Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 9

0

یقین کامل از وحید سلطان – قسط نمبر 9

–**–**–

صبح کے نو بج رہے تھے ۔ شانزے شاہیر کے ساتھ شاپنگ کے لیے جا رہی تھی ۔ وہ عقبی سیٹ پر بیٹھی تھی جبکہ شاہیر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا کار ڈرائیو کر رہا تھا ۔ کار دوبئی کے مشہور ترین علاقے العین میں پہنچ چکی تھی ۔ شاہیر کار چلاتے ہوئے ال جیمی شاپنگ مال تلاش کر رہا تھا ۔ دس بجے کار ال جیمی شاپنگ مال کے سامنے رک چکی تھی ۔
“تم نے اپنے پاپا سے ناراضگی کی وجہ نہیں بتائی؟” شاہیر نے سوالیہ انداز میں پوچھا
“وہ شخص میری ماں کا قاتل ہے” شانزے نے اپنے پاپا سے ناراضگی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا اور پھر شاہیر کے ہمراہ شاپنگ مال میں داخل ہوئی ۔ شاہیر نے حیرت سے شانزے کے چہرے کو دیکھا جبکہ شانزے کے چہرے پر افسردگی اور غمزدگی کے آثار نمایاں تھے ۔
“میں تو سوچ رہا تھا کہ تمہاری پاپا سے صلح کرواؤں گا لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “شاہیر نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا
“ہاں ، صلح کے بارے میں سوچنا بھی مت” شانزے نے کہا اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں تو وہ تیز تیز قدموں کے ساتھ شاہیر سے آگے چلنے لگی ۔ شاید یہ سے اپنے آنسو چھپانے کی ایک کوشش تھی ۔
” تمہارے پاپا نے تمہاری ماما کو قتل کیوں کیا تھا؟” شاہیر نے شانزے سے پوچھا
“پاپا جوا کھیلتے تھے اور ماما اور پاپا کے درمیان جھگڑے کی یہی ایک وجہ تھی” شانزے نے شاہیر کو بتایا
“تمہاری نظروں کے سامنے تمہارے پاپا نے تمہاری ماما کو قتل کیا تھا؟” شاہیر نے شانزے سے پوچھا تو شانزے نے رک کر شاہیر کی طرف پلٹ کر کوفت سے دیکھا
“تم اتنے سوال کیوں کرتے ہو؟” شانزے نے شاہیر کے سوال کا جواب سوال سے دیا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شانزے کو اس کے روم میں ڈراپ کرنے کے بعد شاہیر اپنے دوست توقیر سے ملاقات کرنے کے لیے اس کے سپر سٹور پر چلا گیا ۔ سلام کا جواب ملنے کے بعد وہ توقیر کے پاس لکڑی کے چھوٹے سے بینچ پر بیٹھ گیا ۔
“کیا ہوا ہے تمہیں؟ تم کافی پریشان لگ رہے ہو؟” توقیر نے پوچھا
“شانزے دو دن بعد پاکستان چلی جائے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔” شاہیر نے توقیر کی بات کا ادھورا جواب دیتے ہوئے کہا
“لیکن وہ تو دوبئی جاب کرنے کے لیے آئی تھی نا؟” توقیر کا لہجہ استفہامیہ تھا
“ہاں لیکن اب وہ یہاں جاب نہیں کرنا چاہتی ، اس کی دوست نے پاکستان میں اس کے لیے کوئی اچھی جاب تلاش کر رکھی ہے”شاہیر نے توقیر کے سوال کا جواب دیا ۔
“توقیر! میں شانزے کے بغیر نہیں رہ سکتا ، میں کل کی فلائیٹ سے پاکستان جا رہا ہوں اور مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے” شاہیر نے کہا تو توقیر نے کاؤنٹر باکس کا لاک کھولا اور چند نوٹ شاہیر کو دے دئیے ۔
“اگر مزید ضرورت پڑے تو ضرور بتانا مجھے ، جب میں دوبئی آیا تھا تو تم نے بھی بغیر کسی حساب کے مجھ پر درہم خرچ کیے تھے” توقیر نے شاہیر کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا تو شاہیر نے مسکراتے ہوئے توقیر کا شکریہ ادا کیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
شانزے فون پر اپنی دوست صبغہ سے باتیں کر رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔ شانزے نے دروازہ کھولا تو شاہیر ایک بڑا سا ڈبہ پکڑے کھڑا تھا ۔ شانزے نے ہاتھ سے شاہیر کو روم میں آنے کے لیے اشارہ کیا ۔ شاہیر بیٹھ کر شانزے کو دیکھتا رہا جبکہ شانزے صبغہ سے مسلسل فون پر باتوں میں مصروف تھی ۔ دس منٹوں تک صبغہ سے باتیں کرنے کے بعد شانزے نے کال منقطع کر دی اور شاہیر کی طرف متوجہ ہوئی ۔
“تم نے دو دن بعد چلے جانا ہے تو اس لیے یہ گفٹ لایا ہوں تمہارے لیے ، خاص طور پر تمہارے لیے ڈیزائن کروایا ہے” شاہیر نے ڈبہ شانزے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
“میں کسی ضروری کام سے جا رہا ہوں اس لیے تم سے الوداعی ملاقات کرنا چاہتا تھا” شاہیر نے کہا تو شانزے نے متحیر نگاہوں سے شاہیر کو دیکھا
“تو مجھے ائیرپورٹ کون ڈراپ کرے گا؟” شانزے نے متحیر لہجے میں پوچھا
“توقیر” شاہیر نے مختصر جواب دیا
“ایک گفٹ میں بھی تمہیں دینا چاہتی ہوں” شانزے نے شرماتے ہوئے کہا
“گفٹ کسی کو پوچھ کر یا بتا کر تھوڑی دیا جاتا ہے” شاہیر نے کہا تو شانزے مسکرا پڑی ۔
“یہ ڈائری میں نے تمہیں گفٹ دینے کے لیے لکھی ہے لیکن میں چاہوں گی کہ تم یہ ڈائری الٹی سائیڈ سے یعنی آخری صفحہ سے پڑھنا شروع کرو گے” شانزے نے ڈائری شاہیر کی طرف بڑھاتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔ ڈائری لینے کے بعد شاہیر نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ شانزے کا شکریہ ادا کیا اور جانے کے لیے شانزے سے اجازت مانگی ۔
“چلو ٹھیک ہے اگر تمہیں جانے کی بہت جلدی ہے تو خدا حافظ” شانزے نے ہوا میں ہاتھ لہراتے ہوئے کہا تو شاہیر بھی اللہ حافظ کہہ کر چلا گیا ۔ شانزے گہری سانس لینے کے بعد صوفے پر بیٹھ گئی ۔ آنسوؤں کا ایک گولہ شانزے کے حلق میں اٹک کر رہ گیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
صبغہ ڈیوٹی سے واپس آئی ۔ گھر آتے ہی صبغہ نے دلیہ پکا کر اپنی بوڑھی ماں کو پیش کیا اور پھر اپنے لیے کھانا تیار کرنے کے لیے کیچن کی طرف گئی تو باہر دروازے پر دستک ہوئی ۔ صبغہ نے دروازہ کھولا ۔
“السلام و علیکم! میں ذوبا ہوں” دروازے کے باہر کھڑی عورت نے مسکراتے ہوئے صبغہ سے کہا تو صبغہ نے سلام کا جواب دینے کے بعد ذوبا کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہا
“مجھے لیان صاحب نے بتایا تھا کہ جگن شانزے تمہارے ساتھ رہتی ہے اور میں اسی سے ملنے آئی ہوں” ذوبا نے صبغہ سے کہا
“بس دو منٹ انتظار کریں ، میں ابھی آتی ہوں” صبغہ نے مسکراتے ہوئے ذوبا سے کہا اور پھر کیچن کی طرف چلی گئی ۔ چند منٹوں کے بعد صبغہ واپس آئی اور ذوبا کے سامنے شیشے کی چھوٹی میز رکھی ۔
“صبغہ بہن! یہ کیا کر رہی ہو؟ ، میں لنچ کر کے آئی ہوں ، مجھے اب کچھ نہیں کھانا” ذوبا نے مصنوعی بے تکلفی سے کہا
“آپ میری مہمان ہیں اور مہمان نوازی کرنا سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے” صبغہ نے مسکرا کر کہا اور دوبارہ کیچن کی طرف چلی گئی ۔
حدیث نبوی ﷺ میں ہے کہ
حضرت ابی شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کا اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان ہو اسے چاہئے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اوراس کی مہمان نوازی کا اہتمام کرے۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ اس کی مہمان نوازی کا اہتمام کب تک کریں؟ آپؐ نے فرمایا ایک دن اور ایک رات تک اور پھر 3دن تک اس کی عام مہمان نوازی کرے۔ اس کے بعد بھی اگر رہے تو وہ اس پر صدقہ ہے اور جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر یقین رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔
( مسلم، باب الضیافۃ )
صبغہ نے شیشے کی میز پر حلوے کی دو پلیٹیں اور دو کپ چائے رکھی اور پھر ذوبا کے پہلو میں صوفے پر بیٹھ گئی ۔
“شانزے دوبئی گئی ہوئی ہے اور دو دنوں تک واپس آ رہی ہے” صبغہ نے ذوبا کو بتایا
“او کے تو پھر میں دو دن بعد شانزے سے ملاقات کرنے ضرور آؤں گی” ذوبا نے پلیٹ سے حلوے کا چمچ اٹھاتے ہوئے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
جہاز میں بیٹھتے ہی شاہیر نے شانزے کی تحفہ میں دی ہوئی ڈائری کو الٹی سائیڈ سے کھولا اور اس کے آخری صفحے سے پڑھنا شروع کیا ۔ صفحہ نمبر ایک سو بیالیس ڈائر کا آخری صفحہ تھا اور اس صفحے پر لکھا تھا کہ شروع میں مجھے شک تھا کہ تم بے نمازی ہو لیکن جس دن میں تمہارے ساتھ کریک سائیڈ پارک گئی تھی اس دن یقین ہو گیا تھا کہ تم واقعی بے نمازی ہو اسی لیے میری خواہش ہے کہ تم پانچوں نمازیں پڑھا کرو ۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ہر مسلمان پر پانچوں نمازیں پابندی سے ادا کرنا فرض ہے۔ نماز پڑھنے میں سستی کرنا خصوصاََ فجر اور عشاء کی نمازیں نہ پڑھنا منافقوں کی نشانی ہے۔ یہ بھی معلوم ہو اکہ نماز نہ پڑھنا کافروں کا طریقہ ہے اسی لیے صحابہ کرام اعمال میں سے نماز کے سوا کسی عمل کے چھوڑنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔
نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایئے کہ حدیث پاک میں بچپن ہی سے نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (جب بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو نماز میں غفلت پر انہیں مارو اور اس عمر سے ان کے بستر بھی علیحدہ کردو۔ (ابو داؤد
دن و رات یعنی چوبیس گھنٹوں میں اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں اور ان میں سے ہرنماز کی فرضیت کا تعلق اپنے وقت کے ساتھ وابستہ و قائم ہے، چنانچہ وقت داخل ہونے پر ہی نماز فرض ہوتی ہے، اس سے پہلے نہیں اور وقت کے اندر ہی ادا ہوتی ہے اور وقت گزرنے پر نماز قضا ہوجاتی ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ جس طرح پانچ نمازوں کی اہمیت ہے اسی طرح ان کو اپنے وقت پرادا کرنے کی بھی اہمیت ہے اور نماز کو وقت بے وقت پڑھنا ٹھیک نہیں۔
مختلف احادیث شریف سے واضح ہے کہ
•نماز دین کا ستون
•نماز مومن کی معراج
•نمازایمان کی نشانی
•نماز شکر گزاری کا بھترین ذریعہ
•نماز میزان عمل
•ہر عمل نماز کا تابع
•روز قیامت پہلا سوال نماز کے بارے میں
•نمازی کے ساتھ ہر چیز خدا کی عبادت گزار
•نمازی کا گھر آسمان والوں کے لئے نور
نماز کے اثرات اور فوائد
•گناہوں سے دوری کا ذریعہ
•گناہوں کی نابودی کا سبب
•شیطان کو دفع کرنے کا وسیلہ
•بلاؤں سے دوری
نمازوں کو چھوڑ دینا بہت ہی شدید گناہِ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے. اس لئے ابھی بھی وقت ہے. ہوش کے ناخن لیں اور اپنی دنیا اور آخرت دونوں سنوار لیں ۔
وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُؕ-وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ
ترجمہ : اور یہ (بھی حکم ہوا ہے) کہ تم نماز قائم رکھو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی اﷲ ہے جس کی طرف تم (سب) جمع کئے جاؤ گے
(سورة الانعام آیت نمبر 72)
نماز ایمان کے بعد اسلام کا اہم ترین رُکن ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ شریفہ میں نماز کی اہمیت وفضیلت کو کثرت سے ذکر کیا گیا ہے جن میں نماز کو قائم کرنے پر بڑے بڑے وعدے اور نماز کو ضائع کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں
نماز میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت وتاثیر رکھی ہے کہ وہ نمازی کو گناہوں اور برائیوں سے روک دیتی ہے مگر ضروری ہے کہ اس پرپابندی سے عمل کیا جائے اور نماز کو اُن شرائط وآداب کے ساتھ پڑھا جائے جو نماز کی قبولیت کے لئے ضروری ہیں،جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ فلاں شخص راتوں کو نماز پڑھتا ہے مگر دن میں چوری کرتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہُ اس کی نماز عنقریب اُس کو اِس برے کام سے روک دے گی۔ (مسند احمد، صحیح ابن حبان، بزاز)

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: