Urdu Novels Wajeeha Yousafzai Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai

Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai novel by Wajeeha Yousafzai – Episode 6

Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai novel by Wajeeha Yousafzai
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
یہ جو ریگ دیشت فراق ہے از وجیہہ یوسفزئی- قسط نمبر 6

–**–**–

حنا کی موت کو دو سال پورے ہوچکے تھے
علی اسکی تصویر سے روز باتیں کیا کرتا تھا کہ اس نے سارا دن آفس میں کیسے گزارا سارا دن حدید ک خیال کیسے رکھا کیا کیا لنچ اور ڈنر میں بنایا
حنا کے چلے جانے کے بعد اس نے کوئ نوکر یا نوکرانی نہیں رکھی وہ سارے کام خود کرتا تھا کیونکہ حنا کو نوکر چاکر پسند نہیں تھے
ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ اس کی تصویر کو سینے سے لگاۓ ہوۓ بیٹھا تھا جب اسکو حنا کی باتیں یاد آئیں
وہ اپنی موت کا زکر کرتی تو علی اسکو ڈانٹ دیا کرتا تھا لیکن جب علی اپنی موت ک زکر کرتا تو وہ کہتی علی میری عمر بھی آپکو ہی لگے علی کی آنکھیں بھر آئیں
بابا ! آپ میرے ساتھ فٹ بال کھیلیں گے ؟ حدید جو اچانک اندر آیا اپنے باپ کو روتا دیکھ کر بولا
وہ چھوٹا سا بچہ اپنے باپ کے غم کو کم کرنا چاہتا تھا باقی بچوں کی طرح اسنے اپ باپ سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ آپ کیوں رو رہے ہو
علی نے اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کی تھی لیکن حدید وہ آنسو دیکھ چکا تھا
آپ باہر جا کر کھیلو بابا فریش ہوکر آتے ہیں اوکے
اوکے بابا
وہ باہر چلا گیا
علی نے بے بس نظروں سے حنا کی تصویر کو دیکھا
کیوں یہ دن دکھاۓ مجھے جب مجھے سب سے زیادہ تمہاری ضرورت تھی
کیوں چھوڑ گئ مجھے جب میں تمہارے بغیر کتنا بدل چکا ہوں
کیوں چلی گئ جب ہم دونوں نے اپنے بیٹے کا بہترین فیوچر پلان کرنا تھا
کیوں چلی گئ تم جبکہ تم جانتی تھی تمہارے بغیر مر جاٶں گا
میں زندہ لاش بن چکا ہوں حنا میں کب کا مر چکا ہوتا اگر تم مجھے حدید نہ تھما تھی
حنا کی مسکراتی تصویر اس کے آنکھوں کے سامنے تھی
تبھی موبائل کی گھنٹی بجی
اس نے ٹیبل پر پڑا اپنا موبائل دیکھا سکرین پر جگمگاتا نمبر اس کے سیکرٹری کا تھا
ہیلو ؟ دس از فرہان علی اسپیکنگ
ہیلو! سر اس گاڑی کے مطلق معلومات مل چکی ہے وہ گاڑی جس سے حنا میم کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس دن وہ گاڑی ایک لڑکی ڈرائیو کر رہی تھی
وٹ ؟؟؟ آر یو شیور؟!
یس سر وہ لڑکی ہی تھی
کچھ پتا چلا اس لڑکی کے بارے میں
جی سر !! اس لڑکی کا نام ثمن اشتیاق ہے اور وہ کالج کی اسٹوڈنٹ ہے پورا ایڈریس پتا کروالیا ہے میں نے
بہت شکریہ تمہارا تمہارا کام ختم ہوا یہ انفارمیشن مجھت مجھے میسج کردو اور کسی کو کوبھی مت بتانا
اوکے سر !! آپ پولیس کو انفارم کر دیں
نہیں پولیس کا یہاں کوئ کام نہیں میرا ذاتی بدلہ ہے میں اپنے طریقے سے لوں گا
اوکے سر !!!
اس نے فون بند بندکردیا
ایک نظر حنا کی مسکراتی تصویر پر ڈالی
اور موبائل کی جگمگاتی سکرین پر ساری انفارمیشن اس کے سامنے تھی
میں آ رہا ہوں مس ثمن
وہ استہزائیہ ہنسا

تقریباً رات کے 12 بجے فرہان لاٶنج میں بیٹھ کر حدید کی ہوم ورک نوٹ بکس چیک کر رہا تھا اسے حدید کی اسٹڈی کی بہت فکر تھی وہ ہمیشہ اپنے فری ٹائم میں اسکی نوٹ بکس چیک کیا کرتا تھا کیونکہ وہ چاہتا تھا اسکا بیٹا کسی بھی میدان میں کسی سے بھی پیچھے نہ رہ جاۓ
تبھی ثمن بھی سر درد کی وجہ سے سو نہیں پائ تھی وہ بھی پانی پینے کیلیے کچن میں آگئ جوکہ لاٶنج کے بلکل مقابل تھا
ایک نگاہ فرہان پر ڈال کر اس نے گلاس میں پانی لیا اور منہ سے لگا لیا
فرہان کی نظریں ابھی بھی نوٹ بکس پر تھیں
ثمن نے میز پر رکھے موبائل کی طرف دیکھا کاش وہ بھی باقی بیویوں کی طرح اپنے شوہر سے اپنے دل کء خواہش بیان کر پاتی کی مجھے میرے گھر والوں سے بات کرنی ہے کاش وہ بھی باقی بیویوں کی طرح فرہان سے بنا جھجک بات کر پاتی کاش ۔۔۔۔
اچانک اس نے اپنا سر جٹک دیا یہ کیا سوچی جا رہی تھی میں وہ خود سے بولی تھی
اس سے پہلے کہ وہ اپنے کمرے کا رخ کرتی فرہان نے اسے آواز دی
رکو !!!!
جی،،،،
اس نے مڑ کر دیکھا تو فرہان ابھی بھی نوٹ بکس پر جھکا ہوا تھا
بات کرو گی اپنے گھر والوں سے ؟؟؟؟
ثمن کو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ اسے کچھ سنائ نہ دیا ہو
ج جی ؟؟
بات کرنا پسند کریں گی اپنے گھر والوں سے مس ثمن آپ ؟؟؟ اسکا موڈ آف تھا شاید اس بار وہ ثمن کی طرف دیکھ کر بولا
ج جی ب بلکل
فرہان نے اپنے موبائل کی طرف ہاتھ بڑھایا اور کچھ ٹائپ کر کے موبائل ثمن کی طرف بڑھایا
ثمن نے نا سمجھنے والے انداز میں فرہان کی طرف دیکھا
کر لو بات ،،
ثمن نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل تھام لیا اور موبائل کان سے لگا لیا
رنگ جا رہی تھی کچھ ہی دیر میں فون اٹینڈ ہوگیا ثمن بات کرتے کرتے وہی لاٶنج میں اس کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گئ
فرہان نے اپنا لیپ ٹاپ نکالا اور اس ہر ٹائپنگ کرنے لگا نوٹ بکس وہ چیک کر چکا تھا
ثمن وہی صوفے پر بیٹھ کر اس کے سامنے ہنس ہنس کر بات کر رہی تھی
اسنے غور کیا تو پتہ چلا کہ اسکی اسکی ہنسی بہت پیاری تھی پھر سر جٹک کر اپنے کام میں مصروف ہو گیا
____________________________________________
ماما میں نے کہا نہ میں شادی کروں گی تو صرف اور صرف شہباز سے پلیز ماما مان جائیں نہ پلیز پلیز پلیز پلیز
وہ بچوں کی ضد پر اڑی ہوئ تھی جیسے کہ ایک ضدی بچہ اپنا من پسند کھلونا لینے کیلیے ضد کرتا ہے
دیکھو ثمن وہ لڑکا تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے تم نے دیکھا نہیں کتنا آواره سا ہے کالج کے سامنے کس طرح لڑکیوں کو تاڑتا رہتا ہے ۔۔۔۔مجھے تو بہت زیادہ برا لگتا ہے
لیکن ماما ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں
ثمن تم اب بچی نہیں رہی تم جانتی تمہارے بھائ اور بابا میں سے کوئ بھی اس رشتے کیلیے ہامی نہیں بھرے گا
ماما آپ منا لیں انکو ورنہ میں کبھی شادی نہیں کروں گی یاد رکھیے گا
ثمن خدا کیلیے بس کردو اب چھپ رہو تمہاری خالہ نے تمہارے لیے ایک بہترین رشتہ دیکھا ہے ہم لڑکا دیکھ لیا بہت اچھا بچہ ہے
کیا ؟؟؟ آپ لوگوں نے میرے لیے رشتہ دیکھ لیا اور مجھے بتایا بھی نہیں آپ جانتی ہے نہ کہ میں شہباز سے محبت کرتی ہوں اس کے علاوہ میری زندگی میں کسی کیلیے کوئ جگہ نہیں ہے میں کسی اور کے بارے میں نہیں سوچ سکتی پلیز ماما
ثمن تم پاگل ہوگئ ہو میں جا رہی ہوں کچن میں کھانے کا بندوبست کرنے خود تو تم کسی کام کی نہیں ہو
ماما رکے نہ سنیں تو سہی میری بات
اچانک موبائل کی رنگ بجی اسنے موبائل کی طرف دیکھا تو سکرین پر شہباز کا نام جگماگاتا ہوا نظر آ رہا تھا
اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئ اور موبائل کان سے لگا لیا
____________________________________________
ثمن نے بات کرلی تو موبائل فرہان کے سامنے میز پر رکھ دیا
شکریہ وہ مسکرا کر بولی
وہ جو مسلسل لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ میں مصروف تھا اس سنگ دل کے زبان سے جو لفظ ادا ہوا وہ تھا
ہمممم
چاۓ پئیں گے ؟
جب سامنے والا کچھ نہ بولا تو اس نے ہی بات شروع کردی
فرہان نے دھڑام سے لیپ ٹاپ بند کردیا
زہر ہے تو وہ کھلا دو
ثمن نے اپنے چہرے کے تاثرات پر قابو پا لیا جانے کب اس نے یہ ہنر سیکھ لیا تھا جانے کب چھوٹے بچوں جیسی ضدی ثمن اتنی بڑی ہوگئ تھی
اچھا ٹھیک ہے کافی بنادیتی ہوں
فرہان کھڑا ہوا اور ایک زوردار مکا میز پر دے مارا
تم کیا چاہتی ہو لڑکی ؟؟؟؟ بتاٶ مجھے کیا سنا نہیں میں نے کیا کہا تم سے زہر ہے تو کھلا دو مجھے مار دو مجھے بھی قاتل تو پہلے سے ہی ہو ایک قتل کر چکی ہو ایک اور کرنے میں تمہیں کوئ مسلہ نہیں ہوگا
قتل ؟؟ ثمن کی آنکھیں پانیوں میں ڈوبی ہوئ تھیں
فرہان نے استہزایہ قہقہہ لگایا
کتنی معصوم ہو نہ تم ؟؟بھول گئ ہو تو بتا دوں تمہیں گاڑی کے نیچے کسی کو کچل دینا کتنا آسان ہوگا نہ تمہارے لیے ؟؟ اس کام میں تمہیں کافی مزہ آتا ہوگا نہ ؟؟؟
آپ کیا کہہ رہے میں کچھ سمجھ نہیں پا رہی ،،،،
تم نے اپنی گاڑی کے نیچے ایک لڑکی کو بے رحمی سے کچل دیا تھا کیا تمہیں یاد نہیں ؟؟؟
تم نے اس وقت گاڑی روکنے کی زحمت بھی نہیں کی کیا تمہیں یاد نہیں؟؟؟؟
تم نے ایک معصوم انسان کی جان لی کیا تمہیں یاد نہیں ؟؟؟
تم نے ایک چھوٹے سے بچے کے سر سے ماں کا سایہ چھین لیا کیا تمہیں یاد نہیں؟؟؟
تم نے کسی کو زندہ لاش بنا دیا کیا تمہیں یاد نہیں ؟؟؟؟؟
تم نے میری حنا کو مجھ سے چھین لیا کیا تمہیں یاد نہیں؟؟؟؟
فرہان کی آنکھوں میں پانی تھا
ثمن اپنے پاٶں پر کھڑے رہنے کی قابل نہ رہی تھی اس نے میز تھام لیا ورنہ وہ گرجاتی
میں اپنی حنا سے بہت محبت کرتا تھا بلکہ کرتا ہوں میں کبھی شادی نہ کرتا لیکن تم سے شادی کرنا تو محض ایک بدلہ تھا
جس لڑکی کو تم نے بے دردی سے موت ے کنویں میں دھکیل دیا ہے نہ وہ میری بیوی تھی میری زندگی تھی وہ میرے بیٹے کی جنت تھی وہ
اس بار فرہان نے اس کی کلائ مروڑ دی تھی وہ درد سی سسک رہی تھی
اس لیے کہتا ہوں دور رہو میرے بیٹے سے میں جانتا ہوں تمہاری سچائ یہ سب تم نے اپنے اس یار کے ساتھ مل کر کیا ہے نہ کیا نام تھا اسکا ہاں شہباز
ثمن نے ایک زناٹے دار تھپڑ فرہان کے گال پر دے مارا یہ اچانک ہوا تھا ثمن کے ہاتھ سے تھپڑ کیسے ؟؟؟ یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی
کیونکہ ایک عورت سب کچھ برداشت کرسکتی ہے لیکن اپنے کردار پر ایک لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتی اگر کوئ بولے تو
یہیں حال ثمن کا بھی تھا وہ کیسے برداشت کرسکتی تھی کہ کوئ اسکے کردار پر داغ لگاۓ چاہے وہ شخص اسکا شوہر ہی کیوں نہ ہو
فرہان نے خونخوار نظروں سے ثمن کی طرف دیکھا
ثمن نے دونوں ہاتھ حیرت کے مارے اپنے منہ پر رکھے ہوۓ تھے اس سے پہلے کہ فرہان کوئ رد عمل دکھاتا اس کے فون کی رنگ بجی آفس سے فون تھا
دیکھ لوں گا تمہیں وہ اسے وارن کرتا ہوا چلا گیا
ثمب حیرت کا پتلا بنی کھڑی رہی اس کی آنکھوں میں آنسو کا ایک ریلا تھا جو بہے جا رہا تھا رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
میں نے چاہا تھا زخم بھر جائیں
زخم ہی زخم بھر گئے مجھ میں

تم سے شادی کرنا تو محض ایک بدلہ تھا ، تم قاتل ہو ،تم نے ایک معصوم لڑکی کو اپنے گاڑی تلے کچل دیا تم نے ایک چھوٹے بچے سے اس کی ماں کو چھین لیا تم نے مجھ سے میری حنا کو چھین لیا ہے اور تم کہتی ہو تمہیں یاد نہیں ؟؟
فرہان کی باتیں اس کے ذہن میں بلکل ایک لٹو جیسے گھوم رہی تھی اپنے کمرے میں وہ ٹھنڈے فرش پر بے سدھ سی گری پڑی تھی
وہ گناہ گار تھی وہ بہت بڑا گناہ کر بیٹھی تھی اب کیا کرتی وہ سواۓ پچھتاوے کے
کاش وقت کا پہیہ گھوم سکتا ۔۔۔کاش گزرا وقت واپس لوٹ سکتا ۔۔۔۔کاش وہ اپنی غلطیوں کا مداوا کرسکتی
لیکن اب دیر ہوچکی تھی اب اس کے بس میں کچھ بھی نہیں رہا تھا سب ختم ہوچکا تھا کچھ بھی باقی نہ رہا تھا
اب تو بس مکافات عمل شروع ہوچکا تھا اسے انتظار تو بس اس کے اختتام کا جو مرضی نتیجہ نکل آتا وہ اسے قبول کر لیتی
لیکن وہ قاتل کیسے ہوسکتی ہے ؟؟ جس نے زندگی میں ایک مکھی تک نہ ماری ہو وہ بھلا کیسے کسی انسان کو قتل کر سکتی ہے اسکا زہن ان سب باتوں کے حصار میں تھا
وہ قاتل نہیں تھی لیکن کیا فرہان اسکی باتوں کا یقین کرے گا کیا وہ اسے معاف کرے گا کیا وہ اسے چھوڑ دے گا نہیں ۔۔۔۔نہیں اب تو وہ اس کے بغیر جینا گوارا نہیں کر سکتی تھی لیکن کیوں؟؟؟؟؟؟
کیا اسکو فرہان علی سے محبت ہوگئ ؟؟؟ نہیں
اس نے خود سے سوال کرکے خود کو خود ہی جواب دیا تھا
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺟﯿﺴﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﺸﮑﻮﻝ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﺍﮈﮬﯿﺮ ﮐﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻤﺎ ﺩﮮ
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاید اسکو فرہان کی عادت ہوچکی تھی اور محبت سے عادت زیادہ خطرناک بیماری ہے لیکن فرہان اس سے کبھی میٹھے لہجے میں بات ہی نہیں کرتا
ساری دنیا پر چاہتیں اور محبتیں نچھاور کرنے کے بعد اُس کے پاس ثمن کیلیے صرف بیزاریت اور لہجے کی تلخی بچتی ہے
ان تمام سوچوں کے حصار میں اسکا دماغ سن ہوتا جا رہا تھا اسکا سر درد حد سے بڑھ چکا تھا اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا تھا سر بھاری محسوس ہو رہا تھا آنکھیں بند ہونے جا رہی تھیں وہ زمین پر گرتی جا رہی تھی۔۔۔۔
____________________________________________
کالج سے چھٹی ہو چکی تھی سب لوگ اپنے اپنے گھر کی طرف روانہ تھے کچھ اکیلے تھے تو کچھ ایک ٹولی کی صورت میں تھے
فاریہ اور نوشین ،ثمن کے ساتھ ساتھ تھیں
ہاں تو تمہارے گھر والے مانے کہ نہیں شہباز کے بارے میں ؟؟ نوشین نے ثمن سے سوال کیا جو پریشان سی ان کے ساتھ چل رہی تھی
وہ کبھی نہیں مانیں گے وہ لوگ نوشی تم جانتی ہو تو سوال کیوں کر رہیں ہو ؟؟؟ ثمن نےبیزاریت سے جواب دیا
تمہارے گھر والے اچھا ہی کر رہے ہیں مجھے یہ شہباز ایک آنکھ نہیں بھاتا ہر لڑکی پر ٹرائ مارتا ہے تم بھی بھول جاٶ اسکو وہ دھوکےباز ہے
فاریہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی وہ جانتی تھی ثمن کو سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانا ہے لیکن پھر بھی اس نے ایک ٹرائ کی تھی
تم جانتی ہوں نہ مجھے کتنی محبت ہے شہباز سے اور وہ بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرتا ہے ثمن نے جیسے فاریہ کا منہ بند کرنا چاہا تھا
وہ دیکھو شہباز ادھر ہی آ رہا ہے نوشین نے ہاتھ کا اشارہ کرکے ثمن کو بتایا وہ دور سے آتا ہوا دکھائ دیا
آج میں شہباز کے ساتھ جاٶں گی گھر ثمن نے تو جیسے ان دونوں کے سر پر بم پھوڑا تھا
تمہیں پتہ ہے نہ تمہارے گھر والے شہباز کو بلکل پسند نہیں کرتے پھر بھی تم اس کے ساتھ جا رہی ہوں ثمن کیا تم بھول گئ پچھلی بار جب شہباز تمہیں گھر ڈراپ کرنے گیا تھا تو کیا ہوا تھا وہ حادثہ تم کیسے بھول سکتی ہو اس نے غصہ میں آکر کسی لڑکی کو گاڑی تلے کچل دیا تھا
فاریہ نے اسے شہباز کا گناہ یاد کروایا تھا
شششششششششش ثمن نے فاریہ کو چھپ کروایا تھا یاد مت دلاٶ نیند نہیں آتی رات کو پھر
نیند آۓ یا نہ آۓ مجھے اس سے کوئ مطلب نہیں لیکن شہباز ایک قاتل ہے یہ مت بھولو تم ایک قاتل سے کیسےمحبت کر سکتی ہو
فاریہ اسے مسلسل منع کر رہی تھی کیونکہ ثمن ایک غلط انسان سے محبت کر بیٹھی تھی اور غلط انسان سے محبت انسان کء زندگی تباہ کر دیتی ہے
تب تک شہباز بھی ان تک پہنچ گیا
چلیں بے بی ؟؟؟
ثمن ، فاریہ اور نوشین کو نظر انداز کرتی ہوئ شہباز کے سنگ روانہ ہوئ
فاریہ اور نوشین بس گردن ہلاتی رہ گئیں
____________________________________________
ثمب کی آنکھ کھلی تو وہ لحاف اوڑھے بیڈ پر لیٹی ہوئ میں یہاں کیسے ؟؟؟ وہ دل ہی دل میں بولی
سامنے دیکھا تو فرہان وائٹ شرٹ اور بلیو پینٹ میں ملبوس کافی کا مگ ہاتھ میں لیے کھڑکی کے آگے کھڑا ہوکر باہر دیکھنے میں مصروف تھا
باہر زور و شور سے بارش برس رہی تھی کھڑکے کے شیشوں پر پانی ٹپ ٹپ برس رہا تھا
ہوش آ گیا تمہیں میڈم ؟؟؟؟؟
وہ مڑے بغیر بولا شاید اس نے ثمن کی آہٹ سن لی تھی
ثمن نے کوئ جواب نہیں دیا
میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے وہ دھاڑا تھا اور مڑتے ساتھ ہی کافی کا مگ زمین دے مارا
ثمن یک دم سے خوفزدہ ہوگئ تھی
ڈرنے کی ایکٹنگ کافی اچھے سے کر لیتی ہو تم تو ،،ایک کام کرو ایکٹنگ سٹارٹ کردو بہت فیمس ہوجاٶ گی
پلیز فرہان ایسا نہ کہے اس نے ہاتھ جوڑے تھے اس کے آگے آپ کسی غلط فہمی ک شکار ہیں میں نے کچھ نہیں کیا میں نے کسی کا قتل نہیں کیا میں قاتل نہیں ہوں
ہاہاہاہا جھوٹ بھی اچھا بول لیتی ہوں مس لیکن سوری میں جھوٹ اور سچ کے درمیان باتوں کو پہچان لیتا ہوں
فرہان میں بے قصور ہوں میں نے کچھ نہیں کیا وہ گڑ گڑا رہی تھی اس کے سامنے مگر سامنے والا اسکا یقین نہیں کر رہا تھا
اگر تم پر یہ قتل ثابت ہوا تو یاد رکھنا میں تمہاری زندگی موت سے بدتر بنا دوں گا
اور اگر میں بے قصور نکلی تو ؟؟؟؟
تو میں تمہیں آزاد کردوں گا چھوڑ دوں گا تمہیں تمہارے گھر ہمیشہ وہی رہو گی پھر کیونکہ شادی کا ڈھونگ صرف میرے بدلے تک محدود ہے
وہ اپنی بات کہہ کر رکا نہیں چلا گیا اور اپنے پیچھے دروزہ زور سے بند کر دیا
حنا نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے اس کی آنکھو ں برسات جاری تھی
____________________________________________
صبح کا وقت وہ جاگی تو گھر میں کچھ لگ تھے جو اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوۓ تھے کوئ پینٹ کر رہا تھا کوئ جھاڑو لگا رہا تھا کچن میں کوک ناشتہ بنا رہے تھے
اس نے نظر گھما کر فرہان کو تلاش کرنا چاہا تو وہ سامنے ہی چند لوگوں کے درمیان میں کھڑا انکو کچھ سمجھا رہا تھا اس کو دیکھا تو انکو کام پر لگا کر اس کے پاس آیا
میرا دوست اپنی فیملی کے ساتھ آ رہا ہے وہ ہماری شادی میں نہیں آ سکے تھے تو اسکی بیوی تم سے ملنا چاہتی ہے
اپنا حلیہ درست کر لینا تیار ہوکر ملنا ان لوگوں سے میرے کمرے جاٶ وہاں الماری میں سرخ ساڑھی رکھی ہوگی وہ پہن لینا خریدی تو حنا کیلیے تھی مگر تم پہن لو اپنی مطلب کی باتیں بتا کر وہ چلا گیا اس کی کوئ بھی بات بھی نہیں سنی
وہ حیرت کا پتلا بنی وہی کھڑی اسکی دیکھی جا رہی تھی جو سب کو کام سمجھا رہا تھا
تبھی حدید اپنی گاڑی لیے بھاگا بھاگا اس کی طرف آیا
بابا میری کار ٹوٹ گئ
اوہ بابا کی جان آٶ ٹھیک کرتے ہیں وہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکی کار ٹھیک کر رہا تھا
پھر وہ مرے مرے قدموں سے فرہان کے کمرے کی طرف گئ
الماری کھولی تو دیکھا کپڑوں کے ساتھ ہی بہت ساری تصویریں رکھی ہوئ تھیں اس نے دیکھا تو وہ شاید حنا ہی تھی
فرہان اور حنا کی ساتھ ساتھ مسکراہٹ بھری تصویریں تھیں وہ تصویریں نکال کر دیکھنے لگی حدید چھوٹا سا تھا تب کی تصویریں بھی تھی یہ سب تصویریں حنا اور فرہان کی محبت کا منہ بولتا ثبوت تھیں
کتنی خوش قسمت تھی نہ حنا اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جو ثمن کے پاس نہ تھا لیکن اسکی زندگی یا ایسی ہی رہے گی کیا فرہان کبھی اس کو پسند کرے گا یا شاید مرنے کے بعد تو یاد کر ہی لے گا
وہ ضبط سے مسکرا دی اسے تبھی شعر یاد آیا
_میں کیسے یاد رہوں گا تمہیں
میرے تو ہم نام بھی بہت کم ہیں.
ثمن کی آنکھیں بھر آئیں اس نے وہ ساڑی نکالی جس کا فرہان اسے کہہ رہا تھا اور نم آنکھیں لیے کمرے سے باہر چلی گئ
ایک تصویر الماری سے نیچے گر گئ تھی باقی تو وہ رکھ چکی تھیں یہ ایک تصویر وہ دیکھ نہیں پائ تھی اس میں حنا کا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آ رہا تھا ۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ تیار ہوئ سرخ ساڑھی میں وہ حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی اس کے کالے بال آج کیچر سے آزاد تھے سرخ رنگی کی ہیل اس کے پاس پہلے سےموجود تھی جو اسنے اپنے سرخ کلر کے فراق کے ساتھ خریدی تھی بڑی بڑی آنکھیں کاجل سے لبریز تھیں
ہاتھوں میں سرخ چوڑیاں اسکی سفید کلائ کو اور خوبصورت بناۓ ہوۓ تھیں وہ اپنے کان میں ایئر رنگز ڈال رہی تھی جب اسے ملی جلی آوازیں سنائ دینے لگیں شاید مہمان آ چکے تھے اس نے اندازہ لگایا
تبھی دروازے پر دستک ہوئ
کم ان !
وہ وائٹ پینٹ اور بلیو کوٹ میں ملبوس تھا کوٹ کے نیچے وائٹ شرٹ پہنی ہوئ تھی تازہ شیو نی ہوئ جیسے کہ ابھی ابھی بنائ ہو ڈارک براٶن بال ہمیشہ کی طرح اسٹائل سے ماتھے پر گرے ہوۓ تھے
فرہان اندر داخل ہوا تو ثمن کو دیکھ کر کچھ لمحے کیلیے اسکے سحر سے نکل ہی نہ سکا کیا حنا سے بھی زیادہ کوئ لڑکی خوبصورت ہوسکتی تھی نہیں کوئ لڑکی حنا سے زیادہ خوبصورت نہیں ہوسکتی تھی سواۓ ثمن کے
خود کو ہوش میں لانے کیلیے فرہان کو اپنا گلہ کنگھارنا پڑا تھا
وہ لوگ آچکے ہیں ذرا جلدی آجانا اور ہاں وہ مڑتے ہوۓ بولا کوئ ڈرامہ مت کرنا مجھے مہمانوں کے سامنے تماشہ کرنا پسند نہیں ہے اپنا جملہ مکمل کرکے وہ رکا نہیں دبے پاٶں پلٹ گیا وہ اگر رکتا تو شاید اس کی زبان اس سے بغاوت کرکے ثمن کے حق میں کچھ تعریف کر لیتی
ثمن کا دل پھوٹ پھوٹ کر رونے کو کر رہا تھا کیا ہوجاتا اگر وہ دو لفظ اس کی تعریف میں کہہ دیتا یا پیار سے ہی بات کرلیتا شاید اسکی محبت بے مقصد ہے شاید وہ اس سے کبھی محبت نہیں کرے گا اسکی آنکھیں نم تھیں دل ہر چیز سے اچاٹ ہوچکا تھا مرے مرے قدم اٹھا کر وہ کمرے سے باہر نکلی تھی
سنبھالا ہوش جب سے ہے
مقدر سخت تر نکلا
پڑا ہے واسطہ جس سے
وہی زیرو زبر نکلا
سبق دیتا رہا مجھ کو
صدا روشن خیالی کا
اسے جب پاس سے دیکھا
تو خود بھی تنگ نظر نکلا
سمجھ کر زندگی جس سے
محبت کر رہے تھے ہم
اسے جب چھو کہ دیکھا تو
فقط خاکی بشر نکلا
محبت کا نشہ اترا
تو تب ثابت ہوا مجھ کو
جسے منزل سمجھتے تھے
وہ بے مقصد سفر نکلا
____________________________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: