Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 5

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 5

–**–**–

پرنس نشے میں مخمور ساؤنڈ پروف کمرے میں قالین پر لیٹا ہوا تھا اور میوزک سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ کمرے کا دروازہ کھلا اور مٹھن گل اندر آیا ۔ مٹھن گل نے اسے بتایا کہ شاہیر آیا ہوا ہے اور وہ پرنس سے ملاقات کا خواہاں ہے ۔ پرنس نے مٹھن گل کو میوزک بند کرنے کے لیے اشارہ کیا اور پھر دوسرا اشارہ شاہیر کو کمرے میں بھیجنے کے لیے تھا ۔ مٹھن گل کے جانے کے چند لمحوں بعد شاہیر کمرے میں داخل ہوا اور دست بوسی کے لیے پرنس کی طرف بڑھا تو پرنس نے اسے دور رہنے کا اشارہ کر دیا اور شاہیر الٹے پاؤں چلتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا ۔
“میں تمہیں منع کیا تھا کہ میرے روبرو مت آنا” پرنس نے خمار آلود لہجے میں کہا
“جس لڑکی کی بدولت میں نے جرائم اور حرام خوری سے توبہ کی ہے اسی لڑکی کا پاسپورٹ اے ایل کلب کی انتظامیہ کے قبضے میں ہے ، بس وہ پاسپورٹ برآمد کرنے کے لیے آپ سے مدد کی امید لے کر حاضر ہوا ہوں” شاہیر نے بات کو طول دئیے بغیر دو ٹوک انداز میں مودبانہ لہجے میں کہا
“تمہارے جانے کے بعد بھالو بھی میرا مال اور پیسہ واپس کر گیا تھا ، بھالو نے مجھے بتایا تھا کہ اس لڑکی کی ہر دعا قبول ہوتی ہے” پرنس نے شاہیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“جی بالکل ایسا ہی ہے ، ہمارے لیے اس نے جتنی دعائیں کیں وہ قبول ہوئیں” شاہیر نے کہا
“میں بھی اس لڑکی سے ایک دعا کروانا چاہتا ہوں” پرنس نے شاہیر کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
“میں شانزے سے بات کروں گا ، اگر وہ رضامند ہو گئی تو میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا” شاہیر نے کہا
“پاسپورٹ کا مسئلہ مٹھن گل کو بتا دو وہ اس کا کوئی نہ کوئی حل نکال لے گا” پرنس نے شاہیر کو جانے لیے اشارہ کرتے ہوئے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
طیب بلیک کوٹ پہنے کے بعد ٹائی باندھتے ہوئے ذوبا کی طرف متوجہ ہوا ۔
“تم نے تو کہا تھا کہ تم میرے ساتھ آفس جایا کرو گی اور اب تیار کیوں نہیں ہوئی؟” طیب نے ذوبا سے پوچھا
“میری طبعیت تھوڑی ناساز ہے ، میں کل جاؤں گی آفس” ذوبا نے مسکراتے ہوئے کہا تو طیب سر ہلاتا ہوا چلا گیا ۔ طیب کو گئے ہوئے آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ سترہ سال کی عمر کا لڑکا آیا اور اس نے مسکراتے ہوئے ذوبا کو سلام کیا ۔
“سامی! کیسے ہیں؟” ذوبا نے اس لڑکے کو سامی کے نام سے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا
“ذوبا آپا! آپ کیسی ہیں؟” سامی نے ذوبا کے سوال کا جواب سوال سے دیا
“میں تو تب ٹھیک ہوں گی جب طیب کی زندگی سے ساری لڑکیاں نکل جائیں گی” ذوبا ایکدم افسردہ ہو گئی اور چند لمحے پہلے چہرے پر جو مسکراہٹ تھی وہ غائب ہو گئی ۔
“آپا! میں نے رات کو حماشہ کا تعاقب کیا تھا اس کے گھر کا پتہ نوٹ کر لیا تھا” سامی نے جیب سے اپنا موبائل فون نکالتے ہوئے کہا تو ذوبا نے ایک ہزار روپے کا نوٹ سامی کی طرف بڑھا دیا تو سامی نے پیسے لینے سے انکار کر دیا
“بھائی بہنوں سے پیسے نہیں لیتے” سامی نے کہا
“بہن کو گوارہ نہیں کہ بہن کی خاطر بھائی کے پیسے خرچ ہوں ویسے بھی میں تو بس پٹرول کے پیسے دے رہی ہوں” ذوبا نے مسکراتے ہوئے کہا تو سامی نے ہچکچاتے ہوئے ہزار روپے کا نوٹ پکڑ لیا ۔ ☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
رات کے دس بج چکے تھے ۔ شاہیر نے شانزے کے روم کے دروازے پر دستک دی ۔ بار بار دستک دینے کے باوجود دروازے نہیں کھلا تھا ۔ شاہیر نے موبائل فون پر شانزے کا نمبر ڈائل کیا ۔ رابطہ قائم ہوتے ہی شاہیر نے شانزے کو دروازہ کھولنے کے لیے بولا اور پھر اگلے ہی لمحے دروازہ کھلا ۔ شانزے نیند سے بوجھل آنکھوں کو مسلتے ہوئے شاہیر کے سامنے کھڑی تھی ۔ شانزے کا آنکھیں مسلنے کا انداز بہت پسند آیا اور وہ مسکرا پڑا اور دروازہ پھر سے بند ہو گیا تو شاہیر کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔ شانزے نے عبایا پہنا اور پھر سے دروازہ کھولا اور اسے اندر کمرے میں آنے کے لیے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔
“ڈنر کر لیا تم نے؟” شاہیر نے شانزے سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔
“پرنس تم سے ملاقات کرنا چاہتا ہے ، اسے بھالو نے بتایا تھا کہ تمہاری دعا قبول ہوتی ہے اور بس اسی وجہ سے پرنس تم سے دعا کروانا چاہتا ہے” شاہیر نے شانزے کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تو شانزے نے شاہیر کی طرف ایک نظر دیکھا ۔ شاہیر سمجھ گیا تھا کہ شانزے نے اسے شک بھری نگاہ سے دیکھا تھا ۔
“کیا تمہیں مجھ پر یقین نہیں؟” شاہیر نے شانزے سے پوچھا
“خود سے زیادہ یقین ہے تم پر” شانزے شاہیر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
“تو پھر مجھے مشکوک نگاہوں سے کیوں دیکھ رہی ہو؟ شاہیر نے سوال داغا
“پرنس سے ملاقات کے لیے اب جانا ہے؟” شانزے نے شاہیر سے پوچھا
“میں بس اسی وقت ہی فارغ ہوتا ہوں” شاہیر نے کہا تو شانزے چل پڑی اور شاہیر اس کے پیچھے چلنے لگا ۔
“یہ کار تمہاری ہے؟” شانزے نے کار کی عقبی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے شاہیر سے پوچھا
“یہ کار توقیر کی ہے” شاہیر نے کار کا اسٹیئرنگ گھماتے ہوئے کہا
“ہم کتنی دیر میں پرنس کی رہائش پر پہنچ جائیں گے؟” شانزے نے پوچھا
“ایک گھنٹے میں” شاہیر نے مختصر جواب دیا تو شانزے نے عبایا کی جیب سے سفید مصنوعی موتیوں والی تسبیح نکال لی ۔
ایک گھنٹے کے بعد کار اپنی منزل پر رکی تو شانزے نے تسبیح جیب میں ڈال لی اور چہرے پر نقاب اوڑھ لیا ۔
یہ کسی فائیو سٹار کی عالیشان عمارت تھی ۔ شاہیر شانزے کو ساتھ لے کر لے کر لفٹ کے ذریعے بیسمنٹ میں لے گیا ۔ ایک تنگ راہداری پر مٹھن گل نے شاہیر اور شانزے کو سلام پیش کیا اور پھر انہیں پرنس کے کمرے میں لے گیا ۔ شاہیر اور شانزے نے پرنس کو سلام کیا تو پرنس نے “” وعلیکم السلام”” کہہ کر سلام کا جواب دیا ۔ پرنس دیوار سے ٹیک لگائے قالین پر بیٹھا تھا جبکہ شاہیر مودبانہ انداز میں ہاتھ باندھ کر اور نظریں جھکا کر پرنس کے سامنے کھڑا تھا جبکہ شانزے اپنے معمول کے مطابق عام انداز میں کھڑی تھی ۔ دو سے تین منٹوں تک کمرے میں خاموشی کا ماحول برقرار رہا ۔
“میں نے سنا ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوتی ہے؟” پرنس نے شانزے کے نقاب شدہ چہرے کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا
“دعا تو ہر اس بندے کی قبول ہوتی ہے جس کا اپنے رب پر یقین کامل ہے اور جو اللہ پر مکمل بھروسہ کرتا ہے” شانزے نے بلا جھجھک بولتے ہوئے کہا
“لیکن میری بہت سی دعائیں رد ہو جاتی ہیں” پرنس نے فکرانگیزانہ انداز میں کہا
“پرنس محترم! آپ حرام کا لقمہ کھانا چھوڑ دیں اور حرام کمائی سے خریدا ہوا لباس نہ پہنیں تو ممکن ہے آپ کی بہت سی دعائیں قبول ہو جائیں” شانزے نے مودبانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تو مٹھن گل نے شانزے کو حقارت سے دیکھا ۔ پرنس نے مٹھن گل کو خاموش رہنے کے لیے اشارہ کیا تو شانزے نے متحیر نگاہوں سے مٹھن گل کو دیکھا ۔
“میں جرائم کی دنیا کا بہت بڑا کیڑا ہوں ، گناہوں کی دلدل سے باہر نکلنا میرے لیے ممکن نہیں” پرنس نے افسردہ لہجے میں کہا
“آپ گناہوں سے توبہ کریں تو گناہوں کی دلدل سے باہر نکل سکتے ہیں” شانزے نے کہا
“میں پانچ سال تک اپنے ہر ایک گناہ کی توبہ کرتا رہا لیکن میں توبہ پر قائم نہ رہ سکا اور پھر میں نے توبہ چھوڑی دی” پرنس کے لہجے میں پہلے سے زیادہ افسردگی تھی ۔
“حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے (جبکہ وہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے) اُس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنی خوشی تم میں سے کسی مسافر کو اپنے اُس (سواری کے ) اونٹ کے مل جانے سے ہوتی ہے جس پر وہ چٹیل بیابان میں سفر کررہا ہو، اُسی پر اس کے کھانے پینے کا سامان بندھا ہو اور (اتفاق سے) وہ اونٹ اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر بھاگ جائے اور وہ (اس کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے) مایوس ہوجائے اور اسی مایوسی کے عالم میں (تھکا ہارا بھوکا پیاسا) کسی درخت کے سایہ کے نیچے لیٹ جائے اور اسی حالت میں (اس کی آنکھ لگ جائے اور جب آنکھ کھلے تو) اچانک اس اونٹ کو اپنے پاس کھڑا ہوا پائے اور (جلدی سے) اس کی نکیل پکڑ لے اور خوشی کے جوش میں (زبان اس کے قابو میں نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی غرض سے) کہنے لگے! اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں (خوشی کے مارے اسے پتہ بھی نہ چلے کہ میں کیا کہہ گیا)(مسلم ، کتاب التوبۃ ، باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بہا)۔
بندہ کی توبہ سے اللہ تعالیٰ کی خوشی بھی اُس کی شانِ ربوبیت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ اس کا ایک بھٹکا ہوا بندہ اپنی نادانی سے شیطان کے فریب میں آکر اس کی عبادت کی راہ سے بھٹک گیا تھا ، راہ راست پر آگیالیکن بندہ کی توبہ واستغفار سے اللہ تعالیٰ کی شان میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ وہ بڑا ہے اور بڑا ہی رہے گا۔ وہ بے نیاز ہے، اسے ہماری ضرورت نہیں لیکن ہم اسکے محتاج ہیں۔ اس کی کوئی نظیر نہیں۔ وہ پوری کائنات کا خالق ومالک ورازق ہے۔ اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرنے کا فائدہ ہمیں ہی پہنچتا ہے ، جس طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پر اس کا نقصان بھی ہمیں ہی پہنچتا ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ اگر گناہ کا تعلق اللہ کے حقوق سے ہے مثلاً نماز وروزہ کی ادائیگی میں کوتاہی یا ان اعمال کو کرنا جن سے اللہ اور اس کے رسولﷺ نے منع کیا ہے، مثلاً شراب پینا اور زنا کرنا۔ توبہ کے لئے 3 شرطیں ہیں:
٭گناہ کو چھوڑنا ٭کئے گئے گناہ پر شرمندہ ہونا۔ ٭
آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا” شانزے بلا توقف بولتی گئی ۔
قرآن پاک میں اللہ کا ارشاد ہے ۔
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ(۲۲۲)
ترجمہ :بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب صاف ستھرے رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
(سورة بقرة آیت نمبر 222)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًاؕ-عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ
ترجمہ :اے ایمان والو!اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جس کے بعد گناہ کی طرف لوٹنا نہ ہو، قریب ہے کہ تمہارا رب تمہاری برائیاں تم سے مٹا دے
(سورة تحریم آیت نمبر 8)
وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ
ترجمہ : اور اے میری قوم! تم اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی بارگاہ میں توبہ کرو
(سورة ھود آیت نمبر 52)
اور حدیث پاک میں ہے ۔
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے وہ شخص جس کا کوئی گناہ نہ ہو۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ،۴/۴۹۱، الحدیث: ۴۲۵۰)
اورحضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جب بندہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اعمال لکھنے والے فرشتوں کو اس کے گناہ بُھلا دیتا ہے،اس کے اَعضا کو بھی بھلا دیتا ہے اور ا س کے زمین پر نشانات بھی مٹا ڈالتاہے یہاں تک کہ جب وہ قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ سے ملے گا تواس کے گناہ پر کوئی گواہ نہ ہوگا۔( الترغیب والترہیب،کتاب التوبۃ والزہد،الترغیب فی التوبۃ والمبادرۃ بہا واتباع السیّئۃ الحسنۃ،۴/۴۸،الحدیث: ۱۷)
“یہ اتنا سارا علم تم نے کہاں سے حاصل کیا؟ کیا تم نے عالمہ ہو؟” پرنس نے شانزے سے پوچھا
“نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں عالمہ نہیں ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ جب میرے شوہر کی موت ہوئی تھی تو میں گھر بیٹھ کر سوگ منانے کی بجائے لڑکیوں کے ایک مدرسہ میں چلی گئی تھی ، یہ سب کچھ میں نے عدت کی مدت پوری کرنے کے دوران سیکھا تھا” شانزے نے پرنس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا
“اچھا مجھے اپنے کسی عزیز کے لیے تم سے دعا کروانی ہے” پرنس نے شانزے سے کہا
“میں آپ کو دعا کا طریقہ بتاتی ہوں اور دعا آپ خود کریں گے” شانزے نے کہا
“سب سے پہلے آپ دو رکعت نفل پڑھیں گے اور کسی ایک گناہ سے سچی توبہ کریں گے ، جس دن آپ نے اپنے خاص مقصد کے لیے دعا مانگنی ہو اس دن حرام کا ایک لقمہ بھی نہ کھانا” شانزے نے شاہیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“اور ہاں جب آپ کی دعا قبول ہو جائے تو سب سے پہلا کام جو آپ کریں گے وہ یہ کہ دعا قبول ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرنا اور اس کے بعد آپ سجدہ شکر بجا لائیں گے” شانزے نے پرنس سے مخاطب ہو کر کہا
“میں آپ کے لیے دعا کروں گی کہ آپ گناہوں کی دلدل سے نکل آئیں اور آپ کو گناہوں سے سچی توبہ کرنے کی توفیق حاصل ہو” شانزے نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Surkh Gulab Novel by Farhat Nishat Mustafa – Episode 9

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: