Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 13

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 13

–**–**–

صبغہ کے جانے کے بعد شانزے ٹیکسی کے ذریعے اپنے پاپا مسٹر لیان صاحب کے گھر چلی گئی ۔ لیان صاحب کی بیوی اور شانزے کی سوتیلی ماں مسز لیان نے شانزے کی آمد پر بہت شاندار استقبال کیا اور ساتھ لیان صاحب کو بھی خبر کر دی کہ ان کی بیٹی جگن شانزے آئی ہے ۔ ایک گھنٹے کے بعد لیان صاحب گھر لوٹے تو مسز لیان انہیں اس روم میں لے گئی جہاں پر شانزے تھی ۔ لیان صاحب کو دیکھتے ہی شانزے کھڑی ہو گئی ۔ اس نے ایک لمحے کے لیے لیان صاحب کو دیکھا اور پھر ان سے لپٹ گئی ۔ ایک عرصے طویل کے بعد دونوں باپ بیٹی ملے تھے اس لیے دونوں کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ بعد میں شانزے صوفے پر بیٹھ گئی ۔ کچھ دیر بعد شانزے کے آنسو تھم گئے ۔
“پاپا! کیسے ہیں آپ؟”شانزے لیان صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
“الحمد للہ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ٹھیک ہوں” لیان صاحب نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا
“بیٹی! تمہیں کونسی ہوا یہاں کھینچ لائی ہےس؟” لیان صاحب نے شانزے سے پوچھا
“مما والے گھر کی چابیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ” شانزے نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا ۔ لیان صاحب اٹھے اور دوسرے روم کی طرف بڑھ گئے ۔ شانزے متحیر نگاہیں سے انہیں جاتے ہوئی دیکھتی چلی گئی ۔
“یہ لو چابیاں اور یہاں سے چلتی بنو” لیان صاحب نے چابیوں کا گچھا شانزے کی طرف بڑھاتے ہوئے تلخ لہجے میں کہا
“بہت سالوں بعد وہ آپ کے پاس واپس آئی ہے ، آپ کو شانزے کے ساتھ اس طرح بے رخا اور ناروا سلوک نہیں کرنا چاہیے” مسز لیان نے روم میں داخل ہوتے ہوئے لیان صاحب سے کہا
“یہ ہمارا باپ بیٹی کا معاملہ ہے تم دخل اندازی مت کرو” لیان صاحب نے اپنی بیوی صابرہ بیگم سے کہا تو وہ خاموش ہو گئی جبکہ شانزے سہم سی گئی تھی ۔
“چلو جاؤ یہاں سے” لیان صاحب نے انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو شانزے کے حلق میں آنسو کا ایک گولہ سے اٹک گیا ۔ اس نے لیان صاحب کو خدا حافظ بولا اور چلی گئی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شانزے اپنی ماں والے گھر میں گئی ۔ تین گھنٹے کی مسلسل لگن سے شانزے نے پورے گھر کی صفائی کی اور پھر تھک کر چارپائی پر لیٹ گئی ۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وہ صبغہ کے گھر گئی اور شاہیر کا دیا ہوا عبایا پہنا ۔ وہ گیٹ کی طرف بڑھی تو صبغہ کو گیٹ سے اندر آتا دیکھ کر تھوڑی حیران ہوئی ۔
“تم نے شام پانچ بجے آنا تھا لیکن تم تو دس بجے ہی واپس آ گئی ہو” شانزے نے صبغہ کے روبرو کھڑا ہو کر کہا
“کیوں؟ تمہیں کوئی مسئلہ ہے؟” صبغہ نے پوچھا تو شانزے نے نفی میں سر ہلایا ۔
“میری طبعیت کچھ خراب تھی اس لیے آفس سے چھٹی لے کر آئی ہوں” صبغہ نے شانزے کو بتایا
“ویسے تمہاری کدھر جانے کی تیاری ہے؟”صبغہ کے سوال پر شانزے چونک پڑی ۔
“پہلے تو تم نے مجھ سے کبھی نہیں پوچھا کہ میں کہاں جاتی ہوں یا مجھے کہاں جانا ہے؟” شانزے نے متجسس لہجے میں کہا
“اب پوچھ لیا ہے نا تو کون سی آفت آ گئی ہے ، دوست ہوں تمہاری پوچھنے کا حق رکھتی ہوں” صبغہ نے دونوں آئی بروز اوپر تک کھینچتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا
“طیب سے ملاقات کرنے جا رہی ہوں” شانزے نے گیٹ کی طرف بڑھتے ہوئے کہا ۔ شانزے گیٹ سے باہر چلی گئی تو صبغہ بھی گیٹ کی طرف پلٹی ۔ صبغہ نے دروازہ کھول کر دیکھا تو شانزے گیٹ سے دور جا چکی تھی اور وہ گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ صبغہ نے محتاط انداز میں گیٹ کا چھوٹا دروازہ بند کیا اور فون پر ذوبا کا نمبر ڈائل کر دیا ۔
شانزے روڈ پر اب آٹو کے انتظار میں کھڑی تھی ۔
“جس طرح ہوائیں موسموں کا رُخ بدل دیتی ہـیـں
اسی طرح دُعـائیں مصیبتوں کو
راحت میں تبدیل کرسکتی ہیں” شانزے نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا
“اے اللہ تو رحمان و کریم ہے تو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا… تیری بادشاہت میں کوئی شریک نہیں تو واحد لاشریک ہے… تیری بادشاہت میں کوئی شریک نہیں تو واحد لا شریک ہے… تیری ذات، تیری صفات میں کوئی تیرا ہمسر نہیں۔ یا اللہ میں تیری گنہگار بندی ہوں تو مجھے معاف فرمادے۔ یا اللہ میں کمتر ہوں۔ ۔ ۔ ۔ تو احکم الحاکمین ہے۔ یا رب کریم میں تیرے خطاکار بندی، تیرے نام کی نمائشی نام لیوا، سخت اذیت میں ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ مجھ پر بڑاکڑا وقت آ پڑا ہے
اے غفور الرحیم میرے مالک آج میں صدق دل سے آپ سے التجا کرتی ہوں کہ تو مجھے معاف فرما دے” شانزے نے دل ہی دل میں دعا کی ۔
بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں ، اے اللہ مجھے میری مصیبت میں اجرعطا فرمائیں ، اور اس کے عوض مجھے اس سے اچھا بدل عنایت فرمائیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شانزے آٹو سے اپنی مماں والے گھر گئی تو طیب وہاں پر پہلے سے کھڑا شانزے کا انتظار کر رہا تھا ۔ شانزے نے لاک کھولنے کے بعد دروازہ کھولا تو طیب اور شانزے ایک ساتھ گھر میں داخل ہوئے ۔
“تم نے مجھے کچھ دیکھانے کے لیے یہاں بلایا تھا؟” طیب نے ہال نما چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا
“وہ میں بعد میں دیکھاؤں گی ، تم سامنے والے کمرے میں بیٹھو ، میں تمہارے لیے چائے لے کر آتی ہوں” شانزے نے کیچن کی طرف مڑتے ہوئے کہا
شانزے نے چائے بنانی شروع کر دی ۔
اور جب چائے تیار ہونے کے آخری مراحل میں تھی تو شانزے نے تھوڑی سی چائے ایک الگ کپ میں ڈال لی اور باقی کی چائے میں نیند کی چھ گولیاں ڈال دیں ۔ شانزے چائے لے کر اسی کمرے میں چلی گئی جہاں پر طیب بیٹھا تھا ۔اب طیب اور شانزے چائے پینے کے ساتھ ساتھ باتوں میں مصروف تھے ۔ طیب چائے پی چکا تھا اور چند منٹوں بعد وہ صوفے پر گہری نیند سو گیا ۔ شانزے دوسرے کمرے سے ایک چارپائی لائے اور چارپائی کو صوفے کے قریب رکھ دیا اور پھر اس نے طیب کو کلائیوں پر اٹھایا اور چارپائی پر لٹا دیا ۔ شانزے کا سانس پھول گیا اور وہ ہانپتے ہوئے دوسرے کمرے میں گئی اور ایک رسی لے آئی ۔ شانزے نے طیب کو رسی کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا ۔ اب طیب کا پورا جسم رسی کی مدد سے چارپائی کے ساتھ باندھا جا چکا تھا ۔ شانزے نے مزید دو رسیاں لیں اور طیب کے ہاتھ پاؤں بھی باندھ دئیے ۔ ہال کا دروازہ لاک کرنے کے بعد شانزے جب گیٹ سے باہر نکلی تو طیب کی کار کو دیکھ کر اس نے اپنے ماتھے پر ہتھیلی ماری اور پھر اندر چلی گئی ۔ ہال کا لاک کھولا اور جلدی سے اس کمرے کی طرف بڑھ گئی جہاں پر طیب تھا ۔ اس نے طیب کی جیبیں ٹٹولیں تو اسے کار کی چابی مل گئی ۔ دوبارہ دروازے لاک کرنے کے بعد وہ کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی ۔اسے یاد تھا کہ اس نے تقریبا پانچ سال پہلے آخری بار کار چلائی تھی ۔ وہ خود پر بہت دباؤ محسوس کر رہی تھی ۔ اپنی ساری ہمت اکٹھی کرنے کے بعد شانزے نے کار اسٹارٹ کی اور روڈ پر چڑھا دی ۔ کار چلاتے ہوئے وہ طیب کے گھر کے سامنے پہنچ گئی ۔ اس نے ارد گرد کا جائزہ لینے کے بعد محتاط ہو کر کار گھر کے گیٹ کے سامنے کھڑی کی اور خود گھر کے سامنے چھوٹی سے گلی میں گھس گئی ۔ اس نے پرس سے اپنا فون نکالا اور ذوبا کا نمبر ڈائل کر دیا ۔
☆☆☆☆۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔☆☆☆☆
ذوبا نے پرس سے موبائل فون نکالا اور سامی کا نمبر ڈائل کر دیا
“ہاں تو آج آپ لنچ پر آ رہی ہیں نا؟” فون پر رابطہ قائم ہوتے ہی دوسری طرف سے سامی نے پرمسرت لہجے میں کہا
“سامی مجھے تمہاری ضرورت ہے ، تم فورا میرے گھر آ جاؤ” ذوبا نے تند و تیز لہجے میں کہا
“ذوبا جانو! خیریت تو ہے نا؟” سامی کے لہجے میں شرارتی پن تھا
“خیریت بالکل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ شانزے نے طیب کو اغوا کر لیا اور اب اس کی کال آئی تھی اور بول رہی تھی کہ شاہیر مجھے دے دو اور طیب کو لے جاؤ” ذوبا کے لہجے میں بے چارگی نمایاں تھی ۔
“او کے آپ فون بند کرو ، میں ابھی آتا ہوں” سامی نے کہا تو ذوبا نے فون کال منقطع کر دی ۔ کچھ دیر بعد سامی آیا ۔ شانزے جو کہ ابھی تک چھوٹی گلی میں چھپ کر کھڑی تھی ۔ اس نے سامی کو طیب کے گھر میں جاتے ہوئے دیکھا ۔
“میں نے سوچا تھا کہ ذوبا گھر سے باہر جائے گی اور میں اس کا تعاقب کر کے اس کے سہولتکار تک پہنچ جاؤں گی لیکن سہولتکار تو خود مہرہ بن کر یہاں آ گیا” شانزے نے بڑبڑاتے ہوئے کہا اور پھر سامی کے اندر جانے کے بعد گیٹ کی طرف بڑھ گئی ۔
ذوبا سامی کو اپنے بیڈ روم کی طرف لے گئی اور شانزے روم کے باہر کھڑی ہو گئی ۔ وہ ذوبا اور سامی کی باتیں سننے کے لیے پوری طرح چوکنا تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: