Yaaram by Sumaira Hameed – Last Episode 61

0

یارم از سمیرا حمید آخری قسط نمبر 61

سب سائیکل لے کر نکلے اور پہے وہ آکسفورڈ روڑ اور ملحقہ سڑکوں پر سائیکلوں سے مارچ کرتے رہے پھر وہ یونی کے اندر آ گئے اور پوری یونی کا ایک چکر لگایا پھر وہ سب مخصوص راستے پر گزرے جہاں رنگوں بھرے تالاب تھے سب انہیں دیکھ رہے تھے ٹی وی پر بھی دیکھایا جا رہا تھا
تعلیمی ادارے کو خیر باد کہنے سے اداس کن لمات کوئی نہیں ہوتے اور وہ سب ان کو یاد گار بنا، رہے تھے
کاش انسان کے بس میں ہوتا ہر اچھے پل کو مھٹی میں دبا لیتا ایک بار بچھڑ جائیں تو کتنی ڈائریوں میں دل میں مقید کر لو مگر وہ بس، یادیں ہی تو ہیں ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں
امرحہ نے اس احساسات کو لے کر خود کو دلگرافتا ہوتے دیکھا
وہ کارل کے سر پر کتابیں مار رہی تھی اور سائی کے پاس بیٹھی رو، رہی تھی
وہ سب ہی سائیکلوں کو چلاتے مانچسٹر کی سڑکوں کو رنگین کر کے دور جا رہے تھے پہلے کارل سائی اور عالیان نے ریس لگائی
پھر کارل اور ویرا نے اور وہ انہیں عالیان کے ساتھ کھڑی ہو کر دیکھ رہی تھی
©©©©©©©
لیڈی مہر خدا کے بنائے خوش قسمت لوگوں میں سے ایک تھی میں نے اپنے اپ کو کھنگالا دیکھا کوئی ایسا دکھ جس نے مجھے برباد کر دیا ہو جواب ہے نہیں
میرے عزیز شوہر اپنے مقرر وقت پر رخصت ہو گئے میں نے ان کی موت پر صبر کا دامن نہیں چھوڑا
میں خدا کو کتنا، راضی کر سکتی ہوں یہ اس کی مخلوق کو راضی رکھ کر پتہ چلتا ہے الله کے بندے خوش ہوں گے تو یقینا وہ خوش ہو گا میرے لیے مکمل زندگی آریان کا ٹھیک ہو جانا اور وہ ٹھیک ہو رہا
میں اب اپنی ماں سے کہتی ہوں میں نے جان لیا ماں ہونا کیسے کہتے ہیں میں عظیم نہیں ہوں مگر، آریان کہتا ہے میں ایک باہمت اور عظیم ماں کا بیٹا ہوں اور آریان کے یہ الفاظ میرے کل اثاثہ ہیں
جو کلام خاموشی کرتی ہے وہ زبان نہیں کر سکتی جو بیان نہیں کیا جا، سکتا وہی محسوس کیا جا سکتا ہے سائی نے کہا میں دنیا گھوم پھر کر، یہی خاموشیاں محسوس کرنا چاہتا ہوں
ویرا زندگی سفر ہے اور اس کے پڑاؤ، سے گزرتے مشکلات کا شکار ہوئی ہوں خود کو ٹھیک سمجھنا، کے میں ایک اچھا انسان ہوں لیکن مجھے یہ خوشی ہے کہ میں نے محبت کو سرد پڑنے نہیں دیا اور نفرت کو اس کی طرف پیش قدمی نہیں کرنے دی. جزباتی طور پر کمزور ہو رہی ہوں مگر مسلسل اگے بڑھتی رہوں گی میں سخت جان لڑکی ہوں میں نے برف پر اترنا چڑھنا سیکھا ہے یہ سبق میں بھولتی نہیں
کارل:دنیا کیسی عجب ہے مجھے تفصیل کے لیے نکلنا چاہیے
دکھ جس دریا میں بہتا ہے میں اس دریا پر پل بنا کر گزر جاؤں گا یہ بات پہلے سے طے تھی کے ڈگری کے بعد میں عالیان ماما مہر کے گھر شفٹ ہو جائیں گے مل کر بزنس. کریں گے
امرحہ:میرے خطے میں اڑنے کا رواج نہیں یہ کوئی شرمندہ بات نہیں مگر میں وہ اڑان ضرور آڑوں گی جو ہر انسان کو حق ہے زندگی کی وسعتوں میں اپنے آسمان تلاش کرتی رہوں گی ۔جوزندگی کے ہر عمل کے داموں فروخت ہوتا ہے
عالیان؛::میں نے مقصدحیات کی جامع وضاعت مجھ پر کھلی تو میں نے اس کے دکھ کم ہوتے پایا ماما کو لے کر جو میں محسوس کیا کرتا تھا اب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں بعض دفعہ ہم اپنے لیے خود تکلیف بھاگ دوڑ اکٹھی کر لیتے ہیں آنسو بہنے کے بہانے تلاش کرتے ہیں مگر انہیں ترک کرنے کے طریقے نہیں سوچتے ہم سب سے زیادہ ظالم اپنے لیے ہوتے ہیں ۔میں اب خود کو بہت تبدیل پایا ہے اب پیچھے دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں یہ جان لیا۔
©©©©©©©©
لیڈی مہر نے شادی کے کارڈ بنانے کے لیے کہہ دیا شادی کی تیاریاں زوروشور سے جاری تھی وہاں شٹل کاک میں دونوں کے لیے ایک چھوٹا سا الگ گھر خریدا
میرا دل چاہتا ہے سارا برطانیہ مانچسٹر کو اگٹھا کر لوں میرا، بیٹا اپنی دلہن کو بگی سے نکلے تو سب ہاتھ ہلا کر اس کا استقبال کریں
امرحہ شادی کے دن پودا لگانا چاہتی ہے تاکہ ان کی زندگی سرسبز شاداب رہے
امتحانات سے ختم ہونے سے پہلے انہوں نے پارٹی رکھ لی پارٹی کا ابتدا کارل کے ڈانس، سے ہوا پہلے بہت اچھا کیا پھر لنگڑا بن کر مطلب شادی کے بعد عالیان کا حال سب ہنس، رہے تھے کارل نے سب کی طرف اشارہ کیا تم پر پھر لوگ ایسے ہنسیں گے
مجھے انتطار رےگا عالیان نے بھی آنکھ مار کر کہا
سائی ڈرم بجا، رہا تھا شاہ ویز، گانا گا رہا تھا کے پھر سے ہال اندھیرے میں ڈوب گیا روشنی ہوتے ہیں امرل سائیکل چلاتا نظر آیا عالیان کو گرا کر یہ جا، وہ جا پھر آیا، پھر گرا، کر عالیان کے لیے ابھی وقت ہے پچھلے دروازے سے بھاگ نکلو پھر نہ گدھے میں شمار ہو، گا نہ گھوڑے میں بس شوہر
میں شمار ہو گا وہ بھی شرمندگی سے
عالیان نے کارل سے کہا اچھی زندگی گزارنی ہے تو چپ چاپ شادی کر لو اب وہ شادی کے مشورے پر خوش، ہو رہا تھا تماری شادی کسی شہزادی سے ہو گی اور وہ ساٹھ سیکنڈ کے اندر اندر صدمے سے مر جائے گی
کارل کی تو جیسے ہنسی ایک دم غائب ہو گئی پھر ہنستے اور ہنساتے رہے
یہ بھی اچھا جلدی جان چھوٹ جائے گی سو شہزادیاں مر جائیں کارل کی بلا سے
تم مانچسٹر چھوڑ دو گےتم برطانیہ بھی چھوڑ دو گے ڈیرک نے کہا
اب یہ نہ کہہ دینا دنیا بھی چھوڑ دے گا۔سائی بھی کیوں پیچھے رہتا فورا بولا
اس نے تو نہیں کہا تو تم اس کے کندھے پر گن رکھ کر کہلوا دو
اب میں بھی سب کے لیے پیشن گوئی کرتا ہوں کارل نے کہا تم سب نے بری طرح مجھے یاد کرنا ہے یاد رکھنا میرے نام کے دورے پڑا، کریں گے یہ دعا کرو گے کہیں سے میں آ جاؤں اپنے بچوں کے نام کارل رکھوگے اپنی سویٹ ہارٹ کو سویٹ کارل کہا، کرو گے تماری بیویاں نفسانی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گی تمارے پاس سب ہو گا مگر کارل نہیں
زندہ رہنے کے لئے بہت ضرورتیں پیش ہوں گی لیکن ہلچل کے لیے صرف کارل
پارٹی سے اگلے دن امرحہ کو ویرا لیڈی مہر سادھنا شارلٹ کی طرف سے دی جانے والی پارٹی تھی جس میں کارل نے لڑکی کے گھٹ آپ میں گھسنے کی کوشش کی
اس نے ایسا میک آپ کیا کے سب حیران ہوتے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے مگر سائی نے ویرا کو کال کر کے بتا دیا، کے کارل آ رہا ہے ویرا نے کارل کو ہال کے دروازے سے چلتا کیا
پارٹی سے پہلے ویرا نے این کے ساتھ مل کر اس کے پیغامات چرا لیے اور ہال کے درخت پر سجا دیے اور یہ عالیان کی خواہش بھی تھی پارٹی میں بہت بہت انجوائے کیا. تاج پھولوں کا ویرا نے امرحہ کے سر پر رکھا اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی اب سب ہال میں آواز گونجنے لگیں امرحہ امرحہ امرحہ کو وہ تاج کسی ایک کے سر پر رکھنا تھا امرحہ کسی ایک کے سر پر رکھنے کے لئے تیار نہیں تھی اخر کار انہیں تھکا کر تاج کسی ایک کے سر پر رکھا
میرا دلہا جوڈرن جیسا ہو این خوشی سے چلائی تاج اس کے سر پر رکھا، تھا میرا جوڈرن ہی نہ لے اڑنا شارلٹ نے قہقہہ لگایا عالیان کی بہت بڑی تصویر اور اس کو پندرہ لڑکیوں نے ٹکڑوں میں اٹھا کر مکمل کیا ہوا تھا، اب امرحہ کو ان سے وہ سب ٹکڑے باری باری لا کے تصویر مکمل کرنی تھی
اس میں وقت مقرر تھا کہ اتنے وقت تک نہیں کر پائی تو دنیا کی پھوئڑ محبوبہ ہو گی لڑکیوں نے بہت تنک کیا امرحہ منت خوشامد کر کے مانگ رہی سب سے پھر ویرا کے پاس آئی ویرا، نے ارام سے دے دیا امرحہ نے ویرا سے کہا تم مجھے دعا کی طرح لگتی ہو تمہیں دعا کی ضرورت نہیں پھر امرحہ نے جلدی سے عالیان کی تصویر مکمل کر لی سب نے تالیاں بجائیں اور امرحہ کو ہال سے باہر لے جایا گیا
بہت سارے آہنے تھے اور ایک کے پیچھے عالیان ہرہم دیکھتے ہیں تم اسے ڈھونڈ نکالتی ہو کے نہیں آہنیے بھی عجیب تھے کسی میں موٹی کسی میں چھوٹی کسی میں چیونٹی جیسی تین سہی تھے جن میں مکمل نظر آ رہی تھی وہ سب کے پاس سے گزری اور سر گوشی میں کہا عالیان کہا ہو کوئی اشارہ ہی دے دو
عالیان کا بھی دل چاہا کے ہولے سے پیر مار دے تا کے اتنے سارے لوگوں میں امرحہ کا سر بلند رہے پھر وہ مسکرایا کے چپ جانا ڈھونڈنا کبھی تو ایمان داری سے ہو
امرحہ ایک ایک کر کے سب آئینوں کے پاس جانے لگی پھر سب کے درمیان کھڑی ہو گئی کون سا کھولے جس میں امرحہ بہت لمبی لگ رہی یا وہ جس میں مکمل لگ رہی بہت غور کر رہی تھی
ایک پر اس نے ہاتھ رکھ دیا جس میں وہ مکمل تھی اس نے سوچا عالیان نے مجھے مکمل کر دیا وہ بلند آواز سے بولی اس میں ہے عالیان جب دیکھا گیا تو عالیان مسکراتا ہوا سامنے آ گیا وہ خوشی سے چلائی تم میرا مکمل عکس ہو عالیان اگے بڑھا اور امرحہ کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور کہا میں تم سے مکمل ہوں امرحہ ہر طرف مسکراہٹ تھی امرحہ نے مسکرا کر سب کو دیکھا شدت جذبات سے ایک لفظ نہیں بول سکی۔
مجھے اس حقیقت پر گمان ہے عالیان وہ زرا سا اس سے اگے بڑھ گئی تھی گردن موڑ کر اس سے کہا
عالیان نے اتنے پیار سے دیکھا کے امرحہ کا دل چاہا وہ سو پھول ببن جائے اور اس پر نچھاور ہو جائے
تم سے محبت میرا فرض ہے وہ اس کے پاس چلا آیا
اس فرض کو میں کبھی قضا نہیں ہونے دوں گی
©©©©©©©©©
دادا آ چکے ہیں اور ویرا این کے والدین بھی شٹل کارک میلہ سج گیا واپس دیسوں میں کہانیاں دو راتوں میں سنا، دی گئی اور اب سب مانچسٹر یونی کی تقریب میں موجود ہیں
ایک ایسا دن جب اعزاز یافتہ ہونے کا احساس احساس ہوتا ہے پھر بلندی چھوٹی لگتی ہے حوصلہ جواں
گولڑ میڈل گلے میں پہنے ویرا اور کارل ڈگریاں ہاتھ میں لیے
عالیان امرحہ شاہ ویز سائی نے
علم سے قیمتی کچھ بھی نہیں ہم چمپیئن ہیں وہ ایک ساتھ چلائے
اور علم کسی کی میراث نہیں اور علم کی فرصیت پر کوئی شک نہیں سب بہت خوش تھے
مسکراہٹوں کی اجاہداری اور جشن کا ساماں تھا
وہ سب اس رستے کے کنارے کھڑے تھےجہاں سے سرخ کار کو آنا تھا۔اور وہ دور سے آتی نظر آنے لگی جس کی پچھلی سیٹ پر ماما مہر کا شہزادہ بیٹھا نظر آ رہا تھا اس کے ساتھ دادا کی پری امرحہ اور اگے دلہا دلہن
ان کے آتے ہی فیضا میں شور اٹھا عالیان کار سے نکل کر امرحہ کو ہاتھ تھامنے کے لئے تیار ہے امرحہ بھی اسے ہاتھ پکڑانے کے لئے تیار ہے عالیان امرحہ کا ہاتھ پکڑ کر دوسری طرف جا رہا ہے وہ سمجھی جگہ دیکھانے لایا، ہے جہاں ان کی شادی ہوئی تھی ۔۔تم کس یاد کو تازہ کرنے آئے ہو عالیان؟
امرحہ کو اگلا سوال کرنے کی ضرورت نہیں تھی وہ اسے اپنا ہر خواب بتا چکا تھا ۔
تم نے کہا تھا جب میں بوڑھا ہو جاؤں گا تو مجھے پچھتانا پڑے گا گھوڑے پر بیٹھنے کے لئے تماری مدد کرنی پڑے گی ۔
امرحہ دیر تک مسکراتی رہی
ہاں میں پچھتانا نہیں چاہتا امرحہ
پھر اسے گوڑے کے پاس لے گیا اس کا بیٹھنے میں مدد کی اور اگے سے لگام پکڑ لی
عشق جو اسرا عظیم ہے
یہ دونوں اس کے رازدار ہیں
اور ان آخری الفاظ پر بنت حمید اپنی قلم روک دیتی ہے
مکمل کی میں نے داستان افکار
راستانِ یارم. یارم
سب تعریف خدا کے لئے ہیں جو لفظ اتارتا ہے انہیں ترتیب دلواتا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے
بےشک

ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: