Bushra Zahid Qureshi Urdu Novels

Yaaran Naal Baharan Novel By Bushra Zahid Qureshi – Episode 1

Yaaran Naal Baharan Novel By Bushra Zahid Qureshi
Written by Peerzada M Mohin
یاراں نال بہاراں از بشریٰ زاہد قریشی – قسط نمبر 1

–**–**–

اسلام وعلیکم!!!!
امید ہے آپ سب بخیر و عافیت ہونگے۔۔۔ یاراں نال بہاراں میرا پہلا ناول ہے ۔ اس ناول میں آپ دوستوں کے الگ الگ پہلوؤں سے متعارف ہونگے۔۔۔ اور اس کو پڑھ کر آپ کی اداسی انشاء اللّٰہ دور ہوگی چہروں پر مسکراہٹ آجائے گی۔۔۔ امید کرتی ہوں کہ آپ کو یہ ناول انشاء اللّٰہ ضرور پسند آئے گا۔ اور آپ کا ساتھ مجھے مزید لکھنے کو مجبور کر دے گا۔۔۔۔

کہانی ہے یاروں کے یار کی
کچھ شغل کچھ ملال کی
بھروسے اور پیار کی
شرارت اور مزاق کی
احساس اور جذبات کی
اپنے اور پرائے کی
دوستوں اور عزیزوں کی
یاروں سے بہاروں کی

موسم بہار کی دلکش رات کے پچھلے پہر جہاں ہر ایک اپنے اپنے بستروں میں نیند کی آغوش میں مست تھا وہیں کراچی کے ایک پوش علاقے میں واقع بنگلے کی دوسری منزل کی کھڑکی میں روشنی چمک رہی تھی۔اندر دیکھو تو کاسنی رنگ کے سادہ شلوار قمیض میں ملبوس اٹھتی ناک کھڑے نین نقوش کندھے سے تھوڑے اوپر آتے ہلکے بھورے بالوں کو اونچی پونی ٹیل میں قید کئےایک لڑکی کچھ تذبذب کی حالت میں ادھر اُدھر کچھ تلاش کرنے میں مصروف تھی اور ساتھ ساتھ منہ میں کچھ بڑبڑا بھی رہی تھی۔۔ کہ اچانک اسکی ماما کمرے میں داخل ہوتی ہیں۔۔
“بنش بیٹا!! ابھی تک جاگ رہی ہو صبح یونیورسٹی نہیں جانا کیا ایڈمیشن کے لئے؟” زینب بیگم اسے اس وقت جاگتا دیکھ کر کچھ حیران تھیں۔
“ماما یار !! جب سے اپنی فوٹو گرافس ڈھونڈ رہی ہوں مل ہی نہیں رہیں۔”
“اپنے بیڈ کے نیچے دیکھو وہیں گری پڑی ہونگی۔اور یہ ماما یار کونسی بلا ہے ابھی تمہاری دادو نے سن لیا نا۔۔۔۔” انکی بات ادھوری ہی رہ گئی کہ بنش صاحبہ کی زبان میں کھجلی پیدا ہوئی اور بول پڑی۔
“تو زلیخا بیگم کو تیسرا دوڑا بھی پڑ جانا ہے دل کا”
اسکی بات پر ماما نے اسے زبردست گھوری سے نوازا اور کمرے سے واک آؤٹ کرگئیں” اور وہ پھر سے بڑبڑا رہی تھی۔۔
“اففففف اب کیا کروں ؟؟ ہاں مومی کو فون کرتی ہوں ویسے بھی وہ الّو دن بھر سوتی اور رات گئے جاگتی ہے ” اب وہ اپنے موبائل پر اپنی بیسٹ فرینڈ مومل کا نمبر ڈائل کرتی ہے ۔
دوسری جانب یعنی تین گلیاں چھوڑ کر کسی گھر میں مستقل کوئی ٹون بج رہی تھی بالآخر مومل صاحبہ اپنا فون ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئی اور ۔۔۔
“ہیلو۔۔۔۔”
بالکل دوسری جانب بنش میڈم پھر بات کاٹ کر شروع ہو گئی تھی۔۔۔
“یار مومی ہیلو ویلو چھوڑو ایک بہت بڑا مسئلہ ہوگیا ہے ”
“ڈونٹ ٹیل می بنی کہ تمہیں رات کے اس وقت بھوک لگی ہے اور قسم لےلو آج ماما نے آلو ٹینڈے بنائے ہیں۔۔۔”
“ارے پاگل ہے کیا وہ مسئلہ نہیں ہے اور اب کیا میں ہفتے میں چار دن آنٹی کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھا سکتی ؟؟؟”
“ہاں میری جان چار دن کیا تم تو آٹھ دن بھی ہمارے گھر کا کھانا ہی کھاؤ…” مومل نے منہ بسورتے کہا۔
“افففف یار میری بات تو سن۔۔۔۔۔۔” اب کے مومل کو بنش تھوڑی پریشان لگی۔۔۔

“بولو بنی کیا بات ہے؟” مومل نے تشویش کا اظہار کیا۔
“یار مم میری۔۔ میری فوٹوگرافس نہیں مل رہیں!!!!!” جہاں بنش کہ آنسوں جاری تھے وہیں دوسری طرف مومل کی ہنسی نہیں تھم رہی تھی۔ ” تم۔۔ تم ہنس رہی ہو؟ ”
“نہیں تو کیا میں تمہاری طرح آنسوئوں کی آبشار بہادوں؟؟ اتنی سی بات ہے یارا یونیورسٹی کے برابر شاپ ہے کل ساتھ چلتے ہیں تمہاری پکس بھی بنوالیں گے اور فارم بھی جمع کراوادیں گے ڈَن ؟؟” مومل نے جیسے مسئلہ حل کیا۔۔
“اوکے ڈَن”
بنش پر سکون ہوئی تھی۔۔۔
“چلو اب آنسو پونچھو اور اب میں سو جاؤں؟؟”
“ہاں سوجاؤ ویسے میں تھینکس تو نہ بولوں نا؟؟” لہجہ شرارتی تھا۔۔
” نہ بہن مجھے پتہ ہے میری بنی کتنی کنجوس ہے۔۔ چل کٹ اب ”
مومل نے طنزیہ کہا۔
ہاہاہاہا۔۔ وہ تو میں ہوں۔۔ چلو کٹ رہی ہوں اللّٰہ حافظ۔۔”
“اوکے پھر ملتے ہیں کل انشاء اللہ۔۔ خدا حافظ”
اگلے دن وہ دونوں یونیورسٹی کی تمام ترجیہات پوری کرکے نکل ہی رہیں تھیں کہ کسی نسوانی وجود سے زور دار تصادم کے نتیجے میں تینوں کی چیزیں زمین بوس ہو گئیں۔۔
“اوپسسس سوری سوری آپکو لگی تو نہیں؟؟”
مومل اور بنش نے بے ساختہ پوچھا اور جلدی جلدی اپنا اور مقابل کا سامان اٹھا کر اسکے ہاتھ میں تھمایا۔۔ لیکن جب اس لڑکی کی آنکھوں میں دیکھا تو وہاں آنسوں پلکوں کی باڑ توڑ کر بہہ جانے کو تیار تھے اس سے پہلے وہ دونوں کچھ بولتیں وہ لڑکی اپنی آنکھیں رگڑتی آگے بڑھ گئی اور پیچھے وہ دونوں کندھے اچکاتی چلی گئیں۔۔

یہ منظر ناروے کے شہر اوسلو کی ایک عالیشان یونیورسٹی کا ہے جہاں ہر شخص اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہے وہیں کالی ہڈی پہنے ایک نوجوان ہاتھ میں گٹار لیے کوئی گانا گنگنا رہا تھا۔ اور اسٹوڈنٹس کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ ویسے تو وہ ہمیشہ سے ہی کسی کونے میں بیٹھا کرتا تھا لیکن اس کی آواز میں ایسا سحر تھا کہ اس کونے میں بھی رونق لگی ہوتی تھی۔ جب وہ گاچکا تو پوری کینٹین تالیوں اور سیٹیوں سے گونج اٹھی۔ اس نے سر کو ہلکا سا خم دے کر داد وصول کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اففففف یار اب یہ کسکا ایڈمٹ کارڈ ہے؟”
مومل سوچ ہی رہی تھی کہ جھماکے سے صبح والی لڑکی اسے یاد آگئی۔وہ جلدی سے بنش کو فون گھماتی ہے۔
“یار مومی تمہارا کارڈ میرے پاس آگیا اور میرا تمہارے پاس تو کل گھر آکر دے دینا اوکے؟؟”
اگلی طرف سے بنش بغیر کسی کی سنے اپنا ریڈیو پاکستان شروع کر چکی تھی۔
“اوو بہن زرا حوصلہ رکھو اور اپنی تیزگام کو بریک لگا کر میری بات سنو۔۔”
مومل نے اسے پھر شروع ہونے سے باز رکھا۔۔۔
“اچھا سنادو دن کے چھبیس گھنٹے تو سناتی رہتی ہو۔۔”
بنش نے منہ بسورتے ہوئے کہا تھا۔
“ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ تمہارا کارڈ میرے پاس نہیں ہے اس مس ٹکّر کے پاس رہ گیا ہے اور مس ٹکّر کا میرے پاس ہے۔” مومل نے تفصیل سے بتایا۔
“اوہ اچھا یار ہم اب مس ٹکّر کو ڈھونڈے گے کیسے؟” بنش نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
“میرے خیال میں ایڈمٹ کارڈ میں نام ، ڈیپارٹ اور ماشاءاللہ سے فون نمبر بھی لکھا جاتا ہے ہے نا؟”
مومل نے ایک دفعہ پھر اسکی عزت افزائی کی تھی۔ “تو؟؟”
بنش کو ابھی بھی سمجھ نہیں آیا تھا، جبکہ مومل نے اس کےکڑھ مغز پر اپنا سر پیٹ لیا۔
“تو یہ کہ لڑکی کا نام زینہ احمد صدیقی ہے اور ہمارے ہی ڈیپارٹ اور کلاس کی ہے اسکا مطلب ہمیں زیادہ نہیں ڈھونڈنا پڑے گا۔”
“ہمم یار ویسے یہ زینہ کیا نام ہوا بھلا؟”
مطلب کہ بنش صاحبہ نے نام کے علاوہ کچھ سنا ہی نہیں تھا۔۔
“ایک کام کرو اسکا نمبر ملاؤ بلکہ اس کے پیرنٹس کا نمبر ملاؤ اور پوچھو کہ یہ زینہ کیا نام ہوا بھلا۔ اور میری جان بخش دے اللّٰہ حافظ۔۔”
مومل اس کے بھونڈے انداز سے تپ ہی تو گئی ہی۔۔۔ ”
ہیں اس کو کیا ہوا؟ اور پھر بنش کو کوئی راستہ نہیں ملا تو اس نے سوجانا ہی بہتر سمجھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی انکھ مسلسل بجتے فون کی آواز سے کھلی پہلے تو اس نے سوچا کہ کال پک نہ کی جائے لیکن کال کرنے والا مستقل مزاج لگتا تھا۔ اس نے جھنجھلا کر فون اٹھایا اور اپنی نیند میں خلل ڈالنے والے کا نام پڑھا اور نام دیکھتے ہی اسکا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اس نے یس دبا کر کال ریسیو کی۔
“ہیلو!!”
احد نے کال اٹھانے کے بعد کہا۔
“اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!!”
سامنے سے شرم دلانے کی حقیر سی کوشش کی گئی تھی۔ “وعلیکم السلام! کیسا ہے برو؟”
احد نے بے فکرے لہجے میں کہا۔
“تو ایک سال باہر کیا رہ لیا اب مجھے برو بولے گا۔”
ازلان نے شکایتی انداز میں استفسار کیا۔
“اوہوو چل جانی اب بتا کیسا ہے؟”
احد نے اپنی غلطی کو صحیح کیا۔
“میں ایک دم بنداس، جھکاس، مالامال اور پہلے سے زیادہ ہینڈسم ہوگیا ہوں تو بتا کہیں کوئی گوری تو نہیں پھسا لی تو نے؟”
ازلان نے تفتیشی افسر کی طرح پوچھا۔
“ابے نہیں یار تیرے بھائی کی ایسی قسمت کہاں ایک سال کے لیے تو اوسلو آیا ہوں باقی سیٹنگز پاکستان میں آکر ہی کروں گا.”
انداز کچھ شرارتی تھا۔
“اوو بھائی بھابھی کے سامنے ایسا بولا نا تو ساری سیٹنگز بگاڑ دینی ہیں آپ کی جلاد صفت منگیتر صاحبہ نے۔۔” ازلان نے جیسے اسکو وارننگ دی۔
“ہاہاہا!!! بھائی کیوں ڈرا رہا ہے اس چڑیل کی نانی سے” احد نے مصنوعی خوف سے پوچھا۔
“اچھا چھوڑ اسے یہ بتا واپسی کب کی ہے پتہ ہے نا ہم سینئرز کی پشتینی روایت کو نبھانا ہے۔ کوئی فریشر نہیں بچنا چاہیے ازلان اینڈ گینگ سے”
“بھائی تو فکر ہی نہ کر فریشرز سے پہلے تیرا بھائی یونی میں موجود ہوگا۔”
احد نے ازلان کو تسلی دی اور چند مزید باتیں کر کے فون بند کردیا گیا۔
چلیں اب آپ کو “ازلان اینڈ گینگ” کا چھوٹا سا تعارف کرواتے ہیں۔ سب سے پہلے ہیں اپنے ازلان حمدانی جو حمدانی گروپ آف کمپنیز کے اکلوتے چشم و چراغ ہیں۔ اکلوتے ہونے کی وجہ سے تھوڑا شریر ضرور ہے لیکن بدتمیز اور سرکش بالکل نہیں 5.8 جتنا قد سرخ و سفید رنگت چہرے پر ہلکی سی بئیرڈ اور آنکھیں کانچ کی مانند شفاف اور سیاہ بلا شبہ وہ ایک وجہہ پرسنالٹی کا مالک تھا۔
اب باری آتی ہے عبد الاحد منان کی جو اذلان کی طرح زیادہ شان و شوکت نہیں رکھتا تھا لیکن کسی سے کم بھی نہیں تھا۔ منان صاحب کی کل تین اولادیں تھیں سب سے بڑا احد اس سے دو سال چھوٹی بنش اور سب سے چھوٹا عالیان۔ منان قریشی ویسے تو کمال شخصیت کے مالک تھے لیکن چونکہ وہ ایک آرمی ریٹائرڈ تھے اس لیے ان سے زیادہ اصول پسند کوئی نہ تھا انہوں نے اپنے تینوں بچوں کی تربیت اس نظم وضبط سے کی تھی کہ لوگ مثالیں دیا کرتے تھے۔ اور اگر انہیں کوئی ہرا سکتا ہے تو وہ صرف انکا بیٹا عبدالاحد منان ہی تھا۔ احد نے ازلان لوگوں کے ساتھ ہی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا لیکن دوسرے ہی سال ایک اسکالرشپ کے ذریعے ایک سال کے لیے ناروے چلا گیا تھا اب چونکہ ایک سال مکمل ہونے کو تھا تو وہ اب واپسی کی تیاریاں کر رہا تھا۔ وہ اپنے تمام دوستوں میں سب سے پرکشش شخصیت کا مالک تھا۔ گندمی رنگت چہرے کے کھڑے اور تیکھے نقوش ماتھے کو چھوتے گہرے براؤن بال چھ فٹ سے نکلتا قد اور کسرتی بدن اس کی وجاہت کو چار چاند لگا دیتے تھے۔ اس کے علاوہ احد کو گانے کا جنون تھا۔ ہر موقع کی مناسبت سے اس کے پاس ایک گانا موجود ہوتا تھا۔اور اس کی آواز میں ایک سحر تھا جو سننے والے کو مدہوش کردے۔
اب باری آتی ہے ہمارے معیز شیخ کی جنکی آدھی زندگی لڑکیاں پٹانے میں نکل گئی اور آدھی کو یہ اشعار اور گانوں کے مثرے الٹ پلٹ کرکے ذائع کردیں گے۔ یہ اپنی گینگ میں سب سے بڑے بھی ہیں (عمر میں) اور سب سے چھوٹے بھی ہیں (قد میں) حالانکہ اس کا قد ازلان سے صرف ایک انچ ہی چھوٹا ہے لیکن چھوٹا تو پھر چھوٹا ہی ہوتا ہے نا؟ اور اس لیے اس کی گینگ والے اسکو چھٹکو کہہ کر پکارتے ہیں لیکن اگر کسی باہر کے بندے نے اسے چھٹکو کہنے کی غلطی کی تو وہ اوپر نہیں تو ہسپتال ضرور پہنچ جاتا تھا۔
تو اب آخر میں آتے ہیں تقی فرید خان ارے وہ ہی خان جو پٹھان بھی ہوتے ہیں اور جنہیں پشتو بھی نہیں آتی۔ فرید خان صاحب کی کراچی شہر میں اپنا گاڑیوں کا بزنس ہے اور ان کے بس دو ہی بیٹے تھے بڑا حسن جس کی شادی تین ماہ قبل ہی انجام پائی ہےاور چھوٹے اور لاڈلے تقی بھائی ویسے تو تقی ایک پرکشش شخص تھا لیکن ان بھائی صاحب کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس میں گلوکوز کی شدت سے کمی پائی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ دبلا پتلا سا تھا جبکہ چار آدمی کا کھانا اکیلا ہی ہذم کر جاتا تھا۔ بقول اس کی گینگ میمبرز کہ جب آندھی چلتی ہے تو ہم تقی کو کس کے پکڑ لیتے ہیں ارے بھئی کہیں اگلے پل ہوا کی سواری کرتا نہ پایا جائے نا۔۔۔۔
احد اور ازلان تو بچپن سے ہی دوست ہیں جبکہ معیز اور تقی سے انکی دوستی یونی کے پہلے سال میں ہوئی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یار بنی جلدی پہنچو اگر آج بھی لیٹ ہوئی نا تو قسم سے میں نے تمہیں چھوڑ کر چلے جانا ہے۔”
وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے گھر میں بنش کا انتظار کر رہی تھی اور بنش سدا کی لیٹ لطیف۔۔۔
“پہنچ رہی ہوں یار اب کیا آدھے منہ پر میک اپ اور آدھے کو ایسے ہی چھوڑ کر آجاؤں؟”
بنش نے اسپیکر پر لگے فون کو دیکھ کر کہا۔
“اففف جلدی کرو مجھے پانچ منٹ میں تم یہاں موجود چاہیے ہو۔”
مومل نے حکمیہ انداز میں کہا۔
بنش دس منٹ تک مومل کے گھر پہنچی اور پھر شاپنگ مال کے لیے روانہ ہوئیں کیونکہ کل انکی یونی کا پہلا دن تھا اور انہوں نے کچھ بھی نہیں لیا تھا۔ اور اب مال میں مغز ماری کر رہیں تھیں۔وہی چاند رات کو شاپنگ کرنے والی عوام!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارا دن مال میں گزارنے کے بعد اب وہ اپنے گھر پہنچیں تھیں۔ ابھی بنش نے اپنے روم کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ ایک زوردار چیخ سے پورا کمرہ ہل گیا۔۔
“ہادی بھائی!!!!”
وہ اچھلتی ہوئی اسکے بیڈ پر دراز احد کے برابر بیٹھی تھی۔
“اوئے بگز بنی آہستہ بول کیا کان پھاڑنے کا ارادہ ہے؟”
احد نے کان پر ہاتھ رکھ کر ڈرامائی انداز میں بولا۔
“آپ کب آئے اور آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟”
بنش نے منہ بسورتے ہوئے کہا صاف ظاہر تھا کہ اب اگلے دو گھنٹے تک اس نے نہیں ماننا۔
“اور یہ بگز بنی نہ بولا کریں آپ مجھے”
“اچھا جی۔۔!! میں تو بگز بنی ہی کہونگا کرلو جو کرنا ہے” انداز حتمی تھا۔
“آپ۔۔۔ آپ بہت برے ہو اب آپ پورے دو ڈبّے لاکر دیں گے مجھے چوکلیٹ کے۔”
تو بنش کے دل کی بات زبان پر آہی گئی تھی۔ احد نے مسکرا کر ہامی بھرلی اور ایک جانچتی نظر بنش پر ڈالتے ہوئے کہا۔
” اور۔۔۔۔ تمہاری وہ مس چڑیل کیسی ہیں؟ ابھی بھی ویسی ہی ہے یا اب تھوڑا سدھار آگیا ہے ؟”
“قسم سے بھائی آپ نا کبھی میری مومی کو تمیز سے نہیں بلائیں گے وہ بیچاری اتنا مس کرتی رہتی ہے آپ کو اور آپ ہیں کہ کبھی چڑیل کبھی آفت کبھی یہ کبھی وہ۔۔۔۔” تو ہمیشہ کی طرح بنش کا ریڈیو چل پڑا تھا۔ اور احد تو یہ سن کر ہی ساتویں آسمان پر پہنچ گیا کہ مومل بھی اس کو مس کرتی تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج انکی یونی کا پہلا دن تھا۔مومل نے جینز کے ساتھ ہلکے نیلے رنگ کی گٹھنوں تک آتی فراک پہنی ہوئی تھی اور لمبے بالوں کی پونی ٹیل بنائے دوپٹے کو گردن کے گرد لپیٹے وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔ ہاتھ میں بیگ اٹھایا اور ایک نظر اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا اور باہر کی جانب نکل پڑی۔۔
دوسری جانب بنش نے سی گرین رنگ کا گٹھنوں سے تھوڑا نیچے آتا کرتا اسٹریٹ ٹراؤزر اور دوپٹے کو سلیقے سے شانوں پر پھیلائے بالوں کو ہاف کیچر میں مقید کئے وہ بھی یونی کے لیے تیار نظر آرہی تھی۔۔احد جو کب سے اس کے روم کا دروازہ بجائے جارہا تھا وہ باہر نکلی تو اسی پر چڑھ دوڑی۔۔
“اففف بھائی کتنی دیر کردی آپ نے میں کب سے روم میں بیٹھ کر آپ کا ویٹ کر رہی تھی اب چلیں مومی آگئی ہے باہر۔”
احد اسے حق دہک دیکھتا رہ گیا جو کب کی جا بھی چکی تھی۔۔۔
وہ دونوں ابھی کار کے پاس ہی کھڑی تھیں کہ احد ان تک پہنچا اور بھرپور نظر بنش کے ساتھ کھڑی اس پری چہرہ لڑکی کو دیکھا اور بنش سے مخاطب ہوا۔
“چلیں۔۔؟”
اس کی آواز پر مومل نے چونک کر پیچھے دیکھا اور پھر نظر ہٹانا بھول گئی۔۔۔
بنش نے مومل کو یوں حیران دیکھا تو بولی۔۔
“اوہ مومی میں تمہیں بتانا ہی بھول گئی بھائی کل ہی آئے ہیں واپس اور یہ ہی ہمیں پک اینڈ ڈراپ کر دیا کریں گے۔
مومل نے اثبات میں سر ہلایا اور ایک نظر احد کو دیکھ کر سلام کیا۔
“السلام وعلیکم۔۔!!”
“وعلیکم السلام۔۔!!” احد نے سرسری سا جواب دیا۔ اور اس کا وہی رویہ دیکھ کر مومل کو دکھ ہوا۔ لیکن اس نے ظاہر نہ کیا اور کار میں بیٹھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ دونوں کلاس میں بیٹھی تھیں کہ انہیں زینہ آتی نظر آئی جس کے چہرے پر وہی ماتم کا سماں تھا۔ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔
“ارے زینہ کیسی ہو یار۔۔۔؟”
مومل نے خوشدلی سے پوچھا جبکہ اس کے منہ سے اپنا نام سن کر زینہ کے تو چھکے ہی چھوٹ گئے۔۔
“ت۔۔۔تم لوگ کون ہو۔۔ اا۔۔۔اور تمہیں میرا نام کیسے پتہ۔؟”
اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا جبکہ آنکھوں میں آنسوں بھرنے لگے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ رونا شروع کرتی مومل نے اپنا اور بنش کا تعارف کروایا۔۔
“یار میرا نام مومل فرقان ہے اور یہ بنش منان ہے ہم اس دن تم سے ٹکرا گئے تھے تو ہمارے ایڈمٹ کارڈز آپس میں تبدیل ہو گئے ہیں اسکا کارڈ تمہارے پاس آگیا اور تمہارا میرے پاس یہ لو اپنا ایڈمٹ کارڈ۔۔”
مومل نے تفصیل سے بتاتے ہوئے ایڈمٹ کارڈ اسکی طرف بڑھایا۔۔۔
“یار تم لوگوں کا بہت بہت شکریہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کیسے شکریہ ادا کروں تم دونوں کا۔۔”
جو آنسوں وہ کب سے روکے کھڑی تھی اب روانی سے جاری ہونے لگے۔۔۔
“اچھا یار ہم تمہارا شکریہ تب ہی قبول کریں گے جب تم ہم دونوں سے بغیر روۓ بات کروگی۔۔ بولو منظور ہے؟”
بنش نے بولتے ساتھ ہی اپنا ہاتھ اس کے آگے بڑھایا جسے اس نے خوشدلی سے تھاما تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ چاروں کلاس لے کر نکلے ہی تھے کہ حسب معمول تقی کو شدید بھوک نے آگھیرا ۔۔۔۔
“یار ازلان ہادی تم دونوں جاؤ اور میرے لیے بس دو برگرز دو فرائز اور ایک سینڈوچ پکڑ لینا کینٹین سے باقی دیکھ لینا اپنا اپنا۔۔۔۔”
تقی نے ایک لمبی سی انگڑائی لیتے ہوئے ان دونوں پر اپنا حکم صادر کیا۔۔
“اچھا اور تو کیا کریگا پھر۔۔۔”
ازلان نے ایک آئبرو اچکاتے ہوئے اپنا مضبوط ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا۔۔۔
“میں تم لوگوں کے لیے شکار ڈھونڈوں گا نا ابھی تو ہم نے فریشرز کو یاد دلانا ہے کہ سینئیرز کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔۔۔ تم لوگ سامان لے کر اپنے اڈّے پر پہنچو میں اور معیز ڈھونڈتے ہیں پھر۔۔”
ان دونوں نے اس کی بات پر حامی بھری اور کینٹین کی طرف چل پڑے۔۔۔
“ابے معیز یار میں نے بول تو دیا کہ ڈھونڈوں گا لیکن اب ڈھونڈوں کیسے۔۔؟”
چند قدم آگے چل کر تقی نے معیز سے پوچھا۔۔۔
“ابے ڈھونڈنے کی ضرورت ہی نہیں وہ دیکھ شکار خود چل کر ہمارے پاس آرہا ہے۔۔۔”
اس نے سامنے سے آتی مومل، بنش اور زینہ کو دیکھ کر کہا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سلام لڑکیوں کیسے مزاج ہیں تم تینوں کے۔۔؟”
معیز نے ان تینوں کو روک کر اپنے بتیس دانتوں کی بھرپور نمائش کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“وعلیکم السلام جناب ہم کیوں بتانے لگے بھلا آپ کو اپنے مزاج۔۔۔”
بنش نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔۔
“اچھا بھلے نہ بتاؤ لیکن پلیز اس بیچارے کو کچھ کھانے کو دیدو جو بھی لائے ہو سب دیدو دیکھو کتنا کمزور سا ہے ابھی مر جائے گا بھوک سے۔۔ ”
معیز نے تقی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جس نے اپنے نام کے ساتھ بیچارہ سن کر فوراً سے مسکینوں والی شکل بنالی تھی۔۔۔
اس سے پہلے وہ تینوں کچھ کہتی ایک زوردار آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔
“ارےےےےے تم لوگ ان بیچاروں کو کچھ کھانے کو کیوں نہیں دے رہے۔۔۔ یہ لو یہ کھالو تم دونوں پھر ہمیں دعا دینا۔۔۔۔”
وہ لڑکی بھی معصوم سی شکل بنا کر اپنا لنچ باکس ان کو تھماتی ہے۔۔۔
“دیکھو کتنی رحم دل انسان ہے یہ لڑکی سیکھو اس سے کچھ بھوکےکی مددددد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس کی بات منہ میں ہی رہ گئی جب سینڈوچ کا پہلا نوالا منہ میں رکھتے ہی مرچوں کے گولے نے ان دونوں کی زبان کو چھوا تھا۔۔۔۔۔۔
“اب بتاؤ کروگے آئندہ فریشرز کو تنگ بتاؤ۔۔؟”
وفا نے ایک غصیلی نظر ان دونوں پر ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔
جبکہ وہ تینوں بت بنی منظر کو سمجھنے کی کوشش کر رہیں تھیں۔۔
“سییییی یار مطلب کے سسسس اب ہم سینئرز کا اتنا بھی سسس حق نہیں ہے؟؟”
تقی نے پانی کی بوتل منہ سے لگاتے ہوئے بھیگی آنکھوں سے کہا جو مرچوں کے باعث بس بہنے کو تھیں۔۔۔
“بلکل بھی نہیں بلکہ ہم جونئیرز کا کام ہے تم جیسوں کو لائن پر لانا۔۔”
وفا نے اسے ایک زبردست گھوری سے نوازا۔
“واہ بھائی تو کرلیا تو نے شکار فریشرز کا۔۔؟”
ازلان نے ان دونوں کی حالت پر ہنستے ہوئے پوچھا۔۔۔
“سوری گرلز تم لوگوں کو ان دو نمونوں کی وجہ سے پریشانی ہوئی۔۔ ”
ازلان نے زینہ کو دیکھتے ہوئے کہا جس کی آنکھوں کے کنارے ایک بار پھر نم تھے اور ازلان کو وہ نکھرا نکھرا ستا ہوا چہرہ سیدھا اپنے دل میں اترتا محسوس ہوا۔۔۔
“ویسے یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ازلان اینڈ گینگ کو کسی فریشر بلکہ گرلز نے ہرا دیا ۔۔۔۔
I’m very impressed…!!!!”
احد نے اور ان چاروں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
“بس دیکھ لو پھر ہم بھی کم نہیں ہیں کسی سے۔۔۔۔” مومل نے گردن اکڑا کر کہا۔۔۔
“تو کیا آپ چاروں ازلان اینڈ گینگ کا حصہ بنے گی۔۔۔؟”
ازلان نے مومل کی جانب دوستی کاہاتھ بڑھایا۔۔۔
“بن تو جائیں گے تو لیکن اس گینگ کا نام ذرا تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔”
جواب وفا کی طرف سے آیا۔۔۔
“مطلب۔۔۔؟ ہم کچھ سمجھے نہیں۔۔۔”
تقی نے آئبرو اچکا کر پوچھا ۔۔
“مطلب تمہیں سمجھ آئے گا بھی نہیں اپنے چھوٹے سے دماغ پر زور نہ ڈالو۔۔۔”
وفا ایک بار پھر تقی پر پھٹ پڑی تھی۔۔
” میرا مطلب ہے کہ اگر اس گینگ میں ہم آٹھ لوگ ہیں تو صرف ازلان کا نام کیوں آئے بھئی آٹھوں کے نام آنے چاہیے نا۔۔ کیوں لڑکیوں کیا کہتی ہو؟؟”
وفا نے پہلی بات ان چاروں سے اور دوسری لڑکیوں سے۔۔۔۔
“ہاں ہاں بلکل ہم سب کا نام ہونا چاہیے۔۔”
وہ تینوں یک زبان ہو کر بولی۔۔
“تو اب ہم ایک ایک کا نام کیسے لگائیں گے بھلا۔۔۔ تم ہی بتاؤ۔۔”
اب کی بار معیز نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔۔۔
“ارے الّووں ہم نے کیا مضمون لکھنا ہے جو ایک ایک کے نام لگائیں گے۔۔۔”
وفا کا پارا ایک بار پھر ہائی ہوا۔۔۔
“ہم ایسا کر سکتے ہیں کہ ہر ایک میمبر کے نام کے لیٹرز کو ملا کر ایک نام بنائیں۔۔۔”
زینہ نے دھیمی آواز میں کہا۔۔۔۔
“واہ واہ بہت اعلیٰ مطلب بہت ہی اعلیٰ کیا آئیڈیا دیا ہے لڑکی نے کمال۔۔۔۔”
ازلان نے کافی اونچی آواز میں اسکی تعریف کی جس پر سب نے اس کو حیرانی سے دیکھا۔۔۔۔
ازلان کو جب اس بات کا اندازہ ہوا کہ وہ جذبات میں کچھ زیادہ ہی بول گیا ہے تو مسکراہٹ ایسے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔۔
“نہیں میرا مطلب تھا اچھا تھا آئیڈیا ہاں اچھا تھا۔۔۔”
اس کی بات پر احد نے بمشکل اپنی امڈتی مسکراہٹ کو چھپایا۔۔۔۔۔
“اچھا لیکن تم لوگوں نے اپنے نام تو بتائے ہی نہیں۔۔”
تقی نے اپنے ذہن پر زور دیا۔۔
“اوہ ہاں میرا نام وفا چودہری ہے اور تم لوگوں سے ابھی ہی ملی ہوں میں۔۔۔”
وفا نے اپنا تعارف کروایا۔۔۔
“میں زینہ شاہ ہوں میں اپنے والدین کی کل کائنات ہوں۔۔رونا میرا مشغلہ ہے روئے بغیر تو میرا کھانا بھی ہضم نہیں ہوتا۔۔۔ ہر فنی سٹویشن میں بھی میرا رونا لازمی ہے۔۔۔”
زینہ نے اپنا تعارف کروایا۔۔۔
“ہیں۔۔!! لیکن ابھی تو تم نے کہا کہ تم زینہ ہو اور ابھی کہہ رہی ہو کہ کائنات ہو۔۔؟”
معیز نے اپنی خراب اردو کا فُل آن مظاہرہ کیا۔۔
“ابے الّو۔۔۔ کل کائنات مطلب اکلوتی اولاد ہے اپنے اما ابا کی۔۔۔”
ازلان نے ایک بار پھر زینہ کی سائیڈ لی۔۔۔
“اور میں بنش ہوں ہادی بھائی کی بہن اور یہ میری بیسٹ فرینڈ اور ہادی بھائی کی منگیتر مومل ہے۔۔۔”
بنش نے جلدی جلدی اپنا ریڈیو پاکستان سنایا اور مومل کے تعارف پر پل بھر کے لئے دونوں کی نگاہیں ملیں تھیں وہیں ازلان کے علاوہ ان سب کی آنکھیں اور منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔۔۔۔
“ابے کمینے تو دو سال سے ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں معلوم ہی نہیں کہ تو آلریڈی بکڈ ہے۔۔۔۔”
تقی نے ایک زبردست مکا ہادی کے کندھے پر جڑا۔۔۔
“ہائے۔۔۔ ہمیں تو اپنوں نے مارا غیروں میں کہاں دم تھا
ڈوبی وہاں کشتی جہاں دریا کم تھا
معیز نے اچھے بھلے شعر کو معزور کرکے پیش کیا جس پر شاعری کی دیوانی بنش نے صدمے سے اسے دیکھا اور پھر لنگڑے شعر کی تصحیح کی۔۔
“ہمیں تو اپنوں نے ‘لوٹا’ غیروں میں کہاں دم تھا
ڈوبی وہاں کشتی جہاں’پانی’ کم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ارے بنی کتنے شعر صحیح کروگی اسکا تو الف بے ہی الٹا ہے… ابھی تو اسکے گانے نہیں سنے تم نے۔۔”
بنش کی حالت سمجھتے ہوئے احد نے کہا۔
“بھائی لیکن جو بھی ہے تو نے منگنی کی بریانی تک نہیں کھلائی ہم غریبوں کو۔۔۔”
تقی کو اس کی منگنی سے زیادہ بریانی کا دکھ تھا۔۔
“ابے بھائی وہ تو ابا کو شک تھا کہ باہر کسی گوری سے شادی کرلوں گا اس لیے ہماری منگنی کروادی وہ تو نکاح پڑھوا دیتے بڑی مشکل سے منگنی پر روکا ہے۔۔۔ایسا کچھ نہیں جیسا تم لوگ سمجھ رہے ہو۔۔ ”
احد کی بات پر جہاں سب کو اطمینان ہوا وہیں مومل کا دل ایک بار پھر ٹوٹا تھا۔۔۔۔
“اچھا چھوڑو اس کو وفا پٹاخہ تم نے نام سوچا پھر گروپ کا..؟”
تقی نے وفا کو تپاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“اوئے گلوکوز کی بوتل پٹاخہ کس کو بولا ہے تم نے ہاں۔۔۔”
وفا نے تقی کو ایک گھونسا لگایا جس سے وہ بیچارہ گھاس پر ہی گرگیا۔۔۔
“تم خود ہی پھٹتی رہتی ہو پٹاخوں کی طرح ہر وقت تو یہ ہی بولونگا نہ اور گلوکوز کی بوتل تم نے مجھے کہا ہے۔۔۔؟”
تقی نے صدمے سے پوچھا۔۔۔
“اور نہیں تو تمہارے فرشتوں کو بولوں۔۔۔؟”
وفا نے غصے سے لال ہوتے چہرے سے کہا۔۔
اس سے پہلے وہ دونوں پھر شروع ہوتے مومل نے دونوں ہاتھوں سے تالی بجاتے ہوئے سب کو متوجہ کیا۔۔
“ہمارے گروپ کا نام ہوگا “THE AFLATOON”
مومل نے وفا کے ہاتھ سے پین اچکا اور رجسٹر پر لکھنے لگی اور ساتھ ہی بول بھی رہی تھی۔۔
“سب سے اوپر احد کا Ahad
پھر وفا کا waFa
اس کے بعد ازلان کا azLaan
پھر زینه کا zaynAh
پھر تقی کا Taqi
اس کے بعد معیز کا mOiz
پھر میرا یعنی مومل کا mOmal
اور سب سے لاسٹ بنش کا biNish
“THE AFLATOON”
کیسا لگا پھر نام سبکو۔۔؟؟”
مومل نے پرجوش لہجے میں کہا۔۔۔
“اعلیٰ ہے بھئ ایک سے بڑھ کر ایک ذہین لوگ ہیں ہمارے گروپ میں۔۔۔”
معیز نے گردن اونچی کرکے کہا۔۔۔
“مومی یار کمال نام ہے گڈ ہوگیا یہ تو۔۔”
بنش نے بھی سراہا۔
“یار مجھے نا ایک گانا آرہا ہے بہت زور سے۔۔۔گادوں کیا۔۔؟”
احد کے اندر کے عاطف اسلم نے انگڑائی لی۔۔
“جانی تجھے کب سے ہماری اجازت کی ضرورت پڑی ہے بنداس گا بھائی۔۔”
ازلان نے احد کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔
ایک منٹ ایک منٹ ہادی بھائی میں اپنا کیمرہ نکال لوں ذرا۔۔۔”
احد کو گلہ کھنگارتے دیکھ کر بنش نے کہا۔۔
وہ سب لوگ “اپنے اڈے” پر ڈیرہ جمائے بیٹھے تھے اور معیز تو ازلان کی گود میں سر رکھے گھاس پر ہی لیٹ گیا تھا۔۔
“اوکے ون!! ٹو!! تھری!! اسٹارٹ۔۔۔”
بنش نے کیمرے میں دیکھ کر کہا جب تک احد اپنا گٹار سنمبھال چکا تھا۔۔۔

“یاروں یہی دوستی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قسمت سے جو ملی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سنگ چلیں، سب رنگ چلیں۔۔۔۔
چلتے رہیں ہم سدااااا ۔۔۔۔۔

یاروں یہی دوستی ہے۔۔۔۔
قسمت سے جو ملی ہے۔۔۔۔
سب سنگ چلیں، سب رنگ چلیں۔۔۔
چلتے رہیں ہم سدااااا ۔۔۔

ٹوٹے نہ کبھی ساتھ یہ۔۔۔
چھوٹے نہ کبھی ہاتھ یہ۔۔۔
اپنی تو ہے یہ دعااا۔۔۔۔۔

ٹوٹے نہ کبھی ساتھ یہ۔۔۔۔
چھوٹے نہ کبھی ہاتھ یہ۔۔۔۔
اپنی تو ہے یہ دعااا۔۔۔۔۔

یاروں یہی دوستی ہے۔۔۔۔۔
قسمت سے جو ملی ہے۔۔۔۔
سب سنگ چلیں، سب رنگ چلیں۔۔۔
چلتے رہیں ہم سدااااا۔۔۔۔۔

احد نے گانا ختم کیا تو ان سب نے تالیاں بجا کر اسے سراہا۔۔۔۔ پھر اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ان ساتوں نے اس پر اپنے اپنے ہاتھ رکھے اور نعرہ لگایا
“EAST OR WEST AFLATOONS ARE THE BEST”
اور یہ خوبصورت منظر بنش نے اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چلو افلاطونز اب ہم چلتے ہیں ہماری کلاس کا ٹائم ہے۔۔۔”
وفا نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہاں یار میں بھی نکلوں میرا میچ ہے۔۔۔”
ازلان نے بھی اپنے ہاتھ جھاڑے اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“افف یار ایک تو تیرے میچ سے میں تنگ آگیا ہوں ابھی ہم نے بریانی کھانے جانا تھا۔۔۔”
تقی نے سینڈوچ کا آخری بائٹ لیتے ہوئے کہا۔۔
“بھائی تجھے پتہ ہے میں ایک وقت کو تیرے نکاح کی بریانی چھوڑ دوں لیکن میچ چھوڑدوں یہ ناممکن ہے۔۔ اب میں چلا۔۔۔”
ازلان نے شوخی سے کہا اور اچھلتے کودتے وہاں سے نکل گیا۔۔
“اور بھائی میں بھی تب ہی چلوں گا جب احد یا تو کھلائے گا مجھے۔۔ کیونکہ میں ٹہرا کنگلہ اور ویسے بھی تیری وجہ سے مرچوں والا سینڈوچ کھا چکا ہوں۔۔ ”
معیز نے اپنی کنجوسی کو جسٹیفائی کیا۔۔
“ابے چل چھٹکو کھلادے گا ہمارا پیٹو بھائی ہمیں ہے نا تقی۔۔؟”
احد نے معصوم سی شکل بنا کر ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“چلو کنگلو۔۔۔۔ میرے باپ کا بزنس تم لوگوں کو کھلانے میں ہی بیٹھ جائے گا۔۔ ”
تقی نے منہ بسورتے ہوئے کہا اور کینٹین کی طرف چل دیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان لوگوں کو یونی میں تین ماہ گزر چکے تھے اور ان آٹھوں کی دوستی مزید گہری ہوگئی تھی۔۔
ابھی وہ چاروں کینٹین میں ہی بیٹھی تھیں کہ معیز وہاں آتا نظر آیا اور چلتے پھرتے لوگوں کو تنگ بھی کررہا تھا کبھی کسی لڑکے کے ہاتھ سے برگر اچک لیا تو کبھی کسی لڑکی کے بالوں میں سے کیچر نکالتا وہ ان چاروں کی طرف پہنچا۔۔۔۔
“وہ دیکھو آگیا ٹھرکی۔۔۔۔”
بنش نے اس کی حرکتیں دیکھتے ہوئے ان تینوں سے کہا۔۔
“اوئے لڑکیوں کیا کھسر پھسر کی جارہی ہے۔۔”
معیز نے وہاں آکر دوسری ٹیبل سے کرسی کھینچی اور اسکو الٹا گھما کر بیٹھ گیا۔۔۔
“ہم نا ابھی تمہاری ہی تعریف کر رہے تھے۔۔”
مومل نے چہرے پر مسکراہٹ سجائے معیز سے کہا۔۔۔
“اوہ مومی ڈارلنگ کوئی نئی بات بتاؤ آئی نو اس یونی کی آدھی سے زیادہ گرلز معیز شیخ کی ڈیشنگ پرسنالٹی کی دیوانی ہیں۔ اور کچھ تو۔۔۔”
ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ وفا نے اپنا جوگرز والا بھاری پیر اسکی ٹانگ پر مارا اور اسکی چلتی زبان کو بریک لگا۔۔۔
“اوہ ہیلو بھائی پوچھ تو لو ہم کیا بات کر رہے تھے۔۔۔”
بنش نے اسکو گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
“واٹ!!!!!! بھائی اوئے بگز بنی بھائی تو نہ بلاؤ یار۔۔۔ تم یونی کی پہلی لڑکی ہو جس نے مجھے بھائی ہی بنا ڈالا۔۔۔”
معیز نے صدمے سے مصنوعی آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔۔۔
ابھی وہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ احد اور تقی بھی وہاں پہنچے۔۔
“ابے سالے تجھے اور ازلان کو کوئی اور کام نہیں ہے وہ منحوس میچ دیکھنے چلا گیا اور تو کلاس بنک کرکے ادھر بیٹھا ہوا ہے۔۔۔”
احد نے اسے ایک گھونسا لگایا تھا۔۔
“بھائی میں تو گرلز کو کمپنی دے رہا تھا۔۔۔”
معیز نے مسکینوں والی شکل بناتے ہوئے کہا۔۔
“ہاں ہاں ساری لڑکیاں تیری کمپنی کے ہی تو انتظار میں بیٹھی ہیں۔۔۔”
تقی نے بریانی کی پلیٹ اپنے اگے کھسکاتے ہوئے کہا۔
“بھائی تو تو کچھ بول ہی نہ ایک لڑکی پٹی نہیں ہے آج تک تجھ سے آیا بڑا ہنہہ۔۔۔”
معیز نے تقی کے کندھے پر ایک چپٹ رسید کی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو کھانے کے بعد مومل اپنے کمرے میں گئی تو اس کا فون مسلسل بج رہا تھا۔۔اس نے دیکھا تو افلاطونز کی کال تھی۔۔۔
“اسلام وعلیکم مومی بھابھی۔۔۔۔۔!!!”
اس سے پہلے وہ کچھ بولتی سامنے سے ان چھ لوگوں نے با آواز بلند مومل کو سلام پیش کیا۔۔۔
“خیریت تو ہے آج اتنی عزت کس خوشی میں دی جارہی ہے۔۔۔؟”
مومل نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔
“مومی یار کمنگ سنڈے ہادی بھائی کی برتھڈے ہے۔۔۔”
بنش نے اپنا مدعا بیان کیا۔۔۔
“تو اس میں ، میں کیا کرسکتی ہوں۔۔؟”
مومل کو بنش کی بات سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔
“یار مومی سین کچھ یوں ہے کہ ہم سب نے ہادی کو سرپرائز دینے کا پلان بنایا ہے اور ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کریں اب تم ہی کچھ کر سکتی ہو۔۔۔”
تقی نے چپس کھاتے ہوئے سارا مسئلہ اس کے گوش گزارا۔۔۔
“میں کیا آئیڈیا دوں۔۔۔؟”
مومل نے نظریں جھکائے کہا۔۔۔
“اف یار مومی یم یہاں تمہارا نکاح نہیں پڑھوا رہیں جو شرما رہی ہو جلدی بتاؤ کوئی آئیڈیا۔۔۔”
وفا کا پارا ہائی ہوچکا تھا۔۔۔
“ہاں یار مومی جلدی سوچو کچھ میرا میچ شروع ہوجانا ہے۔۔۔”
ازلان نے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“اچھا ایک کام ہوسکتا ہے۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔”
سب یک زبان بولے۔۔۔
“ازلان تمہارے بابا ہماری یونی کو فنڈز دیتے ہیں نا۔۔۔۔اور وی۔سی سر بہت عزت کرتے ہیں انکی۔۔؟”
“ہاں مگر اس سب سے ہادی کا کیا تعلق۔۔۔؟”
ازلان نے عجیب سی شکل بنا کر مومل کو دیکھا۔۔۔
“ہم اپنے یونی گراؤنڈ میں ایک کانسرٹ آرگنائز کرتے ہیں۔۔
پرمیشن کا کام ازلان سمبھال لے گا۔۔۔باقی ہم نوٹس بورڈ پر کانسرٹ کا لکھ دیں گے۔۔۔ سنگر ہمارا احد منان۔۔۔۔ کیسا لگا آئیڈیا۔۔۔؟”
مومل نے باری سب کو دیکھتے ہوئے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔۔۔۔
“باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن ہادی گانے کے لیے راضی ہو جائے گا۔۔؟”
تقی نے چپس سے بھرے منہ سے کہا۔۔۔۔
“ارےےے یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔۔ ہادی بھائی کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ وہ کراؤڈ کے سامنے گائیں لیکن بابا کی وجہ سے کبھی کہا نہیں ۔قسم سے انہیں بہت اچھا لگے گا یہ سب۔۔۔”
بنش نے پرجوش لہجے میں کہا۔۔۔
“اور کانسرٹ ہوسٹ کون کرے گا۔۔۔۔؟”
اب کی بار کب سے چپ بیٹھی زینہ نے لب کشائی کی۔۔۔
“ارےےے۔۔۔!!! یہ اپنا ازلان ہے نا اسکو ویسے بھی کمینٹری کرنے کا بہت شوق ہے یہ کرلے گا۔۔۔ کیوں ازلان۔؟؟”
معیز نے ازلان کی طرف دیکھا تو سب کی امید بھری نظروں کے سامنے اس نے بھی ہامی بھرلی۔۔۔
“اوکے تو اس ہفتے کی رات گیارہ سے بارہ کانسرٹ اور بارہ بجے سیلیبریشن ڈن کریں۔۔۔؟؟” معیز اتنی زور سے چیخا کہ ایک پل کو سب کے ہینڈفری لگے کانوں میں جھنجھناہٹ ہوگئی۔۔۔”
“ڈن۔۔۔۔”
وہ ساتوں ایک ساتھ بولے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہادی بھائی آپ کو پتہ ہے۔۔؟”
اگلے دن یونیورسٹی سے واپسی پر بنش نے احد سے پوچھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔”
احد نے شرارت سے کہا۔۔۔
“ابھی تو میں نے بتایا ہی نہیں کیسے چلے گا پتہ۔۔۔۔”
بنش نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا۔۔۔
“تو پوچھا کیوں پھر۔۔؟”
پیچھے بیٹھی مومل ان بہن بھائی کی نوک جھوک پر اپنی ہنسی بمشکل ضبط کری ہوئی تھی۔۔۔
“میں کہہ رہی تھی کہ کمنگ سیٹرڈے یونی میں کانسرٹ ہے اور ہم سب کو جانا ہے۔۔۔”
بنش نے جیسے اعلان کیا۔۔۔
“اوکے بوس۔۔!!! گانے کی محفل ہو احد نہ جائے امپوسیبل۔۔۔۔”
احد کے کہنے پر بنش نے ایک فاتحانہ مسکراہٹ مومل کی طرف اچھالی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج یونی میں کانسرٹ نائٹ تھی۔۔ یونی گراؤنڈ اس وقت اسٹوڈنٹس سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔۔۔ اس سے تھوڑا دور اسٹیج کے برابر دیکھو تو ازلان ہاتھ میں ایک پرچہ پکڑے ہوسٹنگ کی تیاری کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ تقی کے ہاتھ سے کولڈ ڈرنک کا کین لے لے کر اس میں سے گھونٹ بھر رہا تھا اتنے میں اسے سامنے سے وفا، مومل اور زینہ آتی ہوئی دکھی۔۔۔
“یار معیز کچھ کر بھائی قسم سے اتنی ٹینشن تو پیپر کے وقت بھی نہیں ہوتی جتنی یہ کمینٹری کرنے میں ہو رہی ہے ۔۔”
ازلان نے معیز کے کندھے پر سر رکھے رونی صورت بنا کر کہا۔۔۔
“کمینٹری نہیں ہوسٹنگ ہوتا ہے۔۔۔ تم ہر جگہ اپنے کرکٹ کو گھسا لیا کرو۔۔”
زینہ نے منہ بسورتے ہوئے اس کی اصلاح کی۔۔
“یار جو بھی ہے۔۔ مجھے تو بہت ٹینشن ہے رے بابا۔۔۔”
ازلان پھر شروع ہوچکا تھا۔۔
“یار یہ بنش لوگ کہاں رہ گئے مومی فون کرکے پوچھو۔۔”
وفا کے کہنے پر ابھی اس نے فون نکالا ہی تھا کہ تقی کی آوار پر نظریں اٹھا کر دیکھا جہاں سے بنش کے ساتھ احد اپنی تمام تر وجاہت لیے ان ہی کی طرف آرہا تھا۔۔اور مومل نے اپنے دل کو بغاوت کرنے سے باز رکھا۔۔۔
“کیا ہوا ابھی تک کانسرٹ شروع نہیں ہوا۔۔۔؟”
احد نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“بس یارا ہونے ہی لگا ہے۔۔چلو اس طرف چلتے ہیں۔۔۔”
معیز ان سب کو اسٹیج کی طرف لے آیا تھا جہاں ازلان ابھی اسٹیج پر چڑھ رہا تھا۔۔۔
“یااللّہ بس میری عزت رکھ لے زینی کے سامنے ناک نہ کٹ جائے میری۔۔۔”
ازلان بڑبڑاتے ہوئے اسٹیج پر آکر مائک پکڑ کر اونچی آواز میں کہا۔۔۔
“السلام وعلیکم کے یو۔۔۔۔۔
(KARACHI UNIVERSITY)۔۔!!!!”
“وعلیکم السلام۔۔۔۔۔!!!”
جواب اس سے بھی زیادہ پرجوش آیا تھا۔۔۔
” ہم آپ سب کو اینؤل میچ۔۔۔۔ اوہ مطلب اینول کانسرٹ میں ویلکم کرتے ہیں۔۔ ”
“اور اب مزید وقت ضائع کئے بغیر آپ سب کی بھرپور تالیوں میں ہم بلاتے ہیں کے یو کی شان، کے یو کا مان، کے یو کا ہونہار بیٹسمین۔۔۔ مطلب ہونہار طالب علم
‘ عبدالاحدمنان کو۔۔۔۔۔۔’ ”
نیچے اسٹوڈنٹس تالیوں اور سیٹیوں کے درمیان اس کا نام پکار رہے تھے جبکہ وہ تو اپنا نام سن کر بے یقینی کے عالم میں ان ساتوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ابے ہماری شکل کیا دیکھ رہا ہے جانا سب تیرا نام پکار رہے ہیں۔۔۔۔۔”
معیز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے ایک انکھ دبائ۔۔۔۔ اور پھر احد کو چند سیکنڈز لگے سب سمجھنے میں۔۔۔۔اتنے میں مومل نے اسکا گٹار اٹھا کر اسے تھمایا اور دھیرے سے سرگوشی کی۔۔۔
“بیسٹ آف لک ہادی ۔۔۔۔”
“تم سب سے میں واپس آکر نمٹتا ہوں۔۔۔”
احد نے مسکراتے ہوئے کہا اور اسٹیج کی طرف بھاگا۔۔۔
“جا میرے اریجیت سنگھ جی لے اپنی زندگی۔۔۔”
ازلان جو اسٹیج سے اتر رہا تھا احد کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
احد کے اسٹیج پر چڑھتے ہی پورا گراؤنڈ ایک بار پھر اس کے نام کی آوازوں سے گونج اٹھا۔۔۔۔
احد نے ایک نظر نیچے کھڑی مومل پر ڈالی جو پر امید نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی اور پھر گٹار بجاتے ہوئے گانا شروع کیا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: