Bushra Zahid Qureshi Urdu Novels

Yaaran Naal Baharan Novel By Bushra Zahid Qureshi – Episode 3

Yaaran Naal Baharan Novel By Bushra Zahid Qureshi
Written by Peerzada M Mohin
یاراں نال بہاراں از بشریٰ زاہد قریشی – قسط نمبر 3

–**–**–

شادی کی تیاریوں میں کب ایک مہینہ گزرا کسی کو پتہ نہیں چلا۔۔۔ ساری لڑکیاں شاپنگ مال کے چکر کاٹتی رہیں جبکہ لڑکے مفت کے ڈرائیور بنے کبھی ازلان کے گھر تو کبھی زینہ کے گھر کے چکر کاٹ رہے تھے۔۔۔۔
آج زینہ اور ازلان کی کمبائن مایوں تھی کمبائن مطلب ڈبل ہنگامہ ہونے جارہا تھا اس وقت زینہ کے گھر میں عید کا سماں تھا مہمانوں اور رشتے داروں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔۔۔۔ جہاں احد اور معیز گھر کی ڈیکوریشن کا کام دیکھ رہے تھے وہیں بنش وفا اور مومل تقی کے ساتھ کچن میں کام کم ادھم زیادہ مچا رہیں تھیں۔۔۔ جبکہ تقی بھائی تو اپنا پسندیدہ کام کرنے میں مصروف تھے۔۔۔ جی جی وہ مہمانوں کی مٹھائی پر اپنے ہاتھ صاف کر رہے تھے۔۔۔۔ اتنے میں وہ دونوں بھی ہاتھوں اور گلے میں پھولوں کی لڑیاں لٹکائے کچن میں آۓ تو وہاں ان چاروں کے ہنسنے کی آوازیں سن کر تو انکے تن بدن میں آگ لگ گئی وہ پیر پٹختے ہوئے ادھر آئے۔۔۔۔
“ابے تقی تو کیا پاگل ہو گیا ہے؟ جب سے آیا ہے یہیں بیٹھ کر ٹھونسے چلے جارہا ہے۔۔۔۔”
احد نے غصے سے کہا۔۔۔
“بھائی میرے خیال سے اب تک تو اس نے تین چار لیٹر مٹھائیاں تو کھا لیں ہونگی۔۔۔؟”
معیز نے ٹھوڑی پر ہاتھ جمائے اپنا اندازہ لگایا۔۔۔
“لیٹر نہیں کلو میں ہوتی ہیں مٹھائیاں ایڈیٹ۔۔!!”
بنش نے اپنے ہاتھ میں پکڑا پانی سے بھرا گلاس اسکی جانب اچھالا اور اسکا چہرہ اور شرٹ کا گریبان پورا بھیگ گیا۔۔۔۔
“یہ۔۔۔ یہ کیا۔۔۔”
ابھی وہ کچھ بولتا ہی کہ احد نے آگے بڑھ کر اسکی گردن دبوچی۔۔۔
“بہن ہے میری۔۔۔!!”
احد کہ کہنے پر جہاں معیز ہلکا ہوا وہیں بنش نے ایک جتاتی نظر سے اسے دیکھا ۔۔۔
“اور تو چل رہا ہے یا تیری سنگل پسلی کو ہم اٹھا کر لے جائے…..”
احد کے آئبرو اچکا کر کہنے پر تقی تو وہاں سے بھاگ نکلا۔۔۔۔
“ارے بچیوں تم لوگ ابھی تک تیار نہیں ہوئیں۔۔۔؟”
لڑکوں کے جانے کے بعد زینہ کی ماما نے کچن میں آکر کہا۔۔۔۔
“جی آنٹی بس یہ تھال ڈیکوریٹ کرلیں پھر جاتے ہیں۔۔”
مومل نے کہا۔۔۔
“چلو ٹھیک ہے آجاؤ جلدی سے۔۔۔”
وہ کہہ کر چلی گئیں پھر اپنا کام ختم کرکے وہ تینوں بھی تیار ہونے نکل پڑی۔۔۔
اس وقت زینہ کے گھر کا لان پوری طرح سے سجا ہوا تھا لان میں کرسیوں کے بجائے تھوڑا دیسی ماحول بنایا گیا تھا کہ نیچے گھاس پر ابٹن کے رنگ کی دری اور اس کے اوپر جگہ جگہ ہرے گاؤ تکیے رکھے گئے تھے۔۔۔ سامنے کی طرف اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں ابھی ان افلاطونی فوج نے دھمال ڈالنا تھا جبکہ اسٹیج کے تھوڑی سائیڈ پر گیندے کے پھولوں سے سجا ایک بڑا سا جھولا لٹکایا گیا تھا جس پر ہماری دلہن کو براجمان ہونا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ابے ازلان کیا کر رہا ہے نیچے سب ویٹ کر رہیں ہیں جلدی اٹھ جا بھائی۔۔۔۔”
اس وقت وہ تینوں ازلان کے روم میں تیار کھڑے تھے جبکہ ازلان۔۔۔۔ وہ تو پی ایس ایل دیکھتے ہوئے چاۓ کی چسکیاں لے رہا تھا۔۔۔۔۔
“بھائی بس دو منٹ رک جا لاسٹ آور ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔”
“بھائی تیرے نہ دیکھنے سے کراچی ہار نہیں جائے گا نہ ہی بابر عاظم نے بیٹ چھوڑ دینا ہے آگر تو نے نہیں دیکھا تو۔۔۔۔”
تقی جو اس وقت کائی رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس تھا ازلان کے ہاتھ سے کپ چھین کر کہا اور ایک ہی سانس میں پوری چائے اپنےاندر انڈیل دی۔۔۔
“رک تو ایسے نہیں مانے گا معیز ٹی وی کا تار نکال دے اور رک تجھے تیار بھی میں ہی کر دیتا ہوں۔۔۔۔۔”
احد کو تو اب غصہ ہی چڑھ گیا تھا اس سے پہلے کہ وہ ازلان کو ہاتھ لگاتا وہ اپنے کپڑے اٹھائے باتھ روم میں گھس گیا۔۔۔۔
“دیکھ لوں گا تجھے احد کے بچے۔۔۔۔”
ازلان کی آواز باتھ روم سے گونجی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت پیلے رنگ کے سادہ کام والے غرارے میں سر پر بڑا سا ڈوپٹہ جمائے اپنی تمام تر خوبصورتی سمیٹے آئینے کے سامنے بیٹھی تھی جبکہ بنش اور مومل اس کے کانوں میں پھولوں کے جھمکے ڈال رہیں تھیں۔۔۔۔ وفا اس کے ماتھے پر ٹیکا صحیح کر رہی تھی اور وہ خود اپنے ہاتھوں میں ہرے رنگ کی چوڑیاں اور گجرے پہن رہی تھی۔۔۔۔ زینہ اس وقت سادہ سے میک اپ میں بھی خوب جچ رہی تھی۔۔۔۔۔
جبکہ وہ تینوں ایک جیسی ابٹن اور ہرے رنگ کی کمدار فراک کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ پہنے ہوئے ڈوپٹے کو ایک کندھے سے لے کر دوسرے ہاتھ سے تھاما ہوا تھا اور بالوں کو چوٹی کی شکل دے کر اس میں پراندے ڈالے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ بلاشبہ وہ بھی مخالف کے دل پر بجلیاں گرانے کی حد تک پیاری لگ رہیں تھیں۔۔۔۔
“چلو یار اب زینی کو لے جاتے ہیں نیچے ازلان لوگ کب سے آگئے ہیں۔۔۔۔۔”
مومل نے کھڑکی سے جھانک کر کہا جہاں ازلان کے ساتھ وہ تینوں ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے ہوئے نظر آرہے تھے۔۔۔۔۔
“ہاں چلو بس ریڈی ہے ہماری دلہنیا۔۔۔۔۔”
بنش نے شوخی سے کہا ۔۔۔۔ اور پھر وہ تینوں اسے لے کر لان کی طرف چل دی۔۔۔
“بھائی دیکھ آرہی ہے۔۔۔۔۔”
ازلان نے زینہ کو پیلے ڈوپٹے کے ساۓ میں آتا دیکھ کر اپنے برابر بیٹھے احد کو کہنی مار کر متوجہ کیا۔۔۔۔۔
“ہاں بھائی آ تو رہی ہے۔۔۔۔۔”
احد مومل کو دیکھ رہا تھا جو ایک ہاتھ سے اوپر ڈوپٹے کا کونا پکڑی ہوئی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ سے زینہ کا غرارہ سنمبھالی ہوئی تھی۔۔۔۔
“بھائی میں اپنی والی کی بات کر رہا ہوں۔۔۔”
ازلان نے احد کو دیکھا جو کہیں اور ہی کھویا ہوا تھا۔۔۔۔
“اور میں اپنی والی کی بات کر رہا ہوں۔۔۔۔۔”
احد نے بھی اسی کے انداز سے کہا۔۔۔
زینہ کو لاکر اسٹیج پر بنے جھولے پر بٹھا دیا گیا اور پھر ازلان کو بھی رسم کے لیے اس کے پہلو میں بٹھایا گیا ۔۔۔
“ارے یار زینی باخدا تم تو بسمہ معروف سے بھی زیادہ حسین لگ رہی ہو۔۔۔۔۔۔”
ازلان نے اس کے برابر بیٹھتے ہوئے کہا جس پر زینہ نے بےیقینی سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔۔
“یہ ۔۔۔۔ یہ بسمہ کون ہے ازلان۔۔۔۔۔”
اس کی آنکھوں میں آنسوں بھرنے لگے تھے۔۔۔۔۔
“ارے تمہیں بسمہ معروف نہیں پتہ!!!!!!”
ازلان نے شاکڈ کی کیفیت میں پوچھا۔۔۔۔
“نہیں پتہ مجھے ۔۔۔۔”
زینہ نے لٹھ مار جواب دیا۔۔۔۔
“یار ہماری قومی وومین ٹیم کی کیپٹن ہے بسمہ کیا کمال لگ رہی تھی وہ اپنی مہندی پر۔۔۔۔۔۔”
اسکے کہنے پر زینہ کا منہ بن گیا جبکہ اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔۔۔۔۔
“تم کیوں جل رہی ہو یار۔۔۔۔۔”
ازلان نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔۔۔۔
“ہنہہ میں کیوں جلوں گی۔۔۔۔”
انراز وہی تھا۔۔۔۔
“یار تم واقعی بہت پیاری لگ رہی ہو چاہے قسم لے لو۔۔۔۔”
ابھی وہ کچھ بولتی کہ وفا کی آوار پر دونوں چونکے۔۔۔۔۔
“اووو ہیلو!!!! تم لوگوں کو جتنا رومینس کرنا ہے نا کل نکاح کے بعد کرلیا ابھی ہم اپکی اجازت سے رسم شروع کریں۔۔۔۔۔؟”
وفا نے ان دونوں کو گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
“ارے ہاں ہاں کیوں نہیں اپنا ہی اسٹیڈیم اوہ!! مطلب اپنا ہی گھر سمجھو۔۔۔۔”
ازلان کے دماغ میں ابھی بھی میچ ہی چل رہا تھا۔۔۔۔
اس کے بعد رسم شروع ہوئی۔۔۔ زینہ کی والدہ نے ان دونوں کے ہاتھوں میں پتے رکھ کر اس پر مہندی لگائی پھر باری باری ان دونوں کو ابٹن لگا کر مٹھائی کھلائی۔۔۔۔
اس کے بعد دیگر مہمانوں نے بھی رسم ادا کی پھر ان افلاطونز کی باری آئی۔۔۔
سب سے پہلے معیز نے ازلان کو ابٹن لگا کر اسکا سفید کرتا گندا کیا پھر زینہ کو مٹھائی کھلانے کے بعد ازلان کے منہ میں پوری چم چم ٹھونس دی۔ جسے نگلنا اس کے لئے عذاب بن گیا ۔۔۔۔ اس کے بعد تقی نے تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے اسے ابٹگایا اور مٹھائی کھلانے کے لیے اس کے قریب لے کر گیا جب اس نے منہ کھولا تو اس کے بجائے پوری گلاب جامن اپنے منہ میں بھر لی۔۔۔۔۔
“بس کر بھائی جب سے مٹھائی کھا رہا ہے شوگر ہو جائے گی۔۔۔۔”تقی ازلان کو کہتا ایک اور مٹھائی اچکتا وہاں سے پیچھے ہٹا۔۔۔۔
احد کے آنے تک وہ پورا ابٹن میں نہا چکا تھا لیکن احد تو پھر احد ہی ہے نا۔۔۔۔۔
“اور میرے شیر بس اتنا سا ابٹن رک ذرا ۔۔۔۔۔۔”
احد نے کہنے کے ساتھ ہی ابٹن اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر کے اس کے منہ اور ہاتھوں پر مل دیا۔۔۔۔۔
“چل اب میں کہہ سکتا ہوں کہ آج میرے دوست کے ہاتھ پیلے ہوگئے۔۔۔”
احد نے مصنوعی آنسوں پونچھتے ہوئے کہا جس پر لان میں پرشگاف قہقہ پڑا تھا۔۔۔
ابھی وہ سب ہنس رہے تھے کہ ایک آواز گونجی۔۔۔۔
“ارے بھئی میں تو رہ ہی گیا۔۔۔”
سلمان نے آگے بڑھ کر اسے ابٹن لگایا۔۔۔
“افف یہ منحوس یہاں کیوں آیا ہے۔۔۔”
احد نے ناگواری سے سر جھٹکتے ہوئے سوچا۔۔۔۔
“ارے سلمان تم یہاں کیسے۔۔۔؟”
مومل نے خوشگوار حیرت سے پوچھا جس پر احد تو تلملا کر رہ گیا۔۔۔۔
“یار مومی ازلان کے ڈیڈ اور میرے ڈیڈ بزنس پارٹنرز ہیں دیتس واۓ۔۔۔۔۔”
“ہنہہ مومل اسکی مومی کب سے ہوگئی۔۔۔”
احد نے غصے سے اپنی مٹھی بھینچ لی ۔۔۔۔۔
“اوکے گائز میں چلا مجھے ضروری کام ہے ۔۔۔۔ کانگریٹس برو۔۔۔۔”
سلمان پہلا جملہ ان سب سے جبکہ دوسرا ازلان کو بول کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو سب مہمانوں کے جانے کے بعد وہ چاروں اسٹیج پر چڑھ گئے تھے اور تقی نے “شکر ونداں رے” والا گانا لگا دیا تھا جس پر وہ چاروں اپنے عجیب و غریب کرتب دکھا رہے تھے اسٹیپ کے نام پر دو چار بار ازلان کا تھپڑ تقی اور معیز کو بھی لگ چکا تھا اور نیچے دری پر بیٹھی وہ چاروں ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو گئیں تھیں۔۔۔۔۔۔
“تم لوگوں کو بڑی ہنسی آرہی ہے ۔۔۔۔”
معیز نے ان چاروں کو دیکھتے ہوئے کہا جو کب سے ہنسی جارہی تھی۔۔۔۔
“ہاں تو تم لوگوں کو ڈانس کرنا آتا تو ہے نہیں جب سے کرتب دکھا رہے ہو ہمیں۔۔۔”
وفا نے ہنسی کے درمیان کہا۔۔۔۔
“اچھا یہ ڈانس نہیں تھا تو پھر کیا تھا۔۔۔؟”
تقی نے صدمے سے کہا ۔۔۔۔۔
“خیر جو تم لوگ کر رہے تھے اسے لکی ایرانی سرکس ضرور کہہ سکتے ہیں مگر ڈانس بالکل بھی نہیں۔۔۔”
مومل نے ایک ادا سے کہا۔۔۔۔
“تو میڈم آپ چاروں کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔۔”
احد نے ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
“ہم لوگوں کو تم سے بہتر ڈانس کرنا آتا ہے۔۔۔۔”
وفا نے بھی دوپٹے کو سائیڈ سے گراہ لگا کر کہا۔۔۔۔
“تو دیر کس بات کی ہے دکھا دو اگر اتنا ہی اچھا ڈانس آتا ہے تو۔۔۔۔”
ازلان نے بھی چیلنج کیا۔۔۔
“اگر ہم جیت گئے پھر۔۔۔۔۔؟”
زینہ نے ایک آئبرو اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“تو ہماری طرف سے تم لوگوں کو نکاح کی رات کو ڈنر۔۔۔۔۔”
احد نے جوش سے کہا۔۔۔۔
“بھائی تیرا تو ٹھیک ہے ہمیں کیوں پھنسا رہا ہے۔۔۔۔”
سدا کے کنجوس معیز نے احد کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
“ابے تو چپ کر ہار جائے گی یہ۔۔۔۔ بولو منظور ہے۔۔۔۔۔”
ازلان نے اسے تسلی دینے کے بعد ان چاروں سے پوچھا۔۔۔
“منظور ہے۔۔۔۔!!”
وہ چاروں یک زبان بولی۔۔۔۔۔
“Ok Girls The Stage Is All Yours….”
یہ کہتے ہوئے وہ چاروں نیچے کودے اور گانا پلے کیا۔۔۔۔

“شکر ونداں رے، مورا پیا موسے ملن آیو۔۔۔۔
شکر ونداں رے، مورا پیا موسے ملن آیو۔۔۔

ابھی گانا شروع ہی ہوا تھا کہ ان چاروں کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔۔
“بھائی یہ تو کوریوگرافر کی طرح ڈانس کر رہی ہیں۔۔۔۔”۔
معیز نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔
“چل بھئی گئے کام سے۔۔۔۔”
اب کی بار تقی نے گولا کباب کی پلیٹ ہاتھ میں پکڑے کہا۔۔۔۔۔
گانا ختم ہونے کے بعد وہ چاروں اسٹیج سے نیچے اتر آئی۔۔۔۔
“ہاں تو ہمارا ڈنر ریڈی رکھئے گا آپ لوگ ٹھیک ہے۔۔۔ ”
مومل نے اپنا پراندہ گھماتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے اب زیادہ اوور بھی نہیں ہو۔۔۔۔۔”
معیز نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“یار میرا اور زینی کا ڈانس تو رہ ہی گیا نا۔۔۔۔”
“ہاں بھئی ہمارے دلہا دلہن کا اسپیشل ڈانس تو ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔”
بنش کے کہنے پر سب نے ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔۔
“بھائی تو پی ایس ایل کا “تیار ہو” والا لگاؤں یا “کراچی کنگز لگاکے ونگز”۔۔۔۔۔”
احد نے شرارت سے کہا۔۔۔۔
“بھائی تمیز کا گانا لگادے۔۔۔۔۔”
ازلان نے بگڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
“چل میں خود ہی گالیتا ہوں تیرے لیے۔۔۔۔۔”
احد نے کہتے ہوئے اپنا گٹار اٹھایا اور گانا شروع کیا۔۔۔۔

“کچی ڈوریوں، ڈوریوں، ڈوریوں سے
مینوں تو باندھ لے۔۔۔۔”
احد نے گانا شروع کیا تو ازلان نے زینہ کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا جسے اس نے دل سے تھاما تھا۔۔۔۔۔

“پکی یاریوں، یاریوں ، یاریوں میں
آندے نہ فاصلے۔۔۔۔۔

یہ ناراضگی کاغذی ساری تیری
میرے سوہنیاں سن لے میری۔۔۔

دل دیاں گلاں۔۔۔۔۔
کرانگے نال نال بہہ کے۔۔۔۔
انکھ نال انکھ نوں ملا کے۔۔۔۔
دل دیاں گلاں۔۔۔ ہائے۔۔۔۔
کارانگے روز روز بہہ کے۔۔۔
سچیاں محبتاں نبھا کے۔۔۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے جبکہ زینہ کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اور دو موتی اسکی آنکھوں سے ٹوٹ گرے تھے ۔۔۔۔ ازلان نے اسے سر کے اشارے سے منع کیا تو اس نے اپنے آنسوں صاف کئے اور مسکرادی۔۔۔۔۔

ستاۓ مینوں کیوں۔۔۔
دکھاۓ مینوں کیوں۔۔۔۔
ایویں جھوٹی موٹی رسکے رساکے ۔۔۔۔۔
دل دیاں گلاں ہائے۔۔۔۔۔۔
کرانگے نال نال بہہ کے۔۔۔۔
انکھ نال انکھ نوں ملا کے۔۔۔۔۔۔

گانا ختم ہوا تو ایک سحر ٹوٹا جو ان دونوں کی آنکھوں میں بندھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
“چل بھائی اب ڈانس بھی ہوگیا اب چل گھر دیر ہوگئی ہے کافی۔۔۔۔”
احد کے کہنے پر سب اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج شاہ ولا میں خوشی کا سماں تھا جبکہ ہمدانی ہاؤس میں بھی رونق کا ماحول تھا مسٹر اینڈ مسز ہمدانی تو اکلوتے بیٹے کی شادی کی خوشی میں پوری دنیا خریدنے کے درپے تھے۔۔۔۔
ازلان تو خوشی کے مارے آسمانوں پر تھا جبکہ ذہنوں کو تو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ خوشی مناۓ یا پھر ہمیشہ کی طرح آنسو ہی بہائے وفا مومل اور بنش صبح سے ہی زینی کے گھر پر ہلہ گلہ مچا رہیں تھیں جبہ احد، معیز اور تقی تو صبح سے بھنگڑے ڈالنے میں مصروف تھے اور ازلان آج اپنا میچ چھوڑ کر سیلون میں اپنے آپ کو چمکا رہا تھا بقول وفا کہ اگر ہماری معصوم سی لڑکی نے اسے ایسی خوفناک حالت (جو اسکا روز کا حلیہ ہوتا تھا) میں دیکھ لیا تو ڈر کے مارے ہارٹ فیل ہی نہ ہوجاۓ۔۔۔۔
چونکہ نکاح ظہر کی نماز کے بعد تھا تو آج ان سب کی صبح نو بجے ہی ہو گئی تھی جو ان کے حساب سے آدھی رات تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارے لڑکیوں مہندی لگ گئی زینی بٹیا کے۔۔۔۔؟”
زبیدہ خانم (زینہ کی والدہ) نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا جہاں پارلر کی لڑکیاں ان تینوں کے مہندی لگا رہیں تھیں۔۔۔۔
“وفا بیٹا آپ نہیں لگوائے گی مہندی؟؟”
انہوں نے وفا سے پوچھا جو سپیکر کے پاس کھڑی گانے سلیکٹ کر رہی تھی۔۔۔۔۔
“نہیں آنٹی مجھے مہندی سے الرجی ہے۔۔۔۔”
وفا نے سہولت سے منع کیا جبکہ اسکے اس جھوٹ پر ان تینوں نے مایوسی سے اسکی جانب دیکھا۔۔۔۔۔
“وفا یار میری خاطر ہی لگوالو نا ۔۔۔”
زینہ نے پرامید نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
“زینی میں تمہارے نکاح میں آگئی ہوں نا یہ ہی کافی ہے اب مجھے کچھ کہنے پر مجبور نہ کرو۔۔۔۔”
وفا ایک دم ہی غصے میں آگئی تھی۔۔۔۔۔
“اچھا اوکے اب ڈانٹ کیوں رہی ہو نہ لگاؤ۔۔۔”
زینہ نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“اچھا بس بس اب اٹھو سارے اور تیاری پکڑو بارہ بج رہے ہیں۔۔۔۔”
مومل کے کہنے پر وہ سب اپنے کپڑے اٹھا کر چل دیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وائٹ اور گولڈن رنگ کی کلر تھیم میں وہ تینوں قیامت ڈھا رہی تینوں نے ایک ہی رنگ کے مختلف غرارے زیب تن کئے ہوئے تھے جبکہ زینہ نے سفید میکسی پر سرخ ڈوپٹہ اوڑھا ہوا تھا شاید آج اسکا ارادہ ازلان ہمدانی کے ہوش اڑانے کا تھا۔۔۔۔۔
زینہ صبح سے اپنے آنسوں بہاۓ جارہی تھی اور اب تو وہ تینوں بھی اسکو چپ کروا کروا کے تنگ آچکی تھیں تو وہ تو مست سیلفیز لینے میں مگن تھیں۔۔۔۔
“یار میں رو رہی ہوں اور تم تینوں سیلفیز لے رہی ہو قسم سے بات نہ کرنا اب کوئی بھی۔۔۔۔”
زینہ منہ پھلائے بیٹھ گئی۔۔۔۔
“ہاں ہاں اب ہم سے تھوڑی بات کریں گی محترمہ اب تو بس۔۔۔۔”
بنش کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا جب زینہ نے اپنا ہیل والا پیر اسے دے مارا۔۔۔۔
“اففف اللّٰہ جی۔۔۔”
ابھی وہ کچھ بولتی ہی کہ نیچے سے ڈھول دھماکے کی آوازیں آنے لگیں اور ان تینوں نے وہاں سے دوڑ لگا دی ۔
ارے بھئی دلہے والوں کا استقبال بھی تو کرنا تھا نا۔۔۔۔
“یار یہ بنش ہے!!!!!”
معیز نے بنش کو پہلی بار اتنا تیار دیکھا تھا تو ایک پل کے لیے تو وہ ساکت رہ گیا۔۔ اور اسے پتہ ہی نہ چلا کہ انجانے میں وہ احد سے کہہ گیا ہے۔۔۔
“نہیں یہ میری بہن ہے غالباً۔۔۔”
احد نے ایک زبردست گھوری سے اسے نوازا۔۔۔
“بھائی میں تو بہت خوش ہوں۔۔۔۔”
اچانک ازلان نے ان دونوں کے درمیان آکر ناچنا شروع کر دیا اور وہ دونوں بھی خوب مزے لے رہیں تھے۔۔۔
“ارے بھئی کہاں چل دئیے پہلے ہمارا نیگ دو ہمیں۔۔۔”
وہ لوگ اندر داخل ہونے لگے تھے کہ وفا نے آگے بڑھ کر انہیں روک دیا۔۔۔۔
“کونسا نیگ بھئی ابھی رخصتی تھوڑی ہو رہی ہے۔۔۔۔”
جواب ازلان کی بجائے تقی نے دیا۔۔۔
“اوو گلوکوز کی بوتل تم چپ رہو تمہاری باری میں نمٹ لیں گے تم سے۔۔۔۔”
وفا نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہاں بھئی بہنوں کا حق ہوتا ہے یہ تو۔۔۔”
بنش نے کمر پر دونوں ہاتھ ٹکائے کہا۔۔۔
“توبہ ہے اس پٹاخہ کو میں اپنی بہن کبھی نہ بناؤں۔۔۔”
وہ بس سوچ ہی سکا۔۔۔
“نہ بھئی ہم نہیں دے رہے کوئی نیگ ویگ فالتو اتنا پیسہ خرچ ہو۔۔۔”
معیز نے بھی بیچ میں چھلانگ لگائی۔۔۔
“بالکل بھائی ہم تیرے ساتھ ہیں ان فقیروں کو ایک پیسہ نہ دینا۔۔”
احد نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔
“بھائی چپ کرو تم لوگ جب میں دے رہا ہوں پیسے تو کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔”
ازلان نے بےچینی سے کہا۔۔۔۔
“ہاں تو رکھو یہاں پورے پچاس ہزار روپے۔۔۔”
مومل نے اپنی ہتھیلی آگے پھیلائی۔۔۔۔
“واٹ….!!!! پچاس ہزار۔۔۔۔”
“یہ لو اب جانے دو مجھے میری زینی کے پاس۔۔۔۔”
ابھی ان تینوں کے منہ کھلے ہی تھے ازلان نے رقم انکے ہاتھ میں پکڑا دی اور آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔
“یار مجھے ٹینشن ہورہی ہے ۔۔۔۔”
زینہ نے اپنے ہاتھ مڑوڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“جب اسکو بول رہی تھی کہ ہاں ازلان میں کروں گی تم سے شادی جب نہ ہوئی تجھے ٹینشن۔۔۔”
وفا نے اسکی نقل اتارتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اتنے میں زینہ کے اما ابا اور قاضی صاحب بھی اندر داخل ہوئے۔۔۔۔۔اور زینہ کے سر اور چہرے پر سرخ ڈوپٹہ ڈال دیا جس پر “ازلان کی دلہن” سنہرے حروف سے لکھا ہوا تھا۔۔۔۔ قاضی صاحب نے نکاح پڑھوانا شروع کیا۔۔۔۔
“زینہ احمد شاہ صدیقی ولد محمد احمد شاہ صدیقی آپ کا نکاح ازلان ہمدانی ولد آفاق ہمدانی سے بعوض پچاس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کے کروایا جاتا ہے۔۔ یا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟”
بس یہ لمحہ تھا کہ زینہ کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ گریں اور پھر آنسوؤں میں روانی آگئی اور پھر شاہ صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
“جی قبول ہے۔۔۔”
اس نے آنسوؤں کے درمیان رندھی ہوئی آواز میں کہا۔۔۔۔
“کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔؟”
“جی قبول ہے…..”
“بیٹی کیا آپ کو قبول ہے؟”
” مجی مجھے قبول ہے۔۔۔۔۔”
زینہ نے بمشکل الفاظ ادا کئے اور تڑپ کر اپنے اما اور ابا کے گلے لگ کر رو دی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بھائی مجھے ڈر لگ رہا ہے اگر لڑکی نے منع کر دیا تو۔۔۔۔”
ازلان نے احد کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔۔
” بھائی جو بھی ہو تیرے نکاح کے لیے جو چھوارے منگوائے ہیں وہ تو میں کھا کر ہی رہوں گا۔۔۔۔۔۔”
تقی نے بریانی کی دیگ میں سے آلو اچکتے کہا۔۔۔۔۔
“بھائی چپ کر امام صاحب آرہے ہیں۔۔۔۔۔۔”
معیز نے قاضی کو امام بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
“ابے سالے امام آکر تیرا جنازہ پڑھوایگا کیا۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔ قاضی صاحب ہے یہ۔۔”
احد نے اسکی تصحیح کی۔۔۔۔۔۔
“بھائی سب چپ کرو ابھی مجھے قبول ہے بولنے کا ہے۔۔۔۔”
ازلان نے چوڑے بنتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
قاضی صاحب اور مسٹر ہمدانی ازلان کے برابر بیٹھے۔۔۔۔۔
“ازلان ہمدانی ولد آفاق ہمدانی آپکو زینہ احمد شاہ صدیقی ولد محمد احمد شاہ صدیقی سے بعوض حق مہر پچاس لاکھ کے پڑھوایا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔؟”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: