Ye Yaadein novel by Munazza Mirza – Episode 4

0
یہ یادیں از منزہ مرزا – قسط نمبر 4

–**–**–

Hye۔۔ I’m moaz
معاذ نے منال سے اپنا تعارف کروایا۔
ایک سرسری سی نظر اُس پر ڈال کر پھر سوچنے لگی
………………………….
اب اُسکی طبیعت بہتر ہو رہی تھی اب وہ کُچھ سوچتی تھی یا پڑھتی تھی تو اُسکے سر میں کم تکلیف ہوتی تھی۔۔
اور اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ بات بات پر اپنے گھر والوں کو یاد کرتی تھی۔
اور یاد کرتے کرتے سسکیوں سے رونے لگ جاتی۔
رخسانہ بیگم اور راحمین اُسے بہت سمجھاتیں خاموش کرواتیں۔
مگر اُسے صبر نہیں آتا تھا۔
اُسکے گھر والے اُس سے بہت پیار کرتے تھے وہ سب سے چھوٹی تھی اور سب سے لاڈلی بھی جب برہان اپنی ماما سے نخرے اٹھوا رہا ہوتا تھا اور اپنی
پسند کے کھانے بنواتا تھا تو منال حسرت سے اُسکی طرف دیکھتی تھی اُسکے بھی کبھی ایسے ہی لاڈ اٹھائے جاتے تھے جب یونیورسٹی سے آتی تھی تو اُسکی پسند کا کھانا ملتا تھا کیوں کہ وہ دوسرے شہر پڑھنے جاتی تھی اور گھر میں سب سے زیادہ پڑھ رہی تھی تو اُسکی سب سے زیادہ آو بھگت ہوتی تھی وہ M.phil کر رہی تھی اور اپنی یونیورسٹی کی ایک لائق student تھی اُسے اپنی پڑھائی کے اس طرح رک جانے کا بھی افسوس نہیں جاتا تھا اُسکے خواب اُس ایک حادثے نے توڑ دیے تھے۔
یونیورسٹی سے ہو سٹل جاتے روڈ سے گزرتے وقت اُسکی ذرا سی بد احتیاطی اُسکی زندگی کو اسی سڑک پر روک گئی تھی۔اُسے ویکینڈ (weekend) پر کل گھر جانا تھا اُسکے ذہن میں اُسکی امی کے بنے کھانے ہی گُھوم رہے تھے کے ایک ٹرک کی زد میں آ گئی اور اب اُسکی زِندگی بھی گھوم رہی تھی کُچھ بھی سمجھ میں آنے سے پہلے منظر بدل جاتا تھا۔
وہ سوچتی تھی کہ اگر وہ دوبارہ کبھی پڑھ نہ پائی اُسکے گھر والوں نے اُسے قبول نہ کیا تو کیا ہو گا
اُسکے گھر والے اُسکے بارے میں کیا سوچتے ہونگے کہ بھاگ گئی کسی کے ساتھ لیکن پھر دِل کو تسلی دیتی کے اُسکے گھر والے جانتے ہیں اُسے اچھی طرح وہ ایسی نہیں ہے
لیکن اگر لوگوں کی باتوں میں آ گئے تو خاندان والوں نے اگر کہا ہو کے یونیورسٹی میں کسی کے ساتھ بھاگ گئی تو مگر وہ تو اپنی بیٹیوں کو منال کی مثالیں دیتے تھے وہ ایسا کیوں کریں گے۔۔
اتنی سوچیں تھی جو اُسے جینے نہیں دے رہیں تھیں اُسکے دِل کی بے چینی جاتی نہیں تھی
خدشات اُسے سکون نہیں لنيے دیتے تھے
ایک ایکسیڈنٹ سے پہلے اُسکی زِندگی کِتنی خوبصورت تھی ہر قسم کے خدشات سے پاک پُر وقار، پُر سکون
مگر ایک چیز تھی جو اُسے جینے کی وجہ دیے ہوئے تھی جو اُس کی طبعیت کو بہتری کی طرف لا رہی تھی
وہ تھیں ڈاکٹر سعد کی حوصلہ افزا باتیں وہ فرشتہ صفت انسان تھے دوسروں کو خوش دیکھ کر خوش ہونے والے اور دوسروں کو تکلیف میں نہ دیکھ پانے والے انسان۔۔
کُچھ لوگوں کے اندر اللہ تعالیٰ ایسی ہی اچھائیاں پیدا کر دیتے ہیں کُچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ایسے ہی چن لیتے ہیں دوسروں کا وسیلہ بنانیں کے لئے دوسروں کو مزید مشکلات سے بچانے کے لیے ایسی لوگ صرف دعاؤں کے مستحق ہوتے ہیں اچھے رویے اچھے الفاظ کے مستحق ہوتے ہیں۔
………………………….
وہ لوگ ابھی باتیں کر رہے تھے اور منال گھر والوں کے بارے میں سوچ رہی تھی کے ڈاکٹر سعد کی آواز پر سب متوجہ ہوئے۔۔
ارے بچوں ادھر آو کیک کاٹو راحمین سب اِنتظار کر رہے ہیں۔ دراصل وہ منال کو سوچو میں گُم بھی دیکھ چکے تھے اور وہ جانتے تھے وہ کیا سوچ رہی ہو گی۔۔
اُس کو سوچو میں گُم معاذ نے بھی دیکھا تھا پر پھر باتوں میں مگن ہو گیا تھا کیوں کہ اُن کی بہت سی باتیں جمع ہوئی پڑیں تھی اُسکے باہر رہنے کی وجہ سے اب اُنہوں نے وقفے وقفے مل کر وہ ساری باتیں شیئر ضرور کرنی تھیں
راحمین کیک کی طرف آئی برہان اُس کی ایک طرف جب کہ منال دوسری طرف اور معاذ منال کے ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔
تمام لائٹس بھوجا دی گئیں
اور راحمین کے کیک کاٹتے ہی تالیوں ، هپی برتھڈے (happy birthday) برہان اور معاذ کی سیٹیوں سے ہال گونج اٹھا تھا۔
لائٹس جلائیں گئیں اور سب اب کیک اور دوسری لوازمات سے لطف اٹھا رہے تھے۔
منال کو یاد آ رہا تھا اُسکے گھر والے بھی اُسکی سالگرہ مناتے تھے اتنی بڑی نہیں مگر بڑے دِل سے مناتے تھے اتنا بڑا کیک نہیں مگر کیک لاتے ضرور تھے
منال کے لئے چیزوں کا کم یا زیادہ ہونا کبھی معنی نہیں رکھا تھا اُسک ے لیے احساسات اور جازبات کی ہمیشہ سے اہمیت تھی۔
اپنی ہی دھن میں ہاتھ میں کیک لیے چل رہی تھی کے کسی سے ٹکرائی اور سامنے والا انسان زیادہ طاقت ور تھا شاید کہ اُسکے کیک کی پلیٹ زمین بوس ہوئی وہ نیچے گرتے گرتے بچی ایک غصے والی نظر سامنے کھڑے شخص پر ڈالی وہ اپنی جگہ پر آرام سے کھڑا تھا اور ہاتھ میں موبائل تھا وہ اپنے موبائل میں ہی محو تھا جب اس سے ٹکرایا اُسے ایک نظر دیکھ کے منال کو معلوم ہو گیا تھا کے وہ ضرور باڈی بلڈنگ کرتا تھا اس لیے اُس سے ٹکرا کر اُسے ایسا جھٹکا لگا تھا
اُسنے معذرت خوانہ نظر ڈالی اور sorry کہتے ہوئے اُسکی کیک والی پلیٹ اٹھانے لگا
اور اٹھا کر منال کو پکڑائی منال نے خاموشی سے پکڑ لی اور آگے بڑھ گئی
اور معاذ اُسکی پُشت پر سیاہ بالوں کی لہریں بنتی دیکھتا رہا
پھر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا برہان کی طرف بڑھ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 12

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: