Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 12

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 12

–**–**–

رات کے نو بج رہے تھے ۔ شاہیر نے اکتاہٹ سے بچنے کے لیے شانزے کی دی ہوئی ڈائری پڑھنے کے فیصلہ کیا ۔ شاہیر آج ڈائری الٹی سائیڈ سے پڑھنے کی بجائے ڈائری کو شروع سے پڑھنا شروع کیا ۔ ڈائری کے ضفحہ نمبر دو پر کچھ اشعار یوں لکھے تھے ۔
…………….
اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخل فلک سے اڑ کر تمہارے قدموں میں آ گرے تو
یہ جان لینا وہ استعارہ تھا میرے دل کا
اگر نہ آئے——
مگر یہ ممکن ھی کس طرح ھے تم کسی پر نگاہ ڈالو
تو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ھستی نہ بھول جائے
اگر کبھی میری یاد آئے
گریز کرتی ھوا کی لہروں پہ ھاتھ رکھنا
میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گی
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں اوس قطروں کے آئنوں میں تمہیں ملوں گی
اگر ستاروں میں اوس قطروں میں خوشبوؤں میں
نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
میں گرد ھوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گی
کہیں پہ روشن چراغ دیکھو تو سوچ لینا
کہ ھر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکی ھوں
تم اپنے ھاتھوں سے ان پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا
میں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گی
کسی نہ دیکھے ھوئے جزیرے پہ رک کے تم کو
صدائیں دوں گی
سمندروں کے سفر پہ نکلو تو
اس جزیرے پہ بھی اترنا
…………….
شاہیر نے ڈائری بند کر دی اور آنسو بہانا شروع کر دئیے ۔
۞ــــــــ۝ـــــــــ۞۞ــــــــ۝ـــــــــ۞
رات کے نو بج رہے تھے ۔ شانزے بیڈ پر لیٹے بے آواز رو رہی تھی جبکہ صبغہ آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کر رہی تھی ۔ صبغہ نے کروٹ بدلی تو اس کے چہرے کا رخ شانزے کی طرف ہو گیا تو شانزے نے کروٹ بدلی اور اپنے چہرے کا رخ صبغہ کی مخالف سمت میں کر لیا تو صبغہ بیڈ سے اٹھی اور کمرے کی لائٹ آن کر دی ۔
“شانزے! تم رو رہی ہو؟” صبغہ نے شانزے کے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
“شانزے! کیا ہوا ہے؟ کیوں رو رہی ہو؟” صبغہ نے شانزے سے پوچھا
“ذوبا نے شاہیر کو اغوا کر لیا ہے اور اب مجھے بلیک میل کر رہی ہے” شانزے نے روتے ہوئے کہا
“وہ تم سے کیا چاہتی ہے؟” صبغہ نے متحیر لہجے میں پوچھا
“وہ چاہتی ہے کہ میں اس کے شوہر طیب سے شادی کروں” شانزے نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا
“اس نے دھمکی دی ہے کہ اگر میں نے پولیس یا کسی اور کو اس بات کی خبر دی تو وہ شاہیر کو جان سے مار دے گی” شانزے نے صبغہ سے کہا
“شاہیر کو کچھ نہیں ہو گی ، تم بے فکر ہو کر سو جاؤ صبح ناشتے کے وقت اس مسئلے کا کوئی حل سوچیں گے” صبغہ نے شانزے کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا
۞ــــــــ۝ـــــــــ۞۞ــــــــ۝ـــــــــ۞
صبغہ اور شانزے ایک ساتھ ناشتے کے لیے بیٹھ چکی تھیں ۔ صبغہ نے ناشتہ شروع کر لیا تھا جبکہ شانزے نوالہ پکڑے کسی سوچ میں گم تھی ۔
“شانزے! میں نے ذوبا کا حل سوچ لیا ہے ، پہلے تم ناشتہ کرو پھر تمہیں بتاتی ہوں” صبغہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو شانزے نے ناشتہ شروع کیا تو ساتھ ہی شانزے کا فون بج اٹھا ۔ شانزے نے موبائل کی اسکرین پر دیکھا ۔ ذوبا کی کال آ رہی تھی ۔ شانزے نے صبغہ کی طرف دیکھا اور پھر کال اٹینڈ کی ۔
“میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ شاہیر کے اغوا ہونے کا ذکر کسی سے مت کرنا لیکن تم نے اپنی دوست صبغہ کو بتانا مناسب سمجھا ، تم نے میری بات نہ مان کر بہت بڑی غلطی کی ہے اب اس غلطی کا نتیجہ باہر گیٹ کے پاس پڑی سی ڈی میں دیکھ لینا” ذوبا نے کربناک لہجے میں کہا اور کال منقطع کر دی ۔ شانزے نے غصے سے سرخ آنکھوں کے ساتھ صبغہ کو دیکھا
“کیا ہوا؟ کس کا فون تھا؟” صبغہ نے پوچھا
“صبغہ! تم بھی ذوبا کے ساتھ مل گئی ہو؟” شانزے نے رو دینے والے انداز میں کہا
“یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟” صبغہ نے حیرت بھرے لہجے میں کہا
“تو پھر ذوبا کو کیسے پتا چلا کہ میں نے تم سے شاہیر کے اغوا ہونے کا ذکر کیا ہے؟” شانزے غصے سے چیختے ہوئے بولی تو صبغہ کی آنکھیں حیرت کے ساتھ پھیل گئیں
“تم میرے ساتھ غداری کرنے کی بجائے مجھ سے بول دیتی کہ مجھے تم اچھی نہیں لگتی اور میرا گھر چھوڑ کر چلی جاؤ تو میں ذرا بھی دیر نہ لگاتی اور تمہارے گھر سے چلی جاتی” شانزے ایک ایک لفظ چبا کر غصیلے لہجے میں بول رہی تھی ۔
“شانزے! میں تمہاری وفادار دوست ہوں میں ذوبا کا ساتھ کیوں دوں گی اور فی الحال مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ دوکلومیٹر دور اپنے گھر میں بیٹھ کر ذوبا کو کیسے پتا چلا کہ تم نے شاہیر کے اغوا ہونے کا ذکر مجھ سے کیا تھا” صبغہ نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا تو شانزے آنسو بہاتے ہوئے کرسی سے اٹھی اور گیٹ کی طرف چلی گئی تو صبغہ بھی شانزے کے پیچھے بھاگی ۔
“شانزے! پلیز میری بات تو سنو” صبغہ شانزے کو پکارتے ہوئے بولی ۔ شانزے نے گیٹ کے باہر پڑی ہوئی سی ڈی اٹھائی اور واپس گیٹ کی طرف پلٹی ۔ شانزے کو واپس آتے ہوئے دیکھ کر صبغہ نے گہری سانس لی ۔ شانزے نے صبغہ کا لیپ ٹاپ آن کیا اور سی ڈی روم میں سی ڈی لگا دی ۔ سی ڈی پلے ہوئی تو شانزے کرسی پر بیٹھے آگے کی طرف جھکتے ہوئے آنکھیں سکیڑ کر لیپ ٹاپ کی اسکرین کو دیکھنے لگی ۔ وڈیو میں ایک نقاب پوش شاہیر کو ڈنڈے مار رہا تھا ۔ پانچ سے سات منٹ کی وڈیو اپنے اختتام کو پہنچی ۔ شانزے نے وڈیو دوبارہ پلے کرنے کے لیے ماؤس کلک کیا لیکن وڈیو پلے نہ ہوئی ۔ شانزے نے سی ڈی روم سے سی ڈی باہر نکال کر کر دوبارہ سی ڈی لگائی لیکن اب کی بار وڈیو پلے کرنے والا آپشن ڈس ایبل تھا ۔ شانزے نے سی ڈی باہر نکال لی اور پھر موبائل فون پر ذوبا کا نمبر ڈائل کیا
“جی محترمہ ۔ ۔ ۔ ۔ ہو گئی تسلی؟” فون کال پر رابطہ قائم ہوتے ہی ذوبا نے شانزے سے پوچھا
“یہ ودیو دوبارہ پلے کیوں نہیں ہو رہی؟” شانزے نے ذوبا کے سوال کا جواب سوال سے دیا ۔
“بے وقوف لڑکی! یہ میں نے تمہیں خاص قسم کی سی ڈی بھیجی تھی جو بس ایک ہی بار Run ہوتی ہے” ذوبا نے طنزیہ لہجے میں قہقہ لگاتے ہوئے کہا
“میں اور میری دوست صبغہ شاہیر کے اغوا ہونے کا ذکر اب کسی سے نہیں کریں گی ، پلیز اب میرے شاہیر کو مزید کوئی تکلیف مت دینا” شانزے نے صبغہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو ذوبا کا زوردار قہقہ شانزے کی سماعت سے ٹکرایا اور کال منقطع ہو گئی ۔
“پلیز صبغہ اب تم بھی اس بات کا کسی ذکر مت کرنا ، یہ میرا مسئلہ ہے اور اسے میں خود دیکھ لوں گی” شانزے نے صبغہ سے کہا اور پھر بیڈ کی طرف چلی گئی ۔ شانزے آنکھیں بند کر کے بیڈ پر لیٹ گئی اور صبغہ بیڈ کے قریب پڑے صوفے پر بیٹھ گئی اور اداس نگاہوں سے شانزے کو دیکھنے لگی ۔
“شانزے! تم نے ایسا کونسا گناہ کر دیا جس کے بدلے تم اس اذیت اور تکلیف میں مبتلا ہو” شانزے نے دل ہی دل میں خود سے سوال کیا تھا ۔
“جب انسان سے کوئی بہت بڑا گناہ سرزد ہو جاتا ہے ، ایک ایسا گناہ جس کی وجہ سے اللہ ناراض ہو جاتا ہے اور اللہ کی ناراضگی کے سبب انسان کسی تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے” شانزے آنکھیں بند کیے سوچ رہی تھی ۔
“شانزے! اب تمہارے پاس استغفار اور صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں” شانزے اپنی سوچوں میں گم سم خود سے مخاطب تھی ۔
قرآن کریم کی سورت الزمر میں اللہ کا ارشاد ہے ۔
اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)
ترجمہ : صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔
(سورة الزمر آیت نمبر 10)
اور صبر کے متعلق حدیث شریف ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ مصیبت اور بلا میں مبتلا رہنے والے (قیامت کے دن) حاضر کئے جائیں گے ،نہ اُ ن کے لئے میزان قائم کی جائے گی اور نہ اُن کے لئے (اعمال ناموں کے) دفتر کھولے جائیں گے ،ان پر اجرو ثواب کی (بے حساب)بارش ہوگی یہاں تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے ان کا بہترین ثواب دیکھ کر آرزو کریں گے کہ’’کاش (وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور )ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے( تاکہ آج یہ صبر کا اجرپاتے)۔( معجم الکبیر، ابو الشعثاء جابر بن زید عن ابن عباس، ۱۲/۱۴۱، الحدیث:۱۲۸۲۹)
حضرت علی مرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے علاوہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ صبر کرنے والوں کوبے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا۔( خازن، الزمر، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۵۱)
صبر کرنے والے بڑے خوش نصیب ہیں کیونکہ قیامت کے دن انہیں بے حساب اجر و ثواب دیاجائے گا۔
۞ــــــــ۝ـــــــــ۞۞ــــــــ۝ـــــــــ۞
“سامی! آج میں بہت خوش ہوں ،طیب نے اپنی آدھی پراپرٹی میرے نام کر دی اور باقی کی پراپرٹی شانزے کے کہنے پر طیب نکاح کے بعد میرے نام رجسٹر کرے گا” ذوبا نے کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے مسکرا کر کہا تو سامی کے چہرے پر بھی ایک زہریلی مسکراہٹ نمودار ہو گئی ۔
“ایک وقت وہ بھی تھا جب میں اور آپ اچھے دوست ہوا کرتے تھے اور پھر ہمارے بیچ طیب آ گیا اور آپ نے طیب سے شادی کر لی اور طیب کو میرا تعارف بھائی کے طور پر کروایا اور پھر مجھے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر مجھ سے کوئی تعلق رکھنا چاہتے ہو تو مجھے اپنی بہن مان لو” سامی نے ذوبا کو پرانی باتیں یاد دلاتے ہوئے کہا تو ذوبا نے چونکتی نگاہوں سے سامی کو دیکھا
“اگر ہم آگے بھی ایک ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو آپ کو پرانا دوستی والا تعلق قبول کرنا پڑے گا” سامی نے ذوبا سے کہا
“تم مجھے دھمکی دے رہے ہو؟” ذوبا نے سامی سے پوچھا
“اسے آپ دھمکی سمجھو یا حقیقت ، میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ اس وقت میں آپ کی ضرورت ہوں” سامی نے کہا تو ذوبا نے سامی کو حقارت سے دیکھا
“آج کافی بہت کڑوی ہے ، کل لنچ ٹائم ملتے ہیں اور اس موضوع پر بات کرتے ہیں” ذوبا نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا اور ویٹر کو بل پے کر کے چلی گئی تو سامی ذوبا کو جاتے ہوئے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
۞ــــــــ۝ـــــــــ۞۞ــــــــ۝ـــــــــ۞

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 27

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: