Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 3

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 3

–**–**–

ذوبا اپنے بیڈ روم میں گئی تو بیڈ روم کی حالت دیکھ کر وہ حیرت زدہ ہو گئی ۔ طیب کمرے کے وسط میں فرش پر بیٹھا تھا ۔ اس نے کپڑوں کے علاوہ اور بھی بہت سارا سامان الماری سے نکال کر بیڈ پر پھینک دیا تھا ۔
“کیا تلاش کر رہے تھے؟” ذوبا نے طیب سے پوچھا
“اپنا موبائل فون” طیب کا جواب مختصر تھا
“موبائل فون میں بعد میں ڈھونڈ کر تجھے دیتی ہوں لیکن اس سے پہلے میری بات سنو” ذوبا نے طیب سے کہا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوا ۔
“میں شانزے سے رابطہ کروں گی اور اسے تمہارے ساتھ شادی کے لیے قائل کروں گی لیکن اس کے لیے میری دو شرائط ہیں” ذوبا طیب کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی تو طیب نے اسے حیرت بھری نگاہوں سے دیکھا
“لیکن شانزے تو مجھ سے بہت زیادہ ناراض ہے وہ کبھی مجھ سے شادی کے لیے قائل نہیں ہو گی” طیب نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
“شانزے کو راضی کرنا اور شادی کو قائل کرنا میری ذمہ داری ہے” ذوبا نے پر اعتماد لہجے میں کہا
“تمہاری دو شرائط کون سی ہیں؟” طیب نے پوچھا
“پہلی شرط یہ ہے کہ تم اپنی نوے لاکھ روپے کی پراپرٹی میرے نام کرو گے اور دوسری شرط یہ ہے کہ تم آج سے ہی دوبارہ اپنا کاروبار سنبھالنا شروع کرو گے اور دس دن گھر بیٹھنے کی وجہ سے کاروبار میں جو نقصان ہوا ہے اسے شادی سے پہلے پورا کرو گے اور کل سے میں بھی تمہارے ساتھ آفس جایا کروں گی” ذوبا کا لہجہ پہلے سے زیادہ پر اعتماد تھا
“پراپرٹی میں شادی کے بعد تمہارے نام کروں گا” طیب نے متبذب لہجے میں کہا
“نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ بالکل بھی نہیں ، ساری پراپرٹی شادی سے پہلے ہی میرے نام کرو گے” ذوبا نے کہا
“او کے مجھے منظور ہے” طیب نے تھوڑے سے توقف کے بعد کہا
“تو اب موبائل فون کے موضوع پر بات کریں؟” ذوبا اپنے پرس سے طیب کا موبائل فون نکالتے ہوئے بولی
“کیا مطلب؟” طیب نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا
“پچھلے تین دنوں سے تمہارا فون میرے پاس تھا ، چار نامعلوم نمبروں سے کال آئی تھی ، حیرت کی بات یہ ہے کہ چاروں کالیں اٹینڈ کرنے پر لڑکی نے بات کی اور ایک لڑکی سے تو تفصیلی بات ہوئی ، اس کا نام حماشہ ہے اور وہ بے چاری بھی اس خوش فہمی میں زندہ ہے کہ تم شادی شدہ ہونے کے باوجود اس سے محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتی ہے” ذوبا نے سنجیدہ لہجے میں کہا تو طیب کے چہرے کا رنگ بدل گیا
“حماشہ سے یہ ساری باتیں تم نے پوچھ کیسے لیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ حماشہ نے یہ سب تمہیں کیوں بتا دیا” طیب نے متحیر لہجے میں کہا تو ذوبا مسکرا پڑی ۔
“یہ لو فون اور حماشہ کو کال کر کے آج شام ڈنر پر بلاؤ” ذوبا نے مسکراتے ہوئے کہا اور فون طیب کی طرف بڑھا دیا
“لیکن میں اسے ڈنر پر کیوں بلاؤں گا؟” طیب کے لہجے میں پہلے سے زیادہ حیرانگی تھی ۔
“میں چاہتی ہوں کہ جب تک شانزے سے تمہاری شادی نہیں ہوتی تب تک کسی بھی لڑکی کے ساتھ وقت گزارنے سے تمہیں خوشی ملے تو تمہاری وہ خوشی مجھے ہر قیمت پر عزیز ہے اور تمہاری خوشی کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں” ذوبا نے کہا اور پھر ذوبا کے ہونٹوں پر ایک مصنوعی مسکراہٹ نمودار ہوئی جبکہ اس کی آنکھوں میں نمی واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی لیکن طیب صرف اس کی مصنوعی مسکراہٹ کو ہی دیکھ سکا تھا ۔
“میں جانتا ہوں تم بہت شاطر عورت ہو اور تمہارے کہنے پر حماشہ کو ڈنر پر نہیں بلا سکتا” طیب نے دو ٹوک انداز میں کہا
“شاطر ہندی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے دشمن ، اور بیوی اپنے شوہر کی دشمن تھوڑی ہوتی ہے ، میں نے اپنی تمام جمع شدہ دولت تمہاری خوشیوں پر قربان کر دی ، اپنے گھر والوں سے بے وفائی اور بغاوت کر کے تم سے کورٹ میرج کی اور یہ سب کچھ میں نے تم سے ہونے والی لازوال محبت کے باعث کیا لیکن تمہیں کبھی بھی میری محبت اور میرے خلوص پر یقین نہیں آیا ، میں تو صرف تمہیں خوش دیکھنا چاہتی ہوں” ذوبا نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا
“شانزے سے میری شادی کروانے کے لیے جو شرائط تم نے رکھی ہیں وہ تمہاری محبت کا نہیں بلکہ تمہاری خود غرضی اور لالچ کا ثبوت دیتی ہیں” طیب نے ذوبا کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا
“تم سے جدا ہونے کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی اور مجھے اندیشہ ہے کہ شانزے سے شادی کے بعد تم مجھے طلاق نہ دے دو بس اسی وجہ سے پراپرٹی کی شرط رکھی ہے تاکہ جب کبھی تمہیں مجھے طلاق دینے کا خیال آئے تو تم پراپرٹی کھو دینے کے خوف سے مجھے طلاق نہ دے سکو” ذوبا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا اور پھر سسکیوں کے ساتھ رونا شروع کر دیا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
دستک ہوتے ہی شانزے نے دروازہ کھولا تو شاہیر مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا تو شانزے نے سنجیدہ لہجے میں اس کے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو شاہیر نے نفی میں سر ہلا دیا
“دنیا میں سب سے مہنگا ترین نشہ کسی انسان کا نشہ ہے اور اگر میں نے تم سے مسکرا کر بات کرنا شروع کر دی تو تمہیں میری مسکراہٹ کا نشہ لگ جائے گا اور میں نہیں چاہتی کہ میری چند مسکراہٹوں کی بدولت تمہیں عشق کا روگ لگ جائے اور پھر تمہاری زندگی برباد ہو جائے” شانزے نے کرخت مگر دھیمے لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا تو شاہیر ٹھٹک گیا اور اس کے چہرے مسکراہٹ یوں غائب ہوئی جیسے وہ مسکرانا بھول گیا ہو
“تم نے مجھے ڈائری اور پنسل لانے کا بولا تھا” شاہیر ہکلاتے ہوئے بولا اور پھر ڈائری کے ساتھ پنسل بھی شانزے کی طرف بڑھا دی ۔
“میں نے سفید چاول اور ابلی ہوئی مچھلی بنائی ہے تم کھاؤ گے؟” شانزے نے شاہیر سے پوچھا
“بھوک تو زوروں کی لگی ہے ، اگر تم ڈانٹنا بند کرو گی تو ضرور کھاؤں گا” شاہیر نے شانزے کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
شانزے نے دسترخوان تیار کیا تو شاہیر جلدی سے کھانا کھانے کے لیے بیٹھ گیا اور شانزے اسے حیرت بھری نظروں سے دیکھنے لگی ۔
“کیا ہوا ہے؟ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟” شاہیر نے شانزے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“تم کھانا کھانے کے آداب نہیں جانتے؟” شانزے نے شاہیر کے سوال کا جواب سوال سے دیا
“تم بتاؤ گی تو ضرور جان جاؤں گا” شاہیر اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا
“پہلے اچھے طریقے سے ہاتھ دھو کر آؤ ، پھر کھانا کھانے کا سنت کا طریقہ اور کھانا کھانے کے آداب بتاتی ہوں” شانزے نے کرخت لہجے میں کہا تو وہ ہاتھ دھونے کے لیے چلا گیا (شاہیر ہاتھ دھونے کے لیے مغسلہ کی طرف چلا گیا ۔ ہاتھ دھونے کی جگہ کو عربی زبان میں مغسلہ کہتے ہیں ۔ دوبئی میں عمومی طور پر ہر کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم ہوتا ہے اور باتھ روم کے باہر منہ ہاتھ دھونے اور وضو کرنے کے لیے مغسلہ بنا ہوتا ہے) شاہیر ہاتھ دھونے کے بعد دوبارہ فرش پر بیٹھا اور کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو شانزے نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور شاہیر نے متحیر نگاہوں سے شانزے کو دیکھا ۔
“پہلے بسم اللہ شریف پڑھو پھر کھانے کو ہاتھ لگانا” شانزے کا لہجہ سنجیدہ اور پروقار تھا
“بسم اللہ الرحمن الرحيم” شاہیر نے روٹی کا لقمہ اپنے منہ میں ڈالا ۔
“کھانے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو دھوکر کلی کریں اور نہایت عاجزی کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ جائیں ۔بسم اﷲ پڑھ کر سالن ڈالیں پھر دائیں ہاتھ سے روٹی کا لقمہ سالن لگا کر منہ میں ڈالیں ۔ لقمہ خوب چبا کر کھائیں ۔لقمہ درمیانہ لینا چاہیے ۔ تاکہ چبا نے میں دقت نہ ہو۔ اگر ایک برتن میں دو تین آدمی مل کر کھا رہے ہوں تو اپنے سامنے سے کھانا چاہیے۔ دوسرے کے سامنے سے لقمہ نہیں اُٹھانا چاہیے ۔اگر کھانے کے دوران چھینک آئے تو دوسری طرف چھینکو۔ کھانا مناسب مقدار میں کھانا چاہیے ۔یعنی ضرورت سے تھوڑا ساکم ہی کھا نا چاہیے۔ اگر کھاتے وقت کوئی لقمہ گر جائے تو اسے صاف کر کے کھالینا چاہیے ۔کھانا ختم کرتے ہوئے برتن کو صاف کرنا چاہیے ۔ اگر انگلیوں کے ساتھ سالن وغیرہ لگا ہو تو اسے چاٹ لینا چاہیے۔ کھانا کھا کر اﷲ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور مسنون دعاؤں میں سے کوئی ایک دعا پڑھنی چاہیے ۔ کھانا کھا کر ہاتھوں کو دھونا چاہیے۔ تولیے سے صاف کرنا چاہیے ۔ پانی کھانا شروع کرتے وقت پہلے پی لیں یا کھانے کے دوران پئیں آخر میں پانی نہ پئیں۔
کھانے کے بعد کی مسنون دعا یہ ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمْنَا وَسَقَانَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔’’سب تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں ۔ جس نے ہمیں کھلایا اور مسلمان بنایا۔(مشکوٰۃ)” شانزے نے رطب اللسان بولتے ہوئے شاہیر کو کھانے کے آداب بتائے اور پھر کھانا کھانے میں مشغول ہو گئی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(تم میں سے کوئی بھی بائیں ہاتھ سے نہ کھائےپیئے، اس لئے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے) مسلم ( 2020 )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن ابو سلمہ سے فرمایا تھا: (لڑکے! اللہ کا نام لو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور جو تمہارے سامنے ہے اس میں سے کھاؤ) بخاری ( 3576 ) ، مسلم ( 2022 )
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے، اس لئے کھانے کے کنارے سے کھاؤ درمیان سے مت کھاؤ”
ترمذی ( 1805 ) اور ابن ماجہ ( 3277 ) نے اسے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے ” صحيح الجامع ” ( 829 ) میں صحیح قرار دیا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اللہ کا نام لے، اور اگر اللہ تعالی کا نام لینا ابتدا میں بھول جائے تو کہے: “بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ”اول و آخر اللہ کے نام سے ) ترمذی ( 1858 ) ابو داود ( 3767 ) وابن ماجه ( 3264 ) ، البانی رحمہ اللہ نے اسے ” صحيح سنن ابو داود ” ( 3202 ) میں صحیح کہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن ابو سلمہ سے فرمایا تھا: (لڑکے! اللہ کا نام لو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور جو تمہارے سامنے ہے اس میں سے کھاؤ) بخاری ( 3576 ) ومسلم ( 2022 )
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے، اس لئے کھانے کے کنارے سے کھاؤ درمیان سے مت کھاؤ”
ترمذی ( 1805 ) اور ابن ماجہ ( 3277 ) نے اسے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے ” صحيح الجامع ” ( 829 ) میں صحیح قرار دیا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے، اور آپ نے ایک بار فرمایا: (اگر تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اس سے صاف کرکے کھا لے، شیطان کیلئے اسے مت چھوڑے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ پلیٹ کو انگلی سے چاٹ لیں، اور فرمایا: (تمہیں نہیں معلوم کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے) مسلم (2034)

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: