Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 4

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 4

–**–**–

شانزے صوفے پر بیٹھی ڈائری پر لکھنے میں مصروف تھی ۔ ڈائری لکھتے ہوئے وہ ہر قسم کے غم اور پریشانی سے آزاد تھی ۔ دروازے پر دستک ہوئی تو شانزے نے چونکتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھا ۔ شانزے نے عبایا پہنا اور دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔ شاہیر مسکراتے ہوئے کمرے میں آیا تو شانزے نے اسے تلخ نگاہوں سے دیکھا تو شاہیر کے چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ سنجیدگی کے تاثرات نمایاں ہو گئے ۔
“آج ڈنر ہم کسی بڑے ریسٹورنٹ میں کرنے جائیں گے ، تم چلو گی نا؟” شاہیر نے شانزے سے پوچھا
“نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ میں نہیں جاؤں گی” شانزے نے انکار کرتے ہوئے کہا
“وہاں ریسٹورنٹ میں تمہیں کسی خاتون سے ملوانا ہے وہ تمہیں جاب دلوانے میں تمہاری مدد کریں گی” شاہیر شانزے کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا
“اچھا ٹھیک ہے ، تم تھوڑی دیر کے لیے روم سے باہر جاؤ ، میں چینج کر لوں” شانزے نے کہا تو شاہیر اثبات میں سر ہلاتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا ۔ چند منٹوں بعد شاہیر دوبارہ کمرے میں واپس آئی تو شانزے نے شاہیر کا لایا ہوا جوڑا زیب تن کیا تھا ۔
وہ ہلکی گلابی لمبی قمیض اور تنگ چوڑی دار پاچامے میں ملبوس تھی ۔ قمیض کا دامن ٹخنوں تک تھا ۔ سر پر ہلکے گلابی رنگ کا دوپٹہ تھا اور بال کمر پر کھلے تھے ۔
شاہیر شانزے کو دیکھے جا رہا تھا جبکہ شانزے نے اسے ایک نظر دیکھا اور پھر ڈائری پنسل شاہیر کے ہاتھ میں تھما دی ۔
“اب تک تم نے جتنے درہم میری ذات پر خرچ کیے ہیں وہ سب یہاں تفصیل سے لکھ دو” شانزے ڈائری کا ایک خالی صفحہ کھولتے ہوئے بولی
“لیکن کیوں؟” شاہیر نے پوچھا
“پہلے تم لکھو نا پھر بتاتی ہوں” شانزے نے کہا تو شاہیر نے لکھنا شروع کر دیا اور جب شاہیر نے سارا حساب لکھ لیا تو شانزے نے شاہیر کو دستخط کرنے کا کہا ۔ شاہیر نے دستخط کر لیے تو شانزے نے ڈائری اس سے واپس لے لی ۔
“یہ مجھ پر تمہارا قرض ہے اور بہت جلد میں یہ قرض ادا کر دوں گی” شانزے ڈائری اور پنسل صوفے پر رکھتے ہوئے بولی اور پھر شاہیر کے ساتھ چل پڑی ۔ عمارت سے باہر آ کر شاہیر کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا جبکہ شانزے کار کی عقبی سیٹ پر سوار ہوئی تو شاہیر نے اسے فرنٹ سائیڈ سیٹ پر بیٹھنے کے لیے کہا
“میری ماما کہتی تھی کہ نامحرم جتنا بھی اعلی اخلاق کا حامل ہو مگر ہوتا نامحرم ہی ہے اس لیے کسی نامحرم کے لیے بلاجھجھک دل کے دروازے کھول دینا تباہیوں کا سبب بنتا ہے” شانزے کار کا دروازے بند کرتے ہوئے بولی
“جب تک فرنٹ پر نہیں آؤ گی میں کار اسٹارٹ نہیں کروں گا” شاہیر نے سرد لہجے میں کہا تو شانزے کار سے اتر کر دوبارہ عمارت کی طرف چلی گئی وہ اس قدر تیز چل رہی تھی کہ شاہیر کو اس کے پیچھے بھاگنا پڑا ۔ جب شاہیر پانچ منزل عمارت میں پہنچا تو شانزے لفٹ کے ذریعے اوپر جا چکی تھی ۔ شاہیر جلدی سے دوسرے لفٹ روم کی طرف بھاگا ۔ شانزے اپنے کمرے کا لاک کھول رہی تھی کہ شاہیر بھاگتا ہوا آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
“شاہیر یہ کیا بدتمیزی ہے؟ میرا ہاتھ چھوڑو” شانزے نے کرخت مگر دھیمے لہجے میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا تو شاہیر نے شانزے کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی آنکھیں غصہ سے سرخ ہو چکی تھی ۔ شاہیر نے شانزے کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔ شانزے نے دروازہ کھولا تو شاہیر بھی شانزے کے ساتھ کمرے میں داخل ہونے لگا تھا لیکن شانزے نے شاہیر کو باہر کی جانب زوردار دھکا دیا اور دروازہ بند کر دیا ۔ شاہیر کا سر راہداری کی دیوار سے ٹکرایا اور اس کے حلق سے ایک زور دار چیخ بلند ہوئی ۔ شاہیر لڑکھڑا کر فرش پر گر پڑا ۔ چیخ کی آواز سنتے ہی شانزے نے دروازہ کھولا ۔ شاہیر کو زخمی حالت میں دیکھتے ہی وہ ہڑبڑا کر شاہیر کی طرف لپکی ۔ وہ شاہیر کو گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لے گئی ۔ شاہیر کی پیشانی سے خون بہہ رہا تھا ۔ شانزے نے کیچن سے چھڑی (نائف) لی اور اپنا تکیہ پھاڑ دیا اور تکیے سے روئی لے کر اس کے چہرے ، سر اور کانوں سے خون صاف کیا اور پھر تکیے سے روئی لے کر وہ فرش پر دو زانوں بیٹھ گئی ۔ شانزے نے شاہیر کا سر اپنی گود میں رکھا اور روئی زخم پر رکھ دی ۔ اب شانزے نے اپنے دوپٹے کو نائف کی مدد سے پھاڑ کر پٹی بنائی اور وہ پٹی شاہیر کے سر کے گرد لپیٹ کر باندھ دی ۔ شاہیر نے پرسکون ہو کر آنکھیں میچ رکھی تھی اور شانزے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی کہ شاہیر بے ہوش ہو چکا ہے یا پھر وہ سو رہا ہے ۔ شانزے نے بہت احتیاط سے اس کا سر اٹھایا اور خود تھوڑی پیچھے ہٹ گئی ۔ اب اس نے وہی پھٹا ہوا تکیہ شاہیر کے سر کے نیچے رکھ دیا اور خود اٹھ کر کھڑی ہوگئی ۔ اس نے نہایت احتیاط کے ساتھ شاہیر کے پاؤں سے شوز اتارے اور اپنا کمبل شاہیر کو اوپر اوڑھ دیا ۔ مکیف (اے سی کو عربی زبان میں مکیف کہتے ہیں) آن کرنے کے بعد شانزے نے عشاء کی نماز کے لیے مصلی بچھایا ۔ نماز سے فارغ ہو کر شانزے نے شاہیر کی طرف دیکھا تو وہ پہلے سے ہی شانزے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ شانزے مصلے سے اٹھی اور شاہیر کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو گئی ۔
“شاہیر! تمہیں میری وجہ سے چوٹ لگی اور تمہارا خون بہہ گیا ، پلیز مجھے معاف کر دیں” شانزے نے التجائیہ لہجے میں کہا تو شاہیر نے شانزے کو معاف کر دیا ۔
“ایک گزارش اور کرنی تھی” شانزے کا لہجہ التجائیہ تھا ۔
“وہ کیا؟” شاہیر نے پوچھا
“عشق و محبت کے چکروں نے پہلے ہی میری زندگی اجیرن کر دی ہے اب میں مزید عشق و محبت کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہتی” شانزے منت سماجت کرتے ہوئے بولی
“تو تمہیں کوئی مجبور تھوڑی کر رہا ہے” شاہیر نے مسکراتے ہوئے کہا
“تم وعدہ کرو کہ تم مجھ سے عشق نہیں کرو گے ، تم میرے عاشق نہیں بنو گے؟” شانزے نے دوبارہ ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تو شاہیر جو کہ فرش پر لیٹا ہوا تھا اور اب اٹھ کر بیٹھ گیا اور حیرت سے شانزے کو دیکھنے لگا اور اسی دوران اس کا سر چکرایا اور وہ منہ بسورتے ہوئے دوبارہ لیٹ گیا اور سر تکیہ پر رکھ دیا ۔
“تم نے کبھی کسی سے محبت کی؟” شاہیر نے آنکھیں موندتے ہوئے پوچھا
” پہلے جو وعدہ مانگا ہے تم سے وہ وعدہ دو” شانزے نے ضدی موڈ میں کہا
“پہلے اپنی محبت کی داستان سناؤ پھر وعدہ کروں گا” شاہیر بند آنکھوں کے ساتھ چہرے کا رخ شانزے کی طرف کرتے ہوئے بولا
“پہلی بار اٹھارہ سال کی عمر میں فرہاد سے محبت ہوئی تھی اور شادی کے ایک سال بعد پاپا نے فرہاد کو قتل کر دیا” شانزے افسردہ لہجے میں بولی
“پاپا نے اسے کیوں قتل کر دیا تھا؟” شاہیر نے پوچھا
“وہ اپنے تمام اخراجات کے پیسے مجھ سے لیتا تھا ، میں مہینے میں جو کماتی تھی اسے دے دیتی تھی لیکن ایک دن فرہاد نے مجھ سے پیسے مانگے لیکن میں نہ دے سکی ، اس دن میرے پاس پیسے نہیں تھے اور اسی بات پر فرہاد نے مجھے مارا پیٹا” شانزے کا لہجے مغموم تھا
“میں فرہاد کو چھوڑ کر پاپا کے گھر چلی گئی ، ساری بات پاپا کو بتا دی اور وہ میری سب سے بڑی غلطی تھی اور وہی غلطی فرہاد کے قتل کا باعث بنی” شانزے نے شاہیر کو بتایا
“فرہاد کو کسی ٹریفک حادثے کے ذریعے قتل کیا گیا تھا” شانزے نے مزید وضاحت سے بولتے ہوئے کہا
“فرہاد کی موت کے بعد میں بکھڑ کر رہ گئی اور پاپا کے آفس سے جاب چھوڑ دی اور اسی دوران گاڑیوں کے شو روم پر میری ملاقات طیب ارہان سے ہوئی اور دوسری ملاقات بہت یادگار تھی ، طیب نے مجھے دوستی کی پیشکش کی تھی ، مزید ملاقاتوں کے دوران مجھے طیب سے محبت ہو گئی اور میں نے اسے شادی کے لیے پرپوز کیا ، طیب نے مجھے بتایا کہ وہ شادی شدہ ہے اور مجھ سے شادی نہیں کر سکتا ، میں طیب کی اس قدر گرویدہ ہو چکی تھی کہ میں نے اس سے کہا کہ مجھ سے شادی کر لو میں تمہاری بیوی کی سوکن نہیں بلکہ اس کی نوکرانی بن کر رہوں گی لیکن طیب نے میری اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور مجھے کہا کہ اس نے صرف ٹائم پاس کے طور پر مجھ سے دوستی کر رکھی تھی” شانزے شاہیر کو اپنی دوسری محبت کے بارے میں بتاتے ہوئے رو پڑی ۔ شاہیر جو کہ ابھی تک آنکھیں موند کر لیٹا ہوا تھا وہ شانزے کی طر ف متوجہ ہوا ۔
“تو تم طیب کے بارے میں پاپا کو بتا دیتی نا” شاہیر نے شانزے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“پاپا سے ناراضگی چل رہی تھی نا” شانزے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
” ناراضگی کی وجہ فرہاد کا قتل تھا؟” شاہیر نے پوچھا
“نہیں” شانزے نے مختصر جواب دیا
“تو پھر پاپا سے ناراضگی کی وجہ کیا تھی؟” شاہیر نے شانزے سے پوچھا
“تم اتنےسوال کیوں پوچھ رہے ہو مجھ سے؟” شانزے جھنجھلا کر بولی
“اچھا بس ایک آخری سوال” شاہیر نے کہا
“پوچھو” شانزے نے کہا
“کیا تمہاری اب بھی پاپا کے ساتھ ناراضگی چل رہی ہے؟” شاہیر نے متجسس نگاہوں سے شانزے کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“ہاں ، بہت زیادہ” شانزے کرخت لہجے میں بولی اور پھر اٹھ کر کیچن کی طرف چلی گئی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
ذوب نے مٹن قورمہ ، چکن وائٹ کراہی ، مچھلی کا سالن ، فروٹ چاٹ اور کھیر تیار کر کے ڈنر ٹیبل سجا دیا تھا اور خود اپنے روم میں چلی گئی ۔ طیب حماشہ کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا اور ڈائننگ روم کی طرف چلا گیا ۔ میز پر سجائے گئے کھانوں کو دیکھ کر حماشہ دنگ رہ گئی ۔
“یہ اتنے سارے کھانے تم ۔ ۔ ۔ ۔ ” حماشہ حیران ہوتے ہوئے بولی
“ہاں یہ سب کھانے تمہارے لیے ہیں” طیب حماشہ کی بات کاٹتے ہوئے بولا
ذوبا اپنے موبائل فون کی اسکرین پر ڈائننگ روم میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو دیکھ رہی تھی ۔ وہ طیب اور حماشہ کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
شاہیر کی ہدایت کے مطابق توقیر اے ایل کلب چلا گیا اور کچھ اضافی ادائیگی کے بعد اس نے شہنیلا سے ملاقات کے لیے دس منٹ کا ٹائم خرید لیا تھا ۔ اسے بتایا گیا کہ شہنیلا اپنی سر گرمیوں سے فارغ ہو کر ہی رات کے دو بجے ملاقات کرے گی اور اب توقیر کو مزید دو گھنٹے کا انتظار کرنا تھا ۔ دو گھنٹے کے بعد شہنیلا توقیر سے ملاقات کے لیے آئی تو وہ اپنے ہمراہ دو سیکیورٹی گارڈ لے کر آئی ۔ توقیر نے رسمی گفتگو کے بعد شہنیلا کو اپنا تعارف کروایا ۔
“کیا آپ ہمیں ڈیزرٹ سفاری ایریا میں ایک فنکشن کے لیے کچھ لڑکیوں کا انتظام کر دیں گی؟” توقیر شہنیلا کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا
“جی ہم آؤٹ آف کلب کہیں بھی لڑکی سپلائی نہیں کرتے” شہنیلا نے پروقار لہجے میں کہا اور پھر کرسی سے اٹھ کر کیبن سے چلی گئی اور توقیر اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
صبح کے چار بج رہے تھے ۔ فون بجنے کی وجہ سے شاہیر بیدار ہوا ۔ اسے یاد آیا کہ رات کو وہ شانزے کے کمرے میں ہی سو گیا تھا ۔ وہ فرش پر لیٹا ہوا تھا اور جب وہ اٹھ کر کھڑا ہوا تو سر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں ۔اس نے کمرے میں ادھر اودھر دیکھا تو شانزے نظر نہ آنے پر اسے بڑا شاک لگا ۔ اس نے باتھ روم کی طرف دیکھا ۔ باتھ روم کا دروازہ کھلا تھا ۔ پھر وہ کیچن کی طرف گیا تو کیچن کا دروازہ بند تھا تو اس نے ہلکے سے دروازے کو چھو کر دیکھا ۔ کیچن کا دروازہ لاک تھا اور اب وہ سمجھ گیا کہ شانزے کیچن میں سو رہی ہے ۔ شاہیر شوز پہن کر کمرے سے باہر آ گیا اور دروازہ بند کر دیا ۔ توقیر کار میں بیٹھا شاہیر کا انتظار کر رہا تھا ۔ شاہیر کے کار میں بیٹھتے ہی توقیر نے کار چلا دی ۔
“یہ تمہیں سر پر کیا ہوا؟ کیا تمہیں سر پر چوٹ لگی ہے؟” توقیر نے شاہیر سے پوچھا
“شہنیلا سے ملاقات کیسی رہی؟” شاہیر نے توقیر کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا
“ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ، کلب والوں نے اسے کلب کی عمارت میں رہائش دے رکھی ہے اور اس سے بھی زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ کلب والوں نے شہنیلا کو سیکیورٹی بھی دے رکھی ہے” توقیر نے کار کی سپیڈ بڑھاتے ہوئے کہا
“مطلب شانزے کا پاسپورٹ اسی کے پاس ہے” شاہیر بڑبڑایا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Ajab Bandhan Novel By Huma Waqas – Episode 3

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: