Yeh Junoon e Manzil e Ishq Novel By Farhat Nishat Mustafa – Episode 15

0
یہ جنون منزل عشق ہے از فرحت نشاط مصطفے – قسط نمبر 15

–**–**–

تہجد کا وقت کیسا پرنور اور پاکیزہ ہوتا ہے نامگر اسے محسوس وہی کرسکتا ہے،جو اس لمحے کو جی لے۔اپنی مٹھیوں میں ان ساعتوں کو قید کرلے۔ یہ پاکیزہ سا نور اپنی آنکھوں میں مقید کرلے۔
بارش اب ہلکی ہلکی کن من کی صورت ابھی بھی برس رہی تھی۔پوری رات یہ بارش برسی تھی۔
اندر بھی!،باہر بھی!
محبت کی مانند،چاہت کی مانند!
ایلاف کا دل شکر گزاری سے کچھ اور رب کے آگے جھک گیا تھا۔
دل مارے بغیر نور نہیں ملتا۔
اور
نور کیا ہے؟
نور اللہ ہےاور وہ زمین اور آسمان کا نور ہے۔
ایلاف نے اپنی من گھڑت بے جا انا
کو قربان کیا تھا رب کی رضا میں راضی ہوئی تھی تو خدا نے بھی اسے اپنے خزانوں میں سے اسے وہ دیا تھا جو ایلاف کو سب سے محبوب تھا۔
اعتبار,اختیار,چاہت ,مان,محبت!
ایلاف نے اعتبار کی سیڑھی پہ چڑھ کے اختیار کی منزل کو حاصل کیا تھا۔
کون کہتا ہے؟
عشق کو کنارا نہیں
جنون کو سہارا نہیں
محبت کی آتش عشق کو بھڑکاتی نہیں،
سلگاتی نہیں ہے۔یہ تو مشام جان کو معطر کرتی ہے۔
دنیا اب جو کہے ایلاف کو اب چنداں پروا نہ تھی۔وہ تو جائے نماز پہ بیٹھی رب کی نعمتوں کا شکر ادا کر رہی تھی
کیونکہ شکر ہی نعمتوں کو بڑھاتا ہے۔
“اب کون سا چلا آپ کاٹ رہی ہیں؟یہ پیر تو آپ کا مرید ہو ہی چکا ہے۔” اذلان شاہ جو خود تہجد پڑھ کے ایلاف کی دعا ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا،دوسری طرف جائے نماز بچھائے اس کے دعا مکمل ہونے پہ بولا۔
“یہ پیر مرید نہیں ہوسکتا سائیں،آپ پیر ہیں اور آپ کو پیری ہی راس ہے۔یہ مریدی کا کام آپ ہم فقیروں کیلئے ہی رہنے دیں۔” ایلاف اس کی طرف مڑتے ہوئے بولی۔
سفید چادر کے ہالے میں اس کے صبیح چہرے پہ پاکیزہ سا نور تھا۔آنکھوں میں حیا کے گلابی سے ڈورے،اذلان کی شہد رنگ آنکھوں سےجن میں نیند کی کمی کے باعث سرخ ڈورے تھے،ان سے ہوتے ہوئے سیدھا اذلان کے دل کے صحرا میں محبت کے گلاب کھلا رہے تھے۔
” ایسا فقیر پہلی بار دیکھاہے جس کے قبضے میں چھ فٹ کا پیر ہے۔کمال ہے ایلا شاہ!” اذلان محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
ان آنکھوں میں کیا نہیں تھا اس کیلئے
محبت ,چاہت,عزت,مان وہ سب جو ایک لڑکی کی خواہش ہوتی ہے۔
خواہشوں کا کوئی کنارا نہیں ہوتا
مگر!
خواہشیں محدود ہوں تو کنارا مل ہی جاتا ہے۔ساتھ نبھ ہی جاتا ہے۔
” آپ کی زندگی میں تو عشق بھی پہلی بار ہوا ہے اور یہ تو عطا ہے،کرم ہے جو روز نہیں ملتی۔” ایلاف اسے چادر اوڑھاتے ہوئے بولی تھی۔
فجر کی اذانیں شروع ہوچکی تھیں،فلاح کی پکار شروع ہوچکی تھی
جن پہ ایلاف اور اذلان دونوں نے لبیک کہا تھا۔
اذلان شاہ کا رواں رواں رب کے آگے شکر گزار تھا۔وہ لڑکی اس کی عزت تھی اور اس عزت کو مان دینے وہ آج کامیاب ہوا تھا۔
اگر وہ کل رات اس کیلئے کچھ نہ کر پاتا تو؟
اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں تھا۔
بہت بڑی زیادتی ہوجانی تھی ایلاف کے ساتھ۔
مجھے اس مقام پہ چھوڑنا
ہے بےوفائی کی انتہا
کہ قفس جیسے ہو کھلی فضا
کہ سکون کا سانس میں لوں یہاں
جنہیں تیری دید کی پیاس تھی
وہ کٹوروں نینوں سے بھر گئے
یہ جنون منزل عشق ہے
جو چلے تو جان سے گزر گئے
اور اذلان شاہ بے وفا تو نہ تھا،وہ ایلاف کا ساتھ کیسے چھوڑ دیتا،اس نے تو اس وقت بھی اسکا ہاتھ تھاما تھا جب کسی نے نہیں تھاما تھا تو اب کیسے کرتا۔
ہاں اسے تھوڑی دیر ہوئی تھی لیکن اذلان نے اسی قفس کی دیواروں کو ڈھا کے کھلی فضاؤں میں ایلاف کے وجود کو مان اور محبت سے معمور کیا تھا۔
پیر اذلان شاہ نے عشق کی ریت نبھائی تھی،ایلاف کے ساتھ سفر عشق شروع کیا تھا تو اب منزل عشق پہ بھی اسی کے ساتھ پہنچا تھا۔
دید سے صرف دل ہی نہیں مکمل روح بھی سیری تھی۔پیر اذلان شاہ بھی اب سے مرید عشق تھا۔
______________________________
” اذلان شاہ!آپ نے رات کو جو کچھ خرم شاہ کے بارے میں کہا تھا،اس میں کتنی صداقت ہے؟” پیر اعظم شاہ رات سے یہیں تھے موسم کی خرابی کے باعث،اوپر سے اذلان کی باتیں انکا دل دھڑکا رہی تھیں۔
” کیوں! ہماری بیوی کی نیک نامی پہ شبہ کرتے ہوئے آپ سب نے لمحہ نہیں لگایا تھا اور ابھی جب بات اپنے پوتے کی آئی ہے تو خیر ہم دوبارہ یہ ذکر نہیں چاہتے۔پیر خرم شاہ واقعی ان سب میں ملوث ہے۔آپ کو ثبوت چاہئیں تو وہ بھی مل جائے گا۔” اذلان شاہ نے بات ہی ختم کردی تھی۔
“ایلاف!کل ہم کچھ نہیں بولے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں تم پہ یقین نہیں تھا۔ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ تم اور اذلان اپنے رشتے کو بچانے کیلئے کس حد تک جاتے ہو؟ایلاف میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس یونہی نہیں کہا گیا۔کسی تیسرے فرد کی مداخلت اس میں صرف دراڑ ڈالتی ہے۔بس!” شاہ بی بی نے اپنے کل کے رویے کی وضاحت دی تھی۔
ایلاف نے دوسروں سے توقع رکھنا چھوڑ دیا تھا کیونکہ توقعات کا پیالا ہمیشہ ٹھوکروں میں رہتا ہے تو کیوں نہ یقین کی چادر اوڑھ لی جائے جو رب کائنات پہ ہو جو کبھی بندے کو مایوس نہیں کرتی۔بندے کو ٹھوکر نہیں لگاتی۔
” اماں سائیں!آپ کو جو بہتر لگا آپ نے کیا اور خدا نے ہمیں سب سے بہترین دیا،ہمیں کوئی شکوہ نہیں۔” ایلاف نے ایک نظر اذلان شاہ پہ ڈالتے ہوئے کہا
جو کمال شاہ سے کسی بات پہ بحث کرتے ہوئے سرخ ہورہا تھا۔
______________________________
” ایلا!کیا بات ہے؟ آپ نے کتابوں کا کیا حشر کر رکھا ہے؟”اذلان شاہ بیڈ پہ اس کے برابر بیٹھتے ہوئے بولا۔
انہیں شہر لوٹے کافی مہینے ہوچکے تھے۔ ایلاف کی یونی کا حرج ہورہا تھادو سمسٹر کمپلیٹ ہوچکے تھے۔سفیان کو ایلاف نے واپس نہیں جانے دیا تھا۔وہ اب یہں پڑھ رہا تھا۔
بقول ایلاف کے فیملی کے ہوتے ہوئے بچہ کیوں گھر سے دور رہے۔ پہلے ہی بچے کے ساتھ اتنی زیادتی ہوچکی ہے۔بس!سفیان یہیں رہے گا ہمارے ساتھ۔سفی نے جس طرح ایلاف کا ساتھ دیا تھا۔ایلاف بھی اسے تنہا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔
” مجھے نہیں پتا! کیا ہورہا ہے میرے ساتھ؟ پیپر سر پہ کھڑے ہیں اور میرا دل ہی نہیں کرتا پڑھنے کو،انفیکٹ کسی بھی کام کیلئے نہیں۔” ایلاف بیزاری سے بولی تھی۔
طبیعت کے بوجھل پن سے وہ چڑ چڑی ہوجاتی تھی اور پھر یونہی کتابوں کی اٹھا پٹخ لگا کے رکھتی تھی۔
“آپ کا اور پڑھنے کا دل نہیں کرتا۔ایلا! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔یو شوڈ نیڈ ٹو کنسلٹ ود ڈاکٹر۔” اذلان شاہ اسے دیکھتے ہوئے فکر مندی بولا جو تکیوں کا ڈھیر پیچھے لگائے،سیاہ بالوں کا جوڑا بنائے بیزار سی نیم دراز تھی۔
اذلان نے پہلی بار اسے یوں دیکھا تھا ورنہ اس سے پہلے تو وہ آئرن لیڈی بنی ہوئی ہوتی تھی۔
اذلان کے سوشل ورک میں سے نجانے کتنے کام اس نے اب اپنے ذمہ لے لئے تھے جو وہ یونی کے بعد کرتی تھی۔اوپر سے اذلان نے اسے پھر سے لینگویج سینٹر جوائن کروا دیا تھا۔
بقول اذلان شاہ کے:-
” ہم اور سفی پانچ زبانیں جانتے ہیں تو آپ کو بھی کم از کم ہمارے مقابلے پہ کچھ آنا چاہئے۔”
ایلاف کو تو آگ ہی لگ گئی تھی۔
” بھاڑ میں جائیں یہ زبانیں۔”
” یہ کونسی جگہ ہے؟” اذلان نے حیرانی سے پوچھا تھا
” بس آپ کو بتانے کی نہیں ہے۔” ایلاف تڑ سے بولی تھی۔اب بھلا اذلان شاہ جیسے نفیس شخص کو بھاڑ کا پتا بتا کے کرنا بھی کیا تھا۔
اب تو لینگویج سینٹر جانا ہی تھا۔ابتدا اس نے عربی اور فرنچ سے کی تھی۔
” امیراں بتا رہی تھی کہ آپ کھانا بھی نہیں کھا رہیں صحیح سے۔ ” اذلان شاہ پورے مہینے بعد لوٹا تھا اور امیراں نے اسے یقینا رپورٹ دے دی تھی۔
اسی پل سفیان ناک کر کے اندر آیا تھا۔ایلاف سنبھل کے بیٹھ گئی تھی۔
سفی کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔
” کیا ہوا ہے سفی؟” ایلاف نے اسے اپنے پاس بٹھاتے ہوئے پیار سے پوچھا۔
” مام!آج ہم اسکول میں گیم کھیل رہے تھے۔سچوئشن جوتھی اس میں یہ تھا کہ آنسر نو نہیں ہونا چاہئے پر میرے کوئسچن کا آنسر ہر لحاظ سے نو تھا۔”سفی نے اسے بتایا تھا۔
” ایسا بھی کیا کوئسچن تھا سفی؟” اذلان نے پوچھا تھا۔
“How many siblings do you have?”
“آپ جانتے ہیں نا،میرا کوئی بہن بھائی نہیں تو آنسر نو ہی ہوا اینڈ آئی لوسٹ دا گیم۔” سفی روہانسے ہوتے ہوئے بولا۔
” تو ایسا فضول گیم کھیلنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟بہت سے کوئسچن کا آنسر نو ہوتا ہے۔” اذلان کو گیم پسند نہیں آیا تھا۔
” تو آپ کے کزن ہیں نا آپ کے بہن بھائی۔” ایلاف نے اسے آسرا دیا تھا۔
“Theory are not real siblings,Just cousins!”
سفی نے منہ پھلائے ہوئے ایلاف سے کہا تھا۔
” اچھا!لیٹ اٹ گو،سپر مین ایسے ہر بات کو اتنا سیریسلی نہیں لیتے۔” ایلاف ہمشہ اس کی ہمت بڑھاتی تھی۔
” لو یو مام۔”
” لو یو ٹو سفی.” ایلاف کے لبوں پہ خوبصورت سی مسکراہٹ تھی۔
“ہم بھی ہیں یہاں۔” اذلان نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا۔
“لو یو ڈیڈ۔” سفی اس کے گلے لگتے ہوئے بولا۔
” اور آپ!” اذلان نے اشارے سے پوچھا۔
سنجیدہ آنکھوں میں شرارت کے رنگ نمایاں تھے۔
” سدھر جائیں!پیر صاحب۔ ” ایلاف نے اسے گھورا تھا۔
______________________________
” پیر سائیں اپنی وائف کی ڈائٹ کا پراپر خیال رکھیں۔کم ازکم اس کنڈیشن میں، شی نیڈ پراپر ڈائیٹ۔” ڈاکٹر انوشہ ایلاف کا چیک اپ کرتے ہوئے بولی تھیں۔
ایلاف کا اور انوشہ کا تعارف پہلے ہوچکا تھا جن دنوں اذلان اسپتال میں تھا۔
” کونسی کنڈیشن؟” ایلاف نے کچھ پریشانی سے پوچھا تھا۔
تھرڈ سیمسٹر کے ایگزام سر پہ کھڑے تھے۔
“یو آر ایکسپکٹنگ!مسز اذلان۔” انوشہ کی بات ایلاف کو بم کی طرح لگی تھی۔
” واٹ!” اذلان شاہ بھی حیران ہوا تھا۔
“یس اینڈ ناؤ آپ کو اپنا خیال رکھنا ہے،آپ ویسے ہی بہت ویک ہیں۔” ڈاکٹر انوشہ اب اسے ٹرمز اینڈ کنڈیشن بتا رہی تھیں۔
” چلیں اب ان سب کو سائیڈ پہ کریں اور صرف آرام کریں۔” اذلان اس کی کتابیں اٹھا کے سائیڈ پہ رکھتا ہوا بولا تھا۔
” اذلان!مجھے پیپرز دینے ہیں۔” ایلاف اس کا بازو تھام کے بولی تھی۔
” کوئی ضرورت نہیں ہے۔سیمسٹر ڈراپ کرلیں۔بعد میں بھی ایگزام دئیے جاسکتے ہیں۔” اذلان قطعیت سے بولا تھا۔
“اب میں اتنی بھی کمزور نہیں ہوں۔کیا سمجھتے ہیں آپ مجھے؟گاؤں کی عورتوں سے بھی گئی گزری ہوں کیا۔وہ بھی تو گھر کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتی ہیں اوربچے بھی پیدا کرتی ہیں۔” ایلاف نے تپ کے کہا تھا۔
” خوراک بھی دیکھی ہے آپ نے ان کی،آپ کی طرح چڑیا جتنا نہیں کھاتیں۔”اذلان شاہ کو اس کا انداز بالکل بچکانہ لگا تھا۔
” بھلے سے میری خوراک ہاتھی جتنی کر دیں مگر میں پڑھوں گی بھی اور یہ بچہ بھی پیدا کر لوں گی۔” ایلاف قطیعت سے بولی تھی۔
اس کے گریجویشن کے بعد خدا نے انہیں نعمت اور رحمت دونوں سے نوازا تھا۔
“خوش ہیں اب آپ!”اذلان نے بیٹی کے کان میں اذان دینے کے ںعد،اسے ایلاف کے پہلو میں لٹاتے ہوئے پوچھا تھا۔
“بہت!اور آپ۔”وہ آنسو پینے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
ماں بننے کا احساس کتنا پیارا ہوتا ہے۔
“آپ پہلے صرف ہمارا عشق تھیں،ہماری بیوی تھیں۔آج سے آپ ہمارے بچوں کی ماں بھی ہیں۔ایلا!اذلان شاہ کو آپ نے آج مکمل کردیا ہے۔”اذلان شاہ ایلاف کے آنسو پونچھتے ہوئے بولے تھے۔
ماہ نور اور عساف دونوں جڑواں تھے۔
سفی خوشی سے ناچ اٹھا تھا۔
“Now I have two siblings.I am not alone now.”
وہ بار بار ایک ہی بات ریپیٹ کرتا تھا خوشی سےایلاف نے تینوں بچوں میں کوئی فرق نہیں کیا تھا کبھی بلکہ اگر سچ لکھا جائے تو اپنے تینوں بچوں میں اسے سفی سے زیادہ پیار تھا اور اس بات پہ سفی ان دونوں کو چڑاتا بھی تھا۔ان کا گھر محبتوں کا گہوارہ تھا۔
ایلاف کا پی ایچ ڈی ہوچکا تھا جب سفیان نے اس سے کہا تھا۔
” مام!ایک پی ایچ ڈی میں آپ کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں۔پلیز!میرا دل کرتا ہےایک ڈگری ہم دونوں ساتھ لیں۔” سفی نے انوکھی فرمائش کی تھی اور ایلاف نے اسے انکار کرنا سیکھا ہی نہ تھا۔
کچھ ایسی ہی محبت تھی اسے سفیان شاہ سے۔
“اوکے!سفی جب تمہارا پی ایچ ڈی کا ٹائم آئے گا تو ہم دونوں کریں گے۔”
” ایک بار پھر؟” اذلان نے حیرت سے پوچھا۔
” آپ کو کوئی اعتراض ہے کیا؟آپ کہتے ہیں تو نہیں کرتی۔” ایلاف نے اس کا ہمیشہ مان رکھا تھا۔
ویسے بھی اگر اذلان نے اس کا ساتھ نہیں دیا ہوتا تو ایلاف اتنا سب کچھ کہاں کر پاتی۔
” نو وے مادام،جو آپ چاہیں۔” مان دینا تو اذلان کو بھی خوب آتا تھا۔
” مام!ہمارے ساتھ اسکول چلیں۔آپ بھی ہماری کلاس میں پڑھیں۔” ماہ نور ہمیشہ سفی سے آگے رہنے کی کرتی تھی۔ ماہ نور کی بات پہ سب ہنس پڑے تھے۔
” ہاں بھئی پرنسزکی بات پہ آپ پریپ کلاس دوبارہ پڑھیں گی کیا؟” اذلان نے ماہ نور کی بات کو انجوائے کرتے ہوئے پوچھا۔
ایلاف بری پھنسی تھی۔
” نو ماہ نور!پریپ کلاس از اونلی فار کڈز اینڈ مام از نوٹ کڈ۔وہ بچی نہیں ہیں،اس لئے وہ ہمیں جوائن نہیں کرسکتیں۔” عساف سمجھداری سے ماہ نور کو سمجھاتے ہوئے بولا تھا۔
بات ماہ نور کی سمجھ میں آگئی تھی،عساف اسے منٹوں میں سمجھا لیتا تھا۔عساف بالکل اذلان کی کاپی تھا وہی شہد رنگ آنکھیں اور سمجھدار سی باتیں، ماہ نور کہنے کو تو ماں کی کاپی تھی اس لئے کبھی کبھی باتیں بھی ایلاف کی طرح کرتی تھی۔وہی سبز آنکھیں اور بڑی بڑی بچکانہ باتیں۔
” ڈیڈ اس لئے ماہ نور سے زیادہ پیار کرتے ہیں،یہ مام کی طرح ہے۔” سفی اکثر کہتا۔
” نو جی میں پاپا کی طرح ہوں۔” ماہ نور گردن اکڑا کے کے بولتی تھی۔
سو جب سفی نے پی ایچ ڈی کیلئے اپلائے کیا تو ایلاف کو بھی کیمبرج آنا پڑا تھا اور آج ایلاف نے اپنا وعدہ پورا کردیا تھا کیوں کہ وہ وعدہ پورا کرنے والوں میں سے تھی نا۔
______________________________
بڑا دشوار ہوتا ہے
ذرا سا فیصلہ کرنا
جیون کی کہانی کس کو کتنی بتانی ہے
کہاں سے چھوڑنی ہے
کہاں سے بتانی ہے
مگر وہ ایلاف تھی،اس کیلئے اتنی مشکلوں کے بعد یہ سب کچھ مشکل نہ تھا۔اس لئے اس نے ڈسکوری کو انٹرویو دیا تھا اور اپنی زندگی کے صرف ان رازوں سے پردہ اٹھایا تھا جن کو بتانے میں کوئی عار نہ تھا۔ثنا اور ڈیزی کی آنکھیں بار بار سکڑتیں اور پھیلتی تھیں۔
حیرت سے،تحیر سے!
مشرق کی عورت کے وفا کے قصے انہوں نے بہت سنے تھے۔آج وفا کی دیوی ان کے سامنے بیٹھی تھی۔
” آپ کی اسٹوری میں سے اگر اذلان شاہ کو نکال دیا جائے تو کیا بچتا ہے؟آپ کو اتنا یقین کیوں ہے ان پہ؟” ثنا نے سوال کیا تھا۔
“ہمیں اپنے یقین کو ایک مجسم شکل میں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ہم انسان ہیں۔ہم ہر چیز کی ظاہری شکل دیکھنے کے عادی ہیں۔میری ماں کو خدا پہ بہت یقین ہے اور ان کے یقین کی شکل خدا نے اذلان شاہ کی صورت میں بھیجی ہے۔” سفی اندر آتے ہوئے بولا تھا۔
سفیان کو ایلاف پہ ایک بار پھر فخر ہوا تھا۔واقعی اس کی ماں نے اپنے دکھوں کا اشتہار نہیں لگایا تھا۔بہت وقار سے اس نے یہ مرحلہ بھی مکمل کیا تھا۔
” اس بندر کو یہاں کس نے بلایا ہے؟اسے پتا نہیں ہم انٹرویو کر رہے ہیں۔” ثنا تپ کے ڈیزی سے جرمن میں بولی تھی۔
” فار گاڈ سیک ثنا!اپنا کام کرو چپ کر کے،چڑیا گھر بعد میں کھولنا۔” ڈیزی کو ثنا کا انداز بالکل پسند نہیں آیا تھا۔
سفیان کے چہرے پہ ایک شریر مسکان آئی تھی۔
“آپ نے کیمرے کا فوکس رائٹ اینگل پہ نہیں رکھا۔اس طرح تو ایکوریم میں موجود مچھلیوں کی تصویریں آئیں گی نا کہ صوفے پہ بیٹھیں مام کی،چہ چہ ڈسکوری والوں کی اتنی خراب ورکنگ ٹیم ہے۔” سفیان نے آگ لگائی تھی۔
ثنا بل کھا کے رہ گئی تھی۔
” آیا بڑا فوٹو گرافر حد ہی ہوگئی۔” ثنا کی بڑبڑاہٹ اتنی اونچی تھی کہ سفیان کے کانوں تک پہنچ گئی تھی۔
ان کا کام ختم ہوا تو وہ جانے کیلئے اٹھ گئی تھیں۔ سفیان جو لان میں موجود تھا ان کی طرف آ کے بولا تھا۔
” ہیو آ گڈ ڈے لیڈیز اور آپ چڑیا گھر ضرور جائیے گا مس۔” سفیان نے یہ جملے جرمن میں کہے تھے۔
ثنا کا منہ کھل گیا تھا حیرت سے،شرمندگی سے!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: