Ye Yaadein novel by Munazza Mirza – Last Episode 7

0
یہ یادیں از منزہ مرزا – آخری قسط نمبر 7

–**–**–

منال کُچھ بولو۔۔
معاذ منال کو بولاتا رہا مگر وہ نہیں بولی۔۔
منال میں بُرا لڑکا نہیں ہوں۔۔
جانتی ہوں۔۔
پھر کیا مسئلہ ہے۔
میری فیملی۔۔
مُجھے مسئلہ نہیں ہے میرے گھر والوں کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے
لیکن مجھے اور میرے گھر والوں کو بہت سے مسائل ہونگے۔۔
میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔۔
راحمین بھی آپکو پسند کرتی ہے۔۔
ایسا نہیں ہے۔۔
ایسا ہے اور آپکو اندازہ ہو جائے گا۔
آپ بس میری زِندگی مزید تکلیف دہ بنانا چاہتے ہیں۔
تمھاری تکلیفیں ختم کرنا چاہتا ہوں۔۔
پھر دور رہیں مجھ سے۔۔
میرے بس میں نہیں رہا یہ۔۔
تُم واحد لڑکی ہو جو مُجھے بہت عزیز ہے میں سب کو سمجھا لوں گا بس تُم مان جاؤ۔۔
میں کوئی بھی فیصلہ خود نہیں کروں گی میرے گھر والے کریں گے اور اُنکی طرف اپنے حوالے سے مجھے کسی اچھے رسپانس کی اُمید بھی آپکو بھی کسی قسم کی اُمید نہیں دلانا چاہتی۔۔
میں ہمیشہ تمھارا ساتھ دوں گا۔۔
مُجھے صرف اللہ تعالیٰ کا ساتھ چاہیے وہ جو کریں گے میرے لیے بہتر ہو گا۔
وہ جانتے ہیں میں اپنے گھر والوں اور اپنے محافظوں کے ساتھ مخلص ہوں۔
معاذ صرف مسکرایا اُسکی مسکراہٹ میں چھپی تکلیف صاف نمایاں تھی۔
پہلی محبت اور اُس میں پہلی بار ہی انکار تکلیف دہ تھا۔
منال،کیا میں کوشش جاری نہ رکھوں اپنی؟
آپ بہتر جانتے ہیں کہہ کر وہ اندر چلی گئی۔
السلام وعلیکم!
اور اُسکے آتے ہی معاذ کی امی اُسکے صدقے واری جانے لگیں۔
منال کیا تمہیں پتہ ہے۔۔
یہ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟
جی بابا!
کیا فیصلہ ہے تمھارا؟
راحمین مزید برداشت نہیں کر سکی اور روم میں چلی گئی۔
جو آپ اور میری فیملی فیصلہ کرے گی۔
ہنہ،،مطلب تمھارا گھر جانے کا وقت بھی آ ہی گیا۔۔
ڈاکٹر سعد کی آواز میں تکلیف تھی۔
ساتھ بیٹھے برہان کے رنگ اُڑ گے تھے اس بات سے۔۔
منال نے سر جھکا لیا۔۔
وہ بھی راحمین اور آنٹی رخسانہ کے رویوں سے بچنا چاہتی تھی جانا تو تھا پھر اب کیوں نہیں۔۔
وہ لوگ خاموشی سے چلے گئے۔۔
معاذ تو اپنے ساتھ بلا کی خاموشی لے کر گیا تھا۔۔
وہ زیادہ تر اپنے کمرے میں رہتا تھا اُسے اب فلحال صبر کرنا تھا اور وہ کر رہا تھا دوبارہ کبھی منال کے آس پاس تو کیا ڈاکٹر سعد کے گھر بھی نہیں گیا تھا۔
اُسکے پرنٹس سے اُسکی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔
بلکہ کسی سے بھی نہیں دیکھی جا رہی تھی منال سے بھی نہیں۔۔
دونوں بہنوں نے قریب گھر لیے تھے تا کہ آنے جانے میں مُشکل نہ ہو اور اس بات کا فائدہ اُنکے بچے خوب اٹھاتے تھے اور اپنے گھر سے زیادہ وقت ساتھ والے گھر گزرتے تھا۔
منال بالکونی میں کھڑی تھی جب اُسکی نظر دوسرے گھر کے لان میں بیٹھے معاذ پر پڑی تھی
وہ خاموش سا کسی سوچ میں گُم تھا۔
اُسے گلٹ محسوس ہوا تھا اُسے اتنا نا اُمید نہیں کرنا چاہیے تھا۔
نا اُمید تو اللہ بھی اپنے بندے کو نہیں کرتے۔۔
وہ نیچے آئی اور اور چند منٹوں میں ساتھ والے گھر کے لان میں موجود تھی
وہاں معاذ اب آسمان کو دیکھ رہا تھا ۔۔
کیسے ہو معاذ؟
معاذ کو اُسکی موجودگی کا یقین نہیں آیا تھا۔۔
کیا ہوا؟
تُم..م.. کیسے یہاں؟
تم کہتے تھے ہمیشہ میرا ساتھ دو گے تو ایک کام تھا تُم سے؟
اُسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی یا پھر شاید اُمید۔۔
بتاؤ کیا کام ہے؟
پہلے جیسے ہو جاؤ ویسے جس سے ٹکرا کر ہل کر رہ گئی تھی میں۔۔
دیکھو تم جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور لگ رہے ہو۔
اُس معاذ کو تم نے ٹھکرایا نہیں تھا۔
میں نے تُمہیں ٹھکرایا تو نہیں۔۔
اپنایا بھی تو نہیں۔۔
تو وہ ٹھیک سوچ رہی تھی وہ اُمید اور نا اُمیدی کے درمیان لٹک رہا تھا۔
وہ بھی تو اسی طرح اتنے عرصے سے اُمید اور نا اُمیدی کے درمیان لٹک رہی تھی۔ وہ یہ اذیت جانتی تھی۔
کہاں جا رہی ہو؟
اِنتظار کروں گی تمھارے عمل کرنے کا۔۔
کروں گا پر تھوڑی دیر بیٹھ جاؤ۔۔
نہیں آنٹی اور راحمین کو کیا بتاؤں گی۔
اللہ ہم دونوں کو اس اذیت سے نجات دیں۔
ہم اکیلے اذیت میں نہیں ہیں ہم سے وابستہ باقی لوگ بھی ہماری وجہ سے اذیت میں ہیں۔
اور معاذ نے پہلی بار سوچا اُس نے اور کن کن کو پریشان کر رکھا ہے۔۔
معاذ میں کل اپنے گھر جا رہی ہوں پتہ نہیں کبھی واپس آؤں یا نہ آؤں تُم دوسروں کو تکلیف نا پہنچاؤ۔
اگر میں تمھاری قسمت میں ہوئی تو ضرور مل جاؤں گی۔
کتنے بجے؟
صبح ٹائم ہی۔۔
مطلب آخری بار ملنے آئی ہو جانے سے پہلے۔۔
ہاں۔۔
اِنتظار کروں یا نہ کروں؟
تُم بہتر جانتے ہو۔۔
رات کو اُسے نیند نہیں آ رہی تھی
اُسے کیا کسی کو بھی نہیں آ رہی تھی ۔
راحمین اور رخسانہ آنٹی اُس کے ساتھ ویسے تو کھنچی کھنچی رہتی تھیں مگر وہ جانتی تھیں کہ منال کا قصور نہیں اس میں۔
وہ منال سے بہت مانوس تھیں اُسکا جانا اُن کے لیے بھی تکلیف دہ تھا۔
ڈاکٹر سعد منال کے پاس آئے تھے اور معافی مانگی تھی کہ اُسے یہاں کوئی تکلیف ہوئی تو معاف کر دے وہ اُنہیں ساری زندگی ویسے ہی عزیز رہے گی۔
منال لان میں بیٹھی رہی کمرے میں اُسکا دم گھٹ رہا تھا اب وہ راحمین کے ساتھ نہیں رہتی تھی اس دِن راحمین نے اُسے کمرے سے نکال دیا تھا۔۔
مگر اُسے کسی سے کوئی شکایت نہیں تھی اُسے وہ سب بہت عزیز تھے۔
منال کمرے میں جانے لگی تو اُسی مردانہ آواز پر چونکی جس کی آواز پر پہلی بار چونکی تھی
لیکن اس بار مسکرا کر مڑی تھی۔
بولو آلو۔۔
ڈھیٹ کہیں کی میں تمہیں بہت مس (miss) کروں گا۔
میں بھی۔۔
کرنا بھی چاہیے۔۔
جاؤں میں؟
جا تو رہی ہو۔۔
اللہ حافظ
صبح اُسے گھر جانا تھا اور وہاں ایک طوفان اُس کا انتظار کر رہا تھا۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Chand Mera Humsafar Novel By Hina Khan – Episode 5

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: