Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 8

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 8

–**–**–

سورج غروب ہو چکا تھا اور اب کافی اندھیرا چھا گیا تھا ۔شاہیر شانزے کو کریک سائیڈ پارک کی مزید سیر کروانا چاہتا تھا لیکن وہ اب اپنے روم میں واپس جانے کی ضد کر رہی تھی ۔
“یہاں پارک کے باہر ایک بہت اچھا ہوٹل ہے ، وہاں سے کھانا کھاتے ہیں پھر اس کے بعد روم میں چلی جانا” شاہیر نے شانزے کا راستہ روکتے ہوئے کہا
“شاہیر! اس وقت مجھ سے زیادہ میری روح بھوکی ہے ، تمہاری وجہ سے میری دو نمازیں قضا ہو گئیں ، تم خود تو غافل انسان ہو لیکن آج مجھے بھی نماز سے غافل کر دیا” شانزے نے بیزاریت اور اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا تو شاہیر نے شانزے کا راستہ چھوڑ دیا اور خود شانزے کے پیچھے چل پڑا ۔ روم میں پہنچتے ہی شانزے نے دروازہ اندر سے بند کر دیا ۔
“شانزے! دروازہ لاک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم جانتی ہو میرے پاس تمہارے روم کی ڈپلی کیٹ چابی ہے” شاہیر نے زور سے آواز دی تو شانزے نے دروازہ کھولا
“شاہیر! پلیز ابھی تم چلے جاؤ اور صبح آ جانا ، میری دو نمازیں قضا ہو گئیں ہیں ، مجھے خود پر بہت غصہ آ رہا ہے اور میں جی بھر کے رونا چاہتی ہوں” شانزے نے شاہیر سے کہا اور دروازہ دوبارہ بند کر دیا تو شاہیر دروازے کے باہر فرش پر بیٹھ گیا ۔ شانزے نے دروازہ لاک کیا اور گھسیٹتے ہوئے بڑا صوفہ دروازہ کے ساتھ رکھ دیا اور پھر چھوٹے دونوں صوفے گھسیٹ کر بڑے صوفے کے جوڑ دئیے تا کہ اگر شاہیر دروازے کا لاک کھول بھی لے تو دروازہ نہ کھول سکے ۔
شانزے بے قراری سے روم میں چہل قدمی کرنے لگی ۔ چند لمحوں بعد ہی شانزے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ اب وہ فرش پر بیٹھ کر بے آواز رو رہی تھی اور ساتھ ہی روتے ہوئے وہ نماز قضا ہونے پر اللہ کے سامنے شرمندہ ہو رہی تھی ۔ وہ تقریبا ایک گھنٹہ تک روتی رہی اور پھر باوضو ہو کر عصر اور مغرب کی نماز قضا کے طور پر پڑھی اور پھر عشاء کی نماز ادا کی اور بستر پر لیٹ گئی اور نیند آنے کا انتظار کرنے لگی ۔ ایک گھنٹہ گزر گیا لیکن شانزے کو نیند نہ آئی ۔
“میں نے قضا نمازیں بھی پڑھ لیں اور عشاء کی نماز بھی ادا کر لی لیکن پھر بھی میری روح بے چین اور بے قرار کیوں ہے؟”شانزے نے سوچتے ہوئے خود سے سوال کیا اور پھر بجلی کی سی تیزی کے ساتھ وہ بستر سے اٹھی اور دوبارہ مصلے پر بیٹھ گئی ۔ شانزے نے نمازیں قضا کرنے پر اللہ سے معافی مانگی اور پھر سچے دل سے توبہ کی ۔ اب وہ دوبارہ بستر پر لیٹی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔ شانزے اٹھی دروازے کی طرف بڑھی اور صوفے پر چڑھ کر دروازے کے ساتھ کھڑی ہو گئی ۔
“شاہیر! میں نے تمہیں جانے کو کہا تھا” شانزے دروازے کے ساتھ منہ لگا کر بلند آواز میں بولی
“میں کھانا لے کر آیا ہوں ، اپنے حصے کا کھانا لے لو تو میں چلا جاؤں گا” شاہیر کی بات سنتے ہی شانزے نے صوفے سے اتر کر پہلے چھوٹے دونوں سنگل صوفے ہٹائے اور پھر بڑا صوفہ دروازے کے سامنے سے ہٹا کر دروازہ کھولا تو دروازے کے سامنے شاہیر انتہائی افسردہ حالت میں کھڑا تھا ۔ اس نے ایک تھیلا شانزے کی طرف بڑھایا ۔
“اندر آنے کے لیے نہیں کہو گی؟” شاہیر نے شانزے سے پوچھا
“صبح ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاہیر صبح آنا ، اب میں بہت اپ سیٹ ہوں” شانزے نے شاہیر سے تھیلا پکڑتے ہوئے کہا اور پھر دروازہ بند کر دیا ۔ شانزے نے جلدی سے پلاسٹک شیٹ فرش پر بچھائی اور کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی ۔ کھانا کھانے کے بعد شانزے نے بیڈ سے فون پکڑا اور شاہیر کا نمبر ڈائل کر دیا ۔
“یہ کونسی ڈش تھی؟ مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا کہ میں کیا کھا رہی ہوں” فون کال پر رابطہ قائم ہوتے ہی شانزے نے شاہیر سے پوچھا
“یہ عرب ممالک کی مشہور ڈش ہے اور اس ڈش کا نام مرسا ہے ، کیلا اور پراٹھا مشین میں ڈال کر مکس کیا جاتا ہے اور بعد میں شہد اور دیسی گھی ڈال کر چمچ کی مدد سے اسے دوبارہ مکس کیا جاتا ہے” شاہیر نے شانزے کو بتایا
“او کے ، ٹھیک ہے ، میں اب سونے لگی ہوں ، تم بھی سو جاؤ” شانزے نے شاہیر سے کہا اور کال منقطع کر دی ۔ اب شانزے دوبارہ نیند کا انتظار کرتے ہوئے سونے کی کوشش کرنے لگی ۔
“آج میری روح اتنی بے قرار کیوں ہے” شانزے نے پھر خود سے سوال کیا ۔
“شانزے! تمہیں اگر ایک دن بھوک کے ساتھ گزارنا پڑے اور پھر دوسرے دن تمہیں کھانا دیا جائے تو تمہاری کیفیت کیا ہو گی؟” شانزے اپنے ضمیر کے سوال پر چونک پڑی ۔
“اب اگر تم اپنی روح کو وقت پر غذا نہیں دو گی تو روح پرسکون کیسے ہو گی اور جب روح بے سکون ہو گی تو تم خود سکون کی نیند کیسے سو پاؤ گی؟” شانزے کے ضمیر نے شانزے کو جھنجھورتے ہوئے اس سے سوال کیا تو شانزے مصلے پر کھڑی ہوئی نوافل ادا کرنے لگی ۔ ابھی اس نے آٹھ نوافل ہی ادا کیے تھے کہ اسے نیند آنا شروع ہو گئی لیکن اب اسے عبادت کرنے میں مذا آ رہا ہے تھا اور اب وہ سونا نہیں چاہتی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
پرنس کی بیٹی ریمل زیب صحتیاب ہونے کے بعد دوبئی پہنچ گئی اور اپنے باپ کا آخر دیدار کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ پرنس کی تدفین کے بعد مٹھن گل نے ریمل زیب سے ملاقات کی تو ریمل نے مٹھن کوٹ سے اپنے باپ کی موت کا سبب پوچھا
“کچھ دن پہلے پرنس محترم نے ایک لڑکی جگن شانزے کے بارے میں سنا تھا کہ اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور اسے آپ کی صحتیابی کے لیے دعا کرنے کو کہا ، شانزے نے دعا کرنے سے انکار کر دیا اور پرنس محترم کو کہا کہ اگر وہ گناہوں سے سچی توبہ کر لیں اور حرام کھانا کمانا چھوڑ دیں تو خود پرنس محترم کی دعا بھی قبول ہو سکتی ہے ، پرنس محترم نے انڈر ورلڈ کا سارا بزنس چھوڑ دیا اور مسلسل عبادت اور دعا میں وقت گزارنے لگے ، میں جو بھی کھانے کے لیے پیش کرتا پرنس محترم اس کھانے کو حرام کمائی کا تحفہ کہہ کر کھانے سے انکار کر دیتے اور بس آپ کی صحتیابی کی دعا مانگتے رہے ، جب میں نے پرنس محترم کو آپ کی صحتیابی کی خوشخبری سنائی تو اس کے چند گھنٹوں بعد پرنس محترم فوت ہو گئے” مٹھن گل نے ریمل زیب کو ساری تفصیل بتاتے ہوئے کہا
“ہم جگن شانزے سے ملنا چاہتے ہیں” ریمل زیب نے کہا
“جی میں پوری کوشش کروں گا کہ میں شانزے سے آپ کی ملاقات کروا سکوں” مٹھن گل نے ریمل زیب سے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
ذوبا نے میز پر ناشتہ لگایا اور طیب کو ایک ساتھ ناشتہ کرنے کے لیے کہا تو طیب نے اسے غصہ سے دیکھا اور پھر ناشتہ کیے بغیر آفس جانے کے لیے وہ گیٹ کی طرف بڑھا
“کل میں نے شانزے کے پاپا سے ملاقات کی تھی اور میں تم سے شانزے کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں” ذوبا نے کہا تو ذوبا کی بات سنتے ہی طیب کے قدم رک گئے اور اس نے پلٹ کر ذوبا کی طرف دیکھا اور پھر ناشتے کی میز پر آ گیا
“پہلے ناشتہ کرو پھر شانزے کے بارے میں بات کروں گی” ذوبا نے مسکراتے ہوئے کہا اور اپنے ہاتھ سے پراٹھے کا لقمہ طیب کے منہ کی طرف بڑھایا ۔ جب طیب نے ناشتہ کر لیا تو ذوبا کی طرف متجسس نگاہوں سے دیکھا
“شانزے کے والد لیان صاحب سے ملاقات ہوئی تھی ، وہ بتا رہے تھے کہ شانزے پچھلے تین سال سے ان سے ناراض ہو کر چلی گئی تھی اور اس نے اپنی سہیلی صبغہ کے ساتھ رہنا شروع کر دیا تھا” ذوبا طیب کو دیکھتے ہوئے بولی
“تم نے لیان صاحب کا ایڈریس کہاں سے لیا تھا” طیب نے ذوبا سے پوچھا
“شانزے جس اسکول میں پڑھاتی تھی وہاں سے اس کے قومی شناختی کارڈ کا نمبر لیا تھا اور نادرہ کی ویب سائیٹ سے ڈیٹا چیک کیا تو معلوم ہوا کہ شانزے لیان صاحب کی بیٹی ہے اور لیان صاحب تو میرے پاپا کے دوست ہیں” ذوبا نے طیب کو بتاتے ہوئے کہا
“لیان صاحب نے مجھے صبغہ کا ایڈریس دیا ہے لیکن میں صبغہ کے پاس تب جاؤں گی جب تم مجھ سے معافی مانگو گے” ذوبا نے طیب سے مسکراتے ہوئے کہا
“کس بات کی معافی؟” طیب نے چونکتے ہوئے پوچھا
“تم نے جو مجھے مارا پیٹا تھا اس کے لیے تمہیں مجھ سے معافی مانگنا ہو گی” اب کی بار ذوبا نے سنجیدہ لہجے میں کہا
“تم نے میرا اور حماشہ کا جھگڑا کروایا تھا ، تمہاری غلطی تھی اس لیے تمہاری پیٹائی کی تھی” طیب نے کرخت لہجے میں کہا
“طیب! غلطی تمہاری تھی ، تمہیں اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی لڑکی سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے تھی” ذوبا نے دائیں آنکھ کی آبرو اوپر تک کھینچتے ہوئے سخت لہجے میں کہا
“میں نے تمہیں بتایا تو تھا کہ میں نے صرف گپ شپ کے لیے حماشہ سے دوستی کر رکھی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” طیب نے بات ادھوری چھوڑ دی
“کیا میں گپ شپ نہیں کرتی ہوں یا مجھ سے گپ شپ کرنے میں تمہیں مذا نہیں آتا؟” ذوبا نے طیب سے پوچھا
“ذوبا! اب چھوڑ بھی دو ان فضول باتوں کو” طیب نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا
“معافی تو تمہیں مانگنی ہی پڑے گی” ذوبا نے بڑا سا منہ بناتے ہوئے کہا
“اچھا ٹھیک ہے ، میں تم سے معافی مانگتا ہوں پلیز مجھے معاف کر دو” طیب نے طنزیہ لہجے میں کہا
“میں ایسے معاف نہیں کروں گی ، پہلے تم گھٹنوں کے بل بیٹھو اور ہاتھ جوڑ کر معافی مانگو گے تب معافی ملے گی” ذوبا نے مسکراتے ہوئے کہا
“پہلے تم صبغہ سے ملاقات کر کے شانزے کا فون نمبر لاؤ ، پھر جیسے کہو گی ویسے معافی مانگو گا” طیب نے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 16

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: