Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 1

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 1

–**–**–

مرکزی کردار : جگن شانزے
عمر : بائیس سال
حلیہ : روشن کشادہ پیشانی ، بھرے بھرے سے لب ، متناسب ناک ، موٹی موٹی سبز روشن آنکھیں
☆☆☆- – – – – – – – – – – – – ☆☆☆
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
جہاز چند لمحوں میں انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈ کرنے والا تھا ۔ وہ بڑے الجھے ہوئے انداز میں بیٹھی آنے والے وقت کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔ وہ اپنی تمام جمع شدہ پونجی خرچ کر کے دوبئی میں بہترین جاب کی تلاش میں جا رہی تھی ۔ وہ جانتی تھی کہ انٹرویو میں فیل ہونے کی صورت میں اسے کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ جاب نہ ملنے کی صورت میں اسے کسی سے قرض لینا پڑ سکتا ہے یا پھر دوسری صورت میں اسے کچھ دن فاقہ کشی میں گزارنے ہوں گے ۔ جگن شانزے اپنی سوچوں میں گم تھی کہ جہاز لینڈ کر چکا تھا ۔ اب وہ جلدی سے اپنا ہینڈ بیگ اٹھائے جہاز سے باہر نکل رہی تھی ۔ ائیرپورٹ سے باہر آتے ہی وہ اپنی دوست شہنیلا سے ملی ۔ شہنیلا اور شانزے کی دوستی فیسبک کی مرہون منت تھی ۔ فیسبک پر شانزے اور شہنیلا کی طویل چیٹ ہی ان کی گہری دوستی کا ذریعہ بنی ۔ شانزے ایک پرائیویٹ اسکول ٹیچر تھی ۔ یہ شہنیلا ہی تھی جس نے شانزے کو باور کروایا کہ اگر وہ دوبئی میں ٹیچنگ کرتی ہے تو وہ تین ہزار درہم تک کما سکتی ہے ۔
“یہ میرا بستر ہے یہاں تم سو جاؤ ، تین بجے اٹھ کر فریش ہو جانا ، شام چار بجے تمہارے انٹرویو ہے” شہنیلا کمرے کے بیڈ نمبر بارہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی تو شانزے نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
☆☆☆- – – – – – – – – – – – – ☆☆☆
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
شانزے خوب سج سنور کر تیار ہوئی ۔ وہ جینز کی بلیو پینٹ اور بلیک شرٹ میں ملبوس تھی ۔ وہ شہنیلا کے ہمراہ ٹیکسی میں بیٹھ گئی ۔
“اپنا پاسپورٹ مجھے دو” شہنیلا نے شانزے سے کہا تو شانزے نے شہنیلا کو حیرت بھری نگاہوں سے دیکھا
“انٹرویو کے بعد تمہارا میڈیکل ٹیسٹ ہو گا اور میڈیکل ٹیسٹ کا ٹوکن لینے کے لیے تمہارا پاسپورٹ درکار ہے” شہنیلا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا
“لیکن تم نے مجھے بتایا تھا کہ وزٹ ویزا پر آنے والوں کا میڈیکل ٹیسٹ نہیں ہوتا” شانزے متحیر لہجے میں بولی
“ہاں میں نے کہا تھا لیکن اسکول والوں نے آج ہی بتایا کہ جاب ایپلیکیشن کے ساتھ میڈیکل رپورٹ بھی منسلک ہو گی ، تم انٹرویو دو تب تک میں میڈیکل ٹیسٹ کے لیے سلپ لے آؤں گی اور پھر جلدی سے ٹیسٹ کروا کے تمہیں فلیٹ پر چھوڈ دوں گی اور خود ڈیوٹی پر چلی جاؤں گی” شہنیلا نے رطب اللسان بولتے ہوئے کہا تو شانزے نے پاسپورٹ شہنیلا کو دے دیا ۔
ٹیکسی ایک آفس نما چھوٹی سی عمارت کے سامنے روکی تو شہنیلا اسے آفس کے اندر لے گئی اور شانزے کو ایک پرآسائش کمرے میں صوفے پر بٹھایا ۔
“چار بجتے ہی اسکول مینجیر اور اس کی ٹیم آئے گی ، وہ تمہارا انٹرویو لیں گے” شہنیلا شانزے سے کہہ کر چلی گئی ۔ چار بجتے ہی تیس سال کی عمر کا ایک شخص کمرے میں آیا اور صوفے پر بیٹھ گیا ۔ چند سیکنڈز کے بعد ایک چوبیس سالہ لڑکا کمرے میں آیا اور کمرے کا دروازہ لاک کر دیا ۔ یہ سب دیکھ کر شانزے گھبرا گئی ۔ اب وہ دونوں شانزے کی طرف بڑھے تو وہ صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی تو تب انہوں نے شانزے کو بازوؤں سے پکڑ کر صوفے پر پٹخ دیا تو شانزے خوف سے لرز گئی اور اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کانپتے ہوئے دعا مانگنے لگی ۔
“اے لڑکی! ڈرامے بازیاں بند کر اور تیار ہو جا” تیس سالہ شخص کربناک لہجے میں بولا تو شانزے دعا مانگنے کے بعد اس کی طرف متوجہ ہوئی ۔
“میری بات سنو ، میں ویسی لڑکی نہیں ہوں جیسی تم سمجھ رہے ہو” شانزے ہکلاتے ہوئے بولی
“ہم نے تمہاری سپانسر کو تمہاری قیمت ادا کی ہے اور اب چار گھنٹے تک تم ہماری ملکیت ہو ، جو ہم چاہیں گے وہ تم کرو گی”تیس سالہ شخص خمار آلود لہجے میں بولا
“او کے ٹھیک ہے ، پہلے تم لوگ میری بات سنو پھر آپ جیسا کہو گے میں ویسا ہی کروں گی” شانزے نارمل لہجے میں بولی
“جو بولنا ہے جلدی بول” چوبیس سالہ لڑکے نے کہا اور تیس سالہ شخص کو پرسکون رہنے کے لیے اشارہ کیا
“پہلے اپنے نام بتاؤ” شانزے نے پراعتماد لہجے میں کہا
“میرا نام شاہیر ہے اور اس کا نام طلاطم ہے” چوبیس سالہ لڑکے نے تیس سالہ شخص کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“پاکستانی ہو؟” شانزے نے پوچھا تو دونوں نے اثبات میں سر ہلایا
“پہلے تم مجھے اپنی رہائش گاہ پر لے چلو پھر تم جیسا کہو گے میں ویسا ہی کروں گی اور بعد میں مجھے میری دوست شہنیلا کی رہائش پر چھوڑ دینا” شانزے کا لہجہ پہلے سے زیادہ پر اعتماد تھا ۔
“اوئے ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لڑکی ہمیں باتوں میں الجھا رہی ہے” طلاطم غصے سے غڑایا
“نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ میں آپ لوگوں کو باتوں میں نہیں الجھا رہی بلکہ میں تمہارا فائدہ سوچ رہی ہوں ، یہاں آپ کے پاس صرف چار گھنٹوں کا محدود وقت ہے اور تمہاری رہائش پر وقت لا محدود ہو گا” شانزے طلاطم کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
“تمہیں یہاں سے لے جانا ممکن نہیں ، کلب کے باہر سیکیورٹی بہت ٹائٹ ہے” طلاطم نے کہا
“تم جا کر کار اسٹارٹ کرو ، سیکیورٹی کو میں دیکھ لوں گا ، اس جیسی آزاد اور روشن خیال لڑکی شائد دوبارہ ہمیں کبھی نہ ملے” شاہیر نے کمرے کا لاک کھولتے ہوئے طلاطم سے کہا اور اسی دوران شانزے نے آیتہ الکرسی پڑھ کر اپنے اوپر دم کیا اور اب وہ عربی زبان میں کوئی مخصوص دعا پڑھ رہی تھی ۔ شاہیر شانزے کا ہاتھ پکڑ کر اسے لفٹ روم کی طرف لے گیا ۔ لفٹ کے ذریعے وہ شانزے کو بیسمنٹ میں لے گیا ۔ عمارت میں خطرے کا سگنل آلارم کر دیا گیا تھا اور مائیک پر اعلان بھی کر دیا گیا تھا کہ ایک کسٹمر لڑکی کو لے کر فرار ہو رہا ہے ۔ طلاطم پارکنگ ایریا سے کار کو بیسمنٹ میں لے آیا تھا ۔ کار مزید آگے نہیں جا سکتی تھی کیونکہ بیسمنٹ کی طرف جانے والا راستہ بہت تنگ تھا ۔ شاہیر شانزے کا ہاتھ پکڑے بیسمنٹ سے باہر کی طرف جانے والی تنگ راہداری میں بھاگ رہا تھا ۔ تین سیکیورٹی گارڈ ان کے تعاقب میں بھاگ رہے تھے ۔ طلاطم نے شاہیر اور شانزے کو اپنی طرف آتے دیکھا تو جلدی سے کار کی ڈگی کھولی اور ڈگی میں پڑا ہوا کمبل نکال کر کھولا ۔ پھر آگے بڑھ کر وہ کمبل شاہیر کے تعاقب میں آنے والے گارڈز پر پھینک دیا ۔ کمبل ان کے چہروں پر پڑا تو تینوں گارڈز فرش پر گر پڑے ۔ جب انہوں نے کمبل چہروں سے ہٹایا تب تک طلاطم ، شاہیر اور شانزے کار میں بیٹھ کر جا چکے تھے ۔ پارکنگ ایریا پر موجود سیکیورٹی کو چکما دینے کے لیے طلاطم نے سیکیورٹی کی گاڑی کے قریب پہنچ کر کار روکی تو شاہیر شانزے کو لے کار سے باہر نکلا ۔ طلاطم بھی ہاتھ بلند کیے کاہر سے باہر نکلا گویا وہ خود کو سرنڈر کر رہا ہو ۔ اسی دوران شاہیر نے سیکیورٹی کی گاڑی کو نکال کر باہر پھینکا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر سوار ہو گیا ۔ وہاں پر موجود چھ سیکیورٹی گارڈ شاہیر کی طرف متوجہ ہوئے تو طلاطم پہلے سے اسٹارٹ اپنی کار میں بیٹھا اور کار کو بیک Back لے گیا اور پھر تیز سپیڈ کے ساتھ کار سیکیورٹی کی گاڑی کے پیچھے بھاگتے ہوئے چھ سیکیورٹی گارڈز کو کچل کر چلی گئی ۔ شانزے سیکیورٹی والی گاڑی شاہیر کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر سوار تھی ۔ طلاطم نے اپنی کار ایک شاپنگ سنٹر کے پارکنگ ایریا میں کھڑی کی اور خود ایک ٹیکسی میں سوار ہو گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب تک کلب والوں نے دوبئی پولیس کو انفارم کر دیا ہو گا ۔ شاہیر نے گاڑی ایک سپر مارکیٹ کے سامنے کھڑا کیا اور شانزے کو ساتھ لے کر روڈ پار کیا ۔ روڈ کی دوسری طرف جاتے ہی اسے ایک ٹیکسی مل گئی ۔ شاہیر شانزے کو اپنی رہائش پر لے گیا ۔ رہائش ایک کمرہ ، کیچن باتھ روم اور چھوٹے سے ہال پر مشتمل تھی ۔ کمرے میں پچیس سالہ سیاہ فام لڑکا بیٹھا تھا ۔
“بھالو! کیا ہوا تم اتنے پریشان کیوں ہو؟” شاہیر نے سیاہ فام لڑکے سے پوچھا
“پرنس نے ہم سب کو قتل کروانے کے لیے کامری کو سپاری دے دی ہے” بھالو نے افسردہ لہجے میں کہا تو شاہیر کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا اور چہرے پر گھبراہٹ اور افسردگی کے آثار نمایاں تھے ۔
“اگر تم کہو تو میں تمہارے لیے دعا کروں؟” شانزے نے ہچکچاتے ہوئے شاہیر سے کہا تو اس نے شانزے کو غصہ بھری نگاہوں سے دیکھا ۔
“مجھے یقین ہے کہ میری دعا قبول ہو گی اور تمہیں تمہارے دشمن سے نجات مل جائے گی” شانزے نے ہکلاتے ہوئے کہا تو شانزے وضو کرنے کے لیے باتھ روم کی طرف چلی گئی ۔ وضو کرنے کے بعد اس نے ایک بستر سے چادر اٹھائی اور اپنے اوپر اوڑھ لی ۔ دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد شانزے دو زانوں بیٹھ گئی اور آنکھیں بند کر کے دعا مانگنے میں مصروف ہو گئی ۔ پندرہ سے بیس منٹوں بعد طلاطم کمرے میں داخل ہوا ۔ وہ شراب کے نشے سے مخمور تھا ۔
“اس پاگل لڑکی کو ہم یہاں اس لیے نہیں لائے کہ یہ ہمارے ساتھ دعا مانگنے کا ڈرامہ کرتی رہے اور ہم برداشت کرتے رہیں” طلاطم نے شانزے کی طرف بڑھتے ہوئے خمار آلود لہجے میں کہا
“جب تک وہ دعا سے فارغ نہیں ہوتی تب تک تم اسے ہاتھ تک نہیں لگاؤ گے” شاہیر نے کرخت لہجے میں کہا تو طلاطم نے شانزے کے کندھے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو شاہیر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تو طلاطم نے شاہیر کو دھکا دیا اور وہ کچھ فاصلے پر گرا ۔ طلاطم بھی لڑکھڑا کر فرش پر گر گیا ۔ طلاطم نے دوبارہ کھڑا ہونے کی کوشش کی لیکن وہ نہ اٹھ سکا ۔ شاید طلاطم نے شراب کچھ زیادہ پی رکھی تھی اس لیے اب وہ شراب کے نشے کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا تھا یا پھر گہری نیند سو گیا تھا ۔ وقت گزرتا گیا ۔ شاہیر اور بھالو ڈیڑھ گھنٹہ سے شانزے کو دعا مانگتے ہوئے دیکھ رہے تھے کہ بھالو کا فون بج اٹھا ۔
“خبر ملی ہے کہ پرنس کسی ڈیل کے سلسلے میں پولینڈ جا رہا ہے ، پرنس نے آپ لوگوں کو قتل کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے کیونکہ وہ کامری کو اپنے ساتھ لے کر جائے گا” فون پر رابطہ قائم ہوتے ہی دوسرا طرف سے بھاری مردانہ آواز میں کہا گیا
“تم ہمیں خبریں دیتے رہو ، تمہارے حصہ کا پیسہ تمہیں ملتا رہے گا” بھالو نے فون پر بات کرتے ہوئے کہا اور کال منقطع کر دی ۔ شاہیر اور بھالو پرسکون ہو گئے اور اب وہ بھی شانزے سے کچھ فاصلے پر دو زانوں بیٹھ گئے ۔
دعا سے فارغ ہونے کے بعد شانزے نے نماز فجر ادا کی اور شاہیر کی طرف دیکھا جبکہ شاہیر نے بھالو کی طرف دیکھا تو وہ بھی سو رہا تھا ۔
“میں نہیں چاہتا کہ طلاطم تمہیں کوئی نقصان پہنچائے اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ تمہاری وجہ سے طلاطم سے میرا جھگڑا ہو اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تمہیں کسی محفوظ جگہ پر منتقل کر دوں” شاہیر نے شانزے سے مخاطب ہو کر سرگوشیانہ انداز میں کہا اور پھر کمرے سے باہر چلا گیا تو شانزے بھی محتاط انداز میں کمرے سے نکل گئی ۔ شانزے نے دیکھا کہ شاہیر فون پر کسی سے بات کر رہا تھا ۔ فون کال سے فارغ ہو کر شاہیر واپس پلٹا تو اس کی نظر شانزے پر پڑی جو اس کے پیچھے کھڑی تھی ۔
“میں نے اپنے دوست توقیر سے بات کی ہے وہ تھوڑی دیر تک آئے گا اور تمہیں کسی محفوظ جگہ پر لے جائے گا” شاہیر نے شانزے سے کہا اور کمرے میں چلا گیا جبکہ شانزے کمرے کے بند ہوتے ہوئے دروازے کو متحیر نگاہوں سے دیکھتی گئی ۔
شاہیر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا تھا ۔ وہ نیند سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ طلاطم اور بھالو کو دیکھ رہا تھا ۔ وہ دونوں ابھی تک سو رہے تھے ۔ وہ خود بھی سونا چاہتا تھا لیکن وہ توقیر کے میسیج کا انتظار کر رہا تھا ۔ دو گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد توقیر کا میسیج آیا ۔ توقیر نے میسیج میں لکھا تھا کہ اس نے کریک سائیڈ پارک کے قریب ایک پانچ منزلہ عمارت میں پندرہ دن کے لیے ایک روم بک کروایا ہے اور شانزے اب اسی روم میں ہے ۔ میسیج کے آخر میں عمارت کا پتہ لکھا ہوا تھا ۔ اب شاہیر نے فون جیب میں ڈالا اور اپنے بستر پر لیٹ گیا ۔ بستر پر لیٹتے ہی وہ گہری نیند سو گیا ۔
☆☆☆- – – – – – – – – – – – – ☆☆☆
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
ذوبا صبح کا ناشتہ تیار کرنے کے بعد اپنے شوہر طیب ارہان کو جگانے کے لیے بیڈ روم میں گئی لیکن طیب وہاں نہیں تھا ۔ اس نے پورے گھر میں اسے تلاش کیا اور پھر اسے تلاش کرتے ہوئے وہ چھت پر گئی ۔ طیب چھت پر ہی تھا اور وہ کبوتروں کو دانہ ڈال رہا تھا ۔ اس کا چہرہ دوسری طرف تھا ۔
“طیب! ناشتہ تیار ہے ، جلدی نیچے آ جانا اب” ذوبا طیب سے کہہ کر واپس سیڑھیوں کی طرف مڑ گئی ۔
“تم ناشتہ کر لو ، مجھے نہیں کرنا” طیب کا جواب سنتے ہی وہ رکی اور واپس طیب کی جانب پلٹی
“آپ نے رات کو ڈنر بھی نہیں کیا تھا” وہ طیب کی جانب بڑھتے ہوئے بولی ۔ جب وہ طیب کے قریب گئی تو طیب نے اپنا چہرہ دوسری جانب پھیر لیا ۔
“طیب! کیا ہوا؟” وہ حیران ہوتے ہوئے بولی تو طیب نے چہرے کا رخ ذوبا کی جانب کیا ۔ طیب کا چہرہ دیکھتے ہی ذوبا کی حیرت اور بھی بڑھ گئی ۔ طیب کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور اب وہ شدت سے رونے لگا ۔
“طیب! آپ کیسے مرد ہو؟ مرد تو نہیں روتا” ذوبا حیرت بھرے لہجے میں بولی
“ہاں یہ سچ ہے کہ مرد نہیں روتا لیکن جب بھی روتا ہے تو وہ کسی عورت کی وجہ سے روتا ہے ، مرد بہت مضبوط ہوتا ہے لیکن عورت اسے رلا دیتی ہے” وہ روتے ہوئے بولا
“طیب! کیا بات ہے؟ کیا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی؟ کیا تم میری وجہ سے رو رہے ہو؟”ذوبا نے ایک ساتھ کئی سوال پوچھ لیے ۔
“تمہاری وجہ سے نہیں رو رہا ہوں” طیب نے مختصر جواب دیا
“تو پھر؟” ذوبا نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
“مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ تمہیں کیسے بتاؤں؟” وہ شدت سے روتے ہوئے بولا
“طیب! ہماری شادی کو دو سال ہو چکے ہیں لیکن آج تک تم نے مجھ سے کوئی بات نہیں چھپائی اور مجھے یقین ہے تم اب بھی کچھ نہیں چھپاؤ گے ، اب بھی کوئی بات راز نہیں رکھو گے” ذوبا نے طیب سے کہا
“وہ بات ہی ایسی ہے جو بیوی کو نہیں بتائی جا سکتی” طیب نے کہا اور پھر اسی لمحے وہ نیچے گر پڑا ۔ اس کا جسم کانپنے لگا تو ذوبا جلدی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی اور چھت سے نیچے آتے ہی سیل فون پر کسی ڈاکٹر کا نمبر ڈائل کیا ۔
☆☆☆- – – – – – – – – – – – – ☆☆☆
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
طلاطم جب نیند سے بیدار ہوا تو اس نے ادھر اودھر دیکھا ۔ شانزے وہاں پر نہیں تھی ۔ وہ غصے سے پاگل ہو گیا اور اس نے شاہیر کو گریبان سے پکڑ کر فرش پر پٹخ دیا ۔ فرش پر گرتے ہی شاہیر بھی نیند سے بیدار ہو گیا ۔
“وہ لڑکی کہاں ہے؟” طلاطم غصے سے غڑایا تو بھالو بھی اٹھ کر بیٹھ گیا ۔
“شاید وہ بھاگ گئی” شاہیر نے اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے کہا
“میں نے باہر والا دروازہ خود لاک کیا تھا تو پھر وہ کیسے بھاگ گئی” طلاطم کا لہجہ کربناک تھا ۔
“تم نے اسے بھگایا ہے نا؟ میں جانتا ہوں تمہیں پہلی نظر میں ہی اس سے محبت ہو گئی تھی جب تم نے اسے کلب میں دیکھا تھا” طلاطم نے شاہیر کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھورتے ہوئے کہا
“نہیں ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ وہ تمہاری جیب سے چابی لے کر فرارہوئی ہے وہ دیکھو تمہاری چابی دروازے کے قریب گری ہے” شاہیر فرش پر پڑی چابی کے ساتھ مخصوص لاکٹ کو دیکھتے ہوئے بولا تو طلاطم نے شاہیر کا گریبان چھوڑ دیا اور چابی کے ساتھ لگے ہوئے مخصوص لاکٹ کی طرف دیکھنے لگا ۔ لاکٹ پر مائیکل جیکسن لکھا تھا ۔
“وہ پاسپورٹ کے بغیر کہاں جا سکتی ہے؟ وہ زیادہ دور نہیں گئی ہو گی آؤ اسے تلاش کرتے ہیں” طلاطم شاہیر کو کلائی سے پکڑ کر دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا ۔
“ہم نے پرنس کا جو مال اور پیسہ لوٹا ہے پہلے اسے تو ٹھکانے لگا لیں” بھالو نے پیچھے سے آواز دی تو شاہیر نے مڑ کر بھالو کی طرف دیکھا
“ہاں بھالو درست کہہ رہا ہے” شاہیر طلاطم سے کلائی چھڑواتے ہوئے بولا
“پہلے سارا مال فروخت کریں اس کے بعد کل پیسے کو چار حصوں تقسیم کریں گے” شاہیر بولا
“چار حصے مطلب؟” بھالو نے پوچھا
“چوتھا حصہ مٹھن گل کو دیں گے تاکہ وہ پرنس کی سرگرمیوں کی خبریں ہمیں دیتا رہے” شاہیر نے کہا تو بھالو اور طلاطم نے اس کی بات سے اتفاق کیا ۔
☆☆☆- – – – – – – – – – – – – ☆☆☆
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
یہ مفروشات سے مزین کمرہ تھا ۔ شانزے سر سجدے میں رکھ کر روتے ہوئے خدا کا شکر ادا کر رہی تھی ۔ شکرنے ادا کرنے کے بعد وہ بیڈ کی بجائے صوفے پر لیٹ گئی اور گہری نیند سو گئی ۔ اسے سوتے ہوئے ایک گھنٹہ گزر گیا ۔ وہ اتنی گہری نیند سو رہی تھی کہ اسے پتا ہی نہ چلا کہ کب شاہیر دروازے کا لاک کھول کر کمرے میں آ گیا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: