Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 7

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 7

–**–**–

“تمہارا پاسپورٹ مل گیا ہے لیکن اگر تم میری تین شرائط قبول کرو گی تو میں تمہیں تمہارا پاسپورٹ دوں گا” شاہیر نے شانزے سے کہا تو شانزے نے شاہیر کی طرف دیکھا اور پھر اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا ۔
“کون سی تین شرائط ہیں؟” شانزے نے شاہیر سے پوچھا
“پہلی شرط یہ ہے کہ تم اپنے پاپا سے ناراضگی کی وجہ بتاؤ گی ، دوسری شرط یہ ہے کہ اب تک میں نے تمہاری خاطر جتنے درہم خرچ کیے وہ مجھے واپس نہیں کرو گی کیونکہ تم میری مہمان ہو اور مہمان کی خدمت کرنا میزبان کا فرض ہوتا ہے” شاہیر دو شرطیں بتا کر خاموش ہو گیا
“اور تیسری شرط کون سی ہے؟” شانزے نے پوچھا
“تیسری شرط یہ ہے کہ تم مجھ سے دوستی کروگی ، دوستی کے بعد پاکستان جا کر بھی تمہیں مجھ سے رابطہ رکھنا ہو گا” شاہیر نے شانزے سے کہا تو شانزے نے شاہیر کو ایک نظر دیکھا اور پھر کھانا تیار کرنے میں مصروف ہو گئی ۔
“پاکستان جا کر فون پر تم سے رابطہ رکھنا پڑے گا؟” شانزے نے پوچھا
“جی بالکل” شاہیر نے مختصر جواب دیا ۔ شانزے تیارشدہ کھانا لے کر کیچن سے کمرے میں آئی تو شاہیر نے دسترخوان بچھا دیا ۔ شانزے نے کھانا دسترخوان پر رکھا ۔ شاہیر نے بسم اللہ شریف پڑھی اور کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو شانزے نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
“مجھے تمہاری تینوں شرائط منظور ہیں اور اب مجھے میرا پاسپورٹ دو پھر تمہیں کھانا کھانے دوں گی” شانزے نے شاہیر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو شاہیر اٹھ کر کھڑا ہوا اور پینٹ کی جیب سے پاسپورٹ نکال کر شانزے کو دیا ۔ شانزے نے آنکھوں سے کھانے کی طرف اشارہ کیا تو شاہیر کھانا کھانے کے لیے بیٹھ گیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
پرنس پچھلے چھتیس گھنٹوں سے مصلے پر بیٹھا دعا مانگنے میں مصروف تھا ۔
“پرنس محترم! آپ کی دعا قبول ہو چکی ہے ، صمامہ کا فون آیا تھا ، وہ بتا رہی تھی کہ آپ کی بیٹی اچانک صحتیاب ہو گئی ہے اور اب وہ خود اپنے پاؤں پر چل سکتی ہے” مٹھن گل نے پرنس کو بتایا تو پرنس نے خدا کا شکر ادا کرنے کے لیے اپنا سر سجدے میں رکھ دیا ۔
“پرنس آپ نے پچھلے دو دن سے کچھ نہیں کھایا ، یہ میں کسی مسجد سے کچھ کھجوریں اور پانی لے کر آیا ہوں” مٹھن گل نے کھجوروں کی کٹوری پرنس کے پاس رکھتے ہوئے کہا اور پھر پانی کی بوتل اس کے قریب فرش پر رکھ دی ۔ اب مٹھن گل پرنس کے سجدے سے سر اٹھانے کا انتظار کرنے لگا ۔ دس منٹوں تک انتظار کرنے کے بعد مٹھن گل کو کوئی کام یاد آیا تو وہ کمرے سے باہر چلا گیا ۔ تقریبا ایک گھنٹہ بعد جب وہ واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ پرنس اب بھی سجدے کی حالت میں ہے ۔ مٹھن گل نے پرنس کو کندھے سے پکڑ کر ہلایا تو پرنس کا جسم ایک طرف کو لٹک گیا ۔ پرنس مر چکا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
شام کے چار بج رہے تھے ۔ شمال کی جانب سے ٹھنڈی مگر ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی ۔ دوبئی میں قدرتی طور پر چلنے والی ہوا کو بہت بڑی نعمت سمجھا جاتا ہے ۔ چار بجے سے چھ بجے تک کا ٹائم خاص سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان دو گھنٹوں کے دوران دوبئی کے اکثر علاقوں میں خوب ہوا چلتی ہے اور لوگ سیر و تفریح کے لیے پارکوں ، تفریحی مقامات اور سمندری ساحلوں کا رخ کرتے ہیں ۔ شانزے اور شاہیر نے لطف اندوز ہونے کے لیے کریک سائیڈ پارک کا رخ کیا ۔ یہ پارک شانزے کی رہائش سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اس لیے شانزے اور شاہیر نے پیدل چل کر پارک جانے کا فیصلہ کیا ۔
شانزے عبایا ملبوس شاہیر کے ساتھ کریک سائیڈ پارک میں گھوم رہی تھی ۔
“پارک میں گھومنے کا پلان کیا ہے؟” شانزے نے پوچھا
“پہلے تم اونٹ کی سواری کرو گی ، پھر ہم کیٹ ہاؤس جائیں گے اور اس کے بعد تمہاری چوائس کے مطابق پلان بنے گا” شاہیر نے شانزے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے کہا اور تب وہ کریک سائیڈ پارک میں ریت کے مخصوص میدان کی طرف چل پڑے ۔ ریت کے میدان میں کافی سارے اونٹ اور ان کے مالکان موجود تھے ۔ شاہیر شانزے کو ایک اونٹ کے پاس لے گیا ۔ یہ اونٹ ریت کے بڑے ٹیلے پر بیٹھا ہوا تھا ۔
“شانزے! ڈرو نہیں ، یہ سدھارے ہوئے اونٹ ہیں ، تم اس سے نہیں گرو گی” شاہیر نے شانزے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا تو شانزے کا خوف قدرے کم ہو گیا اور وہ اونٹ پر سوار ہو گئی ۔ شاہیر نے اونٹ کی مہار پکڑی تو اونٹ اٹھ کھڑا ہوا ۔ اونٹ نے چلنا شروع کیا تو شانزے تھوڑی آگے کو جھکی اور اونٹ کی گردن کو مضبوطی سے پکڑا لیا ۔ شانزے کی نظریں اونٹ کے سر پر مرکوز تھیں جبکہ شاہیر شانزے کو خوفزدہ حالت میں دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔ شاہیر مہار پکڑے دوڑنے لگا تو اونٹ بھی دوڑنے لگا ۔ جب اونٹ نے دوڑنا شروع کیا تو شانزے نے زور زور سےچیخنا چلانا شروع کر دیا ۔ اب شاہیر دوڑنے کی بجائے نارمل طور پر چلنے لگا ۔ ساٹھ بائے ساٹھ میٹر کے میدان کا چکر پورا کرنے کے بعد اونٹ دوبارہ ریت کے ٹیلے پر چڑھ کر بیٹھ گیا ۔ شانزے اونٹ سے اتری تو وہ پسینے سے شرابور تھی ۔ اس نے شاہیر کو غصے سے دیکھا تو شاہیر بہت مشکل کے ساتھ اپنی مسکراہٹ دبا پایا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
سامی سے فون پر بات کرنے کے بعد ذوبا نے ڈرائنگ روم کا بیرونی دروازہ کھولا ۔
“ذوبا آپا! آپ لنگڑا کر کیوں چل رہی ہیں؟” سامی نے ڈرائنگ روم میں قدم رکھتے ہی ذوبا سے پوچھا
“طیب اور حماشہ کا بریک اپ ہو گیا ، طیب نے بریک اپ کا ذمہ دار مجھے سمجھا اور پھر میری خوب پٹائی کی” ذوبا نے پلٹ کر سامی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو ذوبا کے چہرے پر زخموں کے نشان دیکھ کر سامی کی حیرت میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ اس نے طیب کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا تو ذوبا نے خاموش رہنے کے لیے اشارہ کیا
“تمہیں یہاں اس لیے نہیں بلایا کہ تم میرے شوہر کو برا بھلا کہو بلکہ تمہیں کسی ضروری کام سے بلایا تھا” ذوبا نے سامی کو ایک پرچی دیتے ہوئے کہا
“یہ نمبر کسی لڑکی کا ہے اور یہ بھی طیب کے ساتھ چکر چلا رہی ہے ، باقی کا کام تم سمجھ گئے ہو نا؟” ذوبا نے سامی کو سوالیہ انداز میں کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
اونٹ کی سواری کے بعد شاہیر شانزے کو کیٹ ہاؤس لے گیا ۔ کیٹ ہاؤس میں جاتے ہی ایک فلپینی لڑکی شاہیر اور شانزے کو لوہے کی سبز جالی کے پنجرہ نما کمرے لے گئی اور انہیں کمرے کے وسطی حصہ میں کھڑا کر کے کمرے سے باہر چلی گئی ۔ اس نے جالی نما کمرے کا جالی دار دروازہ بند کر دیا ۔ شاہیر اور شانزے نے دیکھا کہ کمرے کے ایک کونے میں کتا کھڑا تھا جبکہ دوسرے کونے میں ایک جنگلی بلی کھڑی تھی ۔ کتے نے شاہیر اور شانزے کو دیکھا تو وہ ان پر حملہ کی لیے جپٹا اور اسی لمحے جنگلی بلی نے چھلانگ لگائی اور ہوا میں کلا بازیاں کھاتے ہوئے کتے سے ٹکرائی ۔ کتا فرش پر گرا تو جنگلی بلی نے کتے کو اپنے پنجوں میں دبوچ لیا اور چند سیکنڈز میں اپنے نوکیلے پنجوں سے کتے کو لہو لہان کر دیا اور پھر دو سے تین منٹوں بعد کتا مر گیا ۔ اب بلی نے شاہیر اور شانزے کی طرف چھلانگ لگائی تو شانزے نے دونوں کلائیوں سے چہرے کو چھپایا اور اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر ایک زوردار چیخ ماری جبکہ بلی قلابازیاں مارتے ہوئے شاہیر اور شانزے کے سر کے اوپر سے گزر گئی ۔ شانزے نے خوفزدہ نگاہوں سے شاہیر کو دیکھا اور پھر جالی سے بنی دیوار کے باہر فلپینی لڑکی کو دیکھا ۔ اب جنگلی بلی شانزے کے پاؤں میں بیٹھی تھی ۔ فلبینی لڑکی نے دروازہ کھولا اور گوشت کا ایک ٹکڑا شانزے کے پاؤں میں پھینکا تو بلی وہ ٹکرا لے کر اسی کونے میں جا کر بیٹھ گئی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 13

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: