دھماکہ ہوا تھا۔بلکہ اس لیے کہ سب اسے گھور رہے تھے۔ اس نے جینز پر لمبی قمیص پہن رکھی تھی اور ایرک نے ہی کہا تھا کہ سر ڈھانپ کے کام کرنا ہے تو اس نے اسکارف کو سر پر اچھی طرح سے اوڑھ لیا تھا۔ امرحہ کو پہلے یہ صرف اپنا وہم لگا کہ سب ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہے ہیں پھر اس نے ذرا گردن گھمائی تو وہم لگنے والا خیال سو فیصدخوف میں بدل گیا وہ سب اپنی اپنی جگہ پر جمے اسے ہی دیکھ رہے تھے…. گھور رہے تھے۔ان میں سے ایک نے کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ انگلی اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کیا یو یو ڈڈدز (تم نے کیا ہے یہ ) اتنی سی بات سے کسی نے اس کے سر پر دوسرا دھماکہ کیا لمحے کے ہزارویں حصے میں اس کے ذہن میں نائن الیون٬لندن ٹربن دھماکے٬اخبارات٬ ٹی وی چینلز کی سب خبریں…ڈاکومنٹرز….گڈمڈ ہو کر چکرانے لگیں….دہشت گرد…یوڈٹ دز..دہشت گرد….یو…..یو….اس کا سر چکرانے لگا…..دہشت اس کے چہرے پر نظر آنے لگی۔”میں….مجھے نہیں معلوم….“وہ اٹک اٹک کر ہونٹ ہلانے لگی۔آواز اس کے ہونٹوں سے نکل ہی نہیں رہی تھی۔اسے لگ رہا تھا کہ وہ ساری زندگی بول ہی نہیں سکے گی اور ٹھیک اسی دوران ایک اور دھماکہ ہوا…. ویسا ہی زوردار… ان سب نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں…..وہاں موجود ساری چیزیں گریں….. شیشے کے چھوٹے ٹکڑوں کی ایک بھوچھاڑ آندھی کی طرح آئی۔ پیچھے کھڑے بہت سے لڑکے لڑکیاں گر گئے اور کراہنے لگے۔ اس طرف کافی اندھیرا تھا…. لیکن ان کی چیخیں اور کراہیں سنی جا سکتی تھیں۔اس بار امرحہ گری نہیں کھڑی رہی اور کافی دہشت ناک انداز لیے کھڑی رہی….. ایک دم سے فضا میں پولیس سائرن اور فائربریگیڈ سائرن کی آوازیں گونجیں۔ پیچھے کہیں سے زوردار آگ کے بھڑک اٹھنے کی آواز یں بھی آرہی تھیں۔ اس نے ایک بم اپنے ساتھ بھی باندھ رکھا ہے. کسی نے چلا کر اس کی طرف انگلی اٹھا کر کہا. سب سہم کر دور دور ہونے لگے. اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب …یہ سب ایسے ہی ہو رہا ہے جیسے اسے نظر آ رہا ہے۔ پولیس سائرن کی آواز قریب آتی جارہی تھی۔ اس کی نخوست کہ مانچسٹر میں ایک سٹوڈنٹ پارٹی میں دھماکے ہو گئے… اور اس جگہ امرحہ موجود تھی….. کھڑے کھڑے اس نے کل کے اخبارات میں اپنی تصویر دیکھ لی … ٹی وی رلورٹنگ کا اندازہ لگا لیا… عدالت میں خود پر کیس چلتا دیکھ لیا….اس کے حق میں چند ہزار مسلم ریلی نکال رہے ہیں۔ پھر اور عدالت اپنا فیصلہ سنا رہی ہے اس کے گھر والے اسے لعنت ملامت کر رہے ہیں…. اور وہ معصوم ہوتے ہوئے بھی اسے یورپین میڈیا دہشت گرد ثابت کر رہا ہے۔ اس کی پڑھائی کا کیا ہو گا۔ اس کا کیا ہو گا۔وہ تو مر جائے گی اور ٹھیک اسی دوران ایک اور دھماکہ ہوا اور وہ حلق کے بل چلانے لگی… پاگلوں کی طرح….
”میں نے کچھ نہیں کیا…کچھ نہیں کیا۔“ایک سیکنڈ میں وہ یہ بات بیس بارکہہ گئی٬ساتھ چلاتی رہی… چار پانچ سو سٹوڈنٹ کا گروپ ادھر ادھر اسے دیکھتا رہا۔” سن رہے ہو تم میں نے کچھ نہیں کیا ۔“وہ پوری قوت سے چلائی…. ساری ہمت جمع کر کے… پورا زور لگا کر… وہ ویسے ہی کھڑے رہے جیسے کوئی سٹیج شو کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں۔ تم تمہارا میڈیا تمہارے ٹی وی چینلز اخبارات جھوٹ بولتے ہیں. پاگل ہو تم سب ،پاگل بناتے ہو دنیا ….کو ہم دہشت گرد ہیں یا تم…. ہم نہیں تم ہو… تم نے دنیا میں فرسٹریشن کو بڑھایا ہے… تم ہو خرابی کی جڑ… اتنی بیوقوف نہیں ہوں میں کہ تم مجھ پر الزام لگا کر مجھے اندر کروا دو…. میں تم سب کو مار ڈالوں گی۔ دہشت گرد نہیں ہوں میں…. نہیں ہوں“ پھر ایک دم سبزے پر بیٹھ کر وہ اونچی اونچی آواز میں رونے لگی. اور اونچی اور اونچی پولیس اور فائربریگیڈ سائرن بند ہو گئے۔ پارٹی میں صرف اس کے رونے کی آواز آ رہی تھی. وہ سب جہاں کھڑے تھے وہیں کھڑے رگئے۔ اب وہ ایسے کھڑے تھے جیسے ہارر مووی دیکھ رہے تھے۔ یہ سب تمہارے ساتھ پریکٹیکل جوک( عملی مذاق) کر رہے تھے۔ آواز کچھ جانی پہچانی تھی اس نے جھٹکے سے گردن اٹھا کر آواز کی سمت دیکھا. اس سے ذرا سا دور اندھیرے میں ایک کرسی پر عالیان بیٹھا کاک ٹیل سے لطف اندوز ہو رہا تھا. اس نے یہ بات اتنے سکون سے کی جیسے وہ خاموشی سے بیٹھا اوپرا دیکھتا رہاہو۔
پریکٹیکل جوک وہ کئی لحظے سناٹے …میں ہی رہی پھر اٹھ کر کھڑی ہو گئی اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس حد تک کوئی عملی مذاق بھی کیا جا سکتا ہے۔
تیسرے دھماکے کے بعد انہوں نے تمہیں خود ہے بتا دینا تھ۔ا یہ سینئرز ہیں اور جونیئرز کے….
” شٹ اپ..“ اس نے دھاڑ کر انگلی اٹھا کر عالیان سے کہا۔ پھر وہی انگلی لہرا کر اس نے وہی شٹ اپ پوری قوت سے چلا کر ان سب سے کہا۔. تم لوگ ….انگریز… گورے ….دنیا پر حکمرانی کرنے والے….جو جی میں آئے کرنے والے….. ہمیں غلام سمجھ رکھا ہے۔ جب جی میں آیا مزاق بنا لیا ہمارا۔جب جی میں آیا غلام بنا لیا۔کیا سمجھ رکھا ہے ہمیں۔پہلے ہمارے ملک میں آئے۔ہم پر راج کیا۔ہماری تزلیل کرتے رہے اور اب ہمیں دہشت گرد بنا رہے ہو۔ ہم سے حسد کرتے ہو کہ ہم زندگی میں آگے نہ نکل جائیں۔تم سب سے آگے نہ نکل جائیں”گالی اور گنتی کیلیے ہر انسان اپنی مادری زبان استعمال کرتا ہے کی مصداق وہ روانی سے چیخ چلا کر اردو میں ان پر برس رہی تھی۔عالیان ساتھ ساتھ انگریزی میں ترجمہ کرتا جا رہا تھا۔
“تم انگریز۔۔گورے۔۔ہمارے ملک میں آئے۔ ہم نے تمہاری میزبانی کی۔تمہیں بادشاہ بنایا۔جاتے ہوئے تمہیں کوہ نور تحفے میں دیا” عالیان اپنی مرضی کا ترجمہ کر رہا تھا۔ اسے اور بھڑکا رہا تھا۔ امرحہ کے پاس عالیان سے نپٹنے کا وقت نہیں تھا۔
“تم لوگ خود کو سمجھتے کیا ہو؟ کیا سمجھتے تم خود کو ہاں؟ بہت بڑی توپ قوم ہو تم؟ نیک۔شریف۔پڑھے لکھے۔ اور ہم جاہل۔۔۔گنوار۔۔۔دہشت گرد۔۔ مسلمان دہشت گرد نہیں ہے۔ تم اور تمہاری گندی سیاست نے مل کر اسے دہشت گرد بنا دیا ہے۔۔ ایک نومولود بچہ بھی دہشتگرد ہے۔اگر وہ مسلمان ہے تو؟”
امرحہ کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔اسکے اس جلال کے عالم میں کسی میں بھی اتنی ہمت نہ ہوئی کہ کچھ بول سکے۔ یا اسکے قریب آسکے۔ عالیان خاموش ہو گیا۔اسنے کوئی ترجمہ نہ کیا۔
“ٹرانسلیشن پلیز” کسی کونے سے آواز آئی۔
“جوک کرنے کیلیے تمہیں یہی جوک ملا؟ خود تم نے گوانتاموبے میں کیا کیا؟ ”
“وہ امریکی تھے” عالیان بولا
“وہ ظالم تھے۔ ظالم کسی قوم سے نہیں ہوتا۔۔ اور یہ سب بھی ظالم ہیں” اسنے ہاتھ لہرا کر کہا
آنسوؤں کا دریا اسکی آنکھوں میں بہنے لگا۔
“ٹرانسلیشن پلیز” آواز پھر آئی۔ امرحہ نے ایک قہر آلود نظر سب پر ڈالی اور اس بار انگلش میں بولی۔
“اس مذاق سے اگر میرا ہارٹ فیل ہو جاتا۔۔ اگر میں مر جاتی۔۔۔ اتنا گھٹیا مزاق۔۔ تم لوگ اتنے ظالم ہو کہ مزاق بھی اتنا ظالمانہ سوچا۔ تف ہے تم پر۔۔ کتنے چھوٹے ہو تم سب۔۔ اتنی بڑی یونیورسٹی میں پڑھتے اور یہ سب سیکھتے ہو۔۔گندے ہو تم ۔۔۔ جاہل۔۔تم نے میری بے عزتی کی ہے۔ مر جاؤ سب کے سب تم۔ اتنے پونڈز تم نے دھماکوں پر لگا دیے اگر وہی پونڈز تم۔۔۔”
“کوئی پونڈ نہیں لگا۔۔۔ وہ تو ایسے ہوئےہیں” ڈی جے بٹن دبایا اور ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ یعنی وہ ساؤنڈ چھوڑ رہا تھا۔ اللہ انہیں نظرِبد سے بچائے کس قدر ٹیلنٹڈ تھے۔
“وہ سب جو شیشے کی کرچیاں اڑ کر آئی تھیں۔۔ وہ ہارڈ کرسٹل شیٹ کی تھیں” امرحہ نے شدید غصے میں اپنے قریب ہی گرا ہوا ایک گلاس اٹھا کر اوپر ڈی جے کی طرف اچھالا۔
“انگلیاں ٹوٹ جائیں تمہاری۔بہرے ہو جاؤ تم”
“ریلیکس۔۔۔۔ کافی ہوگیا۔۔چلو اب بس کرو” عالیان نے نرمی سے کہا۔۔اسے اور غصہ آیا۔۔
“بکواس بند رکھو اپنی” اسکی آواز ڈی جے کے کیے دھماکےسے زیادہ دھماکاانگیز تھی اس بار۔
اس نے ایک بار پھر سب پر نگاہ ڈالی۔۔ بے عزتی کے احساس سے اسکا سارا وجود جھلسنے لگا۔اور جیسا کی یہاں آنے سے پہلے وہ دھاڑیں مار مار کر روتی رہی تھی۔۔تو سب ہی دھاڑیں اسکے اندر پھر سے جاگ اٹھیں۔وہ گھاس پر بیٹھ کر گھٹنوں میں منہ چھپا کر ان سب دھاڑوں کو آواز لگا کر رونے لگی۔۔ سب نے دور سے ہی اس کے اردگرد گھیرا بنا لیا۔۔کسی میں اب اتنی جرأت نہیں تھی کہ شیرنی بنی امرحہ کے پاس آئے اور اسے چپ کروائے۔ عملی مزاق تھا اور کچھ زیادہ ہی عملی ہو گیا تھا

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: