Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 2

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 2

–**–**–

شانزے اتنی گہری نیند سو رہی تھی کہ اسے پتا ہی نہ چلا کہ کب شاہیر دروازے کا لاک کھول کر کمرے میں آ گیا ۔ شاہیر نے ہاتھ میں پکڑا ہوا بیگ کمرے کے ایک کونے میں رکھا اور خود صوفے کے قریب بیٹھ گیا اور شانزے کا چہرے دیکھنے لگا ۔ وہ شانزے کا چہرہ دیکھتے دیکھتے چونکا اور جیب سے موبائل فون نکالا اور شانزے کی دو چار تصویریں بنا لیں اور دوبارہ شانزے کا چہرہ دیکھنے لگا ۔ چند گھنٹوں بعد شانزے نیند سے بیدار ہوئی تو شاہیر کو اپنے کمرے میں دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی اور پھر چند لمحوں میں ہی پرسکون ہو گئی ۔
“میں تمہاری لیے کھانا لے کر آیا ہوں” شاہیر نے فرش پر دسترخوان بچھاتے ہوئے کہا اور پھر شانزے کے سامنے چاول اور فرائیڈ مچھلی رکھ دی ۔
“جن پیسوں سے میرے لیے کھانا خرید کر لائے ہو وہ پیسے حرام کی کمائی تھے یا حلال کی کمائی کے؟” شانزے نے شاہیر سے پوچھا تو وہ شانزے کے سوال پر ٹھٹھک گیا ۔
“اگر یہ کھانا حرام کی کمائی سے خریدا گیا ہے تو میں یہ کھانا نہیں کھاؤں گی” شانزے نے دو ٹوک انداز میں کہا
“تم رات سے بھوکی ہو ، آج یہ کھانا کھا لو ، آئندہ میں حلال کی کمائی سے ہی تمہارے لیے کھانا خرید کر لاؤں گا” شاہیر نے شرمندگی بھرے لہجے میں کہا
“مطلب یہ کھانا حرام کی کمائی سے خریدا گیا ہے” وہ بڑبڑائی ۔
“میں یہ کھانا نہیں کھاؤں گی ، میں بھوک تو برداشت کر لوں گی لیکن اپنے رب کی نافرمانی نہیں کروں گی” شانزے نے برملا کہا
قرآن پاک میں اللہ کا ارشاد پاک ہے ۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸)
اے لوگو! جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (سورة بقرة آیت 168)
اور اسی سلسلے میں ایک حدیث پاک جس کا ترجمہ یہ ہے ۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا: یارسول اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، دعا فرمائیے کہاللہ تعالیٰ مجھے مُستجَابُ الدَّعْوات کردے یعنی میری ہر دعا قبول ہو۔ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: اے سعد! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ،اپنی خوراک پاک کرو، مستجاب الدعوات ہوجاؤ گے۔ اس ذات پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی جان ہے آدمی اپنے پیٹ میں حرام کا لقمہ ڈالتا ہے تو چالیس دن تک اس کا کوئی عمل قبول نہیں کیا جاتا اور جس بندے کا گوشت سود اور حرام خوری سے اُگا اس کے لئے آگ زیادہ بہتر ہے۔(معجم الاوسط، من اسمہ محمد، ۵/۳۴، الحدیث:۶۴۹۵)
“اب تم ہی مجھے بتاؤ کہ اگر میں حرام کمائی سے خریدا ہوا کھانا کھاؤں گی تو پھر میری دعا کیسے قبول ہو گی” شانزے نے استفہامیہ انداز میں شاہیر سے کہا
“اگر میں حرام کا ایک لقمہ بھی کھا لوں گی تو یقینی طور پر میری دعا قبول نہیں ہو گی” شانزے نے شاہیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ایک اور حدیث پاک جس کا ترجمہ یہ ہے ۔
حضرت ابو سعیدخدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے حلال مال کمایاپھر اسے خود کھایا یا اس کمائی سے لباس پہنا اور اپنے علاوہ اللہ تعالیٰ کی دیگر مخلو ق (جیسے اپنے اہل و عیال اور دیگر لوگوں ) کو کھلا یا اور پہنا یا تو اس کا یہ عمل اس کے لئے برکت و پاکیزگی ہے ۔(الاحسان بترتیب ابن حبان، کتاب الرضاع، باب النفقۃ، ذکر کتبۃ اللہ جلّ وعلا الصدقۃ للمنفق۔۔۔ الخ، ۴/۲۱۸، الحدیث: ۴۲۲۲، الجزء السادس)
“اس کا مطلب میں تمہارے لیے جو عبایا خرید کر لایا ہوں تم وہ بھی نہیں پہنو گی؟” شاہیر نے شانزے سے پوچھا
“مطلب وہ بھی حرام کی کمائی سے خرید کر لائے ہو” شانزے نے شاہیر کے سوال کا جواب بھی سوال سے دیا تو شاہیر نے اثبات میں سر ہلایا
“کیا میں حلال اور حرام کمائی کے بارے میں مزید باتیں بیان کر سکتی ہوں؟” شانزے نے شاہیر سے پوچھا تو اس نے “”ہاں”” میں جواب دیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ حلال روزی کمائے اور حلال روزی سے ہی کھائے اور پہنے اسی طرح دوسروں کو بھی جو مال دے وہ حلال مال میں سے ہی دے ۔ہمارے بزرگان دین رزق کے حلال ہونے میں کس قدر احتیاط کرتے تھے ا س کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے ،چنانچہ ایک بار امیرالمؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا غلام آپ کی خدمت میں دودھ لایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے پی لیا ۔ غلام نے عرض کی، میں پہلے جب بھی کوئی چیز پیش کرتا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا س کے بارے میں دریافت فرماتے تھے لیکن اِس دودھ کے بارے میں کچھ دریافت نہیں فرمایا؟ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا، یہ دودھ کیسا ہے؟ غلام نے جواب دیا کہ میں نے زمانۂ جاہلیت میں ایک بیمار پر منتر پھونکا تھا جس کے معاوضے میں آج اس نے یہ دودھ دیا ہے ۔ حضرت صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ سن کر اپنے حلق میں اُنگلی ڈالی اور وہ دودھ اُگل
دیا ۔ اِس کے بعد نہایت عاجزی سے دربارِ الٰہی میں عرض کیا ،’’ یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، جس پر میں قادر تھا وہ میں نے کر دیا ، اس دودھ کا تھوڑا بہت حصہ جو رگوں میں رہ گیا ہے وہ معاف فرما دے۔(منہاج العابدین، العقبۃ الثالثۃ، تقوی الاعضاء الخمسۃ، الفصل الخامس، ص۹۷)
“کیا میں تمہارا نام پوچھ سکتا ہوں؟” شاہیر نے شانزے کو سوالیہ نظروں کو دیکھتے ہوئے کہا
“میرا نام جگن شانزے ہے ، تم مجھے شانزے بھی کہہ سکتے ہو” شانزے نے کہا
“شانزے! میں تھوڑی دیر میں تمہارے لیے اورکھانا لے کر آتا ہوں” شاہیر نے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بیس سے پچیس منٹوں کے بعد شاہیر دوبارہ واپس آیا ۔
“یہ کھانا میں ادھار لی گئی رقم سے لے کر آیا ہوں یہ تو کھا لو گی نا؟” شاہیر نے کھانا شانزے کے سامنے رکھتے ہوئے کہا
“اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ادھار لی گئی رقم کی ادائیگی حرام کی کمائی سے ہو گی یا حلال طریقے سے کمائے گئے پیسوں سے؟” شانزے نے شاہیر کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو شاہیر نے اسے حیرت بھری نگاہوں سے دیکھا
“میں وعدہ کرتا ہوں کہ حلال طریقے سے کما کر ہی اس رقم کی ادائیگی کروں گا” شاہیر نے شانزے کو یقین دلانے کی کوشش کی تو شانزے نے ایک نظر کھانے کو دیکھا اور پھر ایک نظر شاہیر کو دیکھا اور پھر کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی ۔
☆☆☆- – – – – – – – – – – – – ☆☆☆
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
ایک دو منزلہ عمارت کے گراؤنڈ فلور کے مرکزی کمرے میں ایک چالیس سال کی عمر کا شخص بیٹھا تھا ۔ اس نے سر پر سنہری رنگ کے مصنوعی بال سجا رکھے تھے ۔ وہ سنہرے رنگ کے لباس میں ملبوس ریوالونگ چیئر پر بیٹھا تھا اور وہ نشے والا پان کھا رہا تھا ۔ انڈر ورلڈ میں یہ شخص پرنس کے نام سے مشہور تھا ۔
“شاہیر آپ سے ملنے کے لیے آیا ہے” مٹھن گل نے مودبانہ لہجے میں کہا
“اسے شوٹ کر دو” پرنس نے نشے سے مخمور لہجے میں کہا
“وہ آپ کا مال واپس کرنے آیا ہے” مٹھن گل نے کہا تو پرنس سیدھا ہو کر کرسی پر بیٹھا اور اس نے حیرت سے مٹھن گل کو دیکھا اور پھر اسے اشارہ کیا کہ وہ شاہیر کو اندر بھیج دے ۔ مٹھن گل اثبات میں سر ہلاتا ہوا چلا گیا اور دو منٹوں بعد شاہیر کمرے میں داخل ہوا ۔ شاہیر نے کرنسی نوٹوں سے بھرا ہوا بریف کیس پرنس کے قدموں میں رکھ دیا ۔ اس کے بعد شاہیر نے پرنس کے دائیں طرف پڑی شیشے کی میز پر فرائیڈ فش ، چاول اور ایک تھیلا رکھا تو پرنس نے متحیر نگاہوں سے پہلے بریف کیس کو دیکھا اور پھر میز کی طرف دیکھا
“آج تک جس کسی نے میرا مال یا پیسہ چوری کیا تو اس نے واپس نہیں کیا لیکن تمہاری یہ حرکت میری سمجھ میں نہیں آئی” پرنس نے طنز بھرے لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا
“کوئی خاص وجہ نہیں بس ایک لڑکی میری زندگی میں آئی ہے اور آپ کے لوٹے ہوئے مال سے میں نے اس کے لیے کھانا ، لباس اور عبایا خریدا تھا اور جب اس لڑکی کو معلوم ہوا کہ یہ سب چیزیں حرام کی کمائی سے خریدی گئی ہیں تو اس نے حرام کی کمائی سے خریدا ہوا کھانا کھانے سے اور لباس پہننے سے انکار کر دیا اور پھر مجھے قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا گیا ، میں اس لڑکی کی باتوں سے بہت متاثر ہوا تھا اس لیے خود سے عہد کر لیا کہ آج کے بعد حرام کمائی کو اپنی ذات پر خرچ نہیں کروں گا اور بس اسی وجہ سے آپ کا پیسہ واپس لوٹانے آیا ہوں” شاہیر نے اپنے عمل کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا
“یہ کھانا ، لباس اور عبایا بھی آپ کے نوٹوں سے خریدا تھا سو یہ بھی میں آپ کے پاس لے آیا ہوں” شاہیر نے میز پر پڑی چیزوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“جو بھی میرے ساتھ دھوکہ اور غداری کرتا ہے تو اس کی سزا موت ہوتی ہے لیکن تمہیں معاف کر رہا ہوں اور آئندہ کبھی بھی میرے روبرو مت آنا” پرنس نے پروقار لہجے میں کہا تو شاہیر نے پرنس کی دست بوسی کی اور چلا گیا ۔ شاہیر کے جانے کے بعد پرنس نے مٹھن گل کو بلایا
“شاہیر کا تعاقب کرواؤ اور پتا کرو کہ کون سی لڑکی ہے جس نے شاہیر جیسے درندہ صفت انسان کی سوچ بدل ڈالی” پرنس نے مٹھن گل کو ہدایات دیتے ہوئے کہا
☆☆☆- – – – – – – – – – – – – ☆☆☆
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
شام کے پانچ بج رہے تھے ۔ شانزے بھوک سے نڈھال ہو رہی تھی ۔ شاہیر بہت سا سامان لے کر دوبارہ اس کے روم میں آیا ۔ اس نے بریانی اور پیپسی چھوٹے صوفے کے سامنے پڑی میز پر رکھی اور پھر مختلف قسم کے پھل ریفریجریٹر میں رکھے ۔
“سوری ! میرے لیٹ آنے کی وجہ سے تمہیں بھوک برداشت کرنا پڑی” شاہیر نے دودھ اور انڈے ریفریجریٹر میں رکھتے ہوئے کہا
“یہ کھانا حلال کی کمائی سے خریدا گیا ہے نا؟” شانزے نے شاہیر سے پوچھا
“اس بات سے بے فکر رہو کہ میں تمہیں حرام کا ایک لقمہ بھی کھلاؤں گا” شاہیر تھیلے سے گرے رنگ کا عبایا نکالتے ہوئے بولا
“وعدہ کرو کہ مجھ سے جھوٹ نہیں بولو گے” شانزے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی تو شاہیر نے شانزے سے وعدہ کر لیا کہ وہ اس سے جھوٹ نہیں بولے گا اور تب شانزے نے بریانی کھانا شروع کر دی ۔
“یہ سیل فون رکھ لو اس میرا نمبر سیو ہے ، اگر کوئی ضرورت ہو تو مجھے فون کر لینا ، اب میں دو دن بعد ہی آؤں گا” شاہیر شانزے کو نوکیا ایکس ون فون دیتے ہوئے بولا
“اگر میرا ایک چھوٹا سا کام کر دو گے تو تمہاری مہربانی ہو گی” شانزے نپکین سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولی تو شاہیر شانزے کی طرف متوجہ ہوا ۔ شانزے نے پینٹ کی جیب سے ایک پرچی نکال کر شاہیر کو دی
“اس پر شہنیلا کا پتہ لکھا ہے ، میرا پاسپورٹ شہنیلا کے پاس ہے ، تم میرا پاسپورٹ مجھے لا دو ” شانزے نے شاہیر سے کہا تو شاہیر نے پرچی کو غور سے پڑھا اور پھر دروازے کی طرف بڑھا تو شانزے نے شاہیر کو اس کے نام سے مخاطب کیا ۔ شاہیر کے قدم روک گئے اور اس نے پلٹ کر شانزے کی طرف دیکھا
“یہ سب چیزیں بھی ادھار کے پیسوں سے لے کر آئے ہو ؟” شانزے نے شاہیر سے پوچھا
“میں نے ایک ریسٹورنٹ پر کام کرنا شروع کیا ہے اور ریسٹورنٹ کے مالک سے کچھ رقم پیشگی کے طور پر لی تھی” شاہیر نے شانزے کو بتایا ۔
☆☆☆- – – – – – – – – – – – – ☆☆☆
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
“ماما ۔ ۔ ۔ ماما ۔ ۔ ۔ آنٹی ذوبا ۔ ۔ ۔ ۔ ماما ۔ ۔ ۔ آنٹی ذوبا آئی ہیں” سہانا کی پانچ سالہ بچی نے شور سا مچایا تو سہانا کیچن سے نکل کر برآمدے میں آئی اور اپنی دوست ذوبا کو دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے ذوبا سے لپٹ گئی ۔
“ذوبا میری دوست کیسی ہو تم؟” سہانا نے پوچھا
“میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟” ذوبا نے چارپائی پر بیٹھتے کہا
“میں نے سنا تھا کہ تمہارا شوہر بیمار ہے؟” سہانا نے ذوبا کے سوال کا جواب بھی سوال سے دیا
“ہاں تین چار دن سے بیمار ہے وہ” ذوبا نے گہری سانس لینے کے بعد کہا
“ڈاکٹر کے مطابق کھانا نہ کھانے یا کھانا کم کھانے کی وجہ سے کمزوری کی وجہ سے طیب کو بخار ہے اور جب طیب سے کھانا نہ کھانے اور غمگین رہنے کی وجہ پوچھی تو طیب نے بتایا کہ اسے محبت کا روگ لگ گیا ہے” ذوبا نے سہانا کے متوقع سوال کا جواب دیا
“محبت کا روگ؟ کیا مطلب؟” سہانا نے ایک اور سوال داغا
“مجھ سے شادی کے تین مہینے بعد ہی طیب نے شانزے نامی کسی لڑکی سے ملاقاتیں شروع کر دیں اور جب شانزے کو پتا چلا کہ طیب شادی شدہ ہے اور اس نے ٹائم پاس کرنے کے لیے شانزے سے دوستی کر رکھی ہے تو شانزے نے طیب کو اس کی غلطی کی سزا دینے کا فیصلہ کر لیا تھا پھر اس نے پتا نہیں طیب پر کیا جادو کیا کہ طیب کو شانزے سے محبت ہو گئی اور تب وہ اچانک دوبئی چلی گئی” ذوبا نے سہانا کو ساری تفصیل بتا دی ۔
“تمہیں یہ باتیں کس نے بتائیں؟” سہانا نے ذوبا سے پوچھا
“خود طیب نے” ذوبا نے مختصر جواب دیا
“لیکن طیب تو تم سے محبت کرتا تھا؟” سہانا نے متحیر لہجے میں پوچھا
“وہ محبت نہیں بلکہ ایک ڈرامہ تھا ، اسے مجھ سے نہیں میری دولت سے محبت تھی ، طیب نے مجھے بے وقوف بنایا اور شادی سے پہلے اور شادی کے بعد بھی میری دولت پر عیش کرتا رہا” ذوبا یہ سب باتیں افسردہ لہجے میں کہہ رہی تھی ۔
“طیب نے خود ان باتوں کا اعتراف کیا ہے؟” سہانا نے ذوبا سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“کتنا پیسہ طیب نے تم سے ہتھایا تھا؟” سہانا نے ذوبا سے پوچھا
“میرے بینک اکاؤنٹ میں ساڑھے پانچ لاکھ روپے تھے جو میں نے طیب کی خوشیوں اور خواہشات پر قربان کر دئیے تھے” ذوبا کے لہجے میں ملال تھا
“اب میں تمہاری کیا مدد کر سکتی ہوں؟” سہانا نے ذوبا سے پوچھا
“تم سے یہ ساری باتیں شیئر کرنے کا مقصد اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا تھا” ذوبا نے افسردہ لہجے میں کہا
“میں انڈے ابال رہی تھی وہ تو ابل گئے ہوں گے اب انڈوں کے ساتھ تمہارے لیے چائے بھی لے کر آتی ہوں” سہانا نے چارپائی سے اٹھتے ہوئے کہا
☆☆☆- – – – – – – – – – – – – ☆☆☆
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
شانزے نماز مغرب سے فارغ ہوئی تو دروازے پر دستک ہوئی ۔ شانزے نے دروازے پر لگی چھوٹی سی سکرین کو آن کیا تو سکرین پر شاہیر کی تصویر ڈسپلے ہو گئی ۔ شانزے نے جلدی سے عبایا اوڑھ لیا البتہ اس نے اپنا چہرہ کھلا چھوڑ دیا ۔ دروازہ کھلتے ہی شاہیر اندر آ گیا اور صوفے پر بیٹھ گیا جبکہ شانزے دوسرے صوفے پر بیٹھ گئی ۔ شاہیر نے شانزے کی خیریت اور حال احوال دریافت کیا
“میرا پاسپورٹ مل گیا؟” شانزے نے شاہیر سے پوچھا
“نہیں ، تمہارا پاسپورٹ نہیں مل سکا ، تم نے جو پتہ دیا تھا شہنیلا وہ والی رہائش چھوڑ کر کسی دوسری جگہ شفٹ ہو چکی ہے” شاہیر نے شانزے کو بتایا تو شانزے کے چہرے پر فکر اور غصے کے ملے جلے آثار نمایاں ہو گئے
“تم نے شہنیلا کو اپنا پاسپورٹ کیوں دیا تھا ؟” شاہیر نے شانزے سے پوچھا
“میں شہنیلا کے کہنے پر ٹیچنگ کی جاب تلاش کرنے کے لیے وزٹ ویزے پر دوبئی آئی ، شہنیلا نے مجھے بتایا کہ مجھے انٹرویو کے لیے جانا ہے اور انٹرویو کے بہانے وہ مجھے نائٹ کلب کے اس روم میں چھوڑ دیا تھا اور میرے میڈیکل ٹیسٹ کی سلپ لینے کے بہانے مجھ سے میرا پاسپورٹ لے لیا تھا” شانزے نے شاہیر کو ساری تفصیل بتا دی
“اس کا مطلب شہنیلا اے ایل نائٹ کلب کی ایجنٹ ہے اور وہ اے ایل کلب کو لڑکیاں سپلائی کرتی ہے” شاہیر خود سے بڑبڑایا
“کیا کہا تم نے ؟” شانزے نے پوچھا
“اب تمہارا پاسپورٹ بہت جلد مل چائے گا” شاہیر نے کہا تو شانزے نے امید بھری نگاہوں سے شاہیر کو دیکھا
“کیا تم اپنی فیملی کے بارے میں بتانا پسند کرو گی؟” شاہیر نے شانزے سے غیرمتوقع سوال پوچھ لیا
“میرے پاپا اور میرا چھوٹا بھائی عماز” شانزے نے شاہیر کو بتایا
“مطلب کہ اس کی ابھی شادی نہیں ہوئی” شاہیر نے شانزے کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا
“آپ کی ماما؟” شاہیر نے پوچھا
“وہ اس دنیا میں نہیں ہیں” شانزے روہانسا ہو کر بولی اور پھر اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے ۔ شانزے کو دکھی کرنے پر شاہیر دل ہی دل میں خود کو کوس رہا تھا
“تمہارے پاپا کیا کرتے ہیں؟” شاہیر نے ایک اور سوال پوچھ لیا
“پاپا بزنس مین ہیں” شانزے نے مختصر جواب دیا ۔
“اگر پاپا بزنس مین ہیں تو پھر پاپا کی بیٹی جاب کے لیے یوں در بدر ذلیل کیوں ہو رہی ہے؟” شاہیر نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا لیکن شانزے کو شاہیر کے بات کرنے کے انداز سے ایسا محسوس ہوا جیسے شاہیر نے اسے طنز کیا ہو اور شانزے نے شاہیر کو خفگی سے دیکھا
“اوہ سوری ، میں کچھ زیادہ ہی بول گیا” شاہیر نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: