Bushra Zahid Qureshi Urdu Novels

Yaaran Naal Baharan Novel By Bushra Zahid Qureshi – Episode 5

Yaaran Naal Baharan Novel By Bushra Zahid Qureshi
Written by Peerzada M Mohin
یاراں نال بہاراں از بشریٰ زاہد قریشی – قسط نمبر 5

–**–**–

پچھلا ایک مہینہ ان سب کا امتحانوں میں گزر گیا اور آج بالآخر ان چاروں لڑکوں کی فئیرول تھی ان چاروں نے سفید شرٹ کے ساتھ بلیک کوٹ پینٹ پہنا ہوا تھا چونکہ فئیرول صرف فائنل ائیر کے اسٹوڈنٹس کے لیے تھی تو ابھی لڑکیاں یہاں موجود نہیں تھیں۔۔۔۔ اور وہ چاروں اپنے ہاتھوں میں سرٹیفکیٹ تھامے تھوڑا غم، تھوڑی بشاشت چہروں پر سجائے اس وقت ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
“یار۔۔۔۔۔۔۔ چار سال گزر گئے لگتا ہے ابھی بھی ہم وہ ہی تقی اور معیز ہیں جو فارم جمع کروانے کے لیے لمبی لائن میں کھڑے تھے۔۔۔۔”
معیز نے کینٹین کی منڈیر (اپنے اڈّے) پر بیٹھتے ہوئے فضاء کا سکوت توڑا۔۔۔
“نہیں جو لائن میں زبردستی گھسنے والے اسٹوڈنٹس کی اسکول کے بچوں کی طرح ایڈمن سے شکایت لگا رہا تھا۔۔۔۔”
تقی نے معیز کے برابر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“بھائی تو بھی زبردستی بیچ میں گھسا تھا۔۔۔”
معیز نے تقی کو دھکا دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“اور۔۔۔ اور ایڈمن سے کیا بولا تھا اس نے۔۔۔۔؟”
احد اور ازلان نے انکے قدموں میں (کینٹین فلور) پر بیٹھتے ہوئے ٹکڑا دیا۔۔۔۔
“یہی کہ۔۔۔۔ سر یہاں غلط حرکتیں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔”
ان چاروں نے یک زبان معیز کا جملہ دہرایا اور دل کھول کر ہنس پڑے۔۔۔۔۔
“اور جب ہادی کے ابا کو منایا تھا ہم نے۔۔۔۔۔”
معیز کے کہنے پر وہ سارے ایک بار پھر یادوں میں کھو گئے۔۔۔۔
“جب اسکالرشپ کی آفر ملی تو صاحب بہادر کا سب سے پہلا جملہ کیا تھا۔۔۔۔؟”
تقی نے منڈیر سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“بھائی۔۔۔ ابّا نہیں مانیں گے۔۔۔۔”
ازلان کے کہنے پر پوری کینٹین ایک بار پھر قہقہوں میں ڈوب گئی۔۔۔۔۔
“ہائے۔۔۔۔۔ میری نیناں ، صائمہ، علینہ، فاریہ۔۔۔۔۔ کیسے رہیں گی میرے بغیر۔۔۔۔۔”
معیز نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔۔۔
“بھائی اب انہیں سبحان، ذیشان، ارسلان اور بس عدنان سے کام چلانا پڑے گا۔۔۔۔”
احد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی جس پر ان تینوں نے تاسف سے معیز کو دیکھا۔۔۔۔
“بس کر بھائی ایک برگر تو اپنے پیسوں سے انہیں کھلاتا تھا اور اگلے پورے ہفتے کے برگرز انکے پیسوں پر اڑائے ہیں تو نے۔۔۔۔”
تقی کو اس کے برگرز کی زیادہ فکر تھی۔۔۔
“اور اب کہاں روز روز دیدار یار ہوا کریگا۔۔۔۔۔؟”
ازلان نے اداسی سے کہا۔۔۔۔
“اوئے وہ یاد ہے سر ابرار کا ‘گیٹ آؤٹ فرام مائی کلاس۔۔۔؟'”
احد نے ہنستے ہوئے پرانی یادیں تازہ کردیں تھیں۔۔۔۔
“ابے پتہ نہیں ہم سے ہی کیا دشمنی تھی انکی ہمیشہ ہم چاروں کو نکال دیتے تھے باہر۔۔۔۔”
معیز نے تاسف سے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔۔۔
“لیکن ان کے ناک میں ہمیں’ گیٹ آؤٹ’ کہنے کا بھی الگ ہی مزہ تھا۔۔۔۔
تقی نے بھی یادوں کی کھڑکی پر دستک دیتے ہوئے کہا۔۔۔
“چلو بھائیوں اب میں نکلوں میرے میچ کا وقت ہوا چاہتا ہے۔۔۔۔۔”
ازلان نے ایک لمبی سی انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“جا بھائی میں بھی چلا۔۔۔”
احد بھی کہتے ہوئے کھڑا ہوا۔۔۔۔
“اوہ ہیرو تیری سواری کہاں چلی۔۔۔۔؟”
تقی نے احد کو دیکھتے ہوئے کہا جو گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے ذرا ٹھہر کر اسکی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔
“بھائی بات یہ ہے والد جو ہیں ابا ہمارے انہوں نے کہہ دیا کہ بیٹا ادھر تیری یونی ختم ادھر مجھے آفس میں ملو تم اب میں غریب شخص نوکری کے لیے انٹرویو دینے جارہا ہوں۔۔۔”
احد نے شوخی سے کہا تو وہ تینوں اسے حیرانی سے منہ کھولے دیکھنے لگے۔۔۔
“ابے سالے کمینے!!!! میرے باپ کا بزنس کس لئے ہے جو تو کہیں اور جوب ڈھونڈے گا۔۔۔؟”
ازلان نے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“نہ بھائی اب اپنی محنت سے کچھ کروں گا نا ورنہ لڑکی کی امّاں نے میرے ساتھ رخصت نہیں ہونے دینا ہے اسے۔۔۔۔”
احد کی خودداری اس وقت اپنے عروج پر تھی وہ کہہ کر وہاں رکا نہیں اور پیچھے ان سب کو حیرت میں ڈال گیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ چاروں لڑکیاں اپنے پرانے اڈے پر بیٹھی اپنی باتیں کر رہی تھی کہ وفا کے پیچھے سے ایک انجانی آواز کے تحت وہ چاروں پیچھے مڑی۔۔۔
“Hey Sweetheart!!!”
پیچھے ایک مکار شکل کا لڑکا انہیں اپنی سرخ ڈوروں سے سجی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں ہی گھور رہا تھا وفا کے دیکھنے پر اس نے اپنی ایک آنکھ دبائی تو وفا کے تو سر پر لگی تلوؤں بجھی وہ تن فن کرتی اس کے پاس پہنچی اور نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اپنے بیگ کی سائیڈ پاکٹ میں ہاتھ ڈالا اور مٹھی میں کچھ بھر کر اسکے منہ کے سامنے لے جا کر پھونک دیا۔۔۔
جہاں وہ لڑکا مرچوں کے مارے چلاتے ہوئے اپنی آنکھیں بار بار مسل رہا تھا وہیں پیچھے ان تینوں کا ہنس ہنس کے برا حال تھا۔۔۔۔
“سوئیٹ ہارٹ کسے بولا ہاں۔۔۔۔!!!”
وفا کے سر پر تو جیسے خون سوار تھا اس نے جابجا لڑکے کی کمر پر تھپڑ اور گھونسے برسانے شروع کر دئیے۔۔۔
“س۔۔۔سوری باجی سوری غلطی ہوگئی۔۔۔”
لڑکے نے لال پیلے ہوتے چہرے سے وفا کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔۔۔۔
“نہیں نہیں اب بولو ذرا سوئیٹ ہارٹ۔۔۔۔”
وفا نے اسکے گٹھنے پر اپنا پاؤں مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“ارے وفا یہ کیا کردیا تم نے۔۔۔۔”
تقی جو ازلان اور معیز کے ساتھ یونی وزٹ کرنے آیا تھا پہلے وفا پھر اس لڑکے کو دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔۔۔
“سوئیٹ ہارٹ بولا ہے اس نے مجھے۔۔۔!!!”
وفا نے تیوری چڑھا کر کہا جس پر تقی کو بھی طیش آیا اور وہ غصے میں اس کی جانب بڑھا جو پہلے ہی زمین پر پڑے کراہ رہا تھا۔۔۔۔
“ابے سالے تیری ہمت کیسے ہوئی۔۔۔”
وہ اگے بڑھتا اس سے پہلے ہی وفا نے اسے روک دیا اور معیز اور ازلان نے اس لڑکے کو سہارا دیا اور وہ موقع پاتے ہی وہاں سے بھاگ نکلا۔۔۔۔۔
“او گلوکوز کی بوتل تم تو رہنے ہی دو بھئی ورنہ تمہیں ہسپتال لے جانا پڑیگا۔۔۔۔”
“یار پٹاخہ یہ نہ بولا کرو مجھے۔۔۔”
تقی نے خجل ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“نہیں تو کیا انسولین کی سرنج کہوں پھر۔۔۔۔؟”
وفا کے چمک کر پوچھنے پر وہ سارے ہنس پڑے تھے۔۔۔۔
“اوئے تم لوگ یہاں کیسے۔۔۔؟”
بنش نے ان تینوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“یار۔۔۔۔!! دو مہینوں سے تم لوگوں کو نہیں دیکھا اب تو شکلیں بھولنے لگیں تھیں تو آگئے ہم۔۔۔۔”
معیز نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔
“اچھا اگر آ ہی رہے تھے تو احد کو بھی لے آتے۔۔۔۔”
مومل نے بے چینی سے کہا۔۔۔
“ارے باجی نام نہ لو اس کمینے کا۔۔۔!! قسمے یونی کا لاسٹ ڈے اور آج کا دن ہے بھائی جان سے کال اور میسج کے علاوہ ملاقات ہی نہیں ہوئی۔۔۔”
ازلان نے تپے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔۔
“بھائی میں تو اپنی علینہ سے ملنے آیا تھا۔۔۔”
معیز نے ادھر اُدھر نظریں دوڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
“معیز بس کردو یہ تھڑک اب تو بزنس مین بن گئے ہو۔۔۔”
بنش نے جلے بھنے انداز میں کہا۔۔۔
“یار بگز بنی تمہیں نہیں پتہ لڑکیاں مرتی ہیں مجھے دیکھ کر۔۔۔”
معیز نے اسٹائل سے کہتے ہوئے اپنے ماتھے پر بکھرے بالوں کو اپنی انگلیوں سے پیچھے کیا۔۔
“ہاں تمہارے موزوں کی بدبو سے۔”
بنش نے ہنسی ہوئے کہا۔۔۔
“جی نہیں میری پرسنالٹی پر۔۔۔”
معیز نے اکڑ کر کہا۔۔۔
“ہو ہائے تم اتنے خوفناک ہو۔۔۔”
بنش نے بھی فل دادی اماں اسٹائل میں کہا۔۔۔
“اچھا بس کرو تم دونوں ہم آج لنچ باہر کریں گے سامان اٹھاؤ اپنا اور چلو۔۔۔۔”
ازلان آج کافی سنجیدہ موڈ میں تھا اور کہتے ہی لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر کی جانب چل پڑا تو ذن لوگوں کو بھی اس کے پیچھے جانا پڑا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا ہوا تیرا وعدہ۔۔۔۔۔
وہ آلو کا پراٹھا۔۔۔۔
بھوکا ہوں میں جلدی کرو۔۔۔۔
ورنہ بھوک سے میں آج ہی مر جاؤں گا۔۔۔۔”
تقی جو پچھلے پندرہ منٹ سے ہر ویٹر کو دیکھ کر ایک ہی گانا وہ بھی توڑ مڑوڑ کر اپنی بھونڈی آواز میں گائے جا رہا تھا وفا کے مارنے کے بعد چپ ہوا تھا۔۔۔۔
“یہ آج تمہارے اندر معیز کی روح کیسے گھس گئی؟”
وفا نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا جو کب سے گا گا کر ان سب کی عزت کا کچرا کر چکا تھا۔۔۔
“ہائے وفا جانی تم کیا جانو کہ یہ آلو کے پراٹھے کی خوشبو محسوس کرتے ہی انسان وادیِ ذائقہ میں اتر جاتا ہے۔۔۔۔”
اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنا عجیب و غریب فلسفہ اس کے گوش گزارا۔۔۔۔
“انسان نہیں بس تیرے جیسے جن کے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے کیوں ازلان۔۔۔۔؟”
معیز نے کہتے ہوئے ازلان سے تائید چاہی لیکن وہ تو نجانے کس سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔۔
“ازلان!!!”
“ہاں کیا ہوا۔۔۔”
معیز کے دوبارہ پکارنے پر وہ اپنے خیالوں سے واپس آیا۔۔۔۔
“ابے تجھے کیا ہوا ہے ؟”
“کچھ نہیں بس سر میں درد ہے ذرا۔۔۔۔”
ازلان نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے کہا لیکن زینہ کو وہ یونی میں بھی کچھ پریشان لگا تھا۔۔۔۔
واپسی پر ازلان زینہ کو گھر ڈراپ کرنے جارہا تھا جب زینہ نے ہی کب سے قائم خاموشی کی دیوار گرائی۔۔۔۔۔
“ازلان۔۔!!!”
اس نے ذرا ہچکچاتے ہوئے اسکا نام پکارا۔۔۔۔
“ہمم۔۔۔۔!!”
ازلان نے نظریں ونڈ سکرین پر جمائے کہا۔۔۔۔
“تمہیں کوئی پریشانی ہے ؟؟”
اس کا انداز ایسا تھا کہ ازلان سمجھ نہیں سکا کہ وہ سوال تھا یا اطلاع۔۔۔۔
“نہیں تو مجھے کیوں پریشان ہونا ہے۔۔۔”
اس نے بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔
“تمہیں کوئی بات پریشان کر رہی ہیں تم بتانا نہیں چاہتے تو الگ بات ہے۔۔۔”
زینہ نے اپنا منہ دوسری جانب پھیر لیا۔۔۔۔۔
” زینی ایسی بات نہیں ہے یار۔۔۔۔۔! تمہیں نہیں بتاؤں گا تو کسے بتاؤں گا۔۔۔۔۔”
ازلان نے گاڑی اس کے گھر کے آگے روک کر اسکا رخ واپس اپنی طرف کیا۔۔۔۔۔
“تو بتاؤ نا پھر کیا پریشانی ہے۔۔۔۔”
زینہ فوراً سے سیدھی ہوکر بیٹھی۔۔۔۔۔
“یار میں ہادی کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہوں میری تو اب کال ہی نہیں پک کرتا وہ منحوس۔۔۔۔”
ازلان نے اپنا سر سیٹ پر ٹکاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
“تو تم نے بنش سے بات کی اس بارے میں۔۔۔؟”
زینہ نے بھی تشویش سے کہا۔۔۔۔
“ہاں یار وہ کہتی ہے اسکی بھی تین تین دن تک ملاقات نہیں ہوتی۔ جب وہ گھر آتا تو یہ گھر نہیں ہوتی جب وہ ہوتی تو وہ نکل جاتا ہے۔۔۔۔”
ازلان نے مایوسی سے کہا۔۔۔
“اچھا کل چلتے ہیں اسکے گھر پتہ کرتے ہیں کیا مسئلہ ہے۔۔۔”
زینہ نے گاڑی سے اترے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
“ہاں اس کمینے کے دماغ کا بھوسا میں ہی نکالتا ہوں اب۔۔۔۔”
ازلان بڑبڑاتے ہوئے گاڑی کو بھگاتا لے گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھڑی کی سوئیاں اس وقت رات کے آٹھ بجا رہیں تھیں اور پورے کمرے میں اندھیرا گھپ ہو رہا تھا ایسے میں کمرے کے وسط میں بس ایک چنگاری نما روشنی جل رہی تھی جو یقیناً سگریٹ کی ہی تھی۔۔۔۔۔۔
اچانک کمرے کا دروازہ کھلا تو زمین پر بیٹھے شخص نے جھٹکے سے اپنا بیڈ کی پائنتی پر دھلا سر اٹھایا جبکہ سامنے کھڑا شخص بتی جلا کر کمرے میں پھیلے دھویں کو ہونقوں کی طرح دیکھ رہا تھا پھر کچھ یاد آنے پر اس شخص کے قریب گیا جو اب کھڑا ہو چکا تھا اور بنا ایک لمحے رکے مقابل کے منہ پر زوردار گھونسا جڑ دیا۔۔۔۔۔۔
“سالے کمینے۔۔۔!!! سٹھیا گیا ہے کیا یا بھیجہ گرا آیا ہے کہیں۔۔۔ تجھے ذرا بھی ہوش ہے کہ تیری وجہ سے ہم سب کتنے ذلیل و خوار ہوئے ہیں ایک میسج کا جواب نہ دیا تو نے حتی کہ مومی کا بھی نہیں سوچا تو نے ۔۔۔۔۔”
ازلان بنا رکے بولتا چلا گیا اور وہ دم سادھے کھڑا رہا۔۔۔۔۔
“اب بھونکے گا یا دو اور لگاؤں۔۔۔”
ازلان نے ایک آئبرو اچکاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔۔”
احد کا لہجہ حد درجہ سرد تھا۔۔۔۔
“کمینے بچپن کا یار ہے تو میرا اب اتنا تو مجھے بھی پتہ ہے کہ تو نوکری کی وجہ سے دیوداس بنا گھوم رہا ہے۔۔۔۔”
ازلان نے استہزائیا انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“ہاں ہوں میں ناکارہ نہیں ملے گی مجھے کوئی بھی جاب اور نہ ہی کوئی بغیر رشوت کے مجھے نوکری دے گا۔۔۔۔”
احد سرخ آنکھوں سے جارحانہ انداز میں بولا۔۔۔۔
“دیکھ بھائی میں تجھے پہلے دن سے کہہ رہا ہوں ہماری کمپنی کے آدھے شئیرز میں تجھے دیدیتا ہوں ہم دونوں آرام سے ہینڈل کر سکتے ہیں۔۔۔۔”
ازلان نے مصالحت کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“مجھے اپنے بل بوتے پر کچھ کرنا ہے میں اپنے باپ کی امید نہیں توڑ سکتا۔۔۔”
احد کے کہنے پر دروازے پر کھڑے وہ سارے بھی اندر آگئے اور تقی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“بھائی تو میرے ساتھ پارٹنرشپ کرلے میری تو اتنی صحت ہی نہیں کہ اتنی بڑی کمپنی کا بوجھ اٹھا سکوں اور میں نے اپنے باپ کی آدھی جائیداد تو کھانے میں ہی اڑا دینی ہے ہم دونوں مل کر گاڑیوں کا کاروبار سنبھالے گے۔۔۔۔”
“اسے چھوڑ تو میری کمپنی میں آجا بھائی اگر کسی نے میٹنگ میں گاڑھی اردو بول دی تو میرا دم نکل جائے گا۔۔۔۔”
معیز بھی احد کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا جبکہ مومل تو احد کی جوگیوں والی حالت دیکھ کر بمشکل اپنے آنسوؤں کو بہنے سے روکے ہوئی تھی۔جبکہ بنش کا بھی ایسا ہی کچھ حال تھا۔۔۔۔
“یار مان جا نا دیکھ تیرے لیے پی ایس ایل کا سیمی فائنل چھوڑ کر آیا ہوں پلیز راضی ہو جا۔۔۔۔”
وہ سارے ایک ساتھ بولنے لگے تھے اور احد کی شدتِ ضبط سے کنپٹیوں کی رگیں تن گئی تھیں۔۔۔۔۔
“شٹ اپ۔۔۔۔!!! جسٹ شٹ اپ!!! تم لوگ کیا سمجھتے ہو کہ میں کوئی بھکاری ہوں جو تم لوگوں کی دی ہوئی بھیگ قبول کروں ہاں۔۔۔!!!”
احد اپنی کنپٹیاں مسلتے ہوئے دھاڑا تھا جس پر مومل کا تو دل دہل گیا کیونکہ آج تک احد کا یہ روپ کسی نے نہیں دیکھا تھا اس وقت سب سکتے کی کیفیت میں تھے۔۔۔۔
“دیکھ تو غلط سمجھ رہا ہے ایسا نہیں ہے جیسا۔۔۔۔۔۔”
ازلان کی بات منہ میں ہی رہ گئی جب وہ ایک بار پھر دھاڑا جس پر کب سے باہر کھڑے احد کے والدین بھی اندر داخل ہوئے۔۔۔۔
“ازلان تو ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکل اس سے پہلے میں کچھ غلط کہہ دوں۔۔۔۔”
“یار میری بات۔۔۔”
ازلان نے ایک بار پھر بولنے کی کوشش کی لیکن بے سدھ۔۔۔
“ازلان۔۔۔۔۔۔ نکل جا۔۔۔۔۔”
احد نے دانت پیستے ہوئے کہا تو ازلان کو بھی طیش آگیا۔۔۔۔
“ٹھیک ہے جارہا ہوں آئندہ میں مر جاؤں گا لیکن تیری شکل کبھی نہیں دیکھوں گا۔۔۔۔”
ازلان کے کہنے پر ایک لمحے کو ان دونوں کی نگاہیں ملیں۔۔۔دونوں میں ڈھیر سارے آنسوں۔۔۔ ڈھیر ساری یادیں۔۔۔ تھوڑا سا ملال۔۔۔ بہت گہرا دکھ۔۔۔اور ایک عجیب سا ڈر۔۔۔ ہاں کچھ چھوٹ جانے کا ڈر۔۔۔ کچھ گھم جانے کا ڈر۔۔۔۔ کچھ ٹوٹ جانے کا ڈر تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسے مانوں تو جدا ہے مجھ سے
سوچ کر دل نڈھال ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو نہیں سامنے مگر پھر بھی
دل میں تیرا خیال ہوتا ہے۔۔۔

تیری ایک ادا کے نام کیا
سب عہد وفا کے نام کیا۔۔

آنکھوں کے در پہ بیٹھے ہیں
کچھ یار پرانے اور اک تم۔۔۔۔

دل سے ہوکر گزرے میرے
وہ بیتے زمانے اور اک تم

تیری ایک ادا کے نام کیا
سب عہد وفا کے نام کیا

یاروں کے سکھ بھی اور غم بھی
تیری یادوں کے یہ موسم بھی۔۔۔۔

آنکھوں میں اترا یہ نم بھی
یہ رستہ بھی اور ہمدم بھی

تو لگتا ہے پیارا اتنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس میرے دل میں ہے جتنا

تیری ایک ادا کے نام کیا
سب عہد وفا کے نام کیا

جینے کی بات سے یاد آیا۔۔۔۔
کس حال میں تم رہتے ہوگے

جو کہہ سکتے تھے بس مجھ سے
کس کو جاکر کہتے ہوگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اک دل ہی بچا تھا پاس اپنے
وہ بھی ہم ہار کے آئیں ہیں۔۔

اک تیرے ہونٹوں کے صدقے۔۔۔۔۔
سب خوشیاں وار کے آئیں ہیں

رنگ آنکھوں کا تیری یادوں سا
وہ لہجہ تیری باتوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ خوشبو تیرے آنے کی۔۔
وہ دھاگہ تیرے وعدوں کا

تو لگتا ہے پیارا اتنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس میرے دل میں ہے جتنا

تیری ایک ادا کے نام کیا
سب عہد وفا کے نام کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا اور پیچھے وہ سارے افسوس سے کھڑے تھے۔۔۔
“اب تم لوگ یہاں سے نکل رہے ہو یا میں ہی چلا جاؤں۔۔۔”
احد کو اس وقت شدید غصہ سوار تھا۔اس نے ان سب کی طرف دیکھتے ہوئے درشتگی سے کہا۔۔۔
“ا۔۔احد یہ کیا کہہ رہے ہو تم۔۔۔۔”
مومل نے آنسوؤں کے درمیان کہنے کی کوشش کی۔۔۔۔
“Just Leave…!!!”
اس نے اتنا زور سے کہا تھا کہ پورے کمرے کی دیواریں دہل گئیں۔۔۔۔
“Ahad….. Behave Yourself…!!”
منان صاحب کرخت لہجے میں بول پڑے۔۔۔
“ابھی اسے کچھ نہ کہیے یہ اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں ہے آؤ مومی بنش باہر چلو تم سب بھی۔۔۔۔”
زینب بیگم نے پہلے منان صاحب پھر ان سب سے کہا جس پر وہ سارے دروازے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے اندھیرے میں وہ گاڑی کو فل سپیڈ سے روڈ پر بھگا رہا تھا اس وقت کوئی ازلان کو گاڑی ڈرائیو کرتے دیکھ لیتا تو تو اس کے نشے میں ہونے کا گمان کرتا لیکن کون جانے کہ اس وقت وہ دل میں کتنا کرب سمائے بیٹھا ہے۔۔ وہ اپنے آنسوؤں کو کب سے ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا یہاں تک کہ شدتِ ضبط سے اس کی ماتھے اور بازوؤں کی رگیں صاف ابھری ہوئی دکھائی دے رہیں تھیں۔۔۔۔
ازلان نے ایک بار پھر احد کے الفاظ اپنے کانوں میں پڑتے محسوس کئے اور بالآخر کب سے بندھا آنسوؤں کا باندھ اب ٹوٹ ہی گیا تھا اس نے گاڑی کی رفتار مزید بڑھادی اور اس بار بہتے ہوئے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی تھی۔۔۔۔
“احد تو نے ہماری سالوں کی دوستی کا یہ صلہ دیا ہے تجھے میری محبت بھیک لگنے لگی ہے اب۔۔۔۔”
باہر بادل زور و شور سے برس رہے تھے جبکہ گاڑی کے اندر بیٹھے ازلان کا حال بھی ان اداس بادلوں سے مختلف نہ تھا۔۔۔۔۔
“میں کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔۔ مر کے بھی نہیں۔۔۔۔”
ازلان نے یہ آخری الفاظ اپنے منہ سے ادا کئے پھر اسکی آنکھیں کچھ آنسوں اور کچھ بارش کی وجہ سے دھندلا گئیں اور اسے سامنے کا منظر دکھائی نہ دیا اسی اسنا میں ایک تیز رفتار ٹرک بائیں جانب سے آیا اور اسکی گاڑی کو ٹھوکر مارتے ہوئے نکل گیا۔۔۔۔۔۔
چونکہ دونوں گاڑیاں ہی تیز رفتار تھیں اس وجہ سے ازلان کی گاڑی لڑھکتی ہوتی کافی دور جاگری تھی۔۔۔ اس زوردار تصادم کے بعد کافی لوگوں کا رش لگ گیا کوئی ایمبولینس بلانے کا کہہ کر تھا تو کوئی گاڑی میں پھنسے ہوئے شخص کو نکالنے کا کہہ رہا تھا پس تھوڑے ہی وقت میں وہاں اچھا خاصا رش لگ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سارے ابھی احد کے کمرے سے نکل رہے تھے کہ زینہ کے موبائل پر ازلان کے نمبر سے کال آئی۔۔۔۔
“ہیلو ازلان کہاں ہو تم۔۔۔۔”
زینہ سامنے والے کی سنے بغیر ہی بول پڑی تھی۔۔۔
“محترمہ آپ زینہ بات کر رہی ہیں۔۔؟”
اسپیکر سے ایک انجانی آواز ابھری۔۔
“جی آپ کون؟ یہ نمبر تو ازلان کا ہے نا۔۔۔”
زینہ کو کسی انہونی کا احساس ہوا۔۔۔
سامنے سے جو کہا گیا وہ سن کر زینہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا اور سب اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
“زینی کیا ہوا ہے کس کا فون ہے۔۔۔؟”
بنش نے تشویش سے پوچھا اتنے میں تقی کی آواز پر سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں تقی زینہ کے موبائل پر بات کر رہا تھا۔۔۔
“کیا ایکسیڈینٹ۔۔۔۔۔۔!! کونسے ہاسپٹل میں؟؟ اوکے ہم فوراً پہنچ رہیں ہیں۔۔۔۔”
تقی نے فون بند کرکے ان سب کو دیکھا۔۔۔۔
“ازلان کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ہمیں فوراً نکلنا ہوگا۔۔۔۔”
یہ کہتے ہوئے تقی اور اس کے پیچھے معیز بھاگا جبکہ احد تو بس سکتے کی حالت میں کھڑا تھا۔۔۔۔ اس وقت اسے اپنے ہاتھ سے بہت کچھ چھوٹتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
“یہ۔۔۔ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے احد تم ہو ازلان کی اس حالت کے ذمہ دار صرف تم۔۔۔۔۔”
زینہ ہضیانی کیفیت میں حلق کے بل چلائی تھی اور احد بس بت بنا کھڑا تھا۔۔۔۔
“زینی چلو ابھی ازلان کو تمہاری ضرورت ہے یہ وقت نہیں ان سب باتوں کا۔۔۔۔”
وفا کہتی ہوئی اسے اپنے ساتھ لے گئی اور بنش بھی ان دونوں کے پیچھے نکلی۔۔۔۔
“انسان کو اتنا بھی خود غرض اور پتھر دل نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی انا کے آگے لوگوں کی زندگیاں تباہ ہوجائے۔۔۔”
مومل نے اسے تاسف سے دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گئی پیچھے احد زمین پر شکست خوردہ سا بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ چاروں وہاں پہنچی تو تقی اور معیز انہیں آپریشن تھیٹر کے باہر نظر آئے۔۔۔۔۔
“معیز کیسا ہے میرا ازلان پلیز بتاؤ وہ ٹھیک تو ہے نا تقی بتاؤ نا۔۔۔۔۔”
زینہ نے دیوانوں کی طرح آنسوں پونچھتے ہوئے استفسار کیا۔۔۔۔
“زینہ ابھی آپریشن چل رہا ہے دعا کرو سب بہتر ہو۔۔۔۔”
تقی کے کہنے پر زینہ کو تھوڑی تسلی ہوئی۔۔۔۔
معیز نے بنش کو دیکھتے ہوئے آنکھوں کے اشارے سے احد کے بارے میں پوچھا تو بنش نے نفی میں سر ہلایا اور معیز بس سر جھٹکتا رہ گیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنے ہی پل وہ وہی زمین پر بیٹھا رہا۔۔۔ پورا بچپن کسی فلم کی طرح اس کے سامنے چلنے لگا۔۔۔۔۔۔ “جب پہلی بار تیسری جماعت میں ازلان نے احد کو اپنا لنچ شئیر کروایا تھا۔۔۔۔”
“جب چھٹی جماعت میں احد نے ازلان کو بڑے لڑکوں سے بچایا تھا جس میں ان دونوں کو بھی کافی چوٹیں آئیں تھیں۔۔۔۔”
“جب وہ دونوں ازلان کی ڈبل پیڈل والی سائیکل پر بیٹھے پوری گلی کا چکر لگاتے تھے۔۔۔۔”
“جب رات کے تین بجے ازلان نے اسے زبردستی نیند سے جگا کر ورلڈ کپ فائنل دکھایا تھا اور جب پاکستان انڈیا سے ہارا تو ازلان نے احد سے کٹ بھی کھائی تھی۔۔۔۔”
“جب ہمیشہ کرکٹ کھیلتے ہوئے احد اسلم انکل کی کھڑکی کا شیشہ توڑ دیتا تھا اور ازلان سارا الزام اپنے سر لےلیتا تھا۔۔۔۔”
پورا کالج یونیورسٹی اور ازلان کے نکاح تک کا سفر۔۔۔۔
اور پھر اسکے آخری بار کہے گئے الفاظ۔۔۔۔
“آئندہ میں مر جاؤں گا لیکن تیری شکل کبھی نہیں دیکھوں گا۔۔۔۔”
وہ جھٹکے سے اٹھتا ہے اور دروازے سے باہر نکل ہی رہا تھا کہ کسی آواز کے تحت اس کے قدم آگے بڑھنے سے انکاری ہو گئے۔۔۔
ازلان کے کہے الفاظ بار بار کسی خنجر کی طرح اس کے دل میں چبھ رہے تھے۔۔
“ن۔۔نہیں میں نہیں جاسکتا اگر میں گیا تو۔۔۔ تو وہ مر جائے گا۔۔۔۔۔”
وہ دیوانوں کی طرح منہ پر ہاتھ رکھے بڑبڑا رہا تھا اور پھر زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔۔اتنے میں اسکے موبائل پر معیز کا نام جگمگایا اس نے بے خیالی میں یس کا بٹن دبایا اور موبائل کو کان سی لگالیا۔۔۔۔
“سالے تو ابھی بھی نہیں آئے گا۔۔۔”
سوال تھا یا طنز وہ سمجھ ہی نہ سکا۔۔۔۔
“ن۔۔۔نہیں میں نہیں آرہا۔۔۔”
انداز کو زبردستی سرد بنایا گیا تھا۔۔۔۔۔
“احد میری جان دیکھ یہ وقت ناراضگی کا نہیں ہے ایک بار وہ ٹھیک ہو جائے پھر ہم۔۔۔ہم سارے مل کر لڑتے ہیں نا۔۔۔ آجا یار دیکھ اسے۔۔۔ اسے ہماری۔۔۔ ہم سب کی ضرورت ہے پلیز آجا۔۔۔۔۔۔”
معیز نے بڑے ضبط سے اپنی آنکھوں میں امڈتے آنسوں پیچھے دھکیلے تھے۔۔۔۔
“معیز میں نے کہا نا نہیں آؤنگا۔۔۔۔ یاد نہیں اس نے کیا کہا تھا جاتے وقت۔۔۔۔ نہیں دیکھے گا وہ کبھی میری شکل۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے سب میری وجہ سے میں ہی ہوں اصل مجرم۔۔۔۔ نہیں آؤنگا میں۔۔۔۔۔۔۔”
احد نے جنونی انداز میں کہتے ہوئے موبائل دیوار پر دے مارا اور معیز ہیلو ہیلو ہی کرتا رہ گیا۔۔۔۔۔۔

اس وقت وہ متعدد مشینوں میں جکڑا ہوا ہسپتال کے بیڈ پر تھا اور وہ دونوں باہر کھڑے اسکی حالت دیکھ رہیں تھے اگر وہاں کوئی نہ تھا تو وہ احد تھا جو خود کو اس سب کا ذمہ دار سمجھتا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جائے نماز پر سر ٹکائے سجدے کی حالت میں بیٹھا تھا اور مستقل اپنے رب سے اسکا یار، اسکی زندگی اسکا سب کچھ۔۔ ازلان کے لیے دعا مانگ رہا تھا۔۔۔۔
“یااللّٰہ۔۔۔۔۔اے میرے رب۔۔۔۔ آج میں تجھ سے اپنے ازلان کی زندگی مانگتا ہوں۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے ناراض ہے۔۔۔ پاگل ہے نا۔۔۔ میں۔۔۔ میں ذرا بھی کچھ کہدوں تو عورتوں کی طرح لڑتا ہے مجھ سے۔۔۔”
اس نے آنسوؤں کے درمیان ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
“وہ مجھے میری محبوبہ سے بھی زیادہ عزیز ہے۔۔۔
لیکن آج تو وہ مجھ سے لڑا ہی نہیں۔۔۔۔۔ پلیز پلیز میرے جگر کو ٹھیک کردے پھر۔۔۔ ہم لڑ لیں گے۔۔۔۔”
آنسوؤں میں روانی آگئی تھی اچانک کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔۔اس نے سجدے سے سر اٹھا کر دیکھا تو منان صاحب سینے پر دونوں ہاتھ لپیٹے اپنے بیٹے کی حالت دیکھ رہیں تھے۔۔۔۔۔
“آجائیں بابا۔۔۔۔”
اس کے کہنے پر وہ قدم قدم چلتے اسکے پاس آئے اور وہیں زمین پر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔۔۔۔۔
“بیٹا ہم تم سے ایک بات پوچھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔”
انہوں نے تھوڑے وقفے کے بعد کہا۔۔۔۔
“جی بابا پوچھیں۔۔۔۔”
“ہم نے کبھی آپ پر اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش کی ہے۔۔۔؟”
منان صاحب نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا۔۔۔
“یہ کیسا سوال ہوا۔۔۔”
احد کو انکی بات سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔۔
“کبھی ہم نے آپ کو کہا کہ ہمارے حساب سے زندگی گزاریں۔۔۔۔؟”
“ن۔۔۔نہیں بابا کبھی نہیں کہا آپنے۔۔۔”
اس نے بابا کے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“تو آپ نے کیسے سوچ لیا کہ ہم آپ کو ازلان بیٹے یا آپ کے کسی بھی دوست کے ساتھ بزنس کرنے سے روکے گے۔۔۔؟”
انہوں نے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔
“نہیں بابا آپ نے کبھی ہم پر اپنی مرضی مسلط نہیں کی لیکن میں آپ کو کچھ کرکے دکھانا چاہتا تھا۔۔۔۔ اپکا نام روشن کرنا چاہتا تھا میں۔۔۔۔”
احد نے پرعزم لہجے میں کہا۔۔۔۔
“تو بیٹے ہم یہ ہی تو سمجھانا چاہ رہیں ہیں آپ کو کہ آپ اپنے دوستوں کے ساتھ رہ کر بھی اپنا نام بنا سکتے ہیں۔۔۔ہمارا نام روشن کرسکتے ہیں۔۔۔۔ اگر آپ کو ہماری اجازت کی ضرورت ہے تو جائیں اور یہ میرا حکم سمجھ لیں یا التجا آپ اب ازلان بیٹے کے ساتھ ہی کام کریں گے اور اب میں اس بارے میں ایک لفظ نہ سنوں۔۔۔۔”
منان صاحب نے لہجے کو تھوڑا سخت بنا کر کہا تو احد ان کے سینے سے لگے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔۔۔۔۔
“بابا یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے میں کبھی اس کے لیے اپنے آپ کو معاف نہیں کرپاؤنگا وہ اس وقت موت سے لڑ رہا ہے اور میں۔۔۔۔ میں ہوں ہی برا۔۔۔۔۔”
وہ رو رو کر اپنے باپ کو بتارہا تھا۔۔۔۔۔
“ایسے تو نہیں چلے گا نا۔۔۔ آپ اس طرح ہمت نہیں ہار سکتے بیٹے آپ جائیں۔۔۔ ہسپتال میں آپ کے دوستوں کو آپ کی ضرورت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کافی دیر ہوجائے۔۔۔۔
ان کے یہ الفاظ تھے اور احد ایک جھٹکے سے اٹھا۔۔۔۔
“اور ایک بات یاد رکھیں میری کسی بھی حالت میں اپنے دوستوں کا ساتھ نہیں چھوڑئیے گا۔۔۔۔اٹھیں شاباش فوراً نکلیں ہسپتال کے لئے۔۔۔۔۔”
وہ اسکی پیٹھ تھپتھپا کر کھڑے ہوئے۔۔۔۔اور احد گاڑی کی چابی اُٹھائے ہسپتال کے لئے بھاگا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے آٹھ گھنٹوں سے ازلان کا آپریشن جاری تھا۔۔۔۔ اس وقت ہسپتال میں صرف معیز اور تقی تھے۔ لڑکیوں اور ازلان کے والدین کو بڑی مشکل سے صبح تک کے لیے گھر بھیجا تھا اور وہ دونوں کب سے ڈاکٹر کے باہر آنے کا انتظار کر رہے تھے کہ آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر صاحب باہر آئے۔۔۔۔۔
“ڈ۔۔۔ڈاکٹر ہمارا دوست ٹھیک ہے نہ پلیز بتائیں۔۔۔۔”
تقی نے آگے بڑھ کر بہت ضبط سے پوچھا۔۔۔۔۔
“دیکھے آپریشن کے دوران پیشنٹ کی حالت کافی بگڑ گئی تھی اور ہمیں اب فوری طور پر او نیگیٹو بلڈ کی ضرورت ہے جو کہ ہسپتال میں اس وقت دستیاب نہیں ہو گا آپ کو کہیں سے انتظام کرنا ہوگا۔۔۔۔۔”
“Because It’s Urgent….!!”
ڈاکٹر تو پیشہ ورانہ انداز میں کہہ کر چلے گئے اور پیچھے ان دونوں کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔۔۔۔۔

انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں احد کھڑا تھا۔۔۔۔۔
ایک ضبط کا بندھن تھا جو ان دونوں نے کب سے باندھ رکھا تھا لیکن احد کو وہاں دیکھ کر وہ جانے کب ٹوٹا وہ خود بھی نہیں جان سکے۔۔۔۔۔
وہ دونوں بچوں کی طرح اس سے لپٹ کے بلک بلک کر رو پڑے۔۔۔۔
“ڈاکٹر کیا کہتے ہیں۔۔۔۔؟”
کمال ضبط تھا احد کا بھی جو وہ تھامے ہوئے تھا اور اس وقت وہ کمزور نہیں پڑ سکتا تھا۔۔۔۔
“و۔۔وہ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر اسے خون نہیں ملا تو۔۔۔۔۔”
آگے کہنے کی اب ہمت نہ تقی میں تھی اور نہ ہی احد مزید سن سکتا تھا۔۔۔۔
“ٹھیک ہے میں جاتا ہوں۔۔۔۔”
احد نے ان دونوں سے نظریں چرا کر کہا اگر نظروں کا تبادلہ ہوتا تو شاید احد کی آنکھوں کی نمی وہ دیکھ لیتے۔۔۔
“تو دیگا خون۔۔۔!؟”
معیز نے اچھنبے سے پوچھا۔۔۔۔
“ہاں تو۔۔۔ جب جانیں ایک ہیں، روح ایک ہے، تو یہ بلڈ گروپس تو معمولی سی بات ہے۔۔۔۔”
احد کے ہونٹوں پر ذرا سی مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی اور وہ نرس کے ساتھ اندر کی جانب چل دیا۔۔۔۔۔
…………………………………………………..
تقریباً آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر باہر آیا تو وہ لپکتے ہوئے ان تک پہنچے۔۔۔۔۔
“آپریشن کامیاب رہا لیکن اگر بارہ گھنٹوں تک پیشنٹ کو ہوش نہیں آیا تو آئی ایم سوری ہم کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔۔”
ڈاکٹر جس طرح آیا تھا اسی طرح واپس بھی جاچکا تھا جبکہ پیچھے سے آتی زینہ اور ان تینوں کے چلتے قدم رکے تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارہ میں سے چھ گھنٹے گزر چکے تھے لیکن ازلان ابھی تک ہوش و حواس سے بیگانہ ہسپتال کے بیڈ پر پڑا تھا مشینیں ابھی بھی اتنی تھی اور اسکی طبیعت میں کوئی تبدیلی بھی نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
زینہ جب آنسوؤں کو بہاتے اور دعائیں مانگتے تھک گئی تو اس کے ذہن میں جھماکے سے ازلان کے کبھی کہے گئے الفاظ گونجے۔۔۔۔۔
” ارے یار کچھ نہیں ہوتا مجھے اگر میں موت کے منہ میں بھی چلا جاؤں تو احد جانی کی ایک آواز مجھے وہاں سے کھینچ لائے گی۔۔۔۔۔”
ازلان نے زینہ کو خود سے لگاتے ہوئے کسی بات پر دلاسہ دیا تھا۔۔۔۔۔
“ا۔۔۔احد دیکھو نا از۔۔۔ازلان کو کیا ہو گیا ہے تم۔۔۔ تم کہو نا اس سے کہ اسکی زینی اسکے بغیر مر جائے گی تمہاری تو ہر بات سنتا ہے نا وہ پلیز کہو اسے ایسے تو نہ تنگ کرے سب کو۔۔۔۔”
زینہ اس وقت احد کا بازو پکڑے اس سے اپنی محبت کی زندگی مانگ رہی تھی۔۔۔۔۔
“زینی میں کیسے۔۔۔۔!؟”
وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ باقی سب کا حال بھی مختلف نہ تھا۔۔۔۔
“ہاں اس۔۔۔ اس نے کہا تھا کہ تم اسے ایک بار آواز دو تو وہ موت کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔۔۔۔ ”
زینہ نے اپنے آنسوں پونچھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
احد کو زینہ کی حالت پر افسوس بھی ہورہا تھا اور ازلان پر غصہ بھی شدید تھا کہ اسکی وجہ سے سب پریشان ہیں وہ بڑی مشکل سے ڈاکٹر سے اجازت لے کر تھوڑی دیر کے لیے اس کے پاس گیا تھا۔۔۔۔۔۔
اپنے بھائیوں جیسے دوست کو اس طرح ہوش کی دنیا سے غافل دیکھ کر ایک آنسوں اس کی آنکھ سے ٹوٹ کر شرٹ کے کالر میں جذب ہوا تھا اور پھر وہ طیش کے عالم میں اس تک پہنچا اور بغیر سوچے سمجھے اس کے بازو پر ایک زبردست گھونسہ جڑا۔۔۔۔
صدشکر کہ اس ہاتھ پر زیادہ چوٹیں نہیں آئیں تھیں۔۔۔۔
“کیا ہے بے۔۔۔۔ اور کتنی فوٹیج کھائے گا۔۔۔۔چین نہیں پڑ رہا تجھے ہاں اگر میں نے کہہ دیا کہ جا تو واقعی میں نکل پڑا سالے۔۔۔۔۔۔۔”
وہ جابجا اپنے آنسوں اور مکے اسکے بازو پر برسا رہا تھا۔۔۔۔
“یہ بھی نہ سوچا کہ تیرے بھائی کو تیری ضرورت تھی کمینے تو۔۔۔۔۔ تو نے یہ اچھا نہیں کیا۔۔۔۔مجھے اپنی محبوبہ کہتا ہے اور یہ حال کر بیٹھا اپنا۔۔۔۔ دیکھ۔۔۔ دیکھ باہر میری سوتن کھڑی آنسوں بہا رہی ہے اسی کے لیے اٹھ جا بیغیرت۔۔۔۔۔۔”
“وہ۔۔۔ وہ کونسا گانا گاتا تھا تو اپنی بےسری آواز میں۔۔۔۔”
اب وہ گٹھنوں کے بل نیچھے بیٹھ چکا تھا اور ازلان کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: