Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Last Episode 14

0

یقین کامل از وحید سلطان -آخری قسط نمبر 14

–**–**–

ذوبا سامی کو اپنے بیڈ روم کی طرف لے گئی اور شانزے روم کے باہر کھڑی ہو گئی ۔ وہ ذوبا اور سامی کی باتیں سننے کے لیے پوری طرح چوکنا تھی ۔
“پہلے میری دوست بنو وہی پرانے والی دوست ذوبا ، پھر باقی معاملات پر بات ہو گی” سامی نے مصافحے کے لیے ذوبا کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے مسکرا کر کہا تو ذوبا نے بے چارگی سے سامی کو دیکھا اور پھر اپنا ہاتھ سامی کے ہاتھ کی طرف بڑھا دیا ۔ دونوں کے ہاتھ آپس ملنے ہی والے تھے کہ شانزے کمرے میں داخل ہوئی ۔ شانزے نے ذوبا کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
“نہیں تم ایسا نہیں کر سکتی ، جس سے تم ہاتھ ملانا چاہ رہی ہو وہ ایک نا محرم ہے اور نا محرم کو چھونا گناہ ہے” شانزے نے ذوبا سے کہا تو ذوبا نے شانزے سے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی لیکن شانزے نے بہت مضبوطی سے ذوبا کی کلائی کو پکڑا ہوا تھا اور ذوبا ہاتھ چھڑانے میں ناکام رہی جبکہ سامی شانزے کو غصے سے گھورتے ہوئے اس کی طرف بڑھا تو شانزے نے ذوبا کی کلائی گھما کر اس کی کمر پر لے گئی اور دوسرے ہاتھ سے اپنے پرس سے چاقو نکال کر ذوبا کی گردن پر رکھ دیا ۔ سامی کے شانزے کی طرف بڑھتے قدم رک گئے ۔
“نامراد ذلیل عورت! یہ تم کیا کر رہی ہو؟” سامی نے غڑاتے ہوئے شانزے سے کہا
“تم طیب کی بیوی ہو اور ایک بیوی اپنے شوہر سے بے وفائی نہیں کرتی” شانزے نے غصے سے پھنکارتے ہوئے کہا اور ذوبا کی کلائی پر گرفت مزید مضبوط کر دی ۔
“اچھی عورت اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اپنی عزت و آبرو اور شوہر کے مال و دولت کی حفاظت کرتی ہے” شانزے نے سامی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو ذوبا کسمسائی ۔
“اور شاید تم اس بات سے انجان ہو کہ شوہر کی بے وفائی عورت کو اندر سے توڑ پھوڑ دیتی ہے ، شوہر سے محبت اور پیار چاہنا عورت کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے لیکن جب شوہر اپنی بیوی سے بے وفائی کرے اور دوسری عورتوں پر محبت اور پیار نچھاور کرے تو ایسے شوہر کی بیوی پر وفاداری لازم نہیں ، ہر عورت اپنے شوہر کو ایک وفادار عورت کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہے ، عورت کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر صرف اس کا ہی ہو” ذوبا نے کسمساتے ہوئے کہا
“مجھے جب طیب سے محبت ہوئی تھی تو مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ شادی شدہ ہے اور میں نے اسے بار بار شادی کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی ، اگر طیب بے وفا ہوتا تو وہ مجھ سے شادی کر کے تمہارے ساتھ بے وفائی کرتا اور مجھے دھوکہ دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا” شانزے نے ذوبا کی گردن پر چاقو کا دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا اور سر ہلا کر سامی کو جانے کے لیے اشارہ کیا تو وہ چلا گیا ۔ شانزے ذوبا کو دھکیلتے ہوئے کوریڈور میں لے آئی ۔
“طیب نے تمہارے علاوہ بھی بہت سی لڑکیوں کے ساتھ دوستی کا چکر چلا رکھا ہے” ذوبا نے کہا
“تم مسلمان عورت ہو ، طیب تمہارے ساتھ جتنی مرضی بے وفائی کر لے لیکن تمہیں اللہ کے حکم کو فالو کرنا چاہیے اور اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے” شانزے نے اسے صوفے پر بٹھاتے ہوئے کہا
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
نیک عورتیں وہ ہیں جو فرماں بردار اور خاوند کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت میں (مال وآبرو) کی حفاظت کرنے والی ہیں۔(سورةالنسآء )
نبی کریمؐ سے پوچھا گیا کہ سب سے بہترین عورت کون سی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ عورت جب شوہر اسے دیکھے تو خوش کر دے اور جب شوہر حکم دے تو اس کی اطاعت کرے اور اپنی جان ومال میں شوہر کا ناپسندیدہ کام نہ کرے اور اس کی مخالفت نہ کرے۔ (سلسلہ صحیحہ للالبانیؒ )
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شانزے نے چاقو اپنے پرس میں ڈالا اور طیب کی کار کی چابیاں ذوبا کی گود میں پھینک کر چلی گئی تو ذوبا فوری طرح پر صوفے سے اٹھی اور سامی کو فون کیا ۔
“تم کہاں ہو؟” ذوبا نے فون پر بات کرتے ہوئے سامی سے پوچھا
“تمہارے گھر کے قریب ہی ہوں” سامی نے کہا
“شانزے ابھی ابھی میرے گھر سے نکلی ہے اس کا تعاقب کرو اور پتا کرو کہ طیب کہاں ہے” ذوبا نے سامی سے کہا اور کال منقطع کر دی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شانزے کا انتظار ختم ہو چکا تھا ۔ طیب نیند سے بیدار ہوا تو اس نے چارپائی سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن مضبوط رسی سے بندھا ہوا طیب کا جسم بس کسمسا کر رہ گیا اور اس نے گردن موڑ کر شانزے کی طرف دیکھا ۔
“شانزے! یہ سب کیا ہے؟” طیب نے شانزے سے پوچھا
“ذوبا میرے شاہیر کو اغوا کر کے مجھے بلیک میل کر رہی تھی اور مجھے تم سے شادی کرنے پر فورس کر رہی تھی اور اب میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا” شانزے نے رطب اللسان بولتے ہوئے کہا
“جب تک شاہیر بازیاب نہیں ہوتا تب تک تم یہاں پر میرے مہمان بن کر رہو گے” شانزے دو ٹوک انداز میں کہہ رہی تھی ۔
“شاہیر کون ہے؟” طیب نے پوچھا
“میں طیب سے محبت کرتی ہوں” شانزے نے کہا
“لیکن تم تو مجھ سے محبت کرتی تھی نا؟” طیب نے سوال کیا
“ایک وقت تھا جب تمہارا نام کسی کے ساتھ سوچ کر دل کی دھڑکن تھم سی جاتی تھی ۔ یہ وہم سونے نہیں دیتا تھا کہ تم چھوڑکر نہ چلے جاؤ ۔یہ خیال دل سے نہیں جاتا تھا کہ کہیں تم کسی اور کے نہ ہو جاؤ ۔ پر آج۔ ۔ ۔ ۔ آج ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا ۔آج تمہیں کسی اور کے ساتھ سوچ کر دھڑکن نہیں رکتی
تمہارے چھوڑ کے جانے کا دکھ دل پہ اثر انداز نہیں ہوتا.. تمہاری بے رخی سے آنسو نہیں آتے..
تمہارا کسی اور کے ہونے کا خیال نیند نہیں اڑاتا” شانزے اداس لہجے میں کہہ رہی تھی ۔
“لیکن میں نے سنا ہے کہ انسان پہلی محبت کبھی نہیں بھولتا اور زندگی میں پہلی بار مجھے تم سے محبت ہوئی تھی” طیب نے شانزے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“یہ سچ ہے کہ انسان اپنی پہلی محبت نہیں بھولتا لیکن تم میری دوسری محبت تھے” شانزے نے لاپرواہی سے کہا تو باہر گیٹ پر ذبردست دستک ہوئی اور شانزے خوفزدہ ہو گئی ۔ وہ سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر گئی اور چھت کی جالیوں سے دیکھا ۔ گیٹ کے سامنے سامی چند پولیس اہلکاروں کے ہمراہ کھڑا تھا ۔ ایک پولیس اہلکار بار بار دستک دے رہا تھا ۔ شانزے چھت سے نیچے آئی اور رسیوں کو کھولنا شروع کر دیا ۔
“اب مجھے کیوں کھول رہی ہو؟” طیب نے پوچھا ۔
“وہ تمہاری بیوی کا دوست پولیس لے کر آیا ہے” شانزے نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا
“کس دوست کی بات کر رہی ہو؟” طیب نے حیرت سے پوچھا
“آج میں تمہارے گھر گئی تھی ذوبا سے ملنے تو وہ شخص پہلے ہی وہاں پر موجود تھا وہ ذوبا کو دوستی کا کہہ رہا تھا” شانزے نے بتایا اور طیب کو رسیوں کی قید سے آزاد کر کے سیڑھیوں کی طرف بھاگ گئی تو طیب چارپائی سے اٹھا اور گیٹ کی طرف بڑھ گیا ۔ طیب نے گیٹ کھولا تو اس کے سامنے سامی ، ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل اور چار پولیس اہلکار کھڑے تھے ۔ ایک پولیس اہلکار گیٹ سے اندر گھسنے لگا تو طیب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اندر جانے سے روکا ۔
“تم کہاں جا رہے ہو؟” طیب نے سامی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“میں اس لڑکی کو گرفتار کرنا چاہتا ہوں جو آپ کو اغوا کر کے یہاں لائی تھی” پولیس اہلکار نے لیڈی پولیس کانسٹیبل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا تھا ، میں خود اپنی مرضی سے یہاں آیا تھا” طیب نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو پولیس اہلکاروں نے ایک دوسرے طرف دیکھا اور پھر چلے گئے ۔
“طیب بھائی! آؤ میں آپ کو آپ کے گھر ڈراپ کر دیتا ہوں” سامی نے ہچکچاتے ہوئے کہا
“نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ میں خود آ جاؤں گا” طیب اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے بولا تو سامی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے موٹر سائیکل کی طرف بڑھ گیا جبکہ طیب دوبارہ گھر کے اندر گیا اور بلند آواز میں بولتے ہوئے شانزے کو بتایا کہ پولیس چلی گئی ہے تو شانزے چھت سے نیچے آئی اور طیب کا شکریہ ادا کیا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شام کے بعد اندھیرا چھا رہا تھا ۔ سامی فون پر ذوبا کو حقیقت سے آگاہ کر چکا تھا ۔
“کیا شانزے نے طیب کو میرے سامی کے خلاف بھڑکایا ہے اور اگر بھڑکایا ہے تو طیب کا رد عمل کیا ہو گا؟” ذوبا ہال میں صوفے پر بیٹھی سوچ رہی تھی کہ اسے کسی کے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی تو وہ ہال کے دروازے کی طرف متوجہ ہوئی ۔ ہال کے دروازے میں طیب سینے پر بازو لپیٹے کھڑے تھا ۔ ذوبا نے اپنے فون کی اسکرین کو دیکھا اور پھر دوبارہ طیب کی طرف دیکھا ۔ طیب ہاتھ میں پستول پکڑے اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا ۔ ذوبا کے فون کی اسکرین روشن ہوئی تو اس نے دوبارہ اسکرین کو دیکھا ۔ سامی کی کال آ رہی تھی ۔
“اگر زندہ رہنا چاہتی ہو تو کال اٹینڈ کر کے حکمنامہ جاری کرو کہ وہ شاہیر کو زندہ حالت میں شانزے کے گھر پہنچا دے” طیب نے پستول کو اپنے رومال سے صاف کرتے ہوئے کہا تو ذوبا نے سامی کی کال رسیو کر لی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شانزے اپنے گھر میں گم سم بیٹھی تھی کہ گیٹ پر زوردار دستک ہوئی تو وہ فوری طرح پر چھت پر گئی اور جالیوں میں سے دیکھا ۔ گیٹ کے سامنے شاہیر کھڑا تھا ۔
“شاہیر آ گیا ۔ ۔ ۔ ۔ میری دعائیں قبول ہو گئیں ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے اپنے رب پر یقین کامل تھا کہ وہ میری دعاؤں کو رد نہیں کرے گا” شانزے خود سے بڑبڑاتے ہوئے سیڑھیوں سے اتر کر گیٹ کی طرف بھاگتی چلی گئی ۔
“میرا شاہیر آ گیا” شانزے گیٹ کھولتے ہی چہکتی آواز سے بولی اور شاہیر سے لپٹنے کے لیے بازو پھیلا دئیے اور جب شاہیر آگے بڑھا تو شانزے چار قدم پیچھے ہٹ گئی اور شاہیر کو دائیں ہاتھ کی ہتھیلی دکھاتے ہوئے اسے رکنے کا اشارہ کیا تو شاہیر کے قدم رک گئے ۔
“شاہیر! میں نے تمہیں بہت مس کیا تھا” شانزے نے منہ بسورتے ہوئے کہا اور پھر روتے ہوئے اندر ہال میں چلی گئی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
صبح کے آٹھ بجے ذوبا نیند سے بیدار ہوئی تو اس نے طیب کو ادھر اودھر تلاش کیا اور بہت آوازیں دیں ۔ جواب نہ ملنے پر وہ چھت پر گئی تو ذوبا کے حلق سے ایک کربناک چیخ بلندی ہوئی ۔ طیب اوندھے منہ چھت کے فرش پر پڑا تھا اور اس کے ارد گرد فرش پر بہت سا خون جما ہوا تھا ۔ ذوبا نے طیب کو کندھے سے پکڑ کر اسے سیدھا کیا تو ذوبا کو معلوم ہوا کہ طیب نے اپنی نبض کاٹ لی تھی ۔ طیب کے بائیں ہاتھ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا تھا ۔ ذوبا نے وہ کاغذ کا ٹکڑا پکڑا جس پر لکھا تھا کہ میں نے سامی کے قتل کے لیے سپاری دے دی ہے تم چاہو تو اسے بچا لو ۔ ذوبا ایک دم اٹھی اور بھاگتے ہوئے سیڑھیوں کے زینے اتر رہی تھی کہ اس کے پاؤں ہوا سے الجھ گئے اور وہ کروٹ در کروٹ زینوں سے نیچے کی جانب گرتی چلی گئی ۔ سیڑھیوں کے اختتام پر ذوبا کا سر پلر سے ٹکڑایا اور وہ شدید زخمی ہو گئی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شاہیر نے شانزے کی اس کے پاپا سے صلح کروائی اور پھر شانزے کے پاپا لیان صاحب کی سرپرستی میں شانزے اور شاہیر کا نکاح ہوا ۔ شانزے شاہیر کے ہمراہ اپنی مما والے گھر میں شفٹ ہو گئی ۔ شام کے پانچ بج رہے تھے ۔ شاہیر کیچن میں سموسے فرائی کر رہا تھا اور شانزے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی کہ اسے اپنے فون کی رنگ کی آواز سنائی دی اور وہ کال اٹینڈ کرنے کے لیے کمرے میں چلی گئی ۔
“کس کا فون تھا؟” فون کال سننے کے بعد شانزے کے کیچن میں لوٹنے پر شاہیر نے پوچھا
“صبغہ کی کال تھی ، وہ کہہ رہی تھی کہ تمہیں وہ اجنبی تصور کرتی تھی اس لیے وہ چاہتی تھی کہ تمہارے ساتھ میری شادی نہ ہو اور بس یہی وجہ تھی کہ صبغہ نے ذوبا کا ساتھ دیا اور اب صبغہ معافی مانگ رہی تھی تو میں نے اسے معاف کر دیا” شانزے نے شاہیر کو فون کال کی ساری تفصیل بتا دی ۔
“اور تم اتنی سی بات پر اداس ہو گئی ہو” شاہیر نے مسکراتے ہوئے کہا
“صبغہ یہ بھی بتا رہی تھی کہ طیب نے کل رات خودکشی کر لی تھی جبکہ ذوب کسی حادثے کی وجہ سے زخمی ہو گئی اور اب وہ کوما میں ہے” شانزے کا لہجہ افسردہ تھا اور وہ مزید اداس ہو گئی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شاہیر شانزے کو ہنی مون کے لیے اپنے آبائی شہر راولپنڈی لے گیا ۔ ویزن فائیو سٹار ہوٹل کا روم نمبر ایک سو دس نہایت ہی عمدہ طریقے سے سجایا گیا تھا ۔ شانزے روم میں داخل ہوئی تو روم کی دیواریں ☆☆☆شانزےشاہیر☆☆☆
کے نام سے جگمگا اٹھیں ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 48

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: