Ye Yaadein novel by Munazza Mirza – Episode 5

0
یہ یادیں از منزہ مرزا – قسط نمبر 5

–**–**–

معاذ برہان کے پاس آیا جو اپنے کسی دوست سے خوش گپیوں میں مصروف تھا۔
کہاں تھے معاذ؟
معاذ نے کوئی جواب نہیں دیا وہ کُچھ اور سوچ رہا تھا
تھوڑی دیر پہلے کا منظر۔۔
اُسنے راحمین کے ساتھ کھڑی منال پر نظر ڈالی۔
برہان نے بھی اُسکی نظروں کا تعاقب کیا
اوہ اچھا راحمین۔۔
بولا لاوں اُسے؟
کسے؟
معاذ نے اُسکی بات نہیں سنی تھی۔
راحمین کو اور کسے؟
نہیں اُسے کیوں بولانا۔۔
پوری پارٹی میں اُسکی نظر بے اختیاری میں منال کی طرف جاتی تھی۔ جسے سب نے نوٹ کیا تھا خاص طور پر راحمین نے۔۔
پارٹی ختم ہوئی تو راحمین منال کو لے کر کمرے میں گئی۔
برہان اور معاذ باتیں کر رہے تھے جب اُنکی نظر دونوں پر پڑی جب معاذ نے پوچھا..کہاں جا رہی ہو بیوٹیفل لیڈیز (beautiful ladies) نظریں اُسکی منال پر تھیں جبکہ منال نیچے دیکھ رہی تھی اُسے نظریں جھکائے رکھنے کی عادت تھی۔
دیکھ نہیں رہے ہو گیفٹس لے کے جا رہے ہیں۔
اب کھولے بھی نہ ہم۔۔
ایسا کب کہا میں نے۔۔
ہاں روکو راحمین
اپنا گفٹ تو لے لو۔۔
دو؟
سامنے تو بیٹھا ہے۔۔
ایسے گفٹ میں قبول نہیں کرتی۔۔
برہان جھٹ سے بولا سوچ لو راحمین۔۔
تم بک بک بند کرو اپنی۔۔ راحمین نے اُسے جھڑکا
معاذ نے ایک خوبصرت ڈبیا راحمین کو دی جو اُسنے مسکراہٹ کے ساتھ وصول کی۔
اور پھر دونوں کمرے میں چلی گئیں ۔
راحمین سب سے پہلے میرا گفٹ دیکھو گی تم منال نے فرمائش کی۔
نہیں سب سے پہلے یہ باکس کھولتے ہیں۔
کیوں میرا گفٹ کیوں نہیں؟
کیوں کے وہ تمھارا کزن ہے اُس لیے اُسے پریوریٹی (priorty) دے رہی ہو؟
کیوں کہ معاذ میرا بہت اچھا دوست ہے۔۔
تو میں نہیں ہوں؟
راحمین کا اُسکا معصوم سا چہرہ دیکھ کر دل کیا کہہ دے کے وہ صرف دوست نہیں ہے اُسکے لیے۔۔
اُسنے یہ کہتے ہوئے ڈبیا کھول دی کے اُسکے بعد تمھارا ہی نمبر ہے۔
ڈبیا سے نکلنے والی چیز نے دونوں کو محبوت کر دیا تھا
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر منال نے وہ ڈائمنڈ کا بریسلٹ باہر نکالا
It’s pretty..
ہاں بہت پیارا ہے۔۔
اُسکے بعد اُسنے منال کا گفٹ کھولا
حالانکہ منال نے اُسے بہت روکا کے نہ کھولے کیوں کہ اُسے پتہ تھا اب اُسکے گفٹ کی اہمیت نہیں رہے گی
کیوں کہ اُس نے بھی بریسلنٹ ہی گفٹ کیا تھا
بہت خوبصورت ہے ۔۔راحمین کو اُسکی چوائس واقعی پسند آئی تھی۔
رہنے دو بس ٹھیک ہے تمھاری طرح قیمتی نہیں ہے۔
وہ برسلنٹ اُسے پوری دکان میں سب سے خوصورت اور قیمتی لگا تھا مگر اب نہیں لگ رہا تھا۔
ایسا نہیں ہے مجھے بہت پسند آیا۔
اگلے دو گھنٹے وہ دونوں گفٹس کا ڈھیر کھولتی رہیں۔
اور دونوں بس ایک گفٹ پر ٹھٹھکی تھیں جس میں ڈاکٹر سعد کی تصویر تھی جسکے باہر کارڈ پر لکھا تھا..
بہنا! میں اپنی بات کا پکا ہوں۔تمھارا پیارا بھائی برہان۔۔
اُسنے جو کہا تھا کر دکھایا اُسنے راحمین کو واقعی ڈاکٹر سعد گفٹ کر دئیے تھے۔
دونوں ہنس پڑیں۔۔
راحمین تھکی ہوئی تھی سو گئی اُسے صبح ہاسپٹل بّھی جانا تھا۔۔
منال باہر لان میں آ گئی آج گھر والوں کی معمول سے زیادہ یاد آ رہی تھی ۔
وہ گھٹنوں میں سر دئیے رو رہی تھی جب ساتھ کسی وجود کے احساس پر سر اٹھایا ۔
وہ گرے شرٹ اور اوپر بلیک ویسٹ کوٹ میں اچھا لگ رہا تھا اُسے بھی اچھا لگا تھا۔
سامنے بیٹھے شخص نے اُسکی سُرخ متوترم آنکھیں دیکھیں تو اُسکے دِل کو کُچھ ہوا تھا۔
یہاں کیوں بیٹھی ہو؟
ایسے ہی بس ۔۔
رونے کی اچھی جگہ ہے ویسے۔۔برہان کے کہنے پر اُسکی طرف دیکھا۔۔
نہیں رونے کی اچھی جگہ تو بس سجدہ ہے۔۔
اُٹھو اندر چلیں۔۔
صبح لائبریری نہیں جانا کافی دنوں سے نہیں جا رہی ہو۔۔
جاؤں گی۔۔ اُسے بھی خود کو کہیں مصروف کرنا تھا۔۔
چلو اُٹھو پھر اُسنے ہاتھ آگے کیا اگلا منظر دیکھنے کی ہمت نہیں تھی معاذ کی پر دیکھتا رہا وہ برہان کو ڈھونڈھتا لان میں آیا تھا مگر اگلا منظر دیکھ کر وہیں رک گیا۔
منال اپنے سہارے پر اٹھی تھی۔۔
سہاروں کی ضرورت نہیں مجھے اور لمٹس (limits) میں رہو۔
معاذ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
Intersting girl۔۔
بڑبڑاتا ہوا کمرے کی طرف مڑ گیا۔
برہان کو اُسکی بات پر غصّہ آیا تھا۔۔
مجھے کون سا شوق ہیں تمھاری حالت دیکھ کر کہہ رہا تھا گر
ور ہی نہ جاؤ
منال خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔
صبح ناشتے پر معاذ سے ڈاکٹر سعد رات کو روکنے کی وجہ پوچھ رہے تھے
بس ایسے ہی،خالو
اصل وجہ اُسے بھی سمجھ نہیں آئی تھی اپنے رکنے کی۔
بابا اس نے راحمین کو گفٹ دینا تھا۔
ڈاکٹر سعد اور رخسانہ بیگم
معاذ کے برہان کو گھورنے پر مسکرانے لگے۔
راحمین اور منال ناشتے کے لیے آئیں۔
معاذ منال کو دیکھتا رہ گیا وہ سیمپل بھی اچھی لگتی تھی۔
راحمین سب کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بندھے بریسلٹ دیکھا رہی تھی اور پوچھ رہی تھی کہ کون سا زیادہ خوبصورت ہے۔۔ سب نے منال والے کا کہا منال خوش ہو گئی تھی۔
ویسے کس نے دئیے ہیں ؟ معاذ نے؟
ایک منال نے اور ایک معاذ نے
یہ والا منال نے دیا ہے جو آپ سب کو پسند آیا۔
منال تمھاری چوائس تو بہت اچھی ہے ۔۔ معاذ نے اُسکی تعریف کی تھی وہ بس ہلکا سا مکُسرائی اور اُسے اُسکی مسکراہٹ اچھی لگی۔
چلیں برہان؟ راحمین اُسے ڈراپ کرنے کا کہہ رہی تھی۔
آج مجھے جلدی آفس جانا ہے بابا سے کہہ دو۔۔
میں چھوڑ آتا ہوں راحمین۔۔ اور راحمین نے معاذ کی آفر فوراً قبول کر لی۔
منال بھی ساتھ اٹھی تو وہ حیران ہوا مگر خاموش رہا
منال کو لائبریری تک ڈراپ کر دینا گاڑی سے اُترتے وقت راحمین اُسے کہہ رہی تھی۔۔
آپ کہاں رہتی ہیں؟؟
معاذ کے سوال پر منال سے کوئی جواب نہیں بن پا رہا تھا۔۔
ڈاکٹر سعد کے گھر۔۔
اُسکے جواب نے معاذ کو حیران کیا مگر خاموش رہا ۔۔
اُسکا ساتھ بیٹھنا بھی اُسے کافی لگا۔
آپ اچھی لگ رہی تھیں کل۔۔
منال نے سرسری سا شکریہ ادا کیا اور گاڑی سے اتر گئی۔۔
وہ اُسے جاتا دیکھتا رہا۔۔
واپسی پر برہان اُسے لینے آیا تھا
تمہارے لیے سرپرائز ہے
منال نے حیرت سے اُسے دیکھا۔۔
یہ لو تمھارا موبائل اس میں سب کے نمبرز سیو کر دیے ہیں میں نے ڈرائیور کا بھی۔
اور معاذ کا کر دوں سیو؟ اُسنے شرارتی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
کون معاذ؟
جس نے صبح تُمہیں ڈراپ کیا اور ساری پارٹی تُمہیں دیکھتا رہا۔ وہ اس کے ساتھ مذاق کر رہا تھا
منال نے منھ پھولا لیا تھا اور باہر دیکھنے لگی
ایسے کرتی وہ اُسے پیاری لگی
پھر سر جھٹکتے سوچا کوئی پیاری ویاری نہیں ہے
میرے حق پر ڈاکہ ڈالنے والی چوڑیل ہے۔
آئسکریم لا کر دی تو منال نے دیکھا وہ اپنے لیے بھی چوکلیٹ فلور کی آئسکریم لایا تھا ۔
چاکلیٹ فلور کی دو کیوں؟
زیادہ خوش نہ ہوں ایک میری ہے تمہاری ایک ہی ہے۔۔
اب بندہ کیا دو فلور مانگتا پھرے ایک ہی لے لیا۔
منال سر ہلا کر رہ گئی۔۔
اُسنے ایک ریسٹورینٹ کے سامنے گاڑی روکی تو منال نے حیرت سے برہان کو دیکھا۔۔
یہاں کیوں آئے ہیں؟
فرینڈ سے کام ہے۔۔
اوہ اچھا! کب تک فری ہوں گے؟
جب وہ آ جائے گا۔۔
برہان اب کھانا آرڈر کر رہا تھا۔۔
کھانا کون کھائے گا ؟
چوڑیل۔۔
کیا؟؟
کُچھ نہیں۔۔
منال کو سمجھ آ گئی تھی۔۔ منھ بسور کر ره گئی۔
کھانا کھانے کے بعد برہان کے ATM card نہ ہونے پر منال حیران رہ گئی۔۔
تمھارے پاس پیسے نہیں ہیں منال؟
نہیں۔۔
کنگلی۔۔
منال کو یہ لفظ بُرا لگا تھا
اب کیا کریں بولتا ہوں کسی کو۔۔
منال کے پاس صرف تین ہزار تھے جو اُسنے نہیں بتائے تھے اس ڈر سے کے کم پڑھ گے تو اور شرمندگی ہو گی برہان کے سامنے دوسری وجہ وہ سوچ رہی تھی کہ یہ اتنا بڑا ھوٹل ہے بہت پیسے لیتے ہونگے-
وہ صرف اُسے ڈرا رہا تھا اور وہ ڈر بھی گئی تھی اُسے اُسکی ایسی شکل دیکھ کر مزا آ رہا تھا
اُسنے بل پے (pay) کیا تو منال حیران ہوئی کے یہ کیا؟
پھر منھ پھولا کر برہان کے ساتھ چل پڑی۔
اس بار وہ اُسکی معصوم شکل نظر انداز نہیں کر سکا
اور قہقہ لگا کر ہنس پڑا ۔۔
اچھی لگتی ہو اس طرح۔۔۔
منال نے جواب دینا پسند نہیں کیا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Hijab Novel By Amina Khan – Episode 20

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: