Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 10

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 10

–**–**–

کراچی ائیر پورٹ پر جہاز لینڈ کر چکا تھا اور اب شاہیر کو لاہور جانے والی فلائٹ کے لیے دو گھنٹے انتظار کرنا تھا تو شاہیر نے شانزے سے تحفہ میں ملی ہوئی ڈائری کا مطالعہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ڈائری کے صفحہ ایک سو انتالیس اور صفح ایک سو چالیس پر لکھا تھا کہ نماز کی ادائیگی کے لیے صفائی اور پاکیزگی اولین شرط ہے ۔ نماز کی ادائیگی کے لیے وضو لازمی حیثیت رکھتا ہے ۔
طہارت اور پاکی انسان کو روح کی بالیدگی کی طرف لے جاتا ہے ۔جسم کی صفائی انسان کو اللہ کا قرب عطا کرتی ہے ۔یہی سبب ہے کہ اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے اور اس کے اہتمام کا تقاضا کیا ہے ۔ اور ہر عبادت سے قبل چاہے وہ نماز ہو یا قرآن کی تلاوت اس کے لۓ خاص طور پر وضو کا حکم اور جسم کی پاکی و طہارت کا حکم دیا گیا ہے ۔
ہر نماز سے قبل اسلام میں وضو کرنے کا حکم قرآن میں اس طرح دیا گیا ہے
اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں اور کہنیوں سمیت اپنے ہاتھوں کو دھوؤ۔ اور سروں کے بعض حصہ کا اور ٹخنوں تک پاؤں کا مسح کرو۔( سورۃ المائدہ آیت نمبر 6)
وضو کے فرائض :
وضو کے چار فرض ہیں : (1) چہرہ دھونا۔ (2)کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کا دھونا۔ (3)چوتھائی سر کا مسح کرنا۔ (4) ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھونا۔
وضو کے چند احکام:
(1)… جتنا دھونے کا حکم ہے اس سے کچھ زیادہ دھو لینا مستحب ہے کہ جہاں تک اَعضائے وضو کو دھویا جائے گا قیامت کے دن وہاں تک اعضاء روشن ہوں گے۔(بخاری، کتاب الوضو ء، باب فضل الوضوء والغرّ المحجّلون۔۔۔ الخ، ۱/۷۱، الحدیث: ۱۳۶)
(2)… رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور بعض صحابۂ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ہر نماز کے لئے تازہ وضو فرمایا کرتے جبکہ اکثر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم جب تک وضو ٹوٹ نہ جاتا اسی وضو سے ایک سے زیادہ نمازیں ادا فرماتے، ایک وضو سے زیادہ نمازیں ادا کرنے کا عمل تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بھی ثابت ہے۔(بخاری، کتاب الوضو ء، باب الوضوء منغیر حدث، ۱/۹۵، الحدیث: ۲۱۴-۲۱۵، عمدۃ القاری، کتاب الوضو ء، باب الوضوء من غیر حدث، ۲/۵۹۰، تحت الحدیث: ۲۱۴)
(3)…اگرچہ ایک وضو سے بھی بہت سی نمازیں فرائض و نوافل درست ہیں مگر ہر نماز کے لئے جداگانہ وضو کرنا زیادہ برکت و ثواب کا ذریعہ ہے۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ ابتدائے اسلام میں ہر نماز کے لئے جداگانہ وضو فرض تھا بعد میں منسوخ کیا گیا(اور جب تک بے وضو کرنے والی کوئی چیز واقع نہ ہو ایک ہی وضو سے فرائض و نوافل سب کا ادا کرنا جائز ہوگیا۔)(مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶، ص۲۷۴)
(4)…یاد رہے کہ جہاں دھونے کا حکم ہے وہاں دھونا ہی ضروری ہے وہاں مسح نہیں کرسکتے جیسے پاؤں کو دھونا ہی ضروری ہے مسح کرنے کی اجازت نہیں ، ہاں اگر موزے پہنے ہوں تو اس کی شرائط پائے جانے کی صورت میں موزوں پر مسح کرسکتے ہیں کہ یہ احادیث ِ مشہورہ سے ثابت ہے۔
{وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا:اوراگر تم حالت ِ جنابت میں ہو۔}
وضو کے بارے میں احادیث
وضو کرنے والوں کی قیامت کے دن خاص نشانی ہوگی ‘
صحابہ نے عرض کیا گیا:
اللہ کے رسول صل اللہ‎ علیہ وسلم ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو قیامت کے دن کیسے پہچانیں گے جن کو آپ نے دیکھا نہیں ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” وضو کے اثر کی وجہ سے ان کی پیشانی، ہاتھ اور پاؤں سفید اور روشن ہوں گے”
(سنن ابن ماجہ_حدیث:284)
” وضو کرنے سے گناہوں کا دھل جانا “
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں ۱؎، جو اس کی آنکھوں نے کیے تھے یا اسی طرح کی کوئی اور بات فرمائی، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے“
(ترمزی_حدیث:2)
“وضو کرنے کی فضیلت”
میں ( ایک مرتبہ ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھا۔ تو آپ نے وضو کیا اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ
“آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے
” کہ میری امت کے لوگ وضو کے نشانات کی وجہ سے قیامت کے دن سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والوں کی شکل میں بلائے جائیں گے۔ تو تم میں سے جو کوئی اپنی چمک بڑھانا چاہتا ہے تو وہ بڑھا لے ( یعنی وضو اچھی طرح کرے ) ۔
(صحیح بخاری_حدیث:136)
عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَتَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيْهِ وَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتّٰى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ يَدَيْهِ حَتّٰى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتّٰى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتّٰى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ قَالَ: ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلٰوتُهُ نَافِلَةً لَّهُ. (موطا، رقم 67)
حضرت عبد اللہ صنابحى (رضی اللہ عنہ) کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بندۂ مومن جب وضو کرتا اور اس میں کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ؛ اور جب ناک میں پانی ڈال كر اسے جهاڑتا ہے تو اس کے ناک کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ؛ اور جب چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ؛ اور جب دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ؛ اور جب اپنےسر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں ؛ اور جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ۔ فرمایا:پھر اس کا مسجد جانا اور نماز پڑھنا اس پر مزید ہوتا ہے
مسلمان اللہ کے حکم کی تعمیل میں وضو کرتے آۓ ہیں ۔ مگر آج 1400 سال بعد سائنسدان ایک طویل تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وضو کے ارکان کے انسانی صحت پر انتہائی خوش کن اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں۔
وضو جسم کو تروتازہ کر دیتا ہے
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازوں سے قبل کے علاوہ بھی ہر وقت باوضو رہنے کا حکم دیا ہے جب کہ آج یوگا کے ماہرین کا بھی یہ ماننا ہے کہ سونے سے قبل اپنے ہاتھ ،منہ ،بازو، پیر اور جنسی اعضا کو ٹھنڈے اور صاف پانی سے دھو لینا چاہیۓ اس سے دن بھر کی تھکن کا خاتمہ ہوتا ہے، تازگی حاصل ہوتی ہے اور پر سکون نیند آتی ہے ۔
وضو ریفلیکسو تھراپی کرتا ہے
ریفلیکسو تھراپی چینی ماہرین کا وہ علم ہے جس میں انسانی جسم کو پانی کی پھوار کے ذریعے سکون مہیا کیا جاتا ہے ۔ اب تحقیقات سے بھی یہ ثابت ہوا ہے کہ مسلمان جو وضو ہر نماز سے قبل کرتے ہیں اس کے سبب ان کی ریفلیکسو تھراپی ہوتی ہے جو ان کے اعصاب پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں ۔
ناک میں پانی ڈالنے کے سبب جراثیموں کا خاتمہ ہوتا ہے
وضو کے موقع پر اس کے بنیادی ارکان میں ناک میں پانی ڈالنا بھی شامل ہے ۔ آج کی جدید سائنس نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ ناک میں اس طرح پانی ڈالنے کے سبب ہوا اور ماحول میں موجود جراثیم کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس کے سبب بہت ساری مہلک بیماریوں سے بچاؤ ہوتا ہے ۔
بازو دھونے کے سبب دوران خون بہتر ہوتا ہے
بازو جن کا دوران خون عمومی حالات میں کمزور پڑ جاتا ہے وضو کے نتیجے میں جب پانی بازوؤں پر ڈالا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں دوران خون میں بہتری آتی ہے جو انسان کو دل کے دورے سے بچا سکتا ہے
ہاتھ دھونے سے نمونیا سے بچا جا سکتا ہے
پاکستان میں عموما نمونیا کا شکار یا تو کم عمر بچے ہوتے ہیں یا پھر بوڑھے افراد ۔ نمونیا کے جراثیم انسانی جسم میں اس کے ہاتھوں سے داخل ہوتے ہیں ۔ اس سے بچاؤ بھی وضو کے ذریعے ممکن ہے، وضو کے دوران ہاتھ دھونے سے نہ صرف صفائی حاصل ہوتی ہے بلکہ نمونیا کے جراثیم سےبھی نجات ملتی ہے۔
کلی کرنے کے سبب منہ اور معدے کی کئی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے
وضو کے دوران ہاتھ دھونے کے بعد صاف ہاتھوں سے صاف پانی کو منہ میں ڈال کر کلی کی جاتی ہے جس سے منہ کے جراثیم اور غذا کے چھپے ذرات دھل جاتے ہیں اور اس طرح وہ جراثیم انسانی معدے میں نہیں جا پاتے اور بہت ساری بیماریوں سے انسان کو تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔
اس بات کو تسلیم کیا جا چکا ہے کہ اللہ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس بھی ان تمام عوامل کو ثابت کرتی جا رہی ہے ۔
اور ڈائری کے صفحہ نمبر ایک سو انتالیس پر ایک قرآنی آیت بمعہ ترجمہ لکھی تھی ۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴) وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ(۱۵)
ترجمہ: بیشک جس نے خود کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگا۔ اور اس نے اپنے رب کا نام لے کر نماز پڑھی۔
(سورة الاعلی آیت نمبر 14 ، 15)
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
شانزے کو رسیو Receive کرنے کے لیے صبغہ لاہور ائیرپورٹ پر مطلوبہ ٹرمینل کے سامنے پہنچ چکی تھی ۔ شاہیر بھی اسی ٹرمینل کے سامنے منتظر نگاہوں سے شانزے کو تلاش کر رہا تھا ۔ چند منٹوں بعد شاہیر نے شانزے کو دیکھا ۔ شاہیر نے تین دن پہلے آخری شانزے کو دوبئی میں دیکھا تھا لیکن اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس نے کئی سال پہلے شانزے کو دیکھا ہو ۔ شانزے اپنی دوست صبغہ سے گلے ملنے کے بعد اپنی دوست صبغہ کے ہمراہ ٹیکسی میں بیٹھ گئی تو شاہیر بھی دوسری ٹیکسی میں بیٹھ گیا ۔ شاہیر نے ٹیکسی ڈرائیور کو اس ٹیکسی کا تعاقب کرنے کا کہا جس ٹیکسی میں شانزے بیٹھی تھی ۔ ☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
سامی سے ملاقات کرنے کے لیے ذوبا اس کی گھر چلی گئی ۔ سامی نے ذوبا کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہا اور اپنی بہن کو ذوبا کے لیے چائے تیار کرنے کے لیے بولا
“ذوبا آپا خیر تو ہے ، آپ اتنی پریشان کیوں ہیں” سامی نے رسمی گفتگو کے بعد ذوبا سے پوچھا
“آج جگن شانزے سے ملاقات ہوئی تھی اور اس سے بات کی تھی کہ میں طیب کی دوسری شادی اس کے ساتھ کروانا چاہتی ہوں لیکن شانزے نے طیب کے ساتھ شادی کرنے سے انکار کر دیا” ذوبا نے سامی سے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
“پھر تو آپ کو خوش ہونا چاہیے ، ہمیں کچھ کرنا ہی نہیں پڑا اور شانزے خود بخود طیب کی زندگی سے نکل گئی ہے” سامی نے کہا
“طیب نے شادی سے پہلے اور شادی کے بعد مجھے بہت رسوا کیا ہے اور میرے ساتھ بار بار بے وفائی کی ہے تو میں شانزے کو مہرہ بنا کر طیب کے کاروبار اور پراپرٹی پر قبضہ کرنا چاہتی ہوں اور پھر طیب کو اتنا ہی ذلیل و رسوا کرنا چاہتی ہوں جتنا اس نے مجھے کیا” ذوبا کے لہجے میں نفرت اور غصہ تھا
“یعنی آپ طیب سے بدلہ لینا چاہتی ہیں؟” سامی نے سوالیہ انداز میں پوچھا تو ذوبا نے اثبات میں سر ہلایا
“شانزے نے طیب سے شادی کرنے سے انکار کیوں کیا؟” سامی نے پوچھا
“وہ کہتی ہے کہ اس کی زندگی میں کوئی اور شخص آ چکا ہے اور وہ طیب سے نہیں بلکہ اب وہ اس شخص سے محبت کرتی ہے اور وہ شادی بھی اسی شخص سے کرے گی” ذوبا نے افسردہ لہجے میں کہا
“تو پھر اب میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟” سامی نے پوچھا
“تمہیں بس یہ کرنا ہے کہ تم نے پتا لگانا ہے کہ شانزے کو اب کس سے محبت ہو گئی ہے ، باقی کا کام میں تمہیں بعد میں بتاؤں گی” ذوبا نے سامی سے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
صبغہ نے شانزے کو ناشتہ کے لیے جگایا اور پھر اپنی بوڑھی ماں کو ناشتہ پیش کیا ۔ شانزے فریش ہو کر آئی تو صبغہ اور شانزے نے ایک ساتھ ناشتہ کیا ۔ ناشتہ کے بعد صبغہ اپنی ڈیوٹی پر چلی گئی جبکہ شانزے ڈائری لکھنے میں مصروف تھی کہ ڈور بیل بج اٹھی ۔ شانزے گیٹ کی طرف گئی اور گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھولا ۔ اس کے سامنے شاہیر کھڑا تھا ۔ شانزے شاہیر کو دیکھ کر کچھ لمحوں کے لیے حیران و ساکت ہو گئی ۔
“تم تو دوبئی میں تھے نا؟” شانزے حیرت بھرے لہجے میں بولی
“تمہارے پاکستان آنے کے دو دن پہلے ہی میں پاکستان آ گیا تھا ، مجھے تمہاری فلائیٹ کے ٹائم ٹیبل کا پتا تھا اس لیے میں نے تمہیں ائیرپورٹ سے باہر آتے ہوئے دیکھ لیا تھا” شاہیر نے پرمسرت لہجے میں کہا
“اور تم نے ہماری ٹیکسی کا تعاقب کر کے صبغہ کے گھر کا پتہ معلوم کر لیا ، ایسا ہی ہے نا؟” شانزے متحیر لہجے میں بولی
“کیا اندر آنے کے لیے نہیں بولو گی؟” شاہیر نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“یہ میرے دوست صبغہ کا گھر ہے ، پہلے صبغہ سے اجازت لوں گی پھر تمہیں اندر آنے کے لیے بولوں گی” شانزے نے شاہیر سے کہا اور پھر ہاتھ سے اسے انتظار کرنے کا اشارہ کر کے واپس کمرے کی طرف چلی گئی ۔ شانزے صبغہ کو شاہیر کے بارے میں بہت کچھ پہلے ہی باتوں باتوں میں بتا چکی تھی ۔ شانزے نے فون پر صبغہ سے بات کی اور شاہیر کو گھر میں بلانے کے لیے اجازت طلب کی ۔ اجازت ملنے پر شانزے نے شاہیر کو اندر آنے کے لیے کہا
“ماں جی! یہ شاہیر ہے ، اس نے دوبئی میں مشکل وقت میں میری بہت مدد کی تھی” شانزے نے صبغہ کی ماں کو شاہیر کا تعارف کرتے ہوئے کہا اور شاہیر نے صبغہ کی ماں کی طرف سر جھکایا تو انہوں نے شاہیر کے کندھے کو تھپتھپایا ۔
.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: