Ye Yaadein novel by Munazza Mirza – Episode 6

0
یہ یادیں از منزہ مرزا – قسط نمبر 6

–**–**–

سارے راستے دونوں خاموش رہے کیوں کہ منال کا موڈ کافی خراب لگ رہا تھا۔
گھر پہنچے تو لاؤنچ میں سب بیٹھے باتیں کر رہے تھے معاذ بھی بیٹھا تھا۔
السلام وعلیکم!
منال کے سلام کہنے پر سب متوجہ ہوئے۔۔
آو بیٹھو ڈاکٹر سعد نے اُسے بھی بیٹھنے کا کہا مگر وہ اوپر روم میں چلی گئی۔
اسے کیا ہوا ہے برہان۔۔ ڈاکٹر سعد کے پوچھنے پر اُسنے شانے اچکا دیے۔۔
تم نے راستے میں ضرور کُچھ کہا ہو گا۔۔
میں نے کیا کہنا اُس چڑیل کو ہے ہی سڑیل سی ذرا سا مذاق برداشت نہیں ہوتا اس سے۔۔
وہ نہ بتانے کے چکروں میں بھی اپنے کرتوت بتا گیا تھا۔۔
سب حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے پھر برہان کے جاتے اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے۔
اب منال ٹھیک تھی سر میں درد بھی نہ ہونے کے برابر ہوتا تھا اور باتیں بھی اُسے یاد رہتی تھیں۔
وہ اس گھر میں ایڈجیسٹ کر رہی تھی مگر یہ اُسکا گھر نہیں تھا۔
اُسے یہاں آئے ہوئے دو ماہ سے زیادہ هو رہے تھے سب اُس سے مانوس ہو گے تھے ۔
آنٹی رخسانہ کے ساتھ وہ کچن میں کام کرواتی تھی اُنکے ساتھ ڈرامے دیکھتی تھی ساتھ میں دونوں گوسپس کرتی تھیں۔ راحمین اپنی پڑھائی کی وجہ سے اپنی امی کو وقت نہیں دے پاتی تھی۔
رخسانہ بیگم کو اتنی اچھی کمپنی کبھی نہیں ملی تھی جتنی منال دے رہی تھی۔
راحمین رات گئے اُس سے باتیں کرتی ہاسپٹل کے قصے سناتی جو منال بہت شوق سے سنتی تھی۔ راحمین کی ایک بہن کے ہونے کی خواہش پوری ہو گئی تھی۔
منال ڈاکٹر سعد کی تو جان کا ٹکڑا بن گئی تھی اُنہیں وہ اپنی تیسری اولاد سمجھتے تھے۔
اور برہان صاحب کو گھر میں کوئی ایسا مل گیا تھا جسے وہ تنگ کرتا تھا اور وہ ہو بھی جاتی تھی اُسے اب اُسکا رہنا بُرا نہیں لگتا تھا ۔ اب وہ اُسے غصے میں آلو کہتی تھی تو وہ بھی آگے سے پانچ،چھ القابات سے نوازتا تھا جن میں ڈھیٹ اُسے سب سے پسند تھا۔
ڈاکٹر سعد کا دِل کرتا تھا وہ اُسے کبھی نہ بھجیں مگر یہ ممکن نہیں تھا۔۔
منال کو معاذ کا ہر وقت اُسکے آگے پیچھے ہونا بُرا لگتا تھا ہاں اُسکی یہ بات اُسے پسند تھی جب برہان اُسے تنگ کرتا وہ اُسے اور باتوں میں لگا دیتا اور منال کی جان چھوٹ جاتی تھی۔
منال لان میں بیٹھی تھی جب وہ لان میں آیا۔۔
کیا کر رہی ہو منال؟؟
منال نے معاذ کی آواز پر سر اٹھایا۔۔
کُچھ نہیں۔۔
وہ اُسکے ساتھ جھولے پر بیٹھ گیا اور اُسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا اُسنے نظریں جھکا لیں۔۔
منال تم بہت اچھی ہو اور پیاری بھی۔۔
منال اٹھنے لگی اُسنے دوبارہ بیٹھا دیا ابھی میری بات ختم نہیں ہوئی۔۔
مزید کیا کہنا ہے آپ نے معاذ صاحب۔۔
برہان کی آواز پر دونوں نے چونک کر اُسے دیکھا اُسکے ساتھ راحمین بھی کھڑی تھی۔۔
منال نے پہلی بار راحمین کی آنکھوں میں کرب دیکھا تھا۔۔
منال تیزی سے اپنے رُوم میں چلی گئی۔۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے وہ اچھی ہے تو میں نے تعریف کر دی تو کیا ہوا۔۔
تُم لڑکیوں کی تعریف کب سے کرنے لگے تُم تو کہتے تھے ہر لڑکی کی تعریف کرنے والے مرد تمہیں بہت بُرے لگتے ہیں ۔۔راحمین کی بات نے ایک بار اُسے خاموش کروا دیا تھا۔۔
تو میں نے کب ہر لڑکی کی تعریف کی ہے۔۔
میری بھی تو کرتے تھے۔۔
ہاں تو منال بھی تمھاری طرح اچھی ہے
اُس کی کر دی تو کیا ہوا ۔۔ایسے نہیں گھورتے مہمانوں کو۔۔
آہا! مہمان کب سے ہوئے تُم؟؟ ساتھ ہی برہان نے زور دار مُکا اُسکی کمر میں جڑا۔۔
اور معاذ کراه کر رہ گیا۔۔
راحمین کے دماغ سے یہ بات نکل نہیں رہی تھی مگر وہ منال کے سامنے ظاہر نہیں کر تھی تھی۔۔
وہ معاذ کو پسند کرتی تھی اُسنے معاذ کو کبھی اُسکے علاوہ کسی لڑکی کی تعریف کرتے نہیں سنا تھا۔۔
اُسے خوش فہمی تھی کہ معاذ اُسے پسند کرتا ہے حالانکہ معاذ نے کبھی ایسی بات نہیں کی تھی۔۔
مگر اُسنے معاذ کو کبھی اُس کے علاوہ کسی لڑکی میں انٹریسٹ لیتے نہیں دیکھا تھا اب اُسکا منال کی طرف رجحان اُس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔
منال سے بات کرتے وقت اُسکا انداز روکھا سا ہوتا تھا اب وہ پہلے کی طرح رات گئے منال کو ہاسپٹل کے قصے بھی نہیں سناتی تھی۔۔ منال یہ سب محسوس کر رہی تھی اور وجہ بھی اُسے سمجھ آ رھی تھی۔۔
اُدھر معاذ کو زندگی میں پہلی بار کوئی لڑکی اچھی لگی تھی وہ منال کو اُس دِن بتا دیتا اور اعتماد میں لے لیتا اگر برہان اور راحمین نہ ٹپکتے۔۔
اُسنے اپنے پرنٹس سے منال کے بارے میں بات کی اُسکی امی پہلے ہی منال کو دیکھ چُکی تھیں اور منال کسی کو بھی پسند آ سکتی تھی اُنہیں اُس میں کوئی برائی نظر نہیں آئی جسکی وجہ سے وہ منال کے بارے میں انکار کرتے۔۔
اُسکی امی نے بس اتنا کہا کہ اگر راحمین کے بارے میں سوچو وہ بھی بہت اچھی ہے تُم دونوں کی انڈرسٹیننگ بھی بہت اچھی ہے ۔۔اور گھر کی بات گھر میں رہ جائے گی۔۔
امی جان یہ کوئی مذاق نہیں ہے کسی اور کے بارے میں سوچ لوں مجھے صرف منال پسند ہے اور صرف اُسی سے شادی کروں گا۔۔
ٹھیک ہے ہم چلے جائیں گے لیکن اُسکے گھر، فیملی کا تو پتہ نہیں ابھی
مجھے فرق نہیں پڑتا اُسے دیکھ کر آپکو کبھی لگا کے بری فیملی سے ہے ۔۔۔ نہیں نہ۔۔ایک حادثے کی سزا دی جائے اُسے؟
اب فرذانہ بیگم کے پاس کوئی جواب نہیں رہا تھا۔۔
معاذ کی ضد اُنہوں نے پہلی بار دیکھی تھی ورنہ وہ بہت فرمابردار تھا اپنے والدین کا کسی معاملے میں بھی اُسنے پریشان نہیں کیا تھا۔۔
اُنہیں اندازہ ہو گیا تھا منال میں ہی اُسکی خوشی ہے اور اُسکی اتنی بڑی خوشی وہ اپنی ایک لوتی اولاد سے چھین نہیں سکتے۔۔
اب اُنہیں اپنی بہن اور بہنوئی کو کسی بھی طرح قائل کرنا تھا وہ اپنے بیٹے کو دکھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔
معاذ آج ضرورت سے زیادہ خوش تھا۔۔
جب وہ ڈاکٹر سعد کے گھر آیا تو سب نے یہ بات محسوس کی تھی۔
کیا بات ہے معاذ بڑی کھی کھی کر رہا ہے ۔۔برہان وجہ پوچھنا چاہ رہا تھا۔۔
مگر معاذ اس بات پر بھی کھی کھی کرنے لگا۔
عجوبہ ہی ہے تو بھی۔۔
منال کہاں ہے؟۔۔معاذ نے بڑی ادا سے پوچھا تھا برہان کا اُسکی اس دیدہ دلیری پر حیران رہ گیا۔۔
اندر ہو گی میں دیکھتا ہوں۔۔
او کدھر جا رہا ہے؟ کیا کام ہے اُس سے؟
ویسے بھی لائبریری گئی ہے۔۔
سنڈے کو؟؟
بکس واپس کرنی تھیں اُسے لینے جاتا ہوں تھوڑی دیر تک۔۔
میں لے آتا ہوں اور تیزی سے باہر نکل گیا۔۔
برہان کو کُچھ ٹھٹھکا تھا۔۔
آپ کیوں لینے آئے ہیں؟؟
میرا دِل کیا اور آ گیا۔۔
منال نے اُسکے چہرے پر گہری مُسکراہٹ دیکھ لی تھی۔
اُسکے دِل کی بات پر منال کیا کہتی خاموشی سے بیٹھ گئی۔
منال؟
جی۔۔
کُچھ بتانا ہے تمہیں۔۔
بتائیں ایسی کون سی بات جو مجھے بتانا ضروری ہے۔
اُدھر معاذ کے پرنٹس ڈاکٹر سعد کے گھر پہنچ گئے تھے۔
رخسانہ بیگم اُنہیں دیکھ کر حیران ہوئی تھیں۔
ارے باجی آپ کیسے آج؟
معاذ کے کہنے پر آئے ہیں اُنکے چہرے پر گہری مُسکراہٹ تھی۔
رخسانہ بیگم ٹھٹھکی تھیں۔۔
منال کہاں ہے؟
اُسے معاذ لائبریری سے لینے گیا ہے۔۔
برہان کال کرو منال کو۔۔
باجی آپ سے اپنے بیٹے کی خوشی مانگنے آئی ہوں۔۔
کیا مطلب؟
آپ لوگوں سے منال مانگنے آئے ہیں۔۔
اور سب کے چہروں پر حیرت در آئی۔۔
برہان کی کال پک کی اُسنے۔۔
منال جلدی گھر آو اُسکی آواز سے صاف غصہ جھلک رہا تھا۔۔
آ رہی ہوں ں۔۔
معاذ نے اُس سے موبائل جھپٹ لیا تھا۔۔
گاڑی تیز چلائیں پلیز گھر بولا رہے ہیں۔۔
نہیں میرا تو دِل کر رہا ہے وقت تھم جائے۔۔
منال کو اُسکی نظروں سے اُلجھن ہوئی۔۔
منال تُم مجھے بہت پسند ہو۔۔
میں نے اپنے پرنٹس سے بات کی ہے ہو سکتا ہے وہ اب تک گھر پہنچ گئے ہونگے۔
وہ بت بنے بیٹھی رہی۔۔
اور منال کو برہان کے غصّے کی سمجھ آ گئی تھی۔۔ اُسے آگے اپنے لیے مُشکلات صاف نظر آ رہی تھیں

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 19

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: