Ye Yaadein novel by Munazza Mirza – Episode 2

0
یہ یادیں از منزہ مرزا – قسط نمبر 2

–**–**–

اُسے برہان کی باتوں سے اذیت ہوئی تھی اپنا آپ بوجھ لگا تھا ایسا بوجھ جو انسان خود بھی نہیں اٹھانا چاہ رہا ہوتا۔۔
گھر والوں سے دور رہنا اُسکے لیے بھی اذیت ناک تھا مگر ڈاکٹر سعد کا کہنا تھا کہ کوئی تمہاری بات کا یقین نہیں کرے گا کوئی نہیں مانے گا کہ یونیورسٹی سے واپسی پر تمھارا ایک اتنا بُرا ایکسیڈنٹ ہوا کے تمہاری جان بچانے کے لیے فوراً تمہیں لاہور لینا پڑا اور وہاں ایک سرجن نے تمھاری اُس حالت کو دیکھتے تمھارا علاج کیا اتنے دِن اور پھر انسانیت کے ناطے گھر لے آیا۔
وہ ایک چھوٹے شہر کے رہنے والی لڑکی جانتی تھی وہاں کے لوگوں کی سوچ اور نظریے ایک دِن کے لئے غائب ہوئی لڑکی کو بھاگا ہوا تصور کر لیا جاتا ہے چاہے کچھ عرصہ پہلے اُسکی شرافت کی سارا خاندان، سارا محلہ گواہی دے سکتا ہو وہ تو پھر ایک ماہ سے غائب تھی اتنے بُرے ایکسڈنٹ کے بعد دو ہفتے وہ ہوش میں نہیں آئی تھی اور جب آئی تو اُسکے بعد بھی ایک ہفتہ اُسے کچھ خاص یاد نہیں آتا تھا
ڈاکٹر سعد کے ساتھی ڈاکٹر نے کہا کے اسے گھر کا ماحول نہ ملا تو شاید اسے بہت وقت لگے پچھلا سب کچھ یاد کرنے میں اب وہ ایک ہفتے سے ڈاکٹر سعد کے گھر تھی اور اس وقت میں وہ برہان سے ایک سو ایک دفعہ اپنی تذلیل کروا چُکی تھی
اُسے ابھی بھی باتیں یاد کرنے میں دقت ہوتی تھی اُسکے سر پر بہت گہری چوٹ لگی تھی اس لیے اُسکے سر سے تھوڑی دیر بعد ٹھیسیں اٹھتیں تھیں
ڈاکٹر سعد کا کہنا تھا جب تم مکمل ٹھیک ہو گئی تمہارے گھر والوں کو سمجھا کر اُنکے حوالے کر آؤں گا کیوں کہ وہاں اُسے صحیح ٹ ٹریٹمنٹ (Treatment) نہیں مِل سکتا تھا ڈاکٹر سعد ہی اُسکے معالج تھے وہی اُسکی حالت کو جانتے تھے۔
منال اپنے ٹھیک ہونے کی دعائیں کرتی تھی کہ جلدی اس برہان نامی بلا کے طعنوں سے جان چھُوٹے اُسکی۔۔
رات کے کھانے پر ڈاکٹر سعد اُسے کہہ رہے تھے کے کہیں باہر چلی جایا کرو اور کہیں نہیں تو لائبریری چلی جایا کرو خود کو نارمل رکھو زیادہ ڈیپریشن تمھاری صحت کے لیے ٹھیک نہیں جلدی ٹھیک ہو گی تو جلدی گھر جا سکو گی نہ۔
اور اُدھر برہان صاحب کے اُسکےجانے کے نام سے کان کھڑے ہو گے تھے دِل ہی دِل میں شُکر ادا کر رہا تھا اور کوس رہا تھا سب کو کے کسی نے اُسے کیوں نہیں بتایا کے وہ جانے کے لئے آئی ہے بابا اُسے سچ مچ کی بیٹی نہیں بنا لائے۔۔
برہان جھٹ سے بولا منال میں تمہیں لائبریری لے جایا کروں گا
لاور اُسکی اس آفر پر منال کا حیرت سے بُرا حال ہو رہا تھا
باقی سب گھر والوں کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی اُنہیں اُسکی رحمدلی کی وجہ سمجھ آ گئی تھی
مگر منال آج کل زیادہ سوچنے سے آری تھی۔
اگلی صبح راحمین کو ہاسپٹل اور منال کو لائبریری چھوڑ کر
وہ آفس چلا گیا اور بریک ٹائم میں منال کو لائبریری سے پک کرنے گیا اور اُسے حیرت ہوئی وہ اتنے گھنٹے سے وہیں بیٹھی کتابیں پڑھ رہی تھی اُسے کتابوں میں محو دیکھ کر ایک دم سے اُسے دو دِن پہلے کی منال کی بنائی گئی چائے یاد آ گئی تھی جس میں سرے سے چینی نہیں تھی اور دودھ بھی غلطی سے ڈالا تھا شاید اس نے اور اب کتابوں میں محو بیٹھی تھی اُسنے سوچا کہیں ڈراما تو نہیں کرتی یہ بیمار ہونے کا گھر میں زیادہ دِن رہنے کے چکروں میں پھر اُسکی معصوم شکل پر نظر پڑنے پر سر جھٹک کر رہ گیا اتنی تیز لگتی تو نہیں چلو کوئی نہیں تھوڑے عرصے تک چلی جائے گی اب انسان کب تک بیمار رہ سکتا ہے۔
اُس کے جانے کا سوچ کر اُسے دِل میں عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی۔
منال کی اُس پر نظر پڑی تو اُسکی طرف چند کتابیں پکڑے آئی
اُس کے آنے پر برہان نے کہا کے کال کر کے ڈرائیور کو منگوا لیتی
اور اُسکے پاس موبائل نہ ہونے کے انکشاف پر سر پِیٹ کر رہ گیا کے وہ بریک ٹائم نہ آتا تو شام تک وہیں بیٹھی رہتیں محترمہ۔۔
واپسی پر اُسکی آئس کریم کی آفر پر منال کو ایک اور جھٹکا لگا اُسکی مہربانی اُسکی سمجھ میں نہیں آئی تھی پر اُسنے حامی بھر لی۔۔
اور اب حیران ہونے کی باری برہان کی تھی کے یہ پہلی بار میں بات مان کیسے گئی اور جواب کیسے آ گیا تھا اُسکی طرف سے اور وہ خوشگوار حیرت سے آئس کریم لا کر گاڑی میں بیٹھا
اور اُسے آئسکریم تھمائی اور یہ کیا منال میڈیم کے منھ کے زاویے بدلے اور پوچھنے پر پتہ چلا کے یہ بھی کوئی کھانے والا فلور آئسکریم کا جو تھوڑی دیر پہلے اُسے منال بہتر لگنے لگی تھی پھر اُس پر غصّہ آنے لگا اور منھ بناتے چوکلیٹ فلور کی آئسکریم لایا اور انتہائی غصے میں منال کو تھمائی اور اُسنے چُپ چاپ کھانا شروع کر دی۔
ویسے منال وینیلا (vanila) فلور میں کیا برائی تھی؟؟
اور منال اپنے معمول پر آ چکی تھی کُچھ نہیں بولی اور اُسکا دماغ گھوم گیا ( ڈھیٹ کہیں کی)۔
اپنی اس طرح کی تعریف کے بعد بھی وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی
منال ایشو (issue) کیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔
وہ ناسمجھی کے عالم میں اُسے دیکھنے لگی
کیا مطلب؟ کُچھ بھی نہیں ہے مجھے…,
میرا مطلب ہے اس قدر خاموش کیوں رہتی ہو
میں ایسی ہی ہوں اور ایسی ہی تھی اور میں کُچھ نہیں کہتی تو مجھے تم سے اتنی باتیں سننیں کو ملتی ہیں اگر بات کروں گی تو مجھے تم سے اُمید ہے کہ دوبارہ بات کرنے کے قابل نہیں چھوڑوں گے
تُمہیں پتہ ہے الفاظ سب سے زیادہ تکلیف دیتے ہیں بلکہ تلکیف نہیں اذیت ، دماغی اذیت اور تکلیف بھول جاتے ہیں ہم مگر اذیت ہمارے اندر سرائیت کر جاتی ہے جب ہمیں دوبارہ اذیت ملتی ہے تو پچھلی بھی ساری اذیتیں یاد آتی ہیں پھر اذیت در اذیت ہوتی ہے
جیسے ایک برتن کو پورا بھر دیا جائے تو وہ اپنے اندر سب کچھ سما لیتا ہے لیکن اگر ہم مزید اُس میں کُچھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ چھلک جاتا ہے پھر پہلے کی اندر سمائ ہوئی چیز بھی باہر نکل جاتی ہے ۔۔
تم کسی کی تذلیل کرنے کو اُسکی اوقات دیکھانا کہتے ہو
کون سی اوقات،کیسی اوقات؟
اُسکے کم حیثیت ہونے کی؟
ہم سب کی اس دنیا میں بس ایک ہی اوقات ہے کے ہم سب انسان ہیں
اور اگر ہم بھول جائیں کے ہم انسان ہیں پھر تو اوقات دکھانی چاہیے مگر کسی کے معمولی انسان ہونے پر کیسی تذلیل؟کیسے طعنے؟
انسانوں کو اللہ نے اُسکے ہی بندوں کی درجہ بندی کرنے کے لیے نہیں بھجا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: