Yeh Junoon e Manzil e Ishq Novel By Farhat Nishat Mustafa – Episode 14

0
یہ جنون منزل عشق ہے از فرحت نشاط مصطفے – قسط نمبر 14

–**–**–

بنین شاہ حیرت سے ایلاف کی شکل دیکھ رہی تھی جو اب نہایت اطمینان سے اس کے پاس بیٹھ کے عورتوں کے سوالوں کے جواب دے رہی تھی۔
اکثر اس سے اذلان شاہ کی طبیعت کا پوچھ رہی تھیں۔
“تمہیں دیکھ کے لگتا نہیں تھا ایلاف، تم ان حالات کا مقابلہ اتنی دلیری سے کرو گی۔خالہ بی تک ہار مان گئی تھیں۔یہ گدی تو ہمارے ہاتھ سے گئی تھی ایلاف،تم نے تو بساط ہی الٹ دی۔” بنین نے اپنی حیرت ظاہر کردی تھی۔
میں ایک جل پری ہوں
میں جانتی ہوں کہ
میں سمندر کی لہروں پہ رقص کرتے
کتنی حسین دکھتی ہوں
مگر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ
اسی سمندر کی تہہ میں
میں ہڈیاں اور گوشت چیر پھاڑ کے کھا سکتی ہوں
ایلاف نے ہلکی آواز میں یہ نظم سنائی تھی۔
بنین شاہ اس کی شکل دیکھ کے رہ گئی تھی۔
اتنی نازک سی،ایک لڑکی چھوٹی سی!
جس کا حوصلہ چٹان جیسا تھا کیونکہ وہ کوہ زادی تھی۔
اس کی رگوں میں شجاعت کا،دلیری کا لہو بہتا تھا۔
یہی اس کا اصل تھا،محبت اس کی طاقت تھی۔
“ایلاف! اتنی نازک سی ہو تم۔تمہیں ڈر نہیں لگتا۔تمہاری جگہ میں ہوتی تو اب تک پاگل ہوجاتی۔بہت محبت ہے تمہیں بھایا سے؟” بنین نے اس سے پوچھا تھا۔
“مجھے ان سے محبت نہیں،عشق ہے بنین شاہ اور یہ میرا حق ہی نہیں،فرض بھی ہے کہ مجھے ان سے عشق ہو۔”ایلاف نے اعتراف کیا۔
“سیریسلی!”بنین نے آنکھیں پھاڑ کے اسے دیکھا۔ایلاف نے کتنے مان سے کہا تھا یہ سب۔
“مجھے یہ حق خدا اور اس کے رسول نے دیا ہے۔وہ محبت جس کی شروعات ایک پاکیزہ رشتے کی بنیاد سے شروع ہو عشق کی بلندیوں تک ضرور پہنچتی ہے۔مجھے اقرار ہے بنین شاہ کہ مجھے ان سے عشق ہے،دیوانگی کی حد تک،جنون کی انتہا تک۔” ایلاف کا لہجہ محبتوں کی شدتوں سے چور تھا۔
بنین شاہ مسمرائز سی ہوگئی تھی۔
” میں اب اپنے محرم سے بھی محبت نہ کروں تو پھر میرا اس دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ محبت ہی وجہ کائنات ہے۔خدا نے بھی تو اپنے محبوب،اپنے حبیب کیلئے یہ دنیا اسی لئے تخلیق کی تھی۔محبت ہی ظلمت سے کاڑھا ہوا نور ہے۔محبت ہی میرا دستور ہے۔” ایلاف کے اقرار پہ کچھ عورتوں نے منہ میں انگلی دبا لی تھی۔
کچھ بزرگ عورتوں سر ہلا رہی تھیں۔
بھلا یہ اپنے شوہر سے ہی محبت کرے گی نا۔
وہ سب کہہ رہی تھیں۔
______________________________
ایلاف کا جاگیر میں قیام شیطان کی آنت کی طرح طویل ہوتا جا رہا تھا۔
حالانکہ وہ اب واپس لوٹنا چاہتی تھی
مگر یہاں بہت سے مسئلے تھے جن کیلئے اس کی ضرورت تھی۔ سفیان اس کے ساتھ ہی تھا۔
” بی بی یہ داد شاہ نے شہر سے بھیجا ہے آپ کیلئے۔ ” سجاول خان نے اسے ایک لفافہ دیتے ہوئے کہا۔
” کیا ہوسکتا ہے اس میں؟” سوچتے ہوئے ایلاف نے لفافہ کھولا۔
” اوہ!’ ایلاف کے لبوں سے نکلا۔
وہ ایڈمیشن فارم تھا اس کا یونی کیلئے،اپنے چکروں میں ایلاف کے دماغ سے نکل ہی چکا تھا ایڈمیشن۔
” تھینک یو!داد شاہ۔ ” ایلاف نے دل میں ہی اس کا شکریہ ادا کیا تھا۔
فارم فل کراکے اس نے واپس بھیج دیا تھا۔آگے داد شاہ نے جمع کرانا تھا۔ایلاف نے ابھی رکنا تھا،اذلان شاہ نے ایک اسپتال جو بنیادی طور پہ ایک مینٹرینٹی ہوم تھا۔اسکی تعمیرشروع کرارکھی تھی گورنمنٹ کی شراکت سےاور اب فنڈز کی کمی کے باعث تعمیراتی کام رکا ہوا تھا۔
ایلاف خود متعلقہ آفس آگئی تھی اور سارا مسئلہ اتھارٹیز کے سامنے رکھا تھا۔
وہ لوگ ایک دھان پان سی لڑکی کو دیکھ کے اس کی ساری بات ہوا میں اڑا رہے تھے۔
ایلاف کا دماغ تو بہت گھما لیکن جب وہ بولی تو اس کا لہجہ ٹھنڈا ٹھار بہتے پانیوں سا پرسکون تھا۔
” لگتا ہے آپ کی گورنمنٹ نے اگلا الیکشن نہیں لڑنا یا پھر انہیں شاہ پور اسٹیٹ سے ووٹ نہیں چاہئیں۔میرے خیال سے تو اس بار ہمارے لوگوں کے ووٹ کسی اور پارٹی کیلئے ہونے چاہئیں،سجاول خان کہہ دو سب سے۔”ایلاف سرد مہری سے بولی تھی
“اوہ!بی بی فنڈز میں دیر سویر تو ہو ہی جاتی ہے۔حکومت اگر کچھ دے گی تو تب ہم آپ کو دیں گے نا۔” افسر سیدھا ہوتے ہوئے بولا تھا۔
” ہم نے آپ سے نہیں کہا تھاکہ ہماری اسٹیٹ میں پراجیکٹ شروع کریں۔ہم میں اتنا دم ہے کہ اپنے لوگوں کیلئے کام کرسکیں۔اگر ایسا ہے تو ہم ہائی اتھارٹیز سے بات کرتے ہیں،کمشنر تو ہمارے گھر میں بھی ہے۔” ایلاف اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولی تھی۔
سبز برف جیسی سرد آنکھیں!
افسر کے اب صحیح معنوں میں چھکے چھوٹے تھے۔
” نہیں!میڈم اس کی ضرورت نہیں ہے،کل ہی فنڈ جاری کراتے ہیں شاہ پور کیلئے۔ “
” کل تک کا ٹائم ہے آپ کے پاس،آپ لوگ پھر آجاتے ہیں آخر میں پریس میں تصویر دینے کیلئے۔” ایلاف اٹھتے ہوئے بولی تھی۔
افسر لب بھینچ کے رہ گیا تھا۔بہت بڑی غلطی کی تھی اس نے اس لڑکی کو ہلکا لے کر۔
______________________________
“خدایا پورے تین ماہ گزر چکے ہیں اور ایک مہینے سے میں جاگیر میں ہوں۔”
ایلاف کو آج کچھ فرصت ملی تھی تو اسے وقت کا احساس ہوا تھا۔سارا وقت اس کا اتنا مصروف تھا کہ اسے ایک لمحے کو بھی فرصت نہیں ملتی تھی۔
یونی بھی وہ چار،پانچ دفعہ جاگیر سے ہی گئی تھی۔لینگویج سینٹر سے اس کا کورس مکمل ہوچکا تھا۔جاگیر کا ماحول اب کافی حد تک نارمل ہوچکا تھا۔
عورتیں حیرت سے اسے دیکھ’دیکھ کے حیران ہو ہو کے دیکھتی تھیں۔
شاہ بی بی نے اس کا مان بڑھایا تھا۔
“ہم مان گئے آپ کو ایلاف،آپ نے ہماری دستار بچا لی۔یہ خاندان اور اس کی نسلیں آپ کی احسان مند رہیں گی۔ “
” ہمیں احسان نہیں!آپ کا مان اور اعتبار چاہئے۔” ایلاف ان کے کندھے پہ سر ٹکاتے ہوئے لاڈ سے بولی۔
” اذلان نے لگتا ہے ان چار مہینوں میں تمہیں بہت خوش رکھا تھا۔” شاہ بی بی اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں۔
ایلاف نے اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں۔
” سلمان کون ہے؟ایلاف بی بی!” ایلاف کے کانوں میں شک میں ڈوبی ہوئی آواز گونجی تھی۔
اذیت سے اس نے آنکھیں میچ لیں تھیں۔
“تجھے کیا خبر میرے حال کی
میرے درد میرے ملال کی “
” ایلاف نے جس طرح اذلان بھایا کا مان رکھا ہے۔ان کیلئے تو یہ سیسہ پلائی دیوار بن گئی ہے۔آخر انہوں نے بھی تو کچھ اسے دیا ہوگا۔” بنین ساس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے بولی۔
“ہاں اس شخص نے مجھے صرف مان دیا تھا۔”ایلاف کو اذلان کا سہارا دینا یاد آیا۔
برستی بارش میں اذلان کا اسے حصار دینا یاد آیا تھا۔اپنے قیمتی وقت میں سے اسے پڑھانا یاد آیا تھا۔
ایلاف نے اس کی ان تمام مہربانیوں کے بدلے۔اس کی ایک خطا معاف کردی تھی۔پہلے ہی وہ قدرت کی طرف سے سزا بھگت رہا تھا۔
” یہ میرے خیال کا سلسلہ کسی یاد سے ہے ملا ہوا
اسے دیکھنا اسے سوچنا میری زندگی کا ہے فیصلہ
یہ اسی کی پلکوں کے سائے ہیں میری روح میں جو اتر گئے
یہ جنون منزلِ عشق ہے
جو چلے تو جان سے گزر گئے
______________________________
” ہاں داد شاہ بتاؤ!کہاں ہے ہمارا مہمان؟” ایلاف آج ایک ماہ پندرہ دن بعد شہر لوٹی تھی۔
“ادھر! ” داد شاہ نے اشارہ سے بتایا۔
“تم!تم نے مجھے اس طرح کیوں بلایا ہے؟” سلمان بھپر کے بولا تھا۔
” بہت سے حساب کتاب کرنے ہیں۔کس بنیاد پہ تم نے ہمارے شوہر سے کہا کہ ہم ان سے خوش نہیں۔” ایلاف نے اس سے پوچھا تھا۔
” میں نے تمہاری باتیں سنی تھیں،غلط تو نہیں کہا تھا۔” سلمان نے پریشانی سے کہا۔
یہ تو الٹی آنتیں گلےپڑ گئیں تھیں یہاں تو۔
” ادھوری بات سنی تم نے پوری سنتے تو جان جاتےکہ ہم اپنے شوہر سے خوش ہیں۔ایک بات یاد رکھنا ہمیشہ کیلئے۔ہم اپنے شوہر کے وفادار ہیں اور رہیں گے۔دوبارہ آ کے ہماری راہ کھوٹی نہیں کرنا۔” ایلاف اسے وارننگ دیتے ہوئے بولی تھی
اور چلی گئی تھی۔
اس سے زیادہ وہ اس شخص کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی۔
” دوبارہ اس راہ میں نہیں آنا ورنہ تمہاری قبر کا بھی پتہ نہیں چلے گا،آج تو جا رہے ہو واپس۔”
ایلاف نے آج اپنی زندگی کی ایک اور حماقت کی تھی جس کا نتیجہ اسے بھگتنا تھا۔
” اسپتال چلو اب۔” وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی۔
” جی!” داد شاہ کے چہرے پہ دبی دبی مسکان تھیاور اسپتال پہنچ کے اس مسکان کا راز کھلا تھا۔
ایلاف کا دماغ گھوم گیا تھا۔
میرے ساتھ ہی ہمیشہ کیوں ہوتا ہے یہ؟
______________________________
جس کمرے میں وہ اذلان شاہ کے
بے حس و حرکت وجود کو چھوڑ کے گئی تھی۔
جہاں ہر لمحہ موت کی سرد مہری محسوس ہوتی تھی۔اب وہاں کا منظر ہی بدل چکا تھا۔
اب وہاں زندگی سے بھر پور وجود سانس لے رہا تھا،جو اس کی آہٹیں سن رہا تھا۔
اس کی دھڑکنیں گن رہا تھا۔اب یہاں زندگی کا نرم گرم سا احساس محسوس ہوتا تھا۔
“کانگریجولیشن!مسز اذلان’پیر اذلان شاہ کو ہوش آچکا ہے۔پندرہ دن ہوچکے ہیں۔ ہی از فائن ناؤ۔” ڈاکٹر انجم اسے مبارک باد دے رہے تھے۔
ایلاف نے اتنی زور سے دانت کچکچائے تھے کہ اذلان شاہ نے اس کی صاف آواز سنی تھی۔
” تھینکس ڈاکٹر’فار یور سروس۔” ایلاف نے کرٹسی نبھائی تھی۔
“یہ ہماری سروس سے زیادہ آپ کے کامل یقین کا کمال ہے۔معجزہ! واقعی آپ نے سچ کہا تھا۔” ڈاکٹر انجم متاثر ہوئے تھے ایلاف کے نظریے سے۔
ایلاف نے سر ہلا دیا تھا۔
” داد شاہ تم جاؤ۔ذرا ہم پیر صاحب کی خیریت اچھے سے پوچھ لیں۔ڈیڑھ ماہ ہوگیا ہے،بات ہی نہیں ہوئی۔” ایلاف نے ڈاکٹر کے جانے کے بعد اسے بھی مہذبانہ انداز میں دفعان ہونے کو کہا تھا۔
آخر کو ٹھہرا نا اپنے پیر سائیں کا وفادار،پندرہ دن سے وہ ہوش میں تھااور کسے نے اسے خبر ہی نہ کی تھی۔
“آگئے آپ خیر سے ہوش میں،کیا جاتا تھا آپ کااگر مجھے اطلاع کرا دیتے مگر نہیں آپ کو تو مزہ آتا ہے نا تڑپانے میں،اتنی اذیت کے بعد بھی آپ کو رحم نہیں آیا۔ ” ایلاف کی عدالت لگ چکی تھی۔
اذلان بیڈ سے اتر کے اس کے پاس آ کے کھڑا ہوگیا تھا۔
وہ کچھ کمزور ہوگیا تھا۔چہرے پہ ابھی بھی زردی کھنڈی ہوئی تھی مگر لبوں پہ وہی سحر انگیز مسکراہٹ۔
” ہم شرمندہ تھے ایلاف۔ہم نے ایک پاکباز لڑکی پہ تہمت لگائی تھی۔قدرت نے ہمیں اسی کی سزا دی تھی ایلاف۔”اذلان نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا تھا۔
یہ وہ لڑکی تھی جسے اگر کبھی اس نے مان دیا تھا تو کسر اس نے بھی نہیں چھوڑی تھی۔
اگر وہ اسکا کفیل تھا تو وہ اس کی نگہبان بن گئی تھی۔ اس کی گدی کی محافظ بن گئی تھی۔
وہ ایک لڑکی چھوٹی سی جس کہ بارے میں اذلان سوچتا تھا کہ وہ رونے دوھونے میں ہی مہارت رکھتی ہے۔
اس نے ہی اس کگ خاندان کی بنیادیں ہلنے سے بچائی تھیں۔اس کی ذمہ داریاں نبھائی تھیں،اس کے دشمنوں کو دھول چٹائی تھی۔
صرف ایک اس کے نام کے مان پہ!
اذلان شاہ کو ساری رپورٹ مل چکی تھی داد شاہ سے،اس کی نظروں میں ایلاف کا قد بڑھ چکا تھا۔
ایلاف نے ثابت کیا تھا کہ اگر اذلان شاہ چٹان کی طرح مضبوط تھا تو ایلاف بھی سمندر کی طرح گہری تھی۔
اور!
چٹانوں اور سمندروں کا ساتھ تو ازل سے طے ہے۔ سمندر تو نمکین ہی ہوا کرتے ہیں سو ایلاف کے رونے پہ اب اذلان کو کوئی اعتراض نہ تھا۔
“پلیز!اذلان ضروری ہے کہ ہم پچھلی باتوں کو اپنے سر پہ سوار رکھیں۔خدا نے آپ کو نئی زندگی دی ہے تو اس کی شروعات بھی نئے سرے سے کرتے ہیں۔” ایلاف کو برا لگا تھا اذلان کا شرمندہ سا انداز۔
“نئی شروعات کیلئے پچھلے مرحلوں کا اختتام ضروری ہے ورنہ یہ ادھورے قصے کہانیاں،سائے کی طرح ہمارے سر پہ مسلط رہتے ہیں پھر انسان نا آگے کا رہتا ہے نہ پیچھے کا ہوا میں معلق ہوجاتا ہے۔اس لئے ایلاف ہمیں معاف کردیں،ہم نے آپ قیامت ڈھائی تھی۔” اذلان شاہ نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے تھے۔
سلمان کا قصہ بھی داد شاہ اسے بتا چکا تھا سو اذلان نے بھی دیر نہیں لگائی تھی۔
مداوا کرنے میں!
” میں نے آپ کو اسی دن معاف کردیا تھا۔اللہ اور رسول کے صدقے جس دن یہ منحوس حادثہ ہوا تھا۔اذلان پلیز آپ یوں اچھے نہیں لگتے۔” ایلاف کے آنسو اس کے ہاتھوں پہ بہہ رہے تھے۔
ایلاف کے دل میں اذلان کا مقام اور کچھ اونچا ہوا تھا۔
ہوتا ابھی کوئی اور مرد تو کیا وہ یوں مداوا کرتا؟
اذلان نے اس کے آنسو اپنے ہاتھوں کے پوروں پہ چنے تھے۔
“ہم نے آپ کا ضبط بہت آزمایا،بہت مشکل میں ڈالا آپ کو۔” اذلان نے ہمیشہ کی طرح اپنا کندھا دیا تھا اسے۔
“کوئی مشکل نہیں،کوئی آزمائش نہیں۔اگر انعام میں خدا اذلان شاہ کا یقین اور اس کی صحتمند زندگی دے۔” ایلاف نے آنسو پونچھے تھے۔
” ایلاف! آپ کمال ہیں۔” اذلان نے آج اقرار کرلیا تھا۔
ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتی۔مثبت سوچ رکھنے والی عورت کو سب ملتا ہے۔
مرد کا مان بھی،عزت بھی اور محبت بھی۔یہ دو چیزیں ہوں تو محبت مل ہی جاتی ہے۔
______________________________
شام کے سائے اپنے پر پھیلا چکے تھے۔ ایلاف کی جھک’جھک کے کمر دوہری ہوچکی تھی۔وہ آج اتنے دنوں بعد یونی گئی تھی۔ اسائنمینٹس کا ڈھیر لگ چکا تھا۔
اذلان شاہ گھر آچکا تھا۔سفیان ابھی جاگیر میں ہی تھا۔
وہ چونکہ بیچ سال کے اسکول چھوڑ کے آیا تھا سو ایلاف نے اس کیلئے ٹیوٹر کا انتظام کردیا تھا تاکہ وہ اپنی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھے اور سال پورا ہونے پہ ایڈمیشن لے۔
اذلان شاہ نے بھی ایلاف کے اس فعل کو سراہا تھا۔
ایلاف نے گھڑی میں وقت دیکھا اذلان کی دوا کا وقت ہو رہا تھا۔وہ اٹھ کے کمرے میں آگئی تھی۔
اذلان شاہ اپنے زخموں پہ خود ہی مرہم لگانے کی کوشش کر رہا تھا جو کمر اور سر کے پچھلی طرف تھے۔ دوائیاں اور مرہم باقاعدگی سے استعمال کرنے تھے ابھی،تین ماہ بعد وہ واپس لوٹ آیا تھا
ہوش و حواس کی دنیا میں۔
” بندے کو جو کام نہ آئے تو کہہ دینا چاہئے،اتنی انا بھی اچھی نہیں ہوتی۔” ایلاف نے اذلان کے ہاتھوں سے مرہم کی ٹیوب لیتے ہوئے کہا اور خود پیچھے آ کے کھڑی ہوگئی۔
” کیا کریں جب مسیحا ہی انا پرست ہو،تو مریض پہ بھی تو اثر آئے گا۔” اذلان شاہ نے اطمینان سے کہا۔
” چپ رہیں آپ تو۔” ایلاف تپ ہی گئی۔
” اتنے عرصے سے چپ تو تھے۔خود ہی تو روز آ کے کہتی تھیں کہ اذلان ہم سے بات کریں پھر کیا ہوا؟” اذلان نے کہا تو ایلاف کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں تھیں۔
” آپ کو کیا پتا؟بھلا!آپ کونسا ہوش میں تھے۔” ایلاف نے کہا۔
” ہم بول نہیں سکتے تھے مگر سن تو سکتے تھے نا آپ کی باتیں۔” اذلان کے انکشاف پہ ایلاف کی سانسیں ہی رک گئی تھیں۔
” آپ!کیا چیز ہیں؟اتنی پراسراریت آپ کو تو سی آئی ڈی میں ہونا چاہئے۔”ایلاف کو زوروں کا غصہ چڑھا۔
” سی آئی ڈی تو آپ ہیں نا،کافی ہے! کیسے کرید کرید کہ سوال پوچھے تھے۔گاڑی کہاں گئی؟آئی کہاں سے,ڈرائیور کہاں تھا؟واہ!ایلاف واہ۔” اذلان اسے سارے کارناموں پہ داد دے رہا تھا۔داد شاہ نے اسے سب بتایا تھا۔
” آپ!کب سے سننے لگے تھے اور ہمیں کیوں نہیں بتایا تھا۔ ابھی تک جاگیر کیوں نہیں اطلاع کی؟” ایلاف واقعی تھانیدارنی بن چکی تھی۔
” دھیرج’دھیرج!مائی ڈئیر وائف کتنی اذیت کا مقام ہوتا ہے نا ایلاف کہ آپ کا پیارا کوئی آپ سے مخاطب ہو اور آپ منہ میں زبان رکھنے کے باوجود اس سے بات نہ کر پائیں۔ہاتھ ہوتے ہوئے بھی اس کے آنسو صاف نہ کرسکیں۔صرف اسے سن سکیں،محسوس کرسکیں تو ایلاف ہم آپ کو اور اذیت میں کیوں ڈالتے۔ آپ پہلے ہی اتنا کچھ سہہ رہی تھیں تو ہم آپ پہ اپنی بے بسی کیسے مسلط کرتے۔داد شاہ نے آپ کو نہیں بتایا تھا تو ہم پہ احسان کیا اس نے۔” اذلان شاہ نے حساس لہجے کہا تھا
ایلاف اسے دیکھ کے رہ گئی تھی۔اس حال میں بھی اس کااتنا خیال اتنی فکر تھی، اتنی پروا تھی۔
“اور جاگیر ہم خود جائیں گے تو سب کو پتہ چل جائے گا ہی۔ویسے آپ نے تانیہ شاہ کی طبیعت خوب صاف کی ہے۔بہت اعلی جوہر دکھاتی ہیں زبان کے۔” اذلان شاہ نے دلچسپی سے اس کا چہرہ نگاہوں کے حصار میں لیا۔
“وہ باتیں ہی ایسی کرتی ہیں کہ بس خیر آپ اب آنکھیں بند کرلیں میں دوا لگا رہیں ہوں۔” ایلاف نے ٹیوب کھولتے ہوئے کہا۔
” کس خوشی میں آنکھیں بند کریں؟”اذلان نے پوچھا۔
ایلاف کا چہرہ گلنار سا ہوگیا تھا۔حیا کے مارے زبان سے نکلا ہی نہیں کچھ۔
” حلیہ دیکھا ہے آپ نے اپنا،خاموشی سے آنکھیں بند کریں۔سلمان خان نہیں ہیں آپ،جو شرٹ اتار کے گھومیں۔” ایلاف نے اسے وجہ بتا ہی دی تھی۔
“اچھ!ہمیں پتہ ہوتا کہ آپ کے چہرے پہ یوں دھنک کے رنگ بکھریں گے تو پہلے ہی سلمان خان بن جاتے۔” اذلان خوشگوار سی کیفیت میں گھر کے بولا تھا۔
اتنی خالص!اتنی باحیا لڑکی خدا نے اس کے مقدر میں لکھی تھی۔اسے ناز ہوا تھا اپنی قسمت پہ،اس کی بیوی صحیح معنوں میں اس کی وفادار تھی۔
بھلے سے ان کا یہ رشتہ صرف کاغذ کی حد تک تھا مگر اس میں احساس تھا،عزت کا پاس تھا،مان تھا۔
” ایلا!آؤ محبت کرلیں۔” اذلان شاہ نے آنکھیں موندیں اسے مخاطب کیا تھا۔
ایلاف کا مرہم لگاتا ہاتھ ساکت ہو گیا تھا۔اذلان نے پہلی بار ایسی بات کی تھی۔
دھیرے سے اس کے ہاتھ پہ اس رشتے کا کوئی احساس بھرا لمس ڈالا تھا۔ایلاف کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی۔
” وہ تو نہیں ہوسکتی اذلان۔” ایلاف نے نفی میں سر ہلا کے دانتوں تلے نچلا ہونٹ دبایا تھا۔
وہ تو عشق کی منزلوں پہ کھڑی تھی
اور یہ شخص ابھی محبت کے صحرا میں کھڑا اس سے وصل کا نخلستان مانگ رہا تھا۔
” کیوں؟کیا آپ نے ہمیں معاف نہیں کیا ایلا۔” وہ ایلاف سے ایلا بن چکی تھی۔
“اتنی جلدی بے تکلفی’کیا بات ہے آپ کی صاحب؟”ایلاف نے حیرت سے سوچا۔
” ہم اس منزل سے آپ کے احساس کے سائے تلے ،آپ کے نام کی چادر اوڑھے گزر کے،عشق کے عرش کو چھو چکے ہیں۔” ایلاف نے ہولے سے اس کی سماعتوں میں اسم عشق پھونکا تھا۔
اذلان نے پلٹ کے اس کا چہرہ دیکھا۔
ایلاف کے چہرے پہ اس پاکیزہ محبت کا نور تھا۔وہ لڑکی سراپا عشق تھی جو اس کے نام کا دیا جلائے،عشق کی بھٹی میں کندن بن چکی تھی۔
“ہمیں آپ سے عشق ہوجائے گا ایلاف۔”اذلان نے اسے اپنے پاس بٹھا کے سیاہ چادر کے ہالے میں اس کے پرنور چہرے پہ موجود اس کی ستواں ناک ہولے سے دباتے ہوئے اقرار کیا۔
” یہ کوشش کا نام نہیں،یہ تو بے خودی کی رمز ہے۔اشارہ ہے!” ایلاف نے جیسے کوئی بھید دیا تھا۔
” اور اب آپ سوجائیں کافی وقت ہوچکا ہے،نیند آپ کیلئے ضروری ہے۔” ایلاف نے اپنی پیشانی سے شبنمی قطرے چنتے ہوئے کہا تھا۔
” یا خدایا!اس شخص کی شدتوں کا عالم کیا ہوگا۔”
” اکیلے!” اذلان شاہ نے معصومیت سے پوچھا۔
“نہیں بلا لیتے ہیں داد شاہ کو ویسے بھی آپ کے کانوں کے نیچے گھسنے کا بہت شوق ہے۔” ایلاف کو غصہ آگیا تھا۔
“توبہ ہے ایلاف!اسپتال میں کتنی اچھی اچھی باتیں کرتی تھیں اور یہاں ایسی جلی کٹی اس سے تو بہتر ہم اسپتال میں تھے۔” اذلان نے شکوہ کیا۔
” خدا نہ کرے۔” ایلاف نے اس کے لبوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بے اختیار کہا تھا۔
اذلان نے دھیرے سے اس کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لے کے کہا تھا۔
” ہم کب تک پریت کے دھوکے میں
تم کب تک دور جھروکے میں”
ایلاف کی سبز آنکھوں میں حیا کے رنگ اتر گئے تھے۔پلکیں جھک آئی تھیں۔
” آپ کی طبیعت اب بھی خراب ہے اذلان شاہ۔ ” ایلاف نے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا۔
“آپ سو ہی جائیں اذلان۔ابھی آپ ٹھیک ہوجائیں،میں یہی ہوں کہیں نہیں جا رہی آپ کے پاس ہوں۔” ایلاف نے اسے یقین دیا تھا۔
کفران نعمت کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
” پھر ہمارے ساتھ رہیں،ہمارے پاس رہیں۔فی الحال آپ کا احساس ہی کافی ہے ہمارے لئے۔” اذلان نے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی تھی۔
ایلاف نے سر ہلا دیا تھا۔
_______________________
” میں تمہاری زندگی سے بہت دور چلا جاؤں گا مگر تمہیں ایک احساس دلا کے،تم نے ٹھکرا کے اچھا نہیں کیا مجھے۔” اس نے جلتی سگریٹ بالکونی سے نیچے پھینک دی تھی۔
اسے اور تانیہ شاہ کو قسمت نے ملایا تھا حالانکہ وہ ملنے اذلان سے گیا تھا اور تانیہ کو سن گن کی بیماری وہاں لائی تھی۔
ایلاف کے نام پہ وہ چونک کے اس کی طرف بڑھی تھی۔ تانیہ کے ہاتھ بہت دنوں بعد کوئی زبردست ترپ کا پتہ آیا تھا جسے مہارت سے اس نے کھیلنا تھا
اور اسے ایک موقع ملا تھا بدلے میں کسی کی زندگی برباد کر کے اپنی زندگی سنوارنے کا۔
تانیہ شاہ اسے اتنا دے رہی تھی کہ اسکی سات تو نہیں لیکن ایک نسل تو آرام سے کھا سکتی تھی۔
______________________________
شاہ پور جاگیر میں کتنے دنوں بعد رنگوں کی برسات اتری تھی۔شاہ بی بی نے دو دن تک اذلان کو اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا تھا۔
‘ میرے لال!میرے بچے،ماں صدقے جائے۔” شاہ بی بی نے اذلان شاہ کی پیشانی پہ بوسہ دیا۔
” ہم نے اپنا فرض پورا کردیا اماں سائیں۔” ایلاف نے ان سے ملتے ہوئے کہا تھا
” جگ جگ جئیو،سدا سہاگن رہو۔” شاہ بی بی نے کہا تو ایلاف جھینپ گئی تھی۔
” منا لو جتنی خوشیاں منانی ہیں،کچھ دیر میں ذلتیں تم سب کا مقدر بنیں گی۔بہت اکڑ رہے ہو نا جس شاخ پہ میں وہی ڈالی کاٹ دوں گی۔” تانیہ یہ سارا منظر ایک کونے میں کھڑی دیکھ رہی تھی۔
” کیسی ہیں مام؟” سفیان ایلاف سے ملتے ہوئے بولا تھا۔
” مائی ونڈر وومن!” سفیان اکثر اسے یہی کہتا تھا۔
” فائن! مائی سپر مین۔” ایلاف اس کے گال کھینچتے ہوئے بولی تھی۔
اذلان دونوں کی بے تکلفی پہ حیران ہوا تھا۔
” ڈیڈ!دیکھیں میں نے آپ کی بیوی کو بھی رام کرلیا۔مان لیں میں آپ سے زیادہ ہینڈسم ہوں۔” سفیان باپ سے مل کے دوبارہ وہی بے پروا اور پہلے والا سفیان تھا۔اب اس کے بابا آچکے تھے تو اب کیا پریشانی تھی۔
آج دو دن بعد اذلان شاہ ڈیرے پہ گیا تھا۔ایلاف تو ویسے ہی اس سے چھپ رہی تھی۔
” توبہ اس شخص کی آنکھیں بھی بولنے لگی ہیں اب تو۔” ایلاف سوچ کے ہی رہ جاتی تھی۔
بنین نے مزے لے لے کے ایلاف کے اظہار محبت کا قصہ سنایا تھا اذلان کو،ایلاف اسے گھور کے رہ گئی تھی۔
” لوگوں میں انا بہت ہے۔” اذلان نے کہا۔
“لوگوں کے دماغ خراب ہوگئےہیں،سچ کہا ہے کسی نے خالی دماغ شیطان کی دکان۔” ایلاف تپ کے بولی اور اٹھ گئی تھی۔
اذلان کے قہقہے نے اس کا دور تک پیچھا کیا تھا۔
______________________________
ہال کمرے میں آج سب کی نشست لگی تھی۔ خاندان بھر کے بڑے جمع تھے،کھانا کھایا جا چکا تھا۔
سب باتوں میں مگن سے تھے جب کوئی اندر داخل ہوا تھا۔
” تم!” ایلاف نے نقاب کی اوٹ میں چہرہ کرتے ہوئے کہا۔ اس نے آج اذلان کی شال پہنی ہوئی تھی۔
موسم بدل رہا تھا اور آج موسم کے تیور بھی خطرناک تھے۔
“نقاب میں کیوں چہرہ کر رہی ہو؟جب کہ میں نے تمہارا چہرہ سو بار دیکھا ہوا ہے۔” سلمان نے سفید جھوٹ بولا تھا۔
” یاخدایا! آج کونسا امتحان ہے؟”
” کیا بکواس کر رہے ہو؟کون ہو تم؟” شاہ بی بی گرجی تھیں۔
” میں اور ایلاف ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔آپ کے بیٹے سے درخواست کی تھی کہ چھوڑ دے ایلاف کو اب ایلاف تو اسے کہہ کے تھک گئی،مجھے ہی ہمت کرنی پڑی اب مقدمہ آپ جیسی انصاف پسند خاتون کے پاس لایا ہوں۔” سلمان کو بہت بڑی قیمت ملی تھی۔
” توبہ! توبہ کیسا چکر چلایا ہے؟کیسے معصوم بنی رہی یہ چلتر۔” خدیجہ بی بی اپنے گال پیٹتے ہوئے بولیں۔
” بکواس کر رہا ہےاماں سائیں۔ہم نے ایساکچھ نہیں کیا۔ہم اذلان کے وفادار ہیں۔” ایلاف کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا۔
بار بار اس کے ہی کردار کو کیوں رگیدا جاتا ہے۔
” ایسے ہوتے ہیں وفادار ‘عاشق کو لے کے گھومتے ہیں۔” تانیہ نے آگ لگائی۔
” یہ آپ لوگوں سے ڈر رہی ہے۔شاہ بی بی انصاف کریں،ایلاف کو آزاد کریں۔” سلمان نے جلتی پہ تیل کا کام کیا تھا۔
سب ایلاف کو ملامت کرنے لگے تھے
اور ایسا تو ہمیشہ ہوتا تھا ایک موقع ملتا اور پوری دنیا اس کے کردار کو رگیدتی تھی۔
” میں ایسی نہیں ہوں۔” ایلاف چیخی تھی۔
ایک وہ رات تھی جس میں کسی نے اس کا یقین نہیں کیا تھا اور اب ایک یہ رات تھی۔اس میں بھی کسی نے اس کا یقین نہیں کیا تھا۔
شاہ بی بی چپ تھیں’بالکل چپ!
” اماں سائیں!” ایلاف کو وہ طفیل ماموں کی طرح لگی تھیں۔
سفیان اپنے موبائل پہ مصروف تھا۔
اس نے آنکھ اٹھا کے بھی نہ دیکھا تھا۔وہ دیکھ ہی نہیں سکتا تھا۔
” سفی!” ایلاف نے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا تھا۔
آج بھی کہیں امان نہیں جو لوگ ابھی کچھ دیر پہلے اسے سر پہ بٹھا رہے تھے۔
وہی آج اسے رسوائیوں کی دلدل میں دھکیل چکے تھے۔
اذلان شاہ ٹھیک اسی پل اندر داخل ہوا تھا۔
” اذلان دیکھیں نا!یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟میں ایسی نہیں ہوں۔” ایلاف نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔
” ہم جان گئے ہیں آپ کیسی ہیں؟” اذلان نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے سرد مہری سے کہا تھا اور اوپر سیڑھیاں چڑھ گیا تھا۔
” نکل جاؤ یہاں سے ہمارے خاندان میں کوئی جگہ نہیں تم جیسی بدنیت لڑکی کی جو شوہر کی نہ ہوسکی وہ کسی اور کی کیا ہوگی۔” نہ جانے کس نے فیصلہ سنایا تھا۔
تانیہ نے آگے بڑھ کے اس سے اذلان شاہ کی چادر چھین لی تھی۔
” دفعہ ہوجاؤ،یہاں سے!” تانیہ نے اسے دھکا دیتے ہوئے کہا تھا۔
ایلاف اذلان کے رویے پہ ہی سن ہوگئی تھی۔
ایک رات وہ تھی جب کسی نے اس کا اعتبار نہیں کیا تھا تب اذلان شاہ نے اس کا یقین کیا تھا اور آج پھر ویسی ہی رات تھی لیکن اذلان نے آج اس کا یقین نہیں کیا تھا۔
اس کے دکھ پہ صرف آسمان رو رہا تھا
اور زمین پہ صرف ایلاف کی آنکھیں برس رہی تھیں۔وہ حویلی کےصحن میں بوڑھے برگد کے نیچے بیٹھ گئی تھی۔کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح،سب نے اسے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا تھا اور اب جب ان کا وارث ٹھیک ہو کے آگیا تھا تو ان کو کیا ضرورت تھی ایک بے آسرا لڑکی کو سر پہ بٹھانے کی۔
” اذلان شاہ تم نے بھی میری ریاضت پانی کر دی۔” ایلاف کا دل کرلایا تھا۔
تم جو میری ہم نشینی کے خواہشمند تھے۔میرے قرب کی چاہ کے شائق تھے۔”
پھر کیا ہوا یہ؟
بادل گرج رہے تھے،بجلی چمک رہی تھی۔ بارش چھم چھم برس رہی تھی۔
ایلاف بھیگ رہی تھی۔ہر احساس سے عاری،اسے آج بارش سے ڈر نہیں لگ رہا تھا۔
بجلی سے خوف نہیں محسوس ہوا تھا۔ان بارشوں سے زیادہ تو یہ لوگ ڈراؤنے تھے،زہریلے تھے۔
اور ادھر حویلی میں کوئی آج پھر اس کا مان رکھ رہا تھا۔
” ہم آج آپ کو بتاتے ہیں ہماری بیوی کون ہے؟ یہ دیکھیں یہ اس کے باپ کی دستار ہے۔یہ اس کے خاندانی لوح ہےجس پہ اس کا پورا شجرہ نصب تحریر ہے۔ تانیہ شاہ تم نے ہمت کیسے کی ہماری بیوی کے خلاف سازش کرنے کی؟ وہ ہمارے ہم پلہ گھرانے کی ہے۔” اذلان شاہ بپھرا ہوا طوفان بنا تھا۔
” یہ آدمی تمہاری بیوی کا عاشق ہے۔بد کردار ہے وہ۔۔۔۔”تانیہ کی بات اذلان کے زور دار تھپڑ نے منہ میں ہی رکھ دی تھی۔
” ہم تمہیں بتائیں بد کرداری کیا ہوتی ہے؟تو سنو!اپنے بھانجے کے کارنامے،ہیرا منڈی کی ایک ایک طوائف اس کا نام جانتی ہے۔اس کی ہر شام عیاشی میں گزرتی ہے۔پیروں کی پگڑی ہر روز مجروں میں اچھلتی ہے۔ہمت کیسے کی تم نے اور تم سلمان تم!” اذلان نے اسے ایک زور دار گھونسہ رسید کیا تھا۔
“تم نے پہلے بھی آگ لگائی تھی۔ایلاف نے کہا تھا نا تم سے مت آنا ان راہوں میں ورنہ قبر کا بھی نہیں پتہ چلے گا۔پولیس آ رہی ہے اپنی کمپنی سے تم جو پچاس لاکھ کا غبن کر کے بھاگے ہو،تمہارے ایک ایک لمحے کی خبر ہے ہمیں۔” اذلان شاہ تیوری چڑھا کے بولا تھا۔
” واقعی یہ آدمی ایسا ہے؟تو اس بچی کیساتھ بہت ظلم کیا۔ “
لوگ فیصلہ سنانے میں لمحہ نہیں لگاتے اور افسوس کرنے میں پل نہیں لگاتے۔
” ایلاف کہاں ہے؟” اذلان شاہ نے چونک پوچھا۔
” تانیہ خالہ نے اسے گھر سے نکال دیا اور چادر بھی چھین لی آپ کی۔” سفی بولا تھا۔
” کیا؟اوہ خدایا وہ تو بارش سے اتنا ڈرتی ہے۔” اذلان کو اپنا سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
وہ تو مر جائے گی خوف سے!
اذلان باہر کی طرف دوڑا تھا۔
______________________________
ایلاف کا پورا وجود سرد ہو رہا تھا۔
” کاش میں پتھر کی ہوجاؤں۔” ایلاف نے خواہش کی تھی۔
اذلان جو اسے ڈھونڈنے نکلا تھا۔ صحن میں وہ اسے برگد کے درخت کے نیچے مل گئی تھی۔وہ اس کے برابر میں ہی بیٹھ گیا۔
بارش کی بوندیں تڑا تڑ برس رہی تھیں،
بارش اسے بھی بھگونے لگی تھی۔
” کیا ایلاف آپ نے انتظار نہیں کیا ہمارا۔آپ کو کیوں لگا ہم آپ کو چھوڑ ریں گے۔جب آپ نے ہمیں نہیں چھوڑا تو ہم کیسے چھوڑیں آپ کو۔” اذلان نے اسے شانوں سے تھامتے ہوئے کہا تھا۔
” آپ کی طرف آنا بہت کٹھن ہے پیر سائیں۔ہم ہر موڑ پہ اپنی عزت نفس کی قربانی نہیں دے سکتے۔آپ کے راستے پہ ہمیں صرف رسوائیاں ملتیں ہیں۔ہم اتنے پتھر کھا کھا کے مر چکے ہیں۔عزت کے بغیر آپ کے ساتھ گزارا ہے صرف اورہم بغیر عزت کے نہیں رہ سکتے۔بہت مشکل ہے یہ،آپ کے بغیر رہنا پھر آسان ہے۔”ایلاف اذلان کو دیکھ کے پھر خوش گمان ہوئی تھی مگر اس شخص کی طرف جاتے ہر راستے پہ عزت کی قربانی تھی۔
“میرے قاتل مجھے جینے کا حق تو دے۔”
” اسے بس آخری آزمائش سمجھ لیں اپنی،اٹھیں!ہمارے ساتھ چلیں۔ہم آپ کو آج اپنا مان دیں گے۔کوئی آج کے بعد یہ ہمت نہیں کرے گا۔بس ایک بار ہماری بات مان لیں۔” اذلان نے اسے اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔
” دوبارہ وہاں!نہیں پیر سائیں۔” ایلاف انکاری ہوئی تھی۔
” اب بنا کسی یقین کے نہیں۔”
” ایلاف!ہم آج اس برستی بارش میں،اس وقت کو گواہ بنا کے اس آسمان کے نیچے کھڑے ہو کے آسمانوں کے رب کا اقرار کرتے ہوئےزمین پہ موجود اس کوہ زادی سے وعدہ کرتے ہیں۔آج کے بعد کوئی اس کی عزت نفس پہ کچھ نہیں کہے گا۔ہم وعدہ کرتے ہیں آپ کی عزت کی نگہبانی ہماری ہے۔ہم اقرار کرتے ہیں ہم صرف آپ سے عشق کرتے ہیں۔” اذلان شاہ نے ایک بار پھر اسے اپنی چادر کے حصار میں لیا تھا۔
“ایک بار وہاں چلیں صرف آج،اس کے بعد ہم آپ کیلئے یہ حویلی تو کیا یہ گدی بھی چھوڑ دیں گے۔” اذلان نے اس کی پیشانی کو اپنے لمس سے معمور کیا تھا۔
بارش کے وقت کی جانے والی دعائیں،عہد اور خواہشیں سب قبول ہوتی ہیں۔
خدا واقعی ایلاف پہ مہربان ہے اور محبوب بندوں کی آزمائشیں ہوتی ہی رہتی ہیں۔ایلاف اذلان کے ہم قدم تھی،بارش اب بھی دونوں کو بھگو رہی تھی۔
” اگر اب کسی نے کچھ کہا ایلاف کی شان میں تو اماں سائیں ہم یہ گدی تو کیا یہ علاقہ بھی چھوڑ دیں گے۔” اذلان اسے حویلی لے آیا تھا پورے مان کے ساتھ۔
” باؤلا تو نہیں ہوگیا لڑکے؟تجھے کیوں اس پہ اتنا یقین ہے۔” خدیجہ بی بی چمک کے بولی تھیں۔
” کیونکہ یہ وہ لڑکی ہے جس نے ہماری غیر موجودگی میں ہمارے نام،ہماری عزت،ہماری گدی پہ آنچ بھی نہیں آنے دی۔ہے کوئی خاندان میں اس جیسی جی دار عورت؟ نہیں نا!تو پھر اذلان شاہ باؤلا کیوں نہ ہو۔” اذلان شاہ نے اپنی محبت بیان کردی تھی۔
وہ وعدے کا پکا نکلاتھا۔
______________________________
اذلان اسے کمرے میں لے کے آیا تو ایلاف کو اس نے کہا تھا۔
” سفی پہ بدگمان نہ ہونا وہ اگر ہمیں نہ بتاتا ٹیکسٹ کر کے تو ہم آپ کو آج کھو دیتے اور اماں سائیں سے بھی نہیں۔”اذلان نے اسے دونوں کی صفائی پیش کی تھی
” مجھے اب کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ اذلان!آئیں بارش میں بھیگتے ہیں۔” ایلاف نے انوکھی فرمائش کی تھی۔
” تمہیں تو بارش سے ڈر لگتا ہے نا؟” اذلان حیران ہوا تھا۔
” اب نہیں!اس بارش میں اپنے سارے دکھ،سارے خوف بہا دوں گی۔” ایلاف نے کہا تھا۔
“ایلاف!یہ خوف اگر محبت کی بارش سے دور ہو تو زیادہ اچھا ہے۔” اذلان کے لہجے میں آنچ سی تھی۔
سیاہ زلفیں بھیگ کے ایلاف کے چہرے کے گرد ہالا سا بنائے ہوئے تھیں۔
اذلان نے انہیں ہولے ہولے جھٹکتے ہوئے کہا تھا۔
ایلاف محجوب سی ہوگئی تھی۔ یہ رات آج ساری پیاس بجھانے والی تھی اس کی۔
آج شب وصل تھی!
میں ہوں خوش نصیبی تیری
مجھے بھی راس ہے تو
تیرا لباس ہوں میں
اور
میرا لباس ہے تو
عجیب شے ہے محبت کہ ہم کہیں جائیں
تیرے قریب ہوں میں
میرے آس پاس ہے تو
تیرا لباس ہوں میں اور میرا لباس ہے تو!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: