Ye Yaadein novel by Munazza Mirza – Episode 3

0
یہ یادیں از منزہ مرزا – قسط نمبر 3

–**–**–

منھ بسورتے اُس نے گاڑی سٹارٹ کی کیوں کہ جیسے وہ بغیر بریک کے بولنے لگ پڑی تھی اُس سے بحث کرنا اُسکی سپیڈ مذید بڑھانے والی بات تھی۔
اگر اُسنے ساری باتیں صحیح نہ کہیں ہوئیں ب ہوتیں تو وہ ایک تھپڑ لگا کر اُسکی بریک لگوا چُکا ہوتا
منال اب ہلکا محسوس کر رہی تھی دل کی بھڑاس نکال کر مگر اُسے برہان کی خاموشی ٹھٹھکی ضرور تھی مگر اُسے سنجیدہ دیکھ کر خاموش ہی رہی۔۔
رات کے کھانے پر منال ڈاکٹر سعد کو بتا رہی تھی
بابا آج برہان نے مجھے آئسکریم کھلائی
وہ ڈاکٹر سعد کو بابا ہی کہتی تھی کیوں کہ ڈاکٹر سعد کا کہنا تھا وہ اُنہیں راحمین کی طرح عزیز ہے وہ انہیں راحمین کی طرح بابا کہا کرے۔۔
لیکن ڈاکٹر سعد کی بیوی کو وہ آنٹی ہی کہتی تھی جسکی وجہ رخسانہ بیگم کی اُس سے کُچھ حد تک بے رُخی برتنا تھا
جب ڈاکٹر سعد اُسے اپنے گھر لائے تھے تب بھی انہوں نے جوان لڑکی کو گھر رکھنے پر اعتراض کیا تھا اُن کا کہنا تھا جوان بیٹا ہے آپکا کُچھ سوچ کر لاتے۔
تب منال کو آنٹی رخسانہ کی بات سے اتفاق تھا پر اُنکے بیٹے سے ملنے کے بعد اختلاف ہوا تھا یہ اس آلو کے لیے مجھے رکھنے پے اعتراض کرنا بھلا بنتا تھا۔
آلو وہ اُسکی رنگت کی وجہ سے کہتی تھی سفید و سُرخ رنگ کے ساتھ وہ اچھی پرسنلٹی (Personality) کا مالک تھا
مگر منال کو بہت زیادہ چٹیے گورے (سفید) رنگ کے لڑکے نہیں پسند تھے
ایک دو بار اُسے آلو بڑبڑاتے برہان سن چکا تھا
اور اس سے نفرت میں اور اضافہ ہوا تھا
مگر منال اس بات سے بےخبر تھی کے اُسکے خوبصورت القابات وہ سن چکا ہے
راحمین اپنے بابا کو یاد کروا رہی تھی کے دو دِن بعد اُسکی سالگرہ ہے اور گفٹ اُسکی طرح خاص اور قیمتی ہو۔
ایسی باتیں نہ کرو راحمین بابا نے تمہیں منال ہی گفٹ کر دینی ہے آج کل یہی بابا کے لیے خاص اور قیمتی ہے،.. برہان نے ٹانگ آڈانا اور منال پر طنز کرنا ضروری سمجھا۔۔
کھانے کی میز پر سب دبا دبا ہنسنے لگے مگر منال سنجیدہ رہی کیوں کہ اُس کے لیے کیا گیا طنز وصول ہو گیا تھا اُسے۔۔
بھائی آپ مجھے کیا گفٹ دیں گے
برہان نے سوچا اُس کے نزدیک تو آج کل سب سے خاص چیز منال کا دفع ہو جانا ہے پر یہ گفٹ واقعی بہت قیمتی تھا اور یہ وہ راحمین کو دے بھی نہیں سکتا تھا۔
میرے لیے تو بابا سب سے خاص ہیں۔۔ چاہیں تمہیں؟
بھلا یہ کیا بات ہوئی سب ایک دوسرے کو ہی دی جا رھے ھیں ابھی ماما سے کہوں گی ماما نے کہنا برہان اُن کے لیے سب سے قیمتی حد ہے آپ سب کی کنجوسی کی۔
سب ہنس پڑے۔۔
اور راحمین کی سالگرہ کے دِن صبح سے گھر میں اودھم مچا ہوا تھا گھر کو سجایا جا رہا تھا اور کھانے کا بھر پور اہتمام ہو رہا تھا وہ لوگ اپنے دونوں بچوں کی سالگرہ ایسے ہی جوش و خروش سے مناتے تھے راحمین بھی آج ہاسپٹل نہیں گئی تھی وہ ہاؤس جاب کر رھی تھی اپنے بابا کی طرح میڈیکل سے اُسے بہت لگاؤ تھا مگر برہان کو بزنس پسند تھا اُسے روکا بھی نہیں اُسکے بابا نے کیوں کہ ڈاکٹر سعد کو بچوں کی خوشی بہت عزیز تھی اور برہان ویسے بھی اپنے باپ کا لاڈلا تھا اُسے ہر کام نکلوانا آتا تھا اپنے باپ سے مگر وہ بس منال کو گھر سے نکلوانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
رات ہوئی تو پارٹی کے لیے مہمان آنا شروع ہو گے تھے کافی بڑا انتظام کیا گیا تھا سالگرہ کا راحمین اپنے پنک فروک میں شہزادی لگ رہی تھی کیوں کہ آج ڈاکٹر سعد کی شہزادی کی ہی تو سالگرہ تھی۔
اُس نے منال کو بھی تیار کیا تھا جب وہ اپنے لیے شاپنگ کرنے گئی تھی تو منال کو بھی لے کر گئی تھی اُسے بھی اپنے جیسی چیزیں خرید کر دی تھیں اتنے عرصے میں منال اُسے بہت عزیز ہو گئی تھی دونوں ایک ہے کمرے میں رہتی تھیں اور راحمین رات گئے اُسے باتیں سناتی تھی اور وہ آرام سے سنتی رہتی تھی اُسے اچھا لگتا تھا اُسکی باتیں سنانا راحمین پیاری تھی اور بولتی اُسے اور بھی پیاری لگتی تھی۔
منال یار تھوڑا سا ڈارک کرنے دو میک اپ مگر منال بس نہیں نہیں کی رٹ لگائے کھڑی تھی
گہرے نیلے رنگ کی فروک اور سیاہ کالے سیدھے بال پُشت پر چھوڑے کھڑی تھی
اور ہلکا سا میک اپ اُسکے چہرے کے نقوش کو نمایاں کر رہا تھا
اچھی لگ رہی ہو بس لیپسٹک تھوڑی ڈارک کروا لو
وہ دونوں میک اپ میں مصروف تھی کہ برہان اپنی گھڑی باندھتا دروازے پر کھڑا راحمین کو اُسکے نیچے آنے کا کہہ رہا تھا
گھڑی باندھ کر اوپر دیکھا تو منال کی طرف نظر پڑی اور یک ٹک اُسے دیکھتا رہ گیا۔۔
منال کی اُس پر نظر پڑی تو آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگی
برہان سٹپٹایا۔۔
وہ۔۔م۔۔میں۔۔وہ بولانے آیا ہوں تم لوگوں کو نیچے بابا بولا رہے ہیں کیک نہیں کاٹنا تم نے راحمین میڈیم
اب وہ راحمین سے مخاطب تھا
آ رہے ہیں بھائی ابھی تو مہمان آنا شروع ہوئے ہیں
برتھڈے پارٹیز دیر سے ہی شروع کرتے ہیں۔۔
آتے ہیں آپ جائیں۔۔
جا رہا ہوں بھاڑ میں جاؤ۔۔
سیڑھیاں اُترتے ہوئے اُسکی آنکھوں کے سامنے بس ایک ہی شکل تھی سر جھٹکتے ہوئے نیچے اُترنے لگا
نیچے اُترتے وقت اُسنے کسی کو دیکھ لیا تھا
فل سپیڈ سے سیڑھیاں اُترتا اُسکی طرف لپکا۔۔
اوئے۔تم کینیڈا سے کب آئے یار بتایا کیوں نہیں۔
سرپرایز نامی کوئی چیز بھی ہوتی ہے کے نہیں؟
نہیں۔۔ برہان کے جواب پر دونوں نے پر زور قہقہ لگایا
سب مہمانوں نے اُنکی طرف دیکھا اور مسکرانے لگے
اوہ،اچھا رک میں راحمین کو بتا کے آتا ہوں۔۔
رہنے دو اُسے بھی شاکڈ ہونے دو
چلو یہ آئیڈیا بھی اچھا ہے میں اکیلا ہی کیوں چونکوں۔۔
اتنی دیر میں منال اور راحمین نیچے اتریں۔۔
راحمین کی خوشی سے چیخ نکلتے نکلتے رہی
معاذ تم کب آئے
What a pleasant surprise۔۔
معاذ نے شانے اچکا دیے۔۔
……………………….
معاذ راحمین اور برہان کی خالہ کا بیٹا تھا بچپن سے ہی اُنکے درمیان بہت دوستی تھی
اُنہوں نے اپنا بچپن ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے ہی گذارا تھا
ھمیشہ سے ایک دوسرے سے باتیں شیئر کرتے گھومنے کے پلینز بناتے اُنہوں نے بہت سا وقت ایک ساتھ گذارا تھا
ایک ہی اسکول ایک ہی کالج میں پڑھے تھے ہاں یونیورسٹیز کے بارے میں اُنہوں نے مختلف یونیورسٹیز کا انتخاب کیا تھا معاذ کینیڈا گیا تھا اور برہان نے امریکا ان دونوں کے برعکس راحمین نے اپنے ملک میں پڑھنے کو فوقیت دی۔
اُنکے درمیان اس لیے بھی زیادہ بنتی تھی کہ عمر کا زیادہ فرق نہیں تھا
راحمین سب سے بڑی تھی اور معاذ اُس سے چند ماہ ہی چھوٹا تھا جبکہ برہان اُس سے ایک سال چھوٹا تھا۔
………………………..
معاذ کی نظر راحمین سے پہلے اُسکے ساتھ چلتی منال پر پڑی تھی
Who is she??
اُس نے برہان کے کان میں سرگوشی کی۔۔
Who??
اُسنے الٹا سوال کیا پھر سمجھ آنے پر کہا۔۔
اوہ یہ منال ہے بابا کی گیسٹ ہے۔
اُسکا دل تو کر رہا تھا کہے کون؟ یہ؟ یہ وبالے جان ہے۔۔
اوہ اچھا معاذ نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا اور ایک گہری نظر منال پر ڈالی۔
مگر منال کا دماغ کہیں اور تھا سب اہتمام دیکھ کر اُسکو اپنے گھر والے شدّت سے یاد آ رہے تھے۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: