Urdu Novels Wajeeha Yousafzai Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai

Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai novel by Wajeeha Yousafzai – Last Episode 10

Ye Jo Raige Dasht e Firaq Hai novel by Wajeeha Yousafzai
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
یہ جو ریگ دیشت فراق ہے از وجیہہ یوسفزئی – آخری قسط نمبر 10

–**–**–

میرا بیٹا اگر مجھے نہ ملا تو میں پوری دنیا کو آگ لگا دوں گا
عدیل اور فرہان تھانے میں بیٹھے تھے فرہان نے حدید کے اغواء ہونے کی رپورٹ کروائ تھی
اور خود سے بھی لوگ لگا رکھے جو حدید کو ڈھونڈ رہے تھے تاکہ جلد سے جلد حدید کو ڈھونڈا جا سکے
حوصلہ رکھو عدیل نے اس کے کندھے پر تھپکی دی
تبھی فرہان کے موبائل پر رنگ بجی
سکرین پر ثمن کا نام چمک رہا تھا اس نے کال ریسیو کی
بہت جلدی فون اٹھا لیا تم نے تو کوئ مردانہ آواز تھی جسے وہ پہلے سن چکا تھا
کون ہو تم ؟؟؟ اور اس نمبر سے کیسے فون کیا تم نے ؟؟ وہ اٹھ کھڑا ہوا
ہاہاہاہاہاہاہاہا بلند قہقہ لگا دوسری جانب سے
بکواس بند کر کے بات کرو یہ میری بیوی کا نمبر ہے
تمہارے پاس کیسے آیا وہ اس قدر غصے میں تھا کہ اس کے ماتھے پسینا لکیر کی صورت میں اسکے چہرے پر گر رہا تھا
آپکی بیوی ہمارے قید میں ہے ہاہاہا
کمینے تمہاری دشمنی مجھ سے میرے بیٹے اور بیوی سے نہیں ان دونوں کو جانے دو اور بتاٶ مجھے کہاں ملنا ہے آمنے سامنے بات ہوگی
میری دشمنی تم سے تو نہیں وہ پھر ہنسا
پھر ؟؟؟
تمہاری بیوی میری سابقہ معشوقہ ہے میں اسے جانے نہیں دے سکتا
بکواس بند کرو شہباز تو یہاں جیل میں ہے کون ہو تم ؟؟؟
اسی اثنا میں تھانے میں بھاگ دوڑ شروع ہوگئ
کیا ہوا عدیل نے کسی پولیس آفیسر سے پوچھا
شہباز نام کا لڑکا جیل سے فرار ہوچکا ہے
اوہ مائ گاڈ عدیل نے اپنا سر پکڑ لیا
بھاگ ہی گۓ نہ اپنی اوقات دکھا کر کمینے میری فیملی سے دور رہنا میں ان کیلیے ہر حد سے گزر جاٶں گا
مجھ تک پہنچ سکتے ہو تو پہنچ جاٶ ہاہاہاہاہااہاہا
رابطہ منقطع ہوا
فرہان موبائل کو گھورتا ہی رہ گیا
تمہیں پتہ ہے کہ تم نے سہی راستہ جانتے ہو ؟؟؟
**********************************************
ہاں مجھے انفارمیشن تو یہی دی گئ تھی
پولیس کا بتا دیتے نہ کچھ آفیسرز تو ہوتے ہمارے ساتھ
نہیں ، یہ کام میں اپنے طریقے سے کرنا چاہتا ہوں
یہی مسلہ ہے تم سب کام خراب کردیتے ہو ہمیشہ ایسا کرتے ہو
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے تھے اور گاڑی ہوا سے باتیں کرتے ہوۓ راستوں سے گزر رہی تھی جب عدیل نے فرہان سے کہا
گاڑی ایک بڑے گیٹ کے سامنے رکی
عدیل نے حیرت سے فرہان کو دیکھا
اتر جاٶ
لیکن یہ تو میرا گھر ہے
میں نے کہا نہ کہ اتر جاٶ گاڑی سے
لیکن ،،،،
کچھ مت پوچو اتر جاٶ
لیکن حدید اور بھابھی ؟؟؟؟
وہ یہی کہیں ہیں
میرے گھر میں ؟؟؟؟؟
شششش فرہان نے اسے چھپ رہنے کا اشارہ کیا

تم نے تو کہا تھا کہ ہم شہباز کو ڈھونڈنے جا رہے ہیں لیکن یہاں کیوں اس طرح سے چھپ نہ کرواٶ مجھے عدیل نے بد مزہ ہوکر کہا
”تم میرے ساتھ نہیں جا رہے“ فرہان نے دو ٹوک کہا
لیکن میں ساتھ کیوں نہیں جا رہا ؟؟؟ وضاحت کرو
کیونکہ یہ میری فیملی کا مسلہ ہے ہمارا اپنا گھریلو مسلہ ہے تم جاٶ اپنے گھر
میں دوست ہوں تمہارا میں ساتھ نہیں جاٶں گا تو کون جاۓ گا وہ ضد کر رہا تھا
فرہان کو ہار ماننی ہی پڑی اور پھر گاڑی سٹارٹ کردی
اب گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں تھی جو انجان راستوں سے گزر رہی تھی
**********************************************
تم آج بھی مجھ سے محبت کرتی ہو ثمن ڈارلنگ شہباز ہنس ہنس کر کہہ رہا تھا
کو ایک تاریک کمرے میں بند کیا وہ دونوں کرسیوں سے بندھے ہوۓ تھے گیا تھا جہاں ہلکی ہلکی روشنی روشن دان سے اندر داخل ہو رہی تھی
مجھے تم سے رتی بھر محبت نہیں رہی شہباز تم اتنے گرے ہوۓ ہو پتہ چل گیا ہے مجھے وہ نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی
جھوٹ پھر سے جھوٹ ایک اور جھوٹ زمین پر جوس کا خالی ڈبہ پڑا تھا وہ اسے زوردار کک (لات) مار کر بولا
جھوٹ نہیں سچ ، تم یاد کرو وہ دن جب میں تمہارے لیے روئ تھی گڑ گڑائ تھی تم سے اپنی محبت کی بھیک مانگی تھی لیکن تم صرف اور صرف مجھے رسوا کرنا چاہتے تھے بیج راہ پر چھوڑ دینا چاہتے تھے
وہ ڈھیٹوں کی طرح ہنسی جا رہا تھا
ثمن کو لگا کہ وہ اس سے بات کرکے فضول میں اپنا دماغ خراب کر رہی ہے
تم جانتی ہو ؟؟ مجھے تم سے محبت تھی ہی نہیں کبھی بھی نہیں تھی محبت تم سے صرف ٹائم پاس کیا تمہارے ساتھ
ثمن کی آنکھوں میں آنسو آگۓ شاید یہ پچھتاوے کے آنسو تھے کیوں کبھی وہ اس شخص کیلیے اپنی ماں سے لڑتی تھی اپنے بھائیوں سے بھی لڑی یہاں تک کہ اپنے شوہر سے بھی
لیکن اب مجھے احساس ہوچکا ہے کہ میں غلط تھا تم مجھ سے بچھڑ گئ تو مجھے احساس ہوا ثمن کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں شاید کہ جی نہیں سکوں گا تمہارے بنا یہ سب کچھ میں تمہارے لیے کر رہا ہوں تم آزاد ہوجاٶ گی اس زبردستی کے رشتے سے اس قید سے میں جانتا ہوں فرہان تم سے نوکروں سے بدتر سلوک کرتا ہے
بس کرو خدارا بس کرو اور امتحان نہ لو میرا میں تم سے محبت نہیں کرتی ہاں پہلے یہ بے وقفی کر چکی لیکن میں صرف اپنے شوہر سے محبت کرتی ہوں تم سے نہیں تم سے تو اب بس گھن ہی آتی ہے مجھے
شہباز کی رگیں تن گئیں غصے سے منہ سرخ ہوگیا
مجھے بتاٶ میرا بیٹا کہاں ہے ؟؟؟
تمہارا بیٹا ؟؟؟ وہ تمہارا بیٹا کب سے ہوا ؟؟؟ وہ تمہارے شوہر کا بیٹا ہے سوتیلا ہے وہ تمہارا مر چکی ہے اسکی ماں
وہ میرا بیٹا ہے سمجھے تم اسے لے آٶ یہاں اس معصوم کو ایک چوٹ بھی نہیں آنی چاہیے
تبھی دروازے پر دستک ہوئ
آجاٶ !!
کھانا لایا ہوں بھاٶ
لے آٶ رکھ دو میز پر
وہ کھانا رکھ کر چلا گیا
اب شہباز کرسی سے بندھی ہوئ ثمن کے ہاتھ کھول رہا تھا
چلو کھانا کھاٶ
نہیں کھاٶں گی سنا تم نے دور کرو یہ کھانا مجھ سے مجھے صرف میرا بیٹا چاہیے
شہباز کھڑا ہوا جیسے اس کے پاس کوئ اور چارا نہ ہو
چلو میرے ساتھ مل لو اپنے بیٹے سے
ثمن اس کے پیچھے پیچھے چل دی
کچھ ہی دیر میں وہ کچھ ویران سی ٹوٹی پھوٹی جگہ پر موجود تھی جہاں دور دور تک کوئ نہیں تھا ایک سناٹا تھا جو کانوں میں چھب رہا تھا
میرا بیٹا کہاں ہے؟ یہ کونسی جگہ ہے ؟؟؟
شہباز نے تین بار تالی بجائ تو ان کے بائیں جانب سے کچھ غنڈے نما لڑکے آگے آ رہے تھے ان میں ایک نےحدید کو گود میں لیا ہوا تھا
حدید نے ثمن کی طرف مسکراہٹ اچھالی تھی ثمن بھی جواب میں مسکرا کر رہ گئ
وہ لوگ قریب آۓ تو حدید کو گود سے اتار دیا وہ بھاگا بھاگا ثمن کے پاس وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئ
وہ بھاگتا ہوا اس اسکے پاس آیا ثمن نے اسکو کس کر گلے لگایا ماتھا چوما اس کی آنکھیں برسنا شروع ہوگئیں اف اللہ یہ بچہ میری وجہ سے اس حال میں ہے میں کیسے نکالوں اسے اس جہنم سے وہ خود کو کوس رہی تھی کاش وہ یہاں سے اس بچے کو چڑا لے
ماما کیوں رو رہی ہو ؟؟ وہ معصومانہ انداز میں بولا ثمن نے اسے دوبارہ گلے سے لگایا
اب بس کرو ختم کرو یہ ڈرامہ
اوۓ لے جا اسے شہباز ان غنڈے نما لڑکوں سے بولا
نہیں !!!ثمن نے حدید کو گلے لگایا ہوا تھا کوئ قریب نہیں آۓ گا مت چھینو اسے مجھ سے جانے دو اسے حدید نے دونوں ہاتھوں سے ثمن کا بازو پکڑ رکھا تھا وہ لوگ انھیں ایک دوسرے سے دور کر رہے تھے حدید رو رہا تھا
شہباز نے ثمن کے بالوں کو مٹھی میں پکڑ لیا اور زور سے کھینچا درد کی شدت سے ثمن کے منہ سے آہ نکلی
چھوڑ دو میری ماما کو بزدل کہیں کے عورتوں پر ہاتھ اٹھاتے ہو حدید نے اسے للکارا جس کو وہ غنڈے نما لڑکے اٹھا کر لے جا رہے تھے
شہباز نے اس کی طرف دیکھا اور تمسخرانہ ہنسا اس نے ثمن کے بالوں کو چھوڑ دیا تم باپ بیٹے کو گالیاں ہی آتی ہیں بس آٶ ادھر آٶ میلا بچہ
حدید اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوۓ تھا
تمہیں ڈر نہیں لگتا مجھے سے ہاں
نہیں لگتا ڈر آپ گندے ہو میرے بابا کہتے ہیں گندے لوگوں سے نہیں ڈرتے
تھوڑی دیر پہلے جو بچہ رو رہا تھا اب وہی شہباز کو منہ توڑ جواب دے رہا تھا
حدید بیٹا ماما کے پاس آٶ وہ گندے ہیں نہ ان کے پاس نہ جاٶ ثمب جو دوسری طرف کھڑی تھی
نہیں ماما ہمیں سکول میں ٹیچر پڑھاتی ہیں God helo those who help themselves
حدید بیٹا پلیز!!! وہ ہاتھ جوڑ رہی تھی اسکو ڈر تھا کہیں وہ لوگ حدید کو نقصان نہ پہنچا دیں
اچھا تو میں گندہ ہوں شہباز اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا
صرف گندے ہی نہیں بزدل بھی ہو آپ
شہباز نے ایک زور دار تھپڑ حدید کے منہ پر مارا جس کی شدت اتنی تھی کہ حدید دور جا گرا
ثمن کے پیروں تلے زمین نکل گئ تھی
یہ دیکھا صرف ایک تھپڑ کی مار ہو تم شہباز کے ساتھ ساتھ اس کے غنڈوں نےبھی قہقہ لگایا
حدید دوبارہ اٹھا اور پھر سے اسی جگہ کھڑا ہوا جہاں وہ پہلے کھڑا ہوا تھا مجھے آپ سے ڈر نہیں لگتا
اس بار شہباز نے جیب سے پستول نکالی اور حدید سےکہا اب کگتا ہے ڈر ؟؟؟
شہباز وہ بچہ ہے معصوم ہے اسے جانے دو ثمن نے التجا کی تھی
ہاہاہاہاہا بچہ ، اب تک تو بچہ ہی سمجھ رہا تھا میں اسے لیکن یہ تو دشمن کا بیٹا ہے نہ تو اسے کیسے چھوڑ سکتا ہوں ،،،؟
شہباز نے حدید کے ماتھے کا پستول سے نشانہ لیا
حدید اب بھی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا
شہباز رک جاٶ تم ہی نے اسکی ماں کا قتل کیا اب تم ہی اسے نقصان پینچا رہے ہو اتنے بے درد نہ بنو وہ چھوٹا ہے معصوم ہے اتنا ظلم نہ کرو خدا کا واسطہ ہے تمہیں مجھے ماردو لیکن اسے جانے دو
یک دم گولی چلی ثمن نے دونوں آنکھیں ڈھانپ لی اور آواز کے ساتھ ہی گر گئ

ثمن نے آنکھیں کھولی تو بازی پلٹ چکی تھی
فرہان شہباز کے سامنے کھڑا تھا باقی غنڈوں پر پولیس نے ہاتھ اوپر کرواۓ تھے فرہان نے شہباز کا ہاتھ پکڑ لیا تھا جس میں اسنے پستول پکڑی تھی اور گولی حدید کو لگنے کی بجاۓ ہوا میں ہی اچھل کر کہیں دور جا گری
ثمن نم آنکھوں سے مسکرادی کتنا بڑا حادثہ ہونے سے بچ گیا تھا ایک ننھی سی جان بچ گئ تھی
میرے بیٹے پر تم نے ہاتھ کیسے اٹھایا فرہان نے ایک بعد دوسرا مکا شہباز کے منہ پر مارا اس کے ہونٹ پھٹ گۓ تھے ان سے خون رس رہا تھا
اس نے اور ایک زوردار تھپڑ اس کے گال پر رسید کردیا میری بیوی کی آنکھوں میں آنسو لانے والے ہوتے کون ہو تم ؟؟؟
فرہان اسے مار رہا تھا ساتھ ساتھ اس کے ظلم گنوا رہا تھا
تم قاتل ہو فرہان نے اس کالر سے پکڑا تھا اور قاتل یوں سر عام گھوما نہیں کرتے تب تک پولیس نے اس ہتھکڑی لگائ
اب تو تم پر وہ کیس بنے گا بیٹا کہ باہر آنے کیلیے ترسو گے تم شکریہ تم نے میری مشکل آسان کردی
پولیس اسے لےجا رہی تھی اور وہ مڑ مڑ کر انھیں دیکھ رہا تھا
فرہان نے حدید کو اپنے سینے سے لگایا کیسے ہو میری جان ؟؟؟
بلکل ٹھیک ہوں پاپا
فرہان نے اس کا بوسہ لیا میرا بیٹا بہت بہادر ہے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا آپ بہت اچھا لڑیں ان گندے لوگوں کے ساتھ
یش بابا مجھے بڑے کر فوجی بننا ہے اور فوجی بہادر ہوتے ہیں نہ بابا
ہاں میری جان فوجی بہت بہادر ہوتے ہیں بلکل آپکی طرح اور میرا بیٹا بڑا ہوکر فوجی بنے گا
دور کھڑی ثمن دونوں باپ بیٹے کی گفتگو سن کر مسکرا رہی تھی
فرہان کی نظر اس پر پڑی تو وہ ادھر ادھر دیکھنے لگ پڑی
تب تک عدیل آچکا تھا وہ دونوں گلے ملے عدیل نے حدید کو گود میں اٹھایا اور اپنے ساتھ لے گیا
فرہان نے مسکراہٹ بھری نظروں سے ثمن کی جانب دیکھا وہ اسے اگنور کرنے کی کوشش کر رہی تھی
ٹھیک ہو تم ؟؟؟ اس نے قریب آکر ثمن سے پوچھا
جواب ملا تو صرف ”ہممم “
فرہان پلٹنے لگا تو ثمن نے اسکا ہاتھ تھام لیا وہ حیرت سے اسکی جانب مڑا
ثمن کی آنکھوں سے بن بادل برسات جاری تھی فرہان کے دل کو کچھ ہونے لگا
سب خیریت تو ہے ؟؟ وہ تھوڑا پریشان ہوا
ثمن چھوٹے بچوں کی طرح اس کے سینے سے لگی فرہان شاک ہوا لیکن جلد سنبھل گیا اور ثمن کے گرد اپنے بازو کا حصار ڈال دیا
کچھ بتاٶ گی نہیں تو مجھے کیسے پتہ چلے گا پاگل لڑکی !!! بتاٶ کیا ہوا
اس نے ثمن کو خود سے الگ کیا اس کے ماتھے پر بوسہ لیا اب وہ اس کے آنسو صاف کر رہا تھا
آج مجھے ایسے رونے دیں آج میری دنیا اجڑ جاتی اگر آپ نہ آتے میرے حدید کو بچا لیا آپ نے وہ پھر سے اس کے سینے لگ کر رونے لگی
ثمن !!!
جی !!!
تمہارا بہت شکریہ فرہان کے چہرے پر مسکان تھی
کس لیے ؟؟؟وہ اس کے سینے سے الگ ہوئ
حدید کو اتنا پیار دینے کیلیے مجھے لگا تھا وہ ہمیشہ ماں کی محبت سے محروم رہے گا لیکن تم نے اسے سگی ماں سے بڑھ کر چاہا شاید حنا بھی حدید کو کبھی اتنا پیار نہ دے پاتی
فرہان کی آنکھوں میں پانی تھا شاید وہ رو رہا تھا لیکن اسے ظاہر نہیں کروا رہا تھا وہ اس کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا ثمن کو تو ایسا ہی لگا تھا
حدید میرا بیٹا ہے کیا ہوا اگر میں نے اسے جنم نہیں دیا کیا ہوا اگر وہ میرا خون نہیں ہے لیکن میرا اس سے دل کا رشتہ ہے فرہان میں حدید سے بہت محبت کرتی ہوں وہ مسکرا کر بتا رہی تھی
اور حدید کے بابا سے ؟؟؟
ثمن نے نظریں جھکا لیں اس کی مسکراہٹ کیں دور فضاٶں میں گم ہوگئ فرہان کو اس کا جواب مل گیا لیکن وہ کچھ نہیں بولا اس کے ساتھ ایسا ہی تو ہونا چاہیے تھا آخر کیا کچھ نہیں کیا تھا اس نے ثمن کے ساتھ
چلو گھر چلتے ہیں وہ آگے آگے چل پڑا ثمن اس کے پیچھے پیچھے چل دی
**********************************************
عدیل اپنی فیملی کے ساتھ فرہان کے گھر موجود تھا صبح ناشتے کا پروگرام ختم ہوا تو وہ لوگ گھر چلے گۓ چونکہ رباب کو اپنے میکے جانا تھا اس لیے وہ لوگ صبح سویرے ہی نکل گۓ تھے
فرہان گاڑی میں انکو سٹیشن تک چھوڑنے گیا تھا واپسی پر اپنے کمرے میں سوگیا تھا اب تقریباً 11 بج چکے تھے وہ ابھی تک اپنے کمرے سے باہر نہیں آیا تھا
ثمن سب کام کرکے فارغ ہوئ تو اسے دیکھنے چلی گئ کیونکہ فرہان نے ناشتہ بھی کیا تھا اسے فرہان کی فکر ہو رہی تھی
اس نے کمرے کے دروازے پر ناک کیا کوئ آواز نہیں آئ اس نے دوبارہ سے ناک کیا جب کوئ آواز نہ آئ تو وہ اندر چلی گئ
دیکھا تو فرہان اوندھے منہ بیڈ پر لیٹا ہوا تھا ثمن قریب گئ اور اسے جگانے کیلیے اس کا بازو پکڑا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ بخار میں تپ رہا ہے اس نے فرہان کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی تو اسکا چہرہ سرخ پڑ رہا تھا
فرہان !!! اس نے کپکپاتے ہونٹوں سے اس کا نام لیا
ہممممم
وہ سیدھا ہوا ثمن کی طرف مسکرا کر دیکھا
کیسی ہو ؟؟
ٹھیک ہوں آپ کو بخار ہے آپ نے بتایا نہیں
کیا بتاتا؟؟؟ بخار ہی تو ہے اتر جاۓ گا پہلے حدید کیلیے جیتا تھا اب اس کے پاس تم ہو
ایسی باتیں تو نہ بولیں ثمن کو لگا جیسے کسی نے اس کا دل مٹھی میں بند کر لیا ہو
وہ جواب میں صرف مسکرایا
ثمن نے سر اس کے سینے پر رکھا
فرہان!!!
جی !!
آپ کو کیسے پتہ چلا کہ ہم کہاں ہیں ؟؟
وہ مسکرایا
تمہیں یاد ہے جب لائٹ گئ تھی تم میرے گلے لگ گئ تھی بلی سے ڈر کر تب میں نے تمہارے کپڑوں پر ایک چپ لگائ تھی کیونکہ مجھے اندازہ تھا کہ وہ لوگ ایسا ہی کچھ کریں گے
اور پھر آپ پولیس کو لے آئیں وہاں ؟؟؟
نہیں پولیس کو لے کر آنا نہیں چاہتا تھا میں چاہتا تھا خود ہی نمٹ لوں اس جوکر سے لیکن عدیل نے پولیس کو کال کر دی تھی اور جب اس نے حدید کو تھپڑ مارا تھا تب ہم وہاں پہنچ چکے تھے بس پولیس کا انتظار تھا
فرہان ، آپ حنا سے بہت محبت کرتے تھے نہ ؟؟؟
بلکل ، ہم دونوں بچپن سے جانتے تھے ایک دوسرے کو مجھے آج بھی اس کی تصویروں سے اتنی ہی محبت ہے
ثمن خاموش ہوگئ کچھ دیر دونوں کے درمیان خاموشی حصار بناۓ ہوۓ تھی
فرہان میں بھی آپ سے اتنی ہی محبت کرتی ہوں جتنی آپ حنا سے کرتے تھے
فرہان مسکرا دیا میں جانتا ہوں
ثمن نے سر اس کے سینے سے اٹھایا اور ناراض نظروں سے فرہان کی طرف دیکھا
اچھا سوری وہ مسکرایا
وہ جانے لگی تو فرہان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
نہ جاٶ مجھے چھوڑ کر یہاں بیٹھو میرے پاس اس نے حنا کے لیے جگہ چھوڑی جہاں وہ بیٹھ گئ
ثمن !!! مجھے تم سے محبت ہے لیکن میں تمہیں وہ جگہ نہیں دے پاٶں گا جو میرے دل میں حنا کی تھی میں تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا لیکن سچ یہ بھی ہے کہ میرے دل میں تمہارے لیے ایک خاص مقام ہے مجھے تھوڑا وقت دو میں تمہیں کوئ شکایت کا موقع نہیں دوں گا
ثمن مسکرائ مجھے پتہ ہے آپ کن مشکل حالات سے گزرے ہیں آپ فکر نہ کریں میں کبھی برا نہیں مانوں گی آپکی کسی بھی بات کا اور ایک منٹ!!! دوا لی ہے آپ نے ؟؟؟
ہاں صبح میڈیسن کھائ تھی اب تم ساتھ ہو نہ میں ٹھیک ہوجاٶں گا
ثمن مسکرا دی
**********************************************
صبح ثمن کی آنکھ کھلی تو کمرے میں اس کے سوا کوئ نہیں تھا وہ جلدی سے اٹھی کھڑکی سے صحن میں جھانکا تو باپ بیٹے دونوں کو فٹبال کھلیتے دیکھا
وہ مسکرا دی شکر ہے اسکی زندگی میں بھی خوشیاں آئیں
فرہان کی نظر اس پر پڑ گئ تو اسنے ہاتھ کے اشارے اسے بلایا کہ تم بھی ہمیں جوائن کرو
ثمن نے اثبات میں سر ہلا دیا اور فریش ہوکر باہر آئ تو سر بھاری بھاری لگ رہا تھا وہ نیچے ان دونوں کے پاس آئ
حدید نے اسے بال پاس کی اسنے کک ماری بال دور جا گری وہاں سے فرہان نے بال کو کک ماری حدید کے پاس سے بال گزری ثمن اسے کک مارنے کی لیے بھاگی تبھی اسے چکر آیا اس سے پہلے وہ گرتی فرہان نے اسے تھام لیا
تم ٹھیک تو ہو نہ ؟؟
بلکل ٹھیک ہوں وہ مسکرا دی
لیکن چکر کیوں آیا پھر ؟؟؟ وہ پریشان ہوا
ثمن مسکرائ
بتا بھی دو اب وہ مزید پریشان ہوا
ثمن اس کے کان کے پاس گئ اور دھیرے سے بولی
آپ ایک بار پھر سے پاپا بننے والے ہیں
فرہان کی خوشی کی انتہا نہ رہی اس نے ثمن کو اپنے بازوٶں میں اٹھا لیا اور لٹو کی طرح گھومنے لگا ثمن کا قہقہہ بلند ہوا حدید بھی انکے ساتھ ساتھ گھومنے لگا پورے گھر میں انکی ہنسی کی آواز گونج رہی تھی
حنا دور بادلوں سے انھیں دیکھ کر مسکرائ تھی
انکی جیت ہوئ تھی شہباز کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنائ تھی اسکا باپ یہ سن کر پاگل ہوگیا تھا سب کو انکے کیے کی سزا مل چکی تھی اب صرف خوشیاں ہی خوشیاں انکی منتظر تھیں۔۔۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: