Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 6

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 6

–**–**–

پرنس سے ملاقات کے بعد شانزے شاہیر کے ساتھ اپنے روم میں واپس آئی ۔ کمرے میں آتے ہی شانزے نے نقاب اتارا اور پانی کے تین گلاس پئیے ۔ شاہیر شانزے کو پانی پیتے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔ شانزے نے چوتھی بار گلاس میں پانی ڈالا اور پورا گلاس پانی شاہیر پر پھینک دیا ۔
“اوہو ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیا بدتمیزی ہے؟” شاہیر نے شانزے سے پوچھا
“تمہیں بار سمجھانا پڑے گا کہ مجھے دیکھ کر مت مسکرایا کرو” شانزے نے غصہ سے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا تو شاہیر ٹھٹک گیا اور پھر واپس جانے کے لیے مڑا تو شانزے نے شاہیر کو اس کا نام پکار کر مخاطب کیا تو شاہیر نے پلٹ کر شانزے کی طرف دیکھا
“تھوڑی دیر بیٹھ جاؤ ، تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں” شانزے نے شاہیر سے کہا تو شاہیر واپس پلٹا اور صوفے پر بیٹھ گیا ۔
“اب کوئی بات بھی کرو یا یونہی خاموش بیٹھے رہو گے” شانزے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد شاہیر سے مخاطب ہوئی
“تم نے کہا تھا کہ تم نے کچھ باتیں کرنی ہیں مجھ سے ، اس لیے اب تم ہی کوئی بات شروع کرو ورنہ خاموش بیٹھی رہو” شاہیر نے شانزے سے کہا
“میرے ذہن میں کوئی بات نہیں آ رہی اس لیے تم کوئی بات کرو” شانزے نے چھت کے ساتھ لگے فانوس کو دیکھتے ہوئے شاہیر سے کہا
“جب تمہارے شوہر فرہاد کی موت ہوئی تو تم اس کی یادوں کو بھلانے کے لیے کسی دینی مدرسے میں چلی گئی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” شاہیر نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی
“تم کہنا کیا چاہتے ہو؟” شانزے نے پوچھا
“میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب طیب سے تمہارے بریک اپ ہوا تھا تو طیب کی یادوں کو مٹانے کے لیے بھی تم نے کسی مدرسے میں پناہ لی تھی؟” شاہیر نے شانزے کے سوال کا جواب بھی سوال سے دیتے ہوئے کہا
“طیب کی یادوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے میں تین ماہ کے لیے عورتوں کے تبلیغی مرکز چلی گئی تھی” شانزے نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا
“تو کیا طیب کی یادوں سے تمہیں چھٹکارا مل گیا تھا؟” شاہیر نے ایک اور سوال داغا
“نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی یادیں آج بھی میرے دل میں زندہ ہیں” شانزے نے شاہیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو شاہیر نے گہری سانس لی اور مایوس کن نظروں سے شانزے کو دیکھا
“کیا ہوا شاہیر؟ تمہارے چہرے کا رنگ کیوں پھیکا پڑ گیا؟” شانزے نے شاہیر سے پوچھا
“مجھے بہت زیادہ تھکاوٹ ہو چکی ہے اور نیند بھی بہت آئی ہوئی ہے” شاہیر جمائی لیتے ہوئے بولا
“او کے ، تم یہاں بیڈ پر سو جاؤ ، میں کیچن میں سو جاؤں گی” شانزے نے شاہیر سے کہا اور پھر چھوٹا کمبل ، تکیہ اور چادر لے کر کیچن میں چلی گئی ۔ شانزے نے کیچن کا دروازہ بند کیا اور مکیف (اے سی) آن کیا ۔ شانزے نے کمبل کیچن کے فرش پر بچھایا اور پھر لیٹ گئی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
صبح کے دس بج رہے تھے جب پرنس اپنے کچھ کارندوں کے ہمراہ اے ایل کلب کے جنرل مینیجر کے فلیٹ پر پہنچ گیا ۔ سیکیورٹی گارڈز کو پرنس کے کارندوں نے گن پوائنٹ پر یرغمال بنا لیا جبکہ پرنس مینیجر کے کمرے کی طرف گیا اور دروازہ پر زور زور سے دستک دینے لگا ۔ دروازہ کھولتے ہی مینیجر نے نیم کھلی آنکھوں کے ساتھ پرنس کو گھورا ۔
“لدى وكيل النادي ، برنس ، جواز سفر يدعى جقن شانسى ، إذا لم تصل إلى العنوان حتى المساء السادس ، فسوف تتصل بـ Dan Walta وستكون مسؤولاً عن النتائج”
ترجمہ : “تمہارے کلب کی ایجنٹ شہنیلا کے پاس جگن شانزے نامی لڑکی کا پاسپورٹ ہے ، اگر وہ پاسپورٹ شام چھ بجے تک اس ایڈریس پر نہ پہنچا تو تمہیں ڈان والٹا کی کال آئے گی اور نتائج کے ذمہ دار تم خود ہو گے” پرنس نے عربی زبان میں بولتے ہوئے کہا تھا اور ایک پرچی مینیجر کے ہاتھ میں تھما دی ۔ مینیجر نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ پرچی پکڑی اور دروازہ بند کر دیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
ذوبا کیچن میں ڈنر کی تیاری میں مصروف تھی کہ اس کا فون بج اٹھا ۔ اس نے فون کی جگمگاتی اسکرین کو دیکھا ۔ سامی کی کال آ رہی تھی ۔ ذوبا نے کال اٹینڈ کی اور سامی سے فون پر بات کرنے کے بعد وہ گھر کے گیٹ کی طرف چلی گئی ۔ گیٹ کھولنے پر سامی اندر آیا ۔
ذوبا کیچن میں ڈنر کی تیاری میں مصروف تھی کہ اس کا فون بج اٹھا ۔ اس نے فون کی جگمگاتی اسکرین کو دیکھا ۔ سامی کی کال آ رہی تھی ۔ ذوبا نے کال اٹینڈ کی اور سامی سے فون پر بات کرنے کے بعد وہ گھر کے گیٹ کی طرف چلی گئی ۔ گیٹ کھولنے پر سامی اندر آیا ۔ سلام و دعا اور رسمی گفتگو گیٹ پر ہی ہوئی اور اس کے ذوبا سامی کو ڈرائنگ روم میں لے گئی ۔
“آپا! کل شام چار بجے حماشہ نے کافی شاپ پر ایک لڑکے سے ملاقات کی تھی اور حماشہ کے جانے کے بعد میں نے اس لڑکے سے ملاقات کی ، مختصر تعارف کے بعد میں نے طیب اور حماشہ کے ایک ساتھ ڈنر والی وڈیو اس لڑکے کو دے تھی” سامی نے اپنے کام اور کارکردگی سے ذوبا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا
“او کے ٹھیک ہے اب تم جاؤ ، دیکھتے ہیں نتیجہ کیا نکلتا ہے” ذوبا نے سامی سے کہا
ذوبا آپا! میرے لائق آپ کو کوئی بھی کام ہو تو بھائی کو ضرور بتائیے گا” سامی نے ذوبا سے کہا اور پھر چلا گیا ۔ ذوبا دوبارہ کیچن میں چلی گئی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ذوبا اور طیب ایک ساتھ ڈنر کر رہے تھے اور اسی دوران طیب کا فون بجنے لگا ۔ طیب نے کال اٹینڈ کی ۔
“گیٹ کھلا ہے اندر آ جاؤ ، میں لاؤنج میں ڈنر” رابطہ قائم ہوتے ہی طیب نے کہا اور کال منقطع کر دی ۔
چند لمحوں بعد حماشہ لاؤنج میں داخل ہوئی ۔ طیب نے حماشہ کو متحیر نگاہوں سے دیکھا ۔ حماشہ کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں تھے ۔ ذوبا نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور وہ اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
“کیا ہوا ہے تمہیں؟ تم اتنے غصے میں کیوں ہو؟”طیب نے کرسی سے اٹھتے ہوئے حماشہ سے پوچھا تو حماشہ نے طیب کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا ۔
“کمینے ذلیل انسان! تم نے مجھے ڈنر پر بلا کر میری وڈیو بنا لی اور پھر وہ وڈیو میرے منگیتر کو سینڈ کری ، تم نے ایسا کیوں کیا کیوں کیا؟” حماشہ طیب کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھورتے ہوئے بولی
“یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ کون منگیتر؟ کیسی وڈیو؟” طیب نے حماشہ سے ایک ساتھ کئی سوالات پوچھے ۔ حماشہ نے طیب کے کسی سوال کا جواب دئیے بنا اسے اپنے موبائل سے وڈیو دکھائی ۔ یہ وہی وڈیو تھی جس میں طیب اور حماشہ کو کھانا کھانے کے ساتھ ساتھ خوش گپیاں کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا ۔ وڈیو دیکھ کر طیب بھی حیران اور پریشان تھا ۔
“خبردار! آئندہ مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کرنا ، میں اب تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی” حماشہ نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا اور پھر کھانوں اور برتنوں سے سجی سجائی میز پر پلٹ کر چلی گئی ۔
طیب فوری طور پر بیڈ روم کی طرف گیا ۔ ذوبا اپنے موبائل فون کی اسکرین پر شہادت کی انگلی پھیر رہی تھی ۔ طیب نے ذوبا سے موبائل فون چھین لیا اور ذوبا کا فون آپریٹ کرنا شروع کر دیا ۔ ذوبا بڑا سا منہ بنائے طیب کو دیکھ رہی تھی ۔
“طیب! میرا فون کیوں کھنگال رہے ہو؟ کیا سرچ کر رہے ہو؟” ذوبا نے اپنے بھولا پن ظاہر کرتے ہوئے کہا
“تم نے میرے اور حماشہ کے ڈنر کی وڈیو بنائی ہے اور اب انجان بن رہی ہو؟” طیب نے غصے غڑاتے ہوئے کہا اور ذوبا کا فون بیڈ پر پھینک دیا ۔
“وہ وڈیو کہاں ہے؟” طیب نے ذوبا کو گردن سے پکڑتے ہوئے پوچھا
“مجھے بتاؤ وہ وڈیو کہاں ہے ورنہ تمہارا گلا دبا دوں گا” طیب ذوبا کی گردن پر دباؤ بڑھاتے ہوئے بولا تو ذوبا نے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے سیف الماری کی طرف اشارہ کیا ۔ طیب ذوبا کو چھوڑ کر سیف الماری کی طرف بڑھا تو ذوبا کمرے سے باہر نکل گئی اور کمرے کا دروازہ باہر سے لاک کر دیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
رات کے آٹھ بج رہے تھے ۔ شانزے کے روم کے دروازے پر دستک ہوئی ۔ شانزے نے عبایا پہنا اور دروازے کھولا تو سامنے شاہیر کھڑا تھا ۔ شانزے سامنے سے ہٹ گئی اور شاہیر کو اندر آنے کے لیے راستہ دیا ۔
“تم نے ڈنر کر لیا ہے؟” شاہیر نے شانزے سے پوچھا تو شانزے نے “”ہاں”” میں جواب دیا
“لیکن میں تو یہ سوچ کر یہاں آیا تھا کہ تمہارا ہاتھ کا بنا ہوا کھانا نصیب ہو جائے گا” شاہیر نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
“اگر ایسی بات ہے تو میں تمہارے لیے کھانا تیار کر لیتی ہوں” شانزے مسکراتے ہوئے بولی اور پھر کیچن کی طرف بڑھ گئی ۔ ابھی شانزے نے چولہے پر فرائی پین رکھا ہی تھا کہ شاہیر بھی کیچن میں آ گیا ۔
“یہاں کیوں آئے ہو؟” شانزے نے شاہیر سے پوچھا
“تم سے باتیں کرنے کے لیے” شاہیر نے مختصر جواب دیا
او کے ۔ ۔ ۔ ۔ کرو باتیں ، میں سن رہی ہوں” شانزے فرائی پین میں آئل ڈالتے ہوئے بولی
“تمہارا پاسپورٹ مل گیا ہے لیکن اگر تم میری تین شرائط قبول کرو گی تو میں تمہیں تمہارا پاسپورٹ دوں گا” شاہیر نے شانزے سے کہا تو شانزے نے شاہیر کی طرف دیکھا اور پھر اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا ۔
“کون سی تین شرائط ہیں؟” شانزے نے شاہیر سے پوچھا
“پہلی شرط یہ ہے کہ تم اپنے پاپا سے ناراضگی کی وجہ بتاؤ گی ، دوسری شرط یہ ہے کہ اب تک میں نے تمہاری خاطر جتنے درہم خرچ کیے وہ مجھے واپس نہیں کرو گی کیونکہ تم میری مہمان ہو اور مہمان کی خدمت کرنا میزبان کا فرض ہوتا ہے” شاہیر دو شرطیں بتا کر خاموش ہو گیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: