Urdu Novels Wajeeha Yousafzai Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai

Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai novel by Wajeeha Yousafzai – Episode 8

Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai novel by Wajeeha Yousafzai
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
یہ جو ریگ دیشت فراق ہے از وجیہہ یوسفزئی – قسط نمبر 8

–**–**–

ثمن !!!!
ثمن!!!!!!!!!!!!!
وہ کمرے سے نکلتے ہوا مسلسل چلا رہا تھا کہاں چلی گئ ہو اپنی منحوسیت لے کر ؟؟؟
ثمن جوکہ بخار میں تپ رہی تھی مشکل سے اپنے کمر سے باہر نکلی
جی ؟؟؟
وہ جو اس سے ذرا سے فاصلے پر کھڑا تھا آنکھوں کے تیور دکھاتے ہوۓ بولا
میرے کپڑے استری نہیں ہیں ؟؟؟
اوہ سوری میں کل بھول گئ تھی استری کرنا ابھی کر دیتی ہوں
تم بھول گئ سے تمہارا کیا مطلب ہے محترمہ ؟؟؟ شادی والے دن اپنے بواۓفرینڈ کو تو نہیں بھولی تھی تم
ثمن کا دل گیا زمیں پھٹ جاۓ اور وہ اس میں دھنس جاۓ ہمیشہ کیلیے
وہ خاموشی سے اس کے کمرے میں گئ اور الماری سے کپڑے نکالنے لگی
رہنے دو اب ٹائم نہیں ہے استری کرنے کا وہ غصے سے بولا
دو منٹ لگیں گے بس
میں نے کہا نہ کہ ٹائم نہیں ہے اب وہ شرٹ کے کف فولڈ کرتے ہوۓ بولا
ثمن نے اسکی باتوں کو نظر انداز کرکے الماری سے اسکے کڑے نکالے
فرہان نے اسکے ہاتھ سے کپڑے پکڑ کر زمین پر پھینک دیے
اور اس کے بالوں کواپنی مٹھی میں دبوچا
نہیں سنائ دیتا تمہیں کیا کہہ رہا ہوں میں بہری ہو گئ ہو کیا ؟؟؟
اس کے سر میں شدت سے درد ہونے لگا ، آنکھوں سے آنسوں ٹپکنے لگے
تمہیں یاد ہے نہ میں نے تمہیں پہلے دن سے ہی کہا تھا کہ تم اس گھر کی نوکرانی کی حیثیت رکھتی ہو بس فرق صرف یہ ہے کہ تم مجھ پر حرام نہیں ہو ،تم بھی میرے حکم کی اتنی ہی تابعدار ہو جتنے تابعدار اس کے گھر کے نوکر ہونگے ،سمجھی ؟؟
اس نے ثمن کو پرے دھکیلا وہ گر ہی جاتی اگر فرہان اسے نہ پکڑتا
ثمن تم چاہے جتنی بھی پیاری لگو تم ہو ایک قاتل ہی اور ہمیشہ رہو گی یہ یاد رکھنا
ثمن آنکھوں میں تھکاوٹ لیے اس سنگ دل کو دیکھی گئ
فرہان کے دل کو کچھ ہونے لگا جیسے کسی نے اسکا دل مٹھی میں بند کر لیا ہو عجیب سی الجھن ہونے لگی تھی اسے
پھر ایک دم سے اسے ماضی نے اپنی آغوش میں لیا اور حنا کا خون سے لت پت چہرہ اس کے سامنے تھا فرہان نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کیں اور ثمن کو خود سے الگ کیا اور اس کے بعد وہ رکا نہیں کمرے سے باہر نکل گیا
ثمن لرزتے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف چلی گئ
____________________________________________
_اداس تو ہوتی ہے پر روتی نہیں ہے،
وہ موم کی گڑیا اب بہت سخت دل ہے.
ثمن کا رنگ زرد پڑ رہا تھا ہونٹ کانپ رہے تھے وہ کمرے میں اکیلی تھی اس کے ساتھی تھے تو بس اس کی ڈائری اور اسکا پین
ڈائری لکھنا اب اسکی عادت بن چکی تھی جو باتیں کسی سے نہ کہہ پاتیں وہ اپنی ڈائری سے کرتی تھی ایک یہی تو تھی اسکی ساتھی اس کی ہمدرد جو صرف اس کی سنتی تھی اوروں کی طرح اپنی نہیں منواتی تھی
ہمیشہ کی طرح اس نے پین کی نب ڈائری پر رکھی اور لکھنا شروع کیا
میں نہیں جانتی کہ۔۔۔۔۔۔۔اسکی زندگی میں میری کیا اہمیت ہے ؟؟؟؟
لیکن میری خواہش ہے کہ جب میں مر جاٶں تو اس کی آنکھوں میں آنسو ہو اور دل میں قیامت سی تڑپ ہو اور وہ مجھے کہے کہ ثمن اٹھ جاٶ مجھ سے ایسا مذاق مت کرو اور میں نہ اٹھ کر اس کو حیران کردوں
اس پل وہ میرے قریب بیٹھ کر مجھ سے ہر زیادتی ہر ظلم کی معافی مانگے اور میں اس وقت اسے معاف نہ کر سکوں وہ مجھ سے معافی کی بھیک مانگے لیکن میرا جسم بے حس و حرکت ہو چکا ہو میری روح میرے جسم سے پرواز کر چکی ہو
اچانک اس کی آنکھیں بھیگتی گئیں اسکے ہاتھ کانپنے لگے اس کو اپنا وجود بھاری لگنے لگا
اس کا قلم اس کا ساتھ چھوڑنے لگا اس کی ڈائری اس کے سامنے پڑی تھی لیکن اب وہ لکھنے سے قاصر تھی
اسکی آنکھیں بند ہو رہی تھیں وہ نیچے گرتی جا رہی تھی سب مناظر دھندلانے لگے تھے چاروں طرف اندھیرا چھانے لگا تھا ۔۔۔۔
____________________________________________
وہ آفس میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا جب اسے عدیل کا فون آیا
ہیلو ؟؟؟
حنا بھابھی کے کیس کی انویسٹیگیشن کر رہا تھا میں
وٹ ؟؟ لیکن وہ تو میں کر ہی رہا ہوں عدیل
میں جانتا ہوں یار لیکن کیا کروں تمہاری طرح میں بھی وکیل ہوں نہ دل نہیں مان رہا تھا اس بات کیلیے سوری یار تجھے بتایا نہیں میں نے لیکن یہ سن کر تم بھی حیران رہ جاٶ گے کہ قتل کس کی گاڑی سے ہوا !!!!
فرہان کے لب پر استہزایہ مسکراہٹ آئ
میں جانتا ہوں وہ گاڑی کس کی تھی ؟؟
عدیل حیران ہوا کیا تم سچ میں جانتے ہو وہ گاڑی ثمن بھابھی کی تھی
ہاں میں جانتا ہوں وہی قاتل ہے حنا کی
نہیں فرہان ثمن بھابھی قاتل نہیں ہے میرے پاس سارے ثبوت ہیں اس وقت ایک لڑکا ان کے ساتھ تھا جو کار ڈرائیو کر رہا تھا
وٹ ؟؟؟؟ تم کیسے یقین سے کہہ سکتے ہو کہ یہ سب اس لڑکے نے کیا ہے اور ثمن بے قصور ہے ؟؟؟
ثمن بھابھی اسکو ایکسیڈنٹ سے روکنے کی جو کوشش کر رہی تھی سی سی ٹی وی کیمرے لگے تھے اس ایریا میں جس میں سب کچھ ریکارڈ ہوچکا ہے
کیا میں وہ ویڈیو دیکھ سکتا ہوں ؟؟؟
شیور میں سینڈ کرتا ہوں اپنا اپنا واٹس ایپ آن کرو
اوکے میں ویٹ کر رہا ہوں کہہ کر اس نے موبائل میں واٹس ایپ آن کیا اس کے بعد اس نے اپنی آنکھوں سے جو منظر دیکھا وہ حیرت کی انتہا کو پہنچا
تھا
اس کے سر میں شدید قسم کا درد ہونے لگا
دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ بیٹھ گیا
تم سے شادی کرنا تو محض ایک بدلہ تھا ، تم قاتل ہو ،تم نے ایک معصوم لڑکی کو اپنے گاڑی تلے کچل دیا تم نے ایک چھوٹے بچے سے اس کی ماں کو چھین لیا تم نے مجھ سے میری حنا کو چھین لیا ہے اور تم کہتی ہو تمہیں یاد نہیں ؟؟
اففف میرے خدا کتنی ذہنی اذیت دی میں نے اس معصوم کو
فرہان کو خود پر غصہ آنے لگا تھا اس نے دل میں پختہ یقین کر لیا تھا کہ گھر جاتے ہی وہ ثمن سے معافی مانگے گا
چاہے جو بھی ہوجاۓ
____________________________________________
وہ تھکا ہارا گھر پہنچا تو گھر میں کوئ بھی نہیں تھا گھر خالی خالی سا تھا
ثمن !!!
اسنے آواز دی لیکن کوئ جواب نہ ملا
ثمن !!!!!!!!!
ایک بار پھر اس نے آواز دی پھر سے کوئ جواب نہ ملا
حدید !!!!!!!!!!!!!!!
اس بار بھی اسے کوئ جواب نہ ملا
اف میرے خدا کہاں گۓ یہ دونوں تبھی اس کے موبائل پر رنگ سنائ دی
عدیل کا فون تھا اس نے موبائل کان سے لگایا
ہیلو ؟
فوراً اسپتال پہنچو ہم لوگ وہی ملیں گے
اس نے ایڈریس بتا دیا
فرہان کا دماغ سن ہونے لگا وہ وہی سے دبے پاٶں روانہ ہوا
کچھ ہی دیر میں وہ اسپتال میں موجود تھا
بابا !!! ماما کو پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے ؟؟ انکی طبیعت بہت خراب ہے
اسنے حدید کو گود میں اٹھا لیا
عدیل نے اسے دیکھ کر منہ پھیر لیا
فرہان اس کے قریب گیا
عدیل!!
بات مت کر مجھ سے
عدیل یار میں خود سے بیزار ہوچکا ہوں تم تو ایسا مت کرو اپنی زندگی سے تنگ آ چکا ہوں فرہان کی آنکھوں میں آنسو تھے
عدیل کا دل موم ہوا اس نے جھٹ سے فرہان کو سینے سے لگایا
یہ تو نے کیا کردیا یار یہ کیا بے وقوفی کی تم نے ؟؟؟ ذرا رحم نہ آیا تجھے اس معصوم پر اس نے دیکھا تو
فرہان رو رہا تھا
بہت برا ہوں میں نہ میں نت سوچے سمجھے بنا اس کو بہت اذیت دی میں نہیں جانتا اس میں سب کچھ برداشت کرنے کی طاقت کہاں سے آگئ تھی
رباب نے اسکی ڈائری فرہان کی طرف بڑھا دی یہ اسکی ڈائری ہے جس سے وہ دل بہلاتی تھی
یہ اسکی ساتھی اور دوست ہے بس باقی اسکا وہاں کوئ نہیں تھا فرہان بھائ
رباب رو رہی تھی ایک عورت ہی عورت کا درد سمجھ سکتی تھی
فرہان نے ڈائری کانپتے ہاتھوں میں تھام لی
تبھی ڈاکٹر باہر آیا
عدیل بھاگ کر ڈاکٹر کے پاس گیا ڈاکٹر صاحب اب پیشنٹ کیسی ہے ؟
ڈاکٹر نے لمبا سانس لیا انکی حالت بہت سیریس ہے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ پیشنٹ کو سانس لینے میں دشواری پیش ہو رہی ہے بس اب آپ کی دعا کی ضرورت ہے
فرہان کی آنکھیں پانی سے بھر گئیں
وہ خود کبھی معاف نہیں کر سکے گا اگر ثمن کو کچھ بھی ہوا تو
اس نے دل ہی دل میں کہا

وہ بینچ پر بیٹھ کر ڈائری ہاتھ میں لیے پڑھ رہا تھا ہر صفحہ پلٹتے ہوۓ اس کا دل ڈوبنے لگتا کتنی اذیت دی تھی اس نے ثمن کو اور اس کو اس سے کتنی محبت تھی ایک طرف نفرت کی انتہا تھی اور دوسری طرف محبت کی انتہا تھی ایک طرف اذیت کی انتہا تھی اور دوسری طرف برداشت کی انتہا
فرہان کی آنکھیں تر تھیں رونے کی شدت سے آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں
ہر وقت اسٹائل سے رہنے والا فرہان آج خستہ حال تھا بال بری طرح بکھرے ہوۓ تھے شرٹ کے اوپر کے بٹن کھلے ہوۓ تھے
رباب اس کے پاس آئ
فرہان بھائ حوصلہ رکھیں ۔۔۔میں جانتی ہوں آپکو بچھتاوا ہو رہا ہے اپنے کیے کا لیکن بھائ آپ دعا کریں کہ وہ ٹھیک ہوجاۓ
میری دعا ہے کہ وہ ٹھیک ہوجاۓ ایک بار اور میں اس سے معافی مانگوں لیکن کیا میں جو اس کے ساتھ کیا وہ معافی کے قابل ہے ؟؟
آپ یقین کریں میرا دل گواہی دیتا تھا کہ ثمن بے گناہ اور بے قصور ہے ہر اس لمحے جب جب میں اسکو اذیت دیتا لیکن پھر بھی میں اسکو تنگ کرتا اس پر ظلم کرتا میں بے بس تھا مجھے لگتا تھا وہ حنا کی قاتل ہے
حنا کی محبت مجھ پر اس قدر ہیوی ہوجاتی کہ میں اندھا ہوجاتا مجھے جیتی جاگتی انسان نہیں بس حنا کی قاتل نظر آتی
وہ بولتے بولتے چھپ ہوگیا
اب میں چاہتا ہوں وہ ٹھیک ہوجاۓ میں اس کی زندگی سے دور چلا جاٶں گا کبھی نہ واپس آنے کیلیے میں نہیں چاہتا میری وجہ سے ثمن کو کوئ اور پریشانی ہو اگر میں اسکے سامنے آٶں گا تو اس کو تکلیف ہوگی میں اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا
رباب کی آنکھیں بھر آئیں وہ فرہان کو پہلی بار اتنا تڑپتا ہوا دیکھ رہی تھی
فرہان ثمن کی ڈائری کو سینے سے لگاۓ روۓ جا رہا تھا اس وقت وہ کسی پاگل دیوانے جیسا لگ رہا تھا
____________________________________________
ڈاکٹرز نے ثمن کو 24 گھنٹے کا وقت دیا تھا اس کی حالت بہت بری ہوچکی تھی سانس لینے میں دشواری کی وجہ سے
فرہان ،عدیل اسپتال میں تھے جبکہ رباب حدید کو لیکر گھر گئ تھی
وہ دونوں بینچ پر بیٹھے ہوۓ تھے فرہان نے تب سے نہ کچھ کھایا تھا اور نہ ہی کچھ پیا تھا اس پر جنون سوار تھا تو ایک ہی کہ ثمن کے ٹھیک ہوتے ہی وہ گھر چھوڑ کر ہمیشہ کیلیے چلا جاۓ گا
عدیل اس کیلیے چاۓ لے کر آیا لیکن فرہان نے انکار کردیا کہ جب تک ثمن ٹھیک نہیں ہوجاتی وہ کچھ کھاۓ گا پئے گا نہیں
تبھی ڈاکٹر آیا
ہیلو مائ بوائز
جی ڈاکٹرز صاحب ثمن کیسی ہے اب ؟
فرہان یک دم کھڑا ہو کر بولا تھا
ڈاکٹر کے چہرے پر مایوسی چھائ گئ وہ ٹھیک تو ہے لیکن ؟؟؟؟؟؟؟
لیکن کیا ڈاکٹر ؟؟؟؟فرہان چیخ کر بولا
مجھے لگتا ہے ذہن پر دباٶ لینے مطلب ٹینشز لینے کی وجہ سے وہ اپنی یاداشت کھو چکی ہے
وٹ ؟؟؟؟؟
فرہان کو لگا جیسے اس کے پاٶں کے نیچے سے کسی نے زمین کھینچ لی ہو اس کے سر آسمان چھین لیا گیا ہو
اف خدایا یہ سب اسی کی وجہ سے تو ہو رہا ہے
ڈاکٹر کیا میں اس سے مل سکتا ہوں ؟؟
آپ کا پیشنٹ سے رشتہ ؟؟؟
میں شوہر ہوں اسکا
اوکے مل سکتے ہیں آپ
شکریہ ڈاکٹر کہہ کر وہ رکا نہیں سیدھا کمرے میں گیا جہاں ثمن کو رکھا گیا تھا
فرہان نے اندر جاتے ہی سلام کیا
ثمن یک دم سیدھی ہوئ سر پہ دوپٹہ اوڑھ لیا
جی آپ کون ؟؟
فرہان کا دل کیا کہیں زمین پھٹ جاۓ اور دھنس جاۓ اس میں آخر ثمن کی اس حالت کا زمہ دار یہی تو تھا
میں فرہان ہوں
کون فران ؟؟؟ میں نہیں جانتی آپکو
میں آپکا شوہر ہوں
شوہر ؟؟؟
آپکا دماغ تو نہیں خراب ہوا میں نہیں جانتی آپ کون ہو اور کیوں آۓ ہو یہاں ؟؟؟؟
ثمن پلیز !! فرہان کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں
ثمن یاد کرو پلیز ، تمہیں حدید تو یاد ہے نہ ؟
اب یہ کس کی بات کر رہے ہو آپ ؟؟
حدید ۔ ہمارا بیٹا
آپ یہاں اسپتال میں مجھ پر لائن مار رہے ہیں شرم آنی چاہیے آپکو
فرہان اسکو دیکھتا ہی رہ گیا

فرہان منہ لٹکاۓ اسپتال کے کمرے سے باہر آیا عدیل اسکی حالت دیکھ کر مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کر پایا تھا
کیا ہوا منہ کیوں لٹکایا ہوا ہے ؟
یار وہ بھول چکی ہے سب یہاں کہ مجھے کہتی ہے کہ میں اس پر لائن مارنے کی کوشش کر رہا ہوں تم ہی بتاٶ اپنی بیوی پر کوئ تھوڑی نہ لائن مارتا ہے
عدیل نے ایک بار پھر ہنسی کنٹرول کی تھی
اچھا یہ بتاٶ گھر کب جارہے ہیں ؟؟؟
ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ہم اسے لیکر جاسکتے ہیں گھر
اور ہاں سب سے اہم بات عدیل اپنے ذہن پر زور ڈالتے ہوۓ بولا
شہباز پکڑا گیا وہ ابھی تھانے میں ہے
فرہان کی طبیعت کے ایک دم سے 12 بج گۓ
مجھے اس سے ملنا ہے عدیل
وہ تو ٹھیک ہے لیکن۔۔۔۔۔
لیکن ویکن کچھ نہیں میں اس سے ملنے جاٶں گا تو جاٶں گا بس
اچھا ٹھیک ہے لیکن یار اسکا باپ ایک نمبر کا کمینہ انسان ہے
ہمیں اس کے باپ سے کوئ لینا دینا نہیں بس ہمیں مجرم کو اسکے جرم کی سزا دینی ہے
تم سمجھ نہیں رہے اسکا باپ ایک نمبر کا غنڈہ موالی ہے وہ اپنے بیٹے کو بچانے کیلیے ہر حد پار کر جاۓ گا
مجھے اس سے کوئ مطلب نہیں ہمیں تو بس ثبوت عدالت تک پہنچانے ہیں بس پھر اسکا باپ بھی کچھ نہیں کر پاۓ گا
ہمممم بات تو تمہاری ٹھیک ہے ہم اپنی طرف پوری کوشش کریں گے اس کو اپنے انجام تک پہنچانے کی عدیل مسکرایا
یار جب تم ساتھ ہو تو مجھے کسی کا ڈر نہیں فرہان بھی اسکی طرف دیکھ کر مسکرایا
تبھی نرس پیپرز لے کر آگئ
مسٹر فرہان یہ پیپرز فل کرکے آپ اپنی وائف کو گھر لے کر جا سکتے ہیں
فرہان نے نرس سے پیپرز لے کرسائن کیے
اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا
____________________________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: