Ye Yaadein novel by Munazza Mirza – Episode 1

0
یہ یادیں از منزہ مرزا – قسط نمبر 1

–**–**–

دیوار کو دیکھتی وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی کے اُسے اپنے عقب سے مردانہ آواز آئی ایک دم سے چونک کر پیچھے دیکھا اور پھر ناگواری سے رُخ پھیر کر دوبارہ دیوار کو گھورنے لگی۔۔
پیچھے کھڑے شخص کا دماغ اُس کی اس حرکت پر مزید گھوم گیا
وہ خود پر ضبط کرتے ہوئے اُس لڑکی کی پُشت دیکھ رہا تھا جو بلاوجہ ہی اُسے زہر لگتی تھی شاید اُسکی ایک وجہ اُسکی انتہا کو چھونے والی ڈٹھائی تھی۔۔
ابھی وہ اُسے دو،چار سنانے لگا تھا کے ایک دم سے اُسنے گردن موڈ کے آنکھیں سکیڑ کے اُسے دیکھا اور اونچی آواز میں بولی۔۔
اب کیا حکمتِ عملی بنا رہے ہو مجھے ذلیل کرنے کی؟؟
اُسکا دل تو کیا اسے اُٹھا کے اسی دیوار میں مارے۔۔
ابھی بولنے کو اُسنے لب کھولے ہی تھے کے راحمین کی آواز پر دونوں چونکے۔۔
منال یار یہاں بیٹھی ہو کب سے انتظار کر رہی ہوں کے اب روم میں آتی ہو پر پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے جہاں بیٹھتی ہو وہیں بیٹھی رہ جاتی ہو..
منال نے دِل میں سوچا تم کب سمجھ سکتی ہو میرے کرب کو۔۔
اور بھائی آپ کب آئے کھانا لگاؤں یا کافی لاوں؟
برہان کا دل تو کیا کے کہے یہ جس سوغات کو ڈھونڈ رہی تھی اُسے لے جائے۔۔
پر صرف کافی کا کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
راحمین برہان کے جاتے فوراً منال کی طرف مڑی اور کافی اُسے بنانے کا کہہ کر یہ جا وہ جا…
وہ منھ کھولے اُسے جاتا دیکھتی رہی پھر راحمین کو کوستی کچن کی طرف چلی گئی
کافی بنائی اور راحمین کے سر پر کھڑی ہو گئی کے اپنے بھائی کو کافی دے آئے (بلکہ اُس کے منھ پر مار آئے)۔
صبح ناشتے کی میز پر برہان اُسکی امی اور راحمین بیٹھے تھے جب منال نے کرسی کھینچ کر بیٹھنا چاہا تو برہان نے کرسی کو پکڑ لیا اور شروع ہو گیا۔۔
منال کو پتہ تھا رات کو دیکھائی گئی بہادری کا نتیجہ بھگتنا تو پڑے گا۔۔
سمجھتی کیا ہو خود کو دوسروں کے گھر پڑی ہو پر اوقات میں رہنا نہیں آ رہا تمہیں جہاں دل کرتا ہے منھ اٹھا کی پھرتی ہو، بیٹھتی ہو آندھی ہو یہ بابا کی چیئر (کُرسی) ہے ہٹو پیچھے۔۔
منال انتہائی شرمندگی کے عالم میں ساتھ والی کُرسی پر بیٹھ گئی
ڈاکٹر سعد کی آواز پر برہان سٹپٹایا۔۔
السلام وعلیکم! بابا..
بابا نے خونخوار نظر بیٹے پر ڈالی اور سر جھٹکتے کرسی سنبھالی
اور منال سے مخاطب ہوئے
بیٹا،اسکی باتوں کو دل پر نہ لو اس کا دماغ خراب ہوا رہتا ہے میں تمہیں اس گھر میں لیا ہوں جہاں مرضی اُٹھو،بیٹھو تمھارا گھر ہے یہ تم بھی راحمین کی طرح میری بیٹی ہو۔۔
منال کا ہمیشہ کی طرح حوصلہ باندھا تھا اُنکی باتوں سے
مسکرا کر شکریہ کہتی ناشتہ کرنے لگی اور برہان کوٹ اُٹھاتا بغیر ناشتہ کیے اُٹھ کھڑا ہوا مگر کسی نے اُسے روکنے کی کوشش نہیں کی کیوں کہ مہمانوں سے بتمیزی اُس گھر میں کوئی برداشت نہیں کرتا تھا۔
اور برہان سے وہ لمبے عرصے کی مہمان برداشت نہیں ہوتی تھی جسکی وجہ سے اُسکا باپ اُسے سنا دیتا تھا۔
آفس آ کر بھی اُسے باپ کی باتیں نہیں بھول رہی تھیں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اُسکا باپ اُس سے زیادہ محبت کرتا تھا اور وہ اس بات پر بہت فخر کرتا تھا کے اُسکے بابا بیٹی سے زیادہ اُسے فوقیت دیتے تھے۔
پچیس سال کی عمر میں بھی اُسے باپ کا لاڈلا بننے کا شوق نہیں جاتا تھا
اب ایک دم سے لاڈلا کیا اسکی تو ڈائریکٹ (Direct) بے عزتی ہونے لگی تھی
شام کو اُسے لان میں اکیلا بیٹھا دیکھ کر اُسکے سر پے کھڑا ہو گیا
منال کب جاؤ گی ہمارے گھر سے میرے بابا نے تمہاری جان بچائی اور تم ہماری جان کا عذاب ہی بن گئی ہو
وہ کچھ نہیں بولی اُسے ہمیشہ سے خاموش رہنے کی عادت تھی ۔۔
اور اُسکی یہ خاموشی اُسے اور زہر لگتی تھی
ڈھیٹ کہیں کی بڑبڑاتا چلا گیا
منال کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی
ایک حادثے نے اُسکی زندگی پلٹ کر رکھ دی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: