Urdu Novels Wajeeha Yousafzai Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai

Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai novel by Wajeeha Yousafzai – Episode 4

Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai novel by Wajeeha Yousafzai
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 یہ جو ریگ دیشت فراق ہے از وجیہہ یوسفزئی – قسط نمبر 4

–**–**–

حنا اور علی دونوں ڈنر کرنے باہر آۓ تھے یہ حنا کی فرمائش تھی جو بہت پیار سے پوری کی گئ تھی
حنا سرخ فراک کے ساتھ سبز چوڑی دار پاجامہ میں ملبوس علی کو بہت پیاری لگ رہی تھی سرخ رنگ اس کی دودھیا رنگت کو اور واضع کیے ہوۓ تھا
علی سرخ شرٹ پر بلیک پینٹ کوٹ پہنے ہوۓ تھا وہ اپنے گہرے بھورے بال ہمیشہ کی طرح سلیقے سے سجاۓ ہوۓ تھا جن میں سے کچھ سٹائل سے ماتھے پر گرے ہوۓ تھے
دونوں کا کپل بہت خوبصورت اور مکمل لگ رہا تھا
کھانے کے بعد دونوں بوتل پی رہے تھے
علی ایک بات بتاٶں ؟؟ برا تو نہیں مانو گے ؟؟؟؟
میں کیوں برا ماننے لگا تمہاری باتوں کا بتاٶ
اپنی ڈائیٹ کا دھیان رکھا کرو موٹے ہو رہے ہو
ہیں ۔۔۔میں موٹا نظر آرہا ہوں تمہیں حد ہوگئ یار یہ باڈی بنائ ہے میں نے موٹا نہیں ہوں میں
اپنی شرٹ کو تو دیکھو بٹن ٹھیک سے بند بھی نہیں ہو رہے
ارے پگلی سب ایسے ٹائٹ شرٹس پہنتے ہیں آج کل یہ فیشن ہے
میری تو ہر بات ہی غلط لگتی ہے آپکو میں نہیں بولتی جائیے
ناراض ہو ؟
پتہ نہیں
اچھا سنو !!
جی ؟؟؟؟؟
ناراض کیوں ہوتی ہو ؟ وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر بولا
پاگل ہوں نہ اس لیے
اوہ اچھا یعنی مان لیا کہ تم پاگل ہو اگر یہ میں کہتا تو تم ناراض ہوجاتی اسنے حنا کو مزید تپایا
تم نے مجھے پاگل کہا علی ؟؟اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں مزید بڑی کر لیں میں جا رہی ہوں باۓ ہونہہہہہ
وہ اٹھ گئ اور چلنے لگی
بے بی ڈارلنگ !!!!! مجھے اکیلے چھوڑ کر جا رہی ہو ؟؟؟؟
وہ اونچی آواز میں بولا تھا سب لوگ اسکی طرف متوجہ ہوگۓ
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئ کافی دور نکل گئ راستے میں سڑک پڑتی تھی
اس کو یقین تھا کہ علی اس کے پیچھے ہی آتا ہوگا اس نے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئ نہیں تھا
نہیں آنا تو نہ آٶ میں اکیلی جا سکتی ہوں گھر ہونہہہہہ
وہ سڑک عبور کر رہی تھی جب سامنے سے گاڑی تیزی سے آتی ہوئ دکھائ دی
اس سے پہلے کہ گاڑی اسکو ٹکر مارتی کسی نے اسے بازو سے کھینچا
حنا کے اوسان خطا ہوچکے تھے اوپر نظر اٹھا کر دیکھا تو علی تھا وہ اس کے سینے میں چھپ گئ
حنا یہ دوسری بار بے وقوفی کر چکی ہو تم اور یہ آخری بار ہے اس کے بعد کوئ بےوقوفی میں نہیں چاہتا
آئ ایم سوری علی وہ رہی تھی
علی نے اپنے بازوؤں کا گھیراٶ اس کے گرد تنگ کیا رو نہیں علی کی جان اب تمہیں دھیان رکھنا ہے اپنا ہمارے بے بی کو کچھ ہمارے پاس آنے میں چند مہینے رہتے ہیں تب کوئ بے دھیانی نہیں اوکے ۔۔۔۔
ہممممم وہ اس کے سینے سے لگی رو رہی تھی
___________________________________________
آج اسے دلی سکون تھا وہ اپنے گھر والوں سے ملی اس کے پیارے سارا دن اس کے ساتھ تھے کتنے خوش دکھائ دے رہے تھے اس کے ماں باپ کتنا سکون تھا ان کے چہرے پر
وہ لاٶنج میں بیٹھی سارے دن میں ہونے والے وقعات کے بارے میں سوچ رہی تھی تبھی فرہان وہاں آیا
وہ چونکی نہیں تھی وہ اسکی شکرگزار تھی جو اس نے اس کے والدین کو اس کے پیاروں کو دعوت پر بلایا تھا اور وہ جانتی تھی سارے کھانے اس نے باہر سے منگواۓ تھے جو اس نے ثمن کا نام لے کر پیش کیے تھے اس نے اس کے گھر والوں کے سامنے اسکا مان رکھا تھا
وہ اٹھ کر اس کے پاس گئ شکریہ کہنے کیلیے جانے ہی لگی
وہی رکو مت آٶ میرے پاس
وہ سپاٹ لہجے میں بولا
ثمن نے حیراکن نظر سے اسے دیکھا جیسے سمجھ نہیں پا رہی ہو کہ میں نے کیا ہی کیا ہے ؟؟
پتہ نہیں کب تک تمہیں برداشت کرتا رہوں گا میں تھک گیا ہوں تمہارا وجود برداشت نہیں ہوتا مجھ سے
اس وقت فرہان غصے سے پاگل ہونے کو تھا اسکی آنکھیں سرخ اور سوجھی ہوئ تھی اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے وہ رو کر آیا ہو
اس نے ہمت جمع کر کے آخر پوچھ ہی لیا
میں نے کیا کیا ہے فرہان ؟؟؟؟
تم نے کیا کیا ؟؟؟ واہ رے صدقے وہ تالیاں بجاتا ہوا بولا تمہیں نہیں پتہ کیا کیا ہے تم نے ؟؟؟قاتل ہو تم ،قتل کر چکی ہو تم اور میں اس بات سے انجان نہیں ہوں
ق ق قتل ؟؟؟ ثمن کی آواز حلق میں ہی اٹک گئ
فرہان نے اس کے بال اپنی مٹھی میں جکھڑ لیے تم سے بدلہ لینے کیلیے ہی تو سب کھیل رچایا تھا میں نے اور بیچاری تم پھنس گئ میرے جال میں
ثمن درد سے بے حال ہو رہی تھی فرہان کسی وحشی درندے کیطرح اس کے بال کھینچ رہا تھا
اچانک فرہان کے فون کی رنگ بجی اسنے ثمن کے بال چھٶڑیں اور دھکا دے کر اسے اپنے راستے سے ہٹایا
وہ بے جان سی زمین پر گر پڑی اس کےماتھے سے خون رسنے لگا
علی جلدی آٶ وہ صحن میں کرسی پر بیٹھ کر اسے آواز دے رہی تھی جو کچن میں اس کی فرمائش پر اس کیلیے کیک بنانے میں صبح سے سر کھپانے میں مصروف تھا
جی علی جان فرمائیے !!! وہ اس کے سامنے کسی چراغ سے نکلے جن کی طرح حاضر تھا
نمک پارے کھانے کا دل کر رہا ہیں بنادیں گے آپ یا باہر سے منگو لوں ؟؟؟
(علی کا منہ بن گیا )یار اتنی تھکاوٹ ہوگئ ہے مجھے کیک بناتے بناتے اتنی محنت کر رہا ہوں صبح سے لگا ہوں اس نے شکوہ کیا
اوہ سوری ۔۔لیکن غلطی میری نہیں ہے نہ میری حالت دیکھ رہے ہیں فٹبال بن گئ ہوں پوری طرح سے
جانتا ہوں پیاری اس لیے تو تمہارے ناز نخرے اٹھا رہا ہوں
ہین !!!مطلب یہ سب آپ اپنے بے بی کیلیے کر رہے ہیں میری کوئ اہمیت نہیں آپکی نظر میں
افف یار کیا ہوگیا ہے آپکو ناراض نہ ہوں بناتا ہوں آپکی پسند کی ساری چیزیں وہ معصوم سا منہ بنا کر بولا
ویسے یہ سب میری خواہشات نہیں ہیں آپکے بےبی کی خواہشات ہیں سمجھے آپ ہونہہہہہہ
ہاۓ او ربا ابھی آیا بھی اور اتنے نخرے (علی کی پسینے چھوٹنے لگے)
ہاں جی چند دن اور عیش کر لیں اس کے بعد آپ ہم دونوں کے لیے کھانا بنایا کریں گے
مطلب یک نہ شد دو شد
ہاہاہاہاہاہا ہاں ہاں
نہیں جی بے بی اپنے بابا کہ سائڈ لے گا نہ کے ماما کی علی نے اسے چڑانا چاہا
یہ تو وقت ہی بتاۓ گا کہ آپکو کتنے پاپڑ بیلنے پڑیں گے چڑنے کی بجاۓ اس نے علی کو مزید کنفیوز کر دیا
اچھا بابا میری شامت بلا لینا لیکن فلحال کیک بنا رہا ہوں اگر میں وقت پر نہ بن پایا تو میری محنت ضائع سمجھو وہ کچن کی طرف بھاگتے ہوۓ بولا
اسکو بچوں کی طرح بھاگتا دیکھ کر حنا کا قہقہا بلند ہوا جو پورے لان میں سنائ دیا تھا
____________________________________________
ثمن کے ماتھے سے خون نکل رہا تھا وہ درد سے کراہ رہی تھی فرہان جوکہ موبائل پر کسی سے بات کرنے میں لگا ہوا تھا اسے ثمن کی حالت پر ترس آیا
چلو اٹھو اس نے ثمن کی طرف ہاتھ بڑھایا
اس نے اپنے کانپنے ہاتھوں سے اسکا ہاتھ تھام لیا
ادھر آٶ
اس نے ثمن کو صوفے پر بٹھایا اور خود فرسٹ ایڈ باکس لینے چلاگیا
کچھ ہی دیر میں وہ باکس لے آیا ثمن کے ماتھے پر جہاں چوٹ لگی تھی وہاں پٹی کی اور باکس ٹیبل پر رکھ دیا
بات سنیں !!!
اس نے اپنے سامنے اس لمبے قد کے آدمی سے کہا جو اپنے موبائل پر کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا اس کی آواز سن کر مڑا اور اپنے سامنے بیٹھی ڈری سہمی لڑکی کا سر سے پاٶں تک کا جائزہ لیا
مجھے قاتل کیوں کہا تھا ؟
قاتل انھی کو کہا جاتا ہے جو قتل کرتے ہیں قاتل کو قاتل ہی کہا جاتا ہے چاہے پھر وہ کسی کی خوشیوں کا قاتل ہو یا کسی انسان کا اس بات سے فرق نہیں پڑتا
اس پہیلی سے میں کیا مطلب نکالوں وہ مخاطب اس سے تھی لیکن فرش کو گھور رہی تھی
پہلیاں ہوتی ہی بوجھنے کیلیے ہیں لیکن اس پہیلی سے تم خوب واقف ہو
نہیں مجھے نہیں علم میں اب تک آپکے سارے سلوک کی وجہ شہباز کو سمجھ رہی کیونکہ میں اسے پسند کرتی تھی لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ صرف یہ وجہ ناکافی ہے وہ ویسے ہی فرش کو گھور رہی تھی
کیوں اپنا گناہ اپنے منہ سے سننا چاہتی ہو ؟؟؟کیوں میرے زخم ہرے کرنا چاہتی ہو ؟؟؟ جبکہ تم سب جانتی ہو کسی بھی چیز سے انجان نہیں ہو فرہان کی نظریں ابھی بھی اسی پر تھیں
کیا میں جاننے کا حق نہیں رکھتی کہ مجھے کس جرم کی سزا مل رہی ہے ؟؟ ہو سکتا ہے جسے آپ میرا جرم سمجھ رہے ہیں وہ صرف ایک غلط فہمی ہو
آنکھوں سے دیکھے ہوۓ مناظر کبھی غلط فہمی نہیں ہوا کرتے وہ تمسخرانہ مسکرایا
کبھی کبھی آنکھیں بھی دھوکہ دے جاتی ہیں آنکھوں دیکھا غلط بھی ہو سکتا ہے
مجھے نہیں لگتا ایسا ہوتا ہوگا مس ثمن !!
نہ ماننے سے کیا ہوگا وہ مسلسل فرش کو گھور رہی تھی
تو مان جانے سے کیا ہوگا ؟؟؟؟
دونوں کے بیچ خاموشی چھاگئ فرہان نے سگریٹ کا کش لگایا اور وہاں سے چلتا بنا
ثمن نے نظریں اوپر اٹھائ اور سگریٹ کا دھواں ہوا میں تحلیل ہوتے ہوۓ دیکھا اس نے سگریٹ کب نکال کر جلائ وہ اس بات سے انجان تھی وہ سگریٹ پیتا تھا یہ اسے معلوم نہیں تھا اس شخص کے بارے میں نت نئ باتیں اسے پتہ چل رہی تھیں وہ خود اس کے سامنے ایک پہیلی بنتا جا رہا تھا جس نے اسکی زندگی ہی پہیلی بنادی تھی
____________________________________________
وہ ہسپتال میں بچھلے دو ،تین گھنٹےسے بینچ پر بیٹھا کافی پریشان دکھائ دے رہا تھا آج صبح ہی حنا کی طبیعت بہت خراب ہوئ تھی جس کء وجہ سے اسے حنا کو فوراً ہسپتال لانا پڑا تھا راستے میں اسنے کار کس طرح مصیبت سے ڈرائیو کی تھی یہ اس سے بہتر کون جانتا تھا
حنا کی کنڈیشن زیادہ خراب تھی اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی ماں اور بچے میں سے کسی ایک کی جان خطرے میں تھی اس لیے ڈاکٹرز نے اسے آئ سی یو میں رکھا تھا
تبھی ڈاکٹر اندر آتی ہوئ نظر آئ
وہ یک دم کھڑا ہوا
مبارک ہو ،آپکا بیٹا ہوا ہے
ک _کیا ؟؟ سچ میں ؟مطلب کجا میں نے سہی سنا میں کوئ خواب تو نہیں دیکھ ریا تھا وہ خوشی سے پاگل ہونے کو تھا
باپ بننے کی خوشی دنیا کی سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے جو آج اس نے محسوس کی
تبھی نرس گود میں بچہ لیے اس کے پاس آئ اور بچہ اسکی گود میں پکڑا دیا
علی نے ایک نظر اسے دیکھا اس کے بال ڈارک براٶن تھے بلکل اس کے جیسے وہ معصوم آنکھیں بند کیے سونے میں مصروف تھا اچانک اسے حنا کا خیال آیا
ڈاکٹر !! حنا کیسی ہے ؟
شی از فائن اسے بہت کمزوری فیل ہوری تھی کچھ میڈیسنز دی ہے ہم نے وہ سو رہی ہیں
وہ ٹھیک تھی اس کا بچہ سلامتی سے دنیا میں آیا آج اس سے زیادہ خوش قسمت کون ہوسکتا تھا
اس نے بچے کی طرف ایک بار پھر دیکھا اور مسکرا کر اسکے ماتھے پر بوسہ لیا ”حدید“
حنا کی خواہش پوری ہوچکی تھی وہ بیٹا چاہتی تھی اور بیٹا ہی پیدا ہوا تھا
آج اگر اس سے کوئ پوچھتا کہ خوشی کیا ہوتی ہے تو جواب دیتا خوشی کا دوسرا نام حدید ہے کیونکہ اس میں اسکی خوشی تھی اس میں حنا کی خوشی تھی
____________________________________________
ثمن کمرے میں بیٹھی سوچوں کے دریا میں غوطے لگا رہی تھی وہ اپنے اور فرہان کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں سوچ رہی تھی جس کا کوئ سر پیر اسے مل نہیں رہا تھا اس کے سر میں شدید درد تھا وہ بخار میں تپ رہی تھی
تبھی دروازہ کھلا اور حدید بھاگتا ہوا اس کے اس آیا
ماما بھوک لگی ہے وہ دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھ کر بولا
ثمن کے سر میں شدت سے درد ہو رہا تھا اسکی آنکھیں درد کے مارے سرخ ہوچکی تھیں
میں ماما نہیں ہوں تمہاری جاٶ کھیلو باہر
ماما پلیز بھوک لگی ہے نہ
میں تمہاری ماما نہیں ہوں مر گئ تمہاری منحوس ماما تمہیں پیدا کرکے ( وہ اپنے سامنے کھڑے چار سال کے چھوٹے سے بچے پر چیخی تھی )
آپ جھوٹ بول رہی ہو بابا نے کہا تھا آپ ہی میری ماما ہو حدید کی آنکھیں بھر آئیں وہ چھوٹا بچہ اپنے رونے کو کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا
اگر میں اتنی ہی جھوٹی ہوں تو جاٶ اپنے لیے کھانا خود بنالو میں تمہیں کچھ نہیں بنا کر دینے والی
ماما بھوک لگی ہے نہ پلیز وہ معصوميت سے منتیں کر رہا تھا
کمرے سے باہر نکلو جاٶ خود بناٶ جو بنانا ہے تم نے میرے سامنے سے ہٹ جاٶ دور چلے جاٶ ثمن نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر نکالا اور دروازہ اندر سے بند کردیا
حدید چھوٹے چھوٹے قدموں سے اپنے کمرے میں آیا وہاں الماری میں اپنی ماما کی تصویر نکال کر سینے سے لگاۓ رونے لگا
ماما آپ کیوں چلی گئیں دوسری ماما گندی ہے ماما مجھے بھوک لگی ہے وہ مجھے کھانا بھی بنا کر نہیں دیتی ماما واپس آجاؤ وہ روۓ جا رہا تھا
وہ دروزہ بند کرکے وہی بیٹتی چلی گئ کیا ہو گءا تھا اسے وہ اتنی ظالم تو نہ تھی لیکن جب بھی اسے حدید پر پیار آنے لگتا فرہان کا لہجہ اسکا رویہ اس کے سامنے آجاتا تھا تو وہ اسی کا بیٹا نہ
خیر جو بھی تھا وہ معصوم تھا اسکو اس چھوٹے سے بچے کے ساتھ اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا اسے احساس ہوچکا تھا
اس نے کیا کردیا وہ ایسی تو نہیں تھی اتنی ظالم تو نہیں تھی وہ
____________________________________________
وہ لوگ گھر آچکے تھے حنا اپنے کمرے میں تھی فرہان اس کے پاس بیٹھا تھا حدید حنا گود میں تھا وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے کبھی علی کو دیکھتا تو کبھی حنا کو
فرہان نے غور سے دیکھا تو اسے لگا کہ حدید آنکھیں بلکل حنا پر گئیں ہیں بلکل ویسے ہی ہلکی ہلکی نیلی نیلی سی
ہماری دنیا مکمل ہوچکی ہے حنا
ہاں دنیا کی ساری خوشیاں ایک طرف ماں باپ بننے کا سکھ ایک طرف مانو زندگی مکمل ہوگئ ہو
ہاں بھئ اب بیٹا آگیا ہے ہمیں بھلا نہ دینا کہیں دونوں ماں بیٹا مل کر
بھلائیں گے نہیں ہم نے تو بھلا دیا کوں ہو آپ حنا نے اسے چڑایا
اسکی بات پر علی کا قہقہا بلند ہو
علی مجھے ڈر لگا رہتا ہے ہماری خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگے حنا اس کے کندھے پر سر رکھ کر بولی
ارے پگلی خوشیوں کے موقع پر ایسی باتیں نہیں کرتے
خوشیوں کو خوشی سے انجواۓ کرو وہ اس کے ماتھے پر بوسہ لیتے ہوۓ بولا
تبھی چھوٹے نواب نے رونا سٹارٹ کر دیا وہ پورا زور لگا کا رو رہا تھا
لاٶ مجھے دو میں چھپ کرواتا ہوں تم نہیں کرواسکتی فرہان بہت فخر سے بولا
حنا کا قہقہا بلند ہوا چلیں پکڑے پھر اسنے حدید علی کو پکڑا دیا
وہ اس کو چھہ کروانے کی کوشش کرنے لگا تبھی اسے کچھ گرم گرم محسوس ہوا
کیا ہوا ؟ حنا نے ہنس کر پوچھا
یہ گرم گرم کیا ہے ؟ علی معصومانہ انداز میں بولا
ہاہاہاہاہاہا یہ آپکے بیٹے نے کرنامہ کردیا
مطلب ؟؟؟ ابھی اسکی بات ادھوری تھی کی اسکی شرٹ بھی گیلی ہوگئ
آہ کتنا گندہ بیٹا ہے تمہارا پکڑو اسے میں چکا شرٹ چینج کرنے وہ بھاگا بھاگا گیا
حنا ہسنتی رہ گئ حنا کو دیکھ کر حدید بھی ہنسنے لگا
ہین ڈھیٹ بچے بابا کے کپڑے گندے کرکے خوش ہو رہے ہو
وہ حدید کے کپڑے تبدیل کرنے لگی
____________________________________________
وہ ٹیبل پر کھڑے ہوکر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنے لیے انڈہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا
تبھی گرم گرم گھی اس کت بازو پر گرا اسکی چیخ نکلی
ثمن چیخ سن کر دوڑی دوڑی آئ
کیا ہوا ؟
تبھی اسکی نظرحدید کے بازو پر پڑی اففف اللہ ۔۔۔ہاتھ جلا دیا اپنا
آٶ میرے ساتھ میں دوائ لگا دوں وہ بہت پیار سے بولی مجھے نہیں آنا آپ کے ساتھ آپ گندی ہو
اسکا بازو بہت خطرناک حد تک جلا تھا پھر بھی وہ مرہم لگانے سے انکاری تھا
ثمن نے زبرستی اسکا ہاتھ پکڑا چلو میرے ساتھ مرہم لگا دوں
تبھی فرہان لاٶنج سے اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔۔۔

بابا !! وہ بھاگا بھاگا فرہان کے پاس پینچا بابا میرا بازو جل گیا بابا وہ رو رو کر اسے بتا رہا تھا
اوہ مائ گاڈ ! یہ کیسے جلا بابا کی جان ؟ وہ اس کے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا
کیا میرا منہ دیکھتی رہیں گی ؟ یا فرسٹ ایڈ باکس لے آئیں گی آپ
اس نے ثمن کومخاطب کیا جو ڈری ,سہمی ہوئ کھڑی تھی
کوئ جواب دیے بغیر باکس لینے چلی گئ
جب وہ باکس لے آئ تو فرہان نے جلدی جلدی حدید کے بازو پر مرہم لگایا اور اسے گود میں لیے کمرے میں چلاگیا
ثمن وہی کھڑی رہی کہ کاش وہ حدید کو کھانا بنا کر دے دیتی تو کیا ہوجاتا باپ کے سلوک کا بدلہ اس ننھی سی جان سے لینا کوئ اچھا کام تو نہ تھا
اسے اپنی غلطی کا احساس تھا وہ چاہتی تھی کہ وقت مڑے اور حدید کو وہ کھانا بنا کر اپنے ہاتھوں سے کھلاۓ
لیکن اب روۓ کیا جب چڑیا چگ گئ کھیت
کبھی کبھی زندگی ہم سے وہ ہوجاتا ہے جو ہم کرنا نہیں چاہتے کچھ ایسے کام جن سے بعد میں ہمیں پچھتانا پڑتا ہے ہر انسان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے
آج اس کے ساتھ بھی ہوا وہ خود کو مٹا دے ختم کردے یا کیا سزا دے یہ وہ نہیں جانتی تھی لیکن آج وہ جی بھر کر پچھتا رہی تھی ایک معصوم کا ہاتھ جلا جس کی وجہ یہ بنی تھی
اب ثمن نے دل میں ٹھان لی کہ وہ حدید کو کبھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دے گی
وہ اس سے اتنا ہی پیار کرے گی جتنا پیار ایک سگی ماں اپنے بیٹے سے کرتی ہے وہ اسکی کوئ بات نہیں جھٹلاۓ گی اس نے خود سے پکا وعدہ کر لیا تھا
____________________________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: