Urdu Novels Wajeeha Yousafzai Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai

Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai novel by Wajeeha Yousafzai – Episode 2

Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai novel by Wajeeha Yousafzai
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
یہ جو ریگ دیشت فراق ہے از وجیہہ یوسفزئی – قسط نمبر 2

–**–**–

وہ دونوں ڈاکٹر کے آفس میں موجود تھے جب ڈاکٹر اندر آیا
گھبرانے والی کوئ بات نہیں بلکہ آپ دونوں کو تو خوش ہونا چاہیے
علی اور حنا نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا جیسے کچھ سمجھ نہ پا رہے ہوں
ڈاکٹر صاحب خوش خبری کیسی ؟؟
بھئ مبارک ہو آپ پاپا بننے والے ہو
سچ ڈاکٹر ؟؟
علی کا خوشی کے مارے برا حال ہو رہا تھا اس نے شاید ہی زندگی میں اس سے بڑی خوشی محسوس کی ہو
حنا کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ خوش زیادہ ہے یا حیران !
کچھ ہی دیر میں وہ ہسپتال سے باہر آگۓ تھے
چلو گی لانگ ڈرائیو پر ؟
وہ اپنی زندگی کا خوبصورت لمحہ اپنی محبوبہ جو اسکی بیوی کی روپ میں موجود تھی کےساتھ گزارنا چاہتا تھا
حنا نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا
وہ دونوں کار میں بیٹھے
کچھ ہی دیر میں کار ہوا سے باتیں کرتے ہوۓ نظر آ رہی تھی
____________________________________________
نکاح نامے پر دونوں جانب سے دستخط ہوچکے تھے وہ بڑی مشکل سے اپنے کمرے میں بھاگنے کے بعد دوبارہ داخل ہوئ تھی اب تک وہ اس سوچ سے باہر ہی نہیں نکلی تھی کہ شہباز نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟
اسکے بعد رخصتی تک کے سارے منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے
اچانک کمرے طرف آتے ہوۓ کسی کے قدموں کی چاپ سنائ دی
کاش کوئ اور ہو فرہان نہ وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اس سے نظریں کیسے ملا پاۓ گی
وہ کمرے میں پہنچا تو ثمن کی سانس اٹک گئ ایک تو اتنا بھاری لہنگا اور زیور پہن کر اس کی جان نکل رہی تھی
اور دوسری طرف فرہان کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس اوسان خطا ہوگۓ
فرہان نے فوراً سے دروازہ اندر سے بند کر دیا اور بیڈ پر اس کے قریب بیٹھا گونگھٹ کی وجہ وہ اس کے چہرے کے تاثرات نہ دیکھ سکا تھا
آج ہماری شادی کی پہلی رات ہے جانم اور منہ دکھائ میں ، میری جان کو کیا چاہیے ؟
ثمن کا دل کیا کہ وہ کہہ دے پلیز مجھے آزاد کردو میں یہ شادی توڑنا چاہتی ہوں
ک ک کچھ نہیں چاہیے مجھے بہت مشکل سے اس کے گلے سے آواز نکلی تھی
اچھا ٹھیک ہے میں گفٹ دوں گا وہ تو رکھ لو گی نہ؟؟
جواب میں ثمن خاموش رہی
فرہان نے اسکا مہندی بھرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بہت پیار سے اس پر اپنی محبت کا ثبوت دیا
ثمن نے ہاتھ فوراً سے واپس کھینچ لیا
اف میری جان اتنی بے رخی ہم سے برداشت نہیں ہوتی فرہان کے لہجے میں کچھ تو تھا جس نے ثمن کو اور ڈرا دیا
فرہان نے اسکا گونگھٹ ہٹایا
اور ایک کے بعد دوسرا تھپڑ ثمن کے نرم گالوں پر رسید کر دیا درد کے مارے ثمن کی سسکی نکلی یہ رہا تمہارا منہ دکھائ کا تحفہ جو آج تک کسی نے کسی کو نہیں دیا ہوگا یو آر سو لکی
اب تم میری کفالت میں ہو آور ہاں جو میں بولوں گا وہی تم کرو گی
تم میری نظر میں اس گھر کی نوکرانی ہی ہو فرق صرف اتنا ہےکہ تم مجھ پر حرام نہیں ہو باقی تم وہی کام کرو گی جو نوکرانی کرتی ہے
ثمن کےرونے میں شدت سے اضافہ ہو رہا تھا
وہ اسکے تھوڑا اور قریب ہوا
اوہ بےبی پلیز ڈونٹ کرائ وہ اسکے آنسو صاف کرنے لگا
ثمن زرا پیچھے کو ہوئ
اوہ مزید اس پر جھکتا چلا گیا
ثمن کی آنکھ کھلی تو فجر فجرکی آذان ہو ہورہی تھی
اس نے اپنا دوپٹہ غائب پایا غور کرنے پر دیکھا تو وہ فرہان کے نیچے پڑا تھا اور اسکا سر فرہان کے سینے سے مس ہو رہا تھا
اسنے جلدی سے اپنا دوپٹا کھینچا اور کمرے سے باہر نکل گئ

رات کا وقت تھا پورا چاند آسمان پر چمک رہا تھا کہیں سے کوئل کی کوک سنائ دے رہی تھی
حنا کھڑکی میں کھڑی ہوکر اس منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی
تبھی علی کمرے میں داخل ہوا اور حنا کو وہاں پاکر اسے دلی سکون محسوس ہوا تھا
اس نے حنا کے گرد اپنے بازوؤں کا گھیرا بنالیا
موسم انجواۓ کر رہی ہو؟؟
(وہ حنا کی بالوں کی خوشبوں کو محسوس کر رہا تھا )
ہممممم
حنا نے اسکی طرف مڑے بغیر جواب دیا
کچھ کھانے کا دل نہیں کر رہا تمہارا ؟؟
حنا نہ سمجھنے والے انداز میں اسکا چہرہ تکنے لگی
ارے بابا میں نے سنا ہے اس حالت میں لڑکیوں کو کچھ کھٹا میٹھا کھانے کا دل کرتا ہے نہ !!
حنا کا قہقہ بلند ہوا
علی نے منہ بنا لیا
ارے نہیں جناب اب ایسی بھی بات نہیں ہے ہوسکتا ہے آپ نے غلط سنا ہو
ہاں ٹھیک ہے میں ہی غلط ہوتا ہوں ہونہہہہہ
وہ منہ بنا کر بیڈ پر بیٹھ گیا
حنا اسکے پاس گئ اور اس کے چہرہ کو اپنے ہاتھوں میں لیا
ناراض ہو ؟؟
نہیں،،
علی نے اس کے ہاتھ پیچھے کیے
AWWW!!!
سچی میں ناراض ہو ؟
اس نے دوبارہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا
نہیں ،،
پھر سے وہی جواب ملا اور پھر سے ہاتھ پیچھے کردیے گۓ
حنا نے پھر اسکا چہرہ تھاما
علی نے پھر اس کے ہاتھ پیچھے کیے
حنا اس کے پاس بیٹھ گئ اس بار اس نے اسکا چہرہ نہیں تھاما تھا
علی نے اس کے ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر رکھے
حنا مسکرائ
علی مسکرایا
کیا زندگی اتنی خوبصورت ہوتی ہے بےبی ڈارلنگ ؟
علی اسکی گود میں سر رکھ کر بولا
شاید ،، پھر وہ کچھ سوچ کر بولی شاید محبت اتنی خوبصورت چیز ہے
حنا اس کے بالوں میں بڑے پیار سے ہاتھ پھیر رہی تھی
اچانک وہ اچھل کر بیٹھ گیا
کیا ہوا ؟
ہم اپنی بیٹی کا کیا نام رکھیں گے حنا ؟
حنا کا دل کیا اپنا سر دیوار میں دے مارے اتنی سی بات کیلیے اچھلنے کی کیا ضرورت تھی
ایک منٹ آپکو کیسے پتا کہ ہماری بیٹی ہوگی ؟؟
وہ اسکی بات پر مسرت ہوا اور حنا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھا یہ جو دل ہے نہ یہ کہتا ہے
ہم اسکا نام وردہ رکھیں گے
لیکن ! مجھے لگتا ہے بیٹا ہوگا اور ہم اسکا نام حدید رکھیں گے وہ بھی پر اعتماد ہوکر بولی
نہیں ہماری پہلی اولاد بیٹی ہوگی پھر بیٹا ہوگا پھر بیٹی ہوگی پھر بیٹا ہوگا پھر بیٹی پھر بیٹا پھر بیٹی اور اسطرح ہمارے کل ملا کر 101بچے ہونگے
حنا نے کشن اٹھایا
علی اس کی حرکت کا اندازہ کر چکا تھا اس لیے پہلے ہی بھاگ کھڑا ہوا
حنا نے کشن اس کے پیچھے پھینکا مگر وہ تب تک کمرے سے فرار ہوچکا تھا
____________________________________________
وہ جیسے ہی فریش ہوکر باہر نکلی اس نے دوسرے کمرے میں شاور لیا تھا اس کمرے میں اسے گھٹن ہو رہی تھی
اس کو بھوک ستا رہی تھی ادھر ادھر نگاہ دوڑائ تو پتا چلا کہ گھر خالی تھا
وہ دبے پاٶں کمرے سے نکلی ابھی بھی اسی بھاری لہنگے میں ملبوس تھی سیڑھیاں اترتے ہی کچن کا رخ کیا اور کچن کا حلیہ دیکھ اس بات ک اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اس کی حالت ابھی ابھی بڑی بے دردی سے بگاڑی گئ ہے
کھانے کی چیزوں کا نام نشان تک باقی نہ رہا تھا سب چیزیں برباد کی جا چکی تھیں
بڑی امید سے اس نے فرج کا دروزہ کھولا وہاں ایک سیب کے سوا کچھ بھی نہ تھا لیکن اس وقت یہ سیب بھی اس کےلیے کسی غنیمت سے کم نہ تھا
جیسے ہی مڑنے لگی کھڑکی پر ایک چپ لگی ہوئ ملی جس پر صاف صاف لکھا ہوا تھا
مائ ڈئیر جانو !!
کچن کی حالت میں نے خراب نہیں کی یہ نہ ہو کہ تم سارا دن مجھے کوستے ہوۓ گزار دو کیونکہ گھر میں اور بھی بہت سے کام ہیں بحر حال اس کام کا کریڈٹ میرے بیٹے کو جاتا ہے جس نے اس کار خیر میں اپنا فرض پوری ایمانداری سے ادا کیا
بیٹا ؟؟ ثمن کی نظریں اس ایک لفظ بیٹے پر اٹک گئیں
اگر اسکا بیٹا ہے تو مجھے گھر والوں نے بتایا کیوں نہیں اف ربا یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ
ثمن دل ہی دل میں بولی
ثمن کا سر چکرا کر رہ گیا اور کتنے راز تھے اس آدمی کےجو اس کے خود کے گھر والوں نے بھی نہیں بتاۓ تھے
وہ اس گھر سے بھاگ جانا چاہتی تھی دروازے کیطرف گئ تو وہ باہر سے بند تھا
وہ بھاگ کر کھڑکیا دیکھنے لگی لیکن گھر کی تقریباً تمام
کھڑکیوں کو بھی باہر سے بند کیا جا چکا تھا
اسکا مطلب اسکی اس حرکت پر اس آدمی کی پہلے سے ہی نظر تھی حد تھی
اب وہ مکمل طور پر اس بڑے سے بھیانک سے گھر میں قید تھی
____________________________________________
کچن کی حالت درست کرنے بعد جھاڑو اور جھاڑو کے بعد تمام کمرے سلیقے سے صاف کیے
ثمن کو فری کا کھانا نہیں پسند تھا وہ اس نیت سے کام کر رہی تھی کہ اسے مفت کی روٹیاں توڑنے کا طعنہ نہ دیا جاۓ
اب باری تھی کپڑوں کی دنیا بھر کے میلے کچیلے کپڑے جمع کیے ہوۓ تھے اس گھر میں ایک ہی فرد رہتا ہے تو کپڑے اتنے سارے کیوں ؟؟
شاید یہ اسکی سزا تھی
مشین میں صرف اور پانی ڈالنے کے بعد اب وہ کپڑے اندر ڈال رہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز سنائ دی
اسنے مڑ کر دیکھا
فرہان سفید شرٹ اور نیلی پینٹ میں ملبوس تھا گہرے براٶن بال ہمیشہ کی طرح سلیقے سے سجے ہوۓ تھے
کندھے پر ایک چھوٹا بچہ بیٹھایا ہوا تھا
اسے دیکھ کر وہ بچہ فوراً فرہان کے کندھے سے اتر کر اس کے پاس آیا
اور سلام کیا ثمن نے سلام کا جواب دیا اور بہت حیرت سے اسے دیکھنے لگی
ماما آپ نے مجھے پہچانا۔؟؟؟؟
ثمن کو یہ بات سمجھ نہیں آئ کہ وہ بچہ ہے کون اور اسکو ماما کیوں بول رہا تھا؟؟
I’m hadeed farhan And i’m 5 Years old
سوری ماما میں صبح انکل کے گھر سے آیا تو مجھے بھوک لگی تھی کچن میں کوکنگ کرنے آیا تھا لیکن گڑبڑ ہوگئ اور آپکو سوری بولنے کا ٹائم نہیں ملا
ثمن حیران سی اسے دیکھی گئ
وہ پانچ سال کا بچہ اسے حیرت کے سمندر میں غوطے دے رہا تھا
حدید میری جان بابا کا سر دبانا ہے نہ آپکو ابھی ؟؟
فرہان کو ثمن کی حالت پر زبردست ہنسی آئ ہوئ تھی جسکو اس نے زبردستی کنٹرول کیا ہوا تھا
جی بابا جان
وہ فرہان کی انگلی پکڑ کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا اسکی نظر سے اوجھل ہو گیا
ثمن حیرانی کا بت بنی ہوئ تھی
فرہان کا بیٹا بھی ہے ؟؟ اگر اس کی شادی پہلے ہوچکی ہے تو اسکی بیوی کہاں ہے ؟؟
اس کے سامنے کئ سوال گڑھ چکے تھے جو اسکے زہن سے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
مگر کس سے جواب مانگتی اسکا یہاں تو کوئ بھی نہیں تھا خیر اسکو کیا لینا دینا تھا اس آدمی سے
بھاڑ میں جاۓ وہ دل ہی دل میں بولی
لیکن وہ جلد سنبھل گئ اور پنا کام پھرسے شروع کردیا
____________________________________________
آج علی آفس سے جلدی گھر آیا تھا اسکی طبیعت خراب تھی ڈاکٹر نے بتایا کہ موسم میں اچانک تبدیلی کی وجہ سے بخار ہوا ہے
وہ اپنے کمرے میں اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا
حنا اس کے لیے دودھ گرم کر کے لائ تھی تاکہ وہ میڈیسن کھا سکے
علی !!
وہ اس کے پاس بیٹھ کر بولی
ہمممم
وہ آنکھیں کھولے بغیر بولا
کیسے ہو ؟
ٹھیک ہوں اب
لگ نہیں رہے مجھے
وہ کیوں علی( سیدھا ہوا )
آپکا چہرہ اترا اترا سا لگ رہا ہے
علی نے اسکو بازوؤں میں بھر لیا خود کے اتنے قریب کیا کہ حنا کا سر اس کے سینے پر تھا
مجھے لگتا ہے اب بلکل ٹھیک ہوجاٶں گا تم جو میرے پاس ہو
اچھا جی ___!
ہن جی جی
علی آپ جانتے ہیں ؟
کیا میری جان ؟
یہی کہ جب آپ میرے آس پاس ہوتے ہیں نہ مجھے لگتا ہے کائنات رقص کرتی ہے میں خود کو بہت مضبوط محسوس کرتی ہوں
جیسے کہ اب کچھ بھی برا نہیں ہوسکتا میں بہت محفوظ محسوس کرتی ہوں
علی نے اسکے ماتھے پر بوسہ لیا تھینک یو سو مچ بے بی ڈارلنگ میری زندگی کے سارے رنگ تم سے ہیں
حنا مسکرادی
آج شام کو ڈنر کرنے جانا ہے میرے ایک دوست کے گھر علی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا
آج ؟؟ لیکن آج کیسے جا سکتے ہیں آپکی طبیعت ؟
کچھ نہیں ہوا بابا مجھے میں بالکل ٹھیک ہوں بس فریش ہوجاٶں گا تو طبیعت کھل جاۓ گی
اچھا جناب !! آپ سے کوئ جیت نہیں سکتا باتوں میں میں
ہاہاہاہاہا مان ہی لیا نہ آخر
جی جی مان لیا اب اتنا خوش ہونے کی ضرورت نہیں جائیے فریش ہوجائیں میں آپک فیوریٹ بریانی بناکر لاتی ہوں تب تک (وہ اس کے سینے پر سے اپنا سر اٹھا کر بولی)
آۓ ہاۓ بریانی مزہ آگیا نام سن کر
حنا اٹھنے لگی تو علی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پھر سے خود کے قریب کیا
علی یہ کیا کر رہے آپ چھوڑیں مجھے کام ہیں
اچھا ٹھیک ہے لیکن میں تو تمہیں کاکروچ سے بچا رہا تھا
کاکروچ !!! حنا کی آنکھیں پھیل گئیں( کاکروچ سے اسکی جان نکلتی تھی اور علی اس بات سے خوب واقف تھا )وہ ادھر ادھر دیکھنا شروع ہوئ
تب تک علی نے اسکے لبوں پر اپنی محبت کا ثبوت دے دیا تھا
حنا شرم کے مارے سرخ ہوچکی تھی
علی کو اس وقت حنا پر بے تحاشہ پیار آ رہا تھا
حنا نے باہر جانے کے لیے دروازہ کھولا ہی تھا کی علی کی آواز اسکے سماعتوں سے ٹکرائ
”بدن کا سارا لہو کھنچ کے آ گیا رخ پر
وہ ایک بوسہ ہمیں دے کے سرخ رو ہے بہت“
حنا مڑے بغیر باہر نکل گئ علی اسکے اسطرح شرمانے پر بے تحاشہ مسکرایا تھا
____________________________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: