Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 11

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 11

–**–**–

شانزے گھر سے نکلی تو سامی نے اس کا تعاقب شروع کر دیا ۔ بتی چوک میں شانزے اور شاہیر کی ملاقات ہوئی اور شانزے شاہیر کے ساتھ مون مارکیٹ چلی گئی ۔ سامی نے ذوبا کو فون کر کے ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو ذوبا نے سامی کو شانزے کا تعاقب چھوڑ کر شاہیر کا تعاقب کرنے کا کہہ دیا ۔
۞ــــــــ۝ـــــــــ۞۞ــــــــ۝ـــــــــ۞
☆☆☆☆☆دو دن بعد☆☆☆☆☆☆
۞ــــــــ۝ـــــــــ۞۞ــــــــ۝ـــــــــ۞
شام کے چار بجے جب ذوبا سو رہی تھی تو اس کا فون بج اٹھا ۔ وہ نیند سے بیدار ہوئی اور فون سے لگایا ۔ فون سامی کا تھا ۔
“آج پورا دن شانزے اور شاہیر شاپنگ مال میں گھومتے رہے اور انہوں کافی شاپنگ کی اور آخر میں طعام ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا” سامی نے فون پر بات کرتے ہوئے ذوبا کو بتایا
“کہیں وہ دونوں شادی کی تیاری تو نہیں کر رہے؟” ذوبا نے پوچھا تو سامی نے شانزے اور شاہیر کی شاپنگ کی ساری تفصیل بتا دی ۔
“سامی! قسمت میرا ساتھ دے رہی ہے” ذوبا نے پرمسرت لہجے میں کہا
“کیا مطلب آپا؟” سامی نے پوچھا
“تم ایسا کرو کہ آج رات ہی شاہیر کو اغواء کر لو ، شانزے کو میں دیکھ لوں گی” ذوبا نے سامی کو کہا اور فون کال منقطع کر دی ۔
۞ــــــــ۝ـــــــــ۞۞ــــــــ۝ـــــــــ۞
صبغہ ناشتہ کرنے کے بعد ڈیوٹی پر جا چکی تھی اور اس کی ماں بستر پر لیٹے تسبیح پڑھ رہی تھی جبکہ شانزے اپنے جاب انٹرویو کی تیاری میں مصروف تھی ۔ شانزے نے ڈور بیل بجنے پر دروازے کھولا تو “السلام و علیکم” کہتے ہوئے ذوبا شانزے کو بازو سے پکڑ کر سیڑھیوں کی طرف لے گئی
“یہ کیا کر رہی ہو تم؟” چند زینے چڑھنے کے بعد شانزے نے حیران اور پریشان ہوتے ہوئے ذوبا سے پوچھا
“تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے” ذوبا نے سنجیدہ انداز میں کہا تو شانزے ذوب کے ساتھ کھینچتی چلی گئی ۔
“یہ بھی کوئی طریقہ ہے بات کرنے کا” چھت پر پہنچنے کے بعد شانزے غصے سے تلخ لہجے میں بولی ۔
“بات بہت خفیہ اور تنہائی میں کرنے والی تھی اس لیے تمہیں چھت پر لانا ضروری تھا” ذوبا نے سرگوشیانہ لہجے میں کہا
“تمہارا شاہیر اغواء ہو چکا ہے اور اب وہ میرے قبضے میں ہے ، یہ بات پولیس یا کسی اور بتانے کی غلطی مت کرنا ورنہ تمہارا شاہیر جان سے جائے گا” ذوبا نے جھٹکے سے شانزے کا بازو چھوڑتے ہوئے کرخت لہجے میں کہا
“تم چاہتی کیا ہو؟” شانزے نے دونوں آئی برو اوپر تک کھینچتے ہوئے معنی خیز انداز میں پوچھا
“تم طیب کے پاس جاؤ گی اور اسے بولو گی کہ تم اس سے شادی کے لیے رضامند ہو” ذوبا نے شانزے کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا
“اگر میں ایسا نہ کروں تو؟ ۔ ۔ ۔” شانزے نے سوالیہ انداز میں جملہ ادھورا چھوڑ دیا
“تو پھر تمہارے شاہیر کو تپتے کوئلوں پر کھڑا کروں گی اور اس کے جلے ہوئے پاؤں کی وڈیو تم کو بھیجوں گی” ذوبا نے مسکراتے ہوئے کہا تو شانزے نے خوفزدہ نگاہوں سے ذوبا کو دیکھا اور نفی میں سر ہلایا
“نن ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا مت کرنا ، میں آج ہی طیب سے ملاقات کروں گی” شانزے نے ہکلاتے ہوئے کہا تو ذوبا بے آواز ہنسنے لگی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
طیب اپنے آفس میں ریوالونگ چیئر پر بیٹھا میوزک سن رہا تھا کہ آفس بوائے نے اسے بتایا کہ شانزے نامی لڑکی آپ سے ملاقات کے لیے آئی ہے ۔ طیب چونک پڑا اور اس نے ہیڈ فون اتار کر میز پر رکھ دئیے ۔ آفس بوائے کے جانے کے بعد شانزے آفس میں اینٹر ہوئی تو طیب حیرت کے مارے کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔ شانزے کے چہرے پر سنجیدگی اور سخت پن واضح دکھائی دے رہا تھا ۔
“تم دوبئی سے کب واپس آئی؟” طیب نے متحیر لہجے میں پوچھا
“پاکستان آئے ہوئے یہ میرا ساتواں دن ہے” شانزے کا لہجہ سنجیدہ اور عجیب تھا ۔
“تم تو بہت بدل گئی ہو” طیب نے مسکراتے ہوئے کہا
“تمہاری بیوی میرے پاس آئی تھی ، وہ مجھے بتا رہی تھی کہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو اور میں تمہیں بتانے آئی ہوں کہ میں تم سے شادی کے لیے رضامند ہوں” شانزے ایک لفظ لفظ چبا کر بولی تو طیب کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔
“نکاح کب اور کہاں ہو گا ، اپنی بیوی کے ذریعے پیغام دے دینا مجھے” شانزے نے کہا اور پھر واپس مڑ گئی ۔
“روکو تو سہی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی چائے وائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” طیب کے ادھورے جملے سنے بنا ہی شانزے چلے گئی اور تب ذوبا مسکراتے ہوئے آفس میں اینٹر ہوئی ۔
“جب پراپرٹی اور بزنس میرے نام کرو گے تب ہی نکاح ہو گا؟” ذوبا نے طیب سے کہا تو طیب کے چہرے پر پریشانی اور افسردگی چھا گئی ۔
“یہ سب میں اس لیے کر رہی ہوں تا کہ شانزے سے شادی کے بعد تم مجھے طلاق نہ دے سکو ورنہ تم تو جانتے ہو کہ مجھے دولت اور پراپرٹی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے” ذوبا نے پرمسرت لہجے میں کہا
“نکاح کے بعد پراپرٹی اور بزنس تمہارے نام رجسٹر کر دوں گا” طیب نے افسردہ لہجے میں کہا
“میں نے بہت مشکل سے شانزے کو شادی کے لیے قائل کیا ہے اور تمہیں اب بھی کوئی شک ہے” ذوبا نے کرخت لہجے میں کہا
“اگر میں شانزے کو قائل کر سکتی ہوں تو اسے شادی سے منع بھی کر سکتی ہوں ، تمہارے پاس دو دن کا ٹائم ہے” ذوبا نے غصیلے لہجے میں کہا اور آفس سے چلی گئی ۔ طیب نے فون پر ایک نمبر ڈائل کیا اور فون کان سے لگا لیا ۔
“ہیلو سر” رابطے قائم ہوتے ہی دوسری طرف سے ایک نسوانی آواز سنائی دی تو رسمی گفتگو کے بعد طیب نے شانزے سے ہونے والی باتیں ، شانزے کا لہجہ اور بات کرنے کا انداز اور چہرے کے تاثرات ، ذوبا سے ہونے والی گفتگو سب کا سب فون پر بات کرنے والی عورت سے شیئر کر دی ۔
سحرش ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شانزے گھر پہنچی اور باوضو ہو کر مصلے پر بیٹھ کر دعا کرنے میں مشغول ہو گئی ۔ پہلے تو وہ نارمل حالت میں دعا مانگ رہی تھی لیکن پھر وہ روتے ہوئے دعا مانگنے لگی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کسی عمارت کے تہہ خانہ کے چھوٹے سے کمرے میں شاہیر کو رکھا گیا تھا ۔ سامی نے پلیٹ میں آلو کی ایک ٹکی اور ایک نان شاہیر کے سامنے رکھا
“یہ لنچ کا کھانا میری طرف سے ہے ، اگر ذوبا جانی نے تمہارے کھانے کے لیے مجھے کچھ پیسے دے دئیے تو ڈنر میں تمہیں اچھا کھانا ملے گا” سامی نے مسکراتے ہوئے کہا
“تم آخر چاہتے کیا ہو مجھ سے؟ ، مجھے کیوں اغوا کیا گیا ہے؟” شاہیر نے سامی کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا
“یہ بات تو ذوبا جانی جانتی ہیں ، میں تو بس حکم کا غلام ہوں” سامی نے مسکراتے ہوئے کہا اور کمرے سے چلا گیا تو شاہیر نے کھانا کھانا شروع کیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
طیب آفس سے نکلا اور کار میں سوار ہوا ۔ چھ سو سے سات سو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد کار ایک بوتیک کے سامنے روکی تو ایک پینتیس سالہ سحرش نامی خاتون کار میں سوار ہوئی ۔ طیب نے کار چلا دی اور پھر سحرش کی طرف متوجہ ہوا ۔
“میں نے شانزے سے ملاقات کی تھی اور اس سے پوچھا تھا کہ وہ کسی دباؤ کے تحت آپ سے شادی کرنا چاہتی ہے تو جواب میں شانزے نے کہا کہ اس پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں ہے بلکہ وہ اپنی خوشیوں کی خاطر تم سے شادی کرنا چاہتی ہے” سحرش نے طیب کو شانزے سے ملاقات کی ساری تفصیل بتا دی اور طیب نے یو ٹرن سے کار موڑی اور سحرش کو دوبارہ اسی بوتیک کے سامنے ڈراپ کر دیا جہاں سے اس نے اسے پک کیا تھا ۔ اب طیب کی کار اب اپنے گھر کی طرف رواں دواں تھی ۔ بیس منٹوں کے بعد طیب گھر پہنچا ۔ کار پورچ میں کھڑی کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے می گیا تو ذوبا جو کہ فون کی اسکرین پر انگلیاں پھیرنے مصروف تھی ۔ ذوبا طیب کی طرف پلٹی ۔
“تم فون پر کس سے بات کر رہی تھی؟” طیب نے ذوبا کے ہاتھ سے موبائل فون لیتے ہوئے پوچھا
“مجھ سے فون لے لیا تو خود ہی دیکھ لو فون کی ڈائلنگ لسٹ میں” ذوبا نے منہ سا بناتے ہوئے کہا تو طیب نے فون کی ڈائلنگ لسٹ چیک کی جس میں صرف شانزے اور طیب کا نمبر ڈائل تھا ۔
“مجھے شک ہے کہ تم شانزے کو بلیک میل کر رہی ہو ، شانزے کے چہرے کے تاثرات اور لہجے سے پتا چل رہا تھا کہ وہ کسی مجبوری کے تحت اس شادی کے لیے رضامند ہوئی ہو” طیب نے دو ٹوک انداز میں کہا
“نہیں ۔ ۔ ۔ ایسا کچھ نہیں ہے تم خواہ مخواہ مجھ پر اور شانزے پر شک کر رہے ہو ، اگر تم چاہو تو تم شانزے سے پوچھ سکتے ہو ، شانزے نے شادی کے لیے دوبئی سے شاپنگ کی تھی اور تب تو میرا شانزے سے کوئی رابطہ بھی نہیں تھا” ذوبا نے پراعتماد لہجے میں کہا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: