Urdu Novels Wajeeha Yousafzai Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai

Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai novel by Wajeeha Yousafzai – Episode 3

Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai novel by Wajeeha Yousafzai
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
یہ جو ریگ دیشت فراق ہے از وجیہہ یوسفزئی – قسط نمبر 3

–**–**–

رات کا کھانا فرہان نے باہر سے منگوایا تھا جو اس نے اپنے بیٹے کے ساتھ کمرے میں ہی کھا لیا تھا
ثمن نے کھانا کھانے کے بعد سارے برتن بھی دھو ڈالے
اسکو گھر والوں کی شدت سے یاد آ رہی تھی کاش اس کے پاس موبائل ہوتا تو وہ بات کر پاتی
کیوں نہ فرہان سے موبائل لے کر بات کر لی جاۓ اس نے دل ہی دل میں سوچا
لیکن اس کے کمرے میں جانے سے اسکو ڈر بھی لگ رہا تھا
خیر بہت ساری ہمت جمع کر کے وہ اس کے کمرے میں گئ
دروازہ پر ناک کیا مگر اندر سے کوئ آواز نہ آئ دوبارہ ناک کیا پھر کوئ جواب نہ آیا تو اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا
حدید فرہان کی گود میں سر رکھے سویا ہوا تھا جبکہ فرہان لیپ ٹاپ سامنے رکھے ٹیک لگاۓ سورہا تھا
ایک لمحہ کیلیے اسے حدید پر ایسا ہی پیار آیا جیسا ایک ماں کو اپنے بچوں پر آتا ہے
لیکن فرہان کے سلوک کو یاد کرکے اسے غصہ آنے لگا وہ واپس مڑنے لگی تو اسے ٹیبل پر فرہان کا موبائل رکھا ہوا نظر آیا
اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل پکڑ لیا اور شہباز کانمبر ڈائل کرنے لگی
اس سے پہلے کہ فون کان سے لگاتی کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ چیختی فرہان نے دوسرا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا اس وقت فرہان کے ای ہاتھ میں ثمن کا ہاتھ تھا اور ایک ہاتھ اسکے منہ پر رکھا ہوا تھا
فرہان نے مڑ کر دیکھا تو حدید سو رہا تھا اس نے ثمن کو کمرے سے باہر جانے کا اشارہ کیا وہ کچھے بولے بغیر باہر نکل گئ
فرہان اس کے پیچھے باہر آیا جو کہ کچھ زیادہ اچھے موڈ میں نہیں لگ رہا تھا
کس سے بات کر رہی تھی؟؟
گ_گ_گھر فون کر رہی تھی ماما کی بہت یاد آرہی تھی سوچا فون پر بات کر لوں
اوہ تو یہ گھر کا نمبر ہے ؟
ج_جی گھر کا ہی نمبر ہے
گھر میں کس کا نمبر ہے ؟؟؟؟
م_م_م_ماما کا نمبر ہے
اچھا ذرا مجھے اپنی ساسو اماں سے بات کرنے دو میں بھی تو انکا حال چال پوچھوں !!
ثمن کا دل کیا ابھی زمین پھٹ جاۓ اور وہ اس میں دھنس جاۓ
فرہان نے موبائل کان سے لگایا ہوا تھا تبھی دوسری جانب سے مردانہ آواز سنائ دی
Hello!!!
کون بات کر رہے ہیں ؟
میں شہباز اجمل اور آپ کون؟؟
جواب دیے بغیر ہی فرہان نے فون کاٹ دیا
اب کیا کہنا ہے تمہارا مس ثمن اشتیاق ؟
ثمن بے حس و حرکت کھڑی تھی اب وہ کر بھی کیا سکتی تھی اسکی چوری پکڑی جاچکی تھی
فرہان نے اسکے بال اپنی مٹھی میں وحشیانہ طریقے سے جکھڑ لیے
ثمن کی سسکی نکلی
تمہں پتہ ہے جانے من میں تمہیں کیا سزا دینے والا ہوں ؟ تم کیسے جان سکتی ہو بھلا
(وہ خود ہی سوال کرکے جواب دے رہا تھا)
وہ ثمن کو گھسیٹتے ہوۓ صحن تک لایا دسمبر کی ٹھرٹھراتی ہوئ سردی میں بارش برس رہی تھی سردی نے سارے شہر کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا
ایک گھنٹے کیلیے اس بارش میں کھڑی رہو دماغ پر ٹھنڈی ہوا لگے گی نہ تو دماغ کھل جاۓ گا اور ہاں واپس تب تک مت آنا جب تک میں نہ کہوں
وہ انگلی سے وارن کرتا ہوا چلا گیا
ثمن سسکتے سسکتے ادھر ہی کھڑی رہی
کیا زندگی اتنی بے رحم ہوتی ہے؟ یا شاید اسے لگ رہی تھی
____________________________________________
ہمیشہ کی طرح آج بھی حنا ٹیرس پر کھڑی ہوکر علی کا انتظار کر رہی تھی لیکن آج باقی دنوں کی نسبت بہت دیر ہوچکی تھی موسم بھی کچھ ٹھیک نہیں تھا تیز آندھی کسی طوفان کی آمد کی اطلاع دے رہی تھی
وہ بار بار موبائل پر علی کا نمبر ڈائل کر رہی تھی اور نمبر مسلسل آف آ رہا تھا
اس کا دل ڈب ڈبا رہا تھا کیا کوئ ناگہانی آفت ہونے کو تھی ؟
کیا اس کے خوب سچ ہونے جا رہے تھے ؟ جو وہ دیکھا کرتی تھی اس کے گمان سچ ہوۓ تو ؟ علی کبھی لوٹ کر ہی نہ آیا تو ؟؟
نہیں نہیں اس نے دونوں کانوں کو ہاتھوں سے ڈھانپ لیا
میں علی کو نہیں کھونا چاہتی وہ آۓ گا لوٹ کر اس نے خود کو دلاسہ دیا
بارش شروع ہوچکی تھی وہ بھیگتی جا رہی تھی اس کا جسم سرد پڑتا جا رہا تھا وہ اپنے جسم سے جان نکلتے ہوۓ محسوس کرسکتی تھی
بارش کا ٹھنڈا پانی اس کے جسم کو بے جان کر رہا تھا اچانک اس کے کانوں میں کچھ شور سا سنائ دیا جیسے کوئ اسے پکار رہا تھا
لیکن ! کون۔۔۔۔؟؟
کیا موت اسے آواز دے رہی تھی ہاں شاید کیونکہ اب اسے تو یہی لگ رہا تھا
حنا۔۔۔۔۔۔۔۔حناااااااااااااااااااا !!!
آواز اسے اور قریب سے سنائ دینے لگی شاید موت قریب آچکی تھی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا اسکا جسم جامد پڑ چکا تھا وہ زمین پر گرتی جا رہی تھی
____________________________________________
شدت سے پڑتی سردی اس کے رگوں میں سما رہی تھی اسکا جسم سردی سے نیلا پڑ رہا تھا اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے اسے پاؤں پر کھڑے رہنا مشکل لگ رہا تھا
کیا کوئ اتنا ظالم ہوسکتا ہے بھلا ؟جتنا ظالم فرہان تھا !
وہ بہت دیر سے بارش میں کھڑی تھی شاید پچھلے پانچ گھنٹے سے
اسے اپنا آپ برف سا محسوس ہو رہا تھا ایک دم ٹھنڈا بے جان سا
سر درد ایسا تھا مانو کسی نے سر پر بھاری بوجھ رکھ دیا ہو
ٹھرٹھراتی اس سردی میں وہ پوری کانپ رہی تھی
فرہان باورچی خانے میں اپنے لیے کافی بنانے میں مصروف تھا
اسے ثمن کی سزا یاد ہی نہیں تھی وہ بھول چکا تھا کہ اس نے اتنی سردی اور بارش میں کسی کو کھڑا کیا تھا ابھی ابھی وہ نیند سے بیدار ہوا تھا
بابا !
حدید اسے ڈھونڈتا ہوا کچن میں آیا
جی بابا کی جان !!!
آپ کیا بنا رہے ہو بابا ؟
کافی بنا رہا ہوں چھوٹوں ۔۔۔دودھ گرم کر دوں تمہارے لیے ؟
نہیں بابا پکولے کھانے ہیں
اوہ تو میرے سوپر مین کو پکوڑے کھانے ہیں ؟ ابھی بناتا ہوں آپ کے لیے گرماگرم پکوڑے
بابا ،ماما کہاں ہے ؟
ماما ؟؟ وہ تو ثمن کو ماما کہتا ہے اچانک فرہان کے زہن میں دھماکا ہوا
اوہ مائ گاڈ اسنے تو ثمن کو باہر سردی میں کھڑا کیا تھا اچقنک اسے یاد آیا
وہ کافی کو جلتے چولہے پر چھوڑ کر باہر کی طرف بھاگا جہاں اسنے ثمن کو کھڑا رہنے کا کہا تھا
وہ پہنچا تو ثمن کانپ رہی تھی اس کا جسم نیلا پڑ چکا تھا اس وقت وہ پتھر کی لگ رہی تھی
فرہان بھاگا اسکی طرف گیا اس سے پہلے کہ وہ گرتی فرہان نے اسے اپنے بازوؤں میں تھام لیا
بارش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی فرہان نے اسے اپنے ساتھ لگایا اس وقت اسکا دل کیا اپنا سر دیوار میں دے مارے
وہ کیوں بھول گیا تھااسے ثمن اس وقت زندہ لاش لگ رہی تھی
فرہان کا دل کٹ کر رہ گیا اس وقت اسے کسی کی شدت سے یاد آئ تھی
وہ ثمن کو اٹھا کر اندر کی طرف تقریباً بھاگا تھا ثمن کا جسم سخت پڑ چکا تھا وہ بیہوشی کی حالت میں تھی
اس نے ثمن کو بیڈ پر لٹایا اس کے کپڑے بھیگے ہوۓ تھے اب کیا کروں وہ سوچنے لگا
اس نے الماری سے ثمن کے کپڑے نکالے
کیا تم خود سے کپڑے چینج کرسکتی ہو ؟ وہ اسے ہلا کر بولا
لیکن وہ تو بیہوش تھی
فرہان نے کمرے کی کھڑکیاں جو ادھ کھلی تھیں مکمل بند کردیں کمرے کی بتی بجادی
وہ اس کے کپڑے خود تبدیل کرنے کی سعی نہیں رکھتا تھا لیکن اس وقت یہ اسکی مجبوری تھی اس نے حنا کے کپڑے تبدیل کردیے
وہاں سے بھاگا بھاگا کچن میں گیا کافی(Coffee) جل بھن کر تھوڑی سی رہ چکی تھی
وہ برتن ایک طرف کرکے اس نے چاۓ بنانے کیلیے پانی چڑھا دیا
وہ ابھی چاۓ بنا رہا تھا جب ڈاکٹر کی گاڑی کچن کی کھڑکی سے نظر آگئ جس کو وہ کچن میں آنے سے پہلے اطلاع دے چکا تھا
حدید !!! اس نے لاٶنچ میں کھیلتے حدید کو آواز دی
جی بابا !!
بابا کی جان ڈاکٹر کو ماما والے روم میں لے جاٶ میں چاۓ لیکر آتا ہوں
اوکے بابا ۔۔۔
وہ ڈاکٹر کو کمرے میں لے گیا جہاں ثمن تھی
وہ چاۓ لیکر آیا
تب تک ڈاکٹر ثمن کا چیک اپ کر چکی تھی
ڈاکٹر کوئ گھبرانے والی بات تو نہیں ہے نہ ؟
نہیں مسٹر فرہان اچھا ہوا جو ان کے کپڑے وقت پر تبدیل کیے گۓ ورنہ انکی طبیعت مزید بگڑ جاتی ابھی بھی انکا بخار بہت تیز ہے آپکو انکا مکمل خیال رکھنا پڑے گا کچھ دن کوشش کریں یہ باہر سردی میں نہ ہی نکلیں تو زیادہ بہتر ہوگا انکی صحت کیلیے اور کچھ میڈیسنز لکھ دی ہیں میں نے یہ وقت پر دیتے رہیے گا
جی ڈاکٹر میں ساری باتوں کا دھیان رکھوں گا ثمن کی حالت دیکھ کر وہ مشکل سے بول پایا تھا آخر اس سب کا ذمہ دار وہی تو تھا
____________________________________________
اس کی آنکھ کھلی تو وہ ہسپتال میں تھی پاس ہی نرس کھڑی تھی جو اس کی میڈیسنز چیک کر رہی تھی
میں ۔۔میں ۔۔۔۔۔مجھے یہاں کون لایا ؟ اس نے یہ کس سے کہا تھا خود سے ؟ یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی
آپکی طبیعت بہت خراب تھی کوئ آدمی آپکو یہاں لایا جو خود کو آپکا شوہر بتا رہا تھا نرس نے جواب دیا
کیا، کیا کہا آپ نے نرس ؟؟؟وہ کہاں ہے؟؟؟ پلیز بلادیں انکو
تب تک علی اندر داخل ہوا حنا کا خوشی سے برا حال ہوا وہ خوش تھی اس کے خواب سچ نہیں ہوۓ وہ بھیانک خواب صرف خواب ہی رہے تھے علی اس کے سامنے تھا زندہ ،سلامت
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بیغم صاحبہ !
بیغم ؟؟
جی آپ ہماری بیغم ہی تو ہیں
حنا مسکرا دی
باہر اتنی سردی میں کیوں نکلی چھت پر جب بارش بھی تھی ؟ وہ کچھ سنجیدہ ہوا
میں آپکا انتظار کر رہی تھی موسم خراب تھا آپ نے کافی دیر بھی کردی تھی نہ
کم از کم ہماری وردہ کا ہی خیال کرتی اگر اسکو کچھ ہوجاتا تو؟
وردہ۔۔۔ کون وردہ؟؟؟ حنا چونکی تھی
ارے ہماری بیٹی وردہ اور کون ؟ وہ اب بھی سنجیدہ تھا
لیکن ہمارا حدید بلکل ٹھیک ہے وہ اطمينان سے بولی
حدید ۔۔۔۔کون حدید ؟؟؟وہ چونکا
ارے ہمارا بیٹا حدید اور کون ہونہہہہہہ
مجھے بیٹی چاہیے حنا
مجھے بیٹا چاہیے ہونہہہہہہہ
بیٹی ہوگی
بیٹا ہوگا
بیٹی
بیٹا
بیٹی
بیٹا
پاس کھڑی نرس دونوں کا جھگڑا دیکھ رہی تھی آپ لوگ بعد میں لڑنا پہلے مجھے پیشنٹ کو کھانا کھلانے دیں
آپ کیوں کھلائیں گی ؟؟؟ اسکا شوہر یعنی میں آپکو نظر نہیں آ رہا ہونہہہہہ
اوکے نو پرابلم کہہ کر نرس نے سوپ کا پیالہ علی کو پکڑا دیا
نرس کے جاتے ہی علی نے حنا کی طرف دیکھا اور حنا نے علی کی طرف پھر دونوں کا قہقہہ بلند ہوا
___________________________________________
وہ کمرے میں اندھیرا کرکے بیٹھا ہوا تھا اسکا ذہن ماضی میں مکمل طور پر ڈوبا ہواتھا ایک حسین منظر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا فرہان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی
ایک دم سے اسکی آنکھوں کے سامے اندھیرا چھانے لگا وہ اندھیرا جس نے اس کے حسین منظر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی
وہ بھیانک طوفان وہ تاریکیوں میں ڈوبی رات وہ خوفناک حادثہ جس نے اسکا سب کچھ چھین لیا وہ خوفناک حادثہ جس نے اسے تہی دست کردیا تھا خالی دامن کر دیا نرم دل سے پتھر دل کردیا
اسکی آنکھوں سے پانی رواں تھا حدید کمرے میں داخل ہوا اور اس کےپاس آکر بولا بابا آٶ کھیلتے ہیں
فرہان نے اسے خود سے قریب کیا
بابا آپ لو رہے ہو؟
نہیں بابا کی جان بابا نہیں رو رہے
بابا آپ ڈوت بول رہے ہو ؟ وہ معصوم اپنی توتلی زبان سے اپنے باپ کے درد کو زبان دینا چاہتا تھا
فرہان نے اسے اپنے سینے سے لگاۓ رکھا آنسو اسکے گالوں ہر بہت تیزی سے بہہ رہے تھے آج ایک بار پھر اسکا ماضی اس ک ذہن پر چھایا ہوا تھا آج پھر وہ بے آواز رو رہا تھا

ثمن کی آنکھ کھلی تو حدید اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا جیسے ہی وہ مکمل بیدار ہوئ وہ یک دم کھڑا ہوا بابا بابا کہتا ہوا وہ باہر کی طرف بھاگا
ثمن نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اسکا سر بہت بھاری لگ رہا تھا جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا اس نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائ میں یہاں کیسے ؟؟؟ وہ خود سے بولی
پھر اچانک رات والے سارے منظر اس کے ذہن میں کسی فلم کی طرح گھومنے لگے جب فرہان نے اسے باہر ہی رہنے کو کہا تھا ،جب وہ مسلسل باہر کھڑی ہی رہی تھی ، جب فرہان نے اسے گلے لگایا تھا اس کے بعد کیا ہوا تھا شاید وہ بیہوش ہوچکی تھی۔۔۔۔۔۔
ایک منٹ ۔۔۔۔۔! (وہ خود سے باتیں کر رہی تھی )
فرہان نے اسے گلے لگایا تھا ؟؟اچانک اسکی نظر اپنے کپٹوں پر پڑی اب سوال یہ تھا کہ اسکے کپڑے کس نے چینج کیے کیا فرہان نے اس کے کپڑے چینج کیے تھے؟؟؟؟ ثمن غصے سے لال پیلی ہوئ اس نے اسکی بیہوشی کا فائدہ اٹھایا ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب دھڑام سے دروازہ کھلا
ثمن کی سوچوں کا بھرم ٹوٹ گیا اسنے سامنے دیکھا تو فرہان حدید کو گود میں لیے کمرے میں داخل ہوا
ثمن نے جلدی سے اپنا دوپٹہ سر پر اوڑھا جو پاس میں ہی پڑا تھا
کم از کم اسے دروزے پر ناک کرکے آنا چاہیے تھا یہ احساس فرہان کو بعد میں ہوا
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ۔۔۔! وہ ثمن سے آنکھیں ماۓ بغیر بولا
وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ ۔۔۔،
ثمن کو وہ کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لگا تھا شاید وہ شرمندہ تھا
جو کچھ ہوا میں اس کیلیے معذرت خواہ ہوں مس ثمن وہ ثمن کی طرف دیکھے بغیر بولا
ثمن کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا اس کا دل کیا فرہان سے ایک بار پھر سوری کہلواۓ
ماما کیسی ہے آپ ؟؟ حدید نے وہ پوچھا جو فرہان پوچھ نہیں پا رہا تھا اسکی انا اسے اجازت نہیں دے رہی تھی
ٹھیک (وہ اتنا ہی کہہ پائ تھی)
اسکی طبیعت واقعی میں بہتر لگ رہی تھی
لنچ میں نے باہر سے منگوالیا ہے فریش ہوکر نیچے آجانا
ثمن نے سر اثبات میں ہلادیا
وہ جانے لگا تو واپس مڑا
سنو !!
جی ؟
تیار ہوکر آنا
خیریت ؟
تمہیں ملوانا ہے کسی سے
اچھا
وہ دونوں باپ بیٹا کمرے سے باہر چلےگۓ
وہ فریش ہونے کیلیے واش روم میں گھس گئ
___________________________________________
وہ نیچے آئ تو ٹیبل پر بریانی ،کباب، کوفتے، مچھلی اور بھی طرح طرح کے کھانے سجے ہوۓ تھے لیکن ان دونوں میں سے کوئ بھی کھا نہیں رہا تھا
فرہان اور حدید بھی باقی دنوں کی نسبت زیادہ فریش دکھائ دے رہے تھے
وہ بھی ان کے ساتھ آکر بیٹھی تبھی دروزے پر بیل سنائ دی
فرہان دروازہ کھولنے کیلیے چلا گیا کچھ ہی دیر میں شور سنائ دینے لگا جیسے بہت سارے لوگ ایک ساتھ جمع ہوگۓ ہوں
ثمن دیکھنے کیلیے اٹھی ہی تھی کہ اس کے امی ابو بھائ بھابھی اندر داخل ہوۓ انکے پیچھے فرہان آتا دکھائ دے رہا تھا
ثمن کی خوشی کی انتہا نہ رہی وہ بھاگ کر اپنے پیاروں سے ملی اتنے دنوں بعد وہ اپنے پیاروں سے مل رہی تھی
امی آئیں نہ بیٹھیں ابو یہاں بیٹھیں وہ کرسی آگے آگے کرکے انکو بٹھا رہی تھی اس وقت چھوٹے بچوں جیسی لگ رہی تھی
اس کی نظر فرہان پر پڑی اس نے اپنی نظروں سے اسے بہت کچھ سمجایا جیسے اسے منع کر رہا ہو کہ انکو کچھ مت بتانا
والدین سے بڑی خوشی اور کیا ہوسکتی ہے
جیسے کسی پیاسے کو پڑپنے کے بعد پانی میسر ہوا ہو، جیسی کسی قید پرندے کو آزادی مل گئ ہوں اس وقت ثمن کو ایسی ہی خوشی ہو رہی تھی اس وقت
فرہان نے آج ہمیں دعوت پر بلایا تھا اور کہا تھا کہ تمہیں سرپرائز دینا ہے ثمن کی بھابھی نے اس کو مخاطب کیا
یہ میرے لیے سب سے خوبصورت تحفہ ہے وہ اتنا ہی بول پائ تھی اور کہتی بھی تو کیا اس کے دل میں اس شخص کیلیے نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا
ویسے تمہیں تمہارا ہمسفر بڑا اچھا ملا ہے انٹیلیجنٹ ،سمارٹ ،ٹال اور ہینڈسم بھی ہے یعنی فل پیک ہے وہ ہنس ہنس کر فرہان کی تعریف کر رہی تھی
ثمن کی آنکھیں بھر آئیں وہ اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتا تھا وہ انھیں کیسے بتاتی
آپ لوگ کھانا کھائیے نہ فرہان نے سبکو مخاطب کیا جو آپس میں محو گفتگو تھے
کھائیے نہ آپ لوگ کھا ہی نہیں رہے کچھ ثمن نے بھی اسکی پیروی کی تھی ۔۔۔
سب لوگ کھانے میں مصروف تھے جبکہ ثمن کی بس ہوگئ
جاٶ وہ کھیر تو لے آٶ جو تم نے سپیشل بنائ تھی فرہان نے حنا کو مخاطب کیا
کھیر؟؟؟؟؟ اسنے نہ سمجھنے والے انداز میں فرہان کو دیکھا کیونکہ اس نے تو کوئ کھیر نہیں بنائ تھی
ہاں نہ فریج میں ہی تو رکھی تھی کھیر !!
میں کھیر لاتی ہوں ۔۔۔کہہ کر وہ کچن کی طرف چلی گئ
سب لوگ گپ شپ میں مصروف تھے
وہ کھیر باٶل میں ڈال رہی تھی جب حدید اندر آیا
ماما آپ کیا کر رہی ہو ؟ وہ معصوميت سے بولا
کام ۔۔۔
آپ سارے کام کرتی ہو ماما کم کام کیا کرو نہ!!!
تو کام کون کرے گا تمہاری ماں کرے گی پتہ نہیں کہاں چلی گئ تمہیں پیدا کرکے
حدید یک دم خاموش ہوا
وہ پانچ سال کے چھوٹے سے بچے کو زہنی اذیت دے رہی تھی
تبھی کسی نے اسے آواز دی
ثمن!!!!!
وہ کھیر لیکر باہر جاتے جاتے مڑی
سنو ! میں تمہاری ماما نہیں ہوں آئیندہ مجھے ماما مت کہنا
وہ ایسا کیوں کر رہی تھی ایک چھوٹے سے بچے کے ساتھ یہ وہ خود بھء نہیں جانتی تھی لیکن شاید یہ یہ سارا غصہ فرہان پر تھا جو حدید پر نکالا اس نے
____________________________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: